باب ۲۲ از ۶۵صفحات ۱۵۵–۱۶۸
حضور بحرالعرفان کا اتباع سنت میں کمال
مولانا محمد شاہد رضا مجددی استاذ جامعہ احمدیہ سنیہ قنوج
نحمدہ و نصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
افکار ونظریات جب تک محض افکار و نظریات ہوتے ہیں اس وقت تک نہ تو انکے حسن و قبح کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان میں اتنی کشش اور جاذبیت ہوتی ہے کہ کسی کو ان پر عمل کرنے پہ آمادہ کیا جاسکے آپ دلائل کے انبار لگا دیجیے فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیجیے لوگ فوری طور پر واہ واہ کے نعرے ضرور لگائیں گے مگر ان کو اپنانے کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ہونگے۔
رب کائنات نے کرم فرمایا کہ ہم انسانوں کی ہدایت کیلئے صرف کتاب مبین نازل نہیں فرمائی بلکہ اس کے ساتھ ایک رسول امین مبعوث فرمایا اور اس رسول کے اتباع کو مدار فلاح قرار دے دیا۔ پھر جو جتنا سنت پہ عمل پیرا ہوتا گیا اسی قدر بلندیاں بٹورتا چلا گیا۔ ہم نے کتابوں میں پڑھا اور اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ فلاں نے اتباع سنت کے باعث اتنا بلند مرتبہ پایا فلاں نے رسول پاک کے طریق کو حرز جاں بنایا تو اتنی عظمتیں سمیٹیں مگر جب ہم نے اپنے مرشدی الکریم حضور بحرالعرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کو دیکھا تو ہمارا یہ علم مشاہدہ کی منزل میں داخل ہوگیا۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر چہار سو حضور بحرالعرفان کے قصیدے گائے جارہے ہیں انکی عظمتوں
کے ڈنکے بج رہے ہیں وہ بظاہر اس دنیا سے رخصت ہوگئے مگر ان کی صدائے بازگشت کانوں کو ضربیں لگارہی ہے لیکن جب ہم سکہ کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اتنے سارے کمالات اور یہ قبولیت آپ کو یوں ہی حاصل نہیں ہوگئی بلکہ اس کے پیچھے کوئی کار فرما ضرور ہے کوئی وجہ ضرور ہے اور وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ آپ نے تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا آپ کی پوری زندگی سنت رسول سے عبارت تھی وہ اپنے ہر عمل سے طریق نبوی کو اجاگر کرتے نظر آتے ہیں انکے شب و روز مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے آپ نے خورد و نوش ، قیام و قعود ، نقل و حرکت، لباس کے استعمال ، انداز گفتگو ، عبادت و ریاضت ، معاشرت و مروّت ، فرمودات و معاملات وغیرہ ہر کام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو لازم پکڑا تو یہ کرامتیں آپ کے حصہ میں آئیں۔ دقائق سنت پر عمل کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔
سنت:
لغت کے اعتبار سے اس طریقہ کو کہتے ہیں جو رائج ہو خواہ اچھا ہو یا برا۔ اصطلاح میں سنت اس فعل کو کہتے ہیں جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو اور کبھی بغیر عذر کے ترک بھی فرمایا ہو۔ علماء اصول کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر کو سنت کہتے ہیں۔ (سنت خیر الانام از پیر کرم شاہ ازہری)
سنت کے ان معانی کے تناظر میں جب ہم حضور بحر العرفان کے شب و روز کو دیکھتے ہیں تو بیساختہ کہہ اٹھتے ہیں؏
قرن اول سے بہت ملتی تھی فطرت تیری
سنت کے تناظر میں آپ کے اطوار کی چند جھلکیاں:
حضور بحر العرفان زیادہ تر سفید کپڑے زیب تن فرماتے تھے کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:
البسو البياض فإنها أطهر واطيب وكفنوا فيها موتاكم
سفید کپڑے پہنو کہ یہ زیادہ پاک صاف ہوتے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو ۔(جامع ترمذی باب فی لبس البیاض)
حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم لباس میں کرتہ پسند فرماتے تھے اور آپ کے کرتہ کی لمبائی گھٹنوں اور ٹخنوں کے درمیان تک ہوتی تھی علامہ یوسف ابن اسماعیل نبہانی اپنی کتاب وسائل الوصول الی شمائل الرسول میں لکھتے ہیں:
وکان قمیصہ صلی اللہ علیہ وسلم فوق الکعبین
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ ٹخنوں سے اوپر ہوتا تھا۔
حضور بحرالعرفان کا لباس بھی یہی تھا زیادہ تر سفید جامہ ہی زیب تن فرماتے میں نے آپ کو ہمیشہ کرتے میں ہی دیکھا اور آپ کا کرتہ گھٹنوں اور ٹخنوں کے درمیان ہوتا۔
آپ علیہ الرحمۃ آدھی پنڈلی تک شلوار پہنتے تھے ، آپ کے اس عمل کو دیکھ کر بعض لوگ بد گمانی کا شکار ہوجاتے اور بعض نادان دوست آپ کے اس عمل کو قابل اعتراض گردانتے مگر آپ نے ایسے لوگوں کی کبھی پرواہ نہیں کی اور کرتے بھی کیوں کہ؏
بسے ہوئے ہیں مدینہ کے خار آنکھوں میں
آپ کا مقصود اتباع سنت و رضائے مولیٰ تھا چونکہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم آدھی پنڈلی تک تہبند باندھتے تھے اور ٹخنوں سے نیچے لٹکنے والے کپڑے کو ناپسند فرماتے تھے اور اس تعلق سے آپ نے وعیدیں بھی فرمائیں حضرت سلمہ ابن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔
کان عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ یأتزر الی انصاف ساقیہ وقال : ھکذا کانت ازارۃ صاحبی یعنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ آدھی پنڈلیوں تک تہبند باندھتے تھے اور فرماتے ایسا ہی میرے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند تھا۔ (وسائل الوصول الی شمائل الرسول)
اس مضمون کی بہت سی روایات ہیں جنہیں طوالت کے ڈر سے اس جگہ ذکر نہیں کرسکتا۔ آپ علیہ الرحمۃ جب بھی کوئی کپڑا زیب تن کرتے تو دائیں جانب سے شروع کرتے کبھی کسی نے آپ کو بائیں طرف سے ابتدا کرتے ہوئے نہیں دیکھا خواہ آپ کو کتنی جلدی ہی کیوں نہ ہوتی اور یہی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ جب بھی کسی کپڑے کو شرف استعمال بخشتے تو ابتدا بالتیامن کا مکمل خیال فرماتے۔
وکان اذا لبس قمیصا بدأ بمیامنہ (ایضا)
حضور مرشدی الکریم بغیر کالر کا کرتہ استعمال کرتے تھے اور کالر دار کرتہ سے احتراز کرتے تھے فرماتے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کالر دار کرتہ نہیں پہنا۔
شہزادۂ حضور بحر العرفان حضرت مولانا احمد سعید صاحب زید مجدہ نے فقیر مجددی کو بتایا کہ وصال سے ایک ہفتہ پہلے آپ سوجا شریف باڑمیر راجستھان ،ختم بخاری شریف کی تقریب میں تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے آپ سے پوچھے بغیر آپ کے کپڑے تیار کرادیئے جس کا کرتہ کالر دار تھا اور وہ لوگ آپ کو وہی کپڑے پہنانے پر بضد ہوگئے تو آپ نے ان کی دلجوئی کی خاطر پہن تو لئے مگر جلد ہی اتاردیئے اور گھر آکر اپنی زوجہ محترمہ اطال اللہ عمرہا کو وہ کپڑے دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مولانا ابوالقیس صاحب کو دے دینا کہ وہ اس طرح کے کرتے پہنتے ہیں۔
آپ علیہ الرحمۃ سفر و حضر میں ہمیشہ عمامہ شریف سر پہ سجائے رہتے اور اپنے ہم نشینوں، شاگردوں کو بھی اس کی تلقین فرماتے ، فرماتے عمامہ باندھ کر پڑھی ہوئی نماز بغیر عمامہ کی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔ یہ بھی سرکار علیہ السلام کی سنت ہے آپ اکثر عمامہ باندھتے اور اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم فرماتے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیکم بالعمائم فانھا سیماء الملائکۃ وارخوھا خلف ظہورکم
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگوں عمامے باندھا کرو کہ یہ فرشتوں کی نشانی ہے۔اس کا ایک شملہ اپنی پشتوں پر لٹکادیا کرو۔ (ضیاء النبی)
آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ ہر وہ کام جو اچھا ہوتا یا زینت کا باعث ہوتا اسے دائیں سے شروع کرتے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
کان ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیمنی لطہورہ وطعامہ وکانت الیسری ماکان من اذی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو و غسل اور کھانے وغیرہ کے لئے داہنا ہاتھ استعمال کرتے تھے اور استنجاء وغیرہ بائیں ہاتھ سے فرماتے تھے۔ (سنن ابی داؤد)
ام المومنین فرماتی ہیں: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحب التیامن ما استطاع فی ترجلہ و تنعلہ و طہورہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنگھی کرنے جوتا پہننے اور وضو کرنے میں حتی المقدور دائیں کو پسند فرماتے تھے۔ (صحیحین)
اور حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اذا انتعل احدکم فلیبدأ بالیمین واذا نزع فلیبدأ بالشمال فلتکن الیمنی اولھما تنعل وآخرہما تنزع
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی چپل یا جوتے پہنے تو دائیں سے شروع کرے اور اتارے تو بائیں سے ابتدا کرے تو پہننے میں دایاں اول ہوگا اور اتارنے میں آخر ہوگا۔ (أیضا)
امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
شریعت کا قاعدۂ جاریہ ہے کہ ہر وہ کام جس میں کرامت ہو اس میں ابتدا بالتیامن مستحب ہے اور جو اس کے بر عکس ہو اس میں بائیں سے پہل کرنا مستحب ہے۔’’
حضور مرشدی الکریم اپنی پوری زندگی اپنے آقا کی اس سنت پہ سختی سے کاربند رہے جب آپ مسجد میں داخل ہوتے تو پہلے دایاں پیر داخل کرتے نکلتے تو بایاں پیر پہلے نکالتے ، استنجاء خانے میں جاتے تو پہلے بایاں پیر بڑھاتے اور نکلتے تو دایاں پیر آگے ہوتا ، وضو اور غسل میں داہنے سے ابتدا کرتے ، لکھتے تو داہنے ہاتھ سے ، کھانا تناول کرتے تو داہنے ہاتھ سے ، چپل وغیرہ پہننے میں دائیں کو مقدم رکھتے اور اتارنے میں بائیں سے پہل کرتے۔
عموماً لوگ وضو کرنے میں پیر دھوتے وقت چپل اتارنے میں اس کا خیال نہیں کرتے مگر حضور بحر العرفان جب بھی وضو فرماتے اور پیر دھونے کا ارادہ کرتے تو پہلے بائیں پیر کی چپل نکالتے پھر دائیں پیر کی چپل نکال کر اسے دھوتے پھر بایاں پیر دھوتے۔
برادر کبیر خلیفۂ حضور بحرالعرفان حضرت مولانا آصف رضا صاحب قبلہ مجددی نے خبر دی کہ حضرت ، مدھیہ پردیش کے شہر دموہ سے قنوج بذریعہ بس واپس ہورہے تھے میں ساتھ تھا ظہر کے وقت بس ایک جگہ پانچ منٹ کیلئے رکی تو ہم لوگ نماز ادا کرنے کیلئے جلدی سے اترے پاس ہی ہینڈ پمپ تھا حضرت بڑی تیزی کے ساتھ بڑھے اور جلدی جلدی وضو فرمانے لگے میں ہینڈ پمپ چلا رہا تھا میں نے
دیکھا اتنی عجلت کے باوجود پیر دھوتے وقت آپ نے مذکورہ سنت کا پورا خیال فرمایا اور پہلے بائیں پیر کی ہی چپل اتاری۔ آپ کے احباب اکثر اس طرح کا مشاہدہ کرتے رہتے۔ لباس وغیرہ پہننے اور اتارنے میں بھی یہی حال ہوتا۔
مولانا احمد علی سیوانی کی زبانی میں نے سنا وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سردی کے موسم میں حضرت سوئیٹر پہنے ہوئے تھے موسم کچھ گرم ہوا تو آپ نے مجھ سے سوئیٹر اتارنے کو کہا چونکہ نماز کا وقت قریب تھا تو میں نے جلدی میں خیال نہیں کیا اور میں داہنے ہاتھ کی آستین اتارنے لگا تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا اتارنے میں بایاں سنت ہے۔
حضور مرشدی الکریم خوشبو بہت پابندی سے استعمال کیا کرتے اور یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کانت لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سکۃ یتطیب منہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عطردان تھا جس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے۔ (شمائل ترمذی بحوالہ سنن ابی داؤد)
یہی وجہ ہے کہ حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کی جیب مبارک میں ہمیشہ عطر کی شیشی موجود رہتی اور نہ صرف استعمال کرتے بلکہ اپنی محافل اور درس بخاری میں پابندی کے ساتھ سب کو اپنی خوشبو کا تبرک بخشتے اور کیوں نہ ہوتا کہ وہ خوشبوئیں بانٹنے ہی آئے تھے ۔ خوشبوؤں میں آپ کو عود بہت پسند تھا خس اور شمامہ کا بھی استعمال فرماتے تھے۔
اخلاق کریمانہ:
مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ اور اوصاف حمیدہ کے تعلق سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث روایت کی جس کے چند متفرق جملے قارئین کی نذر ہیں۔ حضرت علی رضی المولیٰ عنہ فرماتے ہیں:
وکان من سیرتہ فی جزء الأمۃ ایثار اہل الفضل باذنہ،وکان یخزن لسانہ الا فیما یعنیہ،ویؤلفھم ولا ینفرھم،ویکرم کریم کل قوم،یحسن الحسن ویقویہ،یقبح القبیح ویوہیہ،معتدل الأمر غیر مختلف،لایغفل مخافۃ ان یغفلوا او یمیلوا،افضلھم عندہ اعمھم نصیحۃ واعظمھم عندہ منزلۃ احسنھم مواساۃ وموازرۃ،یعطی کل جلسائہ بنصیبہ لا یحسب جلیسہ ان أحدا اکرم علیہ منہ
رسول گرامی وقار صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ نے اپنے اوقات کا جو حصہ لوگوں کی ملاقات کیلئے خاص کر رکھا تھا اس میں اجازت کے ساتھ اہل علم و فضل کو ترجیح دیتے تھے،اپنی زبان مبارک کو فضول باتوں سے محفوظ رکھتے تھے،لوگوں کو جوڑتے تھے انکو توڑتے نہیں تھے،قوم کے معزز لوگوں کی تکریم کرتے تھے،اچھی بات کی تحسین فرماکر اسے مزید تقویت دیتے اور ہر بری بات کی برائی بیان کرتے اور اسے دور کرتے ، ہر کام میں اعتدال برتتے جلد باز نہ تھے ، کسی وقت بھی اپنے ساتھیوں کی اصلاح سے غافل نہ ہوتے کہ کہیں لوگ امور دین سے غافل نہ ہوجائیں یا کسی دوسری طرف مائل نہ ہوجائیں،آپ کے نزدیک صاحب فضیلت وہ ہوتا جو اپنے بھائیوں کا زیادہ خیرخواہ ہوتا اور بڑا مرتبہ اسے ملتا جو مخلوق کی غمگساری اور مدد و نصرت کا زیادہ اہتمام کرتا،حاضرین میں سے ہر ایک کو اسکا حصہ دیتے مجلس کا کوئی بھی ساتھی یہ نہ سمجھتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں فلاں شخص اس سے زیادہ باعزت ہے۔ (شمائل ترمذی)
میں نے جس وقت اس حدیث کو پڑھا تو عش عش کر اٹھا اور دل سے آواز آئی؏
بحر عرفان مدینہ کی نشانی تم ہو
میں قسم کھاکے کہہ سکتا ہوں کہ حضور بحر العرفان اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ان اداؤں سے رتی بھر دور نہیں تھے۔ دنیا جانتی ہے کہ حضور مرشدی الکریم نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پہ عمل کرتے ہوئے کچھ وقت لوگوں کی ملاقات اور ان کے دکھ درد سننے اور انکا مداوی کرنے کیلئے مقرر کررکھا تھا جس میں آنے والوں کا تانتا لگا رہتا کبھی کبھی اتنا رش ہوجاتا کہ آپ کے حجرہ میں بیٹھنے کیلئے جگہ باقی نہ رہتی ہر ایک سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آتے ان کی بپتا سنتے تسلیاں دیتے اور ان کی پریشانی کو دفع کرنے میں ہر ممکن کوشش کرتے خواہ وہ کیسی بھی ہوتیں اس دوران کبھی آپ کی پیشانی پہ بل نہیں آتے اور نہ ہی ناگواری کا اظہار کرتے۔ اہل علم و فضل اور صلحاء کو اوروں کے حقوق کی حفاظت کے ساتھ ترجیح دیتے۔ لا یعنی کاموں اور فضول باتوں سے کوسوں دور رہتے صرف بامقصد باتیں ہی فرماتے اور سنتے بھی۔ خود بھی لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتے اور اپنے شاگردوں ، مریدوں اور عقیدت رکھنے والوں کو
بھی اس کی ترغیب دیتے اس سلسلے میں ایک واقعہ لطف سے خالی نہ ہوگا۔
قصہ یہ ہے کہ آپ کے خاندان میں آپسی نزاع کے سبب دو گروپ تھے دونوں ایک دوسرے کے پکے دشمن یہاں تک کہ ایک دوسرے کے یہاں شادی بیاہ اور انتقال وغیرہ میں بھی شریک نہ ہوتے ہمیشہ ایک دوسرے کو گزند پہنچانے میں کوشاں رہتے۔ مگر آپ جب کبھی اپنے گاؤں تشریف لے جاتے تو جہاں اپنے گھر جاتے وہیں دوسرے فریق کے افراد سے ملاقات کرنے اور خیریت دریافت کرنے ان کے گھر ضرور جاتے آپ کے اپنے لوگ آپ کے اس عمل سے بڑے نالاں رہتے اور دوسروں سے شکایتیں بھی کرتے اور آپ کو عتاب کا سامنا بھی کرنا پڑتا مگر کبھی آپ کے پائے اقدس میں لغزش نہ آتی آپ نہایت خوش بیانی سے آپسی تنازعات دور کرنے اور باہم اتحاد و اتفاق سے رہنےکی دعوت دیتے آپ کی اس جہد پیہم کا ثمرہ یہ ظاہر ہوا کہ عرصۂ دراز تک ایک دوسرے سے نفرت کرنے والے کدورتوں کے بندھن توڑ کر باہم شیر و شکر ہوگئے۔
آپ قوم کے عزت داروں اور معظم اشخاص سے بڑے عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے اور ان کے منصب کی مکمل پاسداری فرماتے۔ ہر اچھی بات کی تحسین فرماتے اور ان کو انجام دینے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی فرماتے معمولی معمولی باتوں پہ بھی بڑے خوش کن الفاظ سے نوازتے حتی کہ فقیر کی تک بندیوں کو بھی خوب سراہتے وصال سے کچھ روز قبل ختم مجددیہ شریف میں ، سرکار مجدد الف ثانی قدس سرہ کی شان میں لکھے ہوئے اپنے کچھ شعر سنائے تو بڑی داد و تحسین سے نوازا اور فرمایا: ماشاء اللہ عمدہ لکھنے لگے ہو۔
بری باتوں کی کھل کر مذمت فرماتے اور ان کے ازالہ کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ ہر وقت اپنے شاگردوں،مریدوں،اور احباب کی اصلاح کے خواہاں رہتے اس معاملے میں ذرہ بھر تغافل و تکاسل سے کام نہ لیتے ہفتہ میں دو دن یعنی سوموار اور جمعرات کو طلبہ اور مریدوں کو وعظ فرماتے دنیا و مافیہا کی محبت کے نقصانات بیان فرماتے اور فکر آخرت کے فوائد و ثمرات آشکارا کرتے اس کے علاوہ اکثر اپنے حلقہ میں بیٹھنے والوں کو ذکر و مراقبہ کے بعد نصیحتیں فرماتے اور اکتسابِ نور کے طرق سمجھاتے اور فرماتے "میں بار بار ان باتوں کو اس لئے دوہراتا رہتا ہوں کہ آپ کے ولولے سرد نہ پڑجائیں اور آپ آخرت کی بجائے دنیا طلبی میں نہ لگ جائیں۔
ملت کے خیرخواہوں اور مددگاروں کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور تخریب کاروں کو بلکل پسند نہ فرماتے
محفل میں مناصب کا مکمل خیال رکھتے جو جس لائق ہوتا اسے ویسا مقام دیتے اگر کوئی مولوی یا بڑا بچہ جگہ نہ ہونے کے سبب پیچھے بیٹھ جاتا تو آپ آگے بلالیتے۔ ایسے اخلاق کا مظاہرہ فرماتے کہ تعلق رکھنے والوں میں ہر کوئی یہ دعویداری پیش کرتا کہ حضرت مجھ سے زیادہ محبت فرماتے ہیں حضرت مجھے زیادہ چاہتے ہیں ، وصال پہ آنے والے ہر فرد کی زبان پہ یہی نعرہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوئے کریمی تھی کہ آپ چشم پوشی فرماتے اور کبھی کسی کو ناپسندیدہ عمل کی بنا پر نام لے کر رسوا نہیں فرماتے تھے جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
جب کسی شخص کے بارے میں بارگاہ رسادلت میں کوئی شکایت کی جاتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کا علیحدہ ذکر کرکے اسے شرمندہ نہ کرتے بلکہ یوں فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا ایسا کرتے ہیں۔ (ضیاء النبی)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیاری سنت سے بھی آپ کو حصہ ملا تھا ہم سب اس بات کے گواہ ہیں کہ جب آپ کسی کی کسی خرابی پہ مطلع ہوتے تو اسے نامزد کرکے ذکر نہیں کرتے بلکہ گھما پھرا کے سمجھاتے کہ بات حقدار تک پہونچ بھی جاتی اور دوسروں کو علم بھی نہ ہوتا۔
آپ نفع کی حد تک چشم پوشی فرماتے اس کا بارہا میں نے خود مشاہدہ کیا ہے۔ کئیی سال پہلے کی بات ہے میرا طالب علمی کا دور تھا مجھے حضرت کے ساتھ قائم گنج کے اطراف میں ایک جگہ پروگرام میں جانا تھا پروگرام کے دن اپنے گھر ہونے کی وجہ سے میں نے حضرت کے ساتھ جانے والوں سے رابطہ کیا اور طے یہ ہوا کہ میں کمال گنج میں آپ سے مل جاؤں گا۔
میں حضرت کے پہنچنے سے پہلے ہی مقررہ جگہ پر پہونچ گیا اور حضرت کی گاڑی کا انتظار کرنے لگا گرمی کی شدت کے باعث پیاس کا احساس ہوا تو میں نے دکان سے ایک پاؤچ پانی خریدا اور بے خیالی میں کھڑے ہوکر پانی پینے لگا اسی وقت حضرت کی گاڑی پہونچ گئی میں شرم شرم سے پانی پانی ہوگیا حضرت نے دیکھا اور اپنی نظریں گھمالیں تاکہ یہ محسوس ہو کہ دیکھا نہیں جب کہ میں یقین سے جانتا ہوں کہ حضرت نے دیکھ لیا تھا پھر نہ تو آپ نے مجھے سرزنش فرمائی نہ ہی برا بھلا کہا بس اتنا کیا کہ پورے
ایک اور دفعہ کا واقعہ ہے میں بہت چھوٹا تھا اس وقت النجیب مرکز العربی والفاروق قصر التعلیم کے نام سے موسوم بلڈنگ (جو کہ اس وقت طالبات کیلئے خاص ہے ) طلبہ کی رہائش کیلئے تھی اور جہاں اس وقت طلبہ کا ہاسٹل ہے یہاں میدان کے سواکچھ بھی نہ تھا اور ٹیلہ کے نام سے جانا جاتا تھا ہم لوگ کرکٹ کھیلنے کیلئے آیا کرتے تھے چونکہ قریب تھا تو کبھی کبھی لنگی اور بنیان میں آجاتے تھے میں ظہر کے بعد لنگی بنیان میں ٹیلہ پہ آرہا تھا راستے میں کچھ جھاڑیاں تھیں جن میں گذر کر جانا ہوتا تھا میں جھاڑی سے جوں ہی نکلا تو میں نے پایا کہ سامنے سے حضرت گذر رہے ہیں آپ نے مجھے دیکھا اور اپنی نگاہیں نیچی کرلیں میں وہیں سے واپس ہوگیا آپ نے کچھ بھی نہیں کہا حالانکہ لنگی میں کہیں جانے سے آپ منع فرماتے تھے۔
تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
لم یکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاحشا ولا متفحشا ولا صخابا فی الاسواق ولا یجزی بالسیئۃ السیئۃ ولاکن یعفو ویصفح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ طبعاً بد گو تھے اور نہ تکلفا نہ ہی بازاروں میں شور کرتے تھے اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ عفو و درگزر فرماتے تھے۔ (ترمذی ابواب البر والصلۃ )
حضور مرشدی الکریم کے بارے میں بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے کسی سے بدگوئی یا فحش کلامی کی ہے آپ ہمیشہ اپنی زبان کی حفاظت فرماتے غصہ کی حالت میں بھی کبھی آپ کی زبان سے نازیبا اور غیر شائستہ الفاظ کا صدور نہ ہوتا ، بازاروں میں کھانے پینے تک سے مکمل گریز کرتے اور کبھی بھی بدی کا بدلہ بدی سے نہ دیتے بلکہ درگزر فرماتے کبھی ایسا ہوتا کہ آپ کسی جلسہ میں انتطامیہ کی دعوت پر تشریف لے جاتے تو بعض مولوی اپنی بد باطنی کا مظاہرہ کرتے مگر آپ نظرانداز کردیتے اور زبان پہ حرف شکایت بھی نہ لاتے اور جب یہی مولوی اپنی کسی غرض کیلئے آپ سے ملنے آتے تو آپ حسن سلوک کے ساتھ پیش آتے اور خوب آؤ بھگت کرتے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات میں سے ہے کہ آپ معمولی دعوت بھی قبول فرمالیتے غریب اور امیر کا امتیاز نہیں فرماتے تھے:
آپ کے خادم خاص حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدعی الی خبز الشعیر والاہالۃ السخنۃ فیجیب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور پرانے روغن کی دعوت دی جاتی تو آپ اسے بھی قبول فرماتے۔(صحیح بخاری کتاب البیوع)
حضور مرشدی الکریم کا عمل بھی اسی سنت پہ تھا آپ دعوت دینے والے کی حیثیت سے قطع نظر کرتے ہوئے اس کی دعوت کو قبول کرتے ، فقط نکاح خوانی اور نماز جنازہ کیلئے کئیی کئیی سو کلو میٹر کا سفر فرماتے ، دیہی علاقہ کی چھوٹی چھوٹی بستیوں کی میلاد کی دعوت قبول کرلیتے اور اپنے خرچ پہ چلے جاتے کبھی کسی سے نذرانہ کا مطالبہ نہیں کرتے۔
حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی گھر میں قدم رنجہ فرمانے کا ارادہ فرماتے تو دروازہ کے سامنے نہ آتے بلکہ اس کے دائیں یا بائیں جانب سے دیوار کے ساتھ آگے بڑھتے اور نزدیک ہوکر اہل خانہ کو سلام کرتے اگر صاحب خانہ اندر آنے کی اجازت دیتا تو اندر تشریف لاتے ورنہ واپس تشریف لے جاتے۔ (ضیاء النبی جلد پنجم)
حضور مرشدی الکریم علیہ الرحمۃ بھی جب کسی کے گھر تشریف لے جاتے تو دروازہ کے ایک سائیڈ کھڑے ہو جاتے جب تک صاحب خانہ اجازت نہ دیتا اس وقت تک اندر داخل نہ ہوتے خواہ صاحب خانہ کوئی مرید خاص ہی کیوں نہ ہوتا ، داخل ہوتے وقت سلام کرتے۔
حضور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے سلام کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ آپ چھوٹے بچوں کو بھی سلام فرماتے حضرت انس بیان کرتے ہیں:
اتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی غلمان یلعبون فسلم علیھم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کھیلنے والے بچوں کے پاس سے گذرے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔ (سبل الہدی)
آپ علیہ الرحمۃ اپنے آقا کی اس سنت پر بھی عمل فرماتے تھے اور سلام کرنے میں چھوٹا بڑا نہیں دیکھتے تھے بچوں کو بھی سلام کرتے آپ کی عادت تھی جب آپ استنجاء وغیرہ کیلئے درسگاہ سے نکلتے اور واپس آتے تو سلام کرتے ، اگر کبھی راستے وغیرہ میں ملاقات ہوتی تو ہمارے سلام کرنے سے پہلے ہی سلام
کی شکل میں آپ کی قدرے بھاری اور شیریں آواز کانوں کو مسحور اور آنکھوں کو جھکانے پہ مجبور کردیتی۔
بال مبارک:
حضور مرشدی الکریم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق درمیانہ پٹھے رکھا کرتے تھے جو نہ زیادہ لمبے ہوتے اور نہ بہت چھوٹے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کے بارے میں علامہ یوسف نبہانی وسائل الوصول میں لکھتے ہیں:
نبی علیہ السلام کے بال ان پٹھوں سے کچھ زیادہ تھے جو کانوں کی لو تک ہوتے ہیں اور ان سے کچھ کم تھے جو مونڈھوں تک ہوتے ہیں یعنی نہ زیادہ لمبے تھے نہ زیادہ چھوٹے بین بین تھے۔
چونکہ کچھ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نے کبھی اپنی ڈاڑھی مبارک یا بال مبارک میں مہندی یا خضاب کا استعمال نہیں فرمایا:
عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال لم یخضب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
انس ابن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا۔
حضور مرشدی الکریم نے بھی کبھی اپنی داڑھی یا سر کے بالوں کو مہندی یا کسی اور چیز سے نہیں رنگا حالانکہ چالیس بیالیس سال کی عمر میں ہی آپ کے تمام بال سفید ہوگئے تھے ، سب جانتے ہیں کہ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب امنگیں جوان ہوتی ہیں ، جذبات زندہ ہوتے ہیں اور کوئی نہیں چاہتا کہ مجھے ابھی سے لوگ بوڑھا کہیں۔ ان سب تقاضوں کے باوجود حضرت نے کبھی مہندی وغیرہ کا استعمال نہیں کیا۔
آپ علیہ الرحمۃ کو مسواک سے بے پناہ محبت تھی ہمیشہ آپ کی جیب میں مسواک موجود رہتی اور جب بھی آپ کسی نماز کیلئے وضو فرماتے تو مسواک ضرور فرماتے کہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک بہت پسند فرماتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم رات یا دن میں جب کبھی نیند سے بیدار ہوتے تو وضو فرمانے سے قبل مسواک ضرور فرماتے۔ (جامع الاحادیث بحوالہ سنن ابوداؤد)
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ اگر مجھے میری امت کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو ضرور انہیں ہر نماز کیلئے مسواک کا حکم دیتا۔ (صحیح بخاری)
آپ علیہ الرحمۃ بلا ناغہ تہجد کی نماز ادا کرتے تھے کہ یہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں
سے ہے ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور آدھی رات کے بعد بیدار ہوتے اور فجر کی دو سنت سمیت تیرہ رکعت نماز پڑھتے۔ (جامع الاحادیث)
مخدوم گرامی حضرت مولانا أحمد سعید مجددی زید مجدہ کا بیان ہے کہ حضرت تہجد کے وقت بیدار ہوتے اور نماز تہجد ادا کرنے کے بعد تضمین کے ساتھ شجرہ پڑھتے اور نہایت گریہ و زاری کے ساتھ بارگاہ صمدیت میں التجائیں کرتے اپنے مولیٰ کے حضور خوب گڑگڑاتےاور کیوں نہ ہوتا کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے "اللہ تعالیٰ روز آسمان دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے اور جب آخری تہائی رات باقی رہتی ہے تو فرمان عالی ہوتا ہے کون ہے دعا کرنے والا کہ میں قبول کروں کون ہے مانگنے والا کہ میں دوں کون ہے مغفرت چاہنے والا کہ اس کو بخش دوں۔ ( جامع ترمذی)
آپ علیہ الرحمۃ کا ہمیشہ کا معمول تھا کہ آپ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد مصلے پر ہی بیٹھ کر ذکر و مراقبہ میں مشغول رہتے اور طالبان معرفت کو اپنی توجہات سے شادکام فرماتے اور جب سورج طلوع ہوکر تھوڑا اوپر آجاتا تو آپ اشراق کی دو رکعت نماز ادا فرماتے۔
تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریقہ تھا حضرت جابر ابن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ چکتے تو سورج طلوع ہونے اور خوب روشن ہونے تک اپنی جگہ پر ہی رہتے۔ (جامع الاحادیث بحوالہ مسند امام ابو حنیفہ)
آپ بعد عصر سے مغرب تک ذکر و مراقبہ میں رہتے اور مریدین کو بھی اس کی تلقین فرماتے ، فرماتے ایسا کرنے سے ایک عمرہ کا ثواب ملتا ہے۔ بعد مغرب بلا ناغہ اوابین کی چھ رکعت ضرور ادا کرتے اور کبھی کبھی بیس رکعت بھی بڑھتے کہ تاجدار رسولاں کا ارشادِ مبارک ہے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں فرمایا جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھے اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو یہ رکعات اس کیلئے بارہ سال کی عبادت کے برابر کی جائیں گی۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جو مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھے اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں ایک مکان بنائے گا۔ (بہار شریعت بحوالہ ترمذی)
آپ کبھی بھی بعد مغرب استراحت نہیں فرماتے یہاں تک کہ بعض دفعہ تھکن سے چور مغرب کے وقت مسجد میں تشریف لاتے طبیعت حد درجہ نڈھال ہوتی لیکن احباب کے کہنے کے باوجود آرام
نہیں فرماتے اور تنبیہ کرتے ۔كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره النوم قبله والحديث بعده (بخاری)
آپ جمعہ کی شب میں درود خوانی کی محفل منعقد فرماتے اس محفل کی رونق مت پوچھیے پہلے بارگاہ رسالت مآب میں درود کے گلدستے پیش کئیے جاتے پھر کیف سے بھرپور نعت خوانی ہوتی اس کے بعد آپ نصائح فرماتے اختتام آنسؤوں سے لبریز آپ کی دعا پر ہوتا اور پھر بعد نماز جمعہ آپ کھڑے ہوکر اپنے آقا کی بارگاہ میں سو مرتبہ درود بھیجتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھو۔ (جامع الاحادیث بحوالہ سنن کبریٰ للہیثمی)
آپ کے عمل بالسنۃ کا حال یہ تھا کہ مخدوم گرامی حضرت مولانا برکات احمد مجددی زید مجدہ آپ کے ساتھ گذارے ہوئے آخری دن کی کہانی لکھتے ہوئے کہتے ہیں" جمعہ کا وقت قریب ہوا تو آپ لنگی باندھنے کیلئے کھڑے ہونے لگے مگر نقاہت کے باعث آپ کھڑے نہ ہوسکے کئیی مرتبہ کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے تو میں نے عرض کیا بیٹھ کر ہی باندھ لیں تو فرمایا لنگی کھڑے ہوکر باندھنا سنت ہے اور پھر آپ نے کھڑے ہوکر ہی باندھی۔
اس طرح کے بیشمار معمولات ہیں جو عین سنت کے مطابق ہوتے جنہیں بیان کرنے کیلئے دفتر درکار ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جو حضرت سے شناسائی نہیں رکھتے انہیں یہ سب عجیب لگے گا اور شاید ہی ان باتوں پر کان دھرنے کی زحمت گوارا کریں کہ اپنے شیخ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانا آج مریدوں کا مزاج بن چکا ہے مگر وہ کیا کرے جس نے بارہا اپنی کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کیا ہو۔ وہ ہر حالت میں سنت کا اتباع کرتے کیوں نہ کرتے کہ وہ محبوب رب کائنات کے عاشق صادق تھے اور عشق کا صدق اطاعت کی طرف مفضی ہوتا ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا؎
لو کان حبک صادقا لاطعتہ
ان المحب لمن یحب یطیع
مولیٰ کریم ہمیں ان کی سچی غلامی عطا کرے کہ یہ غلامی ہی دارائی ہے۔