مواد پر جائیں

باب ۳۸ از ۶۵صفحات ۲۶۴–۲۶۶

یادوں کے چند نقوش

قاری معین القادری٭

کل من علیھا فان ویبقیٰ وجہ ربک ذولجلال و ا لاکرام (سورہ رحمٰن 26۔27)

کی قرآنی ، ازلی ابدی حقیقت کے مطابق اس فانی دنیا میں بڑے بڑے لوگ آئے جن کی ایک وقت میں طوطی بولتی تھی اور چار دانگ عالم میں جنکی شہرت کا ڈنکا بجتا تھا مگر آج بقول شاعر صورت حال یہ ہے کہ ۔

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

چنانچہ بہت سی حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے جھٹلانے والے یہاں موجود ہیں مگر موت ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا اعتراف ہر مذہب ہر مسلک اور ہر طرح کی سوچ و فکر رکھنے والے انسان کو ہے ۔

تاہم یہ بھی ایک واضح حقیقت اور تاریخی مشاہدہ ہے کہ کچھ عالی ہمت اولو العزم ،بلند حوصلہ اور سعادت مند لوگ اپنے حسن سیرت ، مکارم اخلاق ،عظمت کردار ، اطاعت و بندگی ، زہد و تقویٰ، اللہ و رسول سے اخلاص ، بے لوث دینی و ملی خدمات ،امانت و دیانت ،قومی درد اپنے افکار و نظریات اور مشن سے سچی وابستگی ،جہد مسلسل ،بے لوث محنت اور خلوص و محبت سے ایسے لازوال اور انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں کہ خود وہ مٹی میں چلے جاتے ہیں مگر اپنے کار ناموں ،قوم و ملت کے لئے ایثار و قربانی دین اسلام کے لئے مثالی خدمات کے باعث ان کا نام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ موت و زندگی کے اس فلسفے کو جدید عربی شاعر احمد شوقی نے خوب بیان کیا ہے ۔

الناس صنفان موتی فی حیاتھم

و الآخرون ببطن الارض احیاء

لوگوں کی دو قسمیں ہیں ایک قسم تو وہ ہے جو اپنی زندگی میں ہی چلتے پھرتے مردوں کی مانند ہیں جب کہ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو زمین کے پیٹ میں بھی جاکر زندہ رہتے ہیں۔

درجنوں مساجد و مدارس کے بانی و امیر ،متعدد کتابوں کے مؤلف داعی اہل سنت و جماعت منبع علم و حکمت، بحر العرفان حضرت مولانا مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ (متوفی 9 ذیقعدہ 1440 ھ )کی ذات یقینا ایسے ہی خوش نصیبوں میں سے ایک ہے ۔جن کا نام و کام منفرد دینی تعلیمی ،تدریسی ،تالیفی ،تعمیری ،اور ملی خدمات کی وجہ سے تا دیر زندہ رہے گا ۔

الحمد للہ راقم الحروف کو سن شعوری سے ہی حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کی محفل میں بہت قریب سے

بیٹھنے گفتگو کرنے ،ان کے بیانات سننے ، اور مستفید و متفیض ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے ۔میرا جب بھی الجامعۃ الاحمدیہ قنوج میں جانار ہتا تھا اور ان کی بارگاہ اقدس میں بغرض ملاقات و زیارت کا اتفاق ر ہتا تھا ۔ہمیشہ بڑی محبت ،شفقت خندہ پیشانی اور عالمانہ تواضع سے پیش آتے تھے ،خوب ضیافت کرتے تھے تعلیم و تعلم کے متعلق پوچھتے رہتے تھے اور مفید نصیحت آمیز باتوں کی تلقین کیا کرتے تھے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ اصلاح معاشرہ اور فروغ اہل سنت و جماعت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے ، صبح و مسا صرف دینی و علمی کاموں میں مشغول رہتے تھے ۔اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہر عمل خیر سے اپنے آپ کو قریب کرتے تھے۔ زندگی میں مال ،جائداد کی طرف کبھی توجہ نہیں دی یہی وجہ ہے اپنی پوری زندگی میں اپنی اولاد کے لئے نہ کوئی خاص زمین خریدی اور نہ ہی کوئی عمدہ قسم کے گھر کا اہتمام کیے۔ یہاں تک کہ بعض معتمد شاگردوں کی زبانی سنا گیا کہ آپ جب کہیں پروگرام میں جاتے اور انکا ر کرنے کے با وجود بطور نذرانہ کچھ رقم دستیاب ہوتی تو پوری پوری رقم اپنے قائم کردہ ادارہ الجامعۃ الاحمدیہ قنوج و جامعۃ المحصنات (نسواں کالج ) کی ترقی و کامیابی کے لئے ہدیہ کر دیتے تھے ۔

راقم کو چونکہ آبائی علاقائی ہونے کا شرف حاصل تھا اس لئے بیشتر پروگرام میں ان کے ساتھ شرکت کا موقع ملتا تھا دوران خطابت آپ کے لہجہ کی شائستگی اور متانت و سنجیدگی اور حکمت و نصیحت سے بھری باتیں سننے کے لائق ہوتی تھیں ایسی کیفیت ہوتی تھی کہ گھنٹوں آپ خطاب کرتے رہیں اور ہم سنتے رہیں۔ آپ نے اپنی حیات طیبہ میں کئی مناظرے کیے تھے اور سب میں حضرت مجدد الف ثانی کے کرم سے کامیاب رہے ۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار خوبیوں سے مزین کیا تھا ، بات اگر ہم آپ کے تقویٰ و پرہیزگاری کی کریں تو آپ ہمیشہ حضر میں نماز تکبیر اولیٰ کے ساتھ با جماعت ادا فرماتے تھے اور عموما سفر میں بھی اس کا التزام کرتے تھے ،نیز دیگر فرائض پر مداومت اور اتباع سنت کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی خوب اہتمام فرماتے تھے ۔ہر سال رمضان میں معتکف ہوتے تھے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ،آپ جامع اخلاق تھے ،آپ کا حسن خلق و خلق دونوں یکساں تھا چھوٹا ہو بڑا ہو ، عالم ہو یا غیر عالم جو ملتا آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔ آپ عامل با لحدیث تھے آپ جس یقین سے حدیث شریف کی تدریس فرماتے تھے اسی یقین کے ساتھ حدیث پر عمل بھی کرتے تھے احادیث مبارکہ میں سفید لباس کی بہت تعریف کی گئی ہے اس لئے بحر العرفان علیہ الرحمہ سفید لباس بہت پسند کرتے تھے۔ جہاں تک میرے مشاہدہ کا تعلق ہے میں نے انہیں کبھی رنگین لباس نہیں دیکھا ۔کرتا پائجامہ سمیت عمامہ رومال سب سفید رنگ کا ہوتا تھا

۔آپ کے اندر کافی نورانیت تھی ۔ لوگوں نے ایک عجیب چیز ان کے اندر دیکھی تھی جس کا آپ کی آخری زندگی کے ایام میں مشاہدہ ہوا اور وہ چہرہ مبارک کی بڑھتی ہوئی نورانیت تھی ۔ غالبا یہ نورانیت طمانیت قلبی اور اپنے کام کے پورا ہونے پر کیف و سرور کا نتیجہ تھی آپ مقبول عوام و خواص تھے ۔میں نے کسی سے آپ کے اخلاق و کردار ،سیرت و شخصیت اور حسن معاملہ کے بارے میں ہجو کرتے نہیں سنا ۔

آپ کے جنازہ مبارکہ میں مشائخ کرام اور علمائے کرام و طلبہ عظام کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں عوام کی شرکت حیران کن تھی ،جنازے کے عظیم اجتماعات دیکھ کر یہی کہنا پڑا تھا کہ یہ کثیر حاضری ‘‘ثم یوضع لہ القبول فی الارض’’ کا نتیجہ ہے ۔

وہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے

ہے کمی تو بس میرے پیر کی جو تہ مزار چلا گیا

خلاصہ یہ کہ حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ جماعت اہل سنت کی ایک عبقری شخصیت تھے جن کے وصال سے امت مسلمہ ایک مستند عالم ربانی ، رشد و ہدایت کے تاجدار ،علم و عرفان کے سمندر ،جامع اخلاق ،مدبر و مفکر اسلام سے محروم ہو گئی ۔

مولیٰ تعالیٰ حضرت بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کو اپنے جوار رحمت میں مقام رفیع عطا فرمائے اور آپ کے جانشین و صاحب زادہ مولانا احمد سعید مجددی حفظہ اللہ تعالیٰ کو صبر و استقامت عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ سید المرسلینﷺ۔

٭مدرسہ ضیاء الاسلام مقبرہ گوالٹولی خطیب و امام مسجدغریب نواز روپم چوراہا چمن گنج کانپور یو پی