مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتحضور بحر العرفان کا تقویٰ

باب ۴۷ از ۶۵صفحات ۳۲۳–۳۲۷

حضور بحر العرفان کا تقویٰ

مولانا محمد شاہد آفاقی مجددی گورکھپوری

اللہ تعالی قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے:

اللہ کے اولیا صرف اور صرف متقی اور پرہیز گار ہوتے ہیں۔

اور یہ حقیقت ہے اللہ کے ولیوں میں جو تقوی اور پرہیز گاری پائی جاتی ہے وہ ظاہری علم والے علماء میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے اللہ کے بندے جن کے دل خوف خدا سے لبریز اور سینے نور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے منور ہوتے ہیں ان کا مقصد حیات ہیں آقا و مولیٰ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی ہوتی ہے اور وہ اپنے ہر قول و فعل کو سنت رسول صلی اللہ وسلم کے سانچے میں ڈھال کر اپنے آپ کو تقوی اور پرہیزگاری کی دولت بے بہا سے مالامال کرتے ہیں۔

اللہ وحدہٗ لاشریک کا یہ بے پناہ احسان اور اس کا خاص کرم ہے کہ رب تعالی نے اس پرفتن دور میں جس میں بے شمار پیر ہے ہے اور ایسے ایسے پیر جن کی نمازوں کا پتہ ہے نہ سنت کا ایسے دور میں اللہ تعالی نے قنوج کی پاکیزہ سر زمین پر جو کی صحابہ کرام اور اولیاء کرام کا مرکز رہا اللہ تعالی نے اس خشبو کے شہر میں ایک ایسا مرد قلندر پیدا فرمایا جن کی ادنی صحبت سے گنہگار نیکو کار بن جاتے اور اہل ذکر کے قلوب نور الہی لبریز ہو جاتے میری مراد حضور پیر طریقت رہبر راہ شریعت تاجدار روحانیت شہنشاہ ولایت مجدد طریقت نائب مجدد الف ثانی ی الحاج آج الشاہ حضور مفتی محمد آفاق احمد صاحب قبلہ رضی اللہ عنہ کی ذات باکمال ہے ایسی بلند پایا یا ہستی ہم جیسے گنہگاروں کے حصے میں آئی جن کی ذات پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے اور نعمت عظمی پر اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے جن کی ذات سراپا رحمت اور خلوص و محبت کا پیکر تھیں اور تقوی اور پرہیزگاری کی جیتی جاگتی مثال تھی جن کے ہر قول و فعل میں سنت رسول اور خشیت الہی کی جھلک نظر آتی تھی حیرت ہوتی ہے حضور بحر العرفان کی زندگی دیکھ کر آپ کس قدر تقوی شعار تھے چند واقعات جو کی میں نے خود مشاہدہ کیے اور کچھ واقعات تقوی کے تعلق سے جو میں نے اپنے اساتذہ سےاور حضور بحر العرفان کے خلفہ سے سنے ذکر کرنے کی کوشش کی ہے جسکو میں نے اپنی حیثیت کے حساب سے لکھا ہے ورنہ میری کیا اوقات کی حضور بحر العرفان کے تقوی کو قلمبند

کر سکو جن کے لیل ونہار یہ تقوی میں گزرا کرتے تھے۔

آپ حیرت زدہ ہوں گے حضور بحر العرفان کے تقوی کو پڑھ کر اور دیکھ کر جو کہ میں نے خود بارہا دیکھا کہ حضور بحر العرفان اکثر جب بھی مسجد یا کسی دینی مجلس میں جاتے یا آتے تھے تو آپ کبھی کسی کے چپل یا جوتے پر اپنا پیر بھی رکھنا گوارا نہیں فرماتے تھے آپ فرمایا کرتے تھے کہ چپل یا جوتے پر پیر رکھ دیا اور اس کو تکلیف ہوئی تو اللہ تعالی کی بارگاہ میں سخت پکڑ ہوگی ایسی کئیی مثالیں ہیں جو حضور بحرالعرفان کے ذریعے سے وجود میں آئی۔

ایک مرتبہ حضور بحر العرفان کمال پور شریف جوکی بنارس کے قریب ایک گاؤں ہے جہاں حضور عارفی اللہ کے والد بزرگوار حضور شیخ المشائخ کا با فیض استانا جہاں لنگر خانے میں دال اور پلاؤ کھلایا جاتا ہے حضور بحر العرفان کی بارگاہ میں لنگر لایا گیا ساتھ میں ایک صاحب لنگر خانہ سے سے ہری مرچ اور پیاز لے کر آئے کہ حضور بحرالعر فان کھانے کے ساتھ مرچ اور پیاز تناول فرما لینگے تو آپ نے برجستہ فرمایا کہ کس سے پوچھ کر لے آے ہو انہوں نے عرض کیا کہ لنگر کے خادم سے پوچھ کر لیا ہے تو آپ نے فرمایا لنگر کے مالک خادم نہیں ہے بلکہ لنگر کے مالک تو حضور عارف باللہ ہیں آپ نے فورا نے مرچ پیاز کو واپس بھیج دیا۔

ایسے ہی ایک بار اور عرس شیخ المشائخ کے موقع پر حضور بحر العرفان ان کے پیروں میں بہت درد ہو رہا تھا خلیفہ حضور بحر العرفان مولانا آفتاب عالم صاحب لنگر خانے سے کڑوا تیل لے کر آئے تاکہ حضور پیر و مرشد کے پیروں میں مل دیا جائے آپ نے ان سے برجستہ فرمایا کس سے پوچھ کر لائے ہو انہوں نے آپ سے عرض کیا مولانا ابو القیس صاحب سے پوچھ لیا ہے ( میں آپ کو بتادوں کہ مولانا ابوالقیس جو کی حضور عارف باللہ کے صاحبزادے ہیں) توحضور بحر العرفان ان نے ارشاد فرمایا تیل واپس لنگر کھانے میں رکھ اؤ لنگر خانہ کسی کی ملکیت نہیں ہے وہ عام چندے سے چلتاہے اور حضور عارف باللہ اس کے کرتا دھرتا مالک ہیں۔

اللہ اکبر کیسی ذات تھی حضور بحر العرفان کی تکلیف برداشت کر سکتے تھے لیکن شریعت کے خلاف قدم اٹھے یہ آپ کو بالکل بھی گوارا نہیں تھا۔

اور جیسا کہ عام رواج ہے اکثر مردین اپنے پیروں کی دعوت کیا کرتے ہیں اور چونکہ حضور

بحرالعرفان کے شخصیت ایسی تھی کہ جس طرح مریدین آپ کو مانتے تھے اسی طرح غیر مریدین بھی آپ کو مانا کرتے تھےاور آپ کے محبین آپ کی دعوت کیا کرتے تھے ایک بار ایک مرید نے آپ کی دعوت کی کی اور کھانے میں کئیی طرح کی عمدہ عمدہ کھانے کی چیزیں بنائی بریانی بھی تھی بحر العرفان نے اپنی پلیٹ میں بریانی نکالیں ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور بریانی میں سالن ڈال لیا جائے تو آپ نے فرمایا بریانی خود ایک مکمل کھانا ہے جس میں گوشت وغیرہ سب کچھ پڑا ہوا ہے یہ جائز نہیں ہے کی الگ سے بریانی میں سالن ڈال کر کھایا جائے اللہ اکبر کیسا تقوی تھا آپ کا۔

ایسے ہی ایک بار ایک مرید نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں گوشت کے ساتھ سبزی اور دال اور بھی بنائیں اور حضور بحر العرفان کھانے میں دانتوں میں تکلیف کی وجہ سے سادہ کھانا پسند فرماتے تھے کھانے کے درمیان آپ کے پلیٹ میں دال زیادہ نکل گئ تو آپ نے اہل خانہ سے فرمایا اگر آپ کی اجازت ہو ہو تو میں دال پی لوں چونکی دال پینے کے لئے نہیں بلکہ روٹی اور چاول کے ساتھ کھانے کے لیے ہوتی ہے اسی لیے میں آپ کی اجازت چاہتا ہوں اللہ اکبر۔

یہ ایسا دور ہے جس میں ہر انسان کے دل میں پیسے کی ہوس اور ضرورت بھی ہے لیکن اللہ اکبرحضور بحر العرفان کی ذات کتنی پرخلوص شخصیت تھی تھی کہ آپ نے آپ نے جامعہ احمدیہ سنیہ میں تقریبا 33 34 سال تک تدریس کی خدمت کو انجام دیا لیکن آپ نے اول تا آخر کبھی بھی مدرسے سے ایک روپیہ بھی تنخواہ کے نام پر نہیں لیے۔

اور تنخواہ تو تنخواہ رہی کبھی بھی مدرسے کے چندے کے پیسے کو کو اپنے پیسے میں نہیں ملایا اپنے گھر کا پورا خرچ آنے اور آنے والے مہمانوں کا پورا خرچ اپنے مریدین و محبین کے نذرانوں پر آپ پورا کیا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ دہلی کے ایک صاحب جن کا نام مشتاق بھائی ہے جو کہ حضرت کے بے حد قریبی ہیں اور حضرت کو بہت زیادہ ماننے والے ہیں حضور بحر العرفان کی دعاؤں او اور آپ کے تعویذات کے ذریہ سے ان کا کوئی بہت بڑا کام پورا ہوگیا تو حضور بحر العرفان کو بطور نذرانہ بارہ ہزار روپے اور مولانا آفتاب صاحب کے لیے دو ہزار روپے الگ سے بھجوائے تو حضور بحر العرفان نے مولانا آفتاب کے دو ہزار روپے تو انہیں دے دیے اور اپنے لئے فرمانے لگے وہ میرے لئے کیوں اتنے روپے دیں گے ضرور انہوں نے

مدرسے کیلئے بھجوائے ہونگےحالا کہ مولانا آفتاب صاحب نےعرض بھی کیا میں ان سے فون پے پوچھ لیتا ہوں تو آپ نے منع فرما دیا کہ مت پوچھو اور فورا آپ نے ان پیسوں کی مدرسے کی رسید بنا دی۔

حضور بحر العرفان کی عادت کریمہ تھی کہ اپنے ساتھ آپ ایک بیگ ضرور رکھتے تھے جس میں ضروری کتابیں اور ڈائری وغیرہ رکھتے تھے جب بھی وقتا فوقتا آپ کو ٹائم ملتا تھا آپ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے تھے اور اس میں مدرسے کے پیسے اگر کوئی صاحب دیتے دے تو الگ جیب میں رکھتے تھے اور اپنے نذرانے کے پیسے الگ رکھتے ایک مرتبہ مولانا آفتاب صاحب نے لاعلمی کی بنا پر پر حضرت کے نذرانوں کو مدرسے کے پیسے میں ملا دیا اس میں پتہ نہیں چل رہا تھا کہ نزرانے کا پیسہ ہے یا مدرسے کا آپ نے اپنے نظرآنے کا پورا کا پورا پیسہ مدرسے میں دے دیا۔

حضور بحرف انکے شخصیت ایسی تھی تھی کہ آپ ہمیشہ شریعت کی پابندی تو کیا ہی کرتے تھے ساتھ ہی ساتھ ہندوستانی آئین ین آئین کی پابندی کیا کرتے تھے سفر کیا ہوگا تو آپ نے دیکھا ہو گا ٹرین میں باتھ روم کے دروازے پر لکھا ہوتا ہے ٹرین کھڑی ہونے کی صورت میں باتھ روم کا استعمال نہ کریں مولانا آفتاب صاحب کا بیان ہے ہے جو کہ ایک بار سفر میں حضور بحر العرفان کے ساتھ میں تھے ان کا بیان ہے کہ حضور بحر العرفان کو بہت زور سے استنجا لگا ہوا تھا تھا تھا گاڑی اسٹیشن پر کھڑی تھی اور حضور بحر العرفان گاڑی چلنے کا انتظار کر رہے تھے مولانا آفتاب صاحب نے عرض بھی کیا حضور استنجا فرما لیں لی تو آپ نے فرمایا یا کیا ٹرین جب اسٹیشن پر کھڑی ہو تو تو تو پیشاب پاخانہ کرنا منع ہے اور اگر ہندوستانی قانون پر عمل کرنے سے شریعت پر کوئی آنچ نہ آئے آئے آئے تو اس کو بجا لانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حضور بحر العرفان ایسے تقوی شاعر بزرگ تھے جن کے ساتھ رہ کر کبھی حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سادگی امام اعظم ابو حنیفہ کی زندگی اور آپ کا تقوی یاد اے کبھی امام اہلسنت کا سنتوں پر عمل یاد آئے کے اللہ اکبر ایسے دور میں اتنی زیادہ تقویٰ اور پرہیزگاری مری کے ساتھ زندگی گزارنے والے شخصیت بھی ہے آپ نمازوں کا بھی بے حد اہتمام کام کیا کرتے تھے سفر ہو یا حجر فرض نوافل کی بھی پابندی کیا کرتے تھے ایک مرتبہ حضور بحرالعرفان علیگڑھ بس سے سفر فرما رہے تھے غالبا عصر کی نماز کا وقت تھا وقت گزر رہا تھا آپ نے ڈرائیور سے کہا کی گاڑی روک دو نماز پڑھ لوں ڈرایور نے بس نہ روکیں تو آپ نے

اس سے سے کہا کہ مجھے یہیں پر اتار دو اور آپ علیگڑھ سے تقریبا 20 کلومیٹر پہلے مجھے ایک پٹرول پمپ کے قریب تر گئے جو کی ایک غیر مسلم کا تھا آپ نے اس سے پوچھا اچھا کہ اگر تمہاری اجازت ہو ہو تو میں یہاں پر نماز ادا کر لوں قریب ایک تخت رکھا ہوا تھا آپ نے اس سے کہا کہ اس تخت پر میں اپنا عمامہ سر رکھ لوں آپ نے اس سے زیادہ دے کر وضو کیا اور وہاں پر نماز ادا فرمائے آئے اور نماز ادا فرمانے کے تقریبا ایک گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد آپ کو علی گڑھ کے لئے پھر دوبارہ بس ملی آپ اندازہ فرمائیں آئی کی اللہ نے آپ کو کیسا بنایا تھااور آپ کے دل میں کس قدر خشیت الہی تھی آپنے تکلیف کو برداشت کرنا گوارا کر لیا لیکن نماز نہ چھوڑی۔

حضور بحرالعرفان کے وصال فرمانے سے ایک روز قبل جس دن آپ کی طبیعت بہت زیادہ ناساز تھی کمزوری بہت زیادہ لاحق تھی جمعے کا دن تھا کمزوری اتنی کی آپ صحیح سے کھڑے بھی نہیں ہو پا رہے تھے صبح سے ہی مہمانوں کا تاتا لگا ہوا تھا آپ مہمان نوازی بھی کر رہے تھے سب کی حال خیریت بھی پوچھ رہے تھے لیکن اپنی طبیعت اور کمزوری کی فکر نہیں تھی تقریبا ساڑھے دس بجے کے بعد آپ تھوڑی دیر آپ نے آرام فرمایا مخدوم گرامی مولانا محمد برکات احمد صاحب آفاقی مجددی آپ کے ساتھ تھے ان کا بیان ہے کہ جب حضرت جمعہ کے وقت بیدار ہوئے آپ کھڑے ہوکر تہبند شریف باندھنے لگے کمزوری اتنی کی آپ کبھی کھڑے ہوتے پھر بیٹھ جاتے آپ کئیی مرتبہ کھڑے ہوئے پھر بیٹھ گئے یے گئے مولانا برکات احمد صاحب نے عرض کیا کہ ابا جان تہبند بیٹھ کر پہن لیں تو آپ نے فرمایا بیٹا تہبند کھڑے ہوکر پہنا نا میرے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بہت پیاری سنت ہے مجھے تکلیف برداشت کرنا گوارہ ہے لیکن کوئی سنت چھوٹے یہ گوارا نہیں ہے۔

ایسی سینکڑوں ہزاروں مثالیں ہیں جو حضور بحرالعرفان کی تقویٰ شعار زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں میں نے تو صرف چند واقعات ہی ذکر کیے ہیں۔

مولا تبارک وتعالی اللہ علی ہمارے مرشد کے صدقے میں میں ہمیں بھی تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی عطا فرمائے آئے اور حضور اور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔