باب ۲۹ از ۶۵صفحات ۲۰۴–۲۱۷
علم و عمل کی آفاقی خوشبوئیں
مفتی فہیم احمد ثقلینی ازہری٭
اس کائنات رنگ و بو میں آنے والا ہر شخص کسی نہ کسی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ کوئی عالم دین ہوتا ہے، تو اپنے نور علم سے جہالت کی تاریکیاں دور کرتا ہے، کوئی ادیب ہوتا ہے، تو وہ اپنے ادب کے ذریعہ خدمت کرتا ہے، کوئی شاعر ہوتا ہے، تو الفاظ کو کسی خوبصورت لڑی میں پروکر نظم کرکے بارگاہِ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کرتا ہے۔ کوئی مصلح ہوتا ہے تو معاشرے کی اصلاح کرکے افراد معاشرہ میں عزت کا مقام پاتا ہے۔ کوئی داعی و مبلغ ہوتا ہے جو اپنی دعوت و تبلیغ کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کو عام کرتا ہے۔
لیکن اس وقت ہمارا قلم جس عظیم ہستی کے در پہ جبیں سائی کر رہا ہے، وہ قدرت کا ایسا ’’گل رنگین ادا‘‘ تھا کہ نقاش ازل نے اس کے پیرہن میں کئی رنگ بھرے تھے۔ اور کئی خوشبوئیں بسائی تھیں، جو مذکورہ بالا
جملہ خصوصیات کا حامل تھا۔ میری مراد ممتاز عالم دین، مرشد العلما، داعیٔ اسلام، بانی مساجد و مدارس کثیرہ، بحرالعرفان مفتیٔ اعظم قنوج، قاضیٔ ضلع قنوج، حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد نقشبندی مجددی قنوج شریف ہیں۔
آپ ضلع فرخ آباد(موجودہ ضلع قنوج) کے موضع بھڑونسہ میں ۱۹۵۹ء میں جلوہ افروز ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مکتب میں ہی حاصل کی۔ درس نظامی کی ابتدا مفتی خلیل احمد بجنوری ثم بدایونی کے پاس مدرسہ ظہیر الاسلام، جعفری مسجد، گھنٹہ گھر، بدایوں شریف میں کی۔ عا لمیت اور فضیلت کی تکمیل مرکز علم و عرفان، آماجگاہ تصوف و روحانیت، سیدنا مخدوم اشرف کچھوچھوی کے دیارِ اقدس ’’جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ‘‘ میں فرمائی اور چند سال شیخ اعظم علامہ سید شاہ اظہار اشرف کچھوچھوی علیہ الرحمہ کی خواہش پر جامع اشرف میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دئیے۔
دلِ درد مند: اللہ رب العزت نے حضرت بحرالعرفان کو دل دردمند، حساس، فعال دست و بازو اور زندہ ضمیر عطا کیا تھا۔ آپ نے ملت اسلامیہ کے اسباب زوال کا نہایت گہرائی سے مطالعہ کیا تو یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ قوم مسلم عشق رسول اور تعلیمات صوفیا سے دوری کی وجہ سے ذلت و خواری کا شکار ہے۔ آپ نے اپنے علم و فضل سے اپنے ضلع اور قرب و جوار کو مستفیض و مستنیر کرنے کا ارادہ فرمایا۔ کچھوچھہ مقدسہ اور گورکھپور کو چھوڑا۔ عارف باللہ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں نقشبندی حفظہ اللہ تعالیٰ کے دامن کرم سے وابستہ ہوئے۔ اللہ کا نام لے کر ، فیضان امام ربانی کے زیر سایہ اصلاح عقائد و اعمال، دعوت و تبلیغ، سماج سدھار، تصوف و روحانیت، سلوک و معرفت اور تعلیم کو عام کرنے کے لیے دنیا کا قدیم ترین شہر ’’قنوج‘‘ کو مرکز منتخب کیا۔
زمانۂ قدیم سے ماضی بعید تک قنوج صنعت و حرفت، سیاست و حکومت، علوم و فنون، علما و صوفیا، سادات و مشائخ، راجاؤں نوابین کا مرکز رہا ہے اور عالمی سطح پر مشہور و معروف ر ہا ہے۔ جیسا کہ ’’تاریخ فرشتہ از محمد قاسم فرشتہؔ‘‘، ’’تاریخ فیروز شاہی از مؤرخ ضیاء الدین برنی چشتی‘‘، ’’طبقات ناصری از ابو عمر و منہاج سراج‘‘ سے ظاہر ہے۔ اس کے بعد ماضی قریب میں قنوج نواب سید صدیق حسن خاں قنوجی بھوپالی اور ان کے خاندان کی وجہ سے سلفیت و وہابیت کی زد میں آ گیا تھا۔ صوفیا اور اہل سنت کے اثرات بالکل ختم ہو چکے تھے۔ بزرگان دین کا نام لینے والا کوئی نہ تھا۔ معمولات اہل سنت کا رواج بالکل معدوم ہو چکا تھا۔ مساجد میں ائمہ اہل سنت کا وجود نہ تھا۔ اکثر مساجد غیر آباد تھیں۔ دینی تعلیم کا کوئی ادارہ نہ تھا۔ جہالت و تاریکی ہر طرف
پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے نازک اور خطرناک ماحول میں حضرت بحر العرفان نے اپنی دعوت و تبلیغ اور تعلیم کا مرکز قنوج کو بنایا۔ نہایت خاموشی، سادگی اور حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے آپ نے کام شروع کیا۔
۱۹۹۸ء سے تا دم وصال تقریباً بیس سال کی خدمات فقیر ثقلینی راقم سطور نے بذات خود ملاحظہ کی ہیں۔ آپ کا ورود مسعود قنوج میں ۱۹۸۶ء میں ہوا۔ اس طرح آپ کی خدمات کا دورانیہ چھتیس سال پر محیط ہے۔ان چھتیس سالوں میں آخر کے بیس سال کی تعمیری، تعلیمی، سماجی، اصلاحی، روحانی، دعوتی، تبلیغی خدمات کو بخوبی اور بغور دیکھا ہے۔ آپ کی خدمات کا جائزہ لینے سے پہلے اور یہ جاننے کے لیے کہ ابتدائی دور میں آپ نے کن مشکلات کا سامنا کیا اور کیسے پرخطر مراحل سے گزرے۔ آپ کے شب و روز دعوت و تبلیغ کی خاطر کیسے رہے۔ بنجر زمین کو آپ نے کس طرح زرخیز بنایا۔ سنگ دل، سنگین ماحول اور خشک لوگوں میں آپ نے کس طرح گل و لالہ اگائے، اور کس طرح ذرات کو موتی و جواہر بنایا، اس کو سمجھنے کے لیے پیغمبر اسلام حضور سیدی مصطفی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام کی مکی زندگی کو ملاحظہ کریں اور مکی دور کی سیرت رسول کے حالات کو پیش نظر رکھیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہوگا کہ حضرت بحرالعرفان نے قنوج میں دینی خدمات انجام دینے کے سلسلے میں سیرت رسول کے مکی دور کو آئیڈیل بنایا۔
یقینا مکتب کو مدرسہ تک لے جانا، مدرسہ کو ترقی دے کر دارالعلوم بنانا، پھر دارالعلوم کو ’’جامعہ‘‘ کی شکل دینا، ویسے تو برصغیر میں ہر مسجد کے مکتب کے نام کا لاحقہ جامعہ ہوتاہے اور ایسے جامعہ ہندوستان کی ہر گلی و کوچے میں مل جائیں گے۔ حضرت بحرالعرفان علیہ الرحمہ نے رسمی اور قلمی جامعہ تعمیر نہیں کیا۔ آپ نے وہ جامعہ تعمیر کیا، جس کو سن کر ’’یونیورسٹی‘‘ کا تصور ہوتا ہے۔ حالانکہ آپ مستقل طور پر ’’انٹرنیشنل امام ربانی یونیورسٹی قنوج‘‘ کے لیے بھی تگ و دو کررہے تھے۔ اور کافی کاروائیاں مکمل ہو چکی تھیں۔ پھر بھی آپ نے صرف قنوج شہر میں جو مکاتب، مدارس، دارالعلوم، نرسری اسکول، پرائمری اسکول، ہائی اسکول، انٹر کالج اور ڈگری کالج قائم کیے، اگر یہ تمام ادارے ایک کیمپس اور احاطے کے اندر ہوتے، تو ملک کی قابل ذکر یونیورسٹیز میں ایک قابل قدر نام ’’الجامعۃ الاحمدیہ‘‘ ہوتا۔ لہٰذا مستقلاً نہ سہی، پھر بھی آپ نے ایک عظیم یونیورسٹی کے برابر کام کرکے دکھایا۔ یقینا بحرالعرفان ایک ماہر تعلیم، حساس دل اور فکر مند شخصیت کے مالک تھے۔ اسلام کا جو تصور علم ہے، اس پر عمل کرتے ہوئے آپ نے علم کی روشنی کو بلا تفریق بندگان خدا تک پہنچایا۔ جس سے قوم ذلت و خواری اور ضلالت و گمرہی کے دلدل سے نکلے
اور اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ انسان سے شانہ سے شانہ ملا کر چلے، سینہ کھول کر زندگی گزارے۔ اقوام عالم کے سامنے سر اٹھا کر جیئے۔ بحر العرفان کی راتیں اسی درد و کرب میں بسر ہوتیں۔ امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کی بازیابی کے لیے، دلوں کی اجڑی ہوئی نگری بسانے کے لیے، من کی ویران کھیتی آباد کرنے کے لیے، مسلمانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے آپ دن کے اجالے میں بھی تڑپتے، اور رات کی تاریکی میں اولیا مسجد کے ایک گوشۂ تنہائی میں رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سر بسجود رہتے۔ زندگی کے قنوجی دور میں رات کی پچھلی گھڑی میں اٹھ کر تہجد گزارتے، ذکر وفکر اور مراقبہ فرماتے، اور اس کے بعد گڑ گڑا کر آہ و زاریاں کرتے ہوئے مسلمانوں کے عروج و ارتقاکی بارگاہ رب العزت سے بھیک مانگتے۔ رات کی تنہائی میں اپنی آنکھوں کو تر کرتے، تر آنکھیں بخشش کا وسیلہ اور رب کو منانے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ رات کو رونے والی آنکھیں روح کی بیداری اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ طالبان شوق کو بھیگی پلکوں سے فکر کی خوراک ملتی ہے۔ اور عرفا نے سحر خیزی کو خوشنودیِ مولا کا مجرب و آزمودہ نسخہ قرار دیا ہے۔ جب دنیا خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی تھی، اس وقت آپ بخت خفتہ کو بیدار کرنے کے لیے عبادات و ریاضات میں لگے ہوتے تھے اور آپ اس حقیقت سے آشنا تھے کہ ؎
عطار ہو، رومی ہو، رازیؔ ہو، غزالیؔ ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خدا وندی
۱۔ راقم سطور کے رہبر منزل استاذی المحترم حضرت مولانا رفاقت علی صاحب ثقلینی مجددی ککرالوی نے تکمیل حفظ قرآن کے بعد درسِ نظامی کی تحصیل کے لیے ۱۹۹۸ء میں الجامعۃ الاحمدیہ قنوج پہنچایا۔ اس وقت جامعہ قدیم عمارت میں چلتا تھا۔ جامعہ کے قریب حمالی پورہ والی مسجد میں بوقت عشا حضرت سے پہلی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ آپ اس دن پاکستان سے تشریف لائے تھے۔ دہلی سے عبداالمعید بھائی بذریعہ کار لے کر آئے تھے۔ داخلہ کے سلسلہ میں راقم سطور اور برادر محترم حافظ محمد عرفان صاحب فرید پور، بریلی ۱۰؍شوال کو قنوج پہنچ گئے تھے۔ حضرت کی اقتدا میں نماز عشاہوئی اور جامعہ کے کمرے میں حضرت سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ایک عظیم شخصیت ہونے کے باوجود ہم اجنبی اور نوواردین سے نہایت شفقت سے
پیش آئے اور ’’مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیْرنَا فَلَیْسَ مِنَّا‘‘ کا حق ادا فرمایا۔ بعدہٗ محترم معین بھائی سے فرمایا ابھی مطبخ میں کھانا شروع نہیں ہوا ہے، اس لیے آپ تینوں وقت ان کے ناشتہ اور کھانے کا خیال رکھیں۔ ان کو خانقاہ شرافتیہ بریلی شریف کے سجادہ نشین حضرت شاہ محمد ثقلین میاں صاحب مجددی نقشبندی نے بھیجا ہے۔ جب تک مطبخ میں کھانا پکنا شروع نہیں ہوا، اس وقت تک جناب معین بھائی نے ہمارا مکمل خیال رکھا اور کوئی تکلیف نہیں ہونے دی۔
۲۔ حضرت بحر العرفان نے دعوت و تبلیغ کے لیے کبھی ناز و ادا اور نخرے نہیں کیے اور نہ خطیب الہند اور پیر مغاں کی طرح ہٹو بچو اور تکلفات سے کام لیا جو جیسے لے گیا چلے گئے، جو کھلایا بخوشی تناول کرلیا۔ کسی نے کچھ پیش کیا تو قبول کر لیا، نذر پیش نہ کی تو جبین پر شکن نہیں آئی۔ ۱۹۹۸ء کا واقعہ ہے کہ حضرت کے تلمیذ جو اس وقت منتہی جماعت کے طالب علم تھے (نام مجھے یاد ہے) حضرت کو ضلع ایٹہ میں کاسگنج کے مضافات میں ندرالہ بسلسلۂ وعظ و خطابت لے گئے۔ صبح کو مولوی صاحب گھر رک گئے اور حضرت کو واپس کردیا۔ ندرالہ سے چلنے کے بعد راستہ میں ایک جگہ آپ نے سواری بدلی۔ بس بھری ہوئی تھی، اندر داخل ہونا تو کجا کھڑکی پر قدم رکھنا مشکل تھا، دوسری بس ایک گھنٹے کے بعد تھی، اگر اس سے آپ آتے تو طلبہ کا درس بخاری اور دیگر تعلیم متاثر ہوتی۔ اس لیے چار و ناچار اسی بس پر سوار ہو گئے۔ ایک ہاتھ جب تھک گیا تو آپ ہاتھ بدل کر دوسرے ہاتھ سے کچھ پکڑنا چاہ رہے تھے کہ بس کا پہیہ گڈھے میں آ گیا، اور آپ بس سے نیچے گر گئے اور ہاتھ ٹوٹ گیا۔ لوگوں نے بس رکوائی، آپ کو اٹھایا اور بس میں اندر داخل کیا۔ درد بڑھتا گیا یہاں تک کہ قنوج تک اسی طرح آئے۔ پہلے طلبہ کو تعلیم دی۔ جب تکلیف زیادہ ہونے لگی تو ڈاکٹر کو دکھایا۔ ڈاکٹر نے پلاسٹر کیا۔ جب تک آپ کا ہاتھ ٹھیک نہیں ہوا، اس وقت درس و تدریس، مسجد میں باجماعت نماز، مسجد میں ذکر و فکر، طالبین و سالکین کی تربیت میں ذرہ برابر کوئی فرق نہیں آیا۔ حضرت نے یہ پوری تفصیل پہلے ہی دن بعد نماز عصر اولیا مسجد میں حاضرین سے بیان فرمائی، جن میں راقم سطور موجود تھا۔
۳۔ ایک بار حضرت بحر العرفان بعد نماز مغرب جامعہ کے بیرونی دفتر میں تشریف فرما تھے۔ حضرت مولانا شبیر احمد علوی مصباحی بہرائچی، حضرت مولانا تنظیف احمد رضوی بریلوی، حضرت مولانا مفتی محمد عین الحق رضا رضوی اکبر پوری، حضرت مولانا ا خلاق احمد مجددی اور دیگر مدرسین و اساتذہ بھی موجود تھے۔ جامعہ کے انتظامی امور پر تبادلۂ خیال ہو رہا تھا، اسی درمیان حضرت کے والد محترم بھی آگئے۔ آپ
نے فوراً سلسلۂ گفتگو روکا، اور والد محترم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اور اپنی نشست پر بٹھایا۔
یعنی قرآن وحدیث میں والدین کا جو مقام و مرتبہ بیان فرمایا گیا ہے آپ نے اس پر عمل کیا۔ جامعہ کے بانی، مہتمم اور شیخ الحدیث ہونے کا گھمنڈ اور تکبر نہیں دکھایا۔ آپ نے اپنے ہر قول و فعل سے عاجزی و انکساری پیش فرمائی۔ اور دوسروں کو عملی و فعلی تربیت عطا فرمائی۔
۴۔ اسی طرح آپ تعلیم کی اہمیت، اوقات کی پابندی اور طلبہ کی پڑھائی کے سلسلہ میں نہایت حریص واقع ہوئے تھے، جیسا کہ ۱۹۹۸ء میں راقم سطور نے بچشم خود بارہا یہ منظر دیکھا کہ دسمبر جنوری کی سخت سردیاں ہوتی تھیں، کہرے کی وجہ سے قدیم عمارت کے چھوٹے چھوٹے کمروں میں دن میں بھی اندھیرا سا چھایا رہتا تھا۔ آپ اپنی ڈیسک کے دونوں گوشوں پر موم بتیاں روشن کرتے اور تعلیم شروع فرما دیتے۔ مگر کسی بھی طرح درس و تدریس کا ناغہ اور طلبہ کا تعلیمی نقصان برداشت نہیں تھا۔
۵۔ آپ طلبہ پر نہایت شفیق، مہربان تھے اور ہمیشہ ہر جگہ طلبہ کی طرف توجہ رہتی تھی، چاہے قرآن خوانی ہو، دعوت ہو یا سفر و حضر ہو۔ مثلاً آپ کی سسرال ایک گاؤں ’’اکبر پور‘‘ میں ہے۔ اس کے متصل ایک گاؤں ’’ابراہیم پور‘‘ بھی ہے، وہاں ایک بڑا اجلاس ہوا۔ آپ کی سرپرستی و صدارت تھی۔ مقررین خصوصی میں حضرت مولانا ادریس رضا حشمتی پیلی بھیتی اور حضرت مولانا مفتی تطہیر احمد رضوی صاحب بریلی شریف تھے۔ ہم چند طلبہ قنوج سے پیدل ہی وہاں کے لیے روانہ ہوگئے۔ راستے میں ایک ندی بھی پڑی۔ پیسے دے کر ناؤ سے عبور کیا۔ اس ندی کو غالباً کالی ندی کہتے ہیں۔ ہم لوگ کھیتوں کھیت جنگل کو پار کرتے ہوئے نماز عصر کے بعد ابراہیم پور پہنچ گئے۔ نماز، کھانا، آرام سے فارغ ہوئے۔ رات میں نہایت تزک و احتشام سے پروگرام ہوا، اور وہیں مسجد میں آرام کیا۔ بعد نماز فجر سب لوگ حضرت بحر العرفان کی سسرال پہنچے، جہاں بھنی ہوئی مچھلیوں سے ناشتہ ہوا۔
اس کے بعد حضرت اپنی گاڑی سے رخصت ہونے لگے۔ مفتی تطہیر احمد صاحب و دیگر مصاحبین سوار ہوگئے۔ گاڑی چلنے والی ہی تھی کہ حضرت نے پیچھے کی طرف دیکھا کہ ہم چار طلبہ مایوس کھڑے تھے، اس لیے کہ کار میں جگہ نہیں تھی اور لوگوں نے منع کر دیا تھا۔ حضرت نے فرمایا، ان بچوں کو بھی بٹھا لیجیے ۔ کسی نے اندر سے کہا، حضرت جگہ نہیں ہے۔ آپ نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا، جگہ ہم کرتے ہیں۔ ایک صاحب کو آپ نے اپنی سیٹ پر بٹھایا۔ درمیان میں مفتی تطہیر احمد صاحب کے برابر میں دولوگوں کو اور
بڑھایا اور پیچھے کی سیٹوں پر ہم چار طلبہ کے لیے جگہ ہو گئی۔ اور آپ نے فرمایا گاڑی میں جگہ ہونے یا نہ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا ہے، دل میں جگہ ہونا چاہیے۔ ایثار اور قربانی سے پیش آؤگے تو تمام مشکلات حل ہو جائیں گی۔ اس طرح ہم لوگ بخیر و عافیت الجامعۃ الاحمدیہ قنوج پہنچ گئے۔
۶۔ یہی آپ کی وہ ادائیں تھیں، اخلاق حسنہ اور خوردہ نوازی تھی، جس کی وجہ سے اللہ رب العزت نے آپ کو کامیابیاں عطا فرمائیں۔ تعلیمات اسلامی، سیرت رسول اور صوفیائے کرام کی زندگی میں ہمیں مہمان نوازی کے اصول بھی ملتے ہیں، مہمان کی کس طرح تعظیم اور ضیافت کی جاتی ہے۔ اسلام میں مہمان نوازی کی بڑی اہمیت ہے۔ میزبانی انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی مہمان نوازی کا تذکرہ اللہ رب العزت نے قرآن مقدس (سورہ ذاریات، آیات نمبر ۲۴، ۲۵، ۲۶، ۲۷) میں کیا ہے۔ اچھے مسلمانوں کی پہچان اور خصوصیات سے یہ بھی ہے کہ وہ مہمان نواز ہوتا ہے اور متقی و پرہیزگار مسلمان میزبانی دکھاوے کے لیے نہیں کرتے ہیں، بلکہ اس کو دین اور ایمان کا حصہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ ہم جب حضرت بحر العرفان کی حیات مبارکہ کا جائزہ لیتے ہیں تو اوصاف نبوی میں سے صفت مہمان نوازی بھی آپ کے اندر بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ جیسا کہ راقم سطور ۱۹۹۸ء میں قنوج میں زیر تعلیم تھا، اور مولانا حافظ محمد شاہ میر رضا رضوی مدرس جامعہ احمدیہ کے روم میں رہتا تھا، جو قدیم عمارت میں کمرہ نمبر ۲ تھا۔ میرے استاذ محترم حضرت مولانا صوفی رفاقت علی صاحب ثقلینی اور برادر محترم حافظ حکیم سمیع الدین ثقلینی بن مولوی حکیم سراج الدین شرافتی مرحوم بن مولانا مولوی حکیم ضیا الدین بشیری مرحوم ساکن محلہ مردھان، قصبہ فریدپور، ضلع بریلی شریف مجھ سے ملاقات کی خاطر قنوج پہنچے۔ حضرت کی مسجد اولیا میں ملاقات، تعارف اور گفتگو ہوئی۔ حضرت نہایت خندہ پیشانی اور محبت و شفقت سے پیش آئے۔ اور بعد نماز عصر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ نماز مغرب سے فراغت کے بعد حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ نے مولانا شاہ میر صاحب سے فرمایا، مہمانوں کے لیے ہمارے گھر سے کھانا آئے گا، دھیان رکھیں۔ کچھ دیر بعد جناب معین بھائی حضرت کے گھر سے کھانا لے کر آگئے جو ہمارے مہمانوں نے تناول کیا۔
۷۔ زبدۃ العارفین حضرت مولانا شاہ شرافت علی میاں قادری مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ کے پچاسویں عرس کے موقع پر آخری محفل میں بتاریخ ۳۰؍نومبر ۲۰۱۷ء کو خانقاہ شرافتیہ مجددیہ بریلی شریف کے صاحب سجادہ شیخ طریقت حضرت شاہ ثقلین میاں حضور قبلہ نقشبندی نے حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کو
مہمان خصوصی کا اعزاز بخشا۔ آخری خطاب بھی آپ کا ہوا، اور صاحب عرس کی سوانح حیات، ’’شرافت الاولیا‘‘ کا رسم اجرا بھی آپ کے ہی دست اقدس سے ہوا۔ آپ کے ساتھ حضرت مولانا محمد آصف مجددی استاذ الجامعۃ الاحمدیہ قنوج بھی تھے۔
راقم سطور نے باضابطہ بطور درس کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی۔ مسجد میں آپ کے درس تصوف میں بارہا حاضری کا شرف حاصل ہوا، یا گھنٹی خالی ہونے پر گاہے بگاہے آپ کے درس میں شرکت کرلی۔ اس کے علاوہ چار سو سالہ جشن مجدد الف ثانی قنوج کے موقع پر جامعہ ازہر مصر سے واپسی پر شرکت کی۔ اس کے بعد ہر سال سیمینار و کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوتی رہی۔ اس کے علاوہ کبھی کبھی سال میں کئی کئی بار قنوج آپ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ حضرت کے وصال پرملال سے آنکھیں اشکبار، دل غمگین، چہرہ افسردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت کے مشن پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور آپ کے مرقد منور پر رحمت و غفران کی بارش فرمائے اور درجات بلند فرمائے، آمین۔
..................................
٭ صدر مدرس جامعۃ المصطفیٰ، قصبہ ککرالہ، ضلع بدایوں شریف
یادگارِ سلف حضرت بحرالعرفان علیہ الرحمۃ والرضوان حلم وتدبر کے پیکر
مولانا انوار احمد قادری شیری٭
چلچلاتی دھوپ اور لق ودق صحراجیسی زندگی میں بعض لوگ بادِبہاری کاخوشگوارجھونکا بن کرداخل ہوتے ہیں توتن بدن کو جھلساتی دھوپ کی تمازت میں کمی کا احساس ہوتا ہے،مشامِ جاں محبت کی بے لوث خوشبو سے مہک اٹھتا ہے، بے کل اور بے قرار دل کی گہرائیوں میں راحت اور طمانیت کا احساس اترتا چلا جاتا ہے۔
دور حاضرمیں اگر ان کی یادوں اور باتوں کو صفحہ قرطاس پر لانے کے لیے ان کی حیات کے آئینہ میں انکو تلاش کرتا ہوں تو سب سے پہلے مجھے ایک باوقار بزرگ اور سنجیدہ وجود میں ایک نہایت حسین وجمیل اورپرنور چہرہ نظر آتا ہے، جو خوبصورت بھی اور متبرک بھی ،سفید ریش ایسی محسوس ہوتی تھی گویا ربّ ِ کائنات نے ان کے چہرے کی بناوٹ کے مطابق ہی یہ خوبصور ت داڑھی ودیعت فرمائی ہو، آنکھیں ایسی
کہ دور اندیشی کے ساتھ کافی کچھ کہ دینے کے ساتھ ساتھ پچھلوں کا پتہ اور اگلوں کا سراغ بھی دیدیا کرتی تھیں، مسکرانا انکی فطرت میں تھا، ان کو اس کام میں مشقت نہیں کرنی پڑتی تھی،وہ اگر خاموش ہوتے تھے تولگتاتھا مسکرانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
یادگارِ سلف حضرت بحرالعرفان علیہ الرحمتہ والرضوان حلم وتدبر کے پیکر تھے اور فکروفن علم وتحقیق بالخصوص ’’فروغِ تصوّف‘‘ تو ان کا مشن تھا۔
کئی دہائی سے چلے آرہے اکابرو اصاغر ِ اہلِ سنت کے درمیان فروعی اور الحاقی مسائل میں اختلاف وانتشار سے کوسوں دور ’’اپنے کام سے کام‘‘ اور اس سلسلہ میں کڑھنا خودراہِ اعتدال پر جادۂ پیما رہنا آپکی طبیعتِ ثانیہ تھی۔بر صغیر کے تاریخی مشہور شہر قنوج میں دینِ متین کی تبلیغ، راہِ صراط سے بھٹکے ہوئے لوگوں کی رشدوہدایت کے لیے کسی موضع سے آکر تنِ تنہا قدم جمانا اپنے آپ میں ایک جہاد اور جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا ۔جہاں بھانت بھانت کے دین بیزار ،بدعقیدگی اوربغض وحسد سے بھرے لوگ اور اس پر ’’اپنوں کی کرم فرمائیاں‘‘ مستزاد۔
مگر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایسا حوصلہ بخشا اور ہمت عطافرمائی کے سرور کونین ﷺ کے صدقے اس کام کے لیے جس نام کو لے کر چلے (یعنی، جہاں گیری نہ جس کو کرسکی خم سامنے اپنے) وہ کوہِ استقامت ہے مجدد الف ثانی کی، اکبرو جہانگیر کا غرور خاک میں ملانے والے دینِ الٰہی کو نیست ونابود کرنے والے،اللہ کے دین، رسول اللہ کی شریعت کے محافظ، قاطعِ دینِ اکبری، حجتِ شریعتِ مصطفوی،برہانِ ولایتِ محمدی،کاشفِ اسرارِ سبعِ مثانی،عالمِ مقطعاتِ قرآنی، قیومِ زمانی، عارفِ حقانی، امامِ ربانی ،مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی نقشبندی سرھندی قدس سرہ) اس نے وہ استقامت بخشی کے راستے کے ہر پتھرکو درکنارکرتے آگے بڑھتے رہے اور وہ وابستگی بھی فیضان لٹاتی رہی، اور یہ مرد قلندر اس نام کو حرز جان بنائے رہا، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ اسی نسبت کا کمال ہے کہ ہم جیسے ہزاروں شیدا ان کی اسی طینت اور فطرت کے نثار ہیں، کہ ہر سلسلے اور شیخ کا جو احترام انہوں نے کیاآج کے ــ(تیرے میرے) کے دور میں کہاں، ان کی تو شاید گھٹی میں شامل تھا، سب کو لے کر چلنا، سب سے محبت کرنا اور سب پر پیار لٹانا وقار وتمکنت کے باوجود علماء ومشائخ و اکابر و اصاغر کی خوب قدر کرنا جس سے ملنا ٹوٹ کر ملنا تکبر سے دور اور بہت دور آپ اہل سنت و جماعت کے درمیان اتحاد کے داعی تھے اور کسی مسئلہ میں
جو فرعی ہو، ہوا دیکر سنیوں کے اندر اختلاف و انتشار کی فضا قائم کرنے کے قائل نہ تھے، آج وہ ہم میں نہیں ہیں مگر ان کی ایک ایک ادا یاد آتی ہے۔
میں ۲۰۱۴ء سے برادر طریقت حضرت مولانا آصف صاحب مجددی اور حضرت کی یاد آوری پر پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہوں اور چونکہ میں خانقاہ شیریہ مجددیہ پیلی بھیت وبہیڑی سے وابستہ ہوںاور وہاں کا خادم ہوں، اسی نسبت کو لے کرحضرت بحر العرفان اور آپ کے صاحب زادے اور تمام خانقاہ مجددیہ آفاقیہ کے افراد جس طرح محبتوں اور شفقتوں سے نوازتے ہیں اور تواضع وانکساری سے پیش آتے ہیں، بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، حضرت بحر العرفان کی یہی خاصیت ان کے مقبول عام اور ولی باصفا ہونے کی علامت ہے۔؏ تصوف بجز خدمت خلق نیست۔ کا پورا نقشہ یہاں دیکھا۔ حضرت موصوف فقیر شیری سے بیحد محبت فرماتے تھے، میں حاضر ہوتا تو دیکھتے ہی فرماتے ‘‘ آگئے انوار صاحب’’ آپ ہی کا انتظار کر رہے تھے ‘‘اللہ اکبر’’ چونکہ فون کے ذریعہ میں آنے کے بارے میں حضرت آصف صاحب کو مطلع کرتا تھا تو حضرت بطور خاص متوجہ رہتے تھے اس بار جشن مولی علی رضی اللہ عنہ ،میں محب گرامی حضرت مفتی فہیم احمد ثقلینی ازہری ککرالوی کا پروگرام پیر طریقت حضرت سید غلام حسین جیلانی عرف باپو دامت برکاتہم سوجا شریف کے ساتھ تھا اس لیے میں اکیلا ہی حاضر ہوا، غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ حضرت خاصے مصروف ہونے کے باوجود مجھے دیکھتے ہی تمام محبتوں اور شفقتوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ بصد اصرار میرے منع کرنے کے بعد بھی آپ نے غیرملکی مہمانوں کے ساتھ مجھے کھانے کا موقع عطا فرمایا اور کھانے پر بضد ہوکر بٹھا لیا۔
حضرت میں بڑے پن کا خوب احساس تھا، وہ جانتے تھے کہ خوردہ نوازی بھی ایک عظیم دولت و نعمت ہوتی ہے، جماعتی فلاح وبہبود، امت کی اصلاح وتذکیر اور خانقاہ مجددیہ کی علمی وراثت کو بڑھانے اور منظر عام پر لانے نیز الجامعہ الاحمدیہ کی تعمیروترقی کے لیے جو وسیع خاکہ آپ نے بنایا ہے وہ اخلاف اورنسلوں کے لیے لائحہ عمل اور نشان راہ ہے۔ جس وقت آپ نے قنوج میں قدم رکھا تھااس وقت یہاں کی سنیت کس قدر مجروح اور مضمحل تھی اسوقت کے حالات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے،آپ نے کام شروع کیا،توغیروں کے ساتھ اپنوں نے راستہ روکنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑی،یہاں کے زیادہ تر مدارس ومساجدپر اغیار کا قبضہ تھا،اورانھیں کا بول بالا تھا غیر مقلدین کے ایک سرخیل کااتنا اثرتھاکہ کام کرنا
دشوار تھا مگر ‘‘ہمتِ مرداں مددے خدا’’ آپنے سنت حضورمجددالف ثانی امامِ ربانی کوحرزِجان بناکراور اس پر عمل کرتے ہوئے مخالفوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکام کا ایسابیڑہ اٹھایا کہ سرورکونین کے صدقے کامیابیاں ملتی چلی گئیں ،اسلام وسنت کو توحید کے نام پر جوشکستہ اورپژمردہ تھے اسے الحمدللہ آپ کی ہمہ جہت خدمات نے شگفتہ اورباوقاروپربہار بنا دیا ،ایک چھوٹی سی مسجد کی امامت اوراسی میں چندطلبہ سے مدرسہ شروع کیاتھا جو سیکڑوں مساجد اور درجنوں جامعات ومدارس کا جال قنوج ہی میں نہیں ہندوستان کے مختلف بلاد و امصار میں پھیلتا چلا گیا،جس کی جیتی جاگتی مثال الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ قنوج اور الجامعۃ المحصنات للبنات ہیں جن کا شمار آج ہندوستان کے بڑے سنی اداروں میں ہوتا ہے،اسی طرح آپ نے جدید اور عصری تعلیم کے لیے کافی تگ ودو کی جس کا ثبوت وارثی انٹر کالج اور سرہندپبلک اسکول ہیں جو عصری تقاضوں سے لیس اور انگلش میڈیم ہیں اور انٹرمیڈیٹ تک ہیں، اسی طرح ملک کے مختلف شہروں میں بھی اسی طرح کے اداروں کا قیام اور سرپرستی فرمائی۔ خانقاہوں کا قیام،درجنوں خانقاہیں سلسلہ مجددیہ نقشبندیہ قادریہ کے حوالہ سے ملک کے مختلف شہروں میں قائم فرمائیں ،بندگانِ خدا کو راہ شریعت پر گامزن کرنے اور انھیں طریقت ومعرفت کے جام بھر بھر کر پلانے کے لیے ‘‘فروغِ تصوّف’’ کے حوالے سے قائم فرمایا۔
آپ فرماتے تھے ‘‘عالم وہی ہے جس کے اندرخدا کا خوف اور اس کی خشیت ہو۔’’
حضرت بحرالعرفان کی زندگی خوف خدا اور خشیت الٰہی سے لبریز تھی،تحریروتقریر میں آپ گل وبلبل، باغ وبہار، لب ورخسار کی جگہ ہمیشہ دعوتِ عمل اور خدا خوفی کا جذبہ ابھارتے، چنانچہ اسی روش اور حق بیانی کا نتیجہ ہے کہ آپ کی تمام تصنیفات جہاںشریعت وطریقت کا سنگم ہیں وہیں پند و نصائح سے مملو ہیں ،آپ کے تحریر کردہ اس ایک اقتباس سے بھی کچھ اندازہ کرسکتے ہیں۔
بارگاہِ سرورِ کونینﷺ سے سرکار شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی، حضور امام ربانی مجددالف ثانی وغیرہ بزرگوں کو جو رفعتیں ،بلندیاں اورعظمتیں ملیں ،کہ وہ اور ان کے خلفا اور مریدین ان کی بشارتوں کے سبب جنتی ہیں اسے آپ تحریر کرکے آگے لکھتے ہیں کہ یہ ان بزرگوں کے ساتھ نسبت کی کرم فرمائی اورفیضان ہے ورنہ حالات سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے محبوں سے رشتہ جوڑنے والے،ان سے محبت کرنے والے ان کی خدمت کرنے والے، ان کی زیارت کرنے والے،ان سے مصافحہ ومعانقہ کرنے
والے بھی بے حساب بخشے جائیں گے۔
آپ کے پندونصائح بھی تصوف کی نہج بالخصوص امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپرمبنی ہوتے تھے، غربا پروری،مالی استطاعت اور کوئی مستقل آمدنی نہ ہونے کے باوجودتوکل علی اللہ آپنے جو غربا پروری کے مظاہرے کیے ہیں، اس سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ مساجدومدارس اور خود کے بڑے خرچ کے باوجود غریب بچیوں کی اجتماعی شادیاں کرانا اور پھر یہ اعلان تو آپ کا جو اخباروں تک کی زینت بنتا رہا ہے کہ، جس کا کوئی سرپرست وسہارانہ ہو وہ ہمارے یہاں آجائے اپنی تمام ضرورتیں پوری کرے اور یہیں قیام کرے اس کی تمام ذمہ داریاں ہم اٹھائیں گے،یہ مشاہدہ بھی ہوا کہ اگر علما وطلبہ ملاقات کو آئے ہیں اور آپ نے محسوس کیا کہ ان کو مالی پریشانی ہے یا زاد راہ نہیں ہے تو انھیں حاجت کے مطابق اپنی جیب خاص سے ان کی ضرورت پوری فرمادی اور وہ بامراد اپنی منزل کو لوٹ گئے۔
بہر کیف ان کی کس کس خوبی اور کو ن کون سی ادا کا ذکر اوربیان کیا جائے وہ ایک جامع الصفات صوفی، ایک کامل درویش اورایک عالم ربانی، سچے عاشق رسولﷺ اور اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔
۱۳ جولائی ۲۰۱۹ کی صبح میں اچانک مفتی فہیم صاحب ثقلینی کا فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ حضور بحر العرفان کا وصال ہو گیا ہے بخدا ایسا محسوس ہوا کہ آسمان سر پر آگیا ہو اور پیروں تلے سے زمین کھسک گئی ہو، یقین نہیں آرہا تھا مگر خبر اتنی معتبر تھی کہ یقین نہ کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی، میں ہکا بکا کچھ دیر تو کچھ کہنے کے قابل نہ رہا طبیعت مضمحل ہو گئی، آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی، فیس بک اور واٹس اپ پر بھی دیکھا تو خبر گردش کرنے لگی، اس وقت کچھ لکھنا چاہا تو طبیعت نے انکار کیا چند جملے لکھے اب اس حادثۂ جانکاہ پر یقین کیے بغیر چارہ نہ تھا، برجستہ منہ سے نکلا انا للہ وانا الیہ راجعون، رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ
مفتی فہیم ثقلینی صاحب سے کچھ دیر میں میں نے معلوم کیا کہ حضرت کی تجہیزوتکفین کا کچھ اعلان ہوا، تو بتایا کہ حضرت کا جسد خاکی ابھی کانپور سے خانقاہ نہیں پہنچا ہے،لیکن اعلان کل۱۰ بجے نمازِ جنازہ کا ہوگیا ہے،ہم نے باہم مشورہ کے تحت بہیڑی سے وایہ ککرالہ کار سے پروگرام قنوج جانے کا بنایا اور صبح میں مفتی فہیم صاحب کے ہمراہ۸ افرادپرمشتمل یہ قافلہ پہنچ گیا۔حضرت کے آخری دیدار کے لیے خانقاہ پہنچ کر کافی جدوجہد کرناپڑی ایک عظیم مجمع تھا سوگواروں کاجو آخری دیدار کی لیے ٹوٹا پڑرہاتھا ہمیں بڑی
حضرت کے فرزندان، داماد واساتذہ وتلامذہ الجامعۃ الاحمدیہ اور تمام دور دراز سے آئے علماء ومشائخ، خانقاہ سے وابستہ عقیدت مندان سب کے سب افسردہ اور حزن وملال کے پیکر بنے ہوئے تھے۔ قنوج کے بورڈنگ میدان میں جو شہر کا سب سے بڑا گرائونڈ ہے، اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آج تک کسی پروگرام میں کبھی نہیں بھرا، لیکن حضرت بحر العرفان کی نماز جنازہ کے موقع پر بھر جانے کے بعد بھی مین روڈ سے خانقاہ کے کنارے تک عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا بے حساب لاکھوں کا مجمع تھا، آپ کے پیرو مرشد شیدائے مجدد الف ثانی، پیر طریقت حضرت علامہ شاہ احمد رضا خان نقشبندی مجددی مدظلہ بنارسی نے ٹھیک ساڑے دس بجے نماز پڑھائی، مشائخ، علما ء اور سادات کے لیے آگے بیریکیڈنگ کرکے جگہ بنائی گئی تھی، نماز میں مکبرین کے ساتھ حضرت مفتی زین العابدین مجددی مائک سے تکبیرات کہہ رہے تھے اور پھر اپنے محبوب بحر العرفان کو بعد نماز خانقاہ مجددیہ میں بشکل جلوس لے جاکر سپرد خاک کردیا۔
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے
جانا تو ہر ایک کو ہے مگر وہ اتنی جلدی ہم لوگوں سے رخصت ہو جائیں گے، یہ کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا، ابھی تو انہیں بہت سارے منصوبے اور عزائم کی تکمیل کرنی تھی لیکن مرضیٔ مولی از ہمہ اولی کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا۔
یہ اپنے آپ میں ہم گناہگاروں کے لیے تسلی بخش ہے کہ دنیا میں ان سے کسی قدر ہمارا بھی رشتہ محبت وعقیدت استوار تھا، موصوف چلے گئے مگر ہمیشہ یاد بہت آئیں گے۔ آپ کی وہ باتیں اور نصیحتیں ہم کبھی نہیں بھولیں گے کہ:خانقاہ میں اور ممبر پر بھی فرمایا۔
انوار صاحب:
سلسلہ کا کام کر رہے ہیں، خوب کریں ،آپ کی کئی کتابیں جو آپ نے لکھی ہیں میں نے دیکھی اور پڑھی ہیں بہت خوب ہیں خوب لکھیے اور خوب کام کیجیے، دنیا میں وہی لوگ یاد رکھے جاتے ہیں جو اپنے پیچھے پایہ دار علمی سرمایہ چھوڑ جاتے ہیں ورنہ دنیا انسانوں سے بھری ہے، کام کوئی کوئی کرتا ہے جو کام کر جاتے ہیں وہی یاد کیے جاتے ہیں، ہم آپ کی یہ باتیں کبھی نہیں بھول سکتے کہ کام ہی انسان کو بڑا بناتا ہے،
حضور بحر العرفان کی شخصیت اس اعتبار سے بھی اپنے معاصرین میں نہایت ممتاز ومنفرد تھی کہ آپ کا اخلاق بہت بلند تھا، بڑوں کے سامنے ان کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت آج کے اس اخلاق سوز اور پر آشوب ماحول میں اسلاف کی یاد دلاتا ہے، کون تھا جو آپ کی شخصیت کا معترف نہ تھا، کون ہے جو آپ کی شخصیت سے خوش نہیں ہے، ہر کسی کے دل میں ان کی علمی عظمت اور بلندیٔ اخلاق کا سکہ بیٹھا ہو ا تھا اور ایسا کیوں نہ ہو کہ وہ ظاہر وباطن میں ایک تھے، وہ ایک شخص نہیں تھے بلکہ ایک تحریک، ایک انجمن تھے، وہ اپنے اخلاف کے لیے جو سچی علمی اورروحانی وراثت چھوڑ گئے ہیں اسے سنبھالنا اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہماری ذمہ داری ہے اور ان کی بارگاہ میں سچا خراج عقیدت ہے۔
خدائے قدیر انہیں کروٹ کروٹ رحمتیں عطا فرمائے اور ان کی لحد کو بقعۂ نور بنا کر انوار وبرکات کی بارشیں برسائے، فرزندان واحباب وعقیدت مندان کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم۔
٭صدر شاہ جی اکیڈمی، بہیڑی، بریلی شریف،یو پی