مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتبحرالعرفان:چند یادیں چند باتیں

باب ۲۸ از ۶۵صفحات ۲۰۰–۲۰۴

بحرالعرفان:چند یادیں چند باتیں

مولانا غلام مصطفےٰ نعیمی٭

بحرالعرفان حضرت مفتی آفاق احمد قنوجی رحمہ اللہ سے فقیر کی پہلی ملاقات دہلی میں 22فروری 2017ء کو فیضان اولیاء نامی اجلاس میں ہوئی تھی۔‘‘اسرار تصوف’’پر فقیر کاخطاب ہوا،جس پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف فرما آپ کے چہرے کی بشاشت دیکھنے کے لائق تھی۔دورانِ خطاب ایک موقع پر مفتی صاحب اس درجہ مسرورہوئے کہ اٹھ کر فقیر کونذرانہ پیش کیا۔بعد میں جب آپ خطاب کے لئے مائک پر آئے تو انہوں نے فقیر کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

مادیت کے اس زمانے میں جبکہ خطباکی اکثریت محض لفاظی اوربے جا چیخ وپکاروالی خطابت کے سہارے قوم کا قیمتی وقت ضائع کررہی ہے ،ایسے میں کسی نوجوان عالم دین کا تصوف جیسے خشک موضوع پر اتنا دلکش بیان سن کر میری امیدوں کو پر لگ گئے ہیں کہ ابھی ہماری جماعت میں ایسے جوان موجود ہیں جو جماعت کا سرمایہ ثابت ہوں گے۔‘‘

ایک عظیم عالم دین کی زبانی یہ توصیفی کلمات کسی نوجوان کے لئے اعزاز سے کم نہیں ہیں۔آج کے دور قحط الرجال میں جبکہ اصاغرنوازی کتابوں اور گزرے زمانے کی بات ہوتی جارہی ہے،ایسے میں کسی غیرشناسا نوجوان کے لیے ایسے توصیفی کلمات یقیناً اخلاص اوراصاغرنوازی کی عملی تفسیرہے۔اسی ملاقات میں حضرت مفتی صاحب قبلہ نے قنوج میں منعقد ہونے والے ایک انٹرنیشنل سمپوزیم کا دعوت نامہ پیش کیا۔یہ سمپوزیم انہیں کے قائم کردہ ادارے الجامعۃ الاحمدیہ قنوج کی جانب سے منعقد ہوا تھا۔جس میں ملک بھر سے قریب پچاس سے زائد نوجوان علما شریک تھے۔

ان کی اصاغرنوازی کاایک اور واقعہ حال ہی میں عزیز مکرم مولانا عمران ازہری خطیب مسجد رضا ذاکر نگردہلی نے سنایاکہ ایک ملاقات میں انہوں نے مفتی صاحب قبلہ کو یہودیوں کی دس اہم سازشوں کے بارے میں بتاتے ہوئے امت مسلمہ کے حالات پر گفتگو کی۔یہ گفتگو کیے عرصہ گزرگیایہاں تک کہ اس درمیان حضرت کا وصال بھی ہوگیالیکن ابھی کچھ وقت پہلے ہی مولانا عمران صاحب کو مفتی صاحب کی ایک تقریری کلپ ملی جس میں مفتی صاحب یہودیوں کے اسی دس نکاتی سازشی ایجنڈے کا ذکر فرمارہے تھے،لیکن اصاغرنوازی اور وسیع القلبی کا یہ عالم کہ انہوں نے مجمع عام میں یہ بتایاکہ یہ سارے نکات انہیں ان کے شاگرد

مولانا عمران ازہری نے بتائے ہیں جو حضورتاج الشریعہ کے مرید ہیں۔خود مولاناعمران ازہری صاحب لکھتے ہیں:

’’ہوا یوں کہ حضرت کومیں (عمران ازہری) نے یہودیوں کے دس منصوبوں کے بارے میں بتایاتھا۔اس پروگرام میں جس میں،میں شریک بھی نہ تھا،مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ بیان کس جگہ کاہے، یہ اتفاق سے فیس بک پر ملا جس میں، میں نے اپنا نام حضرت کی زبانی سناتوبے حدمسرت وشادمانی محسوس ہوئی اور تین اہم باتیں سیکھنے کو ملیں۔ الغرض یہ کہ حضرت نے میرانام لے کر ان منصوبوں کا ذکرکیا۔ یہ انتساب علم الیٰ صاحبہ۔ مجھ جیسے چھوٹے سے طالب علم کاذکرکرنااصاغرنوازی کی ایک بہترین مثال ہے۔حضرت نے میری نسبت ارادت اپنی جانب کرنے کی بجائے حضورتاج الشریعہ کی جانب کی،حالانکہ میں حضرت سے طالب[بھی]تھا۔یہ تواضع وانکساری کی اعلیٰ علامت ہے۔‘‘

سادگی، اخلاص، محنت وجاں گسلی اور قومی ہمدردی کو اگر ملایا جائے توحضرت مفتی آفاق احمد صاحب کا سراپا بنتاہے۔ آپ نے اپنی زندگی جس سادگی سے گزاری اسے دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہوتی تھی۔۳۰؍ سال کی قلیل مدت میں غیرمقلدین کے تاریخی شہر قنوج میں اپنی محنت اور جاں گسلی سے جس طرح الجامعۃ الاحمدیہ، سرہند پبلک اسکول، خانقاہ احمدیہ، جامعۃ المحصنات للبنات، وارثی انٹرکالج، مسجد طیبہ جیسےکئی ادارے بناکریہ ثابت کردیا:

یقیں محکم عمل پیہم،محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں

حضرت مفتی صاحب قبلہ کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی صوفیانہ زندگی تھی۔مگر انہوں نے آج کے ماڈرن صوفیوں کی طرح اہل سیاست کی چاکری نہیں کی،بلکہ حقیقی صوفیا کی طرح علم وعرفان کے جوہرلٹائے۔ایک طرف علم دین کی نشرواشاعت کے لئے عالیشان مدارس تعمیر کرائے تو دوسری جانب اصلاح اعمال اور تزکیہ نفس کے لئے خانقاہی نظام کااحیا بھی فرمایا۔اس طرح قال وحال کا حسین سنگم بناکر پورے قنوج کو اپنے علم وعرفان سے ایسا مشک بار کیا کہ اس کے آگے قنوج کی ساری عطربیزیاں پھیکی پڑ گئیں۔آپ نے اپنی زندگی کو انتہائی نظم وضبط کے ساتھ گزارا،ایک طرف جہاں تدریسی مصروفیات تھیں تووہیں، خانقاہی اوراد و اشغال، جہاں مدارس کی ذمہ داریاں تووہیں اسکول وکالجز کی ذمہ داری اور ان ساری ذمہ داریوں کو آپ نے بحسن وخوبی انجام دیا۔کمال تو یہ ہے کہ ان تمام ذمہ داریوں کے ساتھ آپ نے تبلیغی دورے بھی فرمائے۔یکبارگی تو یہ ساری باتیں افسانوی محسوس ہوتی ہیں لیکن اگر وقت کی صحیح پابندی

ہو،انسان نظم وضبط کا مکمل پابند ہو تو یقیناً فیاضی قدرت اس کے وقت میں برکت ڈال دیتی ہے۔اس کا شاندار نمونہ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی ذات تھی۔

ذکر کی پابندی:

اذکار ووظائف کی پابندی آپ کے لازمی معمولات کاحصہ تھی۔ذکر کی برکات واہمیت بیان کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:

رب کائنات کے ہم ہروقت محتاج ہیں۔ اپنے وجود میں،بقا میں،ظاہر میں، باطن میں۔اسی طرح ہرچیزہروقت امکان وحدث کے داغ سے داغدار ہے اور وہ ہر وقت اپنے خالق ومالک کی محتاج ہے لہٰذا ہرایک کو چاہیے کہ وہ ہروقت اپنے رب کی بڑائی اور پاکی بیان کرے اور اس کی یاد اور ذکر سے معمور رہے۔ (پیش لفظ ذکروفکر،ص۶)

آج کل بہت سارے افراد اس بات کی شکایت کرتے نظرآتے ہیں کہ مسلسل چِلوں اور ذکر کی پابندی سے بھی مقاصد کا حصول نہیں ہوا،ایسے لوگوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی صاحب علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:

آج جوکمالات سے عام طورپرمحرومی ہوگئی ہے اس کی خاص وجہ یہی کہ انہوں نے نہ توبزرگوں کے مقررکردہ اشغال واذکارکوان کی پوری حدودوقیود کے ساتھ اپنایا اور نہ ذکرکی شرط اتباع شریعت کا لحاظ کیا۔ہر انسان کو اس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ ہرکمال کا منبع ذات خداوندی ہے اور سب کا وسیلہ رسول اکرمﷺ کی ذات مقدسہ ہے۔جب تک ان کی تعظیم وتکریم اور ان کی طرف توجہ نہیں ہوگی،اس وقت تک کوئی کمال حاصل نہیں ہوسکتا۔اور ان کی کمال تعظیم وتکریم ان کی اتباع وپیروی میں ہے۔ (ذکروفکر،ص۱۰)

اشغال واذکار کی برکات حاصل کرنے کے لیے آپ نے عقیدے کی درستگی پر بہت زیادہ زور دیاہے کیوں کہ درستی عقیدہ کے بغیر اذکارواشغال بے معنی ہیں۔اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں:

‘‘صوفیہ کرام کے اصل تصوف کو اپنانے کی ضرورت ہے۔تجربہ شاہد ہے کہ طریق صوفیہ ہی وہ مقدس طریق ہے جس کے ذریعے احکام شرع کا ظاہر وباطن میں نفاذ ہوتاہے اور کمالات سے پردہ اٹھتاہے،الغرض عقائد کی درستگی کے بعد ہی اسی ترتیب سے ذکر کو اپنانے کی ضرورت ہے جو ہم نے بیان

کی ہے۔عقائد کی درستگی کے لیے امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی کتب ورسائل کا مطالعہ لازم ہے اور انہیں عقائد کی پابندی ضروری ہے،نیز ہرہرفرقہ کے بارے میں وہی نظریہ رکھنے کی ضرورت ہے جوامام اہل سنت نے اختیارفرمایا۔‘‘ (ایضاً)

نمازوں کی پابندی:

مفتی صاحب قبلہ نمازوں کو ان کے مستحب وقت اور جماعت کے ساتھ مسجد میں اداکرنے کوترجیح دیا کرتے تھے۔اور اس باب میں اپنے متعلقین ومنتسبین کو بھی سخت ہدایت فرماتے تھے،ایک جگہ نصیحت وتنبیہ کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:

‘‘میں اپنے احباب ومتعلقین اور مریدین ومنتسبین کو سخت وصیت کرتاہوں کہ جب تک ہوش ہے اور حیات ہے کسی بھی حال میں نماز نہ چھوڑیں۔’’ (کمالات نماز:ص ۶)

یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنی خانقاہ مسجد کے بغل میں ہی بنائی اور مسلسل مسجد میں وقت جماعت حاضرہوکر نماز ادا فرماتے۔موجودہ دور کے علما ومشائخ اور اہل علم کے نمازوں کے تئیں غفلت سے آپ بڑے پریشان ومتفکر رہتے تھے ایک مقام پر اپنے کرب کا اظہارکرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اب تواکثرعلماسرے سے نمازروزے کے پابند ہی نہیں،جوہیں بھی توان کی اکثریت جماعت خاص کر مسجدمیں مقتدیوں کے ساتھ نماز اداکرنے کاکوئی خیال ہی نہیں رکھتے ہیں۔جس کی وجہ سے عوام کے دلوں سے ایسے علما کی قدروقیمت اور عقیدت ومحبت نکل گئی ہے۔جوان علما کی نظرمیں تونماز کی کوئی حیثیت نہیں رہی،اکثرپیراور پیرزادے اور اساتذہ نماز سے کوسوں دور ہیں،پیشہ ور مقرروں کا توبراحال ہے۔نمازکے تعلق سے اسی لاپرواہی کو دیکھ کر عام انسان نمازکی اہمیت وعظمت کو کھوبیٹھا۔’’ (کمالات نماز:ص ۲۱)

بحرالعرفان کی شاعری:

جس طرح حضرت مفتی صاحب قبلہ نے نثرمیں ایک بیش بہاعلمی ذخیرہ چھوڑاہے اسی طرح بصورت نظم بھی اپنے جذبات واحساس قلم بند فرمائے ہیں،انہیں میں سے چند اہم اشعار حاضر خدمت ہیں۔

ایک بندے کی سب سے بڑی سعادت رب کے حضورعجزوانکساری کرنا اور اس کی بارگاہ کریمی سے بھیک مانگناہے۔مفتی صاحب قبلہ بھی جب رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دست بدعاہوتے تواپنے رب کے حضوراس طرح مناجات کرتے:

فضل سے اپنے ہمیشہ ہرجگہ منصور رکھ

دوجہاں میں نعمتوں سے ہرگھڑی مسرور رکھ

دین وایماں سنیت محفوظ ہم سب کی رہے

سنتوں کے نور سے جان وجگرمحفوظ رکھ

آقائے کریمﷺ سے عشق کااظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مدینہ آگئے،برآئی آرزو دل کی

بجز حضورنہ تھی کوئی جستجو دل کی

سدا آرہی ہے یہی آواز وگفتگودل کی

انہیں کو چاہو انہیں پرمرو انہیں تاکو

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ سے آپ کو غایت درجہ عشق تھا اسی لیے رب تعالیٰ سے مناجات کرتے ہوئے یوں عرض کناں ہیں:

مسلک احمدرضاپہ ہم سداچلتے رہیں

جملہ فرق باطلہ سے میرے مولیٰ دور رکھ

ایسی عظیم المرتبت شخصیت جس کی ذات سے کئی تعلیمی منصوبے وابستہ تھے محض ساٹھ سال کی قلیل عمرمیں راہی عدم ہوگئی اور اپنے چاہنے والوں کو یہ پیغام دے گئی:

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا

میں ڈوب بھی گیا توشفق چھوڑ جاؤں گا

٭ مدیراعلیٰ سوادِاعظم دہلی