مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتیوں چاند چلا جائے گا کبھی سوچا نہ تھا

باب ۵۹ از ۶۵صفحات ۳۹۴–۳۹۸

یوں چاند چلا جائے گا کبھی سوچا نہ تھا

عالمہ غزالہ فاطمہ دختر مولانا آفتاب عالم نوری٭

خواہر زادی بحر العرفان

ہم سب ایک ایسی ذات کے سائے میں تھے جوکہ محتاج تعارف نہیں ہے، دنیا جسے حضور بحرالعرفان رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے، اس سائے میں رہ کر ہم اپنے سارے غم ساری پریشانیاں بھول گئے تھے، ہم ہم نے نہیں سوچا تھا کی کبھی ایسا بھی وقت آئیگا جب وہ زات ہمارے درمیان نہیں ہوگی ، ہم سبکو روتا تڑپتا چھوڑ جائینگے ان کے فراق میں فقط اپنوں سے ہیں بلکہ دنیا کے ہر گوشے سے آہ و فغاں کی پرسوز صدائیں آرہی ہیں، ہمیں سمجھ نہیں آتا کی اس حامی قوم و ملت کی جدائی پر کس طرح صبر کروں۔ مگر جب خدائے وحدہٗ لا شریک کا یہ فرمان یاد آتا ہے (كل نفس ذائقۃ الموت)

تو خود کو تسلّی دے لیتے ہیں پھر یہ بھی ہے کی خدا کے محبوب بندے زیادہ ایّام اس دنیائے فانی میں نہیں رہتے بلکہ وہ اس فانی دنیا سے باقی دنیا کو ترجیح دیتے ہیں اور انہیں سکون بھی وہیں میسّر ہوتا ہے ۔یہ دنیا تو اُنکے لیے قیدخانہ ہوتی ہے جیسا کی حدیث پاک میں ہے ( الدنیا سجن للمومنین و جنت للکفرین) اس فرمان کے مطابق فرمانے خدا اور اقوالِ مصطفیٰ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرتے رہے اور تاجدارِ مدینہ صل اللہ علیہ وسلم کی صغیرہ و کبیرہ کی کوئی ایسی سنت نہیں جس پر آپ عمل پیر نہ ہوئے ہوں اور یہ آپکی جدائیگی کا سبب بھی مدینے والے آقا صل اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کے ہی بنا پر تھا۔آپ نے تو اس خودغرض دنیا سے الوداع الفراق که کر رخ روشن موڈ لیا لیکن یہ نہیں سوچا کی انکا کیا ہوگا جو آپ کے سہارے زندگی بسر

کر رہے ہیں ، آپکے سائے میں پل رہے ہیں، آپکا رخ زیبا دیکھ کر جی رہے ہیں۔ آپ جب غیروں کے لیے اتنا مخلص تھے تو پھر اپنوں کے لیے کیوں کر نہ ہوتے، آپسے کسی کا پریشان ہونا تو دیکھا ہی نہیں جاتا تھا جبکہ پریشانی تو بتانے سے پتا چلتا ہے۔ لیکن آپ کو تو جیسے بنا بتائے ہی پتا چل جاتی تھی اور جب تک اس پریشانی تو ختم نہ کر دیتے چین سے نہ بیٹھتے ۔ جب بھی گھر پر آپکا فون آتا اور ہم میں سے کوئی بھی اٹھتا تو سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ’’بٹیا ٹھیک ہو کوئی پریشانی تو نہیں کوئی پریشانی ہو تو مجھے بتانا ‘‘ یہی بار بار پوچھتے اور آپکا اس طرح بار بار پوچھنا ہمارے لیے دنیا جہاں کی نعمتوں سے بڑھکر تھا۔ اور اکثر آپ گھر تشریف لاتے تو امی سے انکی خیریت پوچھنے کے بعد فرماتے اور بیٹیاں کیس ہیں؟؟

اس مرتبہ عید پر سب سے پہلے آنے والوں میں آپ ہی تھے گھر پر بھائیوں میں کوئی موجود نا تھا آپ بٹیا بٹیا کہتے ہوئے اندر چلے آئے ہم سب حیران تھے آپکے اتنی جلدی آجانے پر مگر ہم سب کو یہ نہیں پتہ تھا کے آپکا عید کے موقع پر آنا آخری تھا اب اگلی عید پر نہ آئینگے۔پھر امی کو پیسے دیئے ہم سب بہنوں کے لیے ۔ پیارے ماموں جان اب اس طرح کون ہمارا خیال رکھے گا۔ ہم پریشان ہونگے ہماری پریشانی کون دور کریگا، ہم مایوس ہونگے ہمیں دلاسہ کون دیگا، مدرسے میں سب ہمسے کہتے اپپی بہت خوش قسمت ہیں اسلئے کی آپکے ماموں ایسے ہیں!! تو ہمیں اپنی قسمت پر رہ رہ کر ناز ہوتا اور خدا کا شکر ادا کرتے نہ تھکتے اور اب تو ہماری یہ خوش قسمتی بھی ختم ہو گئی ایسا لگتا ہے ہماری قسمت کو کسی کی نظر لگ گئی، کیونکہ اب دنیا میں کچھ ایسا نظر نہیں آتا جیسے دیکھ کر یا سوچکر دل خوش کیا جائے۔ اسلئے کی ماں باپ کے بعد ساری خوشیاں آپ سے وابسطہ تھیں۔ ماموں جان رشتے داریاں نبھانا تو ہمنے آپ سے سیکھا غلطی کسی کی بھی ہوتی لیکن معافی آپ مانگ لیتے سب کو متحد کرنا تو کوئی آپ سے سیکھے۔

جاتے جاتے بھی آپ سب کو ایک کر گئے آپ کیا چیز تھے ماموں جان ہمیں سمجھ نہیں آتا، آپ کسی مخالف کی مخالفت پر کان نہیں دھرتے تھے، بلکہ فرماتے تھے کی اگر ہم اُسکا جواب دینے میں لگ گئے تو جواب بھر کے ہی رہ جائیں گے ، آپ جس غرض سے آئے تھے وہ انجام دیکر چلے گئے ۔ برائی کرنے والوں کی برائی کو نہیں سنا، بلکہ اُن سب کے اقوال کو نظرانداز کرتے رہے ایسا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں یہ میرے پیر و مرشد کی ذات تھی جس میں وہ ساری صفات تھیں جو آج کے دور میں ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ نہ ممکن ہے۔ آپ جیسا رہنما، آپ جیسا مرشد ، آپ جیسا رہبر اب ہم کہاں سے لائیں آپ جیسا اب کوئی دنیا میں

نظر نہیں آتا۔ جس وقت آپکے وصال کے خبر سنی تھی تو ایک بجلی سی گری تھی اس لیے کی سب کے بارے ایسا سوئچ سکتے تھے مگر آپ کے بارے میں اس طرح کا خیال نہ آیا قیامت سے پہلے قیامت کا آنا کسے کہتے ہیں اس دن جانا اور اب تک خود کو یقین نہیں دلا پا رہے کی آپ ہمارے بیچ نہیں ہیں۔ ہر جمعے کو ایسا لگتا ہے کی آپ نماز کے بعد گھر تشریف لائیں گے لیکن آپ تو ہمیشہ ہمیش ہم سے جدا ہو گئے ۔ اب جب کسی بات کو لے کر پریشان ہونگے تو آپکو کہاں ڈھوں ڈھنگے۔ جب اتنی جلدی جانا تھا تو اتنا خیال کیوں رکھا تھا آپکے فراق کی جی دل میں چبھن ہے وہ چند دنوں یا کئی سالوں میں مٹنے والے نہیں بلکہ یہ آخری سانس تک باقی رہیگی۔ آپ کے اوصاف کو بیان کر پانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے یہ تو ہمارے دل کی آواز تھی جو لفظوں کے ذریعے باہر آئی ہے ورنہ آپ جیسے ولی کامل کی مدح سرائی کر پانا مجھ جیسی نہ چیز کا کام نہیں ۔

لیکن اتنا یقین ہے کی ظاہراً آپ ہم سب سے دور ہوئے ہیں باطناً آج بھی آپ ہمارے ساتھ ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ آپکا سایہ ہم سب کے سروں پر قائم و دائم رکھے۔

ایسے رکھتے تھے وہ دامن میں گنہگاروں کو

جس طرح دھوپ میں ماں بیٹے کے آنچل کردے

٭معلمہ جامعۃ المحصنات شاخ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ

غم و اندوہ میں بھیگی ہوئی صبح

مولانا احمد اويس آفاقی٭

برادرزادہ بحرالعرفان

غم و اندوہ میں بھیگی ہوئی صبح کسے پتا تھا کہ ٩ ذیقعدہ ١٤٤٠ ھجری کا سورج ہم بھائی بہنوں کے لیے غموں کا ہمالہ بنکر طلوع ہوگا میرے بڑے ابو حضور بحرالعرفان علیہ الرحمۃ والرضوان جنکی محبتوں اور شفقتوں نے مجھے احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ انکی محبتیں اور شفقتیں زیادہ تھیں یا میرے ابو کی ویسے تو پوری رات ہی بے چینی اور بے قراری میں گزر رہی تھی صبح تین بجے کی اس خبر نے کہ آپ کو کاڈیولاجی اسپتال (کانپور) کے لئے ریفر کر دیا گیا ہے۔ دلوں میں وہ ہلچل پیدا کردی کہ کانپور سے برابر تسلی بخش

فون آنے کے باوجود بھی پورا گھر ماتم کدہ بنا ہوا تھا ہم سبھی گھر والے لاکھ اپنے دلوں کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔

مگر ناکام تھے کانپور کے لیے نکلا ہی تھا کہ ابو جان کا فون آگیا کے اب نہ آنا اس سے زیادہ وہ کچھ نہ کہہ پائے مگر انکی بھرائی ہوئی آواز نے مجھے بے خود بنا دیا مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا نہ کسی سے کچھ پوچھنے کی طبیعت چارہی تھی نہ سننے کی اس طرح حواس باختہ تھے کہ اپنی بھی خبر نہ تھی آنکھوں کے سامنے وہ قیامت برپا تھی جسکا ذہن میں تصور تھا کبھی موبائل کو زمین پر مارنے کا خیال آرہا تھا اور اس سے بات کرنے پر کوئی بھی جبر سننے کے لئے تیار نہیں ہو رہا تھا اتنے میں یہ خبر بجلی کی طرح پھیلنے لگی کہ حضور بحرالعرفان کا وصال پرملال ہو گیا اس خبر سے ہم سبھی پر وہ قیامت ٹوٹی جسکے لیے سوچا بھی نہ تھا آنکھوں سے آنسؤوں کا سیلاب امڑ پڑا زبان بے قابو ہو گئی کوئی ایسا نظر نہیں آ رہا تھا جس سے چند باتیں کر کے تسلی حاصل کرتا جسکی طرف لپکتا تھا رونے میں اس کی آواز ہم سے تیز سنائی دیتی تھی جلوت سے نفرت ہو رہی تھی خلوت کے لیے جگہ نہیں مل رہی تھی اپنے ارد گرد کی خبر نہ تھی جب نگاہیں اٹھیں تھی تو ایسے انیس کو تلاش کرتی تھیں جو میرے غموں کا مداوا کر سکے مگر کوئی نظر نہیں آرہا تھا اس ماحول میں ایمبولینس کا ہارن سنائی دیا جو قیامت کے دن صور کا کام کر رہا تھا لگ رہا تھا لوگ قیامت کے دن صور کی آواز سن کر ایسے ہی بھاگیں گے جیسے آج ایم بولینس کا ہارن سن کر لوگ اس کی طرف چیخیں مارتے اس کی طرف دوڑرہے ہیں ساری ہمتیں جٹانے کے باوجود میں اپنے آپکو تیار نہیں کرپا رہا تھا کہ وہ چہرہ اس حالت میں کیسے دیکھوں جس پر چند گھنٹے قبل میں نےمسکراہٹ دیکھی تھی یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ تھکان اور نیند نہ آنے کے سبب بے چینی ہے آرام کرنے پر بے چینی دور ہو جائے گی کیا وہ آواز اب سنوںگا کئی مرتبہ بھی اگر دن میں ملاقات کرتا تھا تو آواز یہی آتی اویس بیٹا خیریت سے ہو کیا اب اپنے محسن سے وہ تسلی بخش جملہ سنوں گا؟ کہ جب بھی غموں اور پریشانیوں کے ہجوم میں گھر کر دعا کے لیے سامنے گیا جاتے ہی زبان گنگ ہو گئی بغیر کچھ سنے ہوئے وہ باتیں کہیں کہ غم آور پریشانیاں اچھی لگنے لگیں اور پریشانیوں کے ملنے پر اللہ تعالیٰ کے شکر کے لیے گردن جھک جاتی تھی اور آپ کا لکھا ہوا وہ شعر پڑھنے لگتا تھا۔

غم ہی دینا ہے تو سہنے کا سلیقہ دیدو

غم ہی بن جائے میرا یار مدینہ والے

وقت کی قلت دامن گیر ہے میں نہیں سمجھتا تھا کہ میرے جیسے کم علم کے لیے بھی اس مکرم کتاب

میں جگہ ہو گی لیکن استاذ محترم حضرت مولانا آصف رضا مجددی کی ذرہ نوازی نے مجھے یہ شرف بخشا مجھے چند گھنٹے کا موقع ملگیا مگر ٹائپ بھی کرنا تھا اس لئے دل کی پوری بات ناکہہ سکا اور نہ ہی آپ کی شان میں چند سطور لکھ سکا کیونکہ آپ کی شان میں کچھ لکھنے اور کہنے کے لئے وقت درکار تھا وہ ہے نہیں موقع ملنے پر ان شاء اللہ کچھ لکھوں گا۔