مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتقدیم نافع اور جدید صالح کا سنگم

باب ۱۸ از ۶۵صفحات ۱۲۴–۱۴۱

قدیم نافع اور جدید صالح کا سنگم

داروغہ اور اعلی عہدے داروں نے حالات کی سنگینی کامکمل جائزہ لے لیا تو یہ فیصلہ طے پایااور تحریری طور پر قلم بند کردیا ۔ کہ آج کے بعد قنوج میں کوئی بھی جماعت نہیں رہے گی اور آئندہ کوئی بھی جماعت باہر سے نہیں آئے گی اس طرح اہل سنت و جماعت کو کامیابی وکامرانی حاصل ہوئی اور بحرالعرفان کی تدبیر سے بزرگوں کے فیضان سے ہمیشہ کے لئے جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہندوستان میں اس طرح کی مثالیں شاذ ونادر ہی ملتی ہیں۔

حاجی شریف مسجد کی بازیابی :

حضرت کے مرید مولانا محفوظ میاں آفاقی صاب نے راقم سے بتا یا کہ حضور بحرالعرفان نے شہر میں جگہ جگہ اپنے لوگو ں کو مساجد میں درس وامامت کے اور بچوں کی تعلیم کے لئے لگانا شروع کیا اسی دوران معلوم ہو اکہ خواجہ حاجی شریف علیہ الرحمہ کی مسجد میں دیوبندی امامت کرتاہے حالانکہ وہاں انتظامیہ سنی ہے آپ نے ماحول سازی کی اور مجھے وہاں لے گئے اور مصلیان کے سامنےفرمایا کہ آج سے یہاں یہ محفوظ میاںامامت کریں گے اور بچوں کو بھی پڑھائیں گے کو ئی تنخواہ وغیرہ نہیں لینگے ۔نو مہینے لگاتار وہ دیوبندی آتا رہا اور بچوں کو بھی پڑھاتا رہا بالآخر مایوس ہوکر چلا گیا اس طرح یہ مسجد بھی مکمل طور سنیوں کے قبضے میں آگئی اور پھر حضور بحر العرفان نے وہاں جمعہ بھی قائم فرمادیا تاکہ لوگ جمعہ بھی وہیں پڑھیں ۔آج الحمدللہ وہاں سب نظام سنیوں کے ہاتھ میں ہے ۔امام بھی انتظامیہ بھی عوام بھی سب سنی ہیں۔

بحر العرفان نے اپنی فراست و تدبیر و حکمت سےاس طرح سینکڑوں مساجد دیوبندیوں کے قبضے سے آزاد کرائیں اور سنی امام مقرر کئیے جس سے ہزاروں لوگوں ایمان محفوط کئیے ،کہا جاتا ہے کہ جس کا مصلی اس کا محلہ کیو نکہ اسلامی دعوت و تبلیغ میں مساجد کا بہت بڑا دخل ہے ۔

فتنہ قادیانی کی سرکوبی:

بحرالعرفان قدس سرہ علیہ الرحمہ اپنے شاگردوں اور مریدوں کو دعوت و تبلیغ کے لئےشہر و اطراف میں بھیجتے تھے جس کا فائدہ یہ ہوا کہ تمام علاقوں میں سنیت بہت مضبوط ہو گئی اور لوگوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ تعلیمی بیداری بھی پیدا ہونے لگی قنوج کے مضافات میں ایک گاؤں کپورا پور ہے جوکہ مانی مئو اسٹیشن سے متصل ہے اس علاقے میں ایک قادیانی آگیا اور اس نے کچھ لوگوں کو گمراہ کر لیا سیدھے

سادھے لوگ تھے انہیں ہر دین کی بات کرنے والاسچا مسلمان ہی نظر آتا ۔ اس لیے وہ قادیانی کی باتوں میں آگئے اس نے اپنے کو ظاہر کئیے بغیر انکے بچوں کو پڑھانا شروع کر دیاغریب لوگ تھے مالی امداد بھی کرنے لگا عید کے موقع پر ہر فرد کو کپڑے اور پیسے تقسیم کرنے لگادھیرے دھیرے لوگ اس کے دام فریب میں آنے لگے اور اس نے اپنے عقائد و نظریات بیان کر کے بعض کومنحرف بھی کر لیا۔ ایک بار ائر کنڈیشن بسوں میں کافی تعداد میں لوگوں کو قادیان بھی لےکر گیا قادیان جوکہ قادیانیوں کا مرکز ہے وہاں سے یہ لوگ دنیا بھر میں اپنے جھوٹے نبی کی تبلیغ کو عام کرتے ہیں اس کے لیے بے انتہا پیسہ خرچ کرتے ہیں باطل نے حق کے مقابل ہمیشہ مادیت سے کام لیا ہے لیکن جاء الحق و زھق الباطل کے مطابق حق ہی ہمیشہ غالب ہوا ہے۔

راقم کے عزیز دوست حضرت مولانا مشاہد آفاقی مجددی صاحب جن کو حضور بحرالعرفان قدس سرہ اس علاقے میں دعوت و تبلیغ کے لئے بھیجتے تھے موصوف نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں اس گاؤں میں پہنچا لوگوں کو دعوت دی اور بیان وغیرہ کیا اس کے بعد ایک گھر سے ایک بچہ مجھے بلانے آیا اور کہا کہ گھر میں آپ کو بلایا گیا ہے میں نے معلوم کیا کہ گھر میں مستورات کے علاوہ کوئی مرد ہے کہ نہیں ،بتایا گیا کہ ہیں اس کے بعد میں وہاں پہنچا تو ایک خاتون نے کہا کہ آپ ہمیں کچھ یسرنا القرآن منگا دیں مولانا نے متعجب ہوکر دریافت کیا کہ کس لئے ؟جواب دیا کہ ہمارے یہاں ایک حافظ صاحب آئے ہیں وہ بچے پڑھاتے ہیں پوچھا کہاں ہیں؟ اتنے میں ایک شخص تولیہ باندھے ننگے بدن بے ریش چارپائی پربیٹھا دکھا انہوں نے اشارہ کرکے بتایا کہ یہ حافظ صاحب ہیں لکھنؤ سے آئے ہیں مولانا نے جب اس سے بات کی تو اس نے بتایا کہ اسے لکھنو قادیانی مرکزسے بھیجا گیا ہے مولانا نے اس سے کافی دیر تک بحث و مباحثہ کیا اور اس کے باطل عقائد کا رد بلیغ کیا مگر وہ نہ مانا مولانانے اسکی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کیا کہ یہ شخص مسلمان کے لباس میں غیر مسلم ہے کیونکہ قادیانی مسلمان نہیں ہوتے ہیں اس پر کچھ لوگ متاثر ہوئے مگر بعض وہ جو اسکے مال کے لالچ میں آگئے تھے وہ نہ مانے اور اسکے دفاع میں کھڑے ہوگئے اس کے بعد گاؤں میں اور آس پاس کے مواضعات میں بھی کافی چرچا ہوگیا ادھر مولانا نے جامعہ آکر حضور بحرالعرفان کی بارگاہ میں سارا معاملہ عرض کیا حضور بحر العرفان نے فوراً ہی اس گستاخ اور بددین کے خلاف ایکشن لیا اور علاقے کےسرکردہ سنی مسلمانوں کے ذریعے جن میں حضرت کے مرید خاص جناب

ماسٹر یونس صاحب مخدومہ پور اور حافظ شاہد صاحب وغیرہ کافی پیش پیش تھے اس گاؤں میں پھیلتی قادیانیت پر قد غن لگایا ماحول سنگین ہوگیا تھاجس کی وجہ سے آپ کو کافی جد وجہد کرناپڑی مگر یہ مرد مجاہد کبھی باطل سے نہیں گھبرایا بلکہ سامنے سے اسکو للکارا ،قادیانی کے طرفداروں نے اس کا بھر پور سپورٹ کیا سنیوں نے اسکو گاؤں چھوڑ کر جانے کےلئے کہا پر وہ اور اسکے بہی خواہ تیار نہ ہوئے جس سے لڑائی کے حالات بن گئے معاملہ تھانہ تک پہنچا اور تھانے میں معاملے کی سنوائی کے بعد اس قادیانی کو فتنے کی اصل قرار دیا گیا جس کے بعد وہ چھپ کر وہاں سے روپوش ہوگیا اوراس کے ورغلائے لو گ بھی تائب ہو کر سنی مسلمان ہوگئے اس طرح یہ فتنہ حضور بحر العرفان کی فکر وتدبیراور جد وجہد سے ہمیشہ کیلئے قنوج سے ختم ہو گیا۔

اس طرح کے بہت سے واقعات آئے دن پیش آئے جنکی تفصیلات قلمبند کرنے کے لئے دفتر درکار ہوگا وہابیہ قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرتے لیکن یہ مرد قلندہر رکاوٹ کا جواب نہایت عقلمندی سے دیتا اور سنیت کے لئے ہر جد و جہد کرتا ۔

دیوبندیوں کی پرانی سازش رہی ہے کہ انہوں نے اپنے فرقے کو فروغ دینے کے لئے ہر شہر و گاؤں کی مسجدوں میں ائمہ کو تربیت دیکر بلا تنخواہ مقرر کیا اور تنخواہوں کے لئے اپنے مرکزوں سے انتظامات کئیے اور عوام کو ورغلایا کہ ہم دین کی خاطر فی سبیل اللہ امامت کرتے ہیں اس طرح عوام کے دلوں میں انکی عقیدت و اہمیت بڑھ جاتی اور وہ دھیرے دھیرے انکے دام فریب میں آکر دین حق سے بیزار ہوجاتے اور اس طرح بڑے بڑے شہروں کی جامع مسجدوں اور عیدگاہوں پر انکا قبضہ ہوگیا اہل سنت و جماعت میں اس طرف سے غفلت رہی اور یوں ہر جگہ سنیت کا خسارہ ہوتا گیا۔

مگر مشائخ نقشبندیہ کے فیضان سے مالامال اس مرد خدا آگاہ نے وہابیت و دیوبندیت کے قلعوں کو مسمار کردیا اور انکے حربوں کو ناکام بنادیا ہر میدان میں ان سے بہتر و نمایاں کام سر انجام دیا مذکورہ میدان میں وہ شاندار کارنامہ سرانجام دیا کہ جس پر آج بھی بڑے بڑے مشائخ و علماء اور دانشوران انگشت بدنداں ہیں کہ اس غریبی اور بے مائیگی میں بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ نے قنوج جیسے مغلوب علاقے میں جہاں سنیوں کی شناخت دم توڑ رہی تھی وہاں اتنابڑاکام کر دیا کہ آج تقریباً اسی۸۰ سے زائد مساجد اہل سنت و جماعت کی ہیں۔

آج ہر جگہ مسلک اہل سنت و مسلک اعلی حضرت کا بول بالا ہے آج تک یہی کہا جاتا تھا کہ فلاں علاقہ میں سنیوں کی مسجد دیوبندیوں کے قبضے میں چلی گئی لیکن الحمدللہ بحر العرفان نے اپنے کردار و عمل سے اس تصویر کا رخ پھیر دیا اور ہر ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ بقول شاعر

یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

الحمدللہ آج شہر قنوج کے مختلف محلوں میں کثیر مکاتب و مدارس بحر العرفان کے زیر نگرانی دعوت و تعلیم کاکام کر رہے ہیں اور اہل سنت وجماعت کو ہر میدان میں غلبہ حاصل ہے دیوبندیت مغلوب ہے ضلع و شہر کی قیادت و نمائندگی حضور بحر العرفان کے دم قدم سے سنیوں کو حاصل ہے آج ہر معاملےمیں عوام و خواص دینی و عائلی مسائل میں جامعہ اور بانئی جامعہ سے رجوع کرتے ہیں ہر طرف سنیت کا بول بالا ہے ہر محلہ میں میلاد کے جلسے محرم کے یوم عاشورہ تک جلسے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منعقد کئیے جاتے ہیں بزرگوں کے اعراس کی محافل منعقد ہوتی ہیں علماء اہل سنت کی تقاریر پر زور انداز میں ہوتی ہیں عوام اہل سنت کا ازدہام محفلوں میں شریک ہوتاہے۔

جو امور و معمولات اہل سنت کے یہاں بند ہو چکے تھے آج وہ بڑے فخر سے اور اعلیٰ پیمانے پر گھر گھر کئیے جانے لگے ہیں اور یہ سب بحر العرفان کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں کہ جنہوں نے اس دیار میں فتنوں کی سر کوبی کی جس طرح امام ربانی نے اکبری فتنہ کی سر کوبی کی اسی طرح بحرالعرفان نے وھابیت کے باطل عقائد اور فساد کو ختم کر کے اہل سنت کے معمولات کو بحال کیا یہ کارنامہ اپنے آپ میں تاریخ ساز ہے۔

اب ہم اس تاریخ ساز شخصیت کے کارہائے نمایاں میں سے چند ایک کی تفصیلات یہاں قلم بند کررہے ہیں کہ جس کو دیکھ کر دنیا کے لوگ حیرت زدہ ہیں کہ صرف ٣٥سالہ دورِ حیات میں بحرالعرفان نے قنوج جیسے سنگلاخ علاقے میں اپنی جہدمسلسل اور جاں فشانی سے دین و سنیت کے اعلی ترین قلعے تعمیر کر دیے۔

سب سے پہلے حضور بحرالعرفان علیہ الرحمۃ نے الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کا قیام فرمایا ایک چھوٹے مدرسے سے سفر کا آغاز کیا جو کہ اب ایک اسلامی یونیورسٹی بن گیا ہے جس کے زیر انتظام و اہتمام درجنوں تعلیمی شعبے،اصلاحی دعوتی فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جن میں ہزاروں طلباء تعلیم حاصل

کررہے ہیں نیز ملک کےطول وعرض میں جامعہ کی متعدد شاخیں ہیں جس کی ایک عظیم شاخ جامعہ نسواں جامعۃ المحصنات ہے جس میں تقریباً چھ سو طالبات کو زیور علم سے آراستہ اور تربیت نبوی دیکر نقوش فاطمہ و صدیقہ پرگامزن کیا جاتا ہے اوراسلامیات کے تمام شعبوں میں ماہر بنایا جاتا ہے ایک اچھے اور پاکیزہ معاشرے کی تعمیر میں خواتین کا بہت کردار رہتا ہے اس لئے انکو امور خانہ داری سے لیکر اسلامیات کے تمام شعبوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔اس ادارے کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی طالبات و فارغات قرب و جوار کے مختلف شہروں ، ضلعوں ،اور قصبات میں خواتین کے اجتماعات کے ذریعے اسلامی خواتین میں دعوت و تبلیغ کا اہم فریضہ انجام دے رہی ہیں اور ان میں علمی و عملی بیداری پیدا کر رہی ہیں ۔

شہر قنوج علم وعمل کا گہوارہ اورآفاقی کاوشیں

بحر العرفا ن کی جن کاوشوں نےقنوج شہر کو علم و عمل کا گہوارہ بنادیا مندرجہ ذیل ہیں۔

درس تصوف :

ہر سوموار کومحلہ حمالی پورہ کی مسجد نقشبند المعروف حضرت والی مسجد میں آپ تصوف کا در س دیتےبحرالعرفان علیہ الرحمہ کی ذات فیضان نبوی سے علوم ظاہری و باطنی کاسنگم تھی،جس طرح آپ نے علوم اسلامیہ کی بقا وتحفظ اور نشر و اشاعت کے لئے درجنوں ادارے اور شعبے قائم کئیے اسی طرح فروغ تصوف وروحانیت کے لئے اور لوگوں کو حقیقی تصوف کی تعلیم اور تزکیہ نفوس اورتصفیہ قلوب کے لئے ایک شیخ کامل و مکمل کی حیثیت سے خانقاہ کی اصلی تعلیمات سے آراستہ کرنے کے لئےہفتہ واری درس تصوف کا انعقادفرماتے جس میں جامعہ کے معلمین و متعلمین اور دور دراز سے علماء اور مریدین وغیرہم کثیر تعدا د میں شرکت کرتے آج بھی اس محفل کے اثرات آپ کے مریدین ومتعلقین میں نمایاں نظر آتے ہیں۔

اس محفل پاک کی عظمت واہمیت تو در حقیقت آپ کی صحبت بابرکت میں بیٹھنے والے خوش نصیب ذاکرین ہی بخوبی جانتے ہیں ۔ آپ کے درس تصوف سے بے شمار لوگ ذاکر و شاغل ہوئے فاسق و فاجر نیک و پارسا بن گئے۔دنیاء تصوف میں احیاء تصوف کا وہ کارنامہ آپ نے انجام دیا ہے جو بے نظیر و بے

مثال ہے۔ حضور بحر العرفان کےاحیاء تصوف اورتصوف کی علمی و عملی خدمات کے حوالے سے مکمل تفصیلات حضرت علامہ مفتی آصف رضا صاحب قبلہ شیخ الادب جامعہ قنوج نے اپنے مقالے میں قلمبند کی ہیں ان شاء اللہ اسی نمبر میں شامل اشاعت ہونگی وہاں سے مطالعہ فرمائیں۔اور براہ راست حضور بحر العرفان کی عظمت ورفعت، ذکر ومراقبہ اور تصوف وروحانیت کی خدمات سے روشناس ہونے کے لئے میرے عزیزترین لائق کرم فرما دوست حضرت مولاناآفتاب عالم آفاقی مجددی صاحب قبلہ جو کہ حضور کے سفر وحضر نشست وبرخاست ،خلوت وجلوت میں ہمہ وقت خدمات انجام دیتے رہے۔رابطہ کر سکتے ہیں۔

درس قرآن:

حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی طبیعت حساس رہی دین کی ترویج و اشاعت کے لئے ہمیشہ سرگرم عمل رہا کرتے تھے قرآن مجید سے لوگوں کی بے رغبتی دیکھ کر آپ بہت رنجیدہ رہتے ۔آپ اکثر فرماتے تھے کہ قرآن کی تلاوت کی کثرت کیا کرواور اس کے معانی و مفاہیم میں غور کرو ۔علماء اور طلباء کی قرآن سے بے اعتنائی سے اکثر نالاں رہتے۔ اس لئے آپ نے عوام میں قرآن کی اہمیت و عظمت اور فہم قرآن کی صلاحیت و رغبت پیدا کرنے کے لئے شہر قنوج میں درس قرآن کے پروگرام کا آغاز فرمایا اور فقیر آفاقی کو اس عظیم کام کے لئے حکم فرمایا ، شہر کی اہم نوری طیبہ مسجد جو کہ شہر کی مرکزی اہمیت کی جگہ واقع ہے وہاں سےاس کام کاآغاز ہفتہ واری درس قرآن کے عنوان سے فرما یااس درس قرآن کے پروگرام سے نوجوان طبقہ میں غیر معمولی تبدیلی آئی شہر کے بہت سے عوام اور بالخصوص نوجوان جو کہ سنیت سے بہک رہے تھے پکے سنی اور پابند نماز ہو گئے۔ یہ درس قرآن کا پروگرام ہر جمعہ کو ایک گھنٹہ بعد نماز عشا ء کیا جاتا ہے اس پروگرام کے اخیر میں دس منٹ وقفہ اسلامی سوالات وجوابات رکھا جاتا ہے جس سے لوگوں کی دینی معلومات میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے۔فقیر آفاقی تاحال اپنے مرشد حضور بحر االعرفان علیہ الرحمہ کے کرم سےاس خدمت کو بخوبی انجام دے رہا ہےجس سے آج بھی آفاقی فیضان جاری ہے۔

درس حدیث:

حضور بحر العرفا ن علیہ الرحمہ کواحادیث نبویہ سے حد درجہ محبت تھی احادیث کی بڑی قدر فرماتے

اپنی پوری حیات طیبہ بخاری ومسلم شریف کا درس دیتے رہےاکثر اپنے مصاحبین و مریدین کو احادیث کریمہ کے مطالعہ کی تلقین فرماتے رہتے احادیث پر اس قدر عبور تھا کہ آپ کی گفتگو عموماً احادیث نبویہ سے پر ہوتی تھی آپ نےاسی جذبے کے پیش نظر عوام کے استفادہ کے لئے شہر میں کئیی مقامات پر درس حدیث کا پروگرام جاری فرمایا جس میں آج بھی کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں اور فیضان حدیث سے مالامال ہوتے ہیں شہر کے ایک اہم محلہ تاجپور نوکاشت کی مسجد میں حضور بحر العرفا ن علیہ الرحمہ کےبرادر صغیر استاذ العلماء حضرت علامہ اخلاق احمد مجددی صاحب قبلہ ہر ہفتہ کو درس حدیث دیتے ہیں اور شہر کی سب سے بڑی مسلم سنی آبا دی والامحلہ شیخانہ میں آپ کے شاگرد رشید حضرت مولانا عبد العزیز آفاقی صاحب قبلہ حدیث مبارک کا درس دیتے ہیں جس کے عمدہ نتائج ظاہر ہو رہے ہیں ۔

دس روزہ محافل سیرت مصطفیٰﷺ:

ربیع النور کے مہینے میں حضور بحر العرفان نے عوام میں سیرت نبوی کو عام کرنے کے لئے روایتی جلسو ں سےہٹ کر شہر کی مساجد میں دس روزہ سیرت کے پروگرام کا آغاز فرمایا جو کہ نہایت مقبول اور مفید ثابت ہوا جس کے لئے مندرجہ ذیل یومیہ عنوانات کے تحت یومیہ محفل کا انعقاد کیاجاتا ہے۔

عنوانات دس روزہ محافل سیرت مصطفیٰ ﷺ:

1۔ ولادت سے پہلے آمد کی بشارتیں

2۔ ظہور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم

3۔ رضاعت

4۔ کفالت

5۔عنفوانِ شباب سے اعلان نبوت سے قبل تک

6۔اعلان نبوت

7۔تبلیغ دین کے مختلف ادوار

8۔ معراج اور ہجرت

9۔ غزوات و سرایا

10۔تعلیمات رسولﷺ

جلوس محمدیﷺ:12 ربیع الاول عید میلاد النبی کے موقع پر قنوج شہر کا تاریخ ساز جلوس محمدی حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی قیادت میں ہر سال بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ نکلتا ہےجس میں عوام خواص بڑے شوق ورغبت کے ساتھ شرکت کرتے ہیں پانی و شربت کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں نبیٔ پاکﷺ کے نام پرنذر ونیاز اور لنگر تقسیم کیے جاتے ہیں قنوج کے آس پاس گاؤوں کے لوگ بھی اس جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔حضور بحر العرفان سے قبل یہ جلوس جوکہ حامد خان صاحب مرحوم ساکن پاٹانالہ صفدر گنج قنوج نے نکالنا شروع کیا تھاچند لوگوں پر مشتمل ہوتا تھاحضور بحر العرفان اس جلوس محمدی کے لئے انتھک محنت فرماتے مہینہ سے قبل جگہ جگہ میٹنگ فرماتے اور شہر اور گاؤوں کی مساجد کے ائمہ سے پرزور اپیل کرتے عظمت رسول کے پرچہ چھپواکر تقسیم فرماتے تقریروں میں اعلان فرماتے سالہا سال محنت فرماتے آج اس کا نتیجہ ہے کہ قنوج کا جلوس محمدی ﷺاپنی مثال آپ ہے دور دراز سے لوگ دیکھنےاور ہزاروں عاشقان مصطفٰی اس مین باادب شریک ہوتے ہیں اس جلوس میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ بنفس نفیس بڑے شوق سے آگے آگے نعتیں اور درود پڑھتے ہوئے دیوانہ وار شہر کی گلیوں سے گھومتے ہوئے نکلتے تھے اور عید گاہ قنوج پر غلامان مصطفیٰ کے جلو میں پہنچتے اور وہاں شان رسالت پر شاندار خطاب فرماتے تھے جس کو سن کر ہر عاشق رسول مچل اٹھتا تھا۔

راقم الحروف 15 سال سے اس جلوس میں اپنے مرشد گرامی کے ساتھ شریک ہوتا جتنا خوش میں نے حضور کو اس جلوس میں دیکھا پوری حیات کبھی اس طرح خوش نہیں دیکھا فرماتے تھے میرے نبی کا جشن میلاد ہے اپنے آقا کی آمد کی خوشیاں مناؤ یہ سب کچھ انہیں کے دم سے ہے اپنے ایک شعر میں اسی کو بیان فرماتے ہیں ۔

دنیا ان کی عقبیٰ ان کا سب کچھ تو آفاق ہےان کاان کا ہے احسان سبھی پر شافع محشر شافع محشر

حالانکہ مزاجاً آپ بھیڑ بھاڑ سے بہت گھبراتے تھے حتی کہ آپ حج کے موقع پر بھی کثرت ہجوم سے اجتناب کرتے تھے اور خلوت مین عبادت کو پسند فرماتے تھے فقیر آفاقی نے اپنے مرشد ربانی کے ساتھ دوبار سفر حرمین شریفین کا شرف حاصل کیاایک حج اور ایک عمرے کی بھی سعادت حاصل کی مگر اس موقع پر عشق مصطفےٰﷺ کا منظر کچھ اور ہی نظرآتا تھا۔

آپ کی مساعی جمیلہ سے قنوج کا یہ جلوس تاریخی ہوتا ہے مسلمانون کو حوصلہ دیتا ہے اور کفا ر و

آپ کی مساعی جمیلہ سے قنوج کا یہ جلوس تاریخی ہوتا ہے مسلمانون کو حوصلہ دیتا ہے اور کفا ر و گستاخان رسول کے لئے مایوس کن اور حوصلہ شکن ہوتا ہے۔

بحر العرفان کا چار نکاتی پروگرام

تعلیم، دعوت، تصوف، بحالی معیشت

جملہ مسائل اہل سنت کے حل اور سنت وسنیت اور تصوف حقیقی کی ترویج و اشاعت کے لئے بحر العرفا ن علیہ الرحمہ نے جامعہ کے زیر اہتمام اپنا چارنکاتی پروگرام مرتب فرمایا اور انکا مر کز شہر قنو ج بنایا جہاں سے آپ کا یہ مشن آج بھی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔

تعلیم:

علوم عربیہ خاص کرشرعیہ کے بقاء و تحفظ اور نشر واشاعت کیلئے الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کا قیام فرمایا جو تمام علوم وفنون کے تمام شعبہ جات کا جامع ہے اس کی کچھ تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔

دعوت:

سنیت کا خسارہ اور فرق باطلہ کے بڑھنے کا سبب عام طور پر دعوت الی الحق کا فقدان ہے حضور قبلہ نے اس کے لئے مستقل شعبہ کلیۃ الدعوۃ کے نام سے قائم کیا ہے اس کے زریعہ خود جامعہ طلباء و طالبات کی داعیانہ تربیت اور اصلاح عوام کیلئے وفود و وقافلے نکالنا، تعلیم یافتہ حضرات تک مفید کتابیں پہنچانا اور ہر صوبے کے ہم شہروں میں مراکز دعوت کا قیام اور مختلف انڑنیشنل زبانوں میں داعی تیار کر نا۔

تصوف:

دور حاضر میں تصوف کے فقدان سے آج اخلاقی و روحانی بے پناہ خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں اس کے لئے بحر العرفان علیہ الرحمہ نے اخلاق حسنہ سے آراستگی اور اخلاق سئیہ سے پاکی کے لیے فروغ تصوف فاونڈیشن شعبہ کا قیام فرمایا۔

فروغ تصوف فاونڈیشن:

تصوف و سلوک کے احیاء و فروغ و ترویج کے لیے یہ شعبہ عمل میں لایا گیااسکے تحت خانقاہ مجددیہ و تحریک تصوف چل رہی ہے جسکے تحت مندرجہ ذیل کام ہوتے ہیں:

۔روحانیت و سلوک سے لوگوں کو آراستہ کرنا 2 تصوف کی با ضابطہ فنی حیثیت سے تعلیم دینا.3 مختلف سلاسل کے اذکار و اشغال کو عام کرنا اور اور ہر ہر سلسلے کے ارادتمندوں کو انکا ذکر بتانا اور اس کے ضوابط وشرائط سے آگاہ کرنا. 4 صوفیاء کرام کی سیرت اور انکے اخلاق کے موافق تربیت دینا.5 صوفیاء کی عظمتوں کا تحفظ کرنا اور انکے معاندین و معترضین کے جوابات دینا6 تصوف و سلوک پر تحقیقی کام کرنا7 متقدمین و متاخرین کی کتابوں کو جمع کرنا اور انکی اسلامی خدمات کو عوام و خواص تک پہنچانا۔

شعبہ ٔ دعوت و تبلیغ :

اس شعبہ سے مندرجہ ذیل امو ر وابستہ ہیں ۔

(الف) جامعہ کے طلباء کو دعوت و تبلیغ کے اصو ل کی تعلیم دی جاتی ہے اور عملی مشق کے لئے انکو مختلف شہروں اور مواضعات میں وفود اور قافلوں کی صورت میں بھیجا جاتا ہے۔

(ب) جہاں اماموں اور معلمین کی ضرور ت ہوتی ہے وہاں صالح امام اور لائق معلم فراہم کئیے جاتے ہیں ۔

(ج) خاص کر ان مواضعات میں توجہ دی جاتی ہے جہاں مسلمان،غیرمسلموں کے مقابل کم تعداد میں ہیں اور مساجد و مکاتب بھی نہیں ہیں وہاں کے لوگوں کو اسلامی عقائد و احکام مختلف طریقوں سے سکھائے جاتے ہیں ۔

(د) مواضعات مذکورہ میں حسب ضرورت مساجد کی تعمیرات کا انتظام کیا جاتاہے ۔

(ہ) اسکولوں، کالجوں وغیرہ کے طلباء کو اسلامی عقائد و اعمال سکھائے جاتے ہیں اور ان میں جذبۂ دعوت پیدا کیا جاتا ہے ۔

(و) اردو ،ہندی ، وغیرہ میں مفید اور معلوماتی کتابیں تعلیم یافتہ لوگوں تک پہنچائی جاتی ہیں ۔

(ز) اس شعبہ کے ذریعے ان جگہوں پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے جہاں اسلام و سنیت کے لئے خطرات زیادہ ہوتے ہیں ۔

(ح) جامعہ کی حسب ضرورت مختلف جگہوں پر شاخوں کا قیام بھی اسی شعبہ سے متعلق ہے۔

(ط) جن جگہوںپر حفاظ و علماء نہیں ہیں یا اسلامی اثرات کم ہیں وہاں کے لوگوں کو تعلیم کی طرف رغبت دلا کر انکے بچوں اور بچیوں کو جامعہ یا اس کی شاخوں میں لا کر انھیں بہترین تعلیم و تربیت دی

جاتی ہے ۔

تنظیم اہل السنۃ:

اس شعبے سے خاص مقاصد یہ ہیں:

۱۔علماء و مشائخ اہل سنت کو باہم مربوط کرنا۔

۲۔ائمہ مساجد وغیرہ کو محافل و مجالس خصوصی کے ذریعہ اور نیٹ کے ذریعہ جملہ فرق باطلہ کے عقائد فاسدہ سے آگاہ کرنا اور انکے جملہ اعتراضات و سوالات کے جوابات سکھانا ۔

۳۔دینی دعوت و تبلیغ کی اہمیت و افادیت اور اسکے لزوم و وجوب کا احساس دلانا اور منظم طور پر اسلام و سنیت کی نشر و اشاعت کرنے کی ترغیب دینا ۔

یہ وہ تمام شعبے ہیں جنکا خاص تعلق علوم عربیہ دینیہ کی نشر و اشاعت اور تہذیب اخلاق اور اہل سنت کو باہم مربوط کرنے سے ہے ۔

دائرۃ الخیرات :

در اصل یہ جامعہ کا نشرو اشاعت کا شعبہ ہے ،خود جامعہ کے طلباء و طالبات اور مدرسین کے عمدہ مضامین مقالے اور تصنیفات و تالیفات نیز مفید کتب کے تراجم یا تشریحات کے ساتھ کتابیں شائع کی جاتی ہیں نیز اس سے متعلق ایک مکتبہ مجددیہ بھی ہے جہاں سے مختلف مصنفین کی مفید کتابوں کو فراہم کیا جاتا ہے ۔

امامت ٹریننگ سینٹر :

جامعہ احمدیہ اور دیگر مدارس و جامعات کے طلباء کو امامت ،مکاتب و مدارس میں تعلیم اور دعوت و تبلیغ کی تربیت دی جاتی ہے اوران کو تصحیح قرآن ، ضروری عقائد و مسائل ،اور اصول دعوت و تبلیغ اور مکاتب میں پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کے مفید طریقے سکھائے جاتے ہیں ۔

الوارث اسلامک ریسرچ سینٹر :

مختلف اسلامی علوم و فنون ادیان و مذاھب ،انگلش و زبان و ادب،اور عظیم شخصیات جیسے اہم

موضوعات پر فارغ التحصیل علماء و فضلاء نیز عصری تعلیم یافتہ حضرات کیلئے تحقیق ( ریسرچ) کی تابناک آماجگاہ ۔

المعصوم کمپیوٹر سینٹر :

جامعہ کے اس شعبے میں طلباء و طالبات کو کمپیوٹر کی بیسک تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو عربی انگلش میں کتابت (Typing) ڈزائننگ، اور ٹیلی نیز اس کے علاوہ طلباء و طالبات کو حسب مراتب مزید کورسیز سکھائے جاتے ہیں۔

وارثی پبلک انٹر کالج:

اس میں نرسری سے انٹرتک کی تعلیم دی جاتی ہے نیزعصر ی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت لازم و ضروری ہے اور کوشش یہ ہے کہ ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے طلبہ کے اندر اسلامی مزاج ، دینی عقائد و اعمال کی اچھی واقفیت ،دوسروں کو انگریزی زبان میں دعوت و تبلیغ کا جذبہ اور طریقہ نیز اردو زبان و بیان پر بہترین قدرت پیدا کردی جائے ۔ الحمد للہ یہ شعبہ اپنی پوری کامیابی کے ساتھ ترقی کی راہوں پر گامزن ہے ۔

سرھند پبلک اسکول :( EnglishMeadium Schoo

یہSIRHIND PUBLIC SCHOOL)) اس میں پلے گروپ سے پرائمری تک(P.G. TO PRIMERY) کی تعلیم دی جاتی ہے ۔یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھااسکول ہے جس میں پڑھنے والے بچوں میں انگلش تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو اور عربی زبان کی ایسی صلاحیت پیدا کردی جاتی ہے، جس کی بنا پر وہ نرسری سے آٹھویں تک پہنچ کر قرآن کریم کا ترجمہ اردو اور انگلش زبان میں اچھی طرح کر نے کے لائق ہو سکیں۔نیز اس شعبے میں بھی عصر ی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت لازم و ضرور ی ہے۔

قنوج شہر میں یہ دونوں ادارے دینی اور عصری اعتبار سے معیاری ہیں اپنی نوعیت کے منفرد ادارے ہیں بحر العرفان نے اپنی دور اندیشی سےاپنی قوم کا مستقبل محفوظ کرنے اور انکے دینی عقائد واعمال اور اسلامی شناخت کو بر قرار رکھنے کے لئے قائم فرمائے۔

المختصر یہ کہ بحر العرفان کی سرگرمیوں کا سلسلہ قنوج شہر و ملک و ملت اور دین اسلام کے لئے اس

قدر وسیع ہے جواحاطہ بیان سے باہر ہے ۔

آپ کی کتاب ِ زندگی کا ہر ورق اس قدر ستھرا اجلا اور منور ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے دل و دماغ روشن ہوجاتے ہیں۔آپ کی سرگرمیوں کا دائرہ بہت وسیع ہے اور انہیں بیان کرنا اس لئے بھی آسان نہیں کہ یہ چھ دہاہیوں پر محیط تسلسل ہے۔ علم و فضل کا یہ جھرنا گذشتہ چھ دہوں سے مسلسل بہتا رہا اور نہ جانے کتنے افراد اداروں اور جامعات کوسیراب کرچکا ۔ملک بھر میں بے شمار مدارس اسلامیہ کا احیاء و انشاء ،دینی تحریکوں کا قیام، علوم اسلامیہ بالخصوص سنت و سنیت کی اشاعت اور تصوف روحانیت کی نشر و اشاعت کے لئے انتھک جدوجہد ،دین کے فروغ کے لئے سرگرمیاں ،مساجد میں دروس کا سلسلہ ،درجنوں علمی و تحقیقی کتابوں کی تصنیف و تالیف ،تراجم و تحقیقات درس و تدریس مواعظ و ارشادات معرفت و روحانیت کی مجالس علماء کی نئی نسل کی تربیت اور مختلف اداروں کے انتظامی امور کی نگرانی جیسے درجنوں وقیع کام ایک تنہا ذات نے انجام دیے۔یہ سب وہ خدمات ہیں جن پر ہلکی سی روشنی بھی ڈالی جائے تو سینکڑوں صفحات ناکافی ہوں گے۔ آپ کی خدمات جلیلہ دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک فرد بشر کا کام نہیں بلکہ ایک جماعت ہے جو حضور بحر العرفا ن کے وجود کی شکل میں قنوج میں نمودار ہوئی جس نے اپنے علم و عرفان کے فیضان سے قنوج کو رشک ارم بنا دیا ۔ اور آنے والی نسلو ں کے لئے ایک علمی قلعہ تعمیر کردیا جس کا فیض رہتی دنیا تک جاری وساری رہیگا۔

63 سالہ سفر طے کرنے کے بعد علم و عرفان کایہ سورج9 ذی قعدہ 1440 ھجری مطابق 13 جولائی 2019 بروز ہفتہ کو شہر قنوج میں غروب ہوگیا۔اور اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

اللہ تعالی حضور امام ربانی مجدد الف ثانی و مشائخ نقشبندیہ کے صدقے مرشدی حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ و الرضوان کے مشن کو عام کرنے اور ان کے نقش قدم پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلینﷺ

ایک ذات جو قدیم نافع و جدید صالح کا سنگم تھی

مولانا نبیل اختر نواز ی آفاقی٭

حضور بحر العرفان حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ کی ذات برصغیر (ہندو پاک اور بنگلہ دیش) میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ آپ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے آپ بیک وقت مدرس بھی تھے مصنف بھی تھے فقیہ روزگار بھی تھے محدث زماں بھی تھےمنتظم اعلی بھی تھےزبان و بیان پر کامل قدرت رکھنے والے ادیب و خطیب بھی تھے ،بہترین منتظم اعلی کے ساتھ ساتھ بہترین مدبر بھی تھے، مفکر بھی تھے، نباض قوم و ملت بھی تھے اور ان تمام خوبیوں سے بڑھ کر جو سب سے بڑی خوبی تھی وہ یہ تھی کہ آپ متبع سنت بھی تھے اور پورے طور پر سنت رسول کی پیروی کرنے والے پیر کامل بھی تھے۔ اتباع سنت اور محبت مرشدسلسلہ نقشبندیہ کی اساس ہے۔ اور آپ پوری زندگی اسی اساس کو نہ صرف بر صغیر میں بلکہ پوری دنیا میں پھیلانے کی سعی پیہم کرتے رہے۔ ان کے سینے میں ایک مستقل دھڑکتا ہوا دل تھا جو نصرت مسلماں کے لیے ہر آن پھڑکتا رہتا تھا جس کی گواہی ہر وہ شخص دے سکتا ہے جو ان کی محفل میں ایک لمحہ کے لیے بھی شریک رہا ہو۔حضور بحرالعرفان کی پرورش و پرداخت خالص مذہبی ،دینی روحانی اور خانقاہی پس منظر میں ہوئ تھی مگر آپ نے حالات زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے جہاں خانقاہوں کے قیام کو ضروری سمجھا وہیں عصری تعلیم گاہوں کے قیام کو بھی ترجیح دی، آپ نے جہاں ملک بھر میں سینکڑوں مدارس و مکاتب کا جال بچھایا وہیں انگلش میڈیم اسکولز کے نیٹ ورک کی بھی توسیع کی ، جہاں ایک طرف شاندار الجامعۃ الاحمدیہ کی عمارت اس بات کی گوای دے رہی ہیکہ حضور بحر العرفان، مسلم بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے فکر مند تھے وہیں جامعۃ المحصنات کا وسیع وعریض آنگن اس بات پر فخر کر رہا ہے کہ حضور بحر العرفان کی محنتوں کے نتیجہ میں آج اسلام کی پاکباز شہزادیاں میری آغوش میں سیرت عائشہ و کردار فاطمہ کو اپنا کر ایک آئڈیل اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں نمایاں رول ادا کر رہی ہیں جو ہمارے لیے باعث فخر ہے اور دیگر اسلامی اداروں کے لیے باعث تقلید بھی ہے۔

حضور بحرالعرفا ن بحیثیت معمار قوم و ملت:

حضور بحرالعرفان ہمیشہ اپنی شناخت اور اسلامی حدود میں رہ کر جدید نافع سے استفادہ کرنے کے حامی رہے، اس کے لیے آپ نے بڑے مشہور و معروف عصری علوم و فنون کے ماہرین سے ارتباط کامل کرتے ہوئے عصری تعلیم کے میدان میں بڑی پیش رفت فرما رہے تھے اور ایک عظیم یونیورسٹی کے لیے پورا خاکہ آپ تیار کر چکے تھے اور ایک یونیورسٹی کے لیے جتنی اراضی کی ضرورت تھی اس کا آپ مکمل انتظام کرچکے تھے گویا آپ جہاں مذہبی تعلیم کے زبردست حامی تھے وہیں عصری و علوم و فنون سے مسلم طلبہ و طالبات کو آراستہ و پیراستہ کرنے کی بھر پور کوشش زندگی بھر کرتے رہے، جس کی بہترین مثال وارثی انٹر کالج، اور سرہند پلک اسکول ہے جس کا قیام آپ نے الجامعۃ الاحمدیہ اور جامعۃ المحصنات للبنات کے ساتھ ہی شہر قنوج میں فرمایا اور ان انگلش میڈیم اسکول نے شہر میں وہ انقلاب لایا جس کے متمنی حضور بحر العرفان تھےیعنی ہزاروں کی تعداد میں شہر کے غریب مسلمانوں کے بچے آج ایک آئیڈیل شہری کے طور پر مختلف شعبہ جات میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں اور ڈاکٹر، انجینئر، معلم اور تاجر بن کراعلی شناخت کے حامل بن چکے ہیں۔حضور بحر العرفان کی ہمہ جہتی صرف اپنوں کو متأثر نہیں کرتی ہے بلکہ ہر اس شخص کو قائل کرتی ہے جو مسلم امہ کی ترقی کا حامی ہے آپ نے چٹائی پر سوکر اور کھردری، دری پر بیٹھ کر ایک ایسی نسل نو کی تشکیل کی جو استغنائے سلیمانی اور فقر بوذری کے حامل ہیں اور ان کے سینوں میں زور حیدری وافر مقدرا میں پایا جاتا ہے، اس نسل نو کی نگاہیں بلند ہیں سخن دلنواز ہےقلب تروتازہ ہے جس کو ذکر و فکر سے ہمیشہ جلا بخشتے رہتے ہیں۔یعنی ایک ایسی تصویر شہر قنوج میں ابھرتی ہے جو قرن اول کے مسلمانوں کی یاد تازہ کر دیتی ہے، جو دن میں فرسان النھار اور رات میں رھبان اللیل کی عملی تصویر پیش کرتی ہے، اور میں اس نتیجہ تک پہنچتا ہوں کہ موجودہ وقت میں بحیثیت شیخ طریقت آپ، اورں سے ممتاز اور اعلی نظر آتے ہیں ،جس قدر آپ نے اہل ذکر کی افواج تیار کی ہے وہ شاید و باید اس صدی میں کسی اور شیخ طریقت نے کیا ہواور میرے اس دعوی کی دلیل چاہتے ہیں تو آپ حضور بحر العرفان کی قائم کردہ خانقاہ ،شہر قنوج میں تشریف لائیں، جہاں آپ کی آخری آرامگاہ بھی، اور آج انوار و تجلیات کی برسات ہمہ وقت ہورہی ہے جس کا مشاہدہ اہل دل کر رہے ہیں۔

حضور بحرالعرفان کا ویژن:

آپ کا اولین مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمان شوکت مسلمانی کے ساتھ اپنے وطن میں زندگی کے شب و روز گزاریں، اور کسی طرح کے بھی احساس کمتری کے شکار نہ ہوں، دشمن چاہے جس قدر بھی چالبازیاں مکاریاں، عیاریاں کریں اس کے باجود امت مسلمہ کے ہر فرد کو اس سازش کا بر وقت پردہ فاش کرنے کی صلاحیت ہو اور یہ صلاحیت نسلا بعد نسل منتقل ہوتی رہے تاکہ نئ نسلیں بھی اعداء کے شرور و فتن سے محفوظ رہیں اس کے لیے آپ نے ایک مضبوط لائحہ عمل تیار کیا تھا، جس کی طرف آپ بڑی سرعت کے ساتھ پیش قدمی فرما رہے تھے۔ آپ ہمیشہ مسلم نوجوانوں کو خود اعتمادی کی دعوت دیتے تھے، خود نفسی، خود فریبی اور خود ستائش کے دلدادہ نوجوانوں کو مشفقانہ اور پدارانہ شفقت کے ساتھ زندگی کے رہنما اصول ذہن و دماغ اور قلب و جگر میں بسادیتے تھے۔اور اس کا اثر یہ ہوتا تھا کہ سخت دل اور قلب سنگ رکھنے والے افراد بھی رقیق القلب اورنرم جان بن جاتے تھے جومعاشرۂ انسانی کے لیے عموما اور مسلم معاشرہ کے لیے خصوصا سود مند ثابت ہوتے۔

حضور بحر العرفان روحانی شخصیت اور نظریات:

حضور بحر العرفان ایک ایسی روحانی شخصیت کا نام ہے جنھوں نے اپنی نظر کیمیا سے سینکڑوں ایسے افراد کو جو گمراہیت کی شب تاریک میں بھٹک رہے تھے ان کے قلب کو اعلی اسلامی اخلاق اور احسان کے نور سے روشن کرتے ہوئے انھیں روحانی بالیدگی عطا کی جس کے ذریعہ وہ افراد ملک کے مختلف حصوں میں احسان و سلوک اور اعلی اسلامی اقدار کی ترویج و اشاعت میں شب و روز لگے ہوئے ہیں ،جن کی کوششوں کے نتائج نہ صرف ثمر آور ہیں بلکہ دائمی اورمضبوط ہیں۔ آپ اسلامی تاریخ کے ایک ناقابل فراموش عالم ربانی ہیں جو شہرت و عظمت کی انتہاؤوں تک پہونچنے کے باوجود مومنانہ شان اور اعلی اسلامی روایات کے حامل رہے، علم و فن کی گہرائیوں کے ساتھ بلندی ذات سے متصف ہوکر تعمیر عہد اور تعمیر شخصیت کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کی نظیر عصر حاضر میں کہیں نہیں ملتی ان کے ارد گرد بے شمار طلباء، علماء، مریدین احباب، اور پریشان حال لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا اس کے باوجودوہ عرفان ذات سے بے خبر نہیں رہے۔ بلا شبہ آپ کی ذات اس دور پر فتن میں بیا باں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی کی تمثیل تھی۔

روحانیت کا عملی نمونہ:

اگر روحانیت روح کی بالیدگی تصوف صفائے قلب اور تقوی کانٹوں بھری دنیامیں دامن بچا کر گزر جانے کا نام ہے تو حضور بحر العرفان کی شخصیت اس کی عمدہ اور تازہ مثال تھی، ان کی مکمل زندگی اپنے تمام تر معاملات میں اسی مرکزی محور کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے، ان کی ذات خود روحانی ترقی کی علامت اور صوفیانہ کمالات کی معراج تھی۔ایسا عالم ربانی جو صدیوں میں کبھی خال خال ہی پیدا ہوتا ہے، جس کی پوری زندگی شریعت کے حصار میں مقید ہو، جس کی ساری توانائیاں قرآن وسنت، اسلامی قانون اور تصوف کی گتھیاں سلجھانے اور عالمی سطح پر ان کی نمائندگی کرنے میں صرف ہوئی ہوں، جس نے اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو اپنی ذات کے لیےنہیں بلکہ دین اسلام کی سربلندی کے لیے خرچ کیا، جس کے پاس اپنے لیے کچھ نہیں تھا مگر غم جہان کل اپنے سینے میں سموئے ہوئے تھا لیکن اس کا غم بانٹنے والا کوئی نہ تھا جس نے اپنے لیے ایک تنکا بھی جمع نہیں کیا لیکن قوم و ملت کو علم و فن کی دولت جاوداں دے گیاجس نے آسمانی ستاروں کی گذر گاہیں دریافت نہیں کیں، لیکن علم و فن کے سیاروں پہ کمندیں ڈالیں جس کے وجود سے ایمان کی شعائیں پھوٹتی تھیں اور جس کا سراپا اسلامی اخلاق اور احسان و سلوک کا آئینہ دار تھا ۔

نظریہ اسلامی اور آپ کا تصلب:

آپ ہمیشہ اس نظریہ کے فروغ کے لیے کوششیں کرتے رہے جس نظریہ میں کسی طرح کی ملاوٹ اور آمیزش کی کوئی گنجائش نہ تھی یعنی نظریہ اسلامی جو صحابہ کرام، تابعین عظام اور اکابرین اسلام کا نظریہ تھا جس کو اپنا کر ایک مسلمان بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرانے کا حوصلہ اور امنگ رکھتا ہے، انسانی زندگی میں نظریہ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ،دنیا میں تمام ہولناک جنگیں نظریہ کی بنیاد پر ہی برپا ہوئی ہیں جس میں لاکھوں انسانوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں، نظریہ ہر طبقہ اور ہر گروہ کی شناخت ہوتی ہے، مضبوط نظریہ رکھنے والے بڑی طاقتوں کے سامنے کبھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں ہوتے وہ اپنی جانیں قربان کرسکتے ہیں لیکن اپنے نظریہ کا سودا نہیں کر سکتے۔ حضور بحر العرفان اپنے نظریہ پر مضبوطی سے تادم زیست قائم رہے اور بلا خوف وخطر اپنے نظریہ اسلامی کو دنیا کے سامنے پیش کرتے رہے۔

حقیقی تصوف اور اس کا تعارف:

حضور بحر العرفان کی تمام تر خدمات اور کارناموں میں سب بڑا اور عظیم کارنامہ تصوف حقیقی سے نئی نسلوں کو عملا متعارف اور روشناس کرانا ہے، آپ کی ذات تصوف حقیقی کی چلتی پھرتی تصویر تھی، آپ جہاں جاتے وہیں خانقاہ بن جاتی، خود ذکر و فکر میں مشغول ہو جاتے اور مریدین و طالبین بھی آپ کی اتباع میں ذکر و فکرمیں لگ جاتے، اور اس طرح عام مسلمان کو صفائی قلب کا موقع مل جاتا اور اس کا اثر بھی دیر پا ہوتا ،بسا اوقات بہتوں کا قلب بھی ایک یا دو نششت میں ہی ذاکر ہوجاتا اور اس طرح اس کے دل کی دنیا بدل جاتی۔ تصوف وروحانیت بھی دیگر علوم وفنون کی طرح ایک اہم ترین علم ہے اور اس کی ضرورت بھی مسلمانوں کو اسی طرح ہے جس طرح کہ علم القرآن، علم الحدیث اور علم الفقہ کی ہے، اور دیگر تمام اسلامی علوم کی طرح اس کا سرچشمہ بھی قرآن وحدیث اور آثار سلف ہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ دیگر علوم کی طرح علم تصوف کے مجتہدین نے بھی کام کیا اور ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مرتبہٴ احسان کے حصول، ذوق عبادت کی آبیاری، تزکیہ اور علاج باطن کے نئے نئے طریقے وضع کیے، جن میں سے ہر ایک کی اصل قرآن وحدیث میں موجود ہے، ان میں سے کسی کو محض اس لیے چیلنج نہیں کیا جاسکتا کہ یہ اصطلاح نئی ہے۔ مثلاً حدیث میں احسان کی تعریف یہ کی گئی کہ:

أنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأنَّکَ تَرَاہُ فانْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فانَّہ یَرَاکَ (صحیح البخاری ج۱ ص۲۷ حدیث نمبر ۵۰ ط دار ابن کثیر الیمامہ بیروت)

ترجمہ: اللہ پاک کی عبادت اس طرح کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو، لیکن اگر اسے نہیں دیکھ سکتے تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔’’

اب صوفیا نے اس حدیث پر محنت کی، اور انسان اپنی عبادات؛ بلکہ جملہ معاملات میں رب العالمین کو اپنی نگاہوں کے سامنے کس طرح مستحضر رکھ سکتا ہے؟ اور خدا کی ہر آن موجودگی کا تصور کیسے قائم ہوسکتا ہے؟ اس کے مختلف طریقے بتائے، اگر ایسا نہ کیا جاتا تو صاحب شریعت کی منشا پوری نہ ہوتی، نماز روزہ اور جملہ عبادات ومعاملات محض رسم بن کر رہ جاتے، اور خوف خدا، احساس جواب دہی اور خشوع وخضوع کے بے روح الفاظ صرف کتابوں کی زینت بن کر رہ جاتے، ریاضت ومحنت کے یہ جملہ صوفیانہ طریقے دراصل اسی منزل کے حصول کا ذریعہ ہیں جس کا نام احسان ہے، ان میں عجمی تصورات کا کوئی