باب ۲۵ از ۶۵صفحات ۱۸۱–۱۸۵
ذکرعرفاں
مولانا بشارت علی صدیقی قادری اشرفی٭
ثانی مجدد الف ثانی، اسلاف کے عکس جمیل، اکمل الزاہدین،شیخ الذاکرین، صوفی باصفا، استاذ العلما، شیخ طریقت، بحر العرفان حضرت علامہ مولانا مفتی آفاق احمد صدیقی نقش بندی مجددی اپنے معاصرین میں کئی حوالوں سے ممتاز تھے۔ آپ کی دینی، تعلیمی،اور روحانی خدمات سے ایک عالم مستفید و مستفیض ہوا ہے، اور ہوتے رہے گا۔
آپ جامع اشرف، کچھوچھہ مقدسہ سے فراغت کے بعد، اپنے مرشد برحق حضرت علامہ مولانا احمد رضا نقش بندی مجددی کمالپوری کی خدمت میں پہنچ کر نقشبندی سلوک مکمل کیا۔ پھر کچھ سال بعد اپنے آبائی علاقے کے مرکزی شہر قنوج کو اپنے دعوتی و تبلیغی خدمات کے لیے چنا، بلکہ مجھے یہ کہنے میں کوئی تردد محسوس نہیں ہوتا کہ قنوج و مضافات کے صوفیاے متقدمین نے آپ کا انتخاب تجدید علم و عرفان و احیاے تصوف کے لیے کیا تھا۔
دنیا کے قدیم ترین آباد شہروں میں سے ایک شہر قنوج بھی ہے۔ قنوج زمانہ قدیم سے صوفیا کا مرکز
رہا ہے، بعض روایات کے مطابق یہاںانبیا و صحابہ اکرام کےبھی مزارات ہیں ۔ یہاں ہمیشہ سے صوفیا کی آمد رہی ہے۔یہی وہ شہر ہے جسے مرشد حضرت عثمان ہارونی [526-617ھ] اور حضرت سلطان ہند سید معین الدین حسن چشتی اجمیری [536-633ھ] کے دادا پیر- حضرت نور الدین شریف زنجانی [492-612ھ] نے عالم اسلام کو چشتی جام سےسیراب کرنے کے لیے پسند فرمایاتھا۔
اسی شہر کو مخدوم جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین حسین بخاری اوچی [707-785ھ] نے کسی زمانے میں اپنے قدوم برکت سے فیضیاب کیا تھا اور سہروردی فیضان سے مالامال کیا تھا۔ قنوج ہی کے پاس میں راجگیر نامی ایک قدیم بستی ہے، اس بستی کو بھی سہروردی مرکز رہنے کا اعزاز حاصل رہا، مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے بزرگ خلیفہ حضرت مخدوم اخی جمشید راجگیری سہروردی [م:800ھ]نے یہیں سکونت اختیار کرکے اپنی عظیم خانقاہ تعمیر کی تھی اور ایک عالم کو سیراب کرتے رہے۔
اسی شہر قنوج کے پاس دائرۂ قادریہ بلگرام شریف ہے، جسے حسینی زیدی سادات بلگرام نے چشتی و قادری مرکز بنایا،جس کے فیضان سے مارہرہ مطہرہ ،بدایوں شریف و بریلی شریف کے ذریعے لاکھوں اہل ایمان کے قلوب معطر ہو رہے ہیں۔
قنوج سے کچھ دوری پر ہی سلسلہ طیفوریہ کا قدیم مرکز مکن پور شریف ہے، اور اس سلسلہ کے عظیم بزرگ حضرت سید شاہ بدیع الدین قطب مدار [م: 838ھ] کا آستانہ ہے، جہاں سے آج بھی ہزاروں لوگ وابستہ ہیں۔
قنوج کے نزدیک کانپور ہے، جسے ہم اہل سنن استاذ زمن علامہ احمد حسن چشتی صابری فاضل کانپوری [م: 1322ھ/1903ء] اور ان کے شہزادے استاذ العلماءفاضل اجل علامہ مشتاق احمد چشتی کانپوری [1352ھ/1934ء] کی نسبت با برکت سے یاد کرتے ہیں۔یہ بزرگ علما نے اس علاقے کو دار العلم بنایا، جہاں سے علمی دنیا کے ہزاروں لعل و گوہر پیدا ہوئے،جس کی تفصیل سے اہل علم آشنا ہیں۔
جن حضرات نے حضرت بحرالعرفان سے ملاقات کی ہو، ان کی صحبت میں رہے ہوں اور ان کی تعلیم و تربیت سے فیضیاب ہوئے ہوں؛ وہ اس حقیقت کا اعتراف ضرور کریں گے کہ آپ میں اوپر ذکر کیے گئے صوفیا اور علما کی خوبیاں موجود تھیں اور انہی بزرگوں کا فیضان آپ کی ذات سےنقش بندی مجددی رنگ و آہنگ میں تقسیم ہو رہا تھا۔
قنوج شہر کو حضرت بحرالعرفان نے ایک نقش بندی مجددی مرکز دعوت و تبلیغ بنایا۔ آپ نے جہاں قدیم بزرگوں کی اتباع میں خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ قائم کی تو وہیں آپ نےقدیم علما کی متابعت میں الجامعۃ الاحمدیہ بھی قائم کیاجو حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے نام سے منسوب ایک زبردست ادراہ ہے۔
اس طرح آپ نے روحانی و باطنی علوم کے ساتھ ساتھ علوم ظاہری کا مرکز بھی قائم کیا۔ یہ آپ کی ممتاز خصوصیات میں سے ایک ہے۔شہر قنوج چشتی، سہروردی، طیفوری اور قادری مرکز دعوت و عزیمت کے طور پر ہمیشہ سےمعروف رہا، حضرت بحرالعرفان کی شخصیت اور کارناموں کی بنیاد پر اب ایک نقش بندی مرکز کے طور پربھی تاقیامت تاریخ اسلام میں جانا پہچانا جائے گا۔
قنوج او اطراف میں حضرت بحرالعرفان کے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔قنوج ماضی قریب میں اغیار و منکرین تصوف کا مشہور مرکز بن گیا تھا۔ حضرت بحرالعرفان نے اس علاقے میں اپنے اخلاص، صوفیانہ زاہدانہ زندگی و محنت سے اہل سنت کا پرچم بلند کیا۔ دینی و عصری تعلیمی ادارے قائم کیے اور کئی مساجد کو تعمیر کروایا۔ اب اس شہر میں اہل سنت کا دبدبہ ہے۔ الحمدللہ۔
حضرت بحرالعرفان اپنی داعیانہ بصیرت و حکمت، اخلاق و مواعظ حسنہ،سادگی و انکساری، اخلاص و سنجیدگی، محنت و لگن سے نہ صرف اپنوں بلکہ غیروں کے دلوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرجاتے تھے۔آپ قدیم صوفیا اور اولیا کے جیتی جاگتی تصویر تھے۔ اپنے مریدین سے مراقبہ و سلوک کے مختلف منازل طے کرانے میں ماہر تھے، ان پر خاص توجہ فرما کر ان کی تربیت کی ہمیشہ کوشش کیا کرتے تھے، جو آج کل دوسرے خانقاہوں میں شائد ہی کہیں نظر آئے[الاماشاءاللہ]۔ آپ جہاں تشریف لے جاتےوہاں بغیر اشتہار و اعلان عوام کا ایک جم غفیر آپ کے اطراف جمع ہوجاتاتھا، یہ بھی آپ کی مقبولیت اور بزرگی کی بڑی نشانی تھی۔
حضرت بحرالعرفان اتحاد اہل سنت کے زبردست علم بردار تھے، ساری خانقاہوں سے خوش گوار تعلقات و روابط تھے، سب سے روحانی تعلق بر قرار رکھا تھا، سارے اولیا و صوفیا کے ایام مناتے تھے، سب کو اپنے سالانہ پروگرام میں مدعو کرتے تھے، سب کو لے کر اہل سنت کا زبردست کام کرتے تھے۔
حضرت بحرالعرفان کے وصال سے مجھے ذاتی طور پر کافی غم و صدمہ پہنچا ہے۔حضرت سے بہت کچھ
سیکھنا چاہتا تھا، بہت کچھ سمجھنا چاہتا تھا، آپ کی صحبت میں رہ کر برکتیں حاصل کرنا چاہتا تھا، مگر اب محروم ہو گیا ہوں۔ حضرت بحرالعرفان ہی کی دعوت پر میں1435ھ/2014ءمیں پہلی بار قنوج، الجامعۃ الاحمدیہ کے سالانہ پروگرام میں پہنچا تھا جہاں آپ کے خدمات کو قریب سے دیکھنے اور ان کارناموں کا جائزہ لینے کا موقع ملا تھا۔حضرت ہی کی بدولت اہل سنت کے جلیل القدر علما و مشائخ سے ملنے اور استفادہ کرنے کا سنہرا موقع ملا تھا۔ میرے ساتھ اس سفر میں میرے عزیز دوست ڈاکٹر معین الدین اشرفی حیدرآبادی بھی تھے، ہم دونوں حضرت کی شخصیت و خدمات سے بے انتہا متاثر ہوئےتھے،یہاں تک کہ ہم نے ارادہ کرلیا تھا کہ جب حضرت کی مصروفیات کچھ کم ہوںگی، پھر سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوں گے کیوں کہ سالانہ جلسے کی وجہ سے زیادہ ملاقات کا وقت نہیں مل پایا تھا۔ پھر اگلے ہی سال 1436ھ / 2015ء، میرے انڈیا واپس آنے پر ہم دونوں دوست عام دنوں میں صرف حضرت بحرالعرفان سے ملنے قنوج پہنچے۔ حضرت بحرالعرفان کے مرید صادق و شاگرد رشید حضرت مولانا مفتی حافظ ضیاء القمر مجددی آفاقی اس ملاقات کا ذریعہ بنےتھے۔اس ملاقات میں حضرت بحر العرفان سے علمی و روحانی استفادہ کرنے کاموقع ملاتھا۔ حضرت نے خوب محبتوں سے نوازہ تھا، اپنے گھر دعوت بھی کی تھی، اپنے شہزادوں-عالم نبیل علامہ مولانا احمد سعید مجددی صاحب اور مولانا برکات احمد مجددی سلمہ اور قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کرائی تھی جس میں حضرت علامہ آصف رضا مجددی آفاقی اور علامہ مولانا نور عالم مصباحی آفاقی بھی شامل تھے۔حضرت نے اپنی خانقاہ میں مہمان رکھا، اپنے جامعہ کا دورہ کروایا، اپنی خانقاہ میں لے گئے جہاں ہم نے حضرت سے دلائل الخیرات شریف کی اجازت حاصل کی، حضرت نے ہمیں خاص نصیحتوں کے ساتھ تحریری طور پراجازت عطا کی جو سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں آپ کے بزرگوں کے ذریعے رائج ہے۔
اسی ملاقات میں اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن،حیدرآباد دکن کی انگریزی و اردو کتابیں حضرت کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ حضرت بحر العرفان کو تصوف کی کتابوں سے کافی شغف تھا،فاؤنڈیشن کا اس حوالے سے علمی کام دیکھ کر حضرت کافی خوش ہوئے، دعاؤں سے نوازہ، حوصلہ افزائی فرمائی،کئی مفید مشورے دیے، کئی نئے عنوانات کی طرف توجہ دلائی۔حضرت اپنے ادارےفروغ تصوف فاؤنڈیشن سے بھی اسی طرح کا مزید کام کرواناچاہتے تھے، ایک خاص مجلس مشاورت
بھی اس تعلق سےقائم کی گئی، مجھے اس مجلس کا رکن بننے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اس مجلس کی پہلی نشت میں یہ طے پایا تھا کہ ترجیحی طور پر حضرت بحر العرفان کی کتب کی اشاعت ہو، قدیم صوفیا اور نقشبندی شیوخ کی کتب کی جدید تحقیق و تخریج کے ساتھ اشاعت ہواور اسلام کے تعارف پر جدید لٹریچر تیار ہو۔ حضرت اپنی علمی و تحقیقی کتابوں کا انگریزی ترجمہ بھی مجھ سے کروانا چاہتے تھے، میں بھی تیار ہوگیا تھا، مگر افسوس کہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔
حضرت بحر العرفان سے وابستہ کئی یادیں ہیں، کیا کیا بیان کروں اور کس طرح کروں؟اب جب حضرت ہمارے درمیاں نہیں رہے، حضرت کو یاد کرنے پر غم سے طبعیت نڈھال ہوجاتی ہے۔9 ذی قعدہ 1440ھ کی صبح حضرت کے وصال کی خبر ملتے ہی جدہ میں میری طرف سے ایصال ثواب کی محفل کا اہتمام کیا گیا۔جدہ کے کئیی مشہور و معروف حضرات نے اس محفل میں شرکت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ محفل ایصال ثواب میں حضرت بحر العرفان کی حیات و خدمات پر میرا ایک تفصیلی بیان ہوا، قصیدہ بردہ شریف پڑھا گیا، قرآن شریف کے متعدد ختم ہوئے اور حضرت کی روح انور کو ایصال ثواب کیا گیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون /البقاء للہ وحدہ!
حضرت بحر العرفان کی ذات ایک انجمن تھی، بحر ذخار تھی۔اللہ عزوجل حضرت کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے! وابستگان و محبین کو صبر جمیل اور اہل سنت کو ان کا بدل عطا فرمائے! آمین بجاہ سید المرسلین!
٭اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد دکن/ مقیم حال-جدہ شریف، حجاز مقدس