مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتبحر العرفان: دیانت و امانت

باب ۳۰ از ۶۵صفحات ۲۱۷–۲۲۱

بحر العرفان: دیانت و امانت

مولانا محمد ابو دجانہ آفاقی نقشبندی٭

اللہ رب العزت نے اپنے محبوب دانائے غیوب صلی اللہ علیہ و سلم کو ان تمام صفات سے آراستہ فرما کر اس دنیا میں ارسال فرمایاجو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے تمام انبیاء کرام علیہم السلام میں فرداً فرداً موجود تھیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا میں ہر گوشے اور ہر محاذ پر اپنے فیضان کے دھارے بہائے چونکہ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر باب نبوت کو مغلق فرما دیا لہذا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد اب کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا ہے۔ اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہر قوم کو ہر دہر میں ہر وقت ایک سچے قائد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی صحیح رہنمائی کر سکے۔اور جس قوم کا قائد جتنی عظمتوں کا حامل ہوگا اس قوم کو اتنی ہی ترقی میسر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے قوم مسلم کو سب سے زیادہ عظمتوں سے نوازا کیوں کہ اس قوم کو اللہ نے مخلوق میں سب سے افضل و اعلیٰ شخصیت کی قیادت

و سیادت و شفاعت سے سرفراز فرمایا۔

خاتم الأنبياء والمرسلين صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد اللہ نے اس امت کی صلاح و فلاح کے لئے صحابہ کو مقرر فرمایا اور ان کے بعد تابعین و تبع تابعین اور پھر اس کار عظیم کا بار صالحین و علماے ربانیین کے کاندھوں پر رکھا۔اور تمام نائبین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیا۔ اور تمام نائبین مصطفیٰ میں صفات مصطفیٰ کے جلوے نظر آتے رہے جس سے امت ان کی نیابت کو بلا تاخیر تسلیم کرتی گئ۔ اور سچا نائب و خلف ہوتا بھی وہی ہے جس میں اپنے سلف کی صفات کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہوں۔

بلا شبہ اللہ نے حضور بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ والرضوان کو انہیں نائبین کی فہرست میں جگہ عنایت فرمائی اور تا حیات حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان اپنی اس نیابت کو بخوبی انجام دیتے رہے اور ہمیشہ امت مسلمہ کی فکر کرتے رہے۔ ان کے افعال ہمیشہ مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی یاد دلاتے رہتے تھے اور ان کا بچوں سے سلام کرنا، بزرگوں سے محبت کرنا، ہر خاص و عام کی دعوت پر لبیک کہنا، یتیموں بیواؤں کی فکر کرنا اور ہر ایک سے اسی کے معیار کی گفتگو کرنا ہمیشہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت سے آگاہ کرتا رہا۔

یوں تو اللہ نے آپ کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ لیکن یہاں میں آپ کی امانت داری اور دیانت داری کے تعلق سے چند باتیں ذکر کر رہا ہوں۔ چونکہ یہ وہ خوبیاں ہیں جن کے ذریعے انسان کی نیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور مخلوق میں مقبولیت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اسی طرح کی صفات کے ذریعے مکہ مکرمہ میں بسنے والے اپنے دشمنوں کو بھی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔تو ہر سچے غلام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم میں بھی ان صفات کا پایا جانا لازمی ہے۔

یقینی طور پر اس بات کو اہل قنوج اور تمام متعلقین تسلیم کرتے ہیں کہ اس چندہ خوری کے دور میں بھی حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان کی امانت و دیانت کی مثال کہیں نظر نہیں آتی۔

عالم یہ تھا کہ تقریباً 1996ء سے جامعہ سے اپنے لیے تنخواہ نہ لی اور نہ کبھی مدرسے کے پیسے سے کچھ مدد لیتے۔ بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر بارہا فرمایا کرتے تھے کہ میدان محشر میں ہمارے دامن میں گناہ تو نکل سکتے ہیں مگر مدرسے کی ایک پائی بھی نہ نکلے گی ان شاء اللہ۔

نیز عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کبھی کسی پیسے پر شک ہو گیا کہ یہ ہمارے ہیں یا مدرسے کے تو پھر آپ ہمیشہ اس مشکوک رقم کو مدرسے پر ہی صرف فرما دیتے تھے اگرچہ وہ پیسے اپنے ہی کیوں نہ ہوں اور کبھی بھی آپ مدرسے کے مہمانوں کی مہمان نوازی مدرسے کے پیسے سے نہ فرماتے تھے ہمیشہ اپنے ذاتی مال سے ہی اس کا بار اٹھایا کرتے تھے۔

آپ کی عادت کریمہ تھی کہ آپ جب بھی سفر فرماتے خواہ وہ کتنا ہی طویل سفر کیوں نہ ہو کبھی آپ مدرسے کے پیسے کو سفر پر خرچ نہ فرمایا کرتے تھے حالانکہ آپ کا ہر سفر مدرسے کے لیے ہی ہوا کرتا تھا نیز جو خادم ساتھ رہتا تھا انکا بھی خرچ آپ اپنی ہی جیب سے ادا کرتے تھے راقم کے والد الحاج معین احمد مجددی نے کئ سال آپ کے ساتھ سفر و حضر میں گزارے اور فیضیاب ہوتے رہے ادھر کئ سالوں سے حضرت مولانا آفتاب عالم مجددی دیوریاوی کو یہ سعادت میسر ہوئی... الحمد للہ اس فقیر کو بھی حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان نے اپنے ساتھ تنہا سفر کی سعادت سے نوازا کبھی بھی آپ نے کسی دوسرے کے پیسے خرچ نہ ہونے دیے۔ہمیشہ آپ اپنے ساتھ جانے والے کاخود ہی اپنی جیب سے خرچ اٹھا تے۔

میں نے حضرت مولانا آفتاب عالم آفاقی مجددی سے سنا کہ عمرے کے موقع پر حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان کے لیے کھانا لایا کرتے تھے جب سفر مکمل ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے تمام چیزوں کا خرچ لکھ رکھا تھا اس کے مطابق جو مولانا آفتاب صاحب کے ریال زیادہ خرچ ہوئے تھے وہ آپ نے واپس لوٹا دیے اور اس تاریک دور میں کہ جب لوگ کسی طرح کے مال کو اپنے لئے جائز کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان کی شان یہ تھی کہ

میں نے اپنے والد بزرگوار الحاج محمد معین احمد آفاقی مجددی (خادم خاص حضور بحر العرفان) سے سنا کہ تقریباً 30 سال قبل ایک مرتبہ دہلی میں جناب اخلاق بھائی کی اہلیہ محترمہ نے تقریباً 5000 روپے بطورِ نذرانہ یہ کہہ کر دیے کہ حضرت یہ آپ اور آپ کے اہل و عیال کے لیے ہیں۔ آپ نے لے لیے اب واپسی میں فرماتے ہیں والد صاحب سے معین بھائی چونکہ حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان آپ کو اسی انداز میں مخاطب فرماتے تھے۔فرمایا معین بھائی اتنی بڑی رقم کوئی مجھے کیوں دے گا ہو نہ ہو یہ مدرسے کے لیے ہی دیے ہوں گے۔ عرض کرتے ہیں حضور یہ تو آپ کا نذرانہ ہے نہ کہ مدرسے کا چندہ فرمایا نہیں مدرسے کے لیے ہی دیے ہوں گے ورنہ اتنے پیسے کوئی مجھے کیوں دےگا یہ کہتے ہوئے آپ

نے ان پیسوں کی رسید بنا کر اسے مدرسے میں دے دیا ’’ہے نہ اس دور میں عجوبہ‘‘ ’’سیکڑوں آئے نظر تجھ سا کوئی ملتا نہیں‘‘

حضرت مخدوم گرامی شہزادہ بحر العرفان حضرت مولانا برکات احمد صاحب قبلہ آفاقی مجددی ابھی 201۷دسمبر میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان کے ساتھ دبئی سفر پر تھے کہ ایک صاحب کے گھر تعویذات کے تعلق سے جانا ہوا۔ ان صاحب کے گھر سے فارغ ہونے کے بعد چلنے لگے انہوں نے نذرانہ کے طور پر کچھ رقم حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان کو دی اور کچھ مخدوم گرامی کو قیام گاہ پر پہنچے تو جب رقم کا حساب لگایا تو تقریباً 51000 انڈین روپے بن رہے تھے فرمایا اسے مدرسے میں شامل کر دیں عرض کیا یہ تو آپ کو بطور نذرانہ پیش کیا گیا ہے نہ کہ مدرسے کے لیےفرمایا:

اتنا پیسا کوئی ہمیں کیوں دے گا مدرسے میں ہی دئیے ہوں گے یہ کہہ کر اس پیسے کو بھی مدرسے میں شامل کر دیا۔ ’’ہے نہ حیرت کی بات‘‘

حضرت مولانا آفتاب عالم مجددی صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ دہلی میں ایک کمشنر صاحب کے گھر روزہ افطار کے موقع پر تشریف لے گئے انہوں نے مصافحہ میں دو ہزار روپے دیئے... آپ نے فرمایا اسے مدرسے میں شامل کر دیں۔ عرض کیا کہ یہ آپ کے لیے ہیں، فرمایا: فتویٰ دل سے طلب کرنا چاہیے، جب دل گوارا نہ کرے تو اس کو چھوڑ دینا چاہیے۔ یہی ولیوں کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ حرام تو حرام شبہات سے تک پرہیز کرتے ہیں۔

اور یہاں تو عالم یہ ہے کہ اپنا مال بھی راہ خدا میں خرچ کرتے رہے اور اپنی امانت و دیانت کا لوہا منوا کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ دنیا سے بے رغبتی اللہ والوں کی سب سے عظیم علامت ہوتی ہے۔حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان اکثر دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ہمارے دل سے دنیا و ما فیھا کی محبت نکال کر اپنی اور اپنے محبوبوں کی محبت عطا فرما۔

جیسا کہ آپ نے اوپر پڑھا کہ آپ نے کبھی پیسے کو محبوب نہیں رکھا اور یہ چیز اس دور میں کالعدم ہی نہیں بلکہ یقیناً معدوم ہے لیکن اللہ کے اس مقدس ولی میں یہ صفات کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔

حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان نے اپنی ظاہری حیات میں تقریباً بیس نیشنل اور سات انٹرنیشنل کانفرنسیں کرائیں اور کانفرنس میں ایک سروں کا سمندر نظر آتا تھا۔

میں نے استاذ محترم حضرت علامہ آصف رضا آفاقی مجددی صاحب قبلہ سے سنا کہ آپ از اول تا آخر اسٹیج پر رہتے تھے اور لوگ آپ سے مصافحہ کرتے نیز مصافحہ میں بہت سے لوگ نذرانہ بھی پیش کرتے تھے لیکن حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان کا عالم یہ تھا کہ جتنا نذرانہ آپ کو اسٹیج پہ ملتا تھا آپ اس تمام نذرانے کو جامعہ میں ہی دے دیا کرتے تھے؏

ایسے تھے ہمارے پیر

میں نے اپنی آنکھوں سے ماضی قریب میں دیکھا جب حضوری بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان اپنے مسجد کے کچی چھت اور چھپر والے حجرے سے اپنے پکے مکان میں جا چکے تھے حالانکہ میں نے وہ دور نہیں دیکھا لیکن اس مکان میں جس کمرے میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان رہا کرتے تھے۔ ابھی کچھ سال پہلے تک اس کا فرش کچا رہا۔ دیواریں بغیر الماری کے رہیں۔ بعد میں کچھ لوگوں کے اسرار پر اسکا فرش وغیرہ بنایا گیا۔

ہم نے ڈھونڈی ہیں بہت تیری مثالیں جاناں

تو مجھے دور میں یکتا ہی نظر آتا ہے

بہر حال جب ایسے رہبر و رہنما ہوتے ہیں تو قوم کو خانقاہیں، مدارس، مساجد، مکاتب، کالجز، اسکولز ملتے ہیں پھر قوم کو انہیں سےعلما، صلحا، حفاظ، قرا، قائدین، ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیسرز وغیرہ ملتے ہیں جو حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان کی محنت و مشقت کے ثمرے کے طور پر مل بھی رہے ہیں اور ملتے بھی رہیں گے إن شاء اللہ عزوجل۔ اور پھر انہیں سے قوم کا مستقبل روشن و منور ہو جاتا ہے۔

اللہ حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان کے فیضان کو جاری رکھے اور ہم سب کو آفاقی مشن کو آگے تک لے جانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

٭الجامعہ الاحمدیہ السنیہ قنوج یو پی الہند