باب ۵۷ از ۵۷صفحات ۷۷۷–۷۸۳
علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین
حضرت مجدد قدس سرہ نے ان تینوں کے معنی توسط حال میں مکتوب ۲۷۷، جلد اول میں یوں بیان فرمائی: ‘‘جان لو ارشدک اللہ تعالیٰ کہ علم الیقین ذات حق سبحانہ و تعالیٰ میں ان نشاینوں کے دیکھنے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں اور ان آیات کے شہود کو سیر آفاقی کہتے ہیں لیکن ذاتی شہود وہ صور سواے سیر انفسی کے متصور نہیں ہے اور وہ صرف نفس سالک میں ہوتا ہے۔ پھر مندرجہ بالا تقریر میں مذکور شعر کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ‘‘اور وہ جو کچھ وہ اپنے سے باہر مشاہدہ کرتا ہے سب ذات پر آثار و دلائل کے مشاہدوں کے قبیل سے ہے نہ کہ اس ذات عز سلطانہ کے مشاہدے سے۔
قطب المحققین سید العارفین، ناصر الدین خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ الاقدس نے فرمایا ہے کہ ‘‘سیر دو قسم پر ہے؛ سیر مستطیل، سیر مستدیر۔ سیر مستطیل بعد در بعد ہے اور سیر مستدیر قرب در قرب۔ سیر مستطیل مقصود کو اپنے دائرے کے باہر طلب کرتا ہے اور سیر مستدیر اپنے گرد پھرنا ہے اور مقصود کو اپنے سے ڈھونڈنا ہے۔
پس جو تجلیات کہ صور حسی و مثالی میں اور اسی طرح پردہ انوار میں ہوں گی علم الیقین میں داخل ہیں۔ کوئی بھی صورت ہو اور کوئی بھی نور ظاہر ہو، رنگین ہو وہ نور، بے رنگ متناہی ہو وہ نور یا غیر متناہی محیط کائنات ہو یا نہ ہو۔’’
اور عین الیقین شہود حق کا نام ہے اس کے بعد وہ معلوم ہے علم یقین کے ساتھ اور یہ شہود فناے سالک کو مستلزم ہے اس شہود کے غلبہ میں اس کا تعین (وجود و تشخص) پورے طور پر گم ہو جاتا ہے اور اس کے دیدۂ شہود میں اس کا اثر اس سے باقی نہ رہے اور اپنے شہود میں فانی مستہلک ہو جائے اس طائفہ علیہ قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم کے نزدیک اس کی تعبیر ادراک بسیط سے کی جاتی ہے اور معرفت بھی کہتے ہیں اور اس ادراک میں عوام و خواص شریک ہیں۔
لیکن فرق یہ ہے کہ خواص کے لیے شہود خلق شہود حق جل و علا سے مزاحم نہیں ہے بلکہ اس کے دیدۂ شہود میں علاوہ حق جل و علا شہود نہیں اور عوام کے لیے مزاحم ہے۔ لہٰذا اس شہود سے پوری غفلت رکھتے ہیں اور ادراک سے خبر نہیں رکھتے ہیں۔’’ اور یہ عین الیقین علم الیقین کا حجاب ہے جس طرح علم الیقین، عین الیقین کا حجاب۔
اس شہود کے تحقق کے وقت مکمل حیرت و نادانی ہے علم کی اس جگہ بالکل گنجائش نہیں ہے۔
حق الیقین اللہ تعالیٰ کے اس شہود کا نام ہے جو تعین کے ارتفاع اور متعین کے اضمحلال کے بعد ہوتا ہے لیکن عارف کا یہ شہود حق تعالیٰ کا حق کے ساتھ ہے جل و علا، نہ کہ اس عارف کے ساتھ ولایحمل عطایا الملک إلا مطایاہ اور یہ شہود بقا باللہ میں کہ بی یسمع و بی یبصر (مجھی سے سنتا اور مجھی سے دیکھتا ہے) کا مقام سے متصور ہو سکتا، کہ سالک کو فناے مطلق کہ ذات و صفات حق سبحانہ و تعالیٰ کی فنا ہے کے ساتھ تحقق کے بعد ہے محض دینی عنایت سے اپنے پاس سے وجود بخشتا ہے
اور سکر حال و بے خودی سے صحو و افاقت میں لاتا ہے اور اس وجود کو وجود موہوب حقانی کہتے ہیں اس موطن میں علم و عین ایک دوسرے کا حجاب نہیں ہیں عین شہود میں عالم ہے اور عین علم مشاہد اور عارف کا یہی تعین ہے کہ وہ اس محل میں اس تعین کو عین حق پاتا ہے عز شانہ نہ کہ تعین کونی کیوں کہ اس کا کوئی اثر اس کے دیدۂ شہود میں باقی نہیں رہا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے مکتوب ۲۷۷۔
مکتوب۴، جلد دوم میں علم الیقین کے بارے میں آپ کی جولانگاہ ملاحظہ فرمائیں: علم الیقین شہود آیات کا نام ہے جو علمی یقین کا فائدہ دے، یہ شہود در حقیقت اثر سے موثر کی طرف استدلال ہے، پس جو کچھ تجلیات و ظہورات سے آفاق و انفس کے آئینوں میں دیکھا جاتا ہے سب استدلال و اثر بمؤثر کے قبیل سے ہے اگرچہ ان تجلیات کو تجلیات ذاتیہ نام دیں اور ان ظہورات کے بے کیف کہیں کیوں کہ شے کا ظہور آئینہ میں اثر کا حصول ہے اس شے کے آثار سے نہ کہ عین اس شے کا حصول ۔
پس بتمامہ سیر آفاقی و انفسی نے قدم دائرہ علم الیقین سے باہر نہیں کھینچا اور اثر سے مؤثر تک استدلال کے علاوہ اس کا نصیب نہ ہوگا اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
سَنُرِیۡہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ
یعنی عنقریب ہم ان کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں اطراف عالم میں اور ان کی جانوں میں یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے ان کے لیے کہ وہی حق ہے۔
دوسروں نے سیرآفاقی کو علم الیقین سے جانا ہے اور عین الیقین اور حق الیقین کو سیر انفسی میں ثابت کیا ہے اور انفسی سے باہر سیر نہیں کہی ہے۔
آں ایشاں نند من چنینم یا رب
جان لیجیے کہ حضرت حق سبحانہ بندہ سے بندہ کے زیادہ قریب تر ہے پس بندہ سے حق جل و علا تک جانب اقربیت میں دوسری سیر متخلل ہے کہ وصول اس سیر
کے قطع سے وابستہ ہے، یہ تیسری سیر بھی در حقیقت علم الیقین کو ثابت کرتی ہے،ہر چند دائرہ ظلیت سے باہر ہے لیکن شائبہ ظلیت سے پاک و مبرّا نہیں ہے کیوں اسما و صفات واجبی جل سلطانہا در حقیقت حضرت ذات تعالیٰ و تقدس کے ظلال ہیں اور جس جگہ ظلیت کا شائبہ ہے آثار و آیات میں داخل ہے پس سیر علم الیقین کے تین حصوں سے ایک سیر کو علم الیقین کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور اس کی دوسری سیر کو عین الیقین اور حق الیقین کے لیے محصل (مفید) قرار دیا ہے اور تیسری سیر کے بارے میں لب نہیں کھولے ہیں تاکہ علم الیقین کا دائرہ تمام ہو عین الیقین و حق الیقین ابھی در پیش ہے؏
قیاس کن ز گلستان من بہار مرا
اور عین القین اور حق الیقین کے بارے میں کیا کہے اور اگر کہے تو کون سمجھے اور کان پائے اور کیا پائے، یہ معارف دائرہ ولایت سے خارج ہیں ارباب ولایت علماے ظواہر کی طرح ان کے ادراک میں عاجز اور ان کے ادراک سے قاصر ہیں یہ علوم مشکات انوار سے ماخوذ ہیں علیٰ اربابھا الصلاۃ والسلام و التحیۃ
اپنے مخدوم زادے خواجہ محمد عبد اللہ قدس سرہ کو تحریر فرماتے ہیں: صورت فنا بیان کرنے کے بعد، حقیقت فنا اس وقت متحقق ہوتی ہے کہ اسما و صفات اور شیون و اعتبارات کی کثرت بھی مکمل طور پر نظر سے پوشیدہ ہوگا اور سواے ذات مجرد تعالیٰ کی احدیت کے کوئی چیز ملحوظ و منظور نہ ہو، تمامی سیر الی اللہ کی حقیقت اس جگہ جلوہ گر ہوتی ہے اور ظلال کی گرفتاری سے پورے طور پر چھٹکارا اسی مقام میں حاصل ہوتا ہے اس وقت معاملہ اصل اصول سے پڑتا ہے اور دال سے مدلول تک پہنچایا جاتا ہے اور علم سے عین اور گوش سے آغوش تک عروج کرتا ہے اور وصل عریاں متحقق ہوتا ہے و کذا و کذا ثم کذا و کذا۔(مکتوب۳۵، ج: ۲)
بغیر رمز و اشارہ اور وہ بھی مبہم اور سر آستین میں کر کے اس جگہ کے بارے میں جب نہیں کھولے جا سکتے ہیں۔’’ حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات میں اس طرح کی اصلاحات بہت ہیں لیکن اس دور میں اب اصل تصوف سے دل چسپی کہاں ہے اور کون ہے جو سمجھے اور غور کرے علما خود شرعی اصطلاحات تک جاننے کی کوشش نہیں کرتے ہیں إلا ماشاء اللہ تصوف کو تو وہ علم لدنی سمجھ بیٹھے ہیں اور یہ تصور کر لیا ہے کہ یہ حاصل ہی نہیں ہو سکتا ہے یا کٹھن بہت ہے جب کہ اس کی تحصیل نہایت اہم اور ضروری ہے۔ ان چند مثالوں سے ہر پڑھا لکھا اور جانکار سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کو اللہ تعالیٰ نے کس قدر بحر حقیقت کا شناور بنایا تھا اور علوم و معارف، مشاہدہ و مکاشفہ اور روحانیت کے عروج و ارتقا میں کس قدر بلندیاں عطا فرمائی تھیں۔
تصوف کی اصلاحات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ نے اولیاے کرام اور بزرگان دین کے جذب و مستی کے عالم میں نکلے ہوئے اسی طرح جو انھوں نے اپنے بلند مقامات کی طرف اشارے فرمائے تھے عام صوفیہ کرام و علماے عظام جن کی مرادوں سے عاجز تھے۔ حضرت مجدد قدس سرہ نے ان کی مرادات بیان فرمائیں اور مختلف تاویلات کے محتمل اقوال کی صحیح تاویلات بیان فرمائیں ایسے ہی اقوال سے خام صوفیہ حظوظ نفسانیہ کی تحصیل کر رہے تھے۔
آپ نے ان کے سارے چور دروازے بند فرما دیے۔ اگر میں انھی بیان کروں تو مکتوبات سے ایک کتاب کی جلد تیار ہو جائے ی مگر یہاں بھی عذر وہی ہے لکھوں تو کس کے لیے لکھوں، حقیقت یہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات میں آپ کی شخصیت کی اتنی تصویریں بکھری ہوئی ہیں اگر ان سب کو جمع کر دیا جائے اور ان کو صحیح پہچنوا دیا جائے تبھی حضرت مجدد قدس سرہ کا کچھ پتا معلوم
ہو سکتا ہے۔ اکبر و جہانگیر تک آپ کو محدود کر کے ایک قسم کا ظلم کیا گیا ہے۔
سلسلہ نقش بندیہ:
نقش بندیہ سلسلہ کی آپ نے دو پہلو سے تجدید فرمائی۔ ایک تو یہ کہ یہ سلسلہ چوں کہ خالص اتباع سنت پر مبنی تھا اس کا سارا مجاہدہ اور ریاضت، سنت پر کامل طریقے سےمستقل مزاجی کے ساتھ عمل اور ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کرنا تھا۔ بزرگوں کا مشاہدہ ہے کہ مختلف اعمال و افعال اور ریاضات و مجاہدات کے مختلف انوار و الوان اور مختلف کیفیات و واردات ہیں۔ سنت پر سختی سے عمل نہ تو حال سے مغلوب کرتا ہے، اور نہ ہی بظاہر اس میں کوئی امتیازی شان ہوتی ہے اس لیے اس کی طرف لوگوں کے قلوب کم مائل ہوئے تھے، کچھ نقش بندی حضرات نے دوسروں کی دیکھا دیکھی بعض رسوم و بدعات اس مبارک سلسلہ میں بھی داخل کر دیں تھیں اس کی وجہ سے اس میں وہ فیض اور برکت بھی نہ رہی تھی جو پہلے تھی۔ حضرت مجدد قدس سرہ نے ان تمام رسوم و بدعات سے سلسلہ مبارکہ کو پاک کر دیا اور ٹھیک بنیادوں پر کھڑا کر دیا جو اس کی تھیں۔
دوم یہ کہ یہ سلسلہ آپ کے ظہور سے قبل صرف چند اذکار و مراقبات تک محدود تھا۔ آپ نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان فرماتے ہیں: سلسلہ عالیہ نقش بندیہ جو حضرت خواجہ باقی باللہرحمۃ اللہ علیہ کے زمانے تک لطائف سبعہ؛ نفی و اثبات، تہلیل لسانی، مراقبہ احدیت، پھر مراقبات مشارب، اور مراقبہ معیت تک محدود تھا، وہ حضرت مجدد قدس سرہ کی برکت سے ولایت کبریٰ، مراقبات کمالات نبوت و رسالت و اولو العزم، مراقبہ حقیقت کعبہ، حقیقت قرآن، حقیقت صلاۃ، معبودیت صرفہ، حقیقت ابراہیمی، حقیقت موسوی، حقیقت محمدی، حقیقت احمدی، حب صرفہ اور لاتعین کے مقامات تک وابستہ ہو گیا ہے۔
یہ چیزیں حضرت مجدد الف ثانیرحمۃ اللہ علیہ کے طفیل میں ان کے وابستگان تک پہنچی ہوئی ہیں اور ان کے متعلق کسی نظریاتی بحث و تمحیص کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔(رود کوثر)
سلسلہ مبارکہ کی تجدید کا یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ یہ سلسلہ کم لوگوں میں اور بہت کم شہروں اور ملکوں میں تھا مگر آپ نے اس قدر فروغ دیا کہ پورے عالم میں پہنچا دیا اور لوگوں کے دلوں میں اس قدر عظمت پیدا کر دی کہ بیان سے باہر ہے۔