باب ۵۳ از ۵۷صفحات ۷۲۱–۷۳۱
ایک شبہ او راس کا دفع
بعض لوگوں کو یہاں یہ شبہ ہوگیا کہ صوفیہ وجودیہ دو وجود کے قائل کو مشرک اس لیے کہتے ہیں کہ دو وجود کینا یہ دو بینی ہے اور دو بینی طریقت میں شرک ہے لہۃذا ایک بینی ضروری ہے اور وہ وحدت وجود سے حاصل ہوگی اس لیے وحدت وجود کا قائل ہونا ضروری ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘ دو بینی جو شرک طریقت ہے کا دفع توحید شہودی سے حاصل ہو سکتا ہے اور توحید وجودی اس مقام میں کچھ بھی درکار نہیں ہے ،چاہیے کہ سالک کا مشہود اور اس کا ملحوظ ایک ذات مقدس کے علاوہ کوئی امر دیگر نہ ہو تاکہ فنا متحقق ہو اور شرک طریقت مندفع ہو،دن میں کہ سورج کو تنہا دیکھتے ہیں اور ستاروں کو نہیں دیکھتے ہیں دو بینی کا دفع حاصل ہے،ہر چند کہ دن میں ہزاروں ستارے موجود ہیں مگر مقصود یہ ہے کہ ایک سورج مشہود ہو ستارے معدوم ہوں یا موجود’’
حصول فنا کے لیے توحید وجودی ضروری نہیں:
اس گفتگو سے آپ نے سمجھ لیا کہ طریقت میں حصول فنا کے لیے ایک بینی یعنی
صرف ایک کو دیکھنا ضروری ہے صرف ایک موجود ماننا ضروری نہیں،یہاں سے آپ ان لوگوں کے قصور فہم کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو وحدت وجود کو دفع شرک کے لیے لازم وضروری تصور کرتے ہیں۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:اور بلکہ میں کہتا ہوں کہ کمال فنا اس صورت میں ہے کہ اشیا موجود ہوں اور سالک اس کمال گرفتاری کی وجہ سے جو کہ مطلوب حقیقی سے رکھتا ہے کسی چیز کی طرف التفات نہ کرے بلکہ کسی چیز کا مشاہدہ نہ کرے اور کوئی چیز اس کے دید بصیرت میں نہ آئے اور اگر اشیا موجود نہ ہوں گی تو یہ کس سے متحقق ہوگی اور(سالک)فانی کیسے ہوگا اور کس کو فراموش کرے گا۔
وحدت الوجود سے پیدا ہونے والے نتائج آپ پڑھ چکے کہ یہ کتنی پر خطر وادی ہے، جہاں ہر ایک اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتا ہے حضرت مجدد قدس سرہ کا یہ مجددانہ بصیرت ہے کہ آپ نے ایسی راہ اختیار فرمائی جو سیدھی اور بے خطر ہو اور ہر معاملے میں آپ کا ،مزاج یہی ہے کہ آپ لوگوں کو ایسا راستہ بتاتے ہیں جو صاف ستھری ہو ایسا نہ ہو کہ سالک نہ سمجھ کر کمالات سے محروم ہوجائے۔
تجدید الف ثانی کا یہ وہ اہم گوشہ ہے کہ جس کی اہمیت کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جنھوں نے دوسرے صوفیہ کو بھی تفصیل سے پڑھا ہے اور حضرت مجدد قدس سرہ کو بھی قریب سے دیکھا ہے ،آپ نے فنا وبقا کی تحصیل میں بھی لوگوں کو وہ راستہ عطا فرمایا کہ جس میں سالک بہ آسانی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔
فنا وبقا کی تحصیل کے لیے توحید شہودی کافی ہے:
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں‘‘بالجملہ فنا وبقا کی تحصیل میں اور ولایت صغریٰ وکبریٰ کے کمالات کے حصول میں توحید وجودی کچھ بھی درکار نہیں بلکہ توحید شہودی چاہئے تاکہ فنا متحقق اور ماسوا کا نسیان حصل ہو ،اور ہو سکتا ہے کہ سالک ابتدا سے انتہا
تک سیر کرے اور توحید وجود کے علوم ومعارف سے کچھ بھی اس پر ظاہر نہ ہو
سلوک کے لیے قریب تر راہ:
بلکہ نزدیک ہے کہ ان علوم کا انکار کرے،فقیر(حضرت مجدد قدس سرہ)کے نزدیک وہ راہ جو ان معارف کے ظہور کے بغیر سلوک کے لیے میسر آتا ہے زیادہ قریب ہے اس سے جو اس ظہور کو متضمن ہو،نیز اس راہ (توحید شہودی)کے سالکین اکثر مطلوب تک پہنچتے ہیں اور اس راہ(توحید وجودی)کے چلنے والےاکثر راہ میں رہ جاتے ہیں اور دریا چھوڑ کر قطرہ سے سیراب ہوتے ہیں اور(اصل کے ساتھ)کتنے ظل کے اتحاد کے وہم کے ساتھ گرفتار ہوتے ہیں اور اصل سے محروم ہوتے ہیں اور اس معنیٰ کو تجربوں سے جانا ہے’’
حضرت مجدد قدس سرہ خود اپنے سلوک کا حال بیان فرماتے ہیں کہ فقیر کا سیر ہر چند راہ ثانی(توحیدوجودی)سے میسرہوئی ہے،علوم ومعارف توحیدی کے ظہورات سےحظ وافر پایا لیکن عنایت خداوندی جل سلطانہ چونکہ اس فقیر کے شامل حال تھی اور سیر محبوبی رکھتا تھا ،راہ کی وادیوں اور جنگلات کو فضل وعنایت کی مدد سے طے کیا ہے اور اس کے کمال کرم سے ظلال سے گذار کر اصل تک پہنچایا اور جب معاملہ مسترشدین(مریدوں)سے پڑا تو دیکھا کہ راہ دیگر قریب تر ہے وصول میں اور حصول میں آسان تر ہے۔
توحید وجودی اور شہودی کا حال ااپ نے پڑھا اور جان لیا کہ فنا وبقا اور حسول کمالات کے لیے توحید شہودی کافی بلکہ ضروری ہے یہ راہ بے غبار اور صاف ہے ، چونکہ حضرت شیخ ابن عربی قدس سرہ نے جب سے اس توحید کو مفصل بیان کیا ،بعد کے لوگوں نے رفتہ رفتہ اس پر اجماعسا کر لیا اس لیت توحید شہودی پر بہت سے لوگ چراغ پا ہوگئے ،دنیا میں سطحی نظر رکھنے والوں کی کبھی کمی نہیں رہی کچھ لوگوں نے تو اس
توحید وجودی کو طریقت کے شرائط میں سے جان لیا اور بہت سے صوفیہ نے تو خداوند قدوس کی معرفت کو توحید وجود کے معارف میں منحصر سمجھ لیا اور شہود وحدت کو کثرت کئ آئینوں میں انجام کار تصور کرلیا اور بعض کا حال تو آپ سنیں گئ تو رونگتے کھڑے ہوجا ئیں گے،فرماتے ہیں:
‘‘یہاں تک کہ ان کے بعض نے صراحت کی ہے کہ ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰﷺ کمالات نبوت کے حصول کے بعد شہود وحدت در کثرت کے مقام میں تھے آیت کریمہ :انّا أعطیناک الکوثراسی مقام کی طرف اشارہ کرتی ہے اور آیت کریمہ کا ترجمہ اس عبارت سے کرتے ہیں،اور بے شک ہم نے دیا تمہیں شہود وحدت در کثرت،شاید کہ کوثر کے واوکے توسط سےکہ حروف کثر کے درمیان ہےیہ اشارہ سمجھا ہے حاشا وکلا کہ اس قسم کے معارف مقام نبوت کے شایاں ہوں کیونکہ انبیاٗ علیہم الصلوات والتسلیمات خدائے بے چوں جل سلطانہ کی دعوت دیتے ہیں اور جو کچھ چون کے آئینوں میں گنجائش رکھتا ہےوہ بے چونی سے نصیب ہےاور چونی وچندی کے داغ سے داغدار،حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ ان کو انصاف دے شاید کہ انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کو اپنے کمالات کے ترازو میں تولتے ہیں اور ان کے کمالات کو اپنے کمالات کے مماثل جانتے ہیں’’ (تفصیل کے لیے دیکھئے مکتوب مذکور) آپ دیکھ رہے ہیں کہ قدم قدم پر نبوت کی عظمت کا کس قدر اخساس ہے اور دوسروں سے کیسی کیسی چوکیں ہوئی ہیں۔
شہود وحدت در کثرت کے سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ کا اپنا مسلک یہ ہے‘‘فقیر کے نزدیک شہود حق جل وعلا ممکنات کے آئینوں میں کہ جماعت صوفیہ اس کو کمال شمار کرتی ہے اور جمع بین التشبیہ والتنزیہ سمجھتے ہیں وہ شہود حق کا شہود نہیں ہے جل وعلا اور اس میں مشہود علاوہ ان کے تراشیدہ اور خیالی کے نہیں ،جو
کچھ ممکن میں دیکھتے ہیں واجب نہیں ہے تعالیٰ وتقدس اور جو حادچات میں پاتے ہیں قدیم نہیں اور جو کچھ تشبیہ میں ظاہر ہوتا ہے تنزیہ نہیں’’
پھر صوفیہ کی ان باتوں کے سلسلے میں ذرا تاکید آپ دیکھیں،فرماتے ہیں:‘‘زنہار بر ترہات صوفیہ مفتون نہ گردی وغیر حق را جل سلطانہ حق ندانی’’یعنی ہرگز صوفیہ کی باطل باتوں پر فریفتہ نہ ہونا اور حق جل سلطانہ کے غیر کو حق نہ جاننا۔
حضرت مجدد کااصول:
حضرت مجدد قدس سره صوفيه كے سلسلے میں ایک بہتریں اصول بیان فرماتے ہیں،جس میں صوفیہ کرام کی عظمت اور تقدس کا بھی پورا لحاظ ہے اور ان لوگوں کے لیے تنبیہ بھی جو ان احوال کے حامل نہیں بلکہ ظن وتخمیں کے طور پر تقلید کرتے ہیں،فرماتے ہیں:‘‘اوریہ جماعت غلبۂ حال کی وجہ سے اگر معذور ہیں اور مجتہد مخطی کی طرح مواخذہ سے مرفوع لیکن ان کے مقلدوں کے ساتھ کیا معاملہ کریں گے،کاش کہ مجتہد مخطی کے مقلدوں کی طرح ہوں اور اگر ایسا نہ کریں کام مشکل ہے،قیاس اور اجتہاد ایک اصل شرعی ہے شرعی اصولون سے کہ ہم ان کی تقلید کے مامور ہیں بخلاف کشف والہام کے کہ ہمیں ان کی تقلید کا حکم نہیں فرمایا ہے،الہام غیریہ حجت نہیں ہے جبکہ اجتہاد مقلد پر حجت ہے،پس علماے مجتہدین کی تقلید کرنا چاہئے اور اصول دین کو ان کی آرا ء کے موافق ڈھونڈنا چاہئے اور علماء مجتہدین کی آراء کے مطابق صوفیہ جو کچھ کہیں اور کریں اس کی تقلید نہیں کرنا چاہئے،اور حسن ظن کے ساتھ ان کے طعن سے لب بند رکھنا چاہئے اور ان کی شطحیات سے شمار کرنا چاہئے اور ظاہر سے مصروف رکھنا چاہئے’’
کتنا انصاف پر مبنی فیصلہ ہے اور کس قدر اہم اصول ہے ،شطحیات کے سلسلے میں معلوم ہوا کہ جو واقعی صوفی بزرگ ہیں ان سے شریعت سے متصادم کوئی قول وفعل
سرزد ہو تو اسے انھیں کے حوالے رکھیں،اور جو ان منزلوں پر نہیں انھیں یہ نہیں چاہئے کہ وہ ان کی اس وجہ سے تقکید کریں کہ فلاں بزرگ کا قول وفعل ہے۔
تقلید صرف انھیں بزرگوں کی ہوگی جنھوں نے شرعی اصولوں سے احکام مستنبط کیے ہیں،ہاں ہمیں بزرگوں کی خطا پر مبنی افعال واقوال کی وجہ سے ان بزرگوں سے عقیدت ومحبت کا رشتہ ختم نہیں کرنا چاہئے اور ان کے ادب واحترام میں کوئی کوتاہی نہیں کرنا چاہئے۔
آپ اس سے زیادہ اور کیا معتدل اور منصفانہ فیصلہ تلاش کر سکتے ہیں،اس قسم کی باتیں عام طور پر ان مکتوبا ت میں بیان فرمائی ہیں جن میں صوفیہ کرام کے اقوال وافعال پر گرفت کی ہے،حقیقت یہ ہے کہ صوفیہ کرام سے جو کچھ صادر ہوا وہ غلبۂ حال کی وجہ سے اگر معذور نہ ہوتے تو نہ معلوم کیا کیا احکام شرعی ان پر لگتے مگر وہ معذور تھے ان کی منزل ہی ایسی تھی ،افسوس تو ان لوگوں پر ہے جنھوں نے محض تقلید کے طور پر ان بزرگوں کے اقوال وافعال کو سند بنایا اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی راہیں ہموار کیں،اور شریعت کے خلاف عقائد ونظریات کا دہانہ کھول دیا۔
حضرت مجدد قدس سرہ نے جو اس قدر تفصیل سے جگہ جگہ گرفت کی ہے اس کی خاص وجہ یہی مقلدان صوفیہ ہیں آپ شریعت کو ان کی تپش سے بچانا چاہتے تھے اور انھیں وہ صاف ستھرا راستہ عطا فرمارہے تھے جو عین آقائے کائنات ﷺ کے عین طریقے اور سنت کے عین مطابق تھا،اس میں نبوت اور شریعت کی کس قدر عظمت ملحوظ تھی یہ ہر ذی ہوش جانتا ہے،بزرگوں کے یہی وہ افعال واقوال تھے جس کی وجہ سے علماء کا ایک طبقہ ان کی عقیدت وبزرگی سے ہاتھ دھوبیٹھا۔
دوسرے وہ کم علم صوفی غیر مغلوب الحال تھے جنھوں نے ہر بات پرآمنا وصدقنا کہہ دیا،حضرت مجدد قدس سرہ افراچ وتفریط سے ہٹ کر ہر موڑ پر قائل کی عظمت
وتقدس کو برقرار رکھا اور اقوال کی قباحتوں سے برابر آگاہ کیا تاکہ دوسرے دھوکہ نہ کھائیں،صوفیہ کرام کی ان باتوں پر تقلید کے لیے کس قدر ضد کی جاتی تھی ذرا سنیے،فرماتے ہیں:
‘‘عجب است کہ بسیارے از صوفیہ عوام را بہ ایمان امور کشفیہ والہامیہ خود ہمچو وحدت وجود مثلا دلالت می کنند وترغیب بتقلید آنہاں می نمایند وبر طور عدم آں ایمان تہدیدات می کنند،کاش دلالت بر ودم انکار ایں امور می نمودند وبر منکران تہدیدات می فرمودند چہ ایمان دیگر ست وعدم انکار دیگر’’
ترجمہ:تعجب ہے کہ بہت سے صوفیہ عوام کو اپنے کشفی اور الہامی امور جیسے وحدت وجود مثال کے طور پر ایمان لانے کی رہنمائی کرتے ہیں اور ان کی تقلید کی ترغیب دلاتے ہیں اور ان پر ایمان نہ ہونے سے تہدیدات(دھمکیاں)کرتے ہیں، کاش!ان امور کے عدم انکار پر دلالت کرتے اور منکروں کو دھمکیاں دیتے کیونکہ ایمان دیگر ہے اور عدم انکار دیگر۔
آپ قدس سر فرماتے ہیں:‘‘ان امور پر ایمان لازم نہیں ہے لیکن ان کے انکار سے محافظت کرنی چاہئے،کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان امور کا انکار ان امور والوں کے انکار تک کھینچ لے جائے اور اولیاء حق جل وعلا کے ساتھ بغض وعداوت پیدا کرے علمائے اہل حق کی آراء کے موافق کرنا چاہئے اور صوفیہ کے امور کشفیہ حسن ظن کے ساتھ سکوت کرنا چاہئے اور لا ونعم (نہیں اور ہاں)کے ساتھ جرأت نہیں کرنا چاہئے
ہذا ہوالحق المتوسط بین الافراط والتفریط واللہ سبحانہ اعلم للصواب’’
آپ دیکھ رہے ہیں کیسی بصیرت ہے،کتنا خیال ہے اور کیسی تنبیہ ہے عوام کے لیے بھی اور خواس کے لیے بھی،تجربہ شاہد ہے کہ اقوال کی گرفت ارباب اقوال کی توہین وتنقیص تک پہنچا دیتی ہے،اگرچہ وہ ارباب عظمت ورفعت کتنی ہی بلند منزل پر
فائز کیوں نہ ہوں، کتنی پر خطر وادی ہے اور کتنا سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے۔
کلام ومکالمہ:
بعض مشائخ کبار نے اللہ تعالیٰ جل شانہ کے ساتھ کلام ومکالمہ ثابت کیا تھا ان کی جو مراد تھی وہ آپ بعد میں پڑھیں گے لیکن نا اہلوں نے اسے سند بنا کر کیا کیا ملاحظہ ہو: ‘‘وایضا اچبات کلام ومکالمہ بہ آنحضرت جل شانہ می نمایند ومی گویند کہ خدائے تعالیٰ چنیں فرمودہ است وچناں گاہے در حق دشمنان خود ازاں حضرت عز شانہ ادعیہ ہا نقل می کنند وگاہے داستان کود را بشارتہا می دہند، بعضے از ایشاں گویند کہ از بقیہ ثلث شب باربع شب تا نماز صبح باحق سبحانہ وتعالیٰ مکالمہ داشتم واز ہر باب سخناں پرسیدم وجواب یافتم
لقد استکبروا فی انفسہم وعتو عتوا کبیرا’’
ترجمہ: نیز اللہ جل شانہ کے ساتھ کلام ومکالمہ ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے ایسا فرمایا ہے اور کبھی اپنے دشمنوں کے حق میں اللہ تعالیٰ سے سزائیں نقل کرتے ہیں اور کبھی اپنے دوستوں کو خوشخبریاں دیتے ہیں،ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ تہائی رات یا چوتھائی رات حق سبحانہ وتعالیٰ کے ساےھ صبح کی نماز تک ہم کلامی رکھی اور ہر قسم کی باتیں پوچھیں اور جواب پایا۔
پھر اتنے ہی پر اکتفا نہیں بلکہ فرماتے ہیں:‘‘ اس جماعت کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کلام جس کو یہ سنتے ہیں اس کی نسبت حضرت حق سبحانہ کے ساتھ ایسی ہے جانتے ہیں جیسے کلام کی نسبت متکلم کے ساتھ اور یہ عین الحاد ہے حاشا وکلا کہ حضرت حق سبحانہ سے ایسا کلام صادر ہو بظریق تکلم کہ جس میں ترتیب ہو اور تقدیم وتاخیر ہو کیونکہ وہ حدوث کی علامت ہے،مشائخ کبار کی باتوں نے انھیں غلطی میں ڈال دیا ہے کیونکہ مشائخ نے بھی حضرت حق سبحانہ کے ساتھ کلام ومکالمہ ثابت کیا ہے،لیکن جاننا چاہئے کہ مشائخ اس کلام کی نسبت حضرت حق سبحانہ کے ساتھ نسبت کلام بمتکلم کی طرح نہیں
جانتے ہیں بلکہ خالق کے ساتھ مخلوق کی نسبت کے مثل یقین کرتے ہیں، اس جگہ کوئی محظور نہیں’’ کلام سے متعلق نہایت اہم گفتگو اس مقام پر اس مکتوب میں ملاحظہ فرمائیں۔
شریعت،طریقت اور حقیقت:
شریعت مطہرہ جسے سرور کونینﷺ نے اس امت کو عطا فرمائی اور سارے کمالات اور دنیوی اور خروی فلاح ونجات کا جسے ضامن قرار دیا،دنیوی حیات مبارکہ کے تمام اوقات میں جس کی ترویج واشاعت کی اس شریعت کے بارے میں بھی بعض بزرگوں سے ایسی باتیں سرزد ہوگئیں یا کچھ لوگ کشف میں بھی ایسا دھوکہ کھا بیٹھے جس کی وجہ سے صوفیہ خام کی نظر سے اس کی اہمیت ہی ختم ہوگئی بلکہ اب تو اسے مولویوں کا حصہ سمجھ لیا ہے،طریقت وحقیقت شریعت سے وراء چیزیں تصور کر لی گئیں،اس سلسلے کی تھوڑی سی نہایت اہم بحث سپرد قلم کرتے ہیں۔
(۱)بعض بزرگوں کی عبارت میں یہ الفاظ واقع ہوگئے ہیں کہ شریعت پوست حقیقت است وحقیقت مغز شریعت یعنی شریعت حقیقت کا چھلکا اور حقیقت شریعت کا مغز ہے، حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘ یہ عبارت ہرچند اس کلام کے متکلم کی بے استقامتی کی خبر دیتی ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ اس کی مراد یہ ہو کہ مجمل نسبت بر مفصل پوست کا حکم رکھتی ہے مغز کی طرف نسبت کرتے ہوئے اور استدلال کشف کے پہلو میں ایسا ہی ہے جیسے قشر ہے مغز کی طرف نسبت کرتے ہوئے ،لیکن اکانر مستقیم الاحوالایسی وہم میں ڈالنے والی عبارتیں جائز نہیں قرار دیتے ہیں’’
(۲)اور کچھ صوفیہ کا ھال آپ سنیں گے تو سر پیٹیں گے حضرت مجدد قدس سرہ اثناء سلوک پیش آنے والی ایک کشفی خطا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘جمعے از ناقصان ایں راہ بہ الحاد وزندقہ رسیدہ اند و سر از ربقۂ شریعت غراء بر آوردہ فضلوا
ترجمہ:ناقصوں کا ایک گروہ اس راہ سے الحاد وزندقہ تک پہنچا ہے اور سر روشن شریعت کے حلقہ سے باہر کھینچا ہے تو گمراہ ہوئے اور دوسروں کو گمراہ کیا۔
بعد کے مقلدین نے اپنے اوپر شریعت کو بہت بڑا بوجھ تصور کرلیا اور اپنے ااپ کو دائرۂ شریعت سے خارج کرنےکے لیے طرح طرح کے حیلے کیے،آپ ان خامکاروں کی باتیں سنیں اور پڑھیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دین کے ساتھ ان روحانیت کا دم بھرنے والے ڈھونگیوں نے کیا کچھ نہیں کیا،مکتوب سوم جلد اول میں توحید شہودی ووجودی کے علوم ومعارف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
علوم غامضہ کی تحریر کے اسباب:
‘‘سبب تحریر ایں علوم غامضہ آں باشد کہ اکثر ابنائے ایں وقت بعض بتقلید وبعضےبمجرد علم وبعض دیگر بعلم ممتزج بذوق ولو فی الجملہ وبعض بہ الحاد وزندقہ دست بدامن ایں توحید وجودی زدہ اند وہمہ را از حق می دانند بلکہ حق دانندوگردنہائے خود را از ربقۂ تکلیف شرعی بہ ایں حیلہ می کشایند ومداہنت بہ احکام شرعیہ می نمایند وبایں معاملہ خوش وقت وخورسند اند،واتیان امور شرعیہ را اگر اعتراف دارند طفیلی می دانند مقصود اصلی وراء شریعت خیال می کنند’’
ترجمہ: اس وقت کے اکچر لوگ بعض تقلید کے طور پر اور بعض محض علم اور بعض دیگر ذوق سے مخلوط علم اگرچہ فی الجملہ اور بعض الحاد وزندقہ کی وجہ سے اس توحید وجودی کے دامن پر ہاتھ مارا ہے اور سب کو حق سے جانتے ہیں بلکہ حق جانتے ہیں اور اپنی گردنوں کو شرعی تکلیف کی قید سے اس حیلہ کے ذریعہ کھینچتے ہیں اور احکام شرعیہ میں مداہنت کرتے ہیں اور اس معاملہ سے خوش وقت اور خورسند ہیں شرعی احکام کا اگر اعتراف کرتے ہیں تو طفیلی جانتے ہیں مقصود اصلی شریعت کے علاوہ خیال کرتے
آپ بہ آسانی پتہ لگا سکتے ہیں کہ ان خام سوفیوں نے اس دنیا میں کیا کیا کیا اور شریعت کو کس طرح بے اعتبار ثابت کرنے کی کوشش کی اور شریعت اور اہل شریعت کو مخلوق کی نظر میں ذلیل ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ،ستم یہ کہ یہ بزرگوں کے لبادہ میں تھے ،گویا ان کی پکار یہ تھی کہ اگر وسل خدا چاہتے ہو تو شریعت سے نہیں بلکہ ہماری جیسی حرکتوں سے ملے گا ۔
آج جو صوفیہ کہلاتے ہیں ان کا حال تو اتنا بد تر ہوچکا ہے کہ بیان سے باہر ہے بس صرف قوالیوں پر جھومنا ،غلط سلط بولنا ،نماز وغیرہ سے کوسوں دور رہنا اور جوان لڑکیوں سے ہاتھ پیر وغیرہ دبوانا وغیرہ انھیں چیزوں کا نام صوفیت رہ گیا ہے،اب آپ چند تاکیدات اور اس سلسلے میں حضرت مدد قدس سرہ کے ارشادات سن لیں: