مواد پر جائیں

باب ۲۱ از ۵۷صفحات ۳۰۱–۳۱۲

انکار صفات کی وجہ

جن صوفیہ کرام رحمۃ اللہ علیہم سے صفات کا انکار ہوا ان سے در حقیقت کشفی خطا واقع ہوئی،مکتوب ۲۸۶ جلد اول میں فرماتے ہیں:‘‘اس طائفہ سے بعض کی مخالفتوں سے وحدت وجود کا حکم ہے اور احاطہ وقرب ذاتی کا جیسا کہ اوپر گزرچکا اور اس طرح ان کا صفات سبعہ یا ثمانیہ کا انکار کرنا ہے،خارج میں ذات عز اسمہ پر وجود زائد کے ساتھ کیونکہ علماے اہل سنت صفات کو خارج میں موجود جانتے ہیں وجود زائد کے ساتھ،وجود ذات تعالیٰ پر ان کا نکار اس راہ سے پیدا ہوا ہے کہ کہ اس وقت میں ان کا مشہود ان صفات کے آئینے میں ذات تعالیٰ وتقدس ہے اور معلوم ہے کہ آئینہ، دیکھنے والے کی نظر سے پوشیدہ ہو جاتا ہے اور اس پوشیدگی کے واسطہ سے ان کے عدم وجود فی الخارج کا حکم کردیا اور گمان کر لیا کہ اگر صفات موجود ہوتیں تو مشہود ہوتیں بحیث لا شہودَ لا وجودَ اور علما نے چونکہ وجود صفات کا حکم لگایا ہے اس وجہ سے ان پر طعنے کیے ہیں بلکہ کفر وبت پرستی کا حکم لگایا ہے،اعاذنا اللہ سبحانہ عن الجرأ ۃ فی الطعن۔’’

آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘اگر ان کی اس مقام سے ترقی واقع ہوتی اور ان کا شہود اس پردہ سے نکل آتا اور آئینہ داری کا حکم ختم ہو جاتا تو صفات کو جدا دیکھتے اور ان کے انکار کا حکم نہ لگاتے اور ان کا کام اکابر علما کے طعن تک نہ کھنچتا۔’’

۶۔مکتوب ۱۱۴، جلد سوم میں فرماتے ہیں: ‘‘صفات حقیقیہ کہ حضرت ذات تعالیٰ و تقدس کے مرتبہ میں ہم ثابت کرتے ہیں، اس اثبات سے کسی قسم کا کوئی تعین اس ذات جل سلطانہ اور تنزل پیدا نہیں ہوتا ہے اور مرتبۂ اولیٰ کے علاوہ کوئی دوسرا مرتبہ ثابت نہیں ہوتا ہے اور ان کے وجوہ انعکاس میں کسی وجہ کر کوئی صورت نہیں بندھتی اور جب تک مرتبہ ثانی متحقق نہ ہوگا اور وجوہ میں کسی وجہ کر انعکاس حاصل نہ ہوگا تعین و تنزل کی صورت پیدا نہیں ہوتی ہے اور حضرت ذات اور اس سبحانہ

کی صفات حقیقیہ گویا ایک مرتبہ میں ثابت ہیں اور زیادتی کے باوجود گویا عین ذات تعالیٰ ہیں۔

اور ہر چند یہ صفات مقدسہ حضرت ذات سبحانہ کے کمالات مندرجہ کی تفصیل ہیں، لیکن ان کا حکم باقی اجمال و تفصیل سے علاحدہ ہے کیوں کہ اجمال اس مرتبہ میں ہے کہ تفصیل اس مرتبہ میں ثابت نہیں ہے، بلکہ مرتبۂ تفصیل مرتبۂ اجمال کے سوا اور اس حضرت جل سلطانہ میں یہ معنی مقصود ہیں اور تفصیل عین مرتبہ اجمال میں ہے۔ یہ معرفت طور عقل کے ورا ہے کہ نظر کشفی جس کے ساتھ ہدایت یافتہ ہوتی ہے اور علم واجبی جل سلطانہ اس مرتبہ میں کہ ان صفات سے متعلق ہوا ہے اپنی ذات کے علم اور اپنے کمالات ذاتیہ مندرجہ کے علم کی طرح علم حضوری ہے اور یہ زیادتی کے باوجود گویا عین عالم ہیں اور ان کا حضور نفس عالم کے حضور کی طرح ہے۔

حضرت ذات تعالیٰ کے ساتھ ان کے کمال اتحاد کا اثر ہے کہ صوفیہ کے جم غفیر نے صفات کو عین ذات تعالیٰ کہا ہے اور زیادتی صفات کا انکار کیا ہے اور لا ھو کو منع کرکے لا غیرہ کو ثابت کیا ہے اور کمال یہ ہے کہ لا ھو کی تصدیق کے باوجود لاغیرہ کو ثابت کیا جائے اور زیادتی کے باوجود غیریت کا سبب کیا جائے یہ کمال علوم انبیا‌علیہم السلام کے مذاق کے موافق اور فرقہ ناجیہ اہل سنت و جماعت کے آراے صائبہ کے مطابق ہے۔

۷۔ جاننا چاہیے کہ انکشاف ذاتی اس مرتبہ میں کہ حضرت ذات تعالیٰ اور اس کی صفات مقدسہ سے تعلق رکھتا ہے، علم حضوری کے قبیل سے ہے کیوں کہ صفات مقدسہ کے لیے بھی حضرت ذات تعالیٰ و تقدس کا حکم ہے جیسا کہ گزر گیا اور وہ جو میں نے کہا کہ علم حضوری کے قبیل سے ہے کیوں کہ علم حضوری نفس عالم کے حضور کا نام ہے اور صفات چوں کہ نفس عالم نہیں ہیں تو چاہیے کہ ان کا علم، علم حضوری نہ ہو، لیکن

چوں کہ ان سے کوئی صورت منتزع نہیں ہوتی ہے اور ان کا حضور نفس ثابت ہے (اس لیے) علم حضوری کے قبیل سے ہے۔

اور وہ جو انکشاف کہ صفت علم سے تعلق رکھتا ہے علم حصولی کے قبیل سے ہے اور وہ جو میں نے کہا کہ علم حصولی کے قبیل سے ہے کیوں کہ علم حصولی علم میں معلوم سے صورت حاصلہ کا نام ہے اور اس فقیر (حضرت مجدد قدس سرہ) کے نزدیک محقق اور مکشوف ہوا ہے کہ علم واجبی جل شانہ میں کسی معلوم کی صورت نے نقش نہیں پکڑا ہے اور اس تعالیٰ کا علم کسی صورت معلومہ کا متحمل نہیں تو حصول صورت کا ذات عالم تعالیٰ میں کیسے ہوگا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم کا تعلق ہے معلوم سے اور ایک انکشاف ہے اس سے بغیر اس کے کہ معلوم کی کوئی صورت علم میں ثابت ہو اور خانۂ علم جمیع نقوش اور علمی صورتوں سے خالی اور مصفا ہے

و مع ذالک لا یعنی بہ و عن علمہ مثقال ذرّۃ فی الأرض ولا فی السماء

اس قدر مکشوف ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم جب معلوم سے تعلق پروتا ہے تو اس تعلق سے معلوم سے ایک صورت منتزع ہوتی ہے اور اس علم سے قیام پیدا کرتی ہے بغیر اس کے کہ کوئی حلول و حصول علم میں پیدا کرے اور چوں کہ علم کے تعلق سے معلوم سے کوئی صورت منتزع ہوتی ہے اور علم سے قیام، بلکہ عالم سے پیدا کرتا ہے (لہٰذا) درست آیا کہ علم حصولی کے قبیل سے ہے اور جب صفت علم اللہ تعالیٰ کے کمالات ذاتیہ مندرجہ سےتعلق پیدا کرتی ہے ناچار ان کمالات سے اس تعلق کی وجہ سے علمی صورتیں منتزع ہوں گی اور علم کے ساتھ قیام پیدا کریں گی اگرچہ ان کا حلول و حصول علم میں ثابت نہ ہوگا۔

۸۔اچھی طرح سنو! صورت معلوم نفس علم کا نام ہے، ان کا حصول و حلول کس علم میں کس معنی کر ہوگا، متاخرین صوفیہ نے کہا ہے کہ صور علمیہ جو کہ اعیان ثابتہ سے

عبارت ہیں اور ممکنات کے حقائق ہیں ان کا ثبوت خانہ علم میں ہے اور بس، اور خارج میں بوئے علم وجود ان تک نہیں پہنچی ہے، لیکن وہ صور علمیہ چوں کہ ظاہر وجود کے آئینے میں علم کہ اس کے علاوہ خارج میں موجود نہیں ہے (اس لیے) وہم ہوتا ہے کہ وہ صورتیں خارج میں موجود ہیں اس صورت کی طرح کہ جب آئینے میں منعکس ہوتی ہے تو متوہم ہوتا کہ وہ صورت آئینہ میں ہے

فیا لیت شعری ما مراد ھذہ الکبراء و ما معنی حصول الصور فی العلم و ما الصور فی الشاھد إلا نفس العلم و فی الغائب علمہ تعالیٰ أزلی قدیم بسیط وحدانی تعلق بمعلومات متکثرۃ حصلت من تعلقہ صور متعددۃ متمیزۃ لتلک المعلومات من غیر أن یثبت حصولھا و حلولھا فی ذلک العلم الأزلی کیف تحل الصور المتعددۃ فیہ و ھو یستلزم التبعّض و التجزّی و الإنقسام للمحلو ۔۔۔۔۔ کشیئ فیہ غیر شیئ و ھو یوجب الترکیب المنانی للقدم ولاأزلیۃ

۹۔جاننا چاہیے کہ وہ صورتیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے کمالات ذاتیہ مندرجہ کے ساتھ تعلق صفت علم سے ثابت ہوئی ہیں نظر کشفی سے واضح ہوتا ہے کہ ان (صور) کو حیات و علم ثابت ہے اور جو انکشاف کہ علم حضوری کے مناسب ہے ان کو ان کمالات کی بنسبت جو ان میں داخل ہیں، ثابت ہے۔

مکتوب ۱۱۳، ج: ۳ میں فرماتے ہیں: ‘‘واجب الوجود جل سلطانہ کی صفات کہ اس تعالیٰ و تقدس کی ذات کے ساتھ قیام رکھتی ہیں جیسے حیات، قدرت، علم وغیرہ کمال تقدس و تنزہ کی وجہ سے ممکن کے صفات سے کوئی نسبت نہیں رکھتی ہیں کیوں کہ صفات ممکن اعراض ہیں کہ جواہر سے قیام رکھتی ہیں اور صفات واجبی جل سلطانہ مقوم جواہر (یعنی جس سے جواہر کی تحصیل ہوتی ہے) کہ جواہر کا قیام ان سے ہے نیز ممکن کی صفات میت کا حکم رکھتی ہیں اور جماد محض ہیں اور حیات و علم وغیرہ سے بے

نصیب، اسی قدر ہے کہ ممکن ان کے توسط سے حی، عالم اور قادر ہوا ہے، لیکن یہ بذات حی، عالم اور قادر نہیں ہیں بخلاف واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی صفات مقدسہ کہ اس حقیر کی نظر کشفی میں یہ بھی (صفات واجبہ) بھی اپنے موصوف سبحانہ کی طرح حی و عالم ہیں اور اپنے کمالات مندرجہ کی تفصیل سے واقف و ۔۔۔۔۔۔ لیکن ان کا علم، علم حضوری کے قبیل سے مفہوم ہوتا ہے نہ علم حصولی کے عالم سے اور اسی طرح ہر صفت و شان کہ مرتبہ وجوب تعالیٰ و تقدس میں ثابت کی جاتی ہے سب ثبوت حیات و علم کے ساتھ مکشوف ہوتی ہیں اور نور صرف نظر آتی ہیں گویا وہ نور سب کا سب حیات اور سب علم و انکشاف اور یہ دو صفت کمال اس جگہ ظاہر و ہویدا ہیں بخلاف دوسری صفات قدرت و ارادہ وغیرہ کہ اس وضاحت کے ساتھ اس جگہ مکشوف نہیں ہوتی ہیں ہاں جو کچھ درکار ہےاس محل میں (وہ) کمالیت کا انکشاف ہے کہ صفت علم سے تعلق رکھتا ہے اور جب علم حیات کے تابع ہے تو صفت حیات سے بھی چارہ نہیں اور قدرت و ارادہ مقدور اور مراد سے وابستہ ہے اور سمع و بصر سے علم پر اکتفا کیا جا سکتا ہے اور کلام سے مقصود فائدہ دینا ہے اور تکوین مکونات (مخلوقات) کے حصول کے لیے ہے اس کے باوجود ہر صفت جب جامع ہے تو لامحالہ یہ صفات کمال اس میں ثابت ہیں ظاہر ہو یا ظاہر نہ ہو۔

۱۰۔چوں کہ اس بیان سےلازم آتا تھا کہ معنی کا قیام معنی کے ساتھ ہو کیوں کہ جب صفات حی و عالم ہوں گی تو صفات سے حیات اور علم قائم ہوگا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ‘‘کہ دونوں ذات واجب تعالیٰ کے ساتھ قائم ہیں۔ ایک باصالت، دوم بہ تبعیت جیسا کہ علما نے بقاے اعراض میں کہا ہے کہ عرض و بقا دونوں محل عرض کے ساتھ قائم ہیں۔ اس بحث کی تحقیق یہ ہے کہ صفات واجبی جل سلطانہ کا قیام اس تعالیٰ کی ذات اقدس سے ایسا نہیں جیسا کہ عرض کا جوہر سے ہوتا ہے، ہرگز

نہیں، بلکہ قیام مصنوع اور صانع کے مشابہ ہے کہ صانع مصنوع کا قیوم ہے، ہر چند اس جگہ اتصاف ہے اور اس جگہ اتصاف نہیں’’

نہیں بلکہ وہ قیام ایسا ہےجیسے شے کا قیام اپنی ذات سے، اس قدر فرق ہے کہ اس جگہ (صفات میں) زیادتی ثابت ہے اور اس جگہ (قیام شے بذات خود) میں زیادتی متصور نہیں ہے، لیکن اس زیادتی نے حد غیریت تک نہیں پہنچایا ہےکہ لاغیرہ فرمایا ہے۔ پس دونوں جگہ اعتباری تغایر ثابت ہوا اور قیام متحقق ہو گیا اور اس جگہ اتصاف کا حصول ایسا ہے جیسے انسان کا اتصاف انسانیت سے اور جوہر کا اتصاف ہے جوہریت سے، بلکہ میں کہتا ہوں کہ اس جگہ میں کہ ذات اقدس اور صفات حقیقیہ مقدسہ ہیں کہ حضرت ذات سے قائم ہیں کچھ صفت و اتصاف کا ملاحظہ اس جگہ ثابت نہیں ہے نہ حضرت ذات میں موصوفیت کا ملاحظہ ہے اور نہ صفات مقدسہ میں صفاتیت ملحوظ۔ جب وجد و وجوب وجود کو اس بارگاہ میں گنجائش نہ ہوئی تو صفت و اتصاف کی کیا مجال ہوگہ کہ وجود کی فرع میں اس جگہ نور کے سوا کسی چیز کی گنجائش نہیں ہے اور وہ بھی بے مثل اگر حیات ہے تو نور ہے اور اگر علم ہے تو نور ہے اور اسی پر قیاس۔

اس نور اقدس بے چون کا ظہور اگر مرتبہ ثانی میں تغیر و انتقال کے بغیر ثابت کیا جائے تو مظہریت کے قابل وجود کے سوا کوئی دوسری چیز نہ ہوگی۔ لہٰذا تعین اول اس حقیر کے نزدیک تعین وجود آیا ہے اور باقی تعینات اس تعین کے تابع ہیں۔ ہر چند کہ لفظ تعین کا اطلاق اس حقیر کے علوم کے مقتضیٰ کے مطابق گنجائش نہیں رکھتا ہے، لیکن چوں کہ قوم میں یہ لفظ متعارف ہو گیا ہے تو ہم نے بھی اطلاق میں سستی سے کام لیا۔

جب بیان سابق سے واضح ہو گیا کہ اس اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس اور اس سبحانہ کی صفات مقدسہ ایک مرتبہ میں ثابت ہیں اور صفات کی زیادتی کے ثبوت سے کسی قسم کا

کا تعین و تنزل اس حضرت جل سلطانہ میں پیدا نہیں ہوا ہے تو جان لو کہ اس مرتبہ مقدسہ کا کہ حضرت ذات تعالیٰ مع صفات ہے مرتبہ ثانیہ میں ظہور اول تغیر و تبدل کے شائبہ کے بغیر ہے اور وہ اس حقیر کے نزدیک از روے کشف و شہود لازمی طور پر حضرت وجود ہے کہ خیر محض اور خالص کمال ہے اور جمیع کمالات کے ظہور کی قابلیت رکھتا ہے بطریق ظلیت اور وجود کے غیر کو یہ دولت میسر نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر علم اس مرتبہ مقدسہ سے متعلق ہوگا اور اس کے کمالات اخذ کرےگا جیسا کہ گزر گیا تو لامحالہ پہلی چیز کہ اس حضرت جل شانہ سے ماخوذ ہوگی حضرت وجود ہوگا اور دیگر کمالات اس کے تابع ہوں گے۔

یہی وہ جگہ ہے کہ صوفیہ وغیرہم کے جم غفیر نے وجود کو عین ذات سبحانہ تصور کر لیا ہے اور تعین وجود کو لا تعین سمجھ لیا اور اس سابق تر تعین کا ثبوت علم و خارج کے ماورا ہے جیسا کہ اس معنی کی تحقیق کثیر جگہوں میں بیان ہو چکی ہے اور یہ حضرت وجود بطریق ظلیت اجمالاً جمیع کمالات ذاتیہ و صفاتیہ کا جامع ہے اور اس مرتبہ جامع اجمالیہ کی تفصیل ہے کہ کہا جا سکتا ہے تعین ثانی ہے، پہلی چیز کہ مرتبہ تفصیل میں جس نے ثبوت پیدا کیا صفۃ الحیاۃ ہے کہ جمیع صفات کی اصل ہے اور یہ صفت حیات گویا ظل ہےاس صفت حیات کا کہ حضرت ذات تعالیٰ کے مرتبہ میں ثابت ہے اور لاھو اور لا غیرہ اس کے حق میں ثابت اور یہ ظل چوں کہ اس مرتبہ میں پیدا ہوا ہے کہ حضرت ذات کے مرتبہ کے ورا ہے، لا محالہ لا غیرہ اس کے حق میں ثابت نہ ہوگا اور وہ داغ غیریت سے داغ دار ہوگا اور صفت الحیاۃ کے بعد صفت العلم اسی طرح جو بطریق ظلیت ثابت ہے جو صفت الحیات میں گزر گیا اور یہ صفت جمیع صفات کی جامع ہے اور صفت القدرۃ اور الارادۃ وغیرہما استقلال کے باوجود گویا اس کے اجزا ہیں کیوں کہ اس صفت کو حضرت ذات تعالیٰ و تقدس سے ایک قسم کا اتحاد ہے کہ اس کے غیر کو نہیں ہے کیوں

کہ علم حضوری کی صورت میں علم و عالم و معلوم کا اتحاد ہے اور قدرت ہرگز قادر و مقدور سے متحد نہیں ہوتی ہے اور الارادۃ میں کہ احد المقدورین کو ترجیح دینے کا نام ہے، بھی پر اتحاد ثابت نہیں ہے۔ علیٰ ھذا القیاس۔

اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا مسئلہ نہایت اہم اور دقیق ہے، ہماری فلاح و نجات اس کی صحیح معرفت ہی پر موقوف ہے۔ ان حقائق تک عقل کی رسائی نہیں، جنھوں نے عقل کے ذریعہ جاننا چاہا تو ٹھوکروں کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ بڑے بڑے چوک گئے اور علما کی ابحاث کا ایک طویل سلسلہ وجود میں آگیا۔ اگر میں حکما و فلاسفہ و متکلمین و علما کے اقوال ذات وصفات سے متعلق عرض کرتا اور اس کے اختلافات و دلائل ذکر کرتا تو بات بہت طویل ہو جاتی۔ مقصد میرا حضرت مجدد قدس سرہ کی رسائی و پہنچ بیان کرنا ہے کہ پروردگار عالم نے اپنا فضل و عرفان کس قدر عطا فرمایا تھا اور واقعی کس دور میں آپ کا ظہور ہوا ہے، ذات و صفات تعالیٰ و تقدس میں جس قدر لوگوں کو اشتباہات ہو رہے تھےاس دور میں ایسے ہی بالغ نظر مجدد کی ضرورت تھی جس نے ان حقائق کو جلوہ گر کر کے لوگوں کو اطمینان و انشراح کا سامان مہیا کر دیاوہیں یہ بتانا ہے کہ یہ آپ کا بڑا احسان ہے اور پروردگار عالم جل جلالہ کا فضل عظیم ہے کہ اس نے ایسے بھیانک دور میں ہم ناقصوں کی رہنمائی کے لیے ایسا صاحب کشف و بصیرت مجدد عطا فرمایا جس نے لوگوں کو صحیح معرفت کی شاہراہ دے دی اور ہم کو لاطائل طویل بحثوں میں الجھنے سے بچا لیا اور شکوک و شبہات کے دلدل سے نکال کر ایمان و ایقان کی صحیح وادی عطا فرما دی۔ حقیقت یہ ہے کہ الٰہیات و نبوات کا وہ میدان ہے جہاں نہ صرف علم کام آتا ہے نہ فکر، بلکہ علم و فکر کے ساتھ ساتھ باطنی بلندپروازی اور بصیرت کی اشد ضرورت ہے۔’’

یہ چند بحثیں میں نےسپرد قلم کر دیں اگرچہ عوام کو ان سے کوئی خاص حصہ

حاصل نہ ہوگا مگر جو لوگ مناطقہ و فلاسفہ اور بعض متکلمین و صوفیہ کی باتوں اور ان کے طول طویل کلام و کشف میں الجھ کر منزل سے بھٹک سکتے ہیں ان کے لیے ان میں سامان اطمینان و ایمان ضرور ہے۔ اگر آپ مزید حقائق و معارف اور دقائق دیکھنا چاہیں تو ان مکتوبات کو دیکھیے جو ذات و صفات وغیرہ اور سلسلہ نقشبندیہ بطریقہ مجددیہ کے بیان میں لکھے گئے ہیں اور وہ بہت ہیں۔

حقائق انبیاے کرام ‌علیہم السلام( )

۔حقیقت سے مراد وہ اسم الٰہی ہے جو اس شخص کا رب ہے۔

گزشتہ تقریر ذہن میں رکھیے، حضرت مجدد قدس سرہ اس کے بعد فرماتے ہیں: ‘‘اس فقیر کے نزدیک حضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کا مبدأ تعین بالاصالۃ تعین اول ہے کہ تعین وجودی ہے اور اس تعین (وجودی) کا مرکز کہ اس کے اشرف اجزا سے ہے بالاصالۃ حضرت خاتم الرسل علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کا مبدأ تعین ہے۔ چناں چہ ایک مکتوب میں اس بحث کی تحقیق ذکر پا چکی ہے اور چوں کہ حضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کی ولایت، ولایت اسرافیلی ہے علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام تو لامحالہ حضرت اسرافیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کا مبدأ تعین بھی یہی تعین وجودی ہوگا اور ہر پیغمبر اور رسول کا بالاصالۃ مبدأ تعین اس تعین اول وجودی کے حصول میں سے ایک حصہ ہے اور امتوں سے بھی اگر کسی کو انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کی متابعت کی برکت سے اس تعین وجودی میں کوئی نصیب ہو اور اس تعین کے حصول سے کوئی حصہ یا نقطوں سے کوئی نقطہ اس شخص کا مبدأ تعین ہو تو جائز ہے بلکہ واقع۔

اور جب تک اس تعین میں مبدأ تعین ظاہر نہیں ہوگا حضرت ذات تعالیٰ تک بالاصالۃ وصول کی گنجائش نہ ہوگی اور ملائکہ علیین کے بھی کہ حضرت ذات کے مقربین ہیں علیٰ نبینا و علیہم الصلوات و التسلیمات، مبادی تعینات اسی تعین وجودی میں ہیں کہ حضرت تعالیٰ تک وصول اسی سے وابستہ ہے۔

جاننا چاہیے کہ یہ صفۃ العلم تعین وجودی کے مرتبہ تفصیل میں ظاہر ہوتی ہے، ہر چند حصہ اس تعین وجودی کے حصول سے، لیکن چوں کہ جامعیت رکھتی ہے (اس لیے) گویا نفس وجود میں اس تعین کے جمیع حصول کی جامع ہے اور اس کے لیے اجمال بھی ہے اور تفصیل بھی، اجمال مرکز دائرہ کا حکم رکھتا ہے اور تفصیل محیط کا حکم۔ پس اس تعین علمی کا مرکز کہ اجمال ہے گویا محل ہے اس تعین اول وجودی کا اور اسی تعلق کی وجہ سے ایک گروہ نے یقین کر لیا ہے کہ حضرت خاتم الرسل علیٰ نبینا و علیہم

الصلوات و التسلیمات کا مبدأ تعین حضرت علم کا اجمال ہے نہیں (ایسا) نہیں ہے، بلکہ یہ اجمال آپ کے مبدأ تعین کا ظل ہے علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ والسلام کہ تعین اول وجود کا مرکز ہے جیسا کہ گزر گیا نیز اس اجمال علم کو (اس گروہ نے) تعین اول کہا ہے اور مرتبہ فوق کو لاتعین جانا ہے اور عین حضرت وجود سمجھ لیا، ہاں عین وجود ہے لیکن تعین کی طرف منسوب ہے جیسا کہ گزر گیا۔

پوشیدہ نہ رہے کہ ہر چندتعین اول کے تعینات حقیقی مندرجہ انبیاے کرام و ملائکہ عظام علیہم الصلوات و التسلیمات کے مبادی ہیں، لیکن چوں کہ اس مرتبہ میں اجمال ثابت ہے، ہر ایک کے مبادی علاحدہ تفصیل سے معلوم نہیں ہوتے ہیں اور کسی نام سے موسوم نہیں کیا جا سکتا ہے اور جب تفصیل پائی ہر ایک کے مبادی ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور علاحدہ نام پایا۔ مثال کے طور پر ایک حصہ اس تعین اول وجودی کا اسم ‘‘الحیاۃ’’ ہے اور حصہ دیگر اسم ‘‘العلیم’’ ہے علیٰ ھذا القیاس۔ اور مشہود ہوتا ہے کہ اسم الحیاۃ اس جامعیت کے اعتبار سے جو کہ رکھتا ہے ملائکہ علیین عظام کا مبدأ تعین ہے علیٰ نبینا و علیہم الصلوات والتسلیمات۔ نیز حضرت روح اللہ کو کہ ملأ اعلیٰ سے مناسبت رکھتے ہیں اس مقام سے نصیب ہے علیٰ نبینا و علیہم الصلوات والتسلیمات۔ اور حضرت مہدی علیہ الرضوان چوں کہ حضرت روح اللہ سے مناسبت خاص رکھتے ہیں اس مقام سے امیدوار ہیں علیٰ نبینا و علیہم الصلوات والتسلیمات۔

جاننا چاہیے کہ صفات ثمانیہ سے ہر ایک کہ تعین ثانی کے مرتبہ میں تفصیل پاتی ہے مبدأ ہے ہر ایک خاص پیغمبر بزرگ مقتدا کا چناں چہ علم مثلاً حضرت خاتم الرسل علیٰ نبینا و علیہم الصلوات والتسلیمات کا مبدأ تعین ہے اور قدرت حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہم الصلاۃ و السلام کا مبدأ تعین ہے اور تکوین حضرت آدم علیٰ نبینا و علیہم الصلاۃ و السلام کا مبدأ تعین ہے اور ان اسماے کلیہ مقدسہ کے جزئیات باقی انبیا علیہم الصلوات

والتسلیمات کے مبادی تعینات ہیں ان بزرگواروں سے ہر ایک گروہ کہ اسم خاص سے مناسبت رکھتا ہے اور نبی خاص مقتدا کے ساتھ ان کو مناسبت ہے اس اسم کے جزئیات ان کے مبادی تعینات ہیں۔

مکتوب؍۳۲۵۱ میں فرماتے ہیں: اور وہ صفۃ العلم باعتبار اجمال رب محمد ہے اور باعتبار تفصیل رب حضرت خلیل اور باعتبار برزخیت اجمال و تفصیل رب حضرت نوح ہے۔ چناں چہ حضرت موسیٰ کا رب صفۃ الکلام ہے اور حضرت عیسیٰ کا رب صفۃ القدرۃ ہے اور حضرت آدم کا رب صفۃ التکوین۔