مواد پر جائیں

باب ۴۹ از ۵۷صفحات ۶۷۶–۶۸۸

معیارتحقیق

یہ بات ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے نہ تو کسی کے اقوال ومکاشفات سے اس کی بزرگی وفضل کا اندازہ کرتے اور نہ کسی کی شخصیت سے اس کی باتوں کو اہمیت دیتے ان کا معیار یہ ہے کہ وه اپنے علم وفضل اور نور باطن سے دوسروں کے علم وفضل اور باطنی مدارج کا پتہ لگاتے ، جس کی جو منزل ہوتی وہی اسے دیتے اگر کوئی بزرگ ہے مگراس کے اقوال میزان شریعت پر پورے نہیں اترتے تو ان کے اقوال پر بلا خوف لومۃ لائم تنقید اور گرفت کرتے۔

مگر گرفت میں آپ کا خاص امتیازی شان یہ ہے کہ اقوال افعال پر تنقید کے وقت ناظر کو قدم قدم پر قائل کی باطنی عظمتوں سے آگاہ کرتے جاتے ہیں تاکہ غلط اقوال اور خلاف حق مکاشفات سے کوئی گستاخ فائدہ اٹھا کر ان کی روحانیت کو داغدار نہ کرسکے اور حتیٰ الامکان صحیح محمل پر عبارت کو محمول کرتے ہیں اور بزرگوں کے اعذار بھی بیان کرتے جاتے ہیں۔

خود حضرت شیخ کی کتب میں بعض ایسی باتیں موجود ہیں جس کی وجہ سے بعض علما نے کافی طعن وتشنیع کی ہے اور ان کے کمالات کا اعتراف تو بڑی بات ہے ان کو گمراہ،زندیق وغیرہ تک کہہ دیا ، نعوذباللہ مگر حضرت مجدد قدس سرہ کا ان کے بارے میں یہ خیال ہے کہ ایک مسئلہ میں حضرت شیخ قدس سرہ کی غلطی ذکر کرکے فرماتے ہیں:

حضرت شیخ حضرت مجدد کی نظر میں:

عجائب کاروبار ہے شیخ محی الدین مقبول بندوں سے نظر آتے ہیں اور ان کے اکثر کہ اہل حق کی آراء کے خلاف ہیں خطا وغیر درست دکھائی دیتے ہیں شاید کہ خطاے کشفی کی وجہ سے معذور رکھا ہے اور خطاء اجتہادی کی طرح ملامت سے دور رکھا ہے ،اس فقیر کا حضرت شیخ محی الدین کے سلسلے میں اعتقادخاص ہے کہ ان کو مقبولوں سے جانتا ہے اور ان کے علوم مخالف کوخطا اور نقصان دہ سمجھتا ہے۔

اس گروہ صوفیہ سے ایک گروہ شیخ پر طعن وملامت کرتا ہے اور ان کے علوم کو بھی خطا قرار دیتا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جس نے شیخ کی تقلید کی اور یہ لوگ ان کے تمام علوم کو درست تصور کرتے اور دلائل وشواہد کے ذریعہ ان علوم کی حقانیت کو ثابت کرتا ہے ، اورشک نہیں کہ ان دونوں فریق نے افراط وتفریط کا راستہ اختیارکیا ہے اور درمیانی حال سے دور رہے ہیں۔

شیخ کہ اولیاے مقبولین میں سے ہیں خطاء کشفی کی وجہ سے کیسے رد کیے جا سکتے ہیں اور ان کے علوم کہ صواب سے دور ہیں اور اہل حق کی آراء کے خلاف ہیں کیونکر تقلید کے ذریعہ قبول کیے جا سکتے ہیں ،پس حق وہ توسط ہے جس کی توفیق اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان وکرم سے مجھ کو عطا فرمائی ہے۔(م 266)

حضرت شیخ کے مکشوفات:

اب میں شیخ کے چند مسائل بتاتا ہوں جو شیخ کی زبان سے صادر ہوئے،آپ بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت شیخ قدس سرہ سے کیسی کیسی علمی اور کشفی خطائیں ہوئی ہیں:

1۔مکتوب 266 ج 1 جو کہ عقائد پر مشتمل ہے خداوندقدوس کے بارے میں عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ " او تعالیٰ قادر مختاراست از شائبہ ایجاب ومظنہ اضطرار منزہ ومبرا است" اس کے بعد فلاسفہ کا شدید رد کرتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے فاعل موجب

ہونے کے قائل ہیں ، پھر فرماتے ہیں " شیخ محی الدین ابن عربی کی عبارات بھی ناظر بایجاب ہیں اور معنیٰ قدرت میں وہ فلسفہ کی موافقت رکھتے ہیں کہ صحت ترک قادر سے جائز نہیں قرار دیتے ہیں اور جانب فعل کو لازم جانتے ہیں" اس کے بعد شیخ کے بارے میں وہ فرمایا جو ابھی آپ پڑھ چکے ہیں ۔

مکتوب 286میں صوفیہ کرام کی مخالفات بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں " اور منجملہ ان بعض مخالفات کےبعض ایسے امور کا حکم لگانا ہے کہ ایجاب واجب تعالیٰ وتقدس کہ مستلزم ہیں اگر چہ یہ لوگ لفظ ایجاب کا اطلاق نہیں کرتے ہیں اور ارادہ ثابت کرتے ہیں لیکن درحقیقت ارادہ کی نفی کرتے ہیں اور اس حکم میں تمام اہل ملل کے مخالف ہیں

منجملہ ان امور (جو مستلزم ایجاب ہیں) کے یہ حکم کرنا ہے کہ حق تعالیٰ ایسی قدرت پر قادر ہے جو بمعنیٰ "ان شاء فعل وان شاء لم یفعل" ہے (یعنی اگرچاہے گا کرےگا اور اگر نہیں چاہے گا نہیں کرے گا) لیکن پہلے قضیہ کو واجب الصدق اور دوسرے کو ممتنع الصدق جا نتے ہیں اور یہ قول بایجاب ہے بلکہ قدرت کا انکار ہے اس معنی کر جو اہل ملل کے نزدیک ثابت ہیں کیونکہ اہل ملل کے نزدیک قدرت صحت فعل اور ترک کے معنٰ میں ہے اور ان کے قول سے لازم فعل کا وجوب اور ترک کا امتناع ہے تو یہ کہاں اور وہ کہاں ، ان صوفیہ کا مذہب اس مسئلہ میں بعینہ حکماکا مذہب ہے۔

شرطیہ اولیٰ کے صدق کوواجب ثابت قرار دینے اور صدق شرطیہ ثانیہ کے امتناع کے باوجود ارادہ ثابت کرنا اور اپنے آپ کو اس اثبات(ارادہ) سے حکماء سے جدا کرنا نفع بخش نہیں ہوسکتا کیونکہ ارادہ دو متساوی چیزوں سے طایک کی تحصیل کا نام ہے ، پس جس جگہ تساوی نہیں ارادہ نہیں اور اس جگہ تساوی معدوم کیونکہ وجوب اور امتناع

ہے"۔

2- مکتوب 266 میں اپنے مرشد گرامی وقار سیدنا خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کے حوالے سے تو یہاں تک نقل فرمایا کہ حضرت شیخ محی الدین کاملین کی ارواح کے قدیم ہونے کے قائل ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس قول کو ظاہر سے پھیرنا چاہیئے اور تاویل پر محمول کرنا چاہیے تاکہ اہل ملل کے اجماع کی مخالفت نہ ہو’’۔

3-مسئلہ رویت باری تعالیٰ:

اہل حق کا اجماع ہے کہ قیامت کے دن مومنین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا،اس سلسلہ میں قرآن وسنت کے نصوص بہت کافی ہیں ، مگر اس سلسلے میں حضرت شیخ محی الدین عربی نے جو گفتگو فرمائی ہے وہ ظاہر نصوص کے بالکل خلاف اور اہل حق کے عقیدے کے بالکل متصادم ہے ۔

خیال رہے کہ حضرت شیخ قدس سرہ نے اپنی بعض تالیفات میں فرمایا ہے"راءیت ربی علیٰ صورۃ الفرس"(میں نے اپنے رب کو فرس کی صورت پر دیکھا ) حضرت شیخ رکن الدین علاؤالدولہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس قول کی شرح کرتے ہوئے فرمایا : کہ حق جل وعلا کے سالکین حق سبحانہ وتعالیٰ کو تجلیات صوریہ کے ساتھ دیکھتے ہیں اور وہ آثار سے تعلق رکھتا ہے ،ان تجلیات میں حق تعالیٰ بندوں پر جمیع اشیاء مفردات عناصر ،معادن،نباتات وحیوانات اور افراد انسان کی صورت میں تجلی فرماتا ہے ، اورتجلی صوری کی انتہا مرتبہ انسان میں یہ ہے کہ حق تعالیٰ صاحب تجلی کی صورت میں متجلی ہو اور سالک کے لیے قدم کی لغزش کے لیے اس سے زیادہ سخت مقام نہیں ہوگا ، سبحان اللہ! اناالحق،ھل فی الدارین غیری اور لیس فی جبتی سواللہ ایسی ہی تجلی سے ناشی ہیں۔(از رشحات حاشیہ مکتوبات شریف ج،اول ،ص، 477)

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ کو مومنین آخرت میں جنت میں دیکھیں گے بغیر جہت وبغیر کیف اور بے شبہ ومثال کے ، یہ وہ مسئلہ ہے کہ ملت اسلام اور غیر اسلام کے تمام فرقے اہل سنت کے علاوہ سب اس کے منکر ہیں اور بے جہت وبے کیف دیدار کو جائز قرار نہیں دیتے حتیٰ کہ شیخ ابن عربی بھی رویت آخرت کو تجلی صوری میں اتارتے ہیں اور اس تجلی کے علاوہ جائز نہیں قرار دیتے ۔

ایک دن حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ نے شیخ سے نقل فرمایا "اگر معتزلہ مرتبہ تنزیہ کو مقید نہ کرتے اور یہ تشبیہ کے بھی قائل ہوتے اور رویت کو اس تجلی (صوری) کے ساتھ جانتے تو ہرگز رویت سے انکار نہیں کرتے اور محال نہ جانتے ، یعنی ان کا انکار بے جہتی وبے کیفی کی وجہ سے ہے جو کہ مرتبہ تنزیہ سے مخصوص ہے بخلاف اس تجلی کہ جہت وکیف اس میں ملحوظ ہے "۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ پوشیدہ نہ رہے کہ رویت آخرت کو تجلی صوری میں اتارنا درحقیقت انکار کرنا ہے اس رویت کا کیونکہ وہ تجلی صوری اگرچہ دنیا کی تجلیات صوریہ سے جدا ہے( مگرپھر بھی ) رویت حق نہیں۔(م 266۔ج1)

مکتوب 79 ج،3 میں فرماتے ہیں :"حق سبحانہ کی رویت کو صورت کی رویت میں قرار دینا در حقیقت رویت کی نفی کرنا ہے، نیز جو صورت عالم مثال میں حاصل ہوتی ہے ہرچند جامع ہو عالم مثال کے اندازہ سے ہوگی اور عالم مثال ہرچند وسعت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ عالم سے ایک ہے ،صورت کی جامعیت جو اس میں ہوگی کیا گنجائش رکھتی ہے کہ تمام کمالات وجوبیہ ذاتیہ کی جامع ہو اور سب کو ضبط کرلے تاکہ اس مرتبہ مقدسہ کا جامع بن سکے؟ ۔ "

میں نے یہ چند باتیں سپرد قلم کردیں جن کا تعلق ذات واجب وصفات وغیرہ سے ہے ،اس سلسلے میں ان کے علاوہ بھی اور بہت سی باتیں ہیں مگر آپ اسی سے اندازہ لگا سکتے

ہیں کہ صوفیہ کرام نے ذات وصفات اور اسماء وافعال واجب تعالیٰ میں اپنے طعلم اور کشف کی وجہ سے کیسی کیسی خطائیں کی ہیں اور ٹھوکریں کھائیں، اور شان الوہیت کی عظمت ورافت بتانے میں کس قدر کوتاہیوں کا ارتکاب کیا ہے!

کیا ایسے دور میں ایسے فرد فرید کی ضرورت نہیں تھی جو خداوند قدوس کیہ ذات وصفات وغیرہ کا صحیح تعارف کراسکے جو ان کے تمام نشیب وفراز سے واقف ہو ، جس کا کشف بالکل صحیح اور نفس الامر کے مطابق ہو اور جو عروج وارتقاء روحانی کے نقطہ آخر تک پہنچا ہو،بال بال کی خبر رکھتا ہو ،کہاں پر کس طرح لوگ ٹھوکریں کھاتے ہیں، بہکنے کا سبب کیا ہے سب سے واقف ہو، ایسے ہی فرد کامل واکمل کو دنیا مجدد الف ثانی کہتی ہے ،آپ نے امت کو جو کچھ دیا اگر بہ نظر انصاف دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ اس دوسرے ہزارے میں کسی نے نہیں دیا،اور ایسادیا کہ اب کسی کے دینے کی ضرورت باقی نہیں رکھی۔

آپ نے ابھی صرف ذات وصفات واجب جل شانہ کے سلسلے میں صوفیہ کا حال پڑھا خاص کر حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ جو کہ عام طور پر مابعد کے تمام صوفیہ کی حجت بنے ، دیگروں نے بھی اس سلسلے میں بہت کہا ہے مثلا شیخ عبدالکریم یمنی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ اپنے زمانے کے نہایت مشہور صوفی اور علماء وصوفیہ کے مرجع تھے ایک دن مجلس میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب نہیں، جب دیکھا کہ ہمارا یہ قول ذہنوں میں دھنس نہیں رہا ہے تو اس کی توجیہ بھی فرمائی ، تفصیل نکے لیے دیکھیے مکتوب 100 جلد اول۔

خوف طوالت کی وجہ سے میں نے اسی پر اکتفا کیا ہے ، کچھ اور چیزیں اس سلسلے میں آئندہ صفحات میں آئیں گی جن سے آپ اندازہ لگا لیں گے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے یہاں خالق کائنات جل شانہ کی عظمت وتقدس کا کتنا لحاظ ہے، اب میں نبوت ورسالت

کے سلسلے میں چند مکشوفات وارشادات صوفیہ سپرد قلم کرتا ہوں، آپ دیکھیں کہ اس سلسلے میں بھی صوفیہ کرام سے کس قدر چوک ہوئی ہے۔

نبوت ورسالت:

عام طور پر صوفیہ کرام کا نظریہ یہ ہے کہ "الولایۃ افضل من النبوۃ "یعنی ولایت نبوت سے افضل ہے اس قول سے چونکہ وہم ہوتا تھا کہ ولی نبی سے افضل ہے اس لیے بعض بزرگوں نے اس کی تاویل یہ کی ہے کہ "ولایۃ النبی افضل من نبوۃ النبی "نبی کی ولایے نبی کی نبوت سے افضل ہے ، اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ولایت میں رخ حق کی طرف ہے اور نبوت میں خلق کی جانب اور بلا شبہ حق کی طرف رخ افضل ہوگا خلق کی طرف رخ سے۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں :"مندرجہ بالا قول اور اس کی توجیہ سکر پر مبنی ہے بلکہ نعاملہ اس کے برعکس ہے صحیح حکم یہ ہے کہ نبوت ولایت سے افضل ہے خواہ اس نبی کی ہی ولایت کیوں نہ ہو، کیونکہ ولایت میں سینہ کی تنگی کی وجہ سےخلق کی جانب رخ نہیں ہو سکتا ہے اور نبوت کمال انشراح صدری کی وجہ سے نہ توجہ حق مانع توجہ خلق ہے اور نہ توجہ خلق مانع توجہ حق۔

نبوت میں رخ تنہا خلق کی طرف نہیں ہے تاکہ ولایت کو اس پر ترجیح حاصل ہو ،عیاذا باللہ سبحانہ خلق کی جانب تنہا رخ عوام کالانعام کا مرتبہ ہے شان نبوت اس سے برتر ہے ،اس معنیٰ کی سمجھ ارباب سکر سے دشوار ہے،مستقیم الاحوال اکابر اس معرفت سے مخصوص ہیں"(خلاصہ مکتوب 108 جلد اول)

مکتوب 95جلد اول میں فرماتے ہیں :"انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات جمیع موجودات میں بہترین ہیں اور بہترین دولت ان کے سپرد ہوئی ہے، ولایت نبوت کا جز ہے اور نبوت اس کا کل ہے،لا محالہ نبوت ولایت سے افضل ہوگی خواہ ولایت نبی ہو یا

ولایت ولی ۔۔۔"

مکتوب 260 میں فرماتے ہیں کہ اس سیر میں معلوم ہوتا ہے کہ تمام ولایتوں کے کمالات خواہ ولایت صغریٰ ہو یا کبریٰ اور خواہ ولایت علیا ہو، مقام نبوت کے کمالات کے ظلال سے ہیں اور وہ کمالات(ولایت)شبح ومثال ہیں ان کمالات(نبوت) کی حقیقت کے لیے،اور واضح ہوتا ہے کہ نقطہ کہ اس سیر کے ضمن میں طے ہوتا ہے مقام ولایت کے تمام کمالات سے زیادہ ہے ،تو قیاس کرنا چاہیئے کہ اس کے تمام کمالات کو کیا نسبت ہوگی ماتقدم کے تمام کمالات سے(یعنی وہ کمالات ولایت جن کا ظہور ہر سالک پر پہلے ہوتا ہے ) دریائے محیط کو بھی قطرہ سے نسبت ہے مگر اس جگہ وہ نسبت بھی مفقود ہے ، مگر یہ کہ ہم کہیں کہ مقام نبوت کو مقام ولایت سے ایسی نسبت ہے جیسے غیر متناہی کو متناہی سے نسبت ہے۔

سبحان اللہ! جو اس راز سے جاہل ہے وہ کہتا ہے کہ الولایۃ افضل من النبوۃ اور دوسرا اس معاملہ سے آگاہی نہ ہونے کے سبب اس کی تو جیہ میں کہتا ہےولایۃ النبی افضل من نبوتہ۔ کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم، مزید بحث تجدید کے اسرار ورموز میں پڑھیئے گا۔

ولایت ونبوت:

ولایت ونبوت کے کمالات تک نارسیدگی نے لوگوں سے طرح طرح کی باتیں کہلوائیں ہم یہاں چند معارف وحقائق مکتوب 302 سے سپرد قلم کرتے ہیں آپ دیکھیں کہ تجدید الف ثانی نے کن کن معارف و حقائق کو جلوہ گر کیا۔

2- سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی قدس سرہ سے غلبہ حال میں یہاں تک نکل گیا کہ" لوائی ارفع من لواء محمد"میرا جھنڈا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے سے بلندتر ہے ، حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت بایزید قدس سرہ کے یہاں سکر صحو سے افضل ہے انھوں نے اپنے لواء کو لوائے ولایت جانا اور لوائے محمد صلی اللہ علیہ

وسلم کوس لوائے نبوت، لوائے ولایت کو کہ سکر کی طرح رخ رکھتا ہے ترجیح دی ہے لوائے نبوت پر کہ صحو کی طرف رخ رکھتا ہے ،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں جو احکام سکریہ سے ہیں وہ مقام ولایت سے ہیں اور جو صحو ہے وہ مقام نبوت سے تعلق رکھتا ہے ۔

3- بعض بزرگوں سے ایسی باتیں سرزد ہائی ہیں جن سے یہ وہم ہوتا ہے کہ اطاعت حق جل وعلا اور ہے اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیگر،اسی طرح محبت الٰہی اور محبت رسول میں بھی فرق کیا ہے ، مثلا حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی قدس سرہ کے بارے میں عام طور پر سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلطان محمود غزنوی پنے زمانہ بادشاہت میں خرقانی کے پاس سے گزرے تو آپ نے کچھ نمائندے یا خدام حضرت خواجہ قدس سرہ کی بارگاہ میں بھیجے اور ان سے کہا کہ حضرت خواجہ سے عرض کرنا کہ وہ مجھے دیکھنے کے لیے آئیں ،انھیں یہ بھی سمجھا دیا کہ اگر حضرت خواجہ کچھ توقف کریں تو انھیں آیت کریمہ"اطیعوااللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم "(تم اللہ کی اطاعت کرو،رسول کی اطاعت کرو اور امر والوں کی اطاعت کرو) سنا دینا ، جب یہ لوگ آئے اور حضرت خواجہ کی طرف سے آمد میں توقف دیکھا تو آیت مذکورہ پڑھ کر سنایا،

حضرت خواجہ قدس سرہ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ اطیعوااللہ میں اس قدر گرفتار ہوں کہ اطیعواالرسول سے شرمندہ ہوں اور پھر اولی الامر کی اطاعت کا سوال؟

اس واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت خواجہ قدس سرہ اطاعت حق کو اطاعت رسول کے مغایر سمجھتے تھے ،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ بات استقامت سے کوسوں دور ہے ،مشائخ مستقیم الاحوال ایسی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور تمام مراتب شریعت،طریقت وحقیقت میں حق کی اطاعت اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں جانتے ہیں اور جو اطاعت حق جل وعلا اطاعت رسول کے بغیر میں ہو اسے عین ضلالت سمجھتے ہیں ۔

اسی مکتوب152 میں آپ نے نصوص قرآنیہ سے ثابت فرمایا ہے کہ اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم عین اطاعت حق جل وعلا ہے اور جو اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹ کر ہوگی وہ غیرحق کی اطاعت ہوگی حق کی نہیں۔

اسی طرح نقل کیا گیا ہے کہ حضرت شیخ ابو سعید ابوالخیر رحمۃاللہ علیہ ایک دفعہ مجلس میں معتقدین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ،ایک بزرگ سید جو اکابر سادات خراسان سے تھے وہ مجلس میں تشریف فرما تھے ،اتفاقا ایک مجذوب مغلوب الاحوال وہاں آگیے ،حضرت شیخ سبو سعید قدس سرہ نے سید صاحب پر انھیں ترجیح (تقدیم)دی یہ بات سید صاحب کو ناپسند آئی ، تو حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہ نے فرمایا کہ آپ کی تعظیم محبت رسول کی وجہ سے ہے اور ان مجذوب کی محبت الٰہی کی وجہ سے ، مقصد یہ کہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت چاہتی ہے کہ آپ کے تمام متعلقین ومنتسبین سے محبت ہو اس لیے تعلق کی وجہ سے سید صاحب کی تعظیم کی ہے اور یہ مجذوب چونکہ ا للہ تعالیٰ کی محبت والفت سے سرشار قلب رکھتا ہے اور محبت الٰہی محبت رسول پر مقدم ہے اس لیے ان مجذوب صاحب کو مقدم کیا ،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کا تفرقہ اکابر مستقیم الاحوال جائز نہیں قرار دیتے اور حق سبحانہ وتعالیٰ کی محبت کا غلبہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سکر احوال سے جانتے ہیں اور فضول کے سوا کچھ نہیں سمجھتے ، اسی قدر ہے کہ مقام کمال میں کہ مرتبہ ولایت ہے محبت حق سبحانہ غالب ہے اور مقام تکمیل میں کہ مقام نبوت کا حصہ ہے محبت رسول غالب ہے(مکتوب مذکور)

کتنا ایمان افروز اور حقیقت پر مبنی کلام ہے ، اس سے آپ بہ آسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کو کس قدر دقت نظر حاصل تھی اور دل کی گہرائیوں میں کس قدر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسل جلوہ گر تھی ۔

نصوص قرآنی اور احادیث کریمہ پر نظر ڈالیے تو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے

رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت ومحبت ایک دوسرے کا عین ہیں، جو تفرقہ بعض بزرگوں سے منقول ہے وہ ضعیف الاعتقاد اور بیمار دلوں کے لیے بہت مجر اور نقصان دہ ہے ،ایسی باتیں زبان پر لانا خاص کر اس زمانے میں عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔

قرب نبوت اور قرب ولایت:

ہم یہاں مکتوب 311و312سے کچھ اقتباسات سپرد قلم کرتے ہیں جس سے ولایت ونبوت کا فرق اور ان کے کمالات کا فرق بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں ،اس سے آپ کے یہ بھی سمجھ میں آجا ئے گا کہ شریعت جو کہ مقام نبوت سے ناشی ہے اس کی کیا حقیقت ہے ؟ اور مقام ولایت سے جو علوم پیدا ہوتے ہیں اور جنھیں لوگوں نے شریعت پر ترجیح دی اور اسے علم لدنیہ سمجھتے ہیں اور شریعت کی بولی سے ہٹ کر جن کی بولی ہے وہ کس مقام سے ناشی ہوتے ہیں ۔

اس سے آپ کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ ہزاراول میں مجموعی طور جو کچھ بزرگوں سے صادر ہوا اسے جا ہلوں نے اتنا سر پر چڑھا لیا اور انھیں نا جائز مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیا جس سے نروں کی نظر میں شریعت بے اعتبار ہوکر رہ گئی ،اس کے مقابل تجدید الف ثانی اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہےاور کتنےحقائق ومعارف کو جلوہ گر کرکے شریعت کی اہمیت وعظمت اورمقام نبوت کی بلندی ورفعت میں چارچاند لگادیئے۔

ولایت قرب الٰہی جل شانہ کا نام ہے جو کہ بغیر ظلیت کی آمیزش کے متصور نہیں ہوتا ہے اور حجابات کے حائل ہوئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا ہے ،اگر ولایت اولیا ہے تو داغ ظلیت سے داغدار ہے اور ولایت انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات ہر چند ظلیت سے باہر ہوجاتی ہے لیکن اسماء وصفات کے حجابات کے حائل ہوئے بغیر متحقق نہیں ہو سکتی ہے اور ولایت ملا اعلیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوات والتسلیمات ہر چند اسماء وصفات کے حجابات سے بلند جا چکی ہے لیکن شیون واعتبارات ذاتیہ کے پردوں سے چارہ نہیں۔

اور نبوت ورسالت کہ ظلیت کی آمیزش نے اس کی جانب راہ نہیں پائی ہے اور صفات واعتبارات کے پردوں کو راہ میں چھوڑ دیا ہے ،پس لا محالہ نبوت ولایت سے افضل ہوگی اور قرب نبوت ذاتی واصلی ہوگا ، اور جو ان دونوں کی حقیقت پر مطلع نہیں ہوسکا اس نے ولایت کے نبوت سے افضل ہونے کا حکم لگایا اور قلب سے یقین کرلیا پس وصول در مرتبہ نبوت ہوگا اور حصول مقام ولایت میں کیونکہ حصول بے ملاحظہ ظلیت متصور نہیں ہو سکتا ،بخلاف وصول کے۔

نیز کمال کے حصول میں رفع اثنیت(دوئی کا خاتمہ)اور کمال وصول میں بقائے اثنیت پس رفع دوگانگی مقام ولایت کے مناسب ہوگی اور بقائے دوگانگی مرتبہ نبوت کے لائق ، اور رفع دوگانگی چونکہ مقام ولایت کے مناسب پس ناچار سکر ہمہ وقت لازم ہوگا مقام ولایت کے لیے اور بقائے اثنیت چونکہ مرتبہ نبوت میں ہے تو صحو اس مرتبہ کے خواص سے ہوگا ۔

نیز تجلیات کا حصول خواہ اشکال اور صورتوں کے لباس میں ہو اور خواہ الوان وانوار کے پردہ میں سب مقام ولایت میں ہے اور اس کے مقدمات ومبادی طے کرنے میں بخلاف مرتبہ نبوت کے کہ اس محل میں اصل کے ساتھ وصول ہے اور ان تجلیات وظہورات سے استغناء ہے کہ اس اصل کے ظلال ہیں اور اس طرح اس مرتبہ کے مبادی ومقدمات طے کرتے وقت بھی ان تجلیات کی حاجت نہیں ہے مگر یہ کہ ازراہ ولایت عروج حاصل ہو ،اس زمانہ میں ان تجلیات کاحصول ولایت کے واسطہ سے ہے نہ کہ راہ اصول نبوت کی مسافت طے کرنے کے واسطے سے۔۔۔ خلاصہ یہ کہ تجلیات وظہورات ظلال کی خبر دیتی ہیں اور جو ظلال کی گرفتاری سے گذرگیا ہے تجلیات سے چھٹکارا پاگیا ہے "مازاغ البصر" کا بھید اس سے تلاش کرنا چاہیے۔

اے فرزند ! عشق کا ولولہ اور محبت کا طنطنہ(کروفر)اور شوق انگیز نعرے اور درد

آمیز آوازیں ،وجدوتواجد،رقص ورقاصی سب مقامات ظلال اور ظہورات وتجلیات ظلیہ کے اوقات میں ہیں اصل سے وصول کے بعد ان امور کا حصول متصور نہیں ہے ۔

محبت اس محل میں ارادہ طاعت کے معنیٰ میں ہے جیسا کہ علما نے بیان فرمایا ہے نہ کہ اس پر معنی زائد(کا نام)کہ شوق وذوق کا منشا ہیں جیسا کہ بعض صوفیہ نے گمان کیا ہے۔

اے فرزند ! سنو! مقام ولایت میں چونکہ رفع اثنیت مطلوب ہے نا چار اولیائے کرام ارادہ کے زوال کی کوشش کرتے ہیں، شیخ بسطام فرماتے ہیں "ارید ان لا ارید"(میں چاہتا ہوں کہ ارادہ نہ کروں) اور مرتبہ نبوت میں چونکہ رفع اثنیت درکار نہیں ہے (اسی لیے ) نفس ارادہ کا زوال مطلوب نہ ہوا ،اورچ مطلوب بھی کیونکر ہوگا کہ اردہ فی حد ذاتہا صفت کامل ہے اگر نقص نے اس کی طرف راہ پائی ہے تو اس کے متعلق کے خبث(ناپاکی) کے واسطہ سے ہے ،تو چاہیے کہ اس کا متعلق امر خبیث ونا پسندیدہ نہ ہو بلکہ اس کے تمام مرادات حق کے مرضیات ہوں جل وعلا۔

اس طرح مقام ولایت میں تمام صفات بشریت کے لیے کوشش کرتے ہیں اور مرتبہ نبوت میں ان صفات کے برے متعلقات کی نفی مطلوب ہے نہ کہ اصل ان صفات کی نفی کہ فی حد ذاتہا کامل ہیں ،مثال کے طور پر صفت علم کہ فی حدذاتہا صفات کاملہ سے ہے اگر نقص اس تک راہ پاتی ہے تو اس کے براے متعلق کے اعتبار سے ہے پس اس کے برے متعلق کی نفی ضروری ہوئی نہ کی اصل اس صفت کی نفی ،اسی پر دوسری صفات کو قیاس کر لیجیے۔

پس جو شخص مقام نبوت ولایت کی راہ سے آیا ہے اس کو اثناے راہ میں اصل صفات کی نفی سے چارہ نہ ہوگا اور جو ولایت کے توسط کے بغیر اس مقام تک پہنچا ہے اس کو اصل صفات کی نفی سے کوئی کام نہیں ہے ،ان صفات کے برا متعلقات کی نفی کرنا چاہیے ۔