باب ۱۰ از ۵۷صفحات ۱۴۳–۱۵۸
آداب
فرائض و واجبات و سنن اور صبح و شام کے نبوی اعمال و اشغال اور روز و شب کے تمام اعمال و افعال نبوت و رسالت کا جو ادب و احترام آپ فرماتے وہ آپ نے احکام شرعیہ پر عمل اور معمولات و عادات کے عنوان کے تحت کچھ سماعت فرمایا اپنے محبوب حقیقی کی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام میں اس سے زیادہ اعلیٰ نمونہ شاید ہی آپ کو کہیں ملے۔ چند جزوی واقعات اور سپرد قلم ہیں آپ پڑھیں اور حضرت مجدد قدس سرہ کی بلندی ادب دیکھیں۔
اسم الٰہی کی تعظیم:
ایک مرتبہ آپ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا گئے وہاں دیکھا کہ مٹی کا ایک ٹوٹا ہوا پیالہ ہے کہ جس سے بھنگی گندگی اٹھاتا تھا اس پر اللہ کا نام کندہ تھا لیکن وہ نجاستوں سے آلودہ تھا آپ نے وہ ٹوٹا پیالہ اپنے ہاتھ سے اٹھایا اور باہر آئے خادم سے
پانی منگایا، اپنے ہاتھ سے وہ گندگی دھلی، خادم نے ہر چند کہا کہ ہم صاف کر دیں لیکنن قبول نہ فرمایا۔ صاف کرنے کے بعد آپ نے سفید کپڑے میں لپیٹ کر پوری تعظیم کے ساتھ اونچے طاق میں رکھ دیا اور جب کبھی آپ پانی پینا چاہتے تو اسی سے پیتے۔ اس عمل کے صلہ میں بارگاہ رب العزت سے آپ کو خطاب ہوا کہ جس طرح تم نے میرے نام کی تعظیم کی میں بھی تمھارے نام کو دنیا اور آخرت میں اونچا کرتا ہوں ۔ آپ فرماتے تھے کہ اگر میں سو سال بھی ریاضت و مجاہدہ کرتا تو ان سے اتنے فیوض و برکات حاصل نہ ہوتے جتنے کہ اس عمل سے مجھے حاصل ہوا۔
تعظیم کلام الٰہی:
ایک مرتبہ حافظ صاحب نے تلاوت شروع کی۔آپ نے دیکھا کہ ہم جس فرش پر بیٹھے ہیں وہ اس سے قدرے اونچا ہے جس پر حافظ صاحب بیٹھ کر قرآن پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے اپنے نیچے سے وہ فرش نکال دیا جو اونچا تھا اور اس فرش کے برابر فرش پر بیٹھے جس پر حافظ صاحب پڑھ رہے تھے۔
تعظیم نبوت:
حضور سرور کونینﷺ و دیگر انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کے آداب و تکریمات کا اتنا احساس رہتا کہ بیان سے باہر ہے۔ آپ کی تحریرات جن لوگوں نے بھی پڑھی ہیں وہ جانتے ہیں کہ آپ جب بھی نام پاک ذکر کرتے ہیں نہایت ادب و احترام سے کرتے ہیں۔ پھر یہ کہ صلاۃ و سلام بہ وجہ اتم و اکمل و احسن پیش کرتے ہیں، محسوس ہوتا ہے کہ ہمیشہ آپ کے پیش نظر حضرت عبد اللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ کا ارشاد رہا کرتا تھا جس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے:
إذا صلیتم علیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فأحسنوا الصلاۃ علیہ فإنکم لا تدرون لعل ذالک یُعرض علیہ
جب بھی رسول اللہﷺ پر درود بھیجو تو اچھے طریقے اور الفاظ سے بھیجو تم نہیں جانتے کہ شاید وہ آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہو۔’’
علمی اور مہتم بالشان مکاتیب کا اختتام ذکر نبوی پر کرتے ہیں،کہیں تحریر فرماتے ہیں:والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ والتزم متابعۃ المصطفیٰ علیہ و علیٰ آلہٖٖ الصلوات والتسلیمات اتمہا واکملہا اور کہیں دعا کرکے لکھا ہے: بحرمۃ حبیبہٖ سید الاولین و الآخرین علیہ الصلاہ والسلام وآلہٖ الکرام اور کہیں یہ بھی لکھا ہے: فثبتنا اللہ سبحانہ علیٰ اطاعۃ الرسول التی ہی عین اطاعۃ اللہ سبحانہ،اپنے عشق ومحبت کا ا ظہار طرح طرح سے کرتے ہیں اور دیکھنے میں آیا کہ وہ خوش نصیب افراد جو آپ کے مکاتیب شریفہ کا مطالعہ کیا کرتے ہیں،آپ کی مبارک روش کی پیروی کرکے اسباب سعادت کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔
خواجہ محمد ہاشم کشمی نے لکھا ہے کہ اس کمترین نے بارہا آپ سے سنا ہے کہ کیا ہم اور کیا ہمارا عمل جو کچھ بھی ہم کو ملا ہے وہ صرف اللہ کا کرم ہے اور اگر کوئی چیز اس کے کرم کا بہانہ بنی ہے تو وہ سید الاولین و الآخرین ﷺ کی متابعت ہے،ہمارے کام کا مدار اسی پر ہے جزوی یا کلی طور پر جو کچھ بھی ملا ہے اتباع سنت ہی کی بدولت ملا ہے اور جو کچھ نہیں ملا ہے اس وجہ سے نہیں ملا ہے کہ بشریت کی وجہ سے ہم سے اتباع سنت میں کوتاہی ہوئی ہے۔(حضرت مجدد اور ان کے ناقدین)
آپ فرماتے تھے کہ ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تراویح کے بعد میں اپنے بستر پر لیٹ گیا اس وقت ایک خادم میرے پیر دبارہا تھا میں سہو ونسیان کی وجہ سے بائیں پہلو پر لیٹ گیا اس کے بعد مجھے یاد آیا کہ سونے کی سنت کہ دائیں پہلو پر لیٹنے کی ابتدا کی جاتی ہے مجھ سے چھوٹ گئی لیکن نفس نے کاہلی کی وجہ سے ظاہر کیا کہ سہو ونسیان کی وجہ سے ایسی کوئی بات ہو جائے تو وہ معاف ہے لیکن مجھے خوف
ہوا اور میں (اٹھ کر) از سر نو لیٹ گیا اور اس کی ابتدا داہنے پہلو سے کی،اس سنت کے ادا کرتے ہی مجھ پر نہایت برکات اور سلسلے کے انوار کا ظہور ہونے لگا اور آواز آئی کہ تمہاری اس قدر رعایت(سنت کے لیے) کی وجہ سے آخرت میں تم پر کسی طرح کا عذاب نہ ہوگا اور تمہارا خادم جو اس وقت تمہارا پیر مل رہا تھا وہ بھی بخشا گیا۔
ایک دفعہ آپ نے وتر میں تاخیر تا تہجد کی حکمت بیان فرمائی کہ ایک رات دکھایا کہ ادائے وتر کی تاخیر کی صورت میں جب نمازی سوتا ہے اور نیت رکھتا ہے کہ آخر شب میں وتر کو ادا کرے گا تو اس کے اعمال لکھنے والے (فرشتے)تمام رات اس کے لیے نیکیاں لکھتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ وتر ادا نہ کرلے پس جتنی زیادہ وتر کو تاخیر سے ادا کرے گا بہتر ہوگا اس کے باوجود فرمایا کہ وتر کی تعجیل اور تاخیر میں سید البشر علیہ و علیٰ آلہٖ الصلوات و التسلیمات کی متابعت کے سوا کوئی چیز منظور نہیں ہے اور کوئی فضیلت متابعت کے برابر نہیں ہو سکتی ہے اور حضرت رسالت مآب ﷺ نے وتر کو کبھی اول شب ادا فرمایا اور کبھی آخر شب۔
اپنی نیک بختی اس میں جانتا ہے کہ امور میں سے کسی امر میں اس سرور علیہ و آلہٖ الصلوات و التسلیمات کے ساتھ مشابہت کرے اگرچہ وہ مشابہت صورت کے اعتبار سے ہو،لوگ بعض سنتوں میں احیاء لیل کی نیت اور اس کے مثل دیگر امور کی نیت کو دخل دیتے ہیں ان کی کوتہ اندیشی سے تعجب ہوتا ہے ہزار احیاے لیالی(شب بیداریاں) نیم متابعت کے ساتھ ہم نہیں خرید سکتے۔
رمضان شریف کے آخری عشرہ میں احباب کو جمع کرکے فرمایا کہ متابعت کے علاوہ نیت نہ کرنا کہ ہمارا تبتل و انقطاع کیا ہوگا،سو گرفتاری ایک متابعت کے حصول کے ساتھ ہم قبول کرتے ہیں لیکن ہزار تبتل و انقطاع توسل و متابعت کے بغیر قبول نہیں رکھتے ہیں۔(برکات احمدیہ)
مرشد عالی وقار کا ادب و احترام:
حضرت مجدد قدس سرہ کے تعلق سے حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ نے کیا کیا فرمایا اس کا قدرے بیان آپ پڑھ چکے کہ حضرت مجدد علم و عمل اور روحانی بلندی کے کس قدر حضرت خواجہ قدس سرہ مداح تھے،حضرت مجدد کا سن ولادت بھی وہی ہے جو حضرت خواجہ کا ہے لہٰذا عمر میں تقریباًٍ برابر ہوئے،حضرت خواجہ قدس سرہ نے جو کچھ کہا اس کے مصالح آپ پڑھ چکے۔
حضرت مجدد قدس سرہ کے دل میں حضرت خواجہ قدس سرہ کا ادب و احترام،عشق و محبت اور رعب و جلال کس قدر تھا اس کا ندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں جو حضرت خواجہ ہاشم قدس سرہ نے حضرت خواجہ حسام الدین کے حوالے سے بیان کیا وہ فرماتے تھے کہ جس زمانے میں حضرت خواجہ تمہارے پیر ومرشد(حضرت مجدد) کا نہایت احترام کرتے تھے یہ واقعہ ہے کہ ایک دن حضرت خواجہ نے مجھ کو تمہارے مرشد کو بلانے کو بھیجا جب میں نے آپ سے حضرت خواجہ کے یاد کرنے کا ذکر کیا تو آپ کے چہرے کا رنگ ایک دم بدل گیا،خوف کے آثار ظاہر ہوگیے،انتہائی خشیت کی وجہ سے بدن میں اضطرابی کیفیت پیدا ہو گئی گویا کہ آپ پر رعشہ طاری ہو گیا ہے ان کی اس حالت کو دیکھ کر میں دل میں کہا :اب تک سنتا آیا تھا‘‘نزدیکاں را بیش بود حیرانی’’ (قریبی لوگوں کو زیادہ حیرانی ہوتی ہے) لیکن آج اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔(حضرت مجدد اور ان کے ناقدین)
احسان مندی:
حضرت مجدد قدس سرہ احسان و کرم کے اعتراف اور اس کی مکافات میں بھی بہت بلند خوبی کے مالک تھے،آپ کے ساتھ جو ادنیٰ سا بھی احسان و سلوک کرتا آپ اس کا ہمیشہ اعتراف کرتے بلکہ جو لوگ آپ کے تجدیدی کا موں میں مددگار
ہوتے،آپ کے بتائے پر عمل کرتے،سنت کی اشاعت کرتے ان کا بھی بصد احترام اور آپ شکریہ ادا کرتے رہتے۔
یہ کوئی معمولی خوبی نہیں بلکہ یہ بھی مولاے کائنات، محسن اعظم ﷺ کی زببر دست سنت ہے اس کے جو کثیر فوائد ہیں وہ اہل علم پر مخفی نہیں۔
حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ نے آپ پر جو تجلیات و انوار اور قرب و عرفان کے دروازے کھولے اس نعمت کا شکر آپ نے جگہ جگہ بڑے عجیب الفاظ و انداز سے کیا ہے،حضرت خواجہ قدس سرہ کی بارگاہ میں جو عرائض لکھے گیے ہیں ان سے ادب و احترام اور شکر و نیاز مندی تو عیاں ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ آپ کے وہ مخدوم زادے جن کی آغاز ہی سے روحانی تربیت آپ کی عالی توجہات سے ہوئی تھی آپ ان کا بھی بڑا احترام کرتے اور انھیں شکرئے کے خطوط تحریر فرمایا کرتے اور ان کے والد بزرگوار کے احسانات کا اعتراف کرتے۔
مکتوب ۲۶۶ دفتر اول جو آپ نے دونوں مرشد زادوں حضرت خواجہ عبید اللہ اور حضرت خواجہ عبدا للہ کے نام لکھا ہے اس کا آغاز یوں کرتے ہیں:‘‘حمد و صلاۃ اور تبلیغ و دعوات کے بعد اپنے مخدوم زادوں کی جناب میں عرض ہے کہ یہ فقیر سر سے پاؤں تک آپ کے والد بزرگوار کے احسانات میں ڈوبا ہوا ہے،فقیر نے اس طریقہ کی الف ،ب کا سبق ان ہی سے لیا ہے اور اس کے حروف تہجی کو انھیں سے سیکھا ہے۔’’
مکتوب ۴۲ دفتر دوم میں فرماتے ہیں:‘‘میرے پیران اور مجھ کو اللہ کی راہ بتانے والوں نے جن کے توسل سے میں نے اس راہ میں آنکھ کھولی ہے اور جن کے توسل سے میں نے اس علم میں لب کشائی کی ہے،جن سے میں نے طریقت کی الف با پڑھی ہے،جن کی توجہات سے میں نے مولویت کا ملکہ پیدا کیا ہے اگر مجھ میں علم ہے تو انھیں کا طفیل ہے،اگر معرفت ہے تو انھیں کی التفات کی بدولت ہے،میں نے
انھیں بزرگواروں سے اندراج نہایت در بدایت کی راہ و رسم سیکھی ہے اور انھیں سے انجذاب بہ قیومیت حاصل کی ہے ان کی ایک نظر سے وہ کچھ پایا کہ لوگوں کو چلوں میں نہ ملے اور ان کی ایک بات سے وہ کچھ حاصل ہوا جو دوسروں کو سالوں میں حاصل نہ ہو،علو استعداد اور بلند ہمتی کی بنا پر سیر انفسی سے ابتداء کار طریقت کی ہے۔’’
حضرت مولانا حسن کشمیری صاحب جن کے توسل سے آپ حضرت خواجہ قدس سرہ کی بارگاہ تک پہنچے تھے ان کے احسانات کو یوں شمار کرتے ہیں:‘‘ثانیاً فقیر آپ کی رہنمائی کا شکر ادا کرنے سے اور آپ کے احسان کی مکافات(بدلہ دینے) سےعاجز اور قاصر ہے،فقیر کو اعتراف ہے کہ یہ سارا معاملہ اسی نعمت پر مترتب ہے اور یہ سب داد و دید اسی احسان سے وابستہ ہے،آپ کے حسن توسل کی بدولت وہ کچھ فقیر کو ملا ہے کہ کم کسی نے دیکھا ہوگا اور جو کچھ کہ اس فقیر کو عطا کیا گیا ہے اس قدر کم کوئی لطف اندوز ہوا ہوگا،مخصوص عنایات کی وہ کثرت ہے کہ اکثر افراد کو اس مقدار میں عام عنایات میسر نہیں،احوال و مقامات،اذواق و مواجید،علوم و معارف اور تجلیات و ظہورات کو راہِ عروج کی سیڑھی بنا کر مدارج قرب اور منازل وصول تک فقیر کو لے جایا گیا،قرب اور و صول کے الفاظ کا استعمال بھی تنگیِ دامان عبارت کی وجہ سے ہوا ہے ورنہ وہاں قرب نہ وصول،نہ عبارت ہے نہ اشارت،نہ شہود نہ حلول،نہ اتحاد نہ کیف،نہ دین نہ فرمان،نہ زمان نہ مکان،نہ احاطہ نہ سریان،نہ علم نہ معرفت،نہ جہل نہ حیرت۔’’
حضرت خواجہ حسام الدین احمد رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت خواجہ قدس سرہ کے وصال کے بعد مخدوم زادوں کی دیکھ بھال،مہمانوں کی آمد ورفت،ان کی خاطر تواضع اور گھریلو انتظامات اپنے ذمے لے لیے تھے، آپ ان کا شکریہ بایں الفاظ ادا کرتے ہیں:‘‘حضرت خواجہ سے ایسی اعلیٰ دولت جو اس فقیر کو ملی ہے اس کے عوض اگر وہ (حضرت مجدد) ساری عمر اپنے سر کو اپنے صاحبان (پیرزادوں) کے عتبۂ عالیہ(بلند
چوکھٹ) کے خدام سے پامال کرتا رہے تب بھی ہیچ ہے ،یہ فقیر اپنی کوتاہیوں کا کیا بیان کرے اور اپنی شرمندگیوں کا کیا اظہار کرے،معارف آگاہ خواجہ حسام الدین احمد کو اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے جزائے خیر دے کہ انھوں نے ہم کوتاہی کرنے والوں کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور عتبۂ عالیہ کی خدمت کے واسطے کمر ہمت باندھ رکھی ہے۔
اگر بر تن من زباں شود ہر موئے
یک شکر وے از ہزار نتوانم کرد
ترجمہ:اگر میرے تن کا ہر بال زبان بن جائے تب بھی ہزار میں سے ایک شکر ان کا ادا نہ کر سکوں۔’’(حضرت مجدد اور ان کے ناقدین)
حضرت مجدد قدس سرہ کے ادب و احترام کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ آپ بالاخانے میں آرام فرمارہے تھے،پیشاب کی تیز حاجت ہوئی پرنالہ کے پاس تشریف لے گیے،بیٹھے تو وہاں گندم کے دانے سامنے پڑے نظر آئے فوراً اٹھ پڑے رزق کی تعظیم کی وجہ سے۔
تواضع و خاکساری:
عام لوگوں کی روش اور طریقہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں اگر کچھ مال و ثروت،جاہ و منصب اور علم وفن وغیرہ حاصل ہوا تو وہ تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں مگر وہ خوش نصیب جو قرب و منزلت کی لا زوال دولت سے مالامال ہوتے ہیں ان کا عمل اس کے بر عکس ہوتا ہے وہ جتنا بلند ہوتے جاتے ہیں اتنا ہی متواضع اور منکسر ہوتے ہیں،شرف و فضل کی علامت یہی ہوتی ہے اور یہی وصف بڑی بڑی رفعتوں سے ہم کنار کر دیتا ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ جہاں گونا گوں اوصاف و کمالات کے حامل تھے وہیں یہ وصف بھی علیٰ وجہ الکمال آپ کے اندر پایا جاتا تھا،جس قدر آپ کے رب نے آپ کو بلند کیا اسی قدر آپ کے اندر تواضع و انکساری کا غلبہ ہوا،آپ کی حیات مبارکہ میں
تحریرات میں ایسے واقعات اور ارشادات پائے جاتے ہیں جن سے آپ کا اس سلسلے میں کمال سمجھا جا سکتا ہے،اس سے قبل آپ آداب کے متعدد واقعات و ارشادات پڑھ چکے ہیں جو آپ کے تواضع و انکساری کے نقطۂ آخر پر پہنچنے کی دلیل ہیں،کاغذ کے ٹکڑوں اور سیاہی کے نقطوں کا احترام تواضع کا کتنا اعلیٰ نمونہ ہے،یہ سب آداب تواضع ہی کا اثر ہوتے ہیں۔
اپنے اعمال وعبادات اور کمالات کے سلسلے میں آپ فرمایا کرتے تھے کہ کیا ہم اور کیا ہمارا عمل جو کچھ بھی ہم کو ملا ہے وہ صرف اللہ کا کرم ہے اور اگر کوئی چیز اس کے کرم کے واسطے بہانہ بنی ہے تو وہ سید الاولین و الآخرین کی متابعت ہے ﷺ۔
علامہ بدرالدین فرماتے ہیں:‘‘آپ فرماتے تھے کہ چند روز مجھے اپنے احوال کے قصور کی دید (اپنے احوال کو حقیر دیکھنا) اس قدر غالب ہوئی کہ نماز میں سورۃ الفاتحہ کا لفظ‘‘ایاک نعبد وایاک نستعین’’پڑھتا تھا تو حیران ہوجاتا تھا کہ کیا کرنا چاہیے اگر میں یہ آیت پڑھتا ہوں تو‘‘لم تقولون ما لا تفعلون’’(تم لوگ کیوں کہتے ہو جو نہیں کرتے)کا مصداق ہو جاتا ہوں اور اگر نہ پڑھوں تو واجب کا ترک ہوا جاتا ہے پھر آواز آئی کہ ہم نے تمہاری عبادات سے شرک دور کردیا ہے اور ‘‘الا للہ الدین الخالص’’ کا مطلب ظا ہر ہوا۔’’
نیز فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ صبح کے حلقے میں مراقب تھے اور آپ پر اپنے اعمال کی خامی کا تصور غالب تھا اور انکسار و تضرع کا غلبہ تھا،حدیث‘‘من تواضع للہ رفعہ اللہ’’(جو اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے خدا اسے بلند کرتا ہے)کے مصداق اللہ تعالیٰ غفار الذنوب و ستار العیوب کی طرف سے خطاب ہوا کہ میں نے تم کو بخش دیا اور اس کو بھی جو تمہارا وسیلہ اختیار کرے بالواسطہ یا بلا واسطہ قیامت تک سب کو بخش دیا اور اس بشارت کے اظہار کا حکم بھی دیا گیا۔
نیز صاحب حضرات القدس فرماتے ہیں:‘‘آپ خلق وتواضع اور مخلوق پر شفقت اور تسلیم و رضا بدرجۂ کمال رکھتے تھے،آپ کے عزیزوں کو ظالم حاکموں سے بہت تکلیفیں پہنچی تھیں مگر آپ کی تسلیم و رضا نے کبھی اس کی شکایت کا اظہار نہ ہونے دیا،جب کوئی بزرگ آپ سے ملنے کے لیے آتے آپ فوراً تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے اور صدر مجلس میں ان کو جگہ دیتے اور ان کے درجے کے موافق ان سے گفتگو کرتے۔’’
آپ کے بارے میں حاسدوں نے اڑا دیا تھا کہ اپنے آپ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل جانتے ہیں،حضرت خواجہ فضل اللہ برہانپوری نے تحقیق حال کے لیے ایک جوان بھیجا،جب اس جوان نے سرہند آکر آپ سے آمد کا سبب عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ جب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جو جمیع کمالات اور فضائل سے متصف تھے دوسرے خلفائے راشدین پر فضیلت نہیں دیتا تو پھر خود کو کیوں کر ان سے افضل کہہ سکتا ہوں؟اس شخص پر معرفت حق حرام ہے جو خود کو کافر فرنگ سے بہتر جانے چہ جائے کہ اکابرین دین۔
تسلیم ورضا:
تسلیم و رضا کا وصف جتنا بلند ہے اس سے متصف ہونا اسی قدر کٹھن ہے پھر اس میں اوج کمال تک پہنچ جانا اس کی خال خال ہی مثالیں ملیں گی،حضرت مجدد قدس سرہ کی حیات مقدسہ میں یہ اعلیٰ وصف جس کمال اور فراوانی کے ساتھ ملتا ہے بہت کم کسی میں ملتا ہے،ابھی آپ علامہ بدرالدین کا بیان پڑھ چکے کہ آپ اس میں درجۂ کمال رکھتے تھے،میں چند نمونے آپ کے سامنے پیش کروں جس سے آپ بخوبی ہمارے دعوے کی صداقت جان لیں گے۔
(۱)آپ کے بڑے فرزند حضرت خواجہ محمد صادق(۱۰۰۱ھ۔۱۰۲۵ھ)جن کے
بارے میں آپ خود فرماتے ہیں:‘‘میرا فرزند مرحوم حق تعالیٰ کی آیتوں میں سے ایک آیت(نشانی)تھا اور رب العالمین کی رحمتوں میں سے ایک رحمت تھا،اس چوبیس سال کی عمر میں وہ پایا کہ کم کسی نے پایا ہوگا،مولویت کا پایا اور علوم نقلیہ و عقلیہ کی تدریس کو حد کمال تک پہنچایا یہاں تک کہ ان کے شاگرد بیضاوی و شرح مواقف اور ان جیسی کتابوں کا پوری قدرت کے ساتھ درس رکھتے ہیں،معرفت و عرفان کی حکایتیں،شہود و کشف کے قصے ان کے مستغنی ہیں کہ ان کو بیان میں لائے،اور آپ کو معلوم ہے کہ آٹھ سال کی عمر میں اس قدر مغلوب حال ہو گیے تھے کہ ہمارے حضرت خواجہ قدس سرہ ان کے حال کی تسکین کا علاج بازاری کھانوں کہ مشکوک و مشتبہ ہیں سے کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو محبت مجھ کو محمد صادق سے ہے کسی سے نہیں ہے اور اسی طرح جو محبت انھیں ہم سے ہے وہ کسی سے نہیں۔
اس بات سے ان کی بزرگی کو جانا جا سکتا ہے کہ ولایت موسوی کو نقطۂ آخر تک پہنچایا تھا اور اس ولایت علیہ کے عجائب و غرائب بیان کرتے تھے اور ہمیشہ خاشع وخاضع و ملتجی و متضرع و متذلل و منکسر رہتے تھے اور فرماتے تھے کہ اولیا میں سے ہر ایک نے حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ سے کوئی چیز چاہی ہے اور میں نے التجا و تضرع چاہی ہے۔’’
محمد فرخ کے بارے میں کیا لکھے کہ گیارہ سال کی عمر میں طالب علم ہو گیے تھے اور شعور سے سبق پڑھتے تھے اور ہمیشہ عذاب آخرت سے ترساں و لرزاں رہتے تھے اور دعا کرتے تھے کہ بچپن ہی میں حقیر دنیا کو وداع کردیں تاکہ عذاب آخرت سے چھٹکارا ملے،مرض موت میں جن دوستوں نے تیمارداری ان کی، کی ہے ان سے عجائب و غرائب مشاہدہ کیے اور محمد عیسیٰ سے کرامات و خوارق آٹھ سال کی عمر میں جو لوگوں نے معائنہ کیے ہیں کیا لکھے خلاصہ یہ کہ جواہر نفیسہ تھے کہ بطور امانت سپرد کیے گیے تھے۔
یہ وہی مقدس شہزادے ہیں جن کے بارے میں حضرت خواجہ قد س سرہ نے فرمایا:‘‘فرزندان آں شیخ کہ اطفال و اسرار الٰہی اند بالجملہ شجرۂ طیبہ اند انبتہ اللہ نباتاً حسنا(اس شیخ کے فرزند کہ بچے اور اسرار الٰہی ہیں خلاصہ یہ کہ وہ شجرۂ طیبہ کی طرح ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اچھی پرورش فرمائے)۔’’
ان تینوں عزیز فرزندوں میں پہلے حضرت خواجہ محمد صادق نے اور پھر ان کے بعد باقی دو نے اور بہن نے چند دنوں کے اندر طاعون کی وبا کا شکار ہو کر جام شہادت نوش فرمالیا،حضرت مجدد قدس سرہ نے مولانا محمد صالح کولابی کو لکھتے ہیں:‘‘اہل سرہند کے واقعات سنے ہوں گے میرے بڑے فرزند رضی اللہ عنہ نے اپنے دو چھوٹے برادر محمد فرخ و محمد عیسیٰ کے ساتھ سفر آخرت اختیار فرمایا انا للہ و انا الیہ راجعون اللہ سبحانہ کے لیے حمد کہ اولاً باقی ماندہ کو قوت صبر عطا فرمائی اور ثانیاً بلا کو ختم کردیا،اچھا کہا؎
من از تو روئے نہ پیچم گرم بیازاری
کہ خوش بود ز عزیزاں تحمل و خواری
آپ اپنے کلیجے پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ ایسے جواہر پارے ایک ساتھ جب دنیا سے رخصت ہوں تو کیا عالم ہوتا ہے ان ماں باپ کا جو جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہوں لیکن تسلیم و رضا اور صبر و تحمل کا یہ بلند مقام دیکھیں کہ فرماتے ہیں:‘‘للہ سبحانہ الحمد و المنۃ کہ امانات با اہل امانات بے کرہ و بے اکراہ حوالہ نمودیم’’ یعنی اللہ سبحانہ کےلیے حمد اور احسان کہ امانتوں کو امانتوں والے کے بغیر نا خوشی اور جبر کے میں نے حوالہ کردیا پھر یہ دعا فرمائی اللہم لا تحرمنا اجرہم ولا تفتنا بعدہم بحرمۃ سید المرسلین علیہ وعلیہم الصلوات و التسلیمات از ہر چہ میرود سخن دوست خوشتر است (مکتوب ۳۰۶ ج ۱)
اے اللہ سید المرسلین ﷺ کے طفیل مجھے ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور نہ ہی ان کے بعد مفتون فرما!دوست کی تو ہر بات اچھی ہی ہوتی ہے۔’’
(۲)حضرت مجدد قدس سرہ کو ربیع الثانی ۱۰۲۸ھ کو بعض اسباب کی وجہ سے جہانگیر نے قلعۂ گوالیار میں قید کردیا جس کی تفصیل آگے آئے گی،صرف قید ہی نہیں کیا گیا بلکہ آپ کی حویلی،سراے،کنواں،باغ اور کتابیں ضبط کر لی گئیں اور متعلقین کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا،آپ پر اس وقت رنج و الم اور غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اہلیہ محترمہ کہیں،فرزندان گرامی قدر کہیں اور آپ کہیں،اعزہ و اقربا پر ظلم و ستم،احباب،مریدین و متعلقین کا رنج جدائی پھر آپ کا حبس کی حالت میں قلعۂ گوالیار میں اس عمر میں جانا یہ و ہ امور تھے کہ جن کا تحمل ہر کس و ناکس سے نہیں ہو سکتا تھا مگر آپ نے جس خندہ پیشانی کے ساتھ انھیں برداشت کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
آپ کے اثرات جہاں گیر کے اراکین سلطنت میں کافی حد تک پہنچ چکے تھے آپ اگر اشارہ فرماتے تو آپ کے جاں نثار نا معلوم کیا کیا کر گزرتے مگر آپ سب کو صبر و تحمل کی تلقین فرماتے رہے اور ہر ایک کو یہی بتاتے رہے کہ اس فعل میں خدا وند قدوس کی بے پناہ حکمتیں ہیں،مرضی الٰہی یہی ہے اس کی مرضی کے ہر کام کو نہایت خوش دلی کے ساتھ کیا جائے،آپ کی رہائی کے لیے جو لوگ جد وجہد کر رہے تھے انھیں آپ نے اجمیر شریف سے جو خط لکھا اس میں تحریر فرمایا کہ حضرت خواجہ قدس سرہ نے اس رہائی کی کوشش سے منع فرمایا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چھوڑ دینے کے لیے فرمایا ہے۔
آپ اپنے عقیدت مندوں کو قید وحبس اور رنج والم کے باطنی فوائد بیان فرماکر تسلی دیا کرتے تھے اور اپنی ترقیات جو قید سے متعلق تھیں بیان فرماکر یہ ذہن دیا کرتے تھے کہ یہ کام میرے حق میں ضروری تھا،چناں چہ مکتوب ۵ دفتر سوم میں
حضرت میر محمد نعمان کو تحریر فرماتے ہیں:
‘‘پو شیدہ نہ رہے کہ جس وقت اللہ سبحانہ کی عنایت سے(کہ اس عنایت نے جلال و غضب کی صورت میں تجلی فرمائی تھی)زندان کے قفس میں قید نہیں ہوا تھا ایمان شہودی کی تنگیوں سے پورے طور پر رہا نہیں ہوا تھا اور خیال و مثال کے کوچوں سے پورے طور پر باہر نہیں آیا تھا اور ایمان بالغیب کی شاہراہ میں مطلق العنان(آزاد) نیاز کے ساتھ نہ دوڑا تھا اور حضور سے غیب کے ساتھ اور عین سے علم کے ساتھ اور شہود سے استدلال کے ساتھ بر وجہ کمال پیوستہ نہ ہوا تھا اور دوسروں کے ہنر کو عیب اور دوسروں کے عیب کو ہنر ذوق کامل اور وجدان صحیح سے نہ پایا تھا اور بے ننگی و بے ناموسی کے خوشگوار شربتوں اور خواری و رسوائی کے مزے دار مربوں کو نہ چکھا تھا اور طعن و ملامت خلق کے جمال سے حصہ نہ پایا تھا اور بلدہ لوگوں کی جفا کے حسن سے بہرہ یاب نہ ہوا تھا اور مردہ بدست غسال کی طرح ہو کر ارادہ و اختیار کو بالکلیہ ترک نہ کیا تھا اور تعلق آفاق و انفس کے رشتوں کو تمام و کمال نہ توڑا تھا اور تضرع و التجا،انابت و استغنا اور ذل و انکسار کی حقیقت کو نہ پا سکا تھا اور حضرت حق سبحانہ کے استغناء کے بلند رتبہ خیموں کی عظمت و کبرائی کے سرا پردہ میں چھپے ہوئے ہیں مشاہدہ نہ کر سکا تھا اور اپنے آپ کو بلدہ خوار و زار و ذلیل و بے اعتبار اور بے ہنر و بے اقتدار اور با کمال احتیاج و افتقار معلوم نہ کر سکا تھا۔’’
آپ دیکھ رہے ہیں حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کی بلندیاں اور رفعتیں،عنایات خداوندی نے کس طرح صفات جمال و جلال کے ساتھ آپ کی پرورش فرمائی تھی،اور ہر دکھ میں کس طرح سکھ کا سامان مہیا فرمایا تھا اور قرب و عرفان کی بلند وبالا حدوں تک آپ کو پہنچایا،یہ بظاہر بلائیں کس قدر ظاہری اور باطنی عطائیں لے کر آتی تھیں۔
جن لوگوں نے بھی حضرت مجدد قدس سرہ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ آپ نے آغازہی سے بڑی درد و الم بھری زندگی پائی تھی،حساس قلب سنت کی اشاعت و ترویج اور اسلام و اہل اسلام کے لیے مظالم و ستم ،ایک ساتھ کئی عزیز بیٹوں کا نتقال،اہل و عیال و اعزا و اقربا کی غربت و افلاس،اکتساب فیض کرنے والوں کی دیکھ ریکھ اور ان کے قیام و طعام کے انتظامات،ان کی تعلیم وتربیت اور پھر اپنے مولیٰ جل و علا کی خشیت سے لبریز قلب مگر ہر غم میں شاداں اور ہر دکھ میں فرحاں رہنا ہی آپ کا شعار تھا، ہر الم آپ کے لیے باعث لذت تھا کیونکہ وہ اسے اپنے محبوب حقیقی کی عطا سمجھتے تھے،یہی ہر موڑ پر اپنے مخلصین کو بھی فرمایا کرتے تھے۔
آپ کی حیات مبارکہ میں بڑے بڑے نازک موڑ آئے مگر ہر موڑ پر آپ کا مزاج ہر ایک سے جدا نظر آیا،بہتوں کو دیکھا گیا ہے کہ اپنے اوپر مصائب و آلام برداشت تو کر لیتے ہیں مگر کسی نہ کسی موڑ پر شکوہ بھی صراحتاً یا اشارۃً ہو جاتا ہے یا کم از کم چہرہ پر آثار غم تو نمایاں ہی ہو جاتے ہیں۔
آلام میں لذت کا پہلو سب کو میسر نہیں آتا ہے مگر آپ کو پیہم لذات ملتی تھیں،اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسی مصیبت و تکلیف جو اعدا و حاسدین کو ہنسنے کا موقع دے عموماً نفس پر بہت گراں ہوتی ہے،اسے جھیلنا بہت بڑی بات ہے مگر آپ نے جس طرح جھیلا ہے وہ دیدۂ عبرت سے پڑھنے کے لائق ہے۔
مکتوب ۶ دفتر سوم میں فرماتے ہیں خیال رہے آنے والا فرمان حضرت شیخ بدیع الدین سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کے جواب میں لکھا گیا ہے جب انھوں نے اپنے سلسلے میں خلق کی ملامت اور جفا کا شکوہ کیا تھا،آپ فرماتے ہیں:‘‘جو صحیفۂ شریفہ شیخ فتح اللہ کے ہمراہ بھیجا تھا پہنچا ،خلق کی جفا اور ملامت لکھی تھی،وہ(جفا و ملامت) خود اس جماعت(صوفیہ) کا حسن ہے اور ان کی زنگ کو مانجھنے والی ہے قبض و کدورت کا
باعث کیوں ہو گی ،اوائل حال(میں) کہ فقیر ا س قلعہ میں پہنچا،محسوس ہوا کہ ملامت خلق کے انوار شہروں اور بستیوں سے نوارنی بادلوں کے رنگ میں پے در پے پہنچ رہے ہیں اور کام کو پستی سے بلندی کی طرف لے جارہے ہیں،کئی سال جمالی تربیت سے منازل طے کرائے اب جلالی تربیت سے مسافت طے کرا رہے ہیں اور مقام صبر میں بلکہ مقام رضا میں رہیں اور جمال و جلال کو برابر جانیں۔’’
صبر و ضبط،تحمل و برداشت اور تسلیم ورضا کے بلند اوصاف سے آپ کی زریں حیات مبارکہ بھری پڑی ہے،میں نے چند مواقع سپرد قلم کیے ان مواقع پر آپ نے دیکھا کہ حضرت مجدد قدس سرہ کا کیا مزاج مبارک ہے؟ کتنی زبردست اپنے عقیدت مندوں اور مسلمانوں کو تنبیہ ہے،خدا وند قدوس جو بھی دیتا ہے اس کی حکمتیں ہو تی ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ کو ان مصائب و آلام سے جو کچھ ملا اس کا ایک ہلکا سا خاکہ آپ نے ملاحظہ فرمایا۔