مواد پر جائیں

باب ۱ از ۵۷صفحات ۱۵–۲۸

عرض مرتب

حامداً و مصلیاً و مسلماً

عارف باللہ حضرت شیخ احمد رضا خاں بنارسی،مجددی نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ کے دامن ارشاد سے وابستہ ہونے کے بعد حضور بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمۃ و الرضوان نے اپنے آپ کو تصوف و عرفان کے حوالے کر دیا اور اس عظیم مقصد کی اشاعت و ترویج کے لیےاپنی تمام تر توانائیاں بروئے کا ر ہوئےنیز تا دم زیست شریعت مطہرہ کے ظاہر و باطن سےکشید کیے ہوئے بادۂ عشق و عرفان کے جام بلکہ میخانے کے میخانے لٹاتے رہے ۔

خوش قسمتی سے آپ کو حضرت مجدد الف ثانی کا وہ روحانی سلسلہ مل گیا تھا جس میں نہ صرف پچھلی تمام نسبتیں پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ جلوہ گر تھیں بلکہ دوسرے ہزارے(الف ثانی) کے نئے کمالات و مقامات کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی دراز تھا۔ یہ ایسے کمالات و مقامات تھے جنھیں صرف وہی سمجھ سکتے تھے جو ان پر فائز اور محرم راز تھے۔ باقی جو غیر محرم تھے وہ پہلے بھی سراپا حیرت تھےاور آج بھی ہیں کہ بھلا ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے کہ جو نسبتیں و نعمتیں ماضی کے فلاں فلاں بزرگوں کو حاصل نہ تھیں حضرت مجدد و مجددی درویشوں کو کیوں کر حاصل ہو سکتی ہیں جب کہ ان کے پاس نہ پر مشقت ریاضتیں ہیں، نہ چلے اور نہ ہی تن سوز مجاہدے وغیرہ۔

عقل حیران و پریشان کی انھی بے توفیق افکار و خیالات نے انھیں حضرت مجدد قدس سرہ جیسے شہباز روحانیت و طریقت پر بدزبانی اور بدکلامی تک پہنچا دیا جس کی وجہ سے نہ صرف ان کا ظاہر خسران مبین کا شکار ہوا بلکہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے امتی ہونے کے ناطے الف ثانی کے جن کمالات سے حصہ ملنا چاہیے اس سے بھی محروم رہے۔ فھداھم اللہ

حضرت مجدد الف ثانی کے سلسلے میں تین صدیاں گزر جانے کے بعد جب بدعتیں داخل ہوکر انوار سنت اور روحانی کمالات کو مضمحل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ نے پندرہویں صدی ہجری کے آغاز میں صحابہ و اولیا کی سرزمین، قنوج میں حضور بحر العرفان کو جانشین مجدد الف ثانی بناکر بھیجا جہاں آپ نے نہ صرف دین کے ظاہر کی خدمت کی بلکہ اس کے باطن کی ایسی آبیاری کی کہ حضرت مجدد الف ثانی کے زمانے کی یاد تازہ ہونے لگی۔ آپ نے اپنی توجہات عالیہ سے نہ جانے کتنے سینوں کو مجددی فیضان سے مالا مال کر دیا بلکہ دیگر سلاسل طریقت میں بیعت شدہ جانے کتنوں کو روحانیت کی منزلیں طے کرا دیں۔ لطف کی بات تو یہ کہ آپ کا فیضان صرف متدین ، باشرع اور اہل علم حضرات ہی تک محدود نہ رہا بلکہ راقم کا مشاہدہ ہے کہ بہت سے ایسے بے ریش و بے علم جو آپ کے مراقبات و توجہات میں شریک رہتے تھے ان کے لطائف ذاکر ہو گئے اور انھوں نے ایسی روحانی ترقی کر لی جو آج کے اکثر مدعیان طریقت کو حاصل نہیں چہ جائیکہ اہل ظاہر۔

آپ کا روحانی فیضان صرف دیار ہند تک محدود نہ رہا بلکہ عرب، پاکستان، بنگلہ دیش اور چائنا میں بھی لوگ آپ کے سلسلے کے اذکار و مراقبات سیکھ کر اپنی روحانی تسکین کا سامان فراہم کر رہے ہیں۔ آپ نے تصوف و روحانیت کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک معتد بہ ٹیم بھی تیار کی ہے جہاں آج بھی منزلیں طے ہو رہی ہیں۔ اگر یقین نہ ہو تو عقیدہ و عقیدت کا قبلہ درست کرکے صرف طلب مولیٰ کی نیت سے بادۂ آفاق سے سرمست رندوں کے مراقبات میں بیٹھ کر دیکھیں آپ کو حضرت آفاق کی روحانی اسپرٹ کا اندازہ ہو جائےگا۔

یہ سب در اصل حضرت مجدد کے فیضان نظر کا کمال ہے کہ حضور بحر العرفان کے ذریعہ نہ صرف اکثر مجددی کمالات کی تجدید ہوئی بلکہ الف ثانی کے دیگر

کمالات جو اس دور پرفتن کے لائق تھےاس سے بھی آپ کو حصہ ملا۔ مثلاً آپ کے فیض یافتگان ولایت صغریٰ ،کبریٰ، علیا، اورتطہیر عناصر کے مراقبات بغیر کسی مشقت کے بس کچھ ہی عرصے میں طے کرنے لگے جب کہ آپ سے پہلے ان سب کی میعاد کم از کم چھ سے نو سال تھی۔

جس ذات والا صفات نے حضور بحر العرفان کو اتنی بڑی نعمت کا قاسم بنا دیا ہو بھلا آپ اس کے تعلق سے بے فیض و بے توفیق لوگوں کی یہ بے ہنگم اور بے تکی بات کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ حضرت مجدد کو ‘‘مجدد الف ثانی’’ نہیں کہنا چاہیے بلکہ صرف ‘‘مجدد مأہ’’ کہنا چاہیے۔ لہٰذا آپ نے جدل و مناظرہ کی روش سے ہٹ کر محض عدل و انصاف پر مبنی ‘‘تجدید الف ثانی’’ کے نام سے ایک انوکھی تحریر رہتی دنیا تک کے لیے یادگار چھوڑ دی جو عقیدت سے پرے اور حقیقت کی شاہکار ہے۔ چناں چہ آپ خود فرماتے ہیں:

‘‘ان تمام اقسام سے متعلق حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے تجدیدی کارنامےاور آپ کی تجدید الف ثانی کو ان اوراق میں میں نے اپنے علم ودانش کے مطابق پیش کیا ہے اور اس کا بھی لحاظ کیا ہے کہ کلام بہ اندازہ عقول ہو ورنہ اس شہباز حقیقت کو جنھوں نے تھوڑا بھی پڑھا ہے اور اس حسن زیبا کا جس نے ذرا بھی عکس دیکھا ہے اس کی نظر میں حضرت مجدد قدس سرہ ہمارے اس تعارف سے بہت زیادہ بالا ہیں مگر جنھوں نے انھیں بالکل نہیں پڑھا ہے اور ساتھ ہی ساتھ تنگ نظری کا شکار ہیں ان کے لیے تو یہی برق خاطف سے کم نہ ہوگا۔’’

عرض احوال:

تجدید الف ثانی کا سال تالیف وثوق سےتو پتا نہ ہو سکا اس لیے کہ کسی بھی کاپی میں تاریخ مذکور نہیں لیکن حضور بحر العرفان سے اس سلسلے میں جو گفتگو ہوئی اس

سے اندازہ ہوا کہ آج سے کوئی دس پندرہ سال پہلے تالیف ہوئی۔

‘‘تجدید الف ثانی’’ کا مسودہ سات کا پیوں پر مشتمل ہے جن میں پہلی تین کاپیاں کافی موٹی ہیں اور باقی چار کاپیاں پتلی اور چھوٹے سائز کی ہیں۔

اس حقیر مرتب نے پوری کو شش صرف کردی تاکہ کسی طرح جشن مولیٰ علی رضی اللہ عنہ(منعقدہ ۹و۱۰ مارچ ۲۰۱۹ء) کے پر بہار موقع پر حضرت کی یہ شاہکار تصنیف منظر عام پر لا سکے مگر عین اس وقت پر جب کہ کتاب پریس جانے والی ہی تھی قرائن و شواہد سے یہ پتہ چلا کہ پتلی دو کاپیاں(چوتھی و پانچویں) غائب ہے پہلے تو حضرت کے صاحبزادگان کے ذریعہ کاپی ڈھونڈوائی گئی مگر ناکامی ہوئی،آخر میں حضرت سے بذریعہ موبائل فون بات ہوئی اور صورت حال سے آگاہ کیا، حضرت نے فرمایا: ‘‘کوئی بات نہیں جشن کے بعد تلاش کرلیں گے یا کوئی اور طریقہ نکالیں گے۔’’

میں بھی مطمئن ہو گیا کہ جب حضور بحرالعرفان کی ذات سراپا برکت ہے ہی تو پھر فکر کس بات کی ہے،مگر پھر گردش ایام نے وہ دن بھی دکھایا کہ جب ہم اپنے قافلہ سالار کی تدفین کے بعد اپنے ہاتھوں پر لگی ہوئی مٹیاں دیکھنے کے بعد بھی یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ آج(۹ذی قعدہ ۱۴۴۰ھ مطابق ۱۳ جولائی ۲۰۱۹ء)‘‘ قنوج کی دھرتی کا فلک ’’لحد میں پہنچ گیا ہے۔

الغرض دل نے کہا اور احباب خصوصا جانشین بحر العرفان حضرت مولانا احمد سعید مجددی دام ظلہ کا حکم ہوا کہ اب کو شش کرکے حضرت کے چہلم کے موقع پر ‘‘تجدید الف ثانی’’ کی اشاعت ہونی چاہیے اور جتنا مواد موجود ہے اسی کو غنیمت شمار کرنا چاہیے۔

کام تو شروع ہو گیا مگر بار بار یہی خیال آرہا تھا کہ گم شدہ کاپیوں کی پھر سے

تلاش ہونی چاہیے اسی خیال میں مسلسل کاپی نمبر۱ کو الٹ پلٹ رہا تھا کہ اچانک نظر اس عبارت پر پڑی:

‘‘اس کے بعد حضرت مجدد قدس سرہ کے وہ حالات نقل کیے جائیں جو چھوٹی کاپی نمبر ۱ سے لے کر ۲ کے ص:۹۲ تک پھیلے ہوئے ہیں۔’’

بس اسی تحریر نے روشنی عطا کی اور فوراً چھٹی حس بیدار ہوئی کہ جب مذکورہ دونوں کا پیاں حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے احوال و کوائف پر مشتمل تھیں تو لاؤ‘‘تذکرہ مشائخ مجددیہ’’جو حضرت کی تالیف ہے اور زیادہ تر حصہ غیر مطبوعہ ہے،سے حضرت مجدد قدس سرہ کا تذکرہ نوٹ لگا کر شامل کر لیا جائے تاکہ کسی حد تک بھر پائی ہو سکے اس سلسلے میں ہمارےکرم فرما ڈاکٹر عبد السلام جیلانی صاحب استاذ شعبۂ تاریخ علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ سے مشورہ کیا انھوں نے تائید فرمائی تو حضرت کے چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا برکات احمد آفاقی مجددی نے اسکین کر کے ایک کاپی کے ۷۴ صفحات بھجوائے مگر یہ بھی ادھورا تذکرہ تھا اور آگے کی تلاش شروع ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ یہ کاپی تذکرہ مشائخ مجددیہ کی نہیں بلکہ تجدید الف ثانی کی گم شدہ دو کاپیوں میں سے پہلی کاپی ہے۔

مارے خوشی کے بانچھیں کھل گئیں اور پھر زور و شور سے دوسری کاپی کی بھی تلاش شروع کرادی تاکہ مکمل کتاب چھپ سکے مگر امی جان(حضرت کی اہلیہ محترمہ)دام ظلہا کا حکم ہو ا کہ ابھی اتنا ہی چھپوا دیں جب دوسری کاپی ملے گی تو آئندہ شامل کر لیا جائے گا،لہٰذا اب کتاب اشاعت کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔

تقریباً آٹھ سو صفحات پر مشتمل ‘‘تجدید الف ثانی’’ کی کتابت و طباعت فرد واحد کا کام نہیں مگر درج ذیل تحریر کے ذریعہ حضرت نے اس بے بضاعت سے جو امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اس نے مہمیز کیا:

‘‘(۱)مولانا سید نور عالم کے ذمہ فقیر مجددی کی کتابوں کی کتابت،مقدمہ ،تحشیہ لکھنا ہے،آیات و احادیث کے حوالے،مغلق الفاظ کے معانی اور اصطلاحی الفاظ کی شرح وتعریف داخل ہیں۔(۲)تخصص کے طلبہ کی مقالہ نگاری،ترجمہ نگاری کرانا،رہنما اصول و ضوابط سے آگاہ کرنا اور ان کے مقالے کا معائنہ کرنا،اصلاح کرنا اور عناوین و موضوعات کا انتخاب(کرنا ہے)۔’’

کلمات تشکر وامتنان:

میں صمیم قلب سے شکر گزار ہوں حضرت مولانا دلشاد احمد مصباحی صاحب کا جنھوں نے ‘‘تجدید الف ثانی’’ کی ٹائپنگ وتصحیح و تزئین میں بھر پور تعاون کیا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موصوف نے کئی بار میرے ساتھ پوری رات کام کیا اور فجر کی نماز ادا کرکے سوئے اور آج( ۹ذی الحجہ ۱۴۴۰ھ )جب کہ وہ عید الاضحیٰ کے موقع سے اپنے گھر جا رہے ہیں،کانپور ریلوے اسٹیشن پر اپنی ٹرین کا انتظار کرنے کے ساتھ ساتھ ‘‘تجدید الف ثانی’’ کی فہرست مرتب کرنے کا کام کر رہے ہیں’’ فجزاہ اللہ عنا خیر الجزاء۔

ان کے علاوہ اپنے ہم زلف و کرم فرما حضرت علامہ محمد آصف رضامجددی صاحب اور ان کے برادر صغیر حضرت مولانا محمد شاہد رضا مجددی صاحبان کا میں بے حد مشکور ہوں کہ جنھوں نے بڑے انہماک و توجہ کے ساتھ تجدید الف ثانی کاپی نمبر ۲ کی پروف ریڈنگ فرمائی۔

گزارش:

زیر نظر کتاب چونکہ جلد بازی میں پریس جا رہی ہے اس لیے تخریج و غیرہ کا کام تو نہ ہو سکا البتہ جگہ جگہ مشکل الفاظ کے معانی اور کئی مقامات پر فارسی عبارات کے ترجمے اس حقیر کی طرف سے ہیں جن کی غلطیوں کا میں ہی ذمہ دار ہوں اور

خوبیاں توفیق الٰہی سے ہیں۔

قارئین کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اس کتاب کی پروف ریڈنگ کما حقہ نہیں ہو سکی،نیز کہیں کہیں مشکل عبارت جو سمجھ میں نہیں آ رہی تھی اسے سوالیہ نشان یا ڈیش لگا کر چھوڑ دیا گیا ہے،لہٰذا گزارش ہے کہ جہاں بھی غلطی نظر آئے یا عبارت حل ہو جائے تو برائے کرم مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اصلاح ہو سکے۔ وصلی اللہ تعالیٰ وسلم علیٰ خیر خلقہٖ محمد و آلہٖ و اصحابہٖ و اتباعہٖ الیٰ یوم الدین اجمعین۔

از۔سید نور عالم مصباحی

ریسرچ اسکالر شعبۂ فارسی ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ

E-mail:nooralammisbahi@gmail.com

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اپنی باتیں

تجدید و احیاے دین کی باتیں اور کچھ مجددین کے اسما تو ہم کافی دنوں سے سنتے چلے آئے ہیں مگر کبھی اس موضوع سے کوئی خاص دل چسپی نہ لی،آج سے چند سال پہلے راجستھان کے ایک اجلاس میں ہماری ہی جماعت کے ایک مشہور عالم اور صاحب تدریس وتصنیف اور معمر فاضل سے جب ملاقات ہوئی اور انھیں علم ہوا کہ میں مجددی ہوں تو انھوں نے کئی باتیں نہایت تکلیف دہ کہیں جس میں انھوں نے حضرت مجدد قدس سرہ سے دو ایک باتوں کی وجہ سے عدم عقیدت کا اظہار کیا ،اس کے بعد انھوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ انھیں نہ جانے کیوں مجدد الف ثانی کہتے ہیں مجدد تو مائۃ کا ہوتا ہے لہٰذا مجدد مائۃ کہنا چاہئے نہ کہ مجدد الف ثانی،محترم کی باتوں کا میں نے کوئی جواب نہ دیا مگر دل میں اسی دن پہلی مرتبہ یہ بات آئی کہ تجدید الف ثانی سے متعلق کچھ تحریریں وجود میں آ جائیں تو بہت اچھا ہے اس لیے کہ جب ایسے علما ایسی باتیں کرنے لگے ہیں تو اب علم وتحقیق کا بس خدا حافظ۔

اپنی بے مائیگی، کم علمی اور عدیم الفرصتی کی وجہ سے کبھی مذکورہ ارادے نے کوئی قوت نہ پکڑی، اس موضوع پر کسی کی کوئی مستقل تحریر ہمارے سامنے نہیں تھی اور نہ آج تک ہے جو کچھ کہیں نظر آیا وہ اتنا ناقص کہ بیان سے باہر ہے،مجھے کم نصیبی سے جہاں علم وتحقیق سے کوتاہ دستی ہے وہیں تحریر وتقریر کے فن سے نا واقفیت بھی میرا مقدر ہے اسی لیے اس کام کی ہمت وجرات نہ کر سکا ۔

مجددین کے سلسلےمیں اپنے ہوش سے میں طرح طرح کی باتیں سنتا چلا آیا ہوں اور ہر طرف میں دیکھ رہا ہوں کہ جو جس کا معتقد ہے اور اس سے کسی شعبے میں قدرے نمایاں خدمات انجام کو پہنچ گئیں تو وہ اسے مجدد کہتا تو ہے ہی لیکن

دوسروں سے بھی زبردستی منواتا ہے نیز کسی نے ایک دو شعبوں یا علاقوں میں کوئی نمایاں کام انجام دیا ہو تو اسے تمام شعبوں اور دنیا کا مجدد تصور کرلیا جاتا ہے پھر سب کی خدمتوں پر پانی ڈال کر اسی ایک کےلیے سارے کمالات ظاہری وباطنی تفویض کر دیے جاتے ہیں یہ غلطیاں آج کل عوام نہیں بلکہ خواص کر رہے ہیں،ان بحثوں کی معرکہ آرائی جہلاء کے درمیان نہیں بلکہ علما کے درمیان ہے ۔میں نے ایک نہایت ذمہ دار اور مشہور ومعروف مقرر کی تقریر میں اپنے کا نوں سے سنا کہ وہ روحانیت کے سارے مدارج اور ان پر فائز مختلف اولیاے کرام سب کو ہر مجدد کے تابع ثابت کر رہے تھے ،یہاں تک کہ بعض جگہ اب یہ بحثیں چل نکلی ہیں کہ مجدد اعظم کون ہے؟

میں مزاجا کبھی عوام وخواص سے ان بحثوں میں الجھتا نہیں ہوں اور نہ اس کا کوئی خاص فائدہ میرے ذہن میں ہے اس طرح کی ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں باتیں ہیں جن کا آج کل عام طور پر علما کہلانے والے شکار ہیں جن باتوں کو علم وتحقیق سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ان کے بارے میں وہ جہل مرکب کا شکار ہیں ، الا ماشاء اللہ۔

اس طرح کے پیہم حوادثات سے"تجدید الف ثانی" کی تحریر کے خیال کو تقویت تو پہنچتی رہی مگر عزم کے مرحلہ میں بات آج سے چند دن پہلے آئی جب میں نے ایک ضروری تحریر کے سلسلے میں ایک ذمہ دار عالم جو اپنے علم وفن اور تقویٰ وپرہیزگاری میں مشہور ہیں ہماری جماعت میں اس دور میں ان کی خاصی اہمیت ہے اور لوگ عقیدت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں،میری نظر میں بھی ان کی اہمیت تھی ،موصوف کی کتاب میں میں نے دیکھا کہ تجدید سے متعلق ایسی گفتگو فرمائی جو علم وتحقیق سے کو سوں دور،ہر صدی کے مجدد مقرر کرکے ان کے اسما بھی گنائے اور عموما ہر صدی کا ایک ایک مجدد بیان کیا مگر مجدد الف ثانی کے دور میں تین مجدد

گنائے۔

خارجی قرائن کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ موصوف کو ان دو بزرگوں سے لگاؤ ہے جن کے نام حضرت مجدد کے ساتھ تجدید میں شامل کیے۔

حضرت مجدد، الف ثانی کے لقب سے اتنے مشہور ہوگئے ہیں کہ بہت سارے لوگ آپ کے نام کو نہیں جانتے ہیں،یہ وصف آپ کے لیے اتنا مشہور ہو گیا کہ آج بھی اس تنگ وتاریک دور میں جب لفظ مجدد بولا جاتا ہے تو ہر ایک کا ذہن آپ کی طرف جاتا ہے،آپ کی تجدید اگر ،منجانب اللہ اتنی مشہور ومقبول نہ ہوتی تو شاید موصوف جیسے لوگ قصدا آپ کا نام مجددین کی فہرست سے حذف کردیتے اور تجدید الف تو بڑی بات آپ کے لیے تجدید مائۃ تک کے روا دار نہ ہوتے۔

مگر نا معلوم کیوں کر ‘‘تجدید الف ثانی’’ کی تالیف کا عزم اس قدر شدت پکڑتا گیا کہ ہر وقت ذہن ودماغ میں اسی کے تصورات وخیالات گردش کرنے لگے، میں نے اس کو بزرگوں بالخصوص حضرت مجدد قدس سرہ کی عطا اور حکم سمجھا ،ان کی بارگاہ میں فاتحہ پڑھ کر ایصال ثواب کیا اور روحانیت سے استمداد کرکے آغاز کردیا، آپ یقین مانیں دس پندرہ دن کے اندر اندر وہ سب کچھ ذہن میں آگیا جو کچھ اس موضوع سے متعلق اس تالیف میں سپرد قلم کیا گیا ،کچھ مباحث عین وقت پر ذہن میں آئے،میں اس پر بہت خوش ہوں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے طفیل اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام کی توفیق دی ،اس میں جو خامیاں ہوں وہ میری اور جو کام کی باتیں ہیں وہ سب مجددی فیضان ہے۔

حدیث اور سلف صالحین کی متفرق اور مختصر تحریروں سے جو کچھ ہماری سمجھ میں آیا میں نے نہایت ذمہ داری کے ساتھ سپرد قرطاس کردیا ،حضرت مجدد قدس سرہ سے غایت درجہ محبت ہوتے ہوئے بھی میں نے ہر ایک بات محض عقیدت کا

شکار ہوئے بغیر دیانت داری اور ذمہ داری کی بنیاد پر کہنے کی کوشش کی ہے۔

اس امت میں ہر صدی وہر قرن میں علما وصلحا اور اولیاے کرام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی مختلف شعبوں میں متعدد خدمات ہیں،اپنے اپنے دیار اور اوقات میں کسی نے کم،کسی نے زیادہ تو کسی نے بہت زیادہ تجدیدی خدمات انجام دی ہیں اگر ان کی خدمات کے مختصر جائزے لیے جائیں تو دفتر چاہئے،خداوند قدوس ان تمام پاکیزہ نفوس کو ہم سب کی طرف سےحسب مراتب جزاے خیر عطا فرمائے۔آمین

ہم نے قصدا کسی مصلحت سے ان پاکیزہ نفوس کے نام عموما نہیں لیے ہیں میرے دل میں ہر ایک کی ان کی خدمات کے اعتبار سے اور مراتب ومقامات کے لحاظ سے قدر ہے اور میں نہایت عقیدت ومحبت سے دیکھتا ہوں،حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کی ذات اور کارناموں سے ہماری جماعت کے علما اور خصوصاً عوام کو جو بے اعتنائی ہے ہمیں اس سے شکایت نہیں،یہ اپنا اپنا حصہ ہے جسے جس سے لگاؤ ہوتا ہے وہ اس کی گاتا ہے مگر کم از کم علما کو اس معاملہ میں علم ودیانت سے ہاتھ نہیں دھونا چاہیے اور عدل وانصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے،اس معاملہ میں بڑی بڑی دل آزار باتیں اپنی نا دانی کی وجہ سے کہہ ڈالتے ہیں مگر اس سے ان پا کیزہ نفوس کا کچھ نہیں بگڑتا ہےبلکہ لوگ خود ہی اپنی محرومی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔

علما کو چاہیے کہ وہ ہر تعصب سے بالا تر ہو کر علم وتحقیق سے کام لیں اور کھلے دل سے سب کی جائز خدمات کا اعتراف کریں،اگر کسی وجہ سے کسی شخصیت کے بارے میں انھیں پڑھنے کا موقع نہیں ملا ہے تو اپنے قصور کا اعتراف کرنا چاہیے اور عدم علم کو علم عدم نہیں سمجھنا چاہیے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کے تجدیدی کارناموں سے متعلق اگر کسی کا کام کچھ میں نے دیکھا تو دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں کا دیکھا مگر وہ تحریریں بھی بمشکل تمام

تجدید شریعت تک حاوی ہیں اور تجدید الف ثانی کے بجائے صرف تجدید دکھائی گئی ہے جس سے آپ کی بلند قامت شخصیت کے جملہ عکوس ابھی تک لوگوں کے سامنے نہیں آ سکے ہیں۔

تجدید شریعت کے سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ کے بارے میں اہل علم جو کچھ جانتے ہیں وہ عموما یہاں تک کہ ہندوستان کے حالات مذہبی اس وقت نہایت نازک موڑ سے گزر رہے تھے ،دین الٰہی کے باد سموم نے گلشن شریعت کو مرجھا دیا تھا حضرت مجدد کی کوششوں سے پھر دین کو تازگی ملی اور دین الٰہی ختم ہوگیا،بعض لوگوں کو اس ہندوستانی تجدید شریعت میں بھی حضرت مجدد قدس سرہ کی وحدت بار خاطر معلوم ہوئی تو انھوں نے کافی زور قلم صرف کردیا اور اپنی قلبی بدعقیدگی اور ضلالت کو تحریر میں بھی خوب دخل دیا۔

اب کچھ لوگوں نے تھوڑا قدم حضرت مجدد قدس سرہ کی طرف بڑھایا تو توحید ورسالت کی تقسیم کرنے لگے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے زمانے میں توحید پر کام کی اشد ضرورت تھی کیونکہ دین الٰہی توحید پر بہت حملہ آور تھالہٰذا آپ نے سارا زور توحید پر صرف کیا کیونکہ وقت کا تقاضہ یہی تھا ،جب کہ اگر آپ گہرائی سے دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ اکبر کے دین الٰہی کی وجہ سے توحید سے زیادہ رسالت مجروح ہو رہی تھی،صحابہ کرام خصوصا حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کی عظمتوں اور رفعتوں کے مقدس دامن کو داغدار کیا جا رہا تھا ۔

الغرض ایسی عظیم شخصیت کے بارے میں جس گہری اور باریک نظر کی ضرورت تھی وہ نہیں ڈالی گئی اور جس تحقیق وتدقیق کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت تھی وہ نہیں کیا گیا ،حضرت مجدد قدس سرہ کو سمجھنے کے لیے اور ان کی تجدیدی وسعتیں معلوم کرنے کے لیے فیضان نظر اور گہری وابستگی کی بھی اشد ضرورت ہے وہ

علم وفن اور فضل وکمال کا ایک جہان تھے ،خداوند قدوس نے انھیں مخصوص خدمتوں کے لیے پیدا فرمایا تھا،جن کمالات کو آپ کے ذریعہ منصہ شہود پر لایا گیا ، جن جلووں سے آپ کے ذریعہ اہل زمانہ کو نوازا گیا اور جو نئی نئی بلندیاں اور رفعتیں آپ کے وسیلہ سے اس امت کو حاصل ہوئیں وہ اس تجدید سے بہت آگے ہیں جسے عام طور سے لوگ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں۔

اس ہزار سالہ تجدید میں آپ سے وہی کام لیا گیا جس کے لیے اگلے زمانوں میں اولوالعزم رسل علیہم الصلوات والتسلیمات مبعوث ہوتے تھے،آپ کی تجدید کو تجدید مائۃ سے نہیں بلکہ تجدید الف سے سمجھا جا سکتا ہے جو سو اور ہزار میں فرق ہے وہی تجدید مائۃ اور تجدید الف میں ہے، یہ جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے کسی عقیدت ومحبت یا مبالغہ آرائی اور تصنع وفنکاری نہیں بلکہ حقیقی اور واقعی چیزیں ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کے بارے میں ان کے زمانے سے لے کر بڑوں اور چھوٹوں میں جنھوں نے دھوکہ کھایا وہ اسی بنیا د پر کھایا کہ جن کمالات وحقائق کو آپ نے ظاہر کیا اور جن امور کے کشف واظہار پر آپ مامور تھے وہ آپ کے زمانے کے بڑے بڑوں کی عقل وفہم اور ادراک سے ماوراء تھے،انھیں اس بات پر حیرت واستعجاب تھا کہ جو اکابرین بہت اصحاب کشف ومشاہدہ تھے ان سے ایسے ایسے کمالات کا ظہور نہ ہوا جب کہ وہ زمانے میں سابق، ان کی ولایتوں،کرامتوں اور تصرفات کے عام چرچے ہیں اور دنیا ان کی عظمتوں اور رفعتوں کی قائل ہے۔

ہمارے یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ ایسے بہت ہیں جن سے جو کام دینی ہوئے اور جو رفعتیں انھیں ملیں وہ بہت سے پہلے والوں کو نہیں ملیں،آخر وہاں یہ سوچ کیوں گم ہوجاتی ہے پھر خوبی یہ کہ حضرت مجدد قدس سرہ کا مطمح نظر ہر محاذ پر اور ہر میدان میں شریعت ہے سارے کمالات اور سارے حقائق یہاں شریعت کی کسوٹی

پر پرکھے جاتے ہیں یہاں میزان تو یہ ہے

کل حقیقۃ ردتھا الشریعۃ فہو زندقۃ (یعنی ہر وہ حقیقت جسے شریعت مردود قرار دے دے تو وہ زندقہ ہے)

تب تو یہ حال ہے،جہاں بزرگوں کے معارف شریعت سے ہٹے نظر آئے علماےصالحین نے مناسب تاویلات کرکے ان بزرگوں کے تقدس کو برقرار رکھا اگر کہیں حضرت مجدد قدس سرہ کے بھی معارف غلبہ سکر کی وجہ سے کچھ اسی طرح کے ہوتے تو نہ معلوم اس قسم کے لوگ کیا کیا فتنے کھڑے کرتے مگر یہاں اپنے پرائے سب کے لیے یہی ایک میزان ہے بچپن سے لے کر آخری حیات تک صدق ودیانت،تقویٰ وطہارت اور علم وفضل سب کچھ آشکارا ہے،کاملین کی بشارتیں آپ کی باطنی عظمتوں کی شہادت دیتی ہیں،سبھی کچھ موجود ہیں پھر خوبی بالائے خوبی یہ کہ جن مقامات وکمالات وحقائق کے دعوے کیے ان کے بارے میں صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ میرے کشف صحیح سے یہ ثابت ہیں اور میرے قوی مشاہدہ میں ہیں بلکہ لاکھوں کو انھوں نے اور ان کے فرزندوں نے ان مقامات تک پہنچایا ،ان کو اچھی طرح دکھایا، جن جن چیزوں کا دعویٰ کیا تھا ان سب کو ان اہل نظر ومشاہدہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا آخر کس کس پر اور کہاں کہاں تک شک کیا جائے مگر کوئی کچھ کہے انھیں جانے یا نہ جانے مانے یا نہ مانے وہ تو شیخ سعدی کے اس شعر کے مصداق ہیں؎

وصف ترا گر کند ورنہ کند اہل فضل

حاجت مشاطہ نیست روئے دل آرام را

ترجمہ: اہل فضل تمھاری تعریف کریں یا نہ کریں، محبوب کے چہرے کو سنوارنے والے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔