مواد پر جائیں

باب ۵۲ از ۵۷صفحات ۷۰۹–۷۲۱

کوتاہیاں

ان مشائخ نے غلبہ حال اور سکر میں جو کچھ فرمادیا وہ معذور تھے مگر ان کے مقلدین ومتبعین جو ان کیفیتوں سے دور ہیںوہ معذور نہیں ہوں گے،حقیقت یہ ہے کہ بزرگوں کی ان باتوں نے نماز جیسیاہم عبادت کی دیگر لوگوں کے دلوں سے اہمیت وعظمت و ختم کردیا ،ہوس نفس کے شکار لوگوں نے محض اپنی سستی اور کاہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے بزرگوں کے ایسے اقوال کو سند بنایا۔

حضرت مجدد قدس سرہ سچ فرماتے ہیں:

۔۔۔الفریق یتعلق بکل حشیش وحب الشئ یعمی ویصم

پنے عیوب پر پردہ ڈالنے کے لیے مشائخ کو نشانہ بنایا اس سے معمولی نقصان نہیں بلکہ نماز جیسے رکن اسلام کے سلسلے میں لا پرواہی کرکے جہاں یہ صوفیہ خام نماز کے کمالات سے محروم ہوئے وہیں اس اہم فریضہ کے ترک سے دیگر روحانی نعمتوں سے بھی محروم ہوگئے،رسول اللہﷺ کی شاہراہ چھوڑکر انھوں نے کجی کے وہ راستے اختیار کیے جہاں سوائے بھٹکنے کے اور کچھ ہاتھ نہیں آیا ۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:"کمالات صلاتیہ کی حقیقت اگر تھوڑی بھی ان پر منکشف ہوتی تو ہرگز سماع ونغمہ کا دم نہیں مارتے اور وجدوتواجد یاد نہ کرتے

نماز اورنغمہ:

چوں ندیدند حقیقت رہ افسانہ زدند

اےبرادر!جس قدر فرق نماز اور نغمہ کے درمیان ہے اسی قدر فرق ان کمالات کے درمیان جن کا منشا نماز ہے اور ان کمالات کے درمیان کہ جن کا منشا نغمہ ہے،ہے۔"

آج بھی جو صوفیہ کا حال ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو پہلے تھا ،انھیں سرود ونغمہ کی وجہ سے کچھ احوال تو حاصل تھے یہاں کچھ نہیں سوائے ناچنے کودنے کے،اذان ہورہی

ہےڈھولک بج رہی،جماعت ہورہی ان مستوں کو کوئی فکر نہیں،ہوٹل بازی ہورہی،مرغن غذائیں چل رہی ہیں،عمدہ عمدہ لباس پہنے جا رہے ہیں،غرض جسم کی ساری آرائش کی فکر ہے،ہر نوک پلک درست ہے،اس وقت نہ وجد ہے نہ حال ،ساری بلا صرف نماز پر ہے،بجائے حمدونعت عشقیہ غزلات شہوات وجذبات کو ابھارنے والے اشعار پڑھے جا رہے ہیں،مجمع میں عورتیں بھی ہیں،نو عمر لڑکے بھی اسی کا نام آج صوفیت ہے،یہی ان کی روحی غذا ہے۔

جو ان پر اعتراض کرے وہ خشک ملا ہے،لذیذ کھانوں کے لیے مریدو ں کے گھر ہیں اور نماز کے لیے کعبہ ہے،جو جتنا بڑا نمازی ہے وہ اتنا ہی بڑا صوفی ہے ۔

حیرت تو یہ ہے کہ جن خانقاہوں میں مستقل ان کا سلسلہ قادریہ یا سہروردیہ یا نقشبندیہ ہے جن میں سماع وقوالی کا کسی مرحلے میں گذر نہیں ان خانقاہوں میں بھی اگرکہیں ضمنا چشتیہ سلسلہ آگیا ہے تو بھی عرس میں ڈھولک بج رہی ہے،بلکہ اب عام طور پر عرس قوالیوں کا نام ہوگیا ہے،جن بزرگوں کے عرس ہورہے ہیں انھیں اس سے کوئی گرض نہیں تھی مگر یہ قلندر مرے جا رہے ہیں،مسجدیں ویران ہیں۔سماع ونغنہ کے وقت مریدوں کا ہجوم اور نماز کے وقت سب غائب صرف بےچارے ملا جی،ہائے افسوس صدافسوس!

نماز کی حقیقت:

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:"معلوم رہے کہ نماز ارکان پنجگانہ اسلام کا رکن دوم ہے اور جامع عبادات ہے،ایسا جزء ہے کہ جس نے جا معیت کی وجہ سے کل کا حکم پیدا کرلیا ہے اور جمیع مقربات اعمال کے بلند رتبہ آئی ۔

دولت دیدار کہ سرور عالمیانﷺ کو شب معراج جنت میں میسر ہوئی تھی دنیا میں نزول کے بعد اس جہان کے مناسب وہ دولت ان کو نماز میں میسر ہوئی ،اسی لیے

آپﷺ نے فرمایا: الصلاۃ معراج المومن

(نماز مومن کی معراج ہے)نیز آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:بندہ رب سے سب سے زیادہ قریب نماز میں ہوتا ہے۔

اور سرور کونینﷺ کے کامل متبعین کو اس دولت سے اس جہان میں نماز میں حظ وافر اور کامل نصیب ہے اگرچہ دیدار نہیں ہے کہ یہ دنیا اس کو برداشت نہیں کرسکتی ہے،اگر نماز پڑھنے کا حکم نہ ہوتا تو چہرہ مقصود سے نقاب کون اٹھاتا،اور مطلوب تک طالب کی رہنمائی کون کرتا؟ نماز ہے کہ غمگساروں کو لذت بخشتی ہے،نماز ہے کہ بیماروں کو راحت دیتی ہے۔ارحني يابلال۔۔۔اسی ماجرے سے رمز ہے اورقرة عيني في الصلاة اسی متمنیٰ کی طرف۔"

اذواق ومواجید اور علوم ومعارف اور احوال ومقامات اور انوار والوان اور تلوینات وتمکینات اور تجلیات باکیف وبے کیف اور ظہورات متلونہ(گوناگوں)اور غیر متلونہ ان میں سے جوکچھ نماز سے باہر میں میسر آتا ہے اور حقیقت نماز سے عدم آگاہی کی وجہ سےظاہر ہوتا ہے ان کا منشا ظلال وامثال ہیں بلکہ وہم وخیال سے پیدا ہوتے ہیں۔

جو نمازی کہ حقیقت نماز سے آگاہ ہے ادئے نماز کے وقت گویا دنیوی جہان سے باہر آجاتا ہے اور خروی جہان میں داخل ہوجاتا ہے،لامحالہ اس وقت میں وہ دولت جو آخرت کے ساتھ مخصوص ہے نمازی اس سے حصہ حاصل کرے گا اور اصل سےحصہ ظلیت کی آمیزش کے بغیر حاصل کرتا ہے کیونکہ دنیوی جہان ظلی کمالات پر مقصور ہے،وہ معاملہ جو کہ ظلال سے باہر ہے آخرت کے ساتھ مخصوص ہے،پس معراج سے گریز نہ ہوگا اور وہ(معراج) مومنوں کے حق میں نماز ہے اور یہ دولت اس امت کے ساتھ مخصوص ہے کہ اپنے پیغمبرﷺ کی تبعیت میں کہ معراج کی رات میں دنیا سے آخرت میں گئے اور جنت میں داخل ہوئے اور دولت دیدار (باری تعالیٰ) سے مشرف ہوئے (یہ امت) اس

کمال سے مشرف ہوئی اور اس سعادت سے سعادت مند ہوئی۔ (مکتوب 261ج1)

نماز سے کوتاہی اور لا پرواہی اس گروہ میں غیر معمولی طور پر بڑھ گئی تھی ،سب سے زیادہ قابل افسوس بات یہ تھی کہ کہ ذہن بن گیا تھا کہ نماز میں کئی خاص کمالات کا حصول نہیں ہوتا ہے ،عشق ومحبت کے شعلے،حرارت وگرمی نماز میں نہیں بلکہ سماع ونغمہ سے حاصل ہوتی ہے جو مزاج نبوت سے کوسوں دور تھے اور یہ وبا عام ہو گئی تھی ہر ملک اور ہر خانقاہ میں الا ما شاء اللہ،یہی وجہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے اس پر خاص دھیان دیا اور متعدد مکتوبات میں نماز کی تاکیدات اور معارف واسرار بیان فرمائے اور وہ کمالات ظاہر فرمائے جو صرف اور صرف آپ کا حصہ تھے ،ہزار سال کے بعد آپ کی ذات سے پھر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے،اس لیے آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:

"جان لو!عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے ،یہ وہ کمال ہے جو ہزارسال بعد وجود میں آیا ہےاور آخریت ہے کہ برنگ اول ظاہر ہوئی ہے شاید اس جگہ سے سرورکونینﷺ نے فرمایا ہے:

اولہم خیر ام آخرہم اولہم خیر ام اوسطہم

نہیں فرمایا کیونکہ آ خر کو اول کے ساتھ مناسبت زیادہ دیکھی جو کہ محل تردد ہوئی اورآپ ﷺ نے دوسری حدیث میں فرمایا: اس امت کا بہترین اس کا اول ہے یا آخر اور اس کے درمیان تیرگی ہے،ہاں اس امت کے متاخرین اگرچہ نسبت کی بلندی۔۔۔؟ اور اس امت کے متوسطین میں ہرچند نسبت اس بلندی کے ساتھ نہیں ہے لیکن کثیر ہے بلکہ اکثر ہے ولکل وجھۃ کمیۃ وکیفیۃ

لیکن اس نسبت کی اقلیت نے متاخرین کو بلند درجات پر پہنچا دیا اور سابقین کے ساتھ مناسبت دے دی اور انھیں بشارت دے دی، سرور کونین ﷺ نے وسلم نے

فرمایا:

الاسلام بدا غریبا وسیعود کما بدا فطوبیٰ للغرباء

(اسلام غریب ظاہر ہوا اور عنقریب لوٹ آئے گا جیسے ظاہر ہوا تو خوشخبری ہے غریبوں کے لیے) اور اس امت کی آخریت کا آغاز الف ثانی (ہزاردوم) کی ابتدا سے ہے اس سرور ﷺ کے وصال سے کیونکہ ہزار (سال) کو امور کی تغییر میں عظیم خاصیت ہے اور اشیاء کی تبدیلی میں قوی تاثیر ہے۔

اور چونکہ اس امت میں نسخ وتبدیلی نہیں تھا (اس لیے) لا محالہ سابقین کی نسبت اسی تری وتازگی کے ساتھ متاخرین میں جلوہ گر ہوئی ہے ،شریعت کی تائید اور ملت کی تجدید الف ثانی میں فرمائی، اس کے معتبر گواہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان ہیں۔"

ہر بار اس عبارت کو پڑھ لیں سچ فرمایا آپ نے کہ عاقل کے لیے اشارہ کافی ہے تجدید الفثانی کس چیز کا نام ہے آپ نے اس مختصر میں سب کچھ بتا دیا ۔

جس شخص نے گہرائی کے ساتھ آپ کو، آپ کے کارناموں اورآپ کے معارف وحقائق کو پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ آپ کے وجود مسعود سے وہ تمام نسبتیں پھر سے تازہ ہو گئیں اور اصل شریعت کو وہ جلوہ دیا کہ بیان سے باہر ہے، کوئی مانے نہ مانے مگر آپ کے کمالات پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

جو کچھ آپ نے پڑھا اور جو کچھ آپ پڑھیں گے اس سے جان لیں گے کہ ہزار اول میں کیا کیا ، کن کن حالتوں میں دوسروں سے صادر ہوا،اور حضرت مجدد قدس سرہ نے جو پیش کیا عین شریعت کے مطابق،اور وہ معارف وحقائق جلوہ گر کیے کہ جو اپنی مثال آپ ہیں۔

اوپر والے مضمون کے بعد آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:"اے برادر! یہ بات آج

کے دن اکثر حقائق پر بھاری ہے اور ان کی فہموں سے اور دور ہے ۔اگر برسر انصاف آئیں اور ایک دوسرے کے علوم ومعارف کا موازنہ کریں اور احوال کی صحت وفساد کو علوم شرعیہ کی مطابقت اور ان کی عدم مطابقت کے ساتھ موازنہ کریں اور شریعت ونبوت کی تعظیم وتوقیر کو دیکھیں کہ کس میں زیادہ ہے،شاید استبعاد سے باز آجائیں۔"(تفصیل کے لیے دیکھیئے مکتوب 261)

حضرت مجدد قدس سرہ کے یہ محض دعوے نہیں اور نہ تعلی وخود ستائی ہے، "مقصود ازیں گفتگو اظہار نعمت حق است سبحانہ وترغیب طالبان ایں طریق نہ تفضیل خود بر دیگراں،معرفت خدا جل وعلا برآں کس حرام ست کہ خود را ازکافر فرنگ بہتر داند،فکیف از اکابر دین۔"

بات کہاں سے کہاں چلی گئی ،نماز کی گفتگو چل رہی تھی ،نماز کے سلسلہ میں دو طرح کی خامیاں ان صوفیہ سے ہوئیں ایک تو یہ سمجھ لی گیا کہ نماز بس رب جل وعلا کا فریضہ ہےباقی اصل کمالات تو ریاضات ومجاہدات اور گانے ونغمہ وگیرہ سے وابستہ ہیں اور سی لیے دھیرے دھیرے بعد کے کاہل صوفی تارک صلاۃ ہوگئے،اب تو نعوذ باللہ عوام وخواص سب پر یہ بلا عام ہے۔

دوم یہ کہ نماز میں جو اہتما م ہونا چاہیئے تھا اور جس حضور قلب،خشوع وخضوع اور سنن ومستحبات کی رعایت چاہیئے وہ ختم ہو گئی، اس سے ان صوفیہ کا زبردست روحانی خسارہ ہوا ،یہی وجہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے اس سلسزلے میں اس قدر اہتمام فرمایا ہے کہ بیان سے باہر ہے، جگہ جگہ سنن وآداب بیان فرماتے ہیں اور ان پر خصوصی توجہ دلاتے ہیں۔

مکتوب 266 میں فرماتے ہیں:" نماز دین کا ستون ہے کے فضائل وارکان کو کچھ وارد کیا جاتا ہے ،سنیں! کہ اول اسباغ سے وضومیں چارہ نہیں(یعنی کامل وضو کرنا) ہر عضو

کو تین بار بتمام وکمال دھونا چاہیئے تاکہ سنت کے طور پر ادا ہو اور مسح سر میں استیعاب ہو (یعنی پورے سر کا مسح)اور کانوں اور گردن کے مسح میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے اور پیر کی انگلیوں کا خلال بائیں ہاتھ کی چھنگلی سے ان انگلیوں کئ نیچے سے آیا ہے ،ان کی رعایت فرمائیں،مستحب بجا لانے کو تھوڑا نہ جانیں، مستحب حق ۔۔۔۔۔ جل وعلا اور اس کا پسندیدہ،اگر پوری دنیا حق جل سلطانہ کے مرضی ومحبوب ایک فعل معلوم ہوجائے اور اس کے مقتضیٰ پر عمل میسر آجائے غنیمت ہے()"یہ ایسا ہے جیسےکہ کوئی شخص ٹھیکری کے چند ریزوں کے عوض قیمتی موتی خریدے یا جماد غیر نفع بخش کے لیے روح حاصل کرے ۔

کامل پاکی اور اسباغ وضو کے بعد نماز کہ معراج مومن ہے کا قصد اور اہتمام کرے کہ نماز فرض بے جماعت نہ کرے بلکہ امام کے ساتھ تکبیر اولیٰ فوت نہ کرے وغیرہ وغیرہ کافی مسائل قیام وقرات،رکوع وسجود قومہ وجلسہ سے متعلق بیان فرمائے۔ نماز کے معارف کچھ تجدید طریقت میں اور کچھ تجدید معارف میں بیان ہوں گے،جس سے آپ کو یقین ہو جائے گا کہ جو کچھ آپ نے بیان فرمایا اس کا وجود اگلوں میں نہیں ہے۔

شہود ومشاہدہ:

آپ کافی دیر سے صوفیہ کرام کے اقوال پڑھتے چلے آرہے ہیں،بات کافی طویل ہوگئی ہے چند باتیں اور پڑھ لیں،حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ تمام مسائل جمع کیے جائیں جن کا ظاہر شریعت کے متصادم ومخالف ہونا یا کم از کم غلط معنیٰ کا موہم ہونا ہر ذی علم بہ آسانی سمجھ سکتا ہے،ایسے حالات میں ہر انسان محسوس کر سکتا ہے کہ کیسے مرد مجاہد کی ضرورت تھی ،اور تجدید الف ثانی نے کیا دیا ، آپ ذرہ دیکھیں کہ کیسی کیسی کشفی خطائیں ہوئیں،ہم چند مسائل اور ذکر کرکے آخر میں خطا وغلطی کے اسباب بیان کرکے مضمون ختم کردیں گے۔

حق سبحانہ وتعالیٰ کے شہود ومشاہدہ کے سلسلے میں آپ ذرہ سنیں حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:

"عجائب کاروبار است جمعے از مدعیان ایں راہ بہ ایں شہود ومشاہدہ قناعت ندارند بلکہ ایں شہود را تنزل انگاشتہ دریں نشاء برویت بصری قائل اند می گویند کہ ذات بے چوں واجب الوجود را جل سلطانہ می بینم۔"(مکتوب 272 ج1)

ترجمہ: عجائب کاروبار ہے اس راہ کے دعویداروں میں سے ایک گروہ اس شہود ومشاہدہ کے ساتھ قناعت نہیں رکھتا بلکہ اس شہود کو پستی خیال کرتے ہوئے اس دنیا میں(ماتھے کی آنکھ سے دیدار)رویت بصری کے قائل ہیں کہتے ہیں کہ ذات بے چوں واجب الوجود جل سلطانہ کو ہم دیکھتے ہیں۔

بات صرف یہیں تک نہیں آگے کا حال بہت خستہ ہے ۔

"می گویند کہ آن دولت کہ حضرت پیغمبر مارا ﷺ یکبار در شب معراج میسر شدہ بود مارا ہر روز میسر ست۔"

ترجمہ: اور کہتے ہیں کہ وہ دولت کہ ہمارے پیغمبر ﷺ کو ایک بار معراج کی رات میسر ہوئی تھی ہم کو روزانہ میسر ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:"اور وہ نور جو ان کو دکھائی دیتا ہے اس کو صبح کی روشنی سے تشبیہ دیتے ہیں،اور اس نور کو مرتبہ بے کیفی سمجھتے ہیں اور مراتب عروج کی انتہا اس نور کے ظہور تک تصور کرتے ہیں۔

تعالیٰ اللہ سبحانہ عما یقول الظالمون علوا کبیرا۔

چند سطر بعد فرماتے ہیں اس جماعت کی باتوں سے مفہوم ہوتا ہے کہ اس نور مرئی کو عین حق جانتے ہیں جل سلطانہ اور اس نور کو اللہ تعالیٰ کی ذات تصور کرتے ہیں نہ کہ اس تعالیٰ کے ظہورات سے کوئی ظہور سمجھتے ہیں اور اس کے ظلال سے کوئی ظل جانتے

ہیں،بات کتنی شنیع اور قبیح ہے، حضرت مجدد قدس سرہ کے تیور ملاحظہ فرمائیں:

"وشک نیست کہ آں نور را ذات حق گفتن جل سلطانہ افتراء محض است والحاد صرف وزندقہ خالص نہایت تحمل خداوندی است جل شانہ کہ امثال ایں مفتریان را بہ عذابہائے گوناگوں استعجال نمی فرماید واستیصال آنہا نمی نماید۔"

ترجمہ: اور شک نہیں کہ اس نور کو ذات حق کہنا افتراء محض ہے اور خالص الحاد اور خالص زندقہ، نہایت تحمل خداوندی ہے کہ ان جیسے افتراء کرنے والوں کو مختلف قسم کے عذابوں کے ساتھ جلدی نہیں فرماتا اور ان کو جڑ سے نہیں اکھیڑتا ہے۔

پھر آپ نے متعدد طریقوں سے اس کا رد فرمایا تفصیل کے لیے دیکھیے مکتوب مذکور۔

شہود وحدت در کثرت:

صوفیہ کرام میں مذکورہ بالا قبیح نظر جہاں سے پیدا ہوا اور بات جہاں سے شروع ہوئی تھی وہ ہےشہود وحدت در کثرت یعنی کثرت میں وحدت کا مشاہدہ،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:

"تنزیہ اور تشبیہ کے جمع کے قائلین بعض کہتے ہیں کہ تنزیہ پر ایمان تمام مومنوں کو حاصل ہے ، عارف وہ ہے کہ تشبیہ کے ایمان کو تنزیہ کے ساتھ جمع کرے اور خلق کو خالق کا ظہور دیکھے اور کثرت کو وحدت کا لباس جانے اور صانع کو مصنوع میں مطالعہ کرے خلاصہ یہ کہ خالص تنزیہ کی یوجہ ان جامعان تشبیہ وتنزیہ کے نزدیک نقص ہے اور کثرت کے ملاحظہ کے بغیر وحدت کا شہود عیب، یہ جماعت احدیت صرف کیہ طرف توجہ کرنے والوں کو ناقص شمار کرتی ہے اور ملاحظہ وحدت کو کثرت کے بغیر تحدید(حد بندی)جانتے ہیں اور تقیید(قید کرنا)سمجھتے ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں سبحان اللہ وبحمدہ انبیاء علیہم الصلوات

والتسلیمات کی دعوت تنزیہ صرف کی ہے اور آسمانی کتابیں ایمان تنزیہی کی ناطق ہیں، انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات آفاقی اور انفسی خداؤں کی نفی کرتے ہیں اور ان کے ابطال کی دعوت فرماتے ہیں اور واجب الوجود کہ بے چون وبے چگونہ ہے کی وحدت(یکتائی) پر دلالت(رہنمائی) کرتے ہیں، کسی نے سنا کہ کسی پیغمبر نے ایمان تشبیہ کی دعوت دی ہو،اور خلق کو خالق کا ظہور کہا ہو ؟سارے پیغمبر علیہم الصلوات والتسلیمات توحید واجب الوجود تعالیٰ وتقدس کے کلمہ میں متفق ہیں اور اس سبحانہ کے علاوہ ارباب کی نفی کرتے ہیں،پھر آیت کریمہ: قُلْ یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَقُوۡلُوا اشْہَدُوۡا بِاَنَّا مُسْلِمُوۡنَ کو ذکر کرکے فرماتے ہیں:

"ایں جماعت ارباب بے نہایت اثبات می نمایند وہمہ را ظہورات رب الارباب تخیل می کنند۔

ترجمہ:یہ جماعت بے شمار رب کو ثابت کرتی ہے اور سب کو رب الارباب کے ظہورات خیال کرتی ہے پھر صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے فاسدنظریہ کو قرآن وحدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کی ، ملاحظہ آیات مذکور،آیات وحادیث سے استدلال کا مدلل جواب دینے کے بعد فرماتے ہیں:

اور اس جماعت نے انبیاء علیہم الصلوت والتسلیمات کے مذاق کو شاید سمجھا نہیں ہے کہ ان کی دعوت کا مدار اثنینت(دوئی) پر ہےاور غیر وغیریت کا وجود،ان کی عبارتوں کو توحید ذاتی پر اتارنا تکلفات باردہ(غیر مقبول)سے ہے،اگر در حقیقت ایک ہی موجود ہوتا اور اس ایک کے ماسوا کی عبادت اس سبحانہ کی عبادت ہوتی جیسا کہ اس جماعت نے گمان کیا ہےتو انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کیوں مبالغہ اور تاکید کے ساتھ ان کو منع

کرتے اور ابدی سزائیں (حق کے)ماسوا کی عبادت پر مترتب کرتے،اور ان کے پجاریوں کو دشمنان خدا کہتے۔

اور سنیئے یہ جماعت کیا کہتی ہے؟ "بعضے ازیں جماعہ گویند کہ پیغمبراں علیہم الصلوات والتسلیمات بواسطہ تصور فہم عوام اسرار توحید وجود را پوشیدہ بطنائے دعوت را بر غیر وغیریت کردہ اند ووحدت را پوشیدہ بہ کثرت دلالت نمودہ اند۔"

ترجمہ: اس جماعت کے بعض کہتے ہیں کہ پیغمبروں نے عوام کے قصور فہم کی وجہ سے توحید وجود(ایک وجود ماننا)کو چھپا کردعوت کی بنیاد غیر اور غیریت پر رکھی ہے اور وحدت کو چھپا کر کثرت پر دلالت کی ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘اور یہ بات شیعوں کے تقیہ کی طرح غیر مقبول ہے،پیغمبرعلیہم الصلوات والتسلیمات اس چیز کی تبلیغ کے زیزدہ حقدار ہیں جو نفس الامر کے مطابق ہے،جب نفس الامر میں موجود ایک ہی تھا اور اس کے غیر کے لیے وجود نہ تھا تو کیوں پوشیدہ رکھ کر نفس الامر کے خلاف کا اظہار کیا ،خاص کر وہ احکام جو واجب الوجود تعالیٰ وتقدس کی ذات وصفات وافعال سے تعلق رکھتے ہوں وہ اظہار واعلان کے زیادہ حقدار ہیں،کوتہ نظر لوگ اگرچہ ان احکام کی سمجھ میں قاصر ہوں،کیا تم نہیں دیکھتے کہ متشابہات قرآ نی اور جو احادیث میں متشا بہات ہیں عوام کا کیا شمار خواص بھی جن کی سمجھ سے عاجز ہیں اس کے باوجود انبیائے کرام ان کے اظہار میں ممنوع نہ ہوئے اور غلطِ عوام ان کے اظہار سے مانع نہ ہوا۔’’(تفصیل کے لیے مکتوب مذکور ملاحظہ ہو)

ان صوفیہ نے کس طرح انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے لیے تقیہ ثابت کردیا پھر زیادتی یہ دیکھئے:

‘‘یہ جماعت اس شخص کو کہ جو دو وجود کا قائل ہے اور ماسوا کی عبادت سے پرہیز

کرتا ہے اس کا مشرک نام رکھتے ہیں اور وہ کہ جو ایک وجود کا قائل ہے اس کو موحد کہتے ہیں اگرچہ ہزار بتوں کی پوجا کرے، اس خیال سے کہ یہ حق سبحانہ کے ظہورات ہیں اور ان کی عبادت حق تعالیٰ سبحانہ کی عبادت ہے،انصاف کرنا چاہئے کہ ان دو قسموں سے مشرک کون ہے اور موحد کون؟ انبیاٗ علیہم الصلوات والتسلیمات نے وحدت وجود کی دعوت نہیں کی ہے اور دو وجود کہنے والے کو مشرک نہیں کہا ہے ان کی دعوت وحدت معبود جل شانہ کی ہے اور ماسوا کی عبادت کو شرک کہا ہے،اگر صوفیہ وجودیہ بعنوان غیریت نہیں جانیں گے شرک دفع نہیں کرسکتے ہیں ماسوا ما سوا ہے جانیں یا نا جا نیں’’