باب ۲۲ از ۵۷صفحات ۳۱۲–۳۲۲
حقیقت محمدیﷺ
مکتوب؍۱۲۲، جلد سوم میں فرماتے ہیں: ‘‘حقیقت محمدی علیہ من الصلوات افضلھا و من التسلیمات اکملھا کہ ظہور اول ہے اور حقیقۃ الحقائق ہے اس معنی کر کہ حقائق دیگر کیا حقائق انبیاے کرام اور کیا حقائق ملائکہ عظام علیہ و علیہم الصلاۃ و السلام ظلال کے مانند ہیں اس حقیقت کی بنسبت اور اصل حقائق ہے۔
سرکار علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام نے فرمایا: پہلی وہ چیز جو خدا نے پیدا فرمائی میرا نور ہے اور آپ علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام نے فرمایا: میں اللہ کے نور سے پیدا کیا گیا اور مومنین میرے نور سے۔ پس لامحالہ وہ حقیقت واسطہ ہوگی درمیان باقی حقائق اور درمیان حق جل و علا کے اور کسی کا بھی مطلوب تک پہنچنا بغیر آپ علیہ الصلاۃ و السلام کے واسطہ کے محال ہوگا۔ پس آپ نبی الانبیا و المرسلین ہیں اور آپ کا بھیجنا تمام جہان کے لیے رحمت ہے علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات۔ اسی وجہ سے انبیا اولو العزم باوجود اصالت آپ کی تبعیت چاہتے ہیں اور آپ کے امتیوں میں داخل ہونے کی آرزو کرتے ہیں۔’’
پھر حضرت مجدد قدس سرہ یہ نقطہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ کون سا کمال ہے جو
آپ کے امتی ہونے سے وابستہ ہے، فرماتے ہیں: اور حقیقت محمدی علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کہ حقیقۃ الحقائق ہے جو کچھ مراتب ظلال طے کرنے کے بعد اس حقیر پر ظاہر ہوا ہے (وہ یہ کہ) تعین و ظہور حبی ہے کہ ظہورات کا مبدأ اور خلق مخلوقات کا منشأ ہے، حدیث قدسی میں کہ مشہور ہے ، آیا ہے ‘‘کنت کنزاً مخفیاً فأحببت أن أعرف فخلقت الخلق لأعرف’’ پہلی چیز کہ اس مخفی خزانہ سے منصہ ظہور پر آئی حبّ (محبت) ہی ہے جو کہ پیدائش خلائق کا سبب ہوئی اگر یہ محبت نہ ہوتی تو ایجاد کا دروازہ نہ کھلتا اور عالم عدم راسخ و ثابت رہتا، حدیث قدسی ‘‘اگر تم نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا’’ کا راز خاتم الرسل علیہ و علیہم الصلوات والتسلیمات کی شان میں واقع ہے، اس جگہ تلاش کرنا چاہیے اور ‘‘لولاک لما أظھرت الربوبیۃ’’ اگر تم نہ ہوتے میں ربوبیت ظاہر نہ کرتا’’ کو اس مقام میں طلب کرنا چاہیے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ حضرت شیخ محی الدین ابن العربی قدس سرہ نے صراحت کی ہے کہ حقیقت محمدیﷺ کا تعین اول حضرت اجمال علم قرار دیا ہے خود مجدد قدس سرہ بھی پہلے یہی تحریر فرما چکے کہ تعین اول تعین وجودی ہے اور اس کا مرکز جو کہ اس کے اجزا میں سب سے اشرف اور سابق تر ہے۔ حقیقت محمدی قرار دیا ہے اور تعین حضرت اجمال کو اس تعین وجودی کا ظل جانا ہے اور اس جگہ لکھا ہے کہ تعین اول تعین حبی ہے اور وہی حقیقت محمدی ہے تو دونوں باتوں میں توفیق کیسے ہوگی۔ آپ قدس سرہ جواب دیتے ہیں: شے کا ظل بہت دفعہ اپنے آپ کو اصل شے دکھاتا ہے اور سالک کو اپنے سے گرفتار کرتا ہے۔ پس وہ دونوں تعین (تعین حضرت اجمال علم اور تعین وجودی) تعین اول (حبی) کے ظلال ہیں کہ عروج کے وقت میں عارف پر اصل تعین اول کہ تعین حبی ہے کے ساتھ ظاہر ہوئے۔’’
یہاں ایک بڑا دقیق سوال پیدا ہوتا تھا کہ تعین وجودی کو تعین حبّی کا ظل قرار دیا
ہے جب کہ وجود کو حب پر سبقت حاصل ہے اس لیے کہ حب وجود کی فرع ہے۔ آپ قدس سرہ جواب میں فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رسائل میں تحقیق کی ہے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ اپنی ذات سے موجود ہے نہ کہ وجود سے ور اسی طرح اس کی آٹھ صفات ذات واجب جل شانہ سے موجود ہیں نہ کہ وجود سے،بلکہ وجوب کی بھی اس مرتبہ میں گنجائش نہیں ہے کہ وجوب و وجود دونوں اعتبارات سے ہیں۔ پہلا اعتبار کہ پیدا ہوا ایجاد عالم کے واسطے حب ہے اس کے بعد اعتبار وجود کہ ایجاد کا مقدر ہے کیوں کہ حضرت ذات جل شانہ کو اس حب کے اعتبار کے بغیر اور اس وجود کے اعتبار کے بغیر عالم اور ایجاد عالم سے استغنا ہے ‘‘اِنَّ اللہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیۡنَ’’ نص قاطع ہے۔’’
پھر دو سطر بعد فرماتے ہیں: جاننا چاہیے کہ تعین اول حبی ہے جب اللہ سبحانہ کے فضل سے باریک نظر کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس تعین کا مرکز حب ہے کہ حقیقت محمدی ہے علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام اور اس کا محیط کہ صورت مثال میں مثل دائرہ ہے اور وہ محیط ظل کے مانند ہے اس مرکز کے لیے خلت ہے کہ حقیقت ابراہیمی ہے علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام۔ پس جب اصل آئی اور خلت ظل کی طرح ہوئی اس حب کے لیے اور مرکز و محیط کا یہ مجموع کہ ایک دائرہ ہے تعین اول ہے۔’’
اور موسوم ہے اس کے اشرف و اسبق اجزا کے ساتھ کہ حب سے عبارت ہے (یعنی وہ مرکز و محیط اگرچہ حب اور خلت کا مجموعہ ہے، لیکن اس کا سب سے اشرف اور سابق تر جز حب ہے اسی لیے اس تعین کا نام حب رکھا گیا) اور نظر کشفی میں بھی اصالت کے اعتبار سے اور اس جز کے غلبہ کے اعتبار سے تعین حبی ظاہر ہوتا ہے۔
اور محیط دائرہ چوں کہ ظل کی طرح ہے اس مرکز کے لیے اور اسی مرکز سے ناشی ہے اور وہ مرکز اس کی اصل اور منشا ہے (اس لیے) اگر اس محیط کو تعین ثانی کہیں تو بھی گنجائش رکھتا ہے، لیکن نظر کشفی میں دو تعین نہیں ہیں، ایک تعین ہے کہ حب و
خلت پر مشتمل ہے کہ ایک دائرہ کے مرکز و محیط پر مشتمل ہے اور تعین ثانی نظر کشفی میں تعین وجودی ہے کہ تعین اول کے لیے ظل کے مانند ہے جیسا کہ گزر گیا۔
اور مرکز چوں کہ اصلِ محیط ہوا تو لامحالہ محیط کو مطلوب تک وصول میں مرکز کے توسط سے چارہ نہ ہوگا کیوں کہ مطلوب تک وصول مرکز کی راہ سے ہے کہ دائرہ کا اصل اجمال ہے اس بیان سے حضرت حبیب اللہ کی حضرت خلیل اللہ کے ساتھ مناسبت و اتحاد جاننا چاہیے علیہما و علیٰ جمیع الانبیا و المرسلین الصلوات و التسلیمات۔
اور چوں کہ اصل واسطہ ہے مطلوب تک ظل کے پہنچنے میں لاجرم (یقیناً) حضرت خلیل اللہ نے حضرت حبیب اللہ کا توسط چاہا ہے اور اس کی آرزو کی ہے کہ آپ کی امت میں داخل ہوں جیسا کہ وارد ہوا علیہما و علیٰ جمیع الانبیا الصلوات و التسلیمات اتمہا و اکملہا۔’’
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حضور سرور کونینﷺ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ و السلام جیسے رسول کے لیے واسطہ و وسیلہ اور اصل ہیں تو پھر آقا علیہ الصلاۃ و السلام کو حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کی ملت کی پیروی کا حکم کیوں دیا گیا، قرآن فرماتا ہے:
وَّ اتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا (سورۃ النساء: ۴؍۱۲۵)
حضرت مجدد قدس سرہ نے اس کے دو جواب عنایت فرمائے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ملت ابراہیمی کی پیروی کے حکم اور ‘‘کما صلیت و کما بارکت’’ میں حضرت ابراہیم کی صلوات و برکات کے مثل آپ علیہ السلام کے لیے صلوات و برکات کی طلب سے مقصود اس مقام کا حصول ہے کہ اس مقام تک وصول مقام ابراہیم سے گزرے ہوئے ممکن نہیں اور مقام ابراہیم تک وصول ان کی ملت کی پیروی سے وابستہ ہے کیوں کہ بغیر اتباع ملت اس مقام تک راہ نہیں حضور سرور کونینﷺ کے مقام اور حضرت ابراہیم کے مقام میں ایسی ہی نسبت ہے جیسے محراب اور مسجد میں محراب تک
وصول مسجد سے گزر کر ہی ہو سکتا ہے۔
دوسرا جواب یہ کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ افضل کو مفضول کی پیروی کا حکم دیا جاتا ہے تو اس پیروی سے اس کی افضلیت میں کوئی قصور و فتور لازم نہیں آتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا:
وَشَاوِرْہُمْ فِی الۡاَمْرِ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۵۹)
صحابہ کرام سے مشورہ کا حکم حکم متابعت کو متضمن ہے ورنہ پھر مشورے سے کیا فائدہ ہوگا۔
اس مکتوب گرامی میں ایک جگہ سوال قائم کرتے ہیں کہ حقیقت محمدی حقیقۃ الحقائق ہے اور حقائق ممکنات سے کوئی حقیقت اس کے اوپر نہیں ہے اس حقیقت محمدی سے ترقی جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ ایک مکتوب میں حضرت مجدد قدس سرہ نے خود ترقی کو واقع لکھ دیا، آخر معاملہ کیا ہے؟
آپ قدس سرہ جواب میں ارشاد فرماتے ہیں جائز نہیں ہے کیوں کہ اس مرتبہ (حقیقت محمدی) کے اوپر مرتبہ لاتعین ہے تعین کا وصول و الحاق اس سے محال ہے، بے کیف وصول و الحاق کا قول کرنا محض زبانی بات ہے (یعنی اس کا کوئی وجود و مصداق نہیں) کہ معاملے کی حقیقت تک پہنچنے سے پہلے اس کے ساتھ تسلی کی جاتی ہے، لیکن حقیقت کار تک پہنچنے کے بعد عدم وصول و الحاق کا حکم لازم ہے کہ شک کی اس میں کوئی آمیزش نہیں ہے اور جو میں نے لکھ دیا کہ حقیقت محمدی سے ترقی واقع ہوئی مراد اس حقیقت سے اس حقیقت کا ظل رہا ہے کہ جس کو اجمال حضرت علم کیا ہے اور جس کی تعبیر وحدت سے کی ہے اس وقت میں اصل کے ساتھ ظل کا اشتباہ تھا اور حب محض فضل خداوندی جل سلطانہ سے اس ظل سے اور ظلال سے چھٹکارا حاصل ہوا تو جانا کہ اس حقیقۃ الحقائق سے ترقی واقع نہیں ہے،بلکہ جائز نہیں کہ قدم اس جگہ سے اٹھا نا اور آگے رکھنا وجوب میں رکھنا ہے اور امکان سے باہر آنا ہے جو کہ محال عقلی ہے اور شرعی۔’’
میں نے یہ چند باتیں اس مکتوب گرامی سے نقل کر دیں ،نہایت طویل
مکتوب اور معارف و اسرار کا گنجینہ ہے، آپ بھی مطالعہ کرکے قلب و جگر کو تازگی اور آنکھوں کو روشنی بخشیں اور تجدید الف ثانی کی رحمتیں ملاحظہ فرمائیں۔
سرکار ﷺ کا توسط و عدم توسط:
مشائخ طریقت میں اس بات میں اختلاف ہے کہ فیوض و برکات کے وصول میں حضور سرور کونینﷺ واسطہ ہیں یا نہیں۔ ایک گروہ واسطہ ہونے کا قائل ہے اور ایک عدم واسطہ کا۔ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ارباب ظواہر قریب کہ عدم توسط کو کفر جانیں اور اس کے قائل کی نادانستہ طور پر تضلیل کریں اور توسط کو کمال ایمان تصور کریں اور اس کے قائل کو کامل متبعین سے شمار کریں۔ اس سلسلے میں تحقیق حق اور حقیقت حال کیا ہے ذرا مجددی علم و قلم کی جولانگی ملاحظہ فرمائیں، فرماتے ہیں:
تحقیق مجددی:
‘‘اس مقام کی تحقیق یہ ہے کہ حضور سرور کائنات علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کا توسط (واسطہ ہونا) دو معنی کر ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ حضورﷺ سالک اور مطلوب کے درمیان حائل اور حاجب ہوں۔ دوسرے معنی یہ کہ سالک آپ کے طفیل اور آپ کی تبعیت و متابعت کے توسط سے مطلوب سے واصل ہو، راہ سلوک میں اور حقیقت محمدی تک پہنچنے میں توسط دونوں معنی کے اعتبار سے ثابت ہے، بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس راہ میں مشائخ سے جو بھی درمیان میں آتے ہیں ہر ایک متوسط اور حاجب ہے سالک کے شہود میں، افسوس اگر اواخر حال میں جذبہ اس کا تدارک نہ کرے اور معاملہ پردہ سے بےپردگی تک نہ پہنچے کیوں کہ جذبہ کے طریق میں اور حقیقۃ الحقائق تک پہنچنے کے بعد توسط بمعنی دوم ہے جو کہ طفیل و تبعیت ہے نہ کہ حائل و حاجب ہونا کہ پردہ شہود و مشاہدہ اور انھی کے مانند ہو۔’’
یہاں کسی کو وہم ہو سکتا تھا کہ حقیقۃ الحقائق تک پہنچنے کہ بعد توسط بمعنی حیلولت و
حجاب کا اٹھ جانا ایک قسم کا قصور اور نقص ہے اگر چہ طفیل و تبعیت و متابعت کا توسط ہے آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ عدم توسط حضور نبی کریمﷺ کے کمال کو مستلزم ہے نہ کہ قصور کو مستلزم ہے بلکہ قصور وجود توسط میں ہے کیوں کہ متبوع کا کمال یہ ہے کہ تابع اس کے طفیل اور تبعیت سے جمیع درجات کمال تک پہنچے اور کوئی دقیقہ نہ چھوڑے اور یہ بات عدم توسط میں ثابت ہے نہ کہ وجود توسط میں کہ اس جگہ (عدم توسط میں) شہود بے پردہ ہے جو کہ درجات کمال کا منتہی ہے اور اس جگہ (توسط میں) پردہ میں۔ پس کمال عدم توسط میں ہوا اور توسط میں قصور۔ مخدوم کی شوکت و عظمت سے ہے کہ اس کا خادم کسی مقام میں اس کے پیچھے نہ رہے اور اس کی تبعیت میں اس کے ہمسروں کا شریک دولت ہو جائے۔اسی مقام سے حضورﷺ نے فرمایا ہے ‘‘علماء أمتی کأنبیاء بنی إسرائیل’’ میری امت کے علما بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات۔
آخرت میں دیدارکسی اور کے حائل و متوسط ہوئے بغیر حاصل ہوگا اور حدیث صحیح علیٰ صاحبہ الصلاۃ و السلام میں آیا ہے کہ بندہ جب نماز میں داخل ہوتا ہے تو جو حجاب بندے اور خدا کے درمیان ہوتا ہے اٹھ جاتا ہے، لہٰذا نماز مومن کی معراج ہوئی اور کامل حصہ اس سے منتہی واصل کا ہوا کیوں کہ حجاب اٹھنا واصل منتہی کے ساتھ خاص ہے۔ پس توسط و حیلولت کا ارتفاع ثابت ہوا۔
سبحان اللہ، ایک ایک جملہ بار بار پڑھیے اور حضرت مجدد قدس سرہ الٰہیات و نبوات میں رسائی اور علو مرتبت دیکھیے جو کہ ہر کرامت سے بڑی کرامت اور ہر رفعت سے بڑی رفعت ہے۔ آپ کو یہ معارف سواے اس بارگاہ کے اور کہاں ہاتھ آئیں گے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کی خود فرماتے ہیں: یہ معرفت اس حقیر کے معارف لدنیہ کے خواص سے ہے کہ محض فضل و کرم سے اس کو عطا فرمایا ہے اور اس کی
حقیقت کے ساتھ متحقق فرمایا۔ آپ کو زیب دیتا ہے کہ آپ کہیں؎
من آں خاکم کہ ابر نو بہاری
کند از لطف بر من قطرہ باری
محبوب رب العالمین چنیں باید:
اب ذرا بارگاہ رسلات مآب علیہ الصلاۃ و السلام میں خراج عقیدت و محبت سماعت فرمائیں، آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘مرادوں کی اصل اور محبوبوں کے سردار محمد رسول اللہﷺ ہیں کہ مقصودِ ذاتی مدعوّ اوّلی اس دعوت سے آپ ہیں علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام اور دوسروں کو آپ کے طفیل میں طلب کیا ہے مراد لوگ ہوں یا مریدین۔ اگر آپ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ خلق کو پیدا نہ کرتا اور ربوبیت کو ظاہر نہ کرتا جیسا کہ وارد ہوا اور جب دوسرے تمام لوگ آپ کے طفیلی ہیں اور آپ اس دعوت (اللہ تعالیٰ کی جانب سے طلب و بلاوا جو محبوبوں کا ہوتا ہے) مقصود اصلی ہوئے تو لامحالہ آپ کے سب محتاج ہوں گے اور آپ کے واسطے سے فیوض و برکات حاصل کریں گےعلیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام اور اس معنی کر اگر سب کو آپ کی آل کہیں تو گنجائش رکھتا ہے کہ سب آپ کے پس روْ ہیں اور آپ کے واسطہ کے بغیر کمال حاصل نہیں کر سکتے ہیں کیوں کہ جب سب کے وجود کی آپ کے وجود کے توسط کے بغیر تصور نہیں تو دوسرے کمالات جو کہ وجود کے تابع ہیں آپ کے واسطہ کے بغیر متصور ہو سکتے ہیں علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام۔
انوکھی محبوبیت:
ہاں رب العالمین کا محبوب ایسا ہی چاہیے۔ اچھی طرح سنیں کہ آپ علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کی محبوبیت اس محبت واجبی جل شانہ کے ساتھ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتی ہے، شیون و اعتبارات کے ملاحظہ کے بغیر اور حضرت ذات تعالیٰ اسی محبت سے محبوب ہوا، اس کے برخلاف دوسروں کی محبوبیت کہ اس کے ساتھ ہے
کہ شیون و اعتبار سے تعلق رکھتی ہے یا اسما و صفات سے متلبس یا اسما و صفات کے ظلال سے بحسب تفاوت درجات۔
فإن فضل رسول اللہ لیس لہ
حد فیعرب عنہ ناطق بفم
کیوں کہ رسول اللہﷺ کے فضل کی کوئی حد نہیں کہ کوئی حد بیان کرنے والا منہ سے بیان کر سکے علیہ و علیٰ جمیع اخوانہ من الأنبیاء و المرسلین و الملائکۃ المقربین الصلوات و التسلیمات و التحیات و البرکات’’
سبحانہ اللہ، سبحان اللہ، گنبد خضریٰ کا تصور کرکے حضرت مجدد قدس سرہ کی یہ نعت و صفت بار بار پڑھیے، اپنا ایمان و عقیدہ پختہ اور روشن کیجیے اور دیکھیے آپ کیسے رسولﷺ کے امتی ہیں، آپ اگر ترجمہ کے بجاے خاص حضرت مجدد قدس سرہ کے الفاظ پڑھنا چاہیں تو کیا بات ہے، مکتوب؍۱۲۱، جلد ؍۳ پڑھیے۔
سب کا وسیلہ:
مکتوب مذکور میں فرماتے ہیں: تنبیہ کوئی احمق اس عدم توسط سے کہ جذبہ وغیرہ کے بیان میں کہا گیا ہے بعثت خیر و بشر علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام سے استغنا کا وہم نہ کرے اگرچہ نسبت بہ بعض ہو اور حضور علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کی متابعت و تبعیت کا محتاج نہ ہونا گمان نہ کرے کہ وہ کفر و الحاد اور زندقہ ہے اور آپ کی شریعت حقہ سے انکار ہے علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام اور اوپر گزر گیا ہے کہ جذبہ توسط سلوک کے بغیر کہ (سلوک) شریعت علیٰ صاحبھا الصلاۃ و السلام کو بجا لانے کا نام ہے، ابتر و ناتمام ہے اور عقوبت ہے جو کہ نعمت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے اور جذبہ ناتمام والے پر حجت کو تمام کیا ہے۔
اور خلاصہ یہ کہ کشف صحیح اور الہام صریح بھی تعین کے ساتھ پیوستہ ہو گیا ہے کہ کوئی دقیقہ اس راہ کے دقائق اور کوئی معرفت اس قوم کے معارف سے آپ کے واسطہ
کے بغیر اور آپ علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کے متابعت کے توسط کے بغیر میسر نہیں ہے اور منتہی کو مبتدی و متوسط کی طرح اس راہ کے فیوض و برکات آپ کی تبعیت و طفیل کے بغیر حاصل نہیں؎
محال است سعدی کہ راہ صفا
تواں رفت جز در پے مصطفیٰ
حسن و جمال محمدیﷺ:
جان عالم نور مجسمﷺ سے حضرت مجدد قدس سرہ کی محبت و الفت کی بلندی کا عالم آپ دیکھیے کہ مکتوب؍۱۰۰، جلد سوم میں آپ نے اپنے معارف خاصہ ایک نہایت مدققانہ بحث اور سے حسن یوسف علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کے سلسلے میں بیان کی ہے جس کا کچھ ذکر آگے آئےگا۔ ایک عاشق صادق کی غیرت و محبت اس بات کی کہاں متحمل کہ کسی کے حسن و جمال کا تذکرہ ہو اور اس کے محبوب کا نہ ہو لہٰذا آپ نے اسی مقدس مکتوب کے آخر میں اپنے محبوب کونینﷺ کے بارے میں فرمائے ہیں۔
خاتمہ حسنہ
در بیان
حسن و جمال محمدی علیٰ صاحبھا الصلاۃ و السلام
پھر اپنے اس محبوب اعظمﷺ کا وہ حسن و جمال بیان فرماتے ہیں جس کی وجہ سے محبت پروردگار جل شانہ نے بھی آپ کو اپنا محبوب بنا لیا۔ حضرت مجدد قدس سرہ کا لب و لہجہ اور انداز بیان ایسا ہے جو کسی ترجمہ سے بیان نہیں ہو سکتا ہے، لہٰذا ہم ابتدائی عبارت آپ کے ہی الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
خاتمہ حسنہ دربیان حسن و جمال محمدیﷺ
خاتمہ حسنہ در بیان حسن و جمال محمدی علیٰ صاحبھا الصلاۃ و السلام کہ متعلق محبت پروردگار عالمیاں گشتہ است جل شانہ و او صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بآن جمال محبوب رب العالمین آمدہ حضرت یوسف ہر چند بصباحتے کہ داشت محبوب حضرت یعقوب بودہ است علیٰ نبینا وعلیہما الصلوات و التسلیمات امّا حضرت پیغمبر ما کہ خاتم الرسل بملاحتے کہ دارد محبوب خالق زمین و آسمان است علیٰ نبینا وعلیہم الصلوات و التسلیمات والتحیات و زمین و زمان را طفیل او خلق فرمودہ است کما وردَ۔
ترجمہ: اچھا خاتمہ حسن و جمال محمدی علیٰ صاحبھا الصلاۃ و السلام کے بیان میں کہ عالموں کے پروردگار کی محبت کا متعلَق(جس سے تعلق ہو) ہوا ہے اور آپ اس جمال کی وجہ سے محبوب رب العالمین ہوئے حضرت یوسف ہر چند اس صباحت کی وجہ سے کہ رکھتے تھے حضرت یعقوب کے محبوب ہوتے ہیں علیٰ نبینا وعلیہما الصلوات و التسلیمات، لیکن ہمارے حضرت پیغمبر خدا کہ رسولوں کے خاتم ہیں اس اپنی ملاحت کی وجہ خالق زمین و آسمان کے محبوب ہوئے علیہ وعلیہم الصلوات و التسلیمات اور زمین و زمان ان کے طفیل میں پیدا فرمایا ہے جیسا کہ وارد ہوا۔