مواد پر جائیں

باب ۱۹ از ۵۷صفحات ۲۷۷–۲۸۹

سلسلہ نقش بندیہ

نقش بندیہ سلسلہ کی آپ نے دو پہلو سے تجدید فرمائی۔ ایک تو یہ کہ یہ سلسلہ چوں کہ خالص اتباع سنت پر مبنی تھا اس کا سارا مجاہدہ اور ریاضت، سنت پر کامل طریقے

سےمستقل مزاجی کے ساتھ عمل اور ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کرنا تھا۔ بزرگوں کا مشاہدہ ہے کہ مختلف اعمال و افعال اور ریاضات و مجاہدات کے مختلف انوار و الوان اور مختلف کیفیات و واردات ہیں۔ سنت پر سختی سے عمل نہ تو حال سے مغلوب کرتا ہے، اور نہ ہی بظاہر اس میں کوئی امتیازی شان ہوتی ہے اس لیے اس کی طرف لوگوں کے قلوب کم مائل ہوئے تھے، کچھ نقش بندی حضرات نے دوسروں کی دیکھا دیکھی بعض رسوم و بدعات اس مبارک سلسلہ میں بھی داخل کر دیں تھیں اس کی وجہ سے اس میں وہ فیض اور برکت بھی نہ رہی تھی جو پہلے تھی۔ حضرت مجدد قدس سرہ نے ان تمام رسوم و بدعات سے سلسلہ مبارکہ کو پاک کر دیا اور ٹھیک بنیادوں پر کھڑا کر دیا جو اس کی تھیں۔

دوم یہ کہ یہ سلسلہ آپ کے ظہور سے قبل صرف چند اذکار و مراقبات تک محدود تھا۔ آپ نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان فرماتے ہیں: سلسلہ عالیہ نقش بندیہ جو حضرت خواجہ باقی باللہ‌رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے تک لطائف سبعہ؛ نفی و اثبات، تہلیل لسانی، مراقبہ احدیت، پھر مراقبات مشارب، اور مراقبہ معیت تک محدود تھا، وہ حضرت مجدد قدس سرہ کی برکت سے ولایت کبریٰ، مراقبات کمالات نبوت و رسالت و اولو العزم، مراقبہ حقیقت کعبہ، حقیقت قرآن، حقیقت صلاۃ، معبودیت صرفہ، حقیقت ابراہیمی، حقیقت موسوی، حقیقت محمدی، حقیقت احمدی، حب صرفہ اور لاتعین کے مقامات تک وابستہ ہو گیا ہے۔

یہ چیزیں حضرت مجدد الف ثانی‌رحمۃ اللہ علیہ کے طفیل میں ان کے وابستگان تک پہنچی ہوئی ہیں اور ان کے متعلق کسی نظریاتی بحث و تمحیص کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔(رود کوثر)

سلسلہ مبارکہ کی تجدید کا یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ یہ سلسلہ کم لوگوں میں اور بہت کم شہروں اور ملکوں میں تھا مگر آپ نے اس قدر فروغ دیا کہ پورے عالم میں پہنچا دیا اور

لوگوں کے دلوں میں اس قدر عظمت پیدا کر دی کہ بیان سے باہر ہے۔

حقائق پر اطلاع:

اشیا کی حقیقتوں تک پہنچ جانااور ہر ایک کی خاصیت جان لینا یہ بہت بڑا کمال ہے۔ بعض بزرگوں نے حضور سرور کونینﷺ کی یہ دعا نقل فرمائی ہے:

اللھم ارِنا الأشیاء کما ھی (اے اللہ ہمیں چیزیں دکھا جیسی کہ وہ ہیں)

عقائد و اعمال یا دیگر امور میں انسان راہ راست سے عام طور پر ہٹتا ہے حقیقت کا پتا نہ ہونے کی وجہ سے، دنیا میں جتنے گمراہ فرقے ہوئے عقائد و اعمال میں نئی راہیں پیدا کیں وہ صرف معالے کی تہہ اور حقیقت تک نہ پہنچنے ہی کا نتیجہ ہے۔ آپ جب تک کسی شے کی حقیقت تک نہیں پہنچیں گے اس وقت تک اس کے بارے میں صحیح راے اور صحیح نظریہ قائم نہیں کر سکتے ہیں۔

جن علما و مشائخ میں اعتقاد و عمل کی جو خرابیاں پیدا ہوئیں ان کا اکثری سبب یہی ہے کہ وہ حقائق تک نہیں پہنچ سکے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے دور میں عقائد و اعمال کی خرابیوں کو آپ ایک حد تک پڑھ چکے علما اور صوفیہ سے جو کچھ بھی کوتاہیاں ہوئیں وہ اسی بنیاد پر کہ وہ حقائق سے ناآشنا تھے۔ صوفیہ اثناے راہ میں پیش آنے والے امور و خیالات کو ترتیب دیتے رہے، رفتہ رفتہ ایک انبار جمع ہو گیا اور عقائد میں اس حد تک امور جمع ہو گئے کہ عقائد صوفیہ کے نام سے باضابطہ تحریر ہونے لگے، اعمال میں جو کچھ ہوا اسے آپ تجدید تصوف میں پڑھیں گے، جن علما پر فلسفہ کا رنگ غالب ہوا اور عقلیت کو دخل دینے لگے، وہ راہ راست سے ہٹنے لگے اور بالآخر گرے تو کوسوں دور جا پڑے۔ دور اکبری آپ ایک مرتبہ پھر پڑھ لیں اور پھر آپ سوچیں کیا ایسے حالات میں ایسے مرد مجاہد کی ضرورت نہیں جو ایک طرف رموز شریعت کا بہترین شناور ہو اور دوسری طرف حقائق و معارف میں، روحانی عروج و ارتقا میں، کشف و مشاہدہ میں ن

نقطہ آخر پر پہنچا ہوا ہو تاکہ جو کچھ دوسروں نے بیان کیا اس کی بھی پوری خبر رکھتا ہو کہ کہاں سے بیان کیا اور کیا بیان کیا، جہاں جہاں سے دوسرے گزرے تھے یہ بھی گزرے، جو دوسروں نے دیکھا ہو یہ بھی اچھی طرح دیکھے اور اس مسافت کی آخری منزل پر پہنچ کر پورے راستے کے نشیب و فراز بیان کر دے، دنیا کو ایسی ہی رہبری کی ضرورت تھی اور وہ مالک رحمت جل و علا نے غایت کرم سے عنایت فرمایا جس نے ولایت و نبوت کی ساری شاہراہیں لوگوں کے سامنے رکھ دیں، تمام مراحل و منازل کی کیفیات بیان کر دیں، ہر دقیق سے دقیق چیز کو بھی دیکھ لیا، دوسروں نے جو کچھ بیان کیا تھا اس سے سوا بیان کر دیا اور لوگوں کو دکھا دیا کہ اس طویل راہ میں کیا کیا گل کھلتے ہیں اور انجام کیا ہوتا ہے۔ ہم چند حقائق آپ کے سامنے رکھتے ہیں جس سے آپ کو حضرت مجدد قدس سرہ کی سمجھ کی رسائی معلوم ہوسکےگی۔

آپ کے رب نے آپ کو حقائق پر اطلاع اس قدر عطا فرمائی تھی کہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہوگی، ہم یہاں ‘تجدید حقائق و اسرار’ کے عنوان کے تحت کچھ سپرد قلم کرتے ہیں تاکہ آپ کی تجدید کا یہ گوشہ بھی بالکل اجنبی نہ رہ جائے۔

تجدید حقائق و اسرار

آپ قدس سرہ کے بیان کردہ حقائق و معارف سننے سے قبل چند نہایت اہم امور

ذہن نشین کر لیں:

کمالات کا اظہار:

حضور سرور کونینﷺ جامع جمیع کمالات الٰہیہ ہیں جیسا کہ آپ پڑھ چکے، اسی طرح آپ کو اللہ تعالیٰ نے علوم اولین و آخرین عطا فرمائے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: أوتیتُ علم الأولین و الآخرین

آپ ہر وصف میں اول، بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ کائنات میں جتنے بھی اصحاب کمال آئے، وہ سارے کمالات جو انھیں دیے گئے وہ سب آپ کے کمالات کی تفصیل تھے۔ آپ روز اول سے اللہ عز وجل کے خلیفہ مطلق ہیں اور روز آخر تک رہیں گے۔ آپ کے کمالات و علوم و خلافت کا اظہار پہلے انبیاے کرام علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کے ذریعہ ہوتا رہا اور آپ کے بعد آپ کے جانشین و نائبین آپ کی امت کے علما و صلحا و اولیا ہوئے۔ ہر دور میں ان علما و مشائخ نے بقدر استعداد و ظرف کمالات حاصل کیے اور حسب موقع ان کا اظہار کیا۔

کچھ علما علوم ظاہری کی نشر و اشاعت میں مصروف و مشغول ہوئے اور قرآن و سنت سے وہ علوم اور احکام اور ان کے اسرار و اصول و فروع مستنبط کر کے امت تک پہنچائے کہ سب پر سبقت لے گئے، پھر ان میں کچھ وہ تھے جو عقائد و کلام کی طرف متوجہ، کچھ احکام و مسائل کی طرف، حدیث و قرآن کی شرح و تفسیر کی طرف، کچھ دیگر علوم و فنون کی طرف اور علوم باطنی کو اولیا و مشائخ نے بقدر ظرف و استعداد حاصل کیا اور امت پر حسب موقع بیان کیا، ان مشائخ و اولیاے کرام نے خود اپنے فضائل و مناقب اور مناصب و مراتب بھی بیان کیے اور اسرار و معارف بھی ۔ اگر اس کی تفصیل کی جائے تو بات کافی طویل ہو جائےگی۔

حضرت مجدد قدس سرہ کے دور میں عقلیت کی آمیزش اور باہمی اختلاف اور

صوفیہ کا کشفی خلاؤں کی وجہ سےعقائد میں جو تذبذب پیدا ہو گیا ۔ غلبہ سکر میں بعض بزرگوں سے جو اقوال صادر ہو گئے ان سے خام صوفیہ جو شریعت کو بے اعتبار ثابت کر رہے تھے۔ حضرت شیخ ابن العربی نے اثناے راہ کے مکشوفات کو جس کثرت سے بیان کر دیا تھا اور لوگوں نے ان کی صحیح مراد تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے جو دھوکے کھائے ان سب کی وجہ سے اس دور کا تقاضا یہی تھا کہ آپ کے ذریعہ صحیح کمالات منصہ شہود پر جلوہ گر ہوں، شریعت پر اعتماد پختہ اور مضبوط ہو، نبوت و ولایت کی قدریں دلوں میں بیٹھیں۔ اکبری الحاد نے اسلام کو جس تذبذب کا شکار کر دیا تھا وہ دور ہو اور یقین کی شاہراہ لوگوں کو ہاتھ آئے، باطن سے متعلق علوم حقہ جلوہ گر ہوں، یہی سب امور تھے۔ اس کے علاوہ بہت حکمتیں تھیں جن کی وجہ سے کثرت سے حضرت مجدد قدس سرہ سے کمالات کا ظہور ہوا اور ایسے ایسے حقائق و معارف کا ظہور ہوا جنھیں آپ دیکھیں گے کہ شریعت کے عین مطابق، شریعت کے مؤید، یقین و اعتماد کو پختہ کرنے والے تھے جن کی نظیر آپ کو کسی کتاب میں نہیں ملےگی۔ یہ آپ کی زبردست تجدید کی بین دلیل ہیں۔

اقسام حقائق و اسرار:

حضرت علامہ بدر الدین قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘واضح ہو کہ مبدأ فیاض سے جو کچھ معارف و اسرار حضرت مجدد قدس سرہ کے باطن شریف میں وارد ہوتے تھے ان کی کئی قسمیں ہیں:

۱۔ایک قسم تو وہ ہے کہ آپ ان کو دل سے زبان تک نہیں لائے اور رمز و اشارے سے بھی کبھی ظاہر نہیں کیا، مثلاً حروف مقطعات اور متشابہات قرآنی کی تاویل جو آپ پر منکشف ہوئی تھی۔

۲۔ دوسری قسم وہ ہیں کہ ان کا اظہار صرف اپنے صاحب زادوں سےخاص طور پر

کیا اور دوسروں کو اس میں شریک نہیں فرمایا اور تحریر بھی نہیں فرمایا۔

۳۔تیسری قسم کے معارف وہ ہیں جن کو آپ نے ان مریدوں سے جو کاملین اصحاب میں سے تھے بیان فرمایا اور ان کے اظہارکے وقت خلوت ہوتی تھی اور دروازہ بند کر لیا جاتا تھا اور اگر اتفاقاً کوئی اور شخص آجاتا تو آپ سکوت فرماتے اور روے سخن کو بدل دیتے اور بقیہ اسرار کو کسی دوسرے وقت بیان فرماتے کہ ہر شخص ان کا ادراک نہ کر سکے۔

۴۔چوتھی قسم یہ ہے کہ سائل کچھ دریافت کرتا تو عام فائدے کے لیے (عموماً و شمولاً) تحریر فرمادیتے۔ آپ کے رسالے مکتوبات جو تین دفتروں میں ہیں اور بڑی برکتوں والے ہیں اسی چوتھی قسم پر مشتمل ہیں اور ان میں سے ہر معرفت دل کے بیماروں کے لیے شفا اور مہجوروں کے لیے وصال ہے۔

آپ کے رسائل و مکتوبات کی تفصیل لکھنے کے بعد فرماتے ہیں: ان میں مطالب کی باریکی، عبارتوں کی مشکلات، تحقیق اسرار اور تدقیق رموز اس درجہ ہیں کہ ان سے آپ کی شان کی بلندی اور درجات کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے اور آپ کی کرامت و بزرگی کا پتا چلتا ہے۔

تحریر حقائق کا طریقہ:

صاحب حضرات القدس فرماتے ہیں: حقائق کی تحریر و تقریر میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب تک ان علوم کے ماخذ سے مطلع نہ ہو جاتے آپ ان کا تذکرہ ہرگز نہ فرماتے اور جب تک کوئی بات (تحقیق کے ساتھ) منکشف نہ ہو جاتی اسے بیان نہ فرماتے۔ چناں چہ بعض مخلصین آپ سے اکثر خضر و الیاس علیہما السلام کے متعلق دریافت کرتے تو آپ سکوت فرماتے۔ ایک مدت کے بعد جب ان دونوں برگزیدہ بزرگوں سے ملاقات ہو گئی تو اس وقت ان سوال کرنے والوں کو جوابات تحریر

فرماتے۔ اسی طرح بعض احباب آپ سے حضرت یوسف کے ساتھ حضرت یعقوب (علیہما السلام) کی محبت کا سبب دریافت کیا کرتے تھے تو آپ خاموش رہتے اور معلومات بہم نہ پہنچاتے، لیکن جب اللہ پاک کی طرف سے اس معمے کا حل معلوم ہو گیا تو آپ نے بیان فرمایا اور تحریر فرما دیا اور سائل کو بھی وہ اسرار لکھ بھیجے۔

بعض محرمان اسرار نے قصہ النحل کے اسرار فریافت کیے جو ایک مکتوب میں درج ہیں اور جس فاضل کے نام وہ مکتوب لکھا گیا ہے وہ دنیا والوں میں پھنسا ہوا ہے اور خوف تھا کہ بیمار دل والوں کی جماعت میں وہ بات باعث شورش نہ ہو جائے (تو آپ خاموش ہو گئے) پھر آپ نے یہ شعر پڑھا؎

یا رب اس غنچہ خنداں کو تو واپس لے لے

کہیں حساد چمن کی نہ نظر لگ جائے

آپ کی توجہ کی برکت سے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں حوالہ کر دینے سے پھر اس معاملے نے سر نہ اٹھایا اور کوئی شخص نہ سمجھ سکا۔

بسا اوقات ایسا ہوتا کہ بعض اکابر کے ایسے اقوال جو بظاہرموافق شریعت نہ ہوتے تھے اور ملحدانہ طینت والے لوگ ان اقوال کو تکاسل کی دستاویز بنائے ہوئے تھے، آپ زیر بحث لاتے اور ان کی صحیح تاویل، موافقت شریعت میں فرما دیتے یا اگر توجہ میں ظاہر ہوتا کہ وہ قول غلبۂ فکر و حال کی وجہ سے زبان سے نکل گیا تھا یا اس میں خطاے کشفی ہوئی ہے تو آپ اسی طرح ان کا اظہار فرما دیتے تھے، لیکن آپ خطاے کشفی کو خطاے اجتہادی کی طرح قابل تقلید قرار نہیں دیتے تھے اور اگر کم علم اور ناقص فہم والے لوگ اس کے اثبات میں شدت کرتے ہوتے تو پھر آپ حمیت اسلام اور غیرت مومنانہ اور حضور انورﷺ کی کمال متابعت کی وجہ سے اس کا رد تحریر فرماتے۔ چناں چہ آپ نے وراے انفس و آفاق کے سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے وہ اسی

نوعیت کا ہے اور اسی طرح کی وہ تحریر ہے جو آپ نے سید الطائفہ‌رحمۃ اللہ علیہ کے اس کلام کی تشریح میں لکھی ہے کہ ‘‘حادث جب قدیم سے متصل ہو جاتا ہے تو اس میں حدوث کا اثر باقی نہیں رہتا ہے۔’’

معارف کی بلندی:

حضرت مجدد قدس سرہ اپنے اسرار و معارف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ‘‘یہ معارف جو تحریر میں آگئے ہیں (اللہ پاک کی رحمت سے) امید ہے کہ سب الہامات رحمانی ہیں کہ اس میں شیطانی وسوسوں کے شائبے کی بھی مطلق مجال نہیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ فقیر نے جب ان علوم کی تحریر کا ارادہ کیا تو میں نے بارگاہ خداوندی میں التجا پیش کی، دیکھا کہ ملائکہ کرام (علیٰ نبینا و علیہم السلام) اس مقام سے شیطان کو دفع کر رہے ہیں اور اس کے قریب بھی ان کو آنے کا موقع نہیں دیتے۔

تحریر معارف کا سبب:

چوں کہ نعمتوں کا اظہار کرنا بھی بہت عظیم خوبیوں میں سے ہے۔ اکابرین نے اس نعمت کے اظہار کی جرأت کی۔ اللہ پاک سے امید کرتا ہوں کہ یہ چیز عجب و تکبر سے دور رہے اور عجب کی گنجائش بھی نہ رہے کہ اللہ پاک کی عنایت سے اپنی برائی اور خامی ہر وقت پیش نظر ہے۔ ایک سبب یہ بھی تحریر معارف کا ہے ‘‘کہ اس طرح بار وجود سے آرام پاسکیں (طبیعت بھی بہل جائےگی) چناں چہ آپ نے لکھا ہے کہ ایک جماعت نے بار وجود سے تسکین کے لیے سماع و رقص کو اختیار کر لیا اور ایک جماعت نے خود کو تصانیف میں مصروف کر لیا اور اس طرح خود کا بار ہلکا کر لیا۔

اور ان اسرار کو قلم بند کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ پر ظاہر کر دیا گیا تھا کہ آپ کی مرقومات حضرت امام مہدی‌علیہ السلام کی نظر سے بھی گزریں گی اور ان کے نزدیک بھی مقبول ہوں گی اس لیے آپ نے بہت لکھا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

‘‘علوم و معارف (الہامیہ) بہت عظیم نشانیوں میں سے ہیں اور خوارق میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں اس لیے معجزۂ قرآنی تمام معجزات سے زیادہ قوی اور پائدار ہوا۔ آنکھیں کھول کر دیکھو کہ یہ تمام علوم و معارف جو ابر نیساں کی طرح برس رہے ہیں وہ کہاں سے آتے ہیں؟ یہ علوم جو اس کثرت سے ہیں اور بال برابر بھی علوم شرعیہ سے انحراف کی گنجائش نہیں رکھتے اپنے اندر صحت کی خاص نشانی رکھتے ہیں۔ ہمارے حضرت خواجہ (باقی باللہ) قدس سرہ نے لکھا ہے کہ تمھارے تمام علوم صحیح ہیں۔’’(حضرات القدس)

آپ کے بیان کردہ علوم و معارف میں کہیں کہیں بظاہر ناظر کو اختلاف اور تناقض نظر آئےگا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے علما کی تحقیق کبھی کبھی بدل جایا کرتی ہے۔ آپ قدس سرہ خود فرماتے ہیں: ‘‘اگر علوم و معارف کے بیان کرنے میں کہ وہ احوال و مواجید کے ترجمان ہیں کہیں کوئی تناقض یا اختلاف معلوم ہو تواسے اوقات کے مختلف ہونے پر اور حالات و کیفیات کے جداگانہ ہونے پرمحمول کرنا چاہیے کیوں کہ ہر وقت احوال و مواجید بھی مختلف ہوتے ہیں اور ہر مقام میں علوم و معارف بھی جداگانہ ہوا کرتے ہیں۔ پس صحیح یہ ہے کہ ان میں تناقض یا اختلاف نہیں ہوتا۔ ان کی مثال احکام شرعیہ کی طرح ہے کہ وہ منسوخ اور تبدیل ہونے کے بعد متناقض نظر آتے ہیں، لیکن جب اوقات اور حالات کے انقلاب پر نظر کی جاتی ہے تو وہ تناقض اور اختلاف رفع ہو جاتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں، پس شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔’’(حضرات القدس)

اب آپ چند معارف و حقائق سماعت فرمائیں جن سے ایمان کو جلا، عقل کو نور اور قلب کو سرور حاصل ہوگا اور علوم کی دولت سے مالامال ہوں گے، اگر کہیں کچھ اشتباہ رہ جائے تو اسی مکتوب کی طرف رجوع کریں جس سے میں نے اقتباس کیا

ہے۔

حقیقت باری تعالیٰ:

مکتوب اول جلد دوم میں آغاز کرتے ہوئے یوں تعارف فرماتے ہیں:

‘‘الحمد للہ الذی جعل الامکان مراٰ ۃََ للوجوب وصیرا لعدم مظہرا للوجود،والوجوب والوجود و إ ن کانا صفتئ کمال لہ سبحانہ فہو تعالیٰ ورائہما بل وراء جمیع الاسما والصفات و وراء جمیع الشیون والعتبارات و وراء الظہور والبطون و وراء البروز والکمون و وراء التجلیات والظہورات و وراء کل موصول ومفصول و وراء المشاہدات وا لمکاشفات و وراء کل محسوس و معقول و وراء کل معقول و وراء کل مو ہوم ومتخیل فہو سبحانہ وراء الوراء ثم وراء الوراء ثم وراء الوراء’’

چگویم باتو از مرغے نشانہ

کہ با عنقا بود ہم آشیانہ

زعنقا ہست نامے پیش مردم

زمرغ من بود آں نام ہم گم

یعنی تمام خوبیاں اس اللہ کے لیے جس نے امکان کو وجوب کا آئینہ بنایا اور عدم کو وجود کا مظہر کیا،اور وجوب و وجود اگر چہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال ہیں،پس اللہ تعالیٰ ان دونوں سے ورا بلکہ تمام اسما وصفات سے ورا،جمیع شیونات اور اعتبارات سے ورا اور ظہور وبطون سے ورا،بروز وکمون سے ورا،تجلیات وظہورات سے ورا،ہر موصول ومفصول سے ورا،مشاہدات اور مکاشفات سے ورا،ہر محسوس ومعقل سے ورا اور ہر موہوم ومتخیل سے ورا تو وہ سبحانہ وراء الورا ہے،پھر وراء الورا اور پھر وراء الوراء۔

واقعہ:

لطف کی بات یہ کہ ایک بار قیم طریقہ احمدیہ حضرت مرزا جانجاناں شہید دہلوی

رحمۃ اللہ علیہ آقائے کا ئنات ﷺ کے جمال جہاں آرا سے مشرف ہوئے،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: حضور! حضرت مجدد قدس سرہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان جیسا میری امت میں دیگر کون ہے؟(مثل ایشاں در امت من دیگر کیست؟) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے مکتوبات نظر مبارک سے گزرے ہیں؟ فرمایا : اگر کچھ یاد ہو تو پڑھو! بندہ نے آپ کے مکتوبات کی یہ عبارت کہ انہ تعالیٰ وراء الوراء ثم وراء الوراء پڑھی،آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے بہت پسند کی اور لطف اندوز ہوئے،فرمایا:پھر پڑھو! میں نے پھر یہ عبارت عرض کی،آپ نے پہلے سے زیادہ تعریف فرمائی،یہ حالت دیر تک رہی۔(مقامات مظہریہ ص:۵۹)

مکتوب ۲۲ جلد ۳ میں فرماتے ہیں:

‘‘حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ نفس وجود میں اور توابع وجود کے تمام کمالات حیات،علم،قدرت،سمع،بصر،ارادہ،کلام اور تکوین میں اپنی ذات اقدس کے ساتھ کافی ہے اور ان کمالات کے حصول میں صفات زائدہ کا محتاج نہیں ہے،ہر چند صفات کاملہ زائدہ بھی اس کے لیے ثابت ہیں،پس اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی ذات اقدس کے ساتھ موجود ہے نہ کہ وجود سے،اسی طرح اپنی ذات سے زندہ ہے نہ کہ حیات سے کہ اس کی صفت ہے اور اپنی ذات سے دانا ہے نہ کہ صفت علم سے اور اپنی ذات سے بینا ہے نہ کہ صفت بصر سے اور اپنی ذات سے سننے والا ہے نہ کہ صفت سمع سے اور اپنی ذات سے توانا ہے نہ کہ صفت قدرت سے اور اپنی ذات سے ارادہ کرنے والاہے نہ کہ صفت ارادہ سے اور اپنی ذات سے گویا اور کلام کرنے والا ہے نہ کہ صفت کلام سے اور اپنی ذات سے ایجاد کائنات کا مبدأ ہے نہ کہ صفت تکوین سے۔’’

اثبات صفات ضروری کیوں:

یہاں ہر کوئی سوال کر سکتا تھا کہ کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات تمام کمالات کے حصول میں کافی ہے تو پھر صفات کیوں ثابت کی جاتی ہیں،جس سے تعدد قدما کا قول لازم آتا ہے اسی لیے فلاسفہ اور معتزلہ نے ذات پر اکتفا کیا اور وجود تعدد قدما سے گریختہ رہے جس کی وجہ سے نفی صفات کے قائل ہو گیے۔

حضرت مجدد قدس سرہ جواب میں فرماتے ہیں کہ حضرت ذات تعالیٰ وتقدس ہر چند حصول کمالات میں کافی ہے لیکن اشیاء کی تکوین اور تخلیق میں صفات زائدہ سے چارہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات غایت درجہ پاکی اور تقدس میں ہے اور انتہائی درجہ عظمت وجلال وکبریائی میں کمال غنا اس کے لیے ثابت ہے اور اس کو اشیا کے ساتھ مکمل بے مناسبتی ہے انّ اللہ غنیٌّ عن العٰلمین اور حکمت کے مقتضیٰ اور عادت کے موافقت کی وجہ سے افادہ واستفاضہ میں مستفید ومستفیض کے ساتھ مناسبت سے چارہ نہیں تھا۔

صفات ہی میں جنھوں نے ایک درجہ تنزل فرماکر ظلیت پیدا کر لی ہے اور اشیا کے ساتھ مناسبت اگر چہ کسی درجہ کر حاصل کرلی ہے اگر صفات کا توسط حائل نہ ہوتا،اشیا سے کسی شئ کا حصول متصور نہ ہوتا کیونکہ انوار حضرت ذات تعالیٰ وتقدس کے شعاعوں کے غلبات میں اشیا کو سوائے ہلاکت وفنا اور انحراف وانعدام کے کوئی نصیب نہیں ہے۔

وہ لوگ فکر سے عاری ہیں جو صفات کو ثابت نہیں کرتے ہیں اور اشیا کے ایجاد کو ذات بحت جل سلطانہ کے ساتھ منسوب کرتے ہیں’’ اسی مکتوب مبارک میں اس موضوع سے متعلق نہایت فاضلانہ بحثیں ہیں مگر نہایت دقیق ہونے کی وجہ سے میں نے بس انھیں پر اکتفا کیا ہے۔