مواد پر جائیں

باب ۵ از ۵۷صفحات ۷۸–۸۸

فتنہ رفض وتفضیل

قیدوں نے تو بزرگوں کی مقرر کی ہوئی ساری حدوں پر چھلانگ لگا دی اور وہ کچھ کر دکھایا کہ آج کی قوالیوں کی محفلیں دیکھ کر ہر سمجھدار ماتم کناں ہے،اسلام کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں پھر بھی سب سے بڑا قرب الٰہی کا ذریعہ یہی ناچ گانا ہے۔

(25) جمعہ وجماعات کا ترک،عبادت سے عدم دلچسپی یہ صرف آج ہی کے صوفیوں کا طریقہ نہیں،ذکر وفکر اپنے مزعوم کے مطابق ہی خدا تک وصل کا ذریعہ ہے باقی کچھ نہیں اس کی بنا بہت پہلے پڑ چکی تھی ،فرائض وسنن میں سستی وکاہلی اور اربعینات (چلے) وریاضات میں مقصود کی تلاش وجستجو اور اس کا حصول پہلے ہی سے ذہنوں میں بسا ہوا ہے،فرماتے ہیں:

''صوفیہ خام ذکر وفکر را از اہم مہام دانستہ در اتیان فرائض وسنن مسا ہلات می نمایند،واربعینات وریاضات اختیار نمودہ ترک جمعہ وجماعات می کنند''

یعنی صوفیہ خام ذکر وفکر کو سب سے اہم جان کر فرائض وسنن کی ادائیگی میں سستی کرتے ہیں اور اربعینات(چلہ کشی)وریاضات اختیار کرکے جمعہ اور جماعتیں چھوڑتے ہیں۔

اس زمانے کے خامکاروں نے تو فریب کو نقطہ آخر تک پہنچا دیا اور ترک جمعہ وجماعات پر ایسا پردہ ڈالا کہ بڑے بڑے عیار ومکار حیران وششدر رہ گئے،سب کو یہی تاثر دیتے ہیں کہ ان کی نماز تو کعبہ میں ہوتی ہے بھلا ایسی مقدس نماز ان عام مسجدوں اور ان کے اماموں کے پیچھے کہاں ہو سکتی ہے،اسی لیے تو حضرت مجدد قدس سرہ کو لکھنا پڑا:

''پیران ایں وقت از خود بے خبر اند ایمان را از کفر جدا نمی توانند کرد'' یعنی اس زمانے کے پیر اپنے سے بے خبر ہیں ایمان کو کفر سے جدا نہیں کر سکتے ہیں۔

(26)ان خامکاروں کے لذت نفس کا ایک اور رخ ملاحظہ فرمائیے،جس کے

ذریعہ انھوں نے ہر خوبصورت لڑکے اور لڑکی اور دیگر مظاہر جمیلہ کو تاکنے اور دیکھنے کا بہترین جواز تلاش کر لیاتھا اور شہوات وجذبات کی چنگاریوں کو شعلہ بنانے والی ہر غزل اور گانے کو سننے کا نیک راستہ تلاش کر لیا تھا:

''بعضے از صوفیہ بہ مظاہر جمیلہ ونغمات مستحسنہ گرفتار اند بہ تخیل آنکہ ایں جمال وحسن مستعار از کمالات حضرت واجب الوجود تعالیٰ وتقدس کہ دریں مظاہر ظہور فرمودہ است وایں گرفتاری را نیک ومستحسن انگارند بلکہ راہ وصول تصور می نمایند''

ترجمہ:بعض صوفی حسین وجمیل صورتوں اور نغمہ میں گرفتار ہیں یہ خیال کرکے کہ یہ حسن وجمال حضرت واجب الوجود کے کمالات سے مستعار ہے کہ ان صورتوں اور پیکروں میں اس نے ظہور فرمایا ہے ،اس کی گرفتاری نیک اور اچھا جانتے ہیں بلکہ راہ وصول تصور کرتے ہیں۔

جب ان حسینوں کو دیدار خدا تک پہنچنے کا سبب اور ذریعہ بنا دیا گیاکیونکہ سب میں وہی ظاہر ہے سب اس کی تجلیاں ہیں تو اب کیا تھا نفس پرستی وشہوت رانی کی تمام راہیں کشادہ ہو گئیں حجابات اور غض بصر کے سارے احکام کا خاتمہ کتنے حسین انداز میں کردیا گیا بلکہ یہ تاثر دے دیا گیا کہ ان کی وجہ سے نرے لوگ معرفت سے محروم ہو گئے ورنہ نا معلوم ان کے ذریعہ کتنی آسانی سے ہر ایک کو منزل عرفان حاصل ہو جاتی۔

ذرا ان کا حال دیکھیے صوفیہ کرام کے یہاں المجاز قنطرۃ الحقیقۃ یعنے مجاز حقیقت کا پل ہے،عارفوں نے اسے کسی مقام کے لیے کہا تھا مگر ان صوفیہ خام نے اپنی ہوس نفس کا اس سے پورا سامان مہیا کرلیا:

''ابلہان صوفیہ خام معنیٰ ایں عبارت را نہ فہمیدہ غلط کردہ گرفتاریہا بصور جمیلہ پیدا کنند وبعشوہ ولال اینہا فریفتہ گردند بطمع آنکہ آنرا وسیلہ وصول بحقیقت سازند ومعراج حصول مطلوب نمایند''

ترجمہ: کچھ بے وقوف صوفیہ خام نے اس عبارت کے معنیٰ نہ سمجھے،غلط کرکے حسین صورتوں کے ساتھ لگاؤ پیدا کیا اور ان حسینوں کے ناز نخروں اور اداؤں پر فریفتہ ہو گئے،اس لالچ میں کہ ان کو حقیقت تک وصول کا ذریعہ بنائیں اور حصول مطلوب کی معراج حاصل کریں۔

کچھ احمق تو ان حسینوں کو ذریعہ ووسیلہ ہی سمجھتے رہے مگر ان میں جو زیادہ من چلے تھے وہ تو یہاں تک پہنچ گئے:

''جمعے ازینہا حسن وجمال این صورت را حسن حق دانستہ جل شانہ گرفتاری بہ اینہا گرفتاری بہ حق می دانند ومشاہدہ آنہا را مشاہدہ حق می انگارند''

ترجمہ:کچھ بے وقوفوں نے ان صورتوں کے حسن وجمال کو حق کا حسن وجمال جانا جل شانہ،ان کے ساتھ گرفتاری بعینہ حق کے ساتھ گرفتاری جانتے ہیں اور ان کا مشاہدہ حق کا مشاہدہ سمجھتے ہیں'' اب ظاہر ہے جب وہ حسن نہاں اس طرح عیاں ہے تو پھر وعدہ فردا آخر کس لیے ہے حیرانی ہونی بھی چاہیے تھی:

''بعضے ازینہا گفتہ اند؎

امروز چوں جمال تو بے پردہ ظاہر است

در حیرتم کہ وعدہ فردا برائے چیست

(مکتوب 66 ج3)

آج کے دن جب تیرا جمال بے پردہ ظاہر ہے تو میں حیران ہوں کہ کل (آخرت) کا وعدہ کس واسطے ہے۔

یہ تو شریعت کے متعلق عقائد واعمال تھے جنھیں ہوس کا نشانہ بنایا جارہا تھا ، کون تھا جو ان کی زبان پر لگام لگاتا،جبہ ودستار کے رعب سے ہر ایک ڈرتا تھا کہ کہیں ان کی بد دعائیں ہلاک نہ کر دیں،باطن کے ڈھونگ نے عوام کو بے وقوف سمجھ کر

انھیں خوب حلقہ ارادت میں سمیٹا،رہ گئے علما تو وہ بے چارے کرتے ہی کیا ان کی سنتا کون تھا ،ان ہی کا ڈرتھا تو ان کا راستہ یہ کہہ کر صاف کردیا گیا کہ علما وصوفیہ کی کبھی نہیں بنی،انھوں نے منصور کو دار پر چڑھوایا اور سرمد کو شہید کروادیا۔

آپ دیکھتے جائیے اس ہزار سال میں کیا کیا گیا، سارے کمالات کا حصول جس شریعت سے سرور کون ومکاں ﷺ نے وابستہ فرمایا تھا اس کے خرمن پر اس طرح بجلیاں گرائی جارہی تھیں،پھر ان کی گفتگو کے لب ولہجے بھی دیکھنے کے لائق ہیں،علما تو بے چارے استدلالی مشہور ہی ہیں مگر یہ خام لوگ کس عیاری سے اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کر رہے تھے اور اولیاے کاملین کی سکر ومستی میں نکلی ہوئی باتوں کے کس قدر ناجائز فائدے حاصل کر رہے تھے مزید کچھ آ گے آئے گا اب ان کی روداد کو یہیں ختم کرتے ہیں۔

فتنہ رفض وتفضیل:

ہندوستان میں جب اسلام آیا تو یہ علم و فضل اور مذہب حق اہل سنت وجماعت کا گہوارہ رہا،حضرت مجدد قدس سرہ اپنے رسالہ رد شیعہ میں ہندوستان کی علمی ومذہبی تاریخ بڑے مختصر انداز میں یوں تحریر فرماتے ہیں''لیکن جس وقت سے ہندوستان میں اسلام ظاہر ہوا ہے اور بادشاہان اسلام نے غلبہ پایا ہے اور مشائخ عظام واولیائے کرام اطراف وجوانب سے تشریف لائے ہیں معالم دینی اور اسلامی نشانات زماں زماں ترقی اور زیادتی پر ہیں اور تمام ممالک پر ایک وجہ سے نہیں بلکہ کئی وجوہ سے مزیت (خصوصیت) وفضیلت رکھتا ہے کہ اس کے تمام باشندے اہل اسلام سے عقیدہ حقہ اہل سنت وجماعت پر ہیں اور اہل بدعت وضلالت کا کوئی نشان ان میں ظاہر نہیں ہے،اور پسندیدہ طریقہ حنفی رکھتے ہیں،حتیٰ کہ اگر بالفرض کوئی شخص جو کہ مذہب شافعی یا حنبلی رکھتا ہو ڈھونڈیں تو نہ پائیں اور ہر چندے مذاہب اہل حق کے ہ

ہیں لیکن خواہشات نفس وبدعت سےراہ گریز پرکاربند ہیں"

اس کے بعد آپ حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کے چودہ شعر فارسی کے نقل فرماتے ہیں جن میں انھوں نے نہایت دلکش انداز میں ہندوستان کی مذہبی وملی اسلامی تاریخ بیان فرمائی ہے،پھر فرماتے ہیں:

''تقریبا پانچ سو سال اسی طرح ولطافت کے رہے یہاں تک کہ خاقان اعظم عبد اللہ خاں کے بعد کہ شیعوں نے اس دیار میں غلبہ وشیوع پیدا کر لیا تھا بعض مقتول ہوئے اور بعض دوسرے جلا وطن ہو کر ہندوستان آئے اور یہاں کے حاکموں اور بادشاہوں سے قربت پیدا کی ،بعض نادانوں کو گڑھے ہوئے مقدمات اور ملمع شدہ مغالطات سے گمراہ کیا اور ہر چند اقلیم خراسان میں فتنہ وفساد سرد پڑ گیا اور مسلمانوں نے اس کی شرارت سے چھٹکارا حاصل کیا لیکن ان بد کیشوں کے برے قدم آنے سے دیار ہند میں مسلمانوں میں بڑا فتور واقع ہوا اور فتنہ پورے طور پر پیدا ہوا''

یہ ہے مختصر تاریخ اس فتنہ شیعہ کی جس نے ہندوستان کی پر سکون مذہبی فضا کو مسموم کردیا پھر کیا تھا ان اسلام کے رہزنوں کا سلسلہ ایسا شروع ہو ا کہ ہر ایک گویا ہندوستان کے لیے بھوکا بیٹھا تھا،ادھر بد قسمتی سے جب ہمایوں نے 1540ء میں شیر شاہ سے شکست کھائی اور کافی دنوں تک وہ سندھ اور راجپوتانہ کے ریگستان میں مارا مارا پھرتا رہا یہیں عمر کوٹ کے مقام پر خانہ بدوشی کے ایام میں اکبر پیدا ہوا،جب وہ مایوس ہو گیا تو اس نے ایران کا رخ کیا اور وہاں کے بادشاہ شاہ طہماسپ صفوی نے خوب آؤ بھگت کی،وہاں ہمایوں کافی عرصہ رہا پھر اس کے تعاون پر 1545ء میں قندھار پھر 1550ء میں کابل فتح کرلیا اور پھر 1555ء میں ہندوستا ن کا رخ کیا اور دہلی، آگرہ پر قابض ہو گیا۔

ہمایوں نے مدد واعانت کے لالچ میں شیعوں سے بہت کچھ قربت اختیار کر لی

تھی یہاں تک کہ بعض مورخین نے اسے شیعہ تک لکھ دیا ہے بہر کیف صفوی نے جو مدد کی اس کی منت شناسی میں شیعوں کو خوب فروغ حاصل ہوا،بیشمار علما،شعرا،سپاہی اور امرا ہندوستان میں ہمایوں کے ساتھ داخل ہوئے،بعض مورخین لکھتے ہیں کہ صفوی نے ہمایوں کی امداد ہی اس شرط پر کی تھی کہ وہ شیعہ عقائد واعمال کی ترویج واشاعت کرے گا۔

ہمایوں کے بعد ان کی اس وقت بہت آمد شروع ہوئی جب شاہ اسماعیل ثانی نے 1576 میں مذہب اہل سنت وجماعت اختیار کر لیا،عقائد اہل سنت کے اس عارضی فروغ نے ان کی حیات کی دنیا تنگ کردی تو انھیں ہندوستان ہی اپنا ماویٰ وملجا نظر آیا۔

ہمایوں کے دور حکومت میں زیادہ تر عمل دخل شیعوں کا ہو گیا تھا ،یہاں تک کہ ہمایوں کا وزیر بیرم خان خود شیعہ تھا،اکبر کے دور میں سب سے پہلے شیخ الاسلام کا عہدہ شیخ گدائی نے سنبھالا یہ خود شیعہ تھا ،اس طرح انھیں اکبر کے عہد میں فتنہ رفض وتشیع کو فروغ دینے کا زبر دست موقع ہاتھ آگیا،پھر یہ فتنہ بڑھتا ہی رہا یہاں تک کہ جہانگیر کے عہد میں پورے شباب پر پہنچ گیا یہاں تک کہ تزک جہانگیری میں نورالدین جہانگیر کا یہ اعتراف موجود ہے:

‘‘در دولت پادشاہی من حالا در دست ایں سلسلہ است پدر دیوان کل،پسر وکیل مطلق دختر ہمراز ومصاحب’’

یعنی اب میری ساری بادشاہی اسی سلسلہ(نور جہاں اور اس کے گھر والوں) کے ہاتھ میں ہے،اس کا باپ دیوان کل ہے اور بیٹا(نور جہاں کا بھائی آصف خان)وکیل مطلق اور بیٹی(نورجہاں) ہمراز وہم صحبت۔

شاہی امور پر اس طرح تسلط اور قبضہ کے بعد انھوں نے کیا کچھ نہیں کیا مذہب

حق اہل سنت وجماعت کو مٹانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی،اس تباہ کن اور ہولناک منظر کو دیکھ کر حضرت مجدد قدس سرہ کا کلیجہ منھ کو آتا تھا غیرت اسلامی اور محبت دینی وایمانی کے جوش نے رات ودن کا سکون چھین لیا تھا،خلفاءِ ثلاثہ و حضرت عائشہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق ان کے مختصر عقائد ونظریات بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘ ایں فقیر ہر چنددر مجالس ومعارک مشافہۃ بہ مقدمات معقولہ ومنقولہ رد آنہا کرد وبر غلطہاے صریحۂ ایشان اطلاع می داد اما حمیت اسلام ورگ فاروقیم بہ ایں قدر رد والزام کفایت نہ کرد و شورش سینۂ بے کینہ تشفی نیافت بہ خاطر فاتر قرار یافت کہ اظہار مفاسد ایشان وابطال مطالب ایں بد کیشاں تا زمانے کہ در قید کتا بت ودر۔۔۔ تحریر نہ در آید فائدۂ تمام ونفع عام نہ بخشد’’(رسالہ رد شیعہ)

ترجمہ: اس فقیر نے ہر چند مجلسوں اور مناظروں میں روبرو معقول ومنقول مقدمات کے ذریعہ ان کا رد کیا اور ان کی کھلی ہوئی غلطیوں پر اطلاع دی مگر اسلام کی حمایت اور میری رگ فاروقی نے اس قدر رد والزام پر کفایت نہ کی اور بے کینہ سینہ کے جوش نے تشفی نہ پائی تو منتشر دل نے ٹھان لیا کہ ان کے فسادات کا اظہار اور بد کیشوں کے مطالب کا ابطال جب تک قید کتابت اور محل تحریر میں نہیں آئے گا اس وقت تک پورا فائدہ اور عام نفع نہیں بخشے گا۔

یہ فتنہ اتنا زبردست تھا کہ جاہل ونادان جہاں اغواء واضلال کے پر فریب دامن میں آرہے تھے وہیں بڑے بڑے عابد وزاہد ومتقی اہل علم بھی یک گونہ متاثر ہو رہے تھے ،کیونکہ یہ فرقہ آغاز ہی سے مو قع شناس رہا ہے اور عیاری ومکاری میں نقطۂ آخر پر فائز رہا ،تقیہ ان کا شعار رہا۔

نہایت ہو شیاری سے ان لوگوں نے اپنا کام کیا، شاہی خزانوں کے منھ کھول

دیے تھے ،جود وعطا کے نام پر لوگوں کو قریب کرکے اپنی عیاریوں پر پردہ ڈال کر دام فریب میں پھانستے تھے ،اور جہاں جیسا موقعےدیکھتے تھے ویسی بولی بولتے تھے، اس فتنہ نے تفضیلیت کو جنم دیا اور نرے وہ علما وصلحا جو ان کے عقائد باطلہ کے حامل تو نہ ہو سکے مگر حضرت عثمان پر حضرت علی کی تفضیلیت کے قائل ہو گئے رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔

اسی فتنے کا اثر ہے کہ نرے سادات شیعہ مذہب کے پیروکار ہو گئے کیونکہ بزعم خویش حضرت علی اور ان کی نسل پاک سے سچی محبت کے دعویدار یہی تھے ،ہر شخص کو فطری طور پر اپنے بزرگوں سے لگاؤ ہو تا ہے،میرے خیال میں اسی چیز نے سادات کو ان سے قریب کیا اور وہ غلط فہمی کا شکار ہو گئے،آج اس دور جہالت میں میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ وبا عام ہوتی جا رہی ہے اکثر وہ جگہیں جہاں اس فرقۂ ضالہ سے قرب مکانی ہے وہاں دیکھا جاتا ہے کہ کٹر سنی ہو کر بھی حضرت امیر معاویہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں طرح طرح کی موشگافیاں کرکے توہین وتنقیص کے مرتکب ہو تے ہیں،تفضیل علی رضی اللہ عنہ کا اظہار کرتے ہیں یا کم از کم اعتقاد رکھتے ہیں۔

اب ذرا ان عقائد ونظریات کی ایک مختصر فہرست بھی دیکھ لیں جن کی ترویج واشاعت میں شاہی عملہ کے ساتھ ساتھ ان کے بڑے بڑے گرو اور پیر مغاں اور علم وفن اور زہد وتقویٰ کا ظاہری لبادہ اوڑھ کر ایمان وعقائد حقہ کی نقب زنی کر رہے تھےاور چھوٹے بڑے سبھی کشت زار ہندوستان کو تباہ وبرباد کرنے کے چکر میں تھے۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے انھیں جمع کرکے انھیں چودہ قسموں میں بیان کیا ہے اور ان کے مختصر عقائد بھی ہر فرقے کے الگ الگ بیان کئے ہیں،انھیں سے طائفۂ سبائیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت علی خدا ہیں اور ابن ملجم نے حضرت علی کو نہیں شہید کیا تھا بلکہ شیطان کو قتل کیا جو کہ حضرت علی کی صورت میں آیا تھا،حضرت علی

بادل میں ہیں بادلوں میں جو کڑک ہو تی ہے یہ انھیں کی آواز ہے اور بجلی جو چمکتی ہے وہ انھیں کا کوڑا ہے یہی وجہ ہے کہ اس فرقہ کے لوگ جب بادل کے گرجنے کی آواز سنتے ہیں تو کہتے ہیں علیک السلام یا امیر المومنین!۔

ان میں سے طائفۂ کاملیہ کے لوگ صحابۂ کرام رضوان اللہ اجمعین کو کافر کہتے ہیں اس وجہ سے کہ انھوں نے حضرت علی کی بیعت ترک کی اور حضرت علی کی تکفیر کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنا حق طلب کیوں نہیں کیا ؟

ان ہی سے ایک گروہ تناسخ کا قائل ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کی روح نے سب سے پہلے حضرت آدم میں حلول کیا اس کے بعد حضرت شیث اور اسی طرح انبیاے کرام وائمۂ عظام میں یہاں تک کہ یہ سلسلہ حضرت علی اور ان کی اولاد پر جا کے ختم ہوا،اس کے بعد عبداللہ میں اس نے حلول کیا،یہ گروہ قیامت کا ،منکر ہے اور محرمات کو حلال جانتا ہے۔

ان ہی میں سے ایک طائفۂ منصوریہ ہے جو کہتا ہے کہ نبوت منقطع نہیں ہوئی اور جنت اس امام سے عبارت ہے جس کی محبت کے ہم مامور ہیں اور دوزخ سے مراد وہ شخص ہےجس کے بغض کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور محرمات سے مراد وہ طائفہ ہے جن کے بغض کے ہم مامور ہیں۔

ان میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ جنت دنیا کی نعمتیں ہیں اور دنیا کے آلام نار یعنی دوزخ ہیں،دنیا ہر گز فانی نہ ہو گی اور محرمات وترک فرائض کو یہ لوگ جائز ومباح سمجھتے ہیں۔

ان میں ایک فرقہ اسماعیلیہ ہے جو باطن قرآن کا قائل ہے،ظاہر سے انکار کرتےہیں،ان کا کہنا ہے کہ باطن کو ظاہر کے ساتھ وہی نسبت ہے جو مغز کو چھلکے سے،اور جو ظاہر سے استدلال کرتے ہیں وہ اس عذاب کا شکار ہیں جو اوامر کے بجا لانے

اور نواہی سے پرہیز کرنے میں ہے،محرمات کو یہ بھی مباح کہتے ہیں،محمد مہدی کو رسول خیال کرتے ہیں،ان کی اصل دعوت شرائع واحکام کا ابطال ہے،احکام شرع میں شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں،حائضہ عورت پر روزوں کی قضا کیوں ہے نماز کی کیوں نہیں؟غسل منی سے کیوں واجب ہوتا ہے پیشاب سے کیوں نہیں ہوتا،ایسا کیوں ہے کہ بعض نماز چار، بعض تین بعض دو رکعت فرض ہوئیں؟

اس طرح یہ گروہ شرائع کی فاسد تاویلات کرتا ہے مثلا ان کا کہنا ہے کہ وضو سے مراد امام کی موالات اور محبت ہے،نماز سے مراد رسول ہے اور اس کو آیت کریمہ:

انَّ الصلاۃ تنہیٰ عن الفحشاء والمنکر

سے ثابت کرتے ہیں،احتلام سے مراد نا اہل کے سامنے راز کو فاش کرنا اور غسل سے تجدید عہد مراد ہے،زکات سے نفس کا تزکیہ مراد ہے،کعبہ سے مراد نبی،باب سے علی،صفا محمد،مروہ علی،سات چکر طواف سے ائمۂ سبعہ کی موالات مراد لیتے ہیں،جنت سے مراد راحت ابدان اور دوزخ سے ابدان کا مشقتوں کا شکار ہونا مراد ہے۔

خدا وند قدوس کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ وہ نہ موجود ہے نہ معدوم،نہ عالم ہے نہ جاہل،نہ قادر ہے نہ عاجز الغرض اسی طرح خرافات کی باتیں کرتے ہیں۔

ان میں سے ایک فرقہ زیدیہ ہے ان میں تین گروہ ہیں ایک کہتا ہے کہ حضرت علی کی خلافت نص خفی سے ثابت ہے یہ گروہ صحابۂ کرام کی تکفیر کرتا ہے اس بنیاد پر کہ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت ترک کی،دوسرا گروہ اگر چہ شیخین کریمین کی تکفیروتفسیق نہیں کرتا ہے یا عام صحابہ کو کافر نہیں کہتا ہے لیکن حضرت عثمان وطلحہ وزبیر وعائشہ رضی اللہ عنہم کی تکفیر کا قائل ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس زمانے کے اکثر زیدیہ مقلد ہیں اصول میں ان کا رجوع معتزلہ کی جانب ہے اور فروع میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ

کی طرف مگر چند مسائل میں’’۔

یہ میں نے چند فرقوں کے وہ عقائد قلم بند کیے ہیں جن کا عام طور پر شیعوں میں ارتکاب ہے ورنہ ان لوگوں نے ایسے ایسے غلط اور فاسد عقائد گڑھے اور بعض تو شرک کی حد تک پہنچے ہوئے ہیں،اگرچہ ان کا بطلان زیادہ رائج ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ رائج نہ ہو سکے۔

پھر ڈھٹائی کی انتہا یہ کہ اپنے واضح الفساد اور بین الابطال عقائد واعمال میں استدلال واستشہاد ایسے انداز میں قرآن وحدیث سے کرتے تھے کہ عوام تو عوام پڑھے لکھے لوگ تک دھوکہ کھا جائیں،واقعۂ قرطاس وغیرہ سے امور واضح اور روشن ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اکبر کے باطل وفاسد خیالات زیادہ تر ایسے تھے جو زیادہ دنوں تک چلنے والے نہ تھے اگرچہ اپنی ضلالت وگمرہی کا شکار بزور سلطنت بہت سے عوام وخواص کو کیا ،اور علماے سو کا گھناؤنا کردار اس میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتاہے مگر جہانگیر کے دور میں سب سے زیادہ مذہب حق اور ایمان کو خطرہ اسی فرقۂ شیعہ سے ہو گیا تھا۔