باب ۱۵ از ۵۷صفحات ۲۲۲–۲۳۶
تجدید طریقت
حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدید شریعت آپ پڑھ چکے یعنی ان اعمال وحکام کی تجدید جن کا تعلق قلب اور قالب سے ہے اور ظاہر شریعت جن کی ناطق ہے ،
،طریقت اور حقیقت دونوں اگر چہ شریعت کے خادم اور اس کا ایک حصہ ہیں اور ان سے مقسود بھی شریعت ہی کی تکمیل ہے لیکن علماء وصلحاء کے عرف میں یہ حصے الگ نام سے موسوم ہیں اور ان حصوں تک عام علماء اور صلحاء کی رسائی نہیں ہوتی ہے بلکہ خواص کا حصہ ہیں اسی لیے اس حصے کو ہم نے الگ بیان کیا اور حقیقت یہ ہے کہ بغیر ان کے انسان اس درد سے آشنا نہیں ہو پاتا ہے جس نے اسے فرشتوں پر بھی فضیلت بخشی ہے۔
قلب اور قالب کی بہت سی برائیاں پورے طور پراس وقت تک دور نہیں ہوتی ہیں جب تک انسان ان کو حاصل نہ کرے اور نہ ان کے بغیر انسان اس حلاوت ولذت اور کیف کو پاتا ہے جس کے بغیر عبادت عبادت بے مزہ الفاظ خشک اور چہرہ کی اس تابانی سے محروم جسے دیکھ کر خدا یاد آجائے۔
یہ دولت بھی ایسی ہے جو نہ کتابوں کے مطالعہ سے آئے نہ بحث وتدقیق اور نہ ہی علمی موشگافیوں سے اور نہ ہی علماء ظاہر کی صحبتوں سے بلکہ اس کا طریق ہی کچھ الگ ہے،اس راہ پر چلنے کی سعادت ہر ایک کو نہیں مگر جو چل گیا وہ منزل مقصود تک پہنچا اور دنیا میں آنے کا مقصد پورا کرلیا،یہ وہ جام ہے جسے پی کر اس معنیٰ کا حامل ہوجاتا ہے کہ جسے دیکھ کر لوگ مست ہونے لگتے ہیں،یہ وہ ہنر ہے جس کے ذریعہ بہ آسانی اسلام دلوں میں اتارا جا سکتا ہے،ہزاروں کتا بیں اور علمی موشگا فیاں جو کام نہیں کرپاتی ہیں جو اس کی جھلکیاں کام کر دیتی ہیں،اس کی خدمت وہی کر پاتے ہیں جنھیں قوت قدسیہ حاصل ہوتی ہے جن کے دل تجلیات الٰہیہ سے معمور،جس کی ہر رگ ومو نور سے پر نور ہو جس کے روز وشب اور صبح وشام دنیا کی آلائشوں سے پاک ہوں۔
حضرت مجدد قدس سرہ نے اس سلسلہ میںجس قوت وتصرف کا ثبوت دیا وہ اپنی مثال آپ ہے آپ جب اس شہباز روھانیت کا حال پڑھیں گے تو حیرت کریں گے
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
اب آپ مختصر حال سنیں،حضرت مجدد قدس سرہ نےاس سلسلہ میں جو تجدیدی خدمات انجام دئے ہیں ان کے تین گوشے نہایت اہم ہیں:
ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو طریق جدیدہ عطا فرمایا تھا یعنی سلوک وتسلیک کی آسان اور مکمل راہ،اس طریقہ جدیدہ کے خصائص اگر آپ تفصیل سے جاننا چاہیں تو ہماری تالیف "خصائص نقشبندیہ" کا مطالعہ کریں اس طریقہ جدیدہ میں تین ولایتیں(صغریٰ،کبریٰ اور علیا)تین کمالات(کمالات نبوت،کمالات رسالت اور کمالات اولوالعزم)اور سات حقائق(حقیقت کعبہ،حقیقت قرآن،حقیقت صلاۃ،حقیقت ابراہیمی،حقیقت موسوی۔حقیقت محمدی اور حقیقت احمدی)سالکین پر منکشف ہوتے ہیں۔
دوسرا اہم گوشہ یہ ہے کہ چاروں سلاسل مشہورہ کے علاوہ دیگر نسبتیں جو بالکل معدوم سی ہو گئی تھیں اور مکمل متروک ہو چلی تھیں وہ آپ کی ذات گرامی کے ذریعہ پھر سے تازہ ہو گئیں اور اس کمال کے ساتھ آپ پر فائز ہوئیں کہ اس سے زیادہ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے،آپ ہر نسبت سے تسلیک کی پوری پوری قوت رکھتے تھے مگر ان نسبتوں کی تحصیل واوضاع اسی دور کے حالات کے مطابق آپ نے خیال نہیں فرمایا اس لیے ان کو رواج نہیں دیا ۔
تیسرا یہ کہ آپ کے پرور دگار جل وعلا نے آپ کو ایسے مقام اور منصب پر فائز فرمایا تھا کہ آپ راہ سالکین کے لیے حصول اور فیضان کا واسطہ بن گئے،کوئی بھی ہو کسی بھی سلسلے سے وابستہ ہو اگر چہ ادراک نہ کرسکے اس ادراک کے لیے کافی دقیق نظر کی ضرورت ہے،جیسے امام السالکین والمسلمین حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم
کی ذات با برکات کمالات ولایت کے حصول کے لیے واسطہ ہے اور جیسے جناب غوثیت حضرت سیدنا غوث اعظم قدس سرہ کی مقدس ذات ہر سالک کے لیے خواہ وہ کسی سلسلے سے وابستہ ہو ہر ایک کے لیے حصول فیض کا واسطہ ہے اسی طرح حضرت مجدد قدس سرہ کی ذات گرامی بھی کیونکہ آپ اس سلسلے میں حضرت غوث اعظم کے نائب اور قائم مقام ہیں۔
آپ کی تجدید طریقت کا یہ گوشہ بھی بھلایا نہیں جا سکتا ہے کہ جس کثرت سے طریقت اور حقیقت کو اپ نے رواج دیا اور پھیلایا،لوگوں کو عامل بنایا اور عالم کے گوشہ گوشہ میں اسے پہنچایا شائد ہی اس کی مثال ملے۔
آپ کی تجدید طریقت کا یہ گوشہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مجتہدین بزرگوں کے بعد عہد کی وجہ سے ان کی نسبتوں میں جو اضمحلال آگیا تھا آپ کی ذات سے الف ثانی میں وہ نسبتیں خواہ سلاسل اربعہ مشہورہ کی ہوں یا دیگر سب میں قوت پیدا ہو گئی اور فیضان کی اس قدر کثرت ہوئی کہ برسہا برس کی ریاضات شاقہ ومجاہدات شدیدہ سے جو چیز کمال کے ساتھ حاصل نہیں ہو پاتی تھی وہ معمولی محنت سے حاصل ہونے لگی یعنی برسوں کا کام مہینوں اور مہینوں کا کام دنوں میں ہونے لگا اور کثرت سے لوگ کمال وتکمیل کی منزلوں پر پہنچنے لگے اس کثرت سے کہ شاید کسی دور میں آپ کو اس کی مثال ملے۔
طریقت کے مجددین بہت ہوئے،وہ مقدس نفوس بھی بہت ہوئے مختلف ازمان وادوار میںجن پر مختلف قسم کا فیضان ہوا اور سرور کونین ﷺ کے کمالات کے ظہور کا مبدا ومنشا ہوئے،جس طرح ان بزرگوں پر مختلف ادوار میں مختلف کمالات مختلف اشخاص پر فائض ہوئے اسی طرح آپ کے دور میں آپ پر آپ کے نبی ہاشمی ﷺ کی مقدس بارگاہ سے نئے نئے کمالات اور علوم ومعارف فائض ہوئے ان
معارف وحقائق کو جگہ جگہ آپ فرماتے ہیں کہ یہ مشکاۃ نبوت سے ماخوذ ہیں۔
ہر سلسلہ میں ایسے بزرگوں کے بعد ان کے حامل پیدا ہوئے ایسے بھی بہت ہوئے جن سے بیعت وارادت اور لوگوں کا رجوع کثرت سے ہوا مگر کمالات جدیدہ کا جا فیضان جس کثرت سےآپ کی ذات پر ہوا اور آپ کے بعد آپ کے خلفا پر ومتوسلین پر جس کثرت کے ساتھ آپ کے کمالات کا فیضان ہوتا رہا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
عالم اسلام کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں آپ کی نسبتیں جلوہ گر نہ ہوئی ہوں اور یہ کثرت دس بیس سال تک نہیں بلکہ کئی صدی تک رہی اگر آپ اس کا مختصر حال پڑھنا چاہیں تو ہماری تالیف"تذکرہ مشائخ باقویہ مجددیہ"جو اس شاخ کے مشائخ وخلفاء کے حالات پر مشتمل ہے جس سے یہ فقیر وابستہ ہے کاق مطالعہ کریں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جو کچھ ہم نے کہا ہے وہ کس قدر حقیقت پر مبنی ہے ۔
حقیقت کی تہوں تک پہنچنے کے لیے علم اور انصاف دونوں ہی ضروری ہیں،تجدید کا یہ شعبہ کتنا اہم ہے اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا ہے جب آپ پڑھیں گے اور مجددی خانوادے کے رووحانی فرزندوں کی علمی اور اصلاحی خدمات کا مطالعہ کریں گے تو کہہ اٹھیں گے۔؏
ایں سعادت بزور بازو نیست
تجدید طریقت کی یہ ہمہ گیری وہمہ جہتی کو سمجھنے کے لیے کثیر علم اور وسیع مطالعہ کی ضرورت ہے آخر میں ہم آپ کے خانوادہ علم وفضل کے چشم وچراغ حضرت شاہ محمد مظہر مجددی کی کتاب مناقب احمدیہ کا وہ اقتباس نقل کرتے ہیں جو انھوں نے اپنے والد بزرگوار شیخ الاسلام والمسلمین قطب الکاملین قبلہ عالم حضرت خواجہ احمد سعید صاحب کی زبانی بیان فرمایا جو طریقت کی تجدید کا اجمالی مگر جامع بیان ہے فرماتے ہیں:
"ارشاد کی شہرت دنیا اور دنیا والوؐ تک پہنچی اور ہدایت کا گلبانگ()دلوں کو روشن کرنے والے رنگ ھے ساتھ ربع مسکون(دنیاوی آبادی)میں آیا قطب الاقطاب کا نقارہ آپ کے نام بجا ،مدارج ولایت تک وصول آپ کے التفات کے حوالہ ہوا،ابدال واوتاد کا کوچ آپ کی طرف جاری ہوا،انوار برکات وکرامت آپ کی بلند توجہات سے اس قدر ظاہر ہوئیں کہ تحریر اور تقریر اس سے قاصر ہے،میدان ضلالت کے گم گشتوں نے راہ ہدایت پائی اور فرو رفتگان بحر بعد ساحل قرب تک پہنچے،حقیقت ومعرفت کے طالب مور وملخ کی طرح گرد آئے اور بادشاہ وفقیر پروانہ کی طرح اس شمع ہدایت پر نچھاور ہوئے۔
طالبان خدا کا مجمع صحبت مبارک میں ایسا منعقد ہوا کہ ساتوں آسمانوں کے فرشتے فیوض وبرکات پر رشک کرنے لگے،علماء اور فضلاءہر طرف سے واقعات میں اشارے پاکر آستان ولایت نشان کے طواف کے لیے دوڑ کر اس قبلہ خدا رسائی کی توجہ سے حضور وآگاہی تک پہنچے اور مشاہدہ بے مجاہدہ اور توحید بے ترک تجرید کے حصول نے رواج پایا،بحر وحدت میں استغراق اوردریائے احدیت میں استہلاک سالکوں کو مفت نقد وقت ہوا ،وحدت در کثرت اور محبت ومعرفت کے جذبات سےاس حضرت کے تھوڑے سے التفات سے دلوں کو میسر ہوئے،نسبت نقشبندیہ نے از سر نو رونق پائی بلکہ آپ کی ہمت کی برکت سے مشاءک کی نسبت نے اطراف عالم میں اشاعت دیگر پائی،سلوک وجذبہ کی نسبت متعارفہ کے علاوہ نسبتوں نے ظاہر ہو کراہل طلب کے کا رخانہ باطن کو درجہ اعلیٰ تک پہنچایا۔
غالی صوفیوں کے تشددات(صوم وصال کا تواتر اور چلہ کشی کااختیار بھوک اور پیاس کی شدت کے ساتھ اور مالوفات وعمرانات کا ترک)نے آپ کی برکتوں سے اعمال وعبادات میں میانہ روی اور اوراد وطاعات میں سنت کی پیروی کے ساتھ تبدیلی پائی اور
ریاضات شاقہ کے ما حصل نے آپ کی توجہات اور التفات کی برکت سے طالبوں کو نقد وقت ہوئی،آپ کیذات کثیر الفیوضات نائب الٰہی اور نائب حضرت رسالت پناہی ہوئیﷺ،نا متناہی رحمتوں کی کنجی آپ کے حوالے ہوئی اور مجدد الف ثانی ہوئے کہ فیوض وبرکات کا حصول تا قیامت جس کو بھی ہوگا آپ کے واسطہ سے ہوگا ،اسرار ومکاشفات غریبہ کہ آپ نے بیان فرمائے روشن دلیل اور برہان جلی ہیں تجدید طریقت پر(مناقب احمدیہ ص:10تا11)
پھر تجدید مائۃ اور تجدید الف کا فرق اور آپ کی تجدید کی وسعت وقوت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
"جان لو ہرصدی کے شروع میں مجدد گذرے ہیں لیکن صدی کا مجدد دیگر ہے اور مجدد الف دیگر جس قدر فرق مائۃ (سو)اور الف(ہزار)اسی قدر ان دونوں کے مجددوں میں بھی فرق ہے بلکہ اس سے زیادہ،مجدد وہ ہےکہ جو کچھ اس مدت میںفیوض وبرکات امتیوں کو پہنچتے ہیں اس کے واسطے سے پہنچتے ہیں اگرچہ اس وقت کے اقطاب واوتاد ہوں اگر چہ بدلا(ابدال کی جمع)اور نجباء(نجیب کی جمع)ہوں۔
اس جناب(حضرت مجدد قدس سرہ)کے ظہور کا وقت ایسا وقت تھا کہ پہلی امتوں میں اس طور وقت پر از ظلمت میں پیغمبر اولوالعزم پیدا ہوتا تھا اور نئی شریعت لاتے تھے ،اس امت میں کہ ساری امتوں سے بہتر ہے اور اس کے پیغمبر کہ خاتم الرسل ہیںﷺ نے علماء کو انبیاء بنی اسرائیل کا مرتبہ دیا ہے اور علماء کے وجود کو ان انبیاے کرام علیہم السلام کے وجود کی طرف کفایت کیا ہے،اس طور وقت میں اس امت سے ایسے عالم عارف تام المعرفت درکار ہےجو امم سابقہ کے اولوالعزم نبی کے قائم مقام ہو کیونکہ اس امت کا آخر اس سرور علیہ السلام کے ارتحال سے الف ثانی(ہزارہ دوم)کی ابتدا سے ہے کیونکہ ہزار(سال)کے گذرنے کو عظیم خاصیت اور
قوی تاثیر ہے امور کے تغیر میں اور چونکہ اس امت میں نسخ وتبدیلی نہیں ہے(اس لیے)لامحالہ سابقین کی نسبت کی تجدید متاخرین میں ضروری ہوئی،پس آپ رضی اللہ عنہ کی ذات مبارک جمیع کمالات نبوت ورسالت کی جامع فرماکر اس منصب اعلیٰ کے ساتھ سرفراز اور ممتاز بنائی جیسا کہ ان لوگوں پر پوشیدہ نہیں جنھوں نے آپ کے علوم غریبہ اور ان معارف نادرہ میں نظر کی ہے جو ذات وصفات اور افعال سے تعلق رکھتے ہیں اور متلبس ہوتے ہیں احوال ومواجید سے اور تجلیات وظہورات سے تو وہ(ناظر) جانتا ہے کہ وہ (علوم ومعارف)شریعت کا مغز اور دین کی اساس اور ذات وصفات کے علم کا خلاصہ جن کے ساتھ بڑوں سے کسی نے کلام نہ کیا اور نہ اکابرین نے۔
مثال کے طور پر حقیقت کعبہ معظمہ،حقیقت قرآن مجید ،حقیقت صلاۃ ومعبودیت صرفہ ودرجات محبت از خلت ومحبیت ومحبوبیت وتعین وجودی وتعین حبی ومرتبہ لا تعین(ان سب کا)انکشاف اور تعین خلائق وانبیاے کرام وملائکہ عظام کے تعین کے مبادی اور سالکین کی استعدادیں کہ کون سی صفت اور اسماء الٰہیہ سے مناسبت رکھتے ہیں اور مشارب اولیاء کرام کہ محمدی المشرب کون ہے اور ابراہیمی المشرب اور آدمی المشرب کس کو کہتے ہیں اور عیسوی المشرب کون؟(ان سب کا ظہور)تعین اول سے ترقی کو ثابت کرنا،ولایت ونبوت ورسلت کے نرتبوں کی وجاحت کرنا اور اپنی ولایت بیان کرنا کہ محبیت ومحبوبیت ذاتی کے مقام سے ناشی ہے اور ہاےت ہویت کی حقیقت جو کہ آپ کے ساتھ خاص ہے اور حقائق قیومیت اور صباحت وملاحت کے اسراراور ان دونوں حسنوں کا امتزاج اور ان کے علاوہ پیشگاہ واہب العطیات سے آپ کو عنایت ہوا اور الہام صریح وکشف صحیح ان مقامات عالیہ اور تجلیات متنوعہ اور اسرار غامضہ کے حصول کی وجہ سے طریقہ جدیدہ بیان فرمانا کہ اولیائے کرام سے کسی ایک سے مروی نہیں اور اس کی تفصیل مکتوبات شریف کی
تینوں جلدوں اور دیگر آپ کے سات رسالوں میں تحریر ہے۔’’ (مناقب احمدیہ ص: 11تا12)
حضرت شاہ محمد مظہر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس مختصر کلام بلاغت نظام میں حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدید طریقت پر اہم گفتگو فرمادی یہ ادنیٰ اشارے ہیں ان کمالات واسرار کی طرف جو تجدیدالف ثانی سے ظہور میں آئے آپ تفصیل سے اولیاء کرام کے حالات پڑھ جائیے اگر انصاف کی نظر ہے تو یقین ہوجائے گا کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے ذریعہ ان کے مالک حقیقی جل وعلا ورسول اعظم ﷺ نے کا ئنات کو جو دیا وہ الف ثانی سے قبل شاید ہی کسی ولی کے ذریعہ دیا ہو اور بعد میں تو آج تک کی تاریخ گواہ ہے کہ جس کو جو ملا انھیں کے خوان نعمت سے ملا۔
مناقب احمدیہ میں جن امور کی طرف اشارے کیے گئے ہیں اگر ان کو تفصیل سے بیان کیا جائے تو کتاب بہت ضخیم ہوجائے گی بلکہ کئی جلدیں درکار ہوں گی،میں نے کچھ مباحث تصوف اور صوفیہ کے بارے میں سپرد قلم کردئے اور کچھ تجدید اسرارمذکور ہوں گے،کچھ اہم مباحث اس جگہ تحریر کرتا ہوں باقی سب کی تفصیل مکتوبات میں ملاحظہ فرمائیں۔
تجدید کی حکمت وضرورت:
(1)حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "ہمعات" میں ہمعہ1 میں فرماتے ہیں"جاننا چاہئے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ نے لوگوں کے واسطے جب ہمارے پیغمبر ﷺ کو مبعوث فرمایا تو حضور ﷺ کے دین کی حفاظت کے سلسلے میںمدد اور عنایت مصروف فرمائی اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: وانا لہ لحٰفظون
تاکہ اس مدد کے سبب حضور ﷺ کا دین تمام دینوں پر غالب ہو اور اس دین کی اشاعت سے جو کچھ مقصود ہے عرب وعجم کے نفوس کی تہذیب اور ان کے درمیان
سے مظالم کو ختم کرنا اور اس کے مانند پورے طور پر متحقق ہو جائے اور چونکہ دین محمدی کے لیے ایک ظہر(ظاہر)ہے اور ایک بطن(باطن) لیکن اس کا ظاہر تو مربوط کرنا ہے مسالح اشباح(صورتیں)ومظان(گمان کی جگہیں)اور اوقات اوضاع کی تعیین اور ان کے واسطے مقادیر اور ان کی اشاعت میں تاکید بلیغ اور ان میں اور ان جیسے دیگر امور میں تحریف کے دروازوں کو بند کردینا۔
لیکن اس کا باطن تو طاعات اور ان کے مانند کی صورتوں سے تلبس اختیار کرکے انوار اور طاعات کے نتائج حاصل کرنا ہے(پس)لامحالہ دین کی حفاظت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی مدد وعنایت دو قسموں پر منقسم ہوگی اور جب حضرت پیغمبرﷺنے عالم علوی کی طرف انتقال فرمایا تو وعدہ حفظ کے بموجب عنایت حضور سرور کونینﷺکے وارثین میں ظاہر ہوئی دین کے حاملین کی استعداد کے اعتبار سے پس ایک گروہ عنایت الٰہی کی جائے گاہ ہوا طاہر شرع کے حفظ کی بنسبت اور وہ گروہ فقہا ومحدثین اور غازیوں قاریوں کا ہے کہ جنھوں نے دین سے تحریف کو دور کرنے اور قوم کو اس کی تحصیل پر ابھارنے اور رغبت دلانے میں سعی بلیغ کے ساتھ کام کیا اور ہر صدی میں ایک مجدد پیدا ہوتا ہے۔
والکلام فی ہٰذا یطول ولہ موضع غیر ہٰذا الموضع الذی نحن فیہ
اور دوسرا گروہ استعداد ازلی کے اعتبار سےبنسبت باطن دین عنایت الٰہی کا محل ہوئے کہ احسان ہے کہ یہ فرقہ ہر قرن میں اہل زمانہ کا مرجع ہوںاور ان کو انوار طاعات کی تحصیل اور ان میں چاشنی کا وجدان اور اخلاق فاضلہ اور احوال سیئہ کے ساتھ تحقق کی راہ دکھائیں خلاصہ یہ کہ ہر قرن میں ایسا مرد اولیاء اللہ سے پیدا ہوتا ہے کہ نصرت حق کی عنایت باطن دین اور اس کے مغز کہ احسان ہے کی اقامت واشاعت کے اعتبار سے اس میں ظہور فرمائے اور اس کام کو اس کے ہاتھ سے انجام دیں ؎
کار زلف تست مشک افشانی اما عاشقاں
مصلحت را تہمتی ہر آہوئے چین بستہ اند
تو جب یہ یعنی اولیاء اللہ میں سے ظاہر ہوتے ہیں تو اس کے ظہور کے آثار یہ ہیں کہ اس کی شان کی بلندی مردوں کے درمیان اور لوگوں کے دلوں کا اس کی طرف رجوع کرنا اور اس کے ذکر جمیل کی شہرت لوگوں میں حاصل ہوتی ہے اور اس قوم کی طبائع کے مناسب اشغال ملت مصطفویہ کے لطائف سے اس ولی کے قلب میں ظاہر ہوتے ہیں اور اس کی صحبت اور کلام ایک قسم کا جذب اور تاثیر امانت رکھتے ہیں اور مختلف قسم کی کرامات از قبیل کشف واشراف اور اللہ تعالیٰ کی قوت سے خلق میں تصرف اور جو کچھ اس قبیل سے ہے صادر کرتے ہیں اور طالبان خدا کا اس پر اجتماع اور اس کا جاری ہونا اس مقام کے مقتضیات میں ترتیب وتعیین اشگال واوراد وغیرہ سے ایک خانوادہ پیدا ہوتا ہے اور لوگ اس خانوادہ میں سلوک کرتے ہیں اور جلد ہی مطلب کو پہنچتے ہیں اور اس خانوادہ کی خیرخواہی اور مدد کرنے والے ہمیشہ کامیاب اور مدد یافتہ ہوتے ہیں اور اس سے خیانت کرنے والے ہمیشہ مطرود ومخذول ہوتے ہیں اور عوام وخواص کے دلوں میں اس جماعت کا رعب وہیبت ڈال دیتے ہیں اور ایسے اسباب واقع کردیتے ہیں از قبیل الہام وامالہ کہ لوگوں کے اجتماع کا سبب ہوتا ہے اس خانوادہ پر"
حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ کا مبارک کلام نہایت واضح روشن اور اہم فوائد پر مشتمل ہے طاہر شریعت سے متعلق علوم وفنون کی ترویج واشاعت اور احیاء وابقا کے سلسلے میں ائمہ مجتہدین ومحدثین کی کاوشیں اور کوششیں پھر خاص خاص ائمہ کا خاص خاص اوقات میں ظہور آپ اگر مفصل طور پر پڑھیں اور غور کریں گے تو پتہ چل جائے گا کہ ان بزرگون نے تجدید واحیاء دین کا کتنا بلیغ کارنامہ انجام دیا ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے مگر یہ موقع اس کی تفصیل کا نہیں۔
باطن شرع کے مجدد ومحافظ کی جو علامتیں حضرت شاہ صاحب قدس سرہ نے بیان فرمایا اور مجدد طریقت کو پہچاننا کتنا آسان کردیا یہ ہر ذی شعور پر روشن ہے اور حضرت مجدد قدس سرہ کے خانوادہ پرتو ایک ایک حرف اتنا واضح ہے کہ بیان سے باہر ہے۔
حضرت شاہ صاحب قدس سرہ بتا رہے ہیں کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اس زمانے کے لوگوں کی طبیعتوں کے مناسب اشغال واوراد اور وظائف الہام فرماتا ہے،تصرف وکرامات اور مشاہدات ومکاشفات جیسے انعامات سے نوازتا ہے اور جذب وتاثیر نہایت قوی عطا فرماتا ہے طالبان خدا کا اس کی بارگاہ میں اجتماع ہوتا ہے وہ اوراد ووظائف وغیرہ کی تعیین کرتا ہے لوگ بڑی تیزی سے مطلوب تک پہنچتے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ سارے امور حضرت مجدد قدس سرہ کی بارگاہ میں کتنے کمال کے ساتھ پائے جاتے ہیں یہ کون نہیں جانتا ہے؟
(2)اس حکیم مطلق جل وعلا نے اپنی حکمت بالغہ سے افراد نوع انسانی کو کن کن صلاحیتوں اور بلند ستعدادوں سے نوازا ہے اور ظاہری وباطنی کمالات سے کس قدر مستفیض فرمایا اس کی بین مچال انبیا و رسل اور اولو العزم رسل ہیں،ایک سے برھ کر ایک صلاحیت والا ذی ستعداد اور اعلیٰ کمالات ومناصب پر فائز ہے یہ بالکل کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ جن بلند وبالا مقامات ومناصب اور جن اعلیٰ اوصاف وکمالات سے افراد انسانی نوازے گئے کوئی دیگر نہیں نوازا گیا ۔
(3)امم سابق میں دور اور زمانے کے تقاضوں کے لحاظ سے ارشاد وہدایت کے لیے کبھی کبھی نبی کبھی رسول اور کبھی کبھی اولوالعزم رسول آئے علیہم الصلوات والتسلیمات یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ ہر دور کے تقاضے جدا جدا ہوتے ہیں،یہ اس رحمان ورحیم کا کرم خاص ہے کہ جس دور کو جیسے ہادیوں کی ضرورت ہوتی ہے ویسے
ہی افراد عطا فرمادیتا ہے جن کے ذریعہ نفوس کی تکمیل وتہذیب اور انھیں دنیوی واخرویفلاح وکامیابی عطا فرماتا ہے اور ہر ایک کے زریعہ نئے نئے کمالات منصہ شہود پر جلوہ گر فرماکر کل یوم ہو فی شان کا مظاہرہ فرماتا ہے۔
حضرت خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ پر نبوت ورسالت کے منصب کا اختتام ہوگیا اب امکان نہیں رہا کہ یہ منصب کسی کو ملے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں میں اس منصب کی استعدادوصلاحیت نہیں تھی،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں حدیث پاک ہے لو کان بعدی نبیا لکان عمر
اس حدیث پاک کے بارے میں علماء کی صراحت موجود ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں وہی صلاحیت واستعداد موجود تھی جو ایک نبی کے لیے ضروری ہے۔
(4)حضور سرور کونینﷺ جمیع کمالات الٰہیہ کے جامع ہیں جیسا کہ ہم ابتدا میں عرض کرچکے کہ اس دنیا میں آپ کی بعثت سے قبل انبیاء کرام علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات آپ سے مستفیض ہوکر اقوام عالم کو فیضیاب کرتے رہے اور آپ کے تشریف لانے کے بعد چونکہ یہ منصب ختم ہوچکا تھا اس لیے آپ کی امت کے وارثین نے آپ کے کمالات کی حفاظت کی اور جن کمالات کا ظہور اوقات سے موقت تھا اپنے اپنے وقت پر وہ ظاہری وباطنی کمالات افراد امت کے ذریعہ مختلف ازمان واوقات میں جلوہ گر ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے اسی فرق کے ساتھ کہ جو امم سابقہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کے ظہور میں ہوا ہے اسی لیے علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل فرمایا گیا۔
آپ اگر ان تمام باتوں کو نظر میں رکھگیں تو بہ آسانی حضرت مجدد قدس سرہ کو سمجھ سکتے ہیں اور آپ کے بلند وبالا کمالات سن کر آپ کو کوئی اچنبھا نہیں ہوگا ،کسی کو سمجھنے کے لیے غایت درجہ انصاف اور صحیح علم کی ضرورت ہوتی ہے۔
(5)جس انسان سے جیسے جیسے کمالات کا اظہار مقصود ہوتا ہے اسے اسی قدر صلاحیت واستعداد اور اس کے لیے کام کی راہیں فراہم کردیتا ہے،حضرت مجدد قدس سرہ سے قبل ہر صدی اور ہر قرن میں کامل افراد امت کے ذریعہ کمالات کا ظہور ہوتا رہا ،دین کے ظاہر وباطن کا جو حصہ بھی کمزور پڑا کسی کامل نے پھر اسے قوت دے دی،پھر سرور کونین ﷺ کے کمالات جو بدر کامل بن کر آئے اور آپ کے دنیوی دور حیات میں جس کمال کے ساتھ انوار کا فیضان ہوا آپ کے تشریف لے جانے کے بعد بھی اس کا اثر بہت گہرا باقی رہا پھر زمانہ جوں جوں گزرتا رہا اور آپ ﷺ سے بعد ہوتا رہا اسی قدر تغیرات ہوتے رہے اور کمالات پردہ خفا میں روپوش ہوتے رہے حتیٰ کہ ایک ہزار سال کا وہ طویل عرصہ گذر گیا جو تغیرات میں سب سے بڑا دخل تھا اب ضرورت تھی کہ کمالات جدیدہ کا پھر سے فیضان ہو اورسابقہ کا تحفظ اور احیاء ہو اس ہزار سال پر اہل زمانہ کو کس بلند قامت انسان کی ضرورت تھی اس کا ندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ امم سابقہ میں ایسے وقت میں اولوالعزم رسول کی بعثت ہوا کرتی تھی ۔
پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ عطا بعض آنکھوں کو کیوں نہیں بھاتی ہے اور بلند کمالات سن کر کیوں حیرت واستعجاب کے دریا میں ڈوب جاتے ہیں بہر حال وہ جہالت ونادانی جو عجز وانکسار اور حقائق کے اعتراف کے ساتھ ہو اس کی اصلاح ہو سکتی ہے اور ہر تفہم کام آسکتی ہے مگر تعصب وعناد کا کوئی علاج نہیں اور نہ ہوگا۔
اب آپ چند کمالات پڑھیں اور اس عظیم نعنت پر بارگاہ الوہیت میں شکر کے سجدے ادا کریں:
باطنی کمالات:
حضرت مجدد قدس سرہ کے ظاہری اور باطنی کمالات کا شمار نہیں ہو سکتا ہے جن
فضائل علمیہ وعملیہ سے آپ کے پروردگار نے آپ کو نوازا تھا اور ہر کمال میں جو تحقق،ثبوت اور استقامت عطا فرمائی تھی اس کی بہت کم مثالیں ملیں گی،حسن صورت دیکھ کر حضرت یوسف علیٰ نبینا وعلیہ الصلاہ والتسلیم کی یاد تازہ ہو جاتی ،علم معقول ومنقول کا عالم یہ تھا کہ امام ربانی ہوتے ہوئے حضور سرورکونینﷺ نے آپ کو علم کلام کا مجتہد ہونے کی بشارت دی،ابوالفضل اور فیضی جیسے لوگ آپ کے بلند پایہ علم کا احترام کرتے مسائل علمیہ میں آپ کی مدد لیتے،تحریر وتقریر خواہ عربی ہو یا فارسی بڑے بڑے فصحا وبلگا دنگ رہ جاتے ،بات کی پختگی لب ولہجہ کی متانت وسنجیدگی،قوت استدلال ،زور بیانی اور دلوں میں گھر کر جانے والا انوکھا پیرایہ بیان اور آپ کا بے مثال انداز ہر وہ شخص جانتا ہے جس نے آپ کے عربی وفارسی رسائل کا مطالعہ کیا ہے خاص کر مکتوبات شریف کا۔
عمل میں جو بلند مقام تھا اور جو استقامت تھی اس کی مثال نمشکل ملے گی،اور باطنی کمالات کا تو کہنا ہی کیا اگر عروج دیکھیں گے تو ایسا لگے گا کہ امت میں چند ہی کو حاصل ہوا ہوگا ،تصرفات وکرامات دیکھیں گے تو نظیر ڈھونڈتے پھریں گے،کشف ومشاہدہ پر نظر ڈالیں گے تو شاید ہی ملے گا ،اسرار ومعارف کا بیان دیکھیں گے تو محو حیرت بنے دیکھتے رہیں گے اور خیال کی دنیا میں نظیر ڈھونڈتے ہی رہیں گے،کمالات جدیدہ کا فیضان دیکھیں گے تو دیکھتے ہی رہ جائیں گے،کیا کیا لکھوں لکھنے کا سلیقہ کہاں سے لاؤں بس بات وہی ہے جو آپ نے آخری ایام مرض میں فرمائی:
"ہر وہ کمال جو کسی بشر کے لیے سوچا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ممکن ومحصول ہو سکتا ہے اللہ پاک نے حضور انورﷺ کے صدقے میں اس میں سے ایک حصہ عطا فرمایا ہے"۔(حضرات القدس ص:114)
اب چند باطنی کمالات سماعت فرمائیں: