مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیحضرت امیر کے فضائل و مناقب

باب ۲۵ از ۵۷صفحات ۳۴۸–۳۶۲

حضرت امیر کے فضائل و مناقب

پھر حضرت علی مرتضیٰ‌رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں ‘‘اے بھائی، حضرت امیر چوں کہ ولایت محمدی علیٰ صاحبہا الصلاۃ و السلام و التحیۃ کے بار کے حامل ہیں (اس لیے) مقامِ اقطاب و ابدال و اوتاد کہ اولیاے عزلت سے ہیں اور ان (اقطاب وغیرہ) میں جانب کمالات ولایت غالب ہے، کی تربیت حضرت علی کی امداد و اعانت کے سپرد ہے قطب الاقطاب کہ قطب مدار ہے کا سر آپ کے زیر قدم ہے قطب مدار آپ کی حمایت و رعایت سے اپنی مہم سرانجام دیتا ہے اور عہدہ مداریت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوتا ہے حضرت فاطمہ اور دونوں امام (حسن و حسین‌رضی اللہ عنہما) بھی اس مقام میں حضرت امیر کے ساتھ شریک ہیں۔

مکتوب ۱۲۳، جلد سوم میں آپ نے اس بات کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ آپ قدس سرہ نے اس مکتوب گرامی میں پہلے یہ بیان فرمایا کہ خداوند قدوس تک جو راہیں پہنچاتی ہیں وہ دو ہیں؛ ایک وہ جس کا تعلق قرب نبوت سے ہے جو اصل الاصل تک پہنچاتی ہے اس راہ کے واصل بالاصالۃ انبیاے کرام ہیں علیہم الصلوات و التسلیمات اور ان کے صحابہ اور باقی امتیوں سے جس کو اس دولت سے نواز دیں اگرچہ قلیل ہوں، بلکہ اقل اور دوسری راہ کا تعلق قرب ولایت سے ہے، اس کے بارے میں آپ قدس سرہ یوں رقم طراز ہیں: ‘‘ایک وہ راہ ہے کہ قرب ولایت سے تعلق رکھتی ہے اقطاب و اوتاد و بُدلا و نُجبا اور عام اولیاء اللہ اسی راہ سے واصل ہیں اور راہ سلوک اسی راہ کا نام ہے، بلکہ جذبہ متعارفہ بھی اسی میں داخل ہے توسط و حیلولت اسی راہ میں ثابت ہیں اس راہ کے واصلین کے پیشوا اور ان کے سرگروہ اور ان بزرگوں کے فیض کا سرچشمہ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ہیں اور یہ منصب عظیم

الشان آپ سے ہی تعلق رکھتا ہے، اس مقام میں گویا حضور سرور عالم علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کے دونوں قدم حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ کے سر مبارک پر ہیں حضرت فاطمہ و حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس مقام میں حضرت علی کے ساتھ شریک ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ حضرت امیر نشاء عنصری (عالم اجسام) سے پہلے بھی اس مقام کے جاے پناہ اور ملجا تھے جس طرح نشاء عنصری کے بعد اور جس شخص کو بھی اس راہ سے فیض و ہدایت پہنچا آپ کے (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) واسطہ سے پہنچا کیوں کہ آپ اس راہ کے نقطہ آخر کے نزدیک ہیں اور اس مقام کا مرکز آپ سے تعلق رکھتا ہے اور جب حضرت امیر کا دورہ پورا ہوا یہ منصب عظیم القدر حضرات حسنین سے بالترتیب (یعنی اول امام حسن سے اور اس کے بعد امام حسین کے سپرد اور ان کو مسلم ہوا اور ان کے بعد وہی منصب بارہ امام سے ہر ایک کے ساتھ بالترتیب و التفصیل قرار پایا (جن کی تفصیل یہ کہ اول امام حضرت علی، پھر امام حسن، پھر امام حسین، پھر امام زین العابدین، پھر امام باقر، پھر امام جعفر صادق، پھر امام موسیٰ کاظم، پھر امام علی موسیٰ رضا، پھر امام محمد تقی، پھر امام محمد نقی، پھر امام حسن عسکری، پھر امام محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) ان بزرگواروں کے زمانوں میں اور اسی طرح ان کے کوچ کے بعد جس کسی کو فیض و ہدایت پہنچا ان بزرگواروں کے واسطہ سے پہنچا اور ان کی حیلولت سے اگرچہ وقت کے اقطاب اور نجبا ہوں سب کے جاے پناہ اور ملجا یہی بزرگوار رہے ہیں کیوں کہ اطراف کو مرکز کے ساتھ لاحق ہونے کے سوا چارہ نہیں ہے یہاں تک کہ نوبت حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ تک پہنچی اور جب نوبت ان بزرگوار تک پہنچی تو منصب مذکور آپ قدس سرہ کے سپرد ہوا ااور ائمہ مذکورین اور حضرت شیخ کے درمیان کوئی شخص اس مرکزپر مشہود نہیں ہوتا ہے اور اقطاب و نجبا سے جس

کسی کو بھی اس راہ میں فیوض و برکات کا وصول ہوا آپ کے توسط شریف سے مفہوم ہوتا ہے کیوں کہ یہ مرکز آپ کے غیر کو میسر نہیں ہوا، اسی وجہ سے آپ نے فرمایا؎

أفلت شموس الأوّلین و شمسنا

ابداً علیٰ افق العلیٰ لاتغربٗ

اگلوں کے سورج ڈوب گئے اور ہمارا سورج ہمیشہ بلندی کے افق پر ہے کبھی نہیں ڈوبےگا۔’’

شمس سے مراد فیضان ہدایت و ارشاد کا سورج ہے اور اس کا افول (ڈوبنا) عدم فیضان مذکور ہے اور چوں کہ حضرت شیخ کے وجود سے اس معاملہ نے کہ اوّلین سے تعلق رکھتا تھا حضرت شیخ کے ساتھ قرار پکڑا اور وہ رشد و ہدایت کا واسطہ ہوئے جس طرح ان سے پہلے والے تھے اور نیز جب تک توسط فیضان کا معاملہ قائم ہے وہ حضرت شیخ کے توسل سے ہے لامحالہ درست ہوا کہ افلت شموس الاوّلین و شمسنا ۔۔۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے مجدد کی تشریح بیان کرتے ہوئے مکتوب۴، جلد دوم میں فرمایا ہے کہ مجدد وہ ہے کہ جو کچھ اس مدت میں امتیوں کو فیوض پہنچتے ہیں اسی کے توسط سے پہنچتے ہیں اگرچہ اس وقت کے اوتاد و اقطاب ہوں اوربدلا و نجبا ہوں الغرض حضرت غوث اعظم قدس سرہ کے مقام و منصب قطبیت و غوثیت کا تقاضہ ہے کہ یہ منصب ہمیشہ (تا امام مہدی علیہ الرضوان) ان کے سپرد رہے جب کہ مجدد کا منصب یہ بتا رہا ہے یہ فیضان حضرت مجدد الف ثانی کے توسط سے ہے حضرت مجدد قدس سرہ اس کانے جواب دیا کہ مجدد الف ثانی اس سلسلے میں حضرت غوث اعظم قدس سرہ کے نائب ہیں اور انھی کی نیابت سے یہ معاملہ ان سے مربوط ہے جیسا کہ نور القمر مستفاد من نور الشمس فلا

محذور’’

یہ بات ضمناً آگئی در اصل گفتگو مبادیِ تعینات کی چل رہی تھی اور خلفاے راشدین کے فضائل و مناقب کے آخر میں ایک اقتباس حضرت ابو بکر صدیق‌رضی اللہ عنہ سے متعلق اور سماعت کر لیجیے، فرماتے ہیں:

حقیقت صدیق اکبر‌رضی اللہ عنہ:

مکتوب ۱۲۲، جلد سوم میں فرماتے ہیں: ‘‘جان لیجیے کہ حضرت ابو بکر کی حقیقت یعنی اسماے الٰہی جل شانہ سے ان کا رب جو کہ ان کا مبدأ تعین ہے بغیر کسی امر کے توسط کے ظل حقیقت محمدیﷺ ہے اس نہج پر کہ جو کچھ اس حقیقت میں ثابت ہے تبعیت و وراثت کے طور پر اس ظل میں ثابت ہے اسی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس امت کے وارثین میں اکمل و افضل ہوئے۔ نبی اکرم علیہ و علیٰ آلہٖ الصلاۃ و السلام نے فرمایا:

‘‘ما صبّ اللہ شیئاً فی صدری إلا وقد صبّیتہ ف صدر أبی بکر’’

اللہ تعالیٰ نے میرے سینے میں کوئی شے نہیں ڈالی مگر میں نے اس کو ابو بکر کے سینے میں ڈال دیا۔

حقیقت اسرا فیلی:

نیز واضح ہوا کہ حقیقت اسرافیلی علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام بھی وہی حقیقت محمدی علیہ و علیٰ جمیع اخوانہ الصلاۃ و السلام بطریق اصالت و ظلیت نہیں حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح کہ ظل ہے اس حقیقت کا بلکہ اس جگہ دونوں اصالت رکھتے ہیں ظلیت درمیان حائل نہیں ہے اگر فرق ہے تو کلیت و جزئیت کا ہے کیوں کہ وہ سرور علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کل ہیں اسی لیے وہ حقیقت آپ علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کے نام سے موسوم ہے اور ملائکہ کرام کے حقائق علیٰ نبینا و علیہم الصلوات و التسلیمات اسی حقیقت

اسرافیلی سے پیدا ہیں۔

اخروی موجودات کے مبادی تعینات:

اب تک آپ نے ان حقائق کو سنا جو اس دنیا کے موجودات سے تعلق رکھتے ہیں اب آپ آخرت کے موجودات کے حقائق سے متعلق بھی مجددی رفعتوں کا منظر ملاحظہ فرمالیں، فرماتے ہیں:

یہ سارے مبادی تعینات کہ مذکور ہوئے تعین وجودی جملی (اجمالی) ہو یا تفصیلی اس نشأ دنیوی کے موجودات ممکنہ کی نسبت ہیں اس دنیا کے موجودات کا وجود و تشخص ان مبادی عالیہ کے ساتھ مربوط ہے لیکن موجودات اخرویہ کے بارے میں مشہود ہوتا ہے کہ ان مبادی مذکورہ سے وابستہ نہیں ہیں، بلکہ ان کے مبادی تعینات امور دیگر ہیں اور وہ امور اس فقیر کے نزدیک کمالات ذاتیہ ہیں کہ ظلیت کی گرد ان کے پاک دامن تک نہیں پہنچی ہے اور اس مرتبہ اقدس میں اندراج رکھتے ہیں، بلکہ اس مرتبہ مقدسہ میں مفصل اور متمیز ہیں بے چونی تفصیل و تمییز کے ساتھ وہ کمالات مفصلہ ذاتیہ مقدسہ سے ہر ایک اس نشأ اخروی کے موجودات سے ایک موجود کا مبدأ تعین ہے اہل بہشت کے وجود کو گویا ان تعینات وجودی جملی و تفصیلی سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ نشاۃ دنیویہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس نشأ کے موجودات گویا اس مرتبہ مقدسہ کے مقابل ہیں ایسی نشأ (دنیویہ) کے برعکس کہ مقابلہ سے کم نصیب رکھتے ہیں اس نشأ دائمہ کے موجودات کا بیان کرے کہ اس مرتبہ مقدسہ سے کس قسم کے نصیب اور حظوظ رکھتے ہیں۔’’

میں نے یہ چند اقتباسات انبیاے کرام و سید الانبیا علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات و اولیاے عظام و عام مومنین و کفار کے حقائق و مبادی کے تعلق سے سپرد قلم کیے جہاں یہ حقائق حضرت مجدد قدس سرہ کے زبردست روحانی عروج و ارتقا اور

بلندی نظر کی واضح اور روشن دلیل ہیں وہیں عقیدہ و ایمان کی حفاظت کا بڑا ذریعہ ہیں جن اشخاص و افراد کے حقائق آپ نے پڑھے ان کے مقام و منصب کا تعین اور ان کے حساب سے فرق مراتب اور احترام و تعظیم ایمان کے لیے لازمی چیز ہیں قرآن و سنت کے ظاہر سے ان مراتب کی حقیقت کا پتا لگانا اگر آسان ہوتا تو کوئی اسلامی فرقہ ان شخصیات کے سلسلے میں دھوکہ نہ کھاتا جب کہ انھوں نے بعض آیات قرآنی اور احادیث کے ظاہر ہی سے دھوکہ کھایا ہے۔

جس دور میں حضرت مجدد قدس سرہ کی خلقت ہوئی اور جس بلندی و رفعت کے ساتھ ہوئی یہ عین حکمت کا تقاضہ تھا، اس دور میں ایسے بلند نظر انسان کی ضرورت تھی آپ نے مراتب کے سلسلے میں جو اپنے باطنی مشاہدات سپرد قلم کیے ہیں وہ عین قرآن و سنت اور صحابہ کے فرمان کے مطابق ہیں اور جن آیات و احادیث سے شبہات پیدا ہوتے تھے ان کے صحیح محامل بیان فرما دیے، ہر ایک کی حکمت بتا دی۔

آج اگر اہل سنت کے مخالف سارے فرقے حضرت مجدد قدس سرہ کے مشاہدات کو اپنا پیشوا بنا لیں تو عقیدہ و ایمان کی ساری خرابیاں دور ہو سکتی ہیں، نہ وہابیت رہے نہ دیوبندیت، نہ چکڑالویت نہ شیعیت، نہ خروج نہ اعتزال، حضرت مجدد قدس سرہ جہاں آنے والی نسلوں کے لیے حق کا نشان بن کر آئے وہیں گزشتہ لوگوں کی نشانی اور یادگار تھے، حق کا پرچم جس طریقے سے بلند کیا، گزشتہ خامیوں سے جس طرح دین کو پاک کیا اور آئندہ لوگوں کے لیے جو پرسکون راستہ متعین کیا وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ ہر دور میں آپ کی تعلیمات و مشاہدات سنگ میل کا کام دیتے رہے اور آپ کا فیضان کبھی ختم نہ ہوگا جو حقائق و معارف جلوہ گر ہوئے کوئی دکھائے تو؏

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

حسن یوسفی سے حضرت یعقوب کی محبت کی وجہ:

حضرت مجدد قدس سرہ اس دنیا میں ایسے ایسے سوالات کے جوابات اور مشکلات کو حل کر کے گئے ہیں کہ انسان پڑھتا ہے تو انگشت بدنداں رہ جاتا ہے اس دنیا میں بڑے علم و فن، فضل و کمال اور مکاشفات و مشاہدات کے حامل پیدا ہوئے مگر معارف و حقائق میں جو بلندی اور شریعت سے جو مطابقت آپ کے یہاں ہے وہ کہیں نہیں ہے۔ایسے ایسے ادق مسائل کو حل کیا ہے کہ بے ساختہ کہنا پڑھتا ہےکہ آپ ایک معجزہ تھے حجۃ اللہ تھے، خلیفۃ رسول اللہ تھے، میں نے اکثر ادق معارف کے بیان سے گریز کیا ہے۔ ایک تو اس علم سے اجنبیت، دوم اصطلاحات سے ناواقفیت نیز مکتوبات سمجھنے کے لیے جو مختلف علوم و فنون پر دسترس چاہیے، پھر باطنی روشنی بھی اس کے حامل افراد انگلیوں پر گننے کے لائق ملیں گے، لیکن پھر بھی معارف میں قلم اٹھایا ہے تو کچھ کہنا ہی ہے۔ اب آپ ایک کٹھن سوال اور اس کا جواب اور اس کے ضمن میں حقائق کا بہتا ہوا سمندر ملاحظہ فرمائیں۔

سوال:

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی‌رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند حضرت شیخ نور الحق‌رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے متعدد بار یہ سوال کیا کہ حضرت یوسف کے آباے کرام علیٰ نبینا و علیہم الصلوات و التسلیمات کے بارے خداوند قدوس نے فرمایا ہے:

وَاذْکُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰہِیۡمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوۡبَ اُولِی الْاَیۡدِیۡ وَ الْاَبْصَارِ اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰہُمۡ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ وَ اِنَّہُمْ عِنۡدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیۡنَ الْاَخْیَارِ ((ص:۳۸؍۴۵،۴۷)

ترجمہ: اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو، اور بیشک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے پسندیدہ ہیں، بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔’’

جب پروردگار عالم جل و علا نے خالص ذکر آخرت کے لیے چن لیا تو پھر حضرت یعقوب کو حضرت یوسف سے اس قدر محبت کیوں تھی؟ حضرت یوسف کے ساتھ گرفتاری اور لگاو یہ حق کے ماسوا کے ساتھ محبت لگاو ہے ایسے بلند پایہ بندوں کا مخلوق کے ساتھ لگاو کسی طرح صحیح نہیں معلوم ہوتا ہے۔

جواب:

حضرت مجدد قدس سرہ نے ابتدا میں یہ اجمالی جواب عطا فرما دیا تھا کہ حضرت یوسف علیٰ نبینا علیہ الصلاۃ و السلام کی پیدائش اور ان کا حسن و جمال اس نشأ دنیوی کی پیدائش اور حسن و جمال کی جنس سے نہیں ہے اور (مکشوف میں) ظاہر ہوا کہ ان کا جمال بہشتیوں کے جمال کی جنس سے ہے اور مشہود ہوا کہ اس دنیا کے باوجود ان کی صباحت (گوراپن) حور و غلمان کے حسن کے مشابہ ہے۔

پھر حضرت مجدد قدس سرہ نے اس پر مکتوب ۱۰۰، جلد ۳ میں تفصیل سے بحث فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا سوال کے جواب میں یہ کہا جا سکتا تھا کہ حضرت یوسف کے ساتھ حضرت یعقوب کی یہ گرفتاری اور اور محبت مادون حق (اللہ کے سوا) کے ساتھ گرفتاری نہیں ہے کیوں کہ صوفیہ کرام نے کہا ہے کہ مخلوق اللہ تعالیٰ کے حسن و جمال کا آئینہ ہے اور وحدت کے شہود کوکثرت کے آئینہ میں جائز قرار دیا گیا ہے۔ صوفیہ کرام نے اخروی دیدار کے سوا اس دنیا میں بھی ممکنات کی صورتوں کے آئینوں اور مظہروں میں مشاہدہ و مکاشفہ ثابت کیا ہے۔ الغرض حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کی صورت میں حق کا ہی جلوہ دیکھا تو در اصل یہ محبت حق کے ساتھ ہوئی علیٰ نبینا و علیہما الصلوات و التسلیمات۔

حضرت مجدد قدس سرہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس دنیاے فانی میں توحید کے غلبات میں سالکان صوفیہ کو اس قسم کا کشف و شہود حاصل

ہوتا ہے، قریب ہے کہ امت کے خواص انبیاے کرام اس سے انکار کریں اور یہ حضرات اس مکشوف و مشہود سے تحاشی اور پرہیز کریں۔جب معاملہ یہ ہے تو انبیاے برگزیدہ کے لیے اس قسم کے احوال کا ثبوت کیا احتمال رکھتا ہے، بلکہ اس معنی کا تصور ان بزرگوں کے حق میں عین وبال ہے۔

پھر آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ (مندرجہ بالا) سوال کا جواب ایک مقدمہ پر مبنی ہے وہ یہ کہ آخرت کا حسن و جمال اور اسی طرح اس جگہ کے تلذذات و تنعمات بھی نہ دنیوی حسن و جمال کے مانند ہیں اور نہ ہی یہاں کے تلذذات و تنعمات کی طرح کیوں کہ وہ حسن و جمال سب کا سب خیر ہی خیر ہے اور وہ تلذذ و تنعم مولیٰ جل و علا کو مقبول اور اس کا مرضی (پسندیدہ) ہے اور یہ (دنیوی) حسن و جمال سب کا سب شر و نقص ہے اور یہ تلذذ و تنعم سب نامقبول اور غیرمستحسن اسی لیے دار آخرت دار رضا ہوا اور دار دنیا دار غضب مولیٰ ہوا جل سلطانہ۔

سوال:

ممکن میں حسن و جمال چوں کہ حضرت وجوب تعالیٰ سے مستعار ہے اور ممکن اس مرتبہ کے مظہر اور آئینے سے زیادہ نہ ہوگا کیوں کہ ممکن اپنے پاس سے کچھ نہیں رکھتا ہے اور جو کچھ رکھتا ہے حضرت وجوب تعالیٰ و تقدس سے مستفاد ہے تو فرق ان دونوں جگہوں (دار دنیا و دار آخرت) میں کس جگہ سے آئےگا اور کیوں ایک پسندیدہ اور مقبول اور دوسرا نا مقبول اور غیر مستحسن ہوا۔

اس اہم سوال کے جواب میں آپ حضرت مجدد قدس سرہ کے علم و فضل اور وسعت نظری کی بلندی سماعت فرمائیں، آپ فرماتے ہیں ‘‘جواب چند مقدمات پر مبنی ہے،مقدمہ اولیٰ یہ کہ عالم مکمل طور پر اسما و صفات واجبی جل شانہ کا آئینہ اور مظہر ہے اور اس تعالیٰ کے اسمائی اور صفاتی کمالات کا آئینہ۔ مقدمہ دوم یہ کہ صفات واجبی

جل سلطانہا ہر چند دائرۂ وجوب میں داخل ہیں،لیکن چوں کہ وجود و قیام میں حضرت ذات تعالیٰ کے ساتھ ان کا احتیاج ثابت ہے اس لیے امکان کی بو ان میں ثابت ہے اور ذاتی وجوب ان کے حق میں غیر متیقن ہے کیوں کہ ان کا وجوب خود سے نہیں ہے، بلکہ ذات واجب تعالیٰ سے ہے اور ہر چند انھیں غیر ذات نہ کہیں لیکن غیریت سے چارہ نہیں رکھتی ہیں کیوں کہ اثنینیت (دوئی) ان کے درمیان ثابت ہے اور ‘‘الاثنان متغایران’’ ارباب معقول کا قضیہ مقررہ ہے اس کے باوجود امکان کا اطلاق ان کے حق میں نہیں کرنا چاہیے کہ حدوث کا وہم ڈالتا ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک ہر ممکن حادث ہے ، اور وجوب بالغیر بھی اس محل میں جائز نہیں قرار دینا چاہیے کہ حضرت ذات تعالیٰ و تقدس سے ان کے انفکاک کا موہم ہے۔

مقدمہ ثالث یہ کہ جس جگہ امکان کی بو ہے عدم کی اس جگہ فی حد ذاتہ گنجائش ہے اگرچہ اس عدم کا حصول محال ہو لیکن وہ استحالہ اس کی ذات سے پیدا نہیں ہوا ہے بلکہ دوسری جگہ سے آیا ہے مقدمہ رابع یہ کہ اسما و صفات واجبی جل سلطانہ کے لیے جس طرح ان کے جانب وجود میں حسن و جمال ثابت ہے ان کے احتمال عدم کی جانب میں بھی حسن و جمال ثابت ہے اگرچہ اس حسن کا ثبوت مرتبہ حس و وہم میں ہو کہ عدم کے مناسب ہے اور ہر چند مستعار پڑوس سے ہو کہ عدم کے لیے فی حد ذاتہ شر وقبح کے علاوہ کوئی نصیب نہیں ہے، وجود ہے کہ سراسر خیر و کمال ہے اور بتمامہ حسن و جمال۔ جاننا چاہیے کہ جو حسن عدم میں نمودار ہوتا ہے وہ اس کی طرح ہے کہ حنظل (ایک نہایت تلخ پھل) پر شکر کا غلاف چڑھا دیں اور میٹھا بتائیں۔

دنیا اور آخرت کا فرق:

مقدمہ خامس یہ کہ اللہ سبحانہ کے کرم سے نظر کشفی سے واضح ہوا ہے کہ اس دنیا میں عدم ممکن کی جانب کو کمال قدرت سے تربیت فرما کر اس کو حس و وہم کے مرتبہ

میں اپنی کامل دستکاری سے ثبات و قرار بخشا ہے اور صفات کے اس حسن و جمال کا مظہر بنایا ہے جو ان کے احتمال عدم کی جانب میں نمودار ہوا تھا اور نیز واضح ہوا ہے کہ دار آخرت میں ممکن کے وجود کی جانب کو ترجیح دے کر صفات کے حسن و جمال کا مظہر بنائیں گے جو کہ ان کے وجود کی جانب میں ثابت ہے۔

جب یہ پنج گانہ مقدمات معلوم ہو گئے تو اس دنیا کے حسن و جمال اور آخرت کے حسن و جمال کے درمیان فرق واضح ہو گیا اور ایک کا قبح اور دوسرے کا حسن روشن ہو گیا اور مرضی سے غیر مرضی نے امتیاز پیدا کر لیا۔ ان تحقیقات سے یہ سوال بھی حل ہو گیا اور مقدمہ کی توضیح بھی ہو گئی کہ سوال اول کا جواب اسی پر مبنی رہا ہے جیسا کہ ذہین غور کرنے والے پر پوشیدہ نہیں ہے۔

اور جب یہ مقدمہ واضح ہو گیا تو سوال اول کے جواب میں ہم کہیں گے کہ فضل خداوندی جل شانہ سے بکشف صریح معلوم ہوا ہے کہ حضرت یوسف علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و التسلیم کا وجود ہر چند اس دنیا میں پیدا ہوا ہے لیکن اس دنیا کے باقی موجودات کے بر خلاف ان کا وجود دار آخرت سے ہے اور ان کے جانب وجود کو ترجیح دے کر ان کو اس حسن و جمال کا مظہر بنایا ہے جو اسما و صفات کے وجود سے تعلق رکھتا تھا اور شائبہ عدمیت کو ان کی ذات یا ان کی اصل سے تعلق پکڑنا منتفی کر دیا اور علّت عدم سے کہ ہر قبح و نقص کا منشا ہے ان کو اور ان کی اصل کو پاک کر دیا اور نورِ وجود کی جانب کے غلبہ کے علاوہ کہ بہشتیوں کا حصہ ہے ان میں نہ چھوڑا (اس لیے) لا محالہ ان کے حسن و جمال کی گرفتاری بہشت اور بہشتیوں کے حسن و جمال کے ساتھ گرفتاری کی طرح محمود ہوئی اور کاملین کا نصیب ہوئی اور جس قدر محب کامل تر ہوگا آخرت کے حسن و جمال کا گرفتار زیادہ ہوگا اور مولیٰ جل شانہ کی خوشنودیوں میں قدم زیادہ رکھےگا کیوں کہ اس آخرت کی گرفتاری عین اس کے مالک کے ساتھ گرفتاری ہے کیوں کہ وہ نشاء اس جل

سلطانہ کے طلسم حکمت سے زیادہ نہیں ہے اور کبریائی کی چادر کی طرح روپوش پردگی نہیں۔ واللہ یدعو إلیٰ دار السلام نص قاطع ہے اور واللہ یُرید الآخرۃ اس معنی پر روشن حجت ہے۔

اور (صوفیہ سے) جس نے آخرت کی گرفتاری کو دنیا کی گرفتاری کی طرح مذموم رکھا ہے اور مولیٰ جل شانہ کی گرفتاری کے وراء قرار دیا تو اس نے آخرت کی حقیقت کو صحیح طور پر جانا نہیں ہے اور غائب کو شاہد (دنیا) پر فارق ظاہر کے باوجود قیاس کر لیا (حضرت) رابعہ (رحمۃ اللہ علیہا) بے چاری اگر جنت کی حقیقت کو مکمل طور پر جانتیں تو اس کے جلانے کی فکر نہ کرتیں اور اس کے ساتھ لگاو کو اس کے مولیٰ جل سلطانہ کے علاوہ کے ساتھ لگاو نہ جانتیں۔

اور (صوفیہ سے) دوسرے نے کہا ہے کہ آیت کریمہ:

مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنْیَا وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ (آل عمران:۳؍۱۵۲)

ترجمہ: تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا اورتم میں کوئی آخرت چاہتا تھا۔’’

میں دونوں فریق سے شکایت ہے (یعنی جو دنیا کے طالب ہیں ان سے بھی اور آخرت کے طالب سے بھی، لہٰذا دنیا کی طرح آخرت بھی مذموم ہے) حضرت حق سبحانہ ان کو انصاف دے، کیسے متصور ہو سکتا ہے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ جنت کی طرف دعوت دے (بلائے) اور جو دعوت کے بعد اسے قبول کرلے اس سے شکایت کرے، گر اس مقدس جگہ سے لگاو برا ہوتا یا برائی کا شائبہ رکھتا تو بہشت دارِ رضا نہ ہوتی کہ رضا مراتب قبول کی انتہا ہے اور وہ بھی دنیا کی طرح غضب کا محل بنتی غضب کی علت اور مذمت کا باعث عدم ہے کہ ہر قبح و نقص کی جڑ ہے اور دنیا کا حصہ ہے اور دنیاکی لعنت کا سبب ہوا اور جب عدم سے بے زاری حاصل ہوئی ذم و قبح کا شائبہ زائل ہوا اور نارضائی و نامقبولی دشمنوں کا حصہ ہوئی اور بجز رضا اور وجود و نور کے قبول کے اور علاوہ وصل و

وصول اور راحت و سرور کے کچھ نہیں رہا۔’’

آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجددی قلم موجودات دنیا اور موجودات (آخرت) کے درمیان تفاوت و فرق کس دقت نظر کے ساتھ فرما رہا ہے کہ صفات میں دو اعتبار ہیں ایک احتیاج الی الغیر اور ایک ان کا خود اپنا وجود ۔ اول کی وجہ سے ان میں امکان اور عدم کا شائبہ ہے۔ موجودات دنیا کا تعلق اسی جہت سے ہے اور آخرت میں جانب وجود کو ترجیح حاصل ہے، لہٰذا ان کا تعلق دوسری جہت سے ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں، تصوف کے کتنے ہی مسائل اسی ایک اصل پر متفرع ہیں، اسی سے آپ کو معلوم معلوم ہوگا کہ دنیا دار غضب کیوں ہے اور آخرت دار رضا کیوں ہے، اسی سے معلوم ہوگا کہ جنھوں نے جنت کو جلانے کی بات کہی ہے ان کی پہنچ کہاں تک ہے؟ اسی سے معلوم ہوگا کہ دنیا کے حسن و جمال سے لگاو اور تعلق، جس کو بہتوں کو وصول الی اللہ کا ذریعہ سمجھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ جس سے خامکاروں کے لیے نرے مفاسد کے دروازے کھلے۔

داناے غیوبﷺ تو فرما رہے ہیں کہ دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے۔ آپ علیہ الصلاۃ و السلام تو فرما رہے ہیں کہ دنیا کی قدر اگر بارگاہ الٰہی عز و جل ایک مچھر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو پانی پینے کو نہیں ملتا جب کہ جنت کی طرف خداوند قدوس خود قرآن میں بلا رہا ہے۔ اسی طرح کا تجدید الف ثانی کا فیضان مکتوبات شریفہ کی تینوں جلدوں میں موجزن ہے، ولایت کی نظر اور نبوت کی نظر کا فرق آپ بین طریقہ سے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے حقائق کس قدر قرآن و سنت اور نفس الامر کے مطابق ہوتے ہیں، اس کا صحیح اندازہ تو علم و فضل و عرفان کے حامل بلند افراد ہی کر سکتے ہیں۔ اب اس سلسلے میں اور ایک تجلی ملاحظہ فرمائیں، فرماتے ہیں:

‘‘مخبر صادقﷺ نے فرمایا ہے کہ تسبیح و تہلیل و تحمید کے ذریعہ جنت میں درخت لگاؤ یعنی سبحان اللہ کہو اور جنت میں درخت لگاؤ معنی تنزیہی کہ اس دنیا میں ان حروف و کلمات کے لباس میں اس جگہ ظاہر ہوتے ہیں اس جگہ (آخرت میں) درخت کی صورت میں ہوں گے، اس درخت سے محبت اور اس سے تلذذ عین معنی تنزیہی سے محبت اور اور تلذذ ہوگا۔ اس پر قیاس کر لو۔’’

یعنی سبحان اللہ جس کی دلالت ہر عیب و نقص سے براءت و پاکی پر ہے، اللہ تعالیٰ کی اس پاکی پر ایمان اور امکان بیان بھی سبحان اللہ کی صورت میں ہے جس کے پڑھنے سے بندے کو ثواب اور قرب حاصل ہوتا ہے آخرت میں اس معنی کا ظہور درختوں اور دیگر لذتوں کی شکل میں ہوگا کہ ان کے استعمال سے بندو ں کو قرب در قرب حاصل ہوگا یہی حال اس کی توحید اور حمد و ثنا کا ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں ‘‘صوفیہ علیہ نے کہ وہ تمام دقائق و اسرار توحید و اتحاد میں بیان فرماتے ہیں اور اس دنیا کے مظاہر جمیلہ پر ان کو اتارا ہے اور عاشقی کی ہے اور ان کے ضمن میں شہود و مشاہدہ ثابت کیا ہے اور ان کے حسن و جمال کو مولیٰ عز و جل کا حسن و جمال جانا ہے، ایک کہتا ہے ذُقْتُکَ فِیْ کُلِّ طَعامٍ لَذِیْذٍ یعنی میں نے تجھے ہر لذیذ کھانے میں چکھا۔ دوسرا کہتا ہے؎

امروز چوں جمال تو بے پردہ ظاہر است

در حیرتم کہ وعدۂ فردا براے چیست

یعنی آج تیرا جمال جب بے پردہ ظاہر ہے تو میں حیرت میں ہوں کہ کل (آخرت) کا وعدہ کس لیے ہے۔ تیسرا کہتا ہے؎

از عطش گر در قدح آبے خورند

در درون آب حق را ناظر اند

یعنی پیاس کی وجہ سےاگر پیلاے میں پانی پیتے ہیں تو پانی کے اندر حق کو دیکھتے ہیں، اس دنیا میں ان جیسی باتوں کی سچائی اس فقیر کی دریافت اور سمجھ سے دور ہے کہ اس

دنیا میں اس قسم کی نزاکتوں کو برداشت کی طاقت نہیں پاتا ہے اور ان کو اس قسم کی دولت کے قبول کے قابل نہیں جانتا ہے، اگر قبول کی طاقت رکھتی تو مولیٰ جل شانہ کی محل غضب نہ ہوتی اور سرکار علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام الدنیا ملعونۃ نہ فرماتے۔ جنت ہے کہ ان کرامتوں کی سزاوار ہے اور ان مقامات کے قابل ہے۔ ذُقْتُکَ فِیْ کُلِّ طَعامٍ لَذِیْذٍ جنتی طعام میں صادق ہے نہ کہ دنیوی طعام میں کہ آب عدم کے زہر سے مخلوط ہے اسی لیے اس کا ارتکاب مستحسن نہیں آیا۔