باب ۱۴ از ۵۷صفحات ۲۰۴–۲۲۲
بدعت کی تحقیق
حضرت مجدد قدس سرہ نے بدعت کی مذمت وقباحت بہت بیان فرمائی ہے آپ جگہ جگہ بدعت کا رد بلیغ کرتے ہیں اور اپنے خلفاء ومریدین اور متعلقین کو تلقین کرتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے سنت کو زندہ کیا جائے اور بدعت کو موت کے گھاٹ اتارا جائے اور اس کو ختم کرنے کی ہر امکانی کوشش کی جائے،آپ اس بات کے بھی قائل نہیں ہیں کہ کسی بدعت میں حسن ہے اور نہ یہ پسند کرتے ہیں کہ بدعت کو حسنہ اور سیئہ کی طرف تقسیم کیا جائے،ان سب چیزوں سے بعض کج فہموں نے اپنے فاسد مقاصد اور باطل مزعومات کو حق ثابت کرنے کی کوشش کی اور حضرت مجدد قدس سرہ کہ ذات چونکہ ہر لحاظ سے مسلم الثبوت ہے اس لیے انھیں بہانہ بنا یا،ہم چند بحثیں یہاں سپرد قلم کرتے ہیں جس سے آپ صحیح نتیجہ تک بہ ااسانی پہنچ سکتے ہیں اور حضرت مجدد قدس سرہ کی مراد بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں۔
بدعت کے معنیٰ:
لغوی اعتبار سے ہر نئی چیز کو بدعت کہا جا تا ہے،آپ ﷺ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں اس کی تردید فرمائی ہے اور ہر بدعت کو ضلالت وگمرہی قرار دیا ہے،ذہن میں سب سے پہلے بڑی الجھن اسی بات سے پیدا ہوتی ہے کہ سرور کونین ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد جو ایجادات واختراعات کا سلسلہ شروع ہوا اور بڑھتے بڑھتے آج جس منزل پر پہنچ گیا ہے اس نے ہزارہا مسائل انسانی دنیا کے سامنے کھڑے کردیے۔
آپ ﷺ کے وسال اقدس کے بعد خود دین کے اندر نئی نئی چیزیں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں عمل میں آئیں جنھیں علماء وصلحاء نے دینی کام اور بات سمجھ کر قبول کیا،قرآن کے لفاظ پر حرکات وسکنات،نکتے،رکوع اور دیگر علامات اور اسی طرح دین کی ترویج اور اشاعت کے نئے نئے طریقےنکالے جیسے مدرسے قائم
کرنا ،کتابیں لکھنا اور دلائل وبراہین قائم کرنا اسی طرح علوم وفنون کی وضع وتدوین اور ہر ایک کی اصطلاحات قائم کرنا وغیرہ۔
وگیرہ اسی طرح صوفیۂ کرام کا تصفیہ قلب اور تزکیہ نفس اور باطنی رذائل زائل کرنے کے لیے خانقاہی نظام قائم کرنا ،اور تصوف کی وضع وتدوین ،مسجدوں کی آرائش وگیرہ کیا کیا گنایا جائے یہ سب وہ امور ہیں جو صاحب شریعت ﷺ کے وسال کے بعد وجود میں آئے۔
ظاہر ہے بدعت کا اگر یہی لغوی مفہوم مراد لیا جائے تو کون ہے جو بدعت کے ارتکاب سے اپنے دامن کو بچا سکے گا ،یہ ائک کھلی ہوئی حقیقت ہے دعویٰ کوئی کچھ بھی کرلے مگر اس معنیٰ کر ہر شخص بدعتی قرار پائے گا نہ صحابہ کے وہ اعمال بدعت سے بچ سکیں گے جو ااپ ﷺ کے بعد عمل میں آئے اور نہ مجتہدین کے وضع کردہ فقہی اصول وضوابط اور نہ احکام فقہیہ نہ تصوف۔
ظاہر ہے پوری امت کو بدعتی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے اس لیے علماء وصلحاء کے لیے ضروری ہوگیا کہ وہ بدعت کے معنیٰ ومفہوم کو متعین کریں اور ایسی راہ نکالیں جس سے مذکورہ بالا الجھن دور ہو جائے۔
چنانچہ بعض علماء وصلحاء نے بدعت کو اسی لغوی مفہوم میں لیتے ہوئے چھٹکارا کا یہ راستہ اختیار کیا کہ بدعت کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ایک حسنہ اور دوسرے سئیئہ،حسنہ میں ان تمام امور کو داخل کرلیا جنھیں انھوں نے دینی کام سمجھا تھا اور سیئہ میں دیگر امور کو پھر حسنہ کی قسمیں کیں ایک واجب جیسے علم نحو وصرف کی تعلیم وتعلم کیونکہ اایات وحادیث کی معرفت ان سے حاصل ہوتی ہے کتاب وسنت کے نکات اور عجائب وغرائب اور دیگر ایسے امور جن پر دین وملت کی حفاظت موقوف ہے دوم مستحب جیسے سرائے اور مسجد کی تعمیر سوم مباح جیسے مطاعم وملابس یعنی کھانے پینے
میں فراخی ووسعت، مختلف قسم کے لذیذ کھانے،کئی کئی ایک ساتھ کھانا۔
اسی طرح بدعت سیئہ کے بھی درجے قائم کئے اور بعض بدعات کو حرام قرار دیا جیسے اہل سنت وجماعت کے خلاف عقائد گڑھنا اور بعض کو مکروہ قرار دیا جیسے بعض کے نزدیک مساجد اور قرآن مجید میں نقش ونگار۔
بعض دیگر بزرگوں نے بدعت کا یہ مفہوم اور معنیٰ مقرر کیے کہ شریعت میں بدعت کے معنیٰ یہ ہیں کہ دین میں ایسی چیز پیدا کرنا جس کی اصل دین میں نہ پائی جائے یعنی ہر وہ چیز جو کسی دلیل شرعی کے معارض ہو بدعت سیئہ ہے(تفصیل کے لیے دیکھیں فاضل بریلوی اور امور بدعت)حضرت مجدد قدس سرہ کے زمانے میں بدعتوں کا رواج کس قدر ہو چکا تھااس کا حال ابھی آپ پڑھیں گے یہ بدعتیں علماء اور صوفیہ دونوں ہی سے رواج پا رہی تھیں۔
(۲)حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات قدسی آیات کا جن لوگوں نے بھی مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ آپ کے نزدیک سنت اور بدعت میں وہی تعلق ہے جو حرکت اور سکون میں،رات اور دن میں ہے،اور نور وظلمت میں ہے یعنی دونوں میں تضاد کا تعلق ہے ایک دوسرے کی نقیض ہے۔
سنتوں کا رواج اور احیاء بدعتوں کی تباہی اور اماتت کو مستلزم ہے اور بدعتوں کا رواج سنتوں کے خاتمہ کو لازم ہے،سنتوں کو رواج دینے کے لیے جہاں سنتوں پر عمل کرنا اور دوسروں کو عامل بنا نا ضروری ہےوہیں بدعتوں کو ختم کرنا بھی ایک لازمی عنصر ہے ،بدعت جتنی مٹے گی اور ختم ہوگی اتنی ہی سنت رائج ہوگی۔
(۳)حضرت مجدد قدس سرہ جن کی ساری تجدید کا کا محور عقائد اہل سنت اور سنت ہے سارے کمالات کا حصول انھیں پر موقوف ہے انھوں نے پوری ہمت وقوت سنت کے رواج اور عروج وارتقا پر محصور کردی تھی یہ محبوب کونین ﷺ کی ذات سے
کمال عشق کا نتیجہ تھا کہ اپنے لیے نہ معارف کی تمنا تھی اور نہ تجلیات کی طلب صرف اور صرف احیاء سنت کی فکر تھی،ظاہر ہے ایسا عاشق صادق ایسی چیزیں کیوں برداشت کر سکتا ہے جو اس چیز کو مٹائیں یا مضمحل کریں جس کو اس نے مرکز روجہ بنایا ہو جو وسال محبوب کا ذریعہ بنے،جس سے ساری خروی فلاح وابستہ ہو ،اسی لیے جہاں آپ نے شدت سے سنت پر عمل شروع کیا اور دوسروں کو تلقین شروع کی وہیں بدعت کو ختم کرنے اور مٹانے کمی ہر ممکن تدبیر بھی کی اور حتیٰ الامکان اس سلسلے میں کوشش کی۔
آپ قدس سرہ کا شغف اس سلسلے میں اتنا بڑھ گیا تھا کہ آپ چاہتے تھے کہ ہر عمل خیر سنت کے نام سے کیا جائے اور سنت پر عمل کی نیت سے کیا جائے،ثواب کے لالچ میں نہ ہو پھر پوری کوشش یہ تھی کہ ہر انسان کا ذہن اس کا مرکز توجہ صرف سنت بن جائے ،ہر وقت سنت اسے یاد رہے ہر کام میں سنت کا دھیان رہے،سنت کی تلاش رہے، الغرض ہر عزیز ومحبوب سے بڑھ کر سنت عزیز ومحبوب بن جائے اور ہر وہ چیز ختم ہوجائے اور مٹ جائے جو سنت کو ختم کرتی ہے اور سنت کو بھلاتی ہے۔
اس تناظر میں ااپ اس سلسلے سے متعلق مکتوبات شریف کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو بہ آسانی پتہ چل جائے گا کہ مجددانہ بصیرت کیا چاہتی ہے اور کتنی بلند ہوتی ہے،سنت سے عشق ومحبت کی یہی دیوانگی کی حد تھی کہ آپ قدس سرہ یہ چاہتے تھے کہ بدعت بالکلیہ ختم ہوجائے،بدعت کا نام مٹ جائے اور کوئی کام بدعت کے نام سے نہ کیا جائے اگر اس کا ذکر صراحتا سنت میں نہیں ہے تو فقہ کے نام سے اپنایا جائے بدعت حسنہ کے نام سے نہیں۔
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آپ نے بدعت کے مذکورہ بالامعانی و مفاہیم سےپہلے معنیٰ و مفہوم کو پسند نہیں کیااس کا مطلب یہ نہیں کہ علماء وصلحاء نے جن چیزوں کو
بدعت حسنہ کہا ہے آپ انھیں سنت کے خلاف سمجھتے تھے بلکہ بات دراصل وہی ہے جو آپ ابھی پڑھ چکے،نیز آپ کی بالگ نظری جانتی تھی کہ اعمال وعقائد میں بعض علماء وصوفیہ نے بدعت حسنہ کا سہارا لے کر ایسے امور ایجاد کر لیے ہیں جو سنت کو یا تو مٹاتے ہیں یا چھپاتے ہیں اس لیے آپ نے اس دروازہ ہی کو بند کردیا جس سے یہ خامکار لوگ ناجائز مقاصد کی تحصیل کر رہے تھے۔
جس دور میں آپ قدس سرہ تھے اور جس قدر بدعتوں کو رواج دیا جا رہا تھا عوام تو عوام خواص بھی اس دلدل میں کس قدر پھنستے جا رہے تھے لہٰذا اس وقت کا تقاضہ یہی تھا اور وقت کی نزاکت یہی کہہ رہی تھی کہ سب کچھ چھوڑ کر سرف احیاء سنت کے کام میں لگ جایا جائے،آپ کی بلند نگاہی جو دیکھ رہی تھی وہی آپ قدس سرہ ان سب علماء اور صوفیہ کو بھی دکھانا چاہتے تھے جو اپنے بزرگون کے اعمال وافعال یا اوراد واشغال کو سند بنا کر ایسے امور کا ارتکاب کر رہے تھے جن کی بالواسطہ یا بلا واسطہ سنت پر زد پڑ رہی تھی ۔
جو لوگ مجددانہ بصیرت سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کام عین حکمت کے مطابق تھا مگر ہر ایک کی نظر ان بلندیوں تک کہاں پہنچ پاتی ہے،آپ نے مکتوبات شریف میں صراحت کی ہے کہ آپ بدعت اس کام کو سمجھتے ہیں کہ جس سے سنت کا رفع لازم آئے حتیٰ کہ آپ سنن عادیہ کے خلاف کو بھی بدعت تصور کرتے ہیں اس لیے آپ جگہ جگہ فقہی مسائل پر عمل کی دعوت دیتے ہیں اور مفید کتابوں کی نشاندہی فرماتے ہیں، میں نے یہ خلاصہ اور لب لباب بیان کردیا اس کو نظر میں رکھ کر آدمی مکتوبات شریف کا مطالعہ کرے تو وہ سمجھ لے گا کہ سب کا حاصل اور خلاصہ وہی ہے اور ان میں وہی کارفرما ہے جو میں نے عرض کیا ۔
اس زمانے کے بعض گمراہ فرقے وہابیہ ودیابنہ وغیرہ نے حضرت مجدد قدس
سرہ کی بصیرت کو پرکھا نہیں اور نہ مراد سمجھنے کی کوشش کی بلکہ بدعت کی اماتت کو ان چند مسائل پر محمول کردیا جن امور کو وہ بدعت تصور کرتے ہیں اور ان کی بنیاد پر اہل حق یعنی اہل سنت کو بدعتی کہتے ہیں یعنی نذر ونیاز،قیام ومیلاد اور اعراس وغیرہ کی محفلیں جبکہ ہر پڑھا لکھا جانتا ہے کہ کہاں بدعت جیسی شنیع چیز اور کہاں یہ پاکیزہ امور پھر حضرت مجدد قدس سرہ کی تردید بدعت سے صرف ان امور کو کیا تعلق مگر؎
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
حقیقت یہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے نز دیک ان امور کو بدعت سے کوئی تعلق نہیں جو شرعی اصولوں کے تحت قرآن وسنت سے مستنبط ہوں،آپ نے صراحت کی ہے کہ آپ ان امور کے خلاف کو بھی بدعت نہیں سمجھتے ہیں جن کو سرور کونین ﷺ نے بطور عبادت نہیں بلکہ بطور عادت کیا ہے اگرچہ بنظر عشق ان پر بھی جان فدا ہے ،اب آپ چند اقتباسات ملاحظہ کریں جن سے ان تمام امور کی تصدیق ہوتی ہے جو سپرد قلم ہوئے:
حضرت مجدد قدس سرہ کے زمانے میں بدعت کا رواج کس حد تل ہو چکا تھا ملاحظہ فرمائیں:‘‘ عالم در دریائے بدعت غرق گشتہ است وبظلمات بدعت آرام گرفتہ کرا مجال است کہ دم از رفع بدعت زند وبہ احیاء سنت لب کشاید’’
ترجمہ: عالم بدعت کے دریا میں ڈوب گیا ہے اور بدعت کی تاریکیوں کے ساتھ آرام حاصل کیا کس کو مجال ہے کہ بدعت کو ختم کرنے کا دم مارے۔
ان چند جملوں میں آپ پتہ لگا سکتے ہیں کہ عقائد واعمال میں عوام وخواص میں بدعتیں کس قدر داخل ہو گئی تھیں اور لوگ ان بدعات کے کتنے خوگر ہو گئے تھے کہ ان کے خلاف کسی کو آواز اٹھانے کی ہمت نہ تھی احیاء سنت اور اماتت بدعت کی توقع دین کے رہبروں سے کی جا سکتی تھی، صوفیہ خام کا حال آپ پڑھ چکے اور اکثر علماء کا حال یہ
اکثر علماء ایں وقت رواج دہندہائے بدعت اند ومحو کنندہائے سنت(یعنی اس وقت کے اکثر علماء بدعت کو رواج دینے والے اور سنت کو مٹانے والے ہیں)
اب جن کے دل میں کچھ درد رہا بھی ہوگا تو نقار خانہ میں طوطی کی آواز کون سنتا اور مورد طعن وتشنیع کون ہوتا اس کے لیے جن بازؤ ں کی ضرورت ہے وہ سب کو عطا نہیں ہوتے ہیں بلکہ خاص قوت قدسیہ کے حامل بندے ہوتے ہیں طافانوں سے ٹکرانا اور ہواؤں کے مخالف سمت میں چراغ جلانا جن کا کام ہوتا ہے وہاں مصلحت اندیشی ایسی نہیں ہوتی ہے جس میں اپنی سلامتی ملحوظ ہو بلکہ وہ کسی کی پرواہ کیے بغیر میدان میں کود پڑتے ہیں حالات خود بخود ان کے موافق ہو تے چلے جاتے ہیں یہ کام مجددین کرتے ہیں اور ایسے وقت میں احیاء سنت کے لیے مجددین کے مجدد کی ضرورت تھی۔
بدعت کس قدر پھیل چکی تھی اور دلوں میں رچ بس چکی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بدعت کے جواز کے لیے اہل علم نے تعامل ناس کا بہانہ تلاش لیا تھا،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:
"پھیلی ہوئی بدعتوں کو تعامل خلق جان کر جواز بلکہ استحسان کا فتویٰ دیتے ہیں اور لوگوں کو بدعت کی رہنمائی کرتے ہیں" آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایک باطل اور غلط چیز لوگوں میں پھیل گئی تو اب وہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن ہو گئی ۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ علماء کیا کہیں گے کہ اگر ضلالت پھیلاؤ پیدا کر لے اور باطل متعارف ہو جائے اور لوگوں کا معمول بن جائے"ظاہر ہے خلاف سنت کوئی بھی چیز کتنی ہی پھیل جائئے وہ خلاف سنت ہی رہے گی جائز یا مستحسن نہیں ہو جائے گی،آج داڑھی منڈانا ہر ملک میں عام ہو گیا ہے بہت سے علماء ومفتی بھی اس بدعت کے مرتکب ہیں تو کیا اس بلا کے عام ہونے سے یہ کہا جائے گا کہ یہ
تعامل ناس ہو گیا لہٰذا جائز ہے؟
جس تعامل ناس کا فقہاء نے تذکرہ کیا ہے اور اس کے جواز واستحسان کی گفتگو کی ہے اس کا مطلب کچھ اور ہے(تفصیل کے لیے مکتوب 54 ج دوم کا مطالعہ فرمائیں)
عموما ایسا ہی ہوتا ہے کہ غلط کاموں کی روش جب عام ہو جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ اس روش کو ختم کیا جائے دبو لوگ اور دلوں میں کجی رکھنے والےاس جواز کی راہیں تلاش کرنے لگتے ہیں جبکہ آنے والی نسلوں کے لیے ان کے نتائج کتنے خطرناک ہوتے ہیں۔
اب عام طور پر سنت کے جو کام کیے جاتے ہیں ان میں بھی رسوم اور بدعات کا تانتا لگا ہوتا ہے نکاح ہو یا ختنہ، عقیقہ ہو یا ولیمہ یا اور کوئی دینی محفل کچھ نہ کچھ بدعتوں کا ارتکاب ضرور ہوتا ہے دینی اجتماعات،جلسے،جلوس اور اعراس کی محفلیں کتنی مبارک چیزیں تھیں مگر سب میں بدعات داخل ہو گئیں اور علماء وقت کو یہ دم نہیں کہ کسی محفل میں ٹوک سکیں اور ٹوکیں گے کیا جب خود ان امور قبیحہ کا ارتکاب کرتے ہیں سنتوں کی ترویج واشاعت تو بڑی بات ہے جب خود ان رہبروں کا سنتوں عمل نہیں ہے تو دوسروں کو عامل کیا بنائیں گے ؎
چوں کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی
(2)اب مجددانہ بصیرت کا حامل مکتوب 23 ج دوم کا ایک طویل اقتباس ملاحظہ فرمائیں جس کے ہر ہر جملے سےآپ قدس سرہ کی بالغ نظری اور قیادت وامامت کےجوہر دکھائی دیتے ہیں
"پوری ہمت اور ساری فکر اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کہ سنتوں میں سے کسی سنت کو رواج دیا جائے اور بدعتوں میں سے کسی بدعت کو ختم کیا جائے(یوں تو)تمام اوقات خاص کر اس ضعف اسلام کے وقت میں مراسم اسلام کو قائم کرنا ،سنت کی
ترویج اور بدعت کی تخریب سے وابستہ ہے اسلاف نے بدعت میں حسن دیکھا تھا کہ اس کے بعض افراد کو مستحسن رکھا لیکن یہ فقیر اس مسئلہ میں ان سے موافقت نہیں رکھتا ہے اور بدعت کے کسی فرد کو حسنہ نہیں جانتا ہے اور ظلمت وکدورت کے علاوہ اس میں کچھ محسوس نہیں کرتا سرکار مدینہﷺ نے فرمایا : کل بدعۃ ضلالۃ
(اور یہ فقیر)پاتا ہے کہ اس غربت اور ضعف اسلام میں سلامتی سنت کے بجالانے سے ہے اور خرابی بدعت کی تحصیل سے وابستہ ہے خواہ کوئی بدعت ہو بدعت کو پھاوڑا کی طرح جانیں کہ اسلام کی بنیاد ڈھاتی ہے اور سنت کو چمکدار ستارے کی طرح پاتا ہے کہ ضلالت کی تاریک رات میں ہدایت فرماتی ہے۔
علماء وقت کو اللہ سبحانہ وترالیٰ توفیق دے کہ کسی بدعت کے حسن کے ساتھ لب نہ کھولیں اور کسی بدعت کے بجالانے کا فتویٰ نہ دیں اگرچہ وہ بدعت ان کی نظر میں صبح کی سفیدی کی مانند روشن ہو کیونکہ شیطانی تسویدات(آراستگیوں)کو سنت کے ماوراء میں عظیم غلبہ ہے گذشتہ زمانوں میں اسلام چونکہ قوت رکھتا تھا اس لیے لا محالہ بدعتوں کی تاریکیوں کو برداشت کرلیا اور شاید کہ ان تاریکیوں میں سے بعض نور اسلام کی روشنی میں بعض اشخاص کو نورانی متخیل ہو گئی اور ان کے حسن کا باعث ہوئیں اگرچہ کوئی حقیقت میں کوئی حسن ونورانیت نہیں رکھتی ےھیں بخلاف اس وقت کے کہ اسلام کی کمزوری کا وقت ہے بدعتوں کی تاریکیوں کو برداشت کرنے کی صورت نہیں رکھتا ہے اس جگہ متقدمین اور متاخرین کا فتویٰ جاری نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہر وقت کے احکام جداگانہ ہوتے ہیں،اس وقت میں عالم کثرت ظہور بدعت کی وجہ سے دریائے ظلمت کی طرح نظر آتا ہے اور نور سنت ندرت وقلت کے ساتھ اس ظلمانی دریا میں شب کو روشن کرنے والے کیڑوں(جگنو ) کی طرح محسوس ہوتا ہے اور بدعت کا عمل اس کی ظلمت کو بڑھاتا ہے اور نور سنت کو قائم کرتا ہے اور سنت پر عمل اس
ظلمت کی تقلیل کا باعث اور اس نور کی تکثیر ہے"
سبحان اللہ! کتنا مبارک کلام ہے قائد کی نظر کتنی بلند ہونا چاہئے یہ حضرت مجدد قدس سرہ سے سیکھیں،قائد وقت کا بہت بڑا حکیم اور بالغ نظر ہوتا ہے وہ زمانہ اور اہل زمانہ کے مزاج کو خوب جانتا ہے،مباھات کی کیفیتوں سے واقف ہوتا ہے،برائیاں کن چور دروازوں سے رفتہ رفتہ کس طرح داخل ہوتی ہیں،عوام تک مباحات پہنچتے پہنچتے کیا رنگ اختیار کر لیتے ہیں،خواہش نفس کا شکار حیلوں بہانوں کے متلاشی کہاں کہاں سے اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے درپے رہتے ہیں وقت کا مجدد سب کچھ جانتا ہے آپ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا،حضرت مجدد قدس سرہ اس کے دروازے کیوں بند کرنا چاہتے ہیں اور کس طرح سد باب منظور تھا؟
آپ صوفیہ کو بھی دعوت دیتے تھے کہ اپنے اعمال واشغال اور مجاہدات وریاضات اور خلوات واربعینات مشائخ کے معمولات کی وجہ سے نہ کرکے بلکہ سب کو چھوڑ کر سنت کو پورے طور پر نوفذ کرنے پر اتر آئیں، ماکولات وملبوسات اور مکانوں کی تعمیرات وغیرہ جنھیں بعض علماء نے بدعت مباحہ کے درجے میں لیا ہے ہر ذی شعور جانتا ہے کہ آج ان مباھات میں فراخی نے لوگوں کے ظاہر وباطن پر کیا اثر ڈالاہے،دنیا دلوں میں رچ بس گئی پر وقت کھانے پینے رہنے سہنے کی فکر ہے،عمدہ مکانات ہوں بہترین لباس ہون،اچھی شادیاں ہوں اور قوم پر اقتدار حاصل ہو خواہ کچھ بھی کرنا پڑے ان مباحات کی وسعتوں نے اسلام پر عمل بے پناہ بھاری کردیا،شہوےیں غالب ہو گئیں،زنا کاریاں عام ہو گئیں عوام تو عوام خواص بھی اس کے پیچھے پڑ گئے وہ دنیا والوں جیسی بلڈنگیں اور تجارتیں تلاش کرنے لگے اور دین کے ہر کام کو حصول زر کا ذریعہ بنا لیا الغرض ہر ذی شعور جانتا ہے کہ ان وسعتوں نے کیا گل کھلائے اور شیطان نے کس تلبیس سے کام لیا۔
حضرت مجدد قدس سرہ ان رہبروں کو یہی دعوت دے رہے ہیں کہ لوگوں کو مزاج اور بدعت کا رواج دیکھو سنت کی پامالی نظر کے سامنے ہے پرانا دور اور تھا اب اور ہے ،ان معاملات میں اگلوں کے فتوں کو تلاش نہ کرو وہ ان کے زمانے کے مناسب تھے ،ظاہر ہے کسی کے مناسب ترغیب ہے تو کسی کے ترہیب،خوشخبریوں کا محل اور ہے اور ڈرانے کا اور جو لوگ نادان ہوتے ہیں وہ یہیں پر دھوکہ کھا جاتے ہیں،وقت کے حکیم اور دانا کی بالغ نظری پر غور کرنے کی بجائےفتوں کا سہارا لے کر طعن وتشنیع شروع کر دیتے ہیں ہر بلند نظر قائد کی مخالفت یہیں سے شروع ہوتی ہے چھوٹے اس کے بلند ادراک جان نہیں پاتے ہیں اور کچھ کا کچھ کہنے لگتے ہیں۔
حضرت مجدد قدس سرہ صوفیہ کو دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
(3)"صوفیہ وقت نیز اگر بر سر انصاف بیانیہ وصفت اسلام وانشاء کذب را ملا حظہ کنند باید کہ در ما وراء سنت تقلید پیران خود نکنند وامور مخترعہ را بہ بہانہ عمل شیوخ دیدن خود نگیرند اتباع سنت البتہ منجی است ومثمرات خیرات وبرکات ودر تقلید غیر سنت خطر در خطر است"
ترجمہ:صوفیائے وقت اگر انصاف سے کام لیں اور اسلام کی کمزوری اور کذب کا پھیلنا دیکھیں چاہئے کہ سنت کے ما وراء اپنے پیروں کی تقلید نہ کریں اور نو ایجاد امور کو مشائخ کا بہانہ بنا کر اپنی عادت نہ بنائیں،سنت کی پیروی ہر حال میں نجات بخش ہے اور بھلائیوں وبرکتوں کو پھیلانے والی ہے جبکہ غیر سنت کی پیروی میں خطرہ ہی خطرہ ہے۔
اس کے بعد اپنے نقشبندی پیروں کا یوں شکریہ ادا کرتے ہیں:
"حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ ہمارے پیروں کو ہماری طرف سے جزائے خیر دے کہ ہم پسماندوں کو امور مبتدعہ بجا لانے کی دلالت نہ کی اور اپنی تقلید سے ہلاکت خیز تا
ریکیوں میں نہ ڈالا اور سنت کی پیروی کے سوا راہ نہیں دکھائی اور صاحب شریعتﷺ کی پیروی کے علاوہ اور عزیمت پر عمل کے سوا کہ ہدایت نہیں فرمائی،لامحالہ ان بزرگواروں کا کارخانہ بلند آیا اور ان کے اصول کا چبوترہ اونچا ہوا ،یہی ہیں کہ سماع ورقص کو پیر کے نیچے ڈالا ہے اور وجد وتواجد کو انگشت شہادت دونیم(پھاڑ دیا)بنایا دوسروں کا مکشوف ومشہود ان بزرگوں کے یہاں ما سوا میں داخل ہے اور ان کا معلوم متخیل نفی کے قابل"
حضرت مجدد قدس سرہ نے اس کلام بلاغت نظام میں بڑی اونچی بات فرمادی،نقشبندی بزرگوں نے صرف اور صرف اپنے نبیﷺکی سنتوں کی پیروی بتائی اپنے مشائخ کے معمولات واشغال کی گہری محبت وعقیدت کے با وجود دعوت نہ دی اور حد تو یہ کہ صرف عزیمت پر عمل کی تاکید کی اور رخصتوں سے اجتناب وپر ہیز کا حکم دیا ۔
کون نہیں جانتا کہ عزیمت وہ عمل ہے جو مرضی مولیٰ ہے اور صرف رب کی چاہت ہے اور رخصت میں بندوں کی آسانیاں ہیں،یہی آسانیاں تن پروری تک پہنچاتی ہیں اور حرام کاموں اور ےترک فرائض وواجبات کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
آج مشاہدہ ہے بزرگوں نے سماع ووجد کو کسی بھی مصلحت کے تحت داخل کیا ہو سنت بہر حال نہیں تھا ،ان بزرگوں نے حدود وقیود لگا پر ان پر پابندیاں عائد کرکے شریعت سے قریب رکھا اور آج قوالیوں کی محفلیں کن کن حرام کاموں اور باتوں پر مشتمل ہیں یہ کون نہیں جانتا ؟اب بزرگوں کی بیان کردہ حدود وقیود سب ختم ہوگئے بس مطلوب نفسانی حظوظ ہیں اور بہانہ معمولات مشائخ پر عمل کا ہے،آپ دیکھ رہے ہیں حضرت مجدد قدس سرہ کی بالغ نظری اور مستقبل شناسی آپ نے مختصر جملہ میں کتنی بڑی بات فرمادی کہ"تسویدات شیطان را در ماوراء سنت سلطان عظیم ست"
صرف سنتوں پر عمل مقصور نہ رہنے سے دو زبر دست نقصانات ہوئے ایک تو ایسے امور وجود میں آئے جنھوں نے آگے چل کر بدعت سیئہ کا روپ اختیار کر لیا اور سینکڑوں محرمات کو شامل ہو گئے ،دوم ان امور پر عمل کی وجہ سے جو معارف اور مکشوفات عمل میں آئے وہ جاہل صوفیوں کے لیے بد عقیدگی کا سبب بن گئے،حضرت مجدد قدس سرہ کی دور رس نگاہوں نے جو اس وقت دیکھ لیا تھا آج ہم کھلی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں،آپ نے سنت سے ہٹ کر ہر چیز کو روکنے میں جو شدت اختیار کی اس کی خوبی ہر ذی شعور انسان ان اقتباسات سے جان سکتا ہے۔
(4)خداوند قدوس نے اپنے بے پایاں کرم سے حضرت مجدد قدس سرہ کو چار مشہور سلاسل کے علاوہ بہت سی نسبتون میں کمال عطا فرمایا تھا اور ہر ایک سے تسلیک کی اہلیت اور زبر دست قوت رکھتے تھے اس کے با وجود آپ قدس سرہ نے سلسلہ نقشبندیہ ہی کو زیادہ تر عمل میں رکھا اور اسی کی جگہ جگہ ترغیب دی اور اسی میں لوگوں کو سلوک کرایا اس کی وجہ بھی خاص یہی تھی کہ اس میں سنت پر عمل کی تاکید زیادہ تھی اور ہر موڑ پر سنت کی رعایت ملحوظ تھی آپ زمانے کے سب سے زیادہ موافق اسی سلسلہ کو سمجھتے تھے ۔
اگر لوگ سلسلہ بازی اور تعصب سے ہٹ کر صرف اور صرف اپنے محبوب کونینﷺ کی سنت کی ترویج واشاعت دیکھیں تو وہ خود یہی بات کہنے پر مجبور ہوں گے،سلسلہ بعد میں ہے شریعت وسنت پہلے ہے مگر اب یہ کون دیکھتا ہے افسوس صد افسوس!اپنے مشائخ کا یہ قدر اور مشائخ کے سرورﷺ کی سیرت وسنت کےساتھ یہ برتاو۔
سلسلہ نقشبندیہ کے بارے میں آپ مکتوب290 ج اول میں فرماتے ہیں:
"بداں کہ طریقے کہ اقرب است واسبق واوفق واوثق واسلم واحکم واصدق وادل واعلیٰ
واجل وارفع واکمل طریقہ نقشبندیہ است" یعنی جان لیں کہ جو طریقہ کہ قریب تر ہے اور سابق تر اور زیادہ موافق اور زیادہ قابل اعتماد اور زیادہ سلامتی والا اور زیادہ مضبوط اور زیادہ سچا اور زیادہ رہنمائی کرنے والا اور اعلیٰ،اجل،ارفع اور اکمل ہے وہ طریقہ نقشبندیہ ہے۔
اگر بنظر انصاف کوئی بھی شخص مکتوبات شریف کا مطالعہ کرے جو جو طریقہ نقشبندیہ کی تعلیمات سے متعلق ہیں تو وہ یقینا اس تعارف کا مصداق پائے گا جو حضرت مجدد قدس سرہ نے کرایا ہے،عام طور پر مزاج یہ ہے کہ شریعت کےعلوم ومعارف بلاامتیازسب کے لیے ہیں اور قرآن وسنت میں تفصیلا بیان ہوئے اسی لیے انسان ان میں اپنے لیے کوئی خصوصیت نہیں سمجھتا ہے اور دیگر ریاضات ومجاہدات کے ذریعہ وہ علوم ومعارف میں مشاہدات ومکاشفات میں خصائص وامتیاز کا متلاشی رہتا ہے،حضرت مجدد قدس سرہ کی کوشش یہ تھی کہ دینی احکام ومسائل اور سنتوں کو مکمل طور پر ادا کیا جائے،ورع وتقویٰ جیسے اوصاف کا خوگر بنایا جائے یہی سب سے بڑا مجاہدہ ہے اور اسی سے وہ سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے جو کسی سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
(5)اتباع سنت پر مبنی سلسلہ نقشبندیہ میں بھی بعض لوگوں نے دوسروں کی دیکھا دیکھی بعض نئی نئی چیزیں پیدا کر لی تھیں مقصد یہ تھا کہ دوسروں کی طرح ہم پر بھی کیفیت طاری ہو اور ان خصائص کی وجہ سے ہماری بھی عوام کی نظر میںامتیازی حیثیت ہو،حضرت مجدد قدس سرہ ان احداث وبدعات کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
مخدوما مکرما!احداث وابداع(نئی نئی چیزیں پیدا کرنا )کو اس طریقہ میں اس قدر رواج دے دیا ہے کہ اگر مخالفین کہیں کہ اس سلسلہ میں بدعت کا التزام ہے اور سنت سے اجتناب تو بھی گنجائش رکھتا ہے،اور نماز تہجد کو جمعیت تمام کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور اس بدعت کو سنت تراویح کی طرح مسجدوں میں رواج بخشتے ہیں اور لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہیں حالانکہ نوافل کو جماعت سے ادا کرنے کو فقہاء شکر اللہ تعالیٰ
سعیہم نے مکروہ کہا ہے اشد کراہت(ایک سطر بعد فرماتے ہیں)نیز نماز تہجد کو اس وضع کے ساتھ تیرہ رکعت سمجھتے ہیں کہ بارہ رکعت کھڑے ہو کر گذارتے ہیں اور دو رکعت بیٹھ کر کہ ایک رکعت کا حکم پیدا کرلے،اسی جگہ سے لیا ہے کہ بیٹھ کر کر نماز پرھنے والے کا ثواب قائم کے مقابلے میں آدھا ہے یہ علم وعمل بھی سنت کے مخالف ہے۔(م168ج1)
(6)آپ قدس سرہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ فیضان انوار وبرکات اسی وقت تک ہے جب تک بدعات ورسومات کو دخل نہ دیا جائے مکتوب 260میں فرماتے ہیں:"اور یہ نور ہدایت اس کا اس کے مریدوں میں بے واسطہ یا بواسطہ اور بوسائط(یعنی ایک یا چند واسطوں سے)اس زمانے تک سرایت کیے رہے گا کہ اس کا طریقہ مخصوص تغیرات اور تبدیلات کی آلودگی سے ملوث نہ کریں اور مخترعات ومبتدعات(طریقہ کے مخالف نئے نئے امور)کو لاحق کرکے خراب نہ کریں۔
ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتیٰ یغیروا ما بانفسہم
تعجب یہ کہ ان میں سے ایک جماعت ان تبدیلات کو اس طرح کی تکمیلات گمان کرتی ہے اور ان الحاقات کو اس نسبت کی تتمیمات تصور کرتی ہے۔
کسی سلسلے کی تتمیم وتکمیل کس طرح ہو سکتی ہے اس کے لیے کن کن امور میں گہری بصیرت کی ضرورت ہے طاہر ہے یہ کام ہر کس وناکس کا نہیں درحقیقت اس کے لیے ایسے فرد کی ضرورت ہے جو طریقت میں اجتہاد کی منزل پر فائز ہو ،ہر اہل ونا اہل اپنی اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق تبدیلیاں کرنے لگے گا اور اپنی خواہش کے تابع بنائے گا تو اس کا انجام کیا ہوگا یہ ہر دانش مند جانتا ہے"
حضرت مجدد قدس سرہ کے یہ جملے آپ دیکھیں کتنی بصیرت پر مبنی ہیں:
"نمیدانند کہ تتمیم وتکمیل کار ہر بے سر انجام نیست والحاق واختراع فراخورہر
ہزار نکتہ باریک تر زمو اینجاست
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند
حضرت مجدد قدس سرہ نے اس مختصر تریم عبارت میں جو کچھ فرمایا ہے وہ گویا سمندر کو کوزے میں رکھ دیا اور اسی اصول پر اگر لوگ کاربند رہتے اور ہر چیز کو اس کی واقعی حیثیت پر رکھا ہوتا تو اج روحانیت یوں برباد نہ ہوتی۔
مختلف اذکار واعمال اور اشگال واوراد اور مجاہدات وریاضات کے مختلف انوار والوان ہوتے ہیں مختلف واردات وحالات ہوتے ہیں،جدا گانہ کیفیات ہوتی ہیں ہر سالک کے بس کی بات نہیں کہ وہ ادراک کرے کہ کون سی چیز ہمارے لیے مفید ہے اور کون سی مضر،عوام پر کس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے،مریدوں میں کون سا فیض ساری وجاری ہونا مناسب ہوگا اس کے لیے بڑے طبیب کی ضرورت ہے،جب بھی یہ کام کسی نا اہل نے کیا ہے تو سوائے برے نتائج کے کبھی اچھے ثمرات پیدا نہیں ہوئے۔
حضرت مجدد قدس سرہ کی تمام تر کوشش یہ تھی کہ نور سنت پھیلے اور یہی نور سالکین میں سرایت کرے،جو قرب اس سے حاصل ہوگا وہ دوسرے سے نہیں ہوسکتا ہے یہ ایک کھلی ہوئی اور بین حقیقت ہے کیونکہ ہمارے نبی سرور کونین ﷺکا نور ہے،خداوند قدوس کا جو قرب آپ کو حاصل ہے وہ کسی کو بھی نہیں اس نور سے بڑھ کر اورصراط مستقیم کیا ہو سکتا ہے اس نور میں عافیت ہی عافیت ہے،یہ یقینا خدا تک پہنچانے والا ہے کیونکہ جس طریقہ سے ماخوذ ہے وہ وحی سے ملا ہے اس میں آسانی سے قرب حاصل ہوتا ہے،نبی اور نبوت کی بھر پور تعظیم ہے ریا کاری اور عیاری سے دور ہے ،اس نور کو سب سے زیادہ اگر کوئی چیز نقصان پہنچاتی ہے تو وہ بدعت ہے ان بدعتوں
"نور سنت سنیہ را علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام ظلمات بدعتہا مستور ساختہ اند ورونق ملت مصطفویہ را علیٰ مصدرہا الصلاۃ والسلام والتحیۃ کدورات امور مخترعہ ضائع گردانیدہ"
آج آپ اس حقیقت کا مشاہدہ کرلیں کہ عام طور پر خانقاہوں میں بزرگوں کے ایجاد کردہ امور تو رہ گئے ہیں اور ان پر پابندی سے عمل ہوتا ہے قوالیوں سے لے کر چادروں گاگروں وغیرہ سب کا بھر پور اہتمام ہوتا ہے،مزارات کی سجاوٹ بھی ہے ان کے علاوہ دیگر مراسم بھی ادا ہوتے ہیں گر نہیں ہے تو اتباع سنت نہیں ہے ،دراصل ان چیزوں سے آج مادی منفعت بھی وابستہ ہوگئی ہے،باطن میں تو کچھ رہا نہیں بس یہی امور ہیں جو پیری مریدی کو چمکائے ہوئے ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر کتنی بالغ تھی ،قدم قدم پر حیرت ہوتی ہے ،امور محدثہ کے کیا مخفی اثرات ہوتے ہیں آپ جو چیز اس وقت بیان فرماگئے آج ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
عقائد واعمال میں بدعتوں کے مختلف روپ ہوتے ہیں سنت کے خلاف عقیدہ بھی بدعت ہے ،ہر شئ سے متعلق جو عقیدہ ہونا یعنی جس اذعان وایقان کی ضرورت ہے وہ نہ ہونا بھی بدعت ہے،اسی طرح اعمال میں ایک بدعت تو یہ ہے کہ،ان سنتوں کے خلاف کیا جائے جوفرائض وواجبات کے تابع نہیں جیسے کھانا پینا ،سونا جاگنا اور اٹھنا بیٹھنا وغیرہ
دوم ان سنتون کےکلاف کیا جائے جو فرائض وواجبات کے تابع ہیں جیسے نماز کی سنتیں عام طور پر لوگ ان مذکورہ بدعتوں کو بدعت ہی نہیں سمجھتے بلکہ خاص کر ان نئے نئے امور کو بدعت سمجھتے ہیں جن کا قرآن وسنت میں کوئی تذکرہ نہیں ہے خاص کر آج کے وہابی دیوبندی وغیرہ میلاد شریف اور اس میں قیام اور فاتحہ وغیرہ کو بدعت سمجھتے ہیں یہ شیطان کا بہت بڑا دھوکہ ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ کی بلند نظر ان چیزوں کو خوب جانتی تھی اسی لیے آپ بدعت کا رد شدت سے فرماتے تھے ،بدعت کے سلسلے میں جن لوگوں نے بھی مکتوبات شریف کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ آپ قدس سرہ عموما عقائد واعمال میں انھیں خرابیوں کا جگہ جگہ رد فرماتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آپ فرائض وغیرہ سے متعلق سنتیں بڑی تفصیل سے بیان فرماتے ہیں اور پھر ان پر تنبیہ فرماتے ہیں اور زور دیتے ہیں۔
مکتوب6جلد دوم میں نماز کے کچھ اہم مسائل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
"پس نمازکو کامل طور پر گذارنا چاہئے اور تعدیل ارکان مکمل کرنا چاہئے،رکوع وسجود اور قومہ وجلسہ اچھی طرح بجا لانا چاہئے اور دوسروں کوبھی نماز کی تمامیت بتانا چاہئے اور نیت وتعدیل ارکان کی راہ دکھانا چاہئے کہ اکثر لوگ اس دولت سے محروم ہیں اور یہ عمل ترک کردیا گیا ہے،اس عمل کو زندہ کرنا اسلام کے اہم مقاصد سے ہے،سرور کونینﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری سنت کو زندہ کرے گا اس کے بعد کہ وہ مردہ ہو گئی تھی اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا ، اور نیزجان لیں کہ با جماعت نماز میں صفوں کو برابر کرنا چاہئے تاکہ کوئی نمازی آگے پیچھے نہ کھڑا ہو،کوشش کرنا چاہئے کہ سب ایک دوسرےکے برابر ہوں،سرور کونینﷺ پہلے صفوں کو برابر کرتے پھر تحریمہ باندھتے اور آپﷺ نےفرمایا:صفوں کو برابر کرنا اقامت صلاۃ سے ہے"