مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیولایت صغریٰ اور کبریٰ میں فرق

باب ۵۰ از ۵۷صفحات ۶۸۸–۶۹۹

ولایت صغریٰ اور کبریٰ میں فرق

جاننا چاہیئے کہ جس ولایت کا ذکر ہوا اس سے مراد ولایت ظلی ہے جس کی تعبیر ولایت صغریٰ سے کی جاتی ہے اور ولایت اولیا ہے لیکن ولایت انبیاء جو کہ ظل سے گذر چکی ہے دیگر ہے اس جگہ صفات بشریت کے برے متعلقات کی نفی مطلوب ہے نہ کہ اصلان صفات کی اور جب صفات کے برے متعلقات کی نفی حاصل ہوگئی ولایت انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات حاصل ہوگئی، اس کے بعد جو عروج حاصل ہوگا کمالات نبوت سے متعلق ہوگا۔

اس بیان سے معلوم ہوگیا کہ نبوت میں اصل ولایت سے چارہ نہیں کیونکہ ولایت اس کے مبادی ومقدمات سے ہے ،لیکن ولایت ظلی کمالات نبوت کے وصول میں کچھ بھی درکار نہیں ہے بعض کا اتفاق پڑتا ہے اور بعض دوسروں کو بالکل اس سےعبور واقع نہیں ہوتا ہے فافھم۔

اور شک نہیں ہے کہ اصل صفات کی نفی دشوار ہے ان صفات کے برے متعلقات کی نفی کے بہ نسبتپس کمالات نبوت کا حصول آسان تر اور قریب تر ہوگا کمالات ولایت کے حصول کی بنسبت اور یہی یسر وقرب کی نسبت ہے ہر اس امر میں کہ اصل سے وصول رکھتا ہے ان امور کی نسبت جو کہ اصل سے جدا ہیں ، نہیں دیکھتے ہو کہ کیمیا اصل عمل مکی سہولت سے میسر ہے اور قریب تر راستے سے حاصل اور جو شخص اس اصل سے جدا پڑا ہے محنت میں ہے اور ایک عمر اس کی تحصیل میں فنا کرتا ہے اور اس کے باوجود محرومی اس کے نقد وقت ہے اور جوکچھ ہاتھ لگا ہے تمام محنتوں کے بعد اس اصل سے مشابہت رکھتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ عارضی شباہت اس سے زائل ہو جائے اور اپنی اصل کی طرف پلٹ جائے اور عیاری ومکاری کی طرف کھینچےبخلاف واصل اصل کے کہ یہ عمل کی آسانی اور راہ کی نزدیکی کی وجہ سےعیاری ومکاری کے خوف سے مامون ہے۔

ریاضات ومجاہدات:

اس راہ کے سالکین کا ایک گروہ جو مشقت بھرے ریاضات اور سخت مجاہدات کے ذریعہ ظلال سے کسی ظل تک پہنچا ہے اس نے گمان کرلیا ہے کہ مطلوب تک وصل ریاضات شاقہ اور مجاہدات شدیدہ سے مربوط ہے ، یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ دوسری راہ اس راہ سے قریب تر ہے اور نہایۃ النہایہ تک پہنچانے والی ہے۔

راہ اجتباء اور انابت:

اور وہ راہ اجتبا ہے جو کہ محض فضل وکرم سے مربوط ہے اور جو راہ ان لوگوں نے اختیار کی ہے وہ راہ انابت ہے جو کہ مجا ہدات سے وابستہ ہے اس راہ کے واصل بہت کم ہیں اور راہ اجتباء کے واصل جم غفیر ہیں،حضرات انبیائے کرام علیہم السلام راہ اجتباء سے گیے ہیں اور ان کے صحاب بھی تبعیت ووراثت سے راہ اجتباء سے واصل ہوئے ہیں ،ارباب اجتباء کی ریا ضتیں نعمت وصول کے شکر کی ادائگی کی خاطر ہیں۔

سرورکونینﷺ نے اس شخص کے جواب میں فرمایا تھا جس نے ریاضات شدیدہ کے بارے میں پوچھا تھا کہ آپ ہر گناہ سے معصوم ہوتے ہوئے اس قدر ریاضات کیوں فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا:"افلا اکون عبدا شکورا"(کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں)پھر مجدد صاحب اسی مکتوب میں چند سطر بعد فرماتے ہیں :

مقام ولایت کی گل افشانیاں:

اےفرزند! مقام ولایت میں دنیا وآخرت سے ہاتھ دھونا چاہیئے اور آخرت کے ساتھ گرفتاری دنیا کے ساتھ گرفتاری کے مثل سمجھنا چاہیئے اور درد آخرت کودرد آخرت کی طرح پسند نہیں کرنا چاہیئے،حضرت امام داؤد طائی فرماتے ہیں "ان اردت السلامۃ سلم علیٰ الدنیا وان اردت الکرامۃ کبر علیٰ الآخرۃ"(اگر سلامتی چاہتے ہو تو دنیا کو رخصت کرو اور اگر کرامت چاہتے ہو تو آخرت پر تکبیر کہو یعنی اسے مردہ سمجھو اور اس سے نا امید رہو)

اسی گروہ میں سے ایک دوسرے آیت"منکم من یرید الدنیا ومنکم من یرید

الآخرۃ"(تم میں کے بعض دنیا کا رادہ رکھتے ہیں اور تم میں کے بعض آخرت کا ارادہ رکھتے ہیں ) میں شکایت دونوں فریق سے ہے(یعنی طالب دنیا سے بھی اور طالب آخرت سے بھی یعنی دونوں کی طلب بری ہے) الغرض فنا کہ حق جل وعلاکے ما سوا کو بھول جانے کا نام ہے دنیا اور آخرت دونون کو شامل ہے اور فنا وبقا ہر دو ولایت کے اجزا ہیں تو ولایت میں آخرت کے نسیان سے چارہ نہیں۔

اور کمالات نبوت کے مرتبہ میں آخرت سے لگاؤ وگرفتاری محمود ہے اور درد آخرت مرضی ومقبول بلکہ درد اس محل میں درد آخرت ہے اور گرفتاری گرفتاری آخرت ہے، آیت کریمہ "یدعون ربھم خوفا وطمعا"(اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے) اور آیت کریمہ"ویخشون ربھم ویخافون عذابہ"(اور اپنے رب سےڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف زدہ ہیں) اور آیت کریمہ"الذین یخشون ربھم بالغیب وھم من الساعۃ مشفقون"(جا اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہیں اور قیامت سے ترسا ہیں) ان مقام والوں کے لیے نقد وقت ہے ان کا گریہ ونالہ احوال آخرت کی یاد سے ہے اور ان کا ندوہ والم احوال قیامت کے خوف سے ہے ،ہمیشہ قبر کے فتنے سے پناہ چاہتے ہیں اور شدائد عزاب دوزخ سے پناہ ڈھونڈتے اور زاری کرتے ہیں ان کے نزدیک درد حق جل وعلا درد آخرت ہے اور ان کا شوق ومحبت آخرت کا شوق ومحبت ہے، کیونکہ اگر لقا ہے تو وہ آخرت کے ساتھ موعود ہے اور اگر رضا ہے تو اس کا کمال بھی آخرت کے ساتھ موقوف ہے ۔ دنیا حق جل وعلا کی مبغوض ہے اورآخرت اس کی مرضیہ (پسندیدہ) مبغوضہ کو مرضیہ کے ساتھ کسی امرمیں برابر نہیں بنایا جاسکتا ہے کیونکہ مبغوضہ لائق اعراض ہے اور مرضیہ لائق اقبال ،مرضیہ سے اعراض کرنا عین سکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے موعود ومرضی کے خلاف، آیت کریمہ"واللہ یدعو الی دارالسلام" اسی معنیٰ پر گواہ ہے۔

حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ مبالغہ وتاکید کے ساتھ آخرت کی ترغیب دیتا ہے تو آخرت سے اعراض کرنا در حقیقت حق جل وعلا سے معارضہ ہے اور اس کی مرضی کو ختم کرنے میں کوشش کرنا ہے،امام داؤد طائی اس بزرگی کے باوجود چونکہ ولایت میں قدم راسخ رکھتے تھے اس لیے ترک آخرت کو کرامت کہا مگر نہیں جانا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سبھی درد آخرت میں مبتلا تھے اور عذاب آخرت سے خوف زدہ ولرزاں۔

ایک روز حضرت فاروق رضی اللہ عنہ اونٹ پر سوار ایک کوچہ سے گزرے قاری نے اس آیت کو پڑھا"ان عذاب ربک لواقع ما لہ من دافع" اس آیت کو سن کر بیہوش ہوگیے اور اونٹ سے بے خود زمین پر گر پڑے،اس جگہ سے اٹھا کر لوگ گھر پر لائے اور ایک مدت تک اس درد سے بیمار رہے کہ لوگ عیادت کو آتے۔

ہاں توسط احوال میں مقام فنا میں دنیا وآخرت سے نسیان میسر ہوتا ہے اور گرفتاری آخرت کو دنیا کی گرفتاری کی طرح جانتے ہیں لیکن جب شرف بقا سے مشرف ہوگئے اور کام انجام کو پہنچا اور کمالات نبوت نے پرتو ڈالا اس جگہ سب درد آخرت ہے اور دوزخ سے استعاذہ ہے اور جنت کی تمنا ہے ۔

جنت کے اشجار،انہار اور ھور وغلماں کو دنیوی اشیاء کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں بلکہ یہ دونوں طرف نقیض ہیں غضب اور رضا کی نقاضت کی طرح،اشجار وانہار اور جو کچھ جنت میں ہے اعمال صالحہ کے نتائج وثمرات ہیں سرکار مدینہﷺ نے فرمایا کہ جنت درخت نہیں رکھتی ہے اس جگہ درخت لگاؤ! پوچھا کہ کس طرح لگائیں، فرمایا کہ تسبیحوتحمید وتمجید وتہلیل کے ذریعہ، یعنی سبھان اللہ کہو تاکہ جنت میں ایک درخت لگے ،پس جنت کے درکت تسبیح کا نتیجہ ہوئے۔کمالات تنزیہی کو جیسا کہ اس کلمہ میں حروف واصوات کے لباس میں مندرج بنایا ہے جنت میں ان کمالات کو لباس درخت میں چھپایا ہے ،علی ہذا القیاس جو کچھ جنت میں ہے عمل صالح کا نتیجہ ہے ،اور جو کمالات وجوبی تعالت

وتقدست صلاح قولی وعملی کے لباس کے ضمن میں مندرج ہوئے ہیں جنت میں وہ کمالات لذات وتنعمات کے پردے میں ظہور فرمائیں گے تو لا محالہ وہ تلذذ وتنعم پسندیدہ ومقبول ہوگا اور لقااور وصول کا وسیلہ ہوگا۔

رابعہ بے چاری اگر اس راز سے آگاہ ہوتیں تو جنت کو جلانے کی فکر نہیں کرتیں اور جنت کے ساتھ گرفتاری کو حق جل وعلا کی گرفتاری کا غیر نہیں جانتیں ،اس کے بر خلاف دنیوی تلذذ وتنعم کہ جس کا منشا خبث وشرارت ہے اور اس کا نتیجہ آخرت میں محرومی ،اعاذنااللہ سبحانہ منہ یہ تلذذ اگر شرعا مباح ہے تو حساب در پیش ہے ،اگر رحمت خداوندی دستگیری نہ فرمائے افسوس صد افسوس ،اور اگر شرعا مباح نہیں ہے تو مورد وعید ہے "ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین" تو اس تلذذ کو اس تلذذ سے کیا نسبت ہوگی ،یہ تلذذ زہرقاتل ہے اور وہ(اخروی )تلذذتریاق نافع پس آ خرت کس درد یا تو عوام مومنین کا حصہ ہے یا اخص خواص کا نصیب خواص اس درد سے پر ہیز کرتے ہیں اور کرامت اس کے خلاف میں جا نتے ہیں؏

آں ایشانند من چنینم یا رب

مکتوب 302 کا بیشتر حصہ آپ حضرات کے سامنے ہے بات اگر چہ کافی طیل ہوگئی مگر اس مبارک مکتوب کے اقتباس سے ولایت ونبوت کا فرق اچھی طرح واضح ہو گیا ،آپ بہ آسا نی سمجھ سکتے ہیں کہ نبوت کی بولی کیا ہے اور ولایت کی بولی کیا ہے،مقام ولایت میں اولیائے کرام جو کچھ فرماتے ہیں اس وقت وہ کن کیفیتوں کےساتھ ہوتے ہیں یہ آپ نے پڑھ لیا مگر آخری منزل یہ نہیں بلکہ آخری بولی وہی ہے جو قرآن وسنت میں بولی گئی ہے ،صحیح علم وہی ہے جو ان مبارک چیزوں میں بیان کیا گیا ہے ۔

آپ بہ آسانی جان سکتے ہیں کہ تجدید الف ثانی کی کتنی ضرورت تھی ،نبی کس مقام سے بولتے ہیں اور ولی کہاں سے اس کو متعین کرنا ماوشما کے بس کی بات نہ تھی بلکہ اس

دانائے راہ کی ضرورت تھی جو ہر منزل سے آشنا ،ہر بولی سے خبردار اور ہر کیفیت سے آگاہ ہو ،مجدد الف ثانی نے یہ حق جس طرح ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔

ایک خاص بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ قرآن وسنت کے احکام وقوانین سب کے لیے عام ہیں،ان کی نصیحتیں اور عبرتیں سب کے لیے لائق عمل ہیں، ان کے مخاطب سبھی ہیں کسی کا کوئی امتیاز نہیں ،اس لیے عوام میں ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہی کیونکہ جن امور میں امتیاز ہوتا ہے ان کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے ،اولیائے کرام کی مخصوص بولیاں ہیں اس لیے ان کی قدر وعظمت کافی ہوتی ہے کیونکہ انھیں لوگ اسرار و رموز سمجھتے ہیں ۔

حضرت مجدد قدس سرہ کا ایک کارنامہ یہ رہا کہ مقام نبوت کے کمالات کو جلوہ گر کرکے اور معارف وحقائق کا سمندر بہا کر لوگوں کو بتایا کہ نبوت وہ با عظمت مقام ہے کہ ولایت اس سے کوسوں پیچھے ہے ،وہاں جو حقائق ومعارف اور اسرار و رموز جلوہ گر ہوتے ہیں ان کے مقابل مقام ولایت کے اسرار ورموز کی وہ حئثیت بھی نہیں جو ایک قطرہ کو دریا سے ہوتی ہے ،آپ تجدید کے اسرار ورموز میں پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مجدد قدس سرہ کمالات ولایت ونبوت کو بالتفصیل بیان کرکے کیسے کیسے حقائق ومعارف کو منصہ شہود پر جلوہ گر کیا ہے اور عظمت نبوت ہی کا نہیں بلکہ ولایت کا بھی کس قدر تحفظ فرمایا ہے۔

بعض اولیائے کرام سے اس مقام میں ایک چوک اور بھی ہوجاتی ہے ،مکتوب 301 میں کمالات نبوت کے ضمن میں فرماتے ہیں:"اولیاء کی ایک جماعت نے مقام ولایت میں شرف نزول سے مشرف ہوئی ہے جو کمالات مقام نزول سے تعلق رکھتے ہیں انھیں کمالات نبوت خیال کرلی ہے ،نہ ایسا بلکہ یہ نزول ان کے عروج کی طرح دونوں ولایت سے ہیں وہ دوسرا عروج ونزول ہے مقام وکایت کے اوپر جو نبوت سے تعلق رکھتا

ہے اور یہ خلق کی جانب توجہ اس توجہ بخلق کے مغایر ہے جو کہ نبوت کے مناسب ہے اور یہ دعوت اس دعوت کے غیر ہے کہ کمالات نبوت سے شمار کیا ہے، کیا کریں کہ قدم دائرہ ولایت سے باہر نہیں رکھا ہے او ر کمالات نبوت کی حقیقت کو نہیں پایا ہے ، نصف ولایت کو کہ اس کا جانب عروج ہے تمام ولایت جان لیا ہے اور اس کا نصف دیگر کہ اس کا جانب نزول ہے نبوت کا مقام تصور کر لیا ہے"۔

چوں آں کہ در سنگے نہاں است

زمین وآسمان او ہمان است

نبوت ولایت کے متعلق کچھ مباحث دیگر بحثوں کے ضمن اور کچھ اسرار ورموز میں پڑھیں گے ، ہم بعض اور لیائے کرام کے اقوال اور حضرت مجدد قدس سرہ کے مسلک کو بیان کرکے اس بحث کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، آپ دیکھیں کہ کیسی کیسی باتیں ان سے سرزد ہوئیں اور نا اہلوں نے ان سے کیسے نا جا ئز فائدے اٹھائے۔

محوو اضمحلال:

بعض مشائخ قدس اللہ ارواحہم کی عبارت میں بعض مقامات کے بیان میں محوو اضمحلال کا لفظ واقع ہو گیا تھا ، ان کی مراد کچھ اور تھی ،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں اس سے محو نظری مراد ہے نہ کہ محو عینی یعنی سالک کا تعین اس کی نظر سےمرتفع ہو جاتا ہے ، یہ معنیٰ نہیں کہ سالک نفس الامر میں محو ہو جاتا ہے کہ یہ الحاد وزندقہ ہے ، مگر بعض نا قصوں نے اسے کیا سمجھا حضرت مجدد قدس سرہ کی زبانی سنیے۔

مکتوب 294 میں مبادی تعینات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:"اس راہ کے کچھ ناقصوں نے الفاظ موہمہ محو واضمحلال عینی جانا ہے اور زندقہ تک پہنچے ہیں اور اخروی عذاب وثواب سے انکار کیا ہے اور خیال کیا ہے کہ جا طرح وحدت سے کثرت میں آئے ہیں دوسری مرتبہ میں اسی طورسے وحدت میں چلے جا ئیں گے اور یہ کثرت اس وحدت

میں مضمحل ہو جائے گی اور ان زندیقوں سے ایک گروہ نے محو ہونے کو قیامت کبریٰ خیال کرلیا ہے اورحشر ونشر وحساب وسراط ومیزان سے انکار کیا ہے، ضلوا فاضلوا کثیرامن الناس"

ایک شخص کو اس جماعت سے دیکھا کہ اپنے مطلب کو ثابت کرنے کے لیے مولانا عبد الرحمان الجامی قدس اللہ سرہ کے اس شعر کو شہادت میں لایا

جامی معاد ومبدا ما وحدت است وبس

ما درمیانہ کثرت موہوم والسلام

نہیں جانتے ہیں کہ اس شعر سے مولانا کی مراد بہ اعتبار نظر و شہود وحدت کی طرف پلٹنا ہے علاوہ ایک ذات کے ان کا مشہود نہیں رہتا ہے اور کثرتیں مکمل طور سے ان کی نظر سے پوشیدہ ہو جاتی ہیں نہ کہ عین وجودی رجوع(مراد ہے) مگر اندھے ہیں نہیں دیکھتے ہیں کہ کسی کامل سے عجز ونقص واحتیاج زائل ہواہے تو وحدت کی طرف رجوع وجودی کے کیا معنیٰ ہوں گے ؟ اور اگروھدت کی طرف رجوعکے بعد خیال کیا ہے تو کا فر زندیق ہیں کہ اخروی عذاب سے انکار رکھتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات اتمہا واکملہا کی دعوت کو باطل کرتے ہیں۔

اذا تم الفقر فھواللہ:

بعض بزرگوں کے اس جملہ سے کچھ ناقصوں نے اتحاد سمجھ لیا ، حضرت مجدد قدس سرہ مکتوب 266 میں عقائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :"اللہ تعالیٰ کسی چیز سے متحد نہیں ہوتا ہے اور اسی طرح کوئی چیز اس سے متحد نہیں ہوتی ہے اور وہ جو بعض صوفیہ کی عبنارت سے اتحاد مفہوم ہوتا ہے ان کی مراد کے خلاف ہے کیونکہ ان کی مراد اس کلا م سے کہ موہم اتحاد ہے "اذا تم الفقر فھو اللہ" یہ ہے کہ جب فقر تمام ہوجاتا ہے اور نیستی محض حاصل ہوجاتی ہے تو باقی نہیں رہتا مگر اللہ تعالیٰ ،نہ یہ کہ وہ فقیر خدا سے متحد ہو

جاتا ہے اور خدا ہوجاتا ہے کہ یہ کفر وزندقہ ہے تعالیٰ اللہ سبحانہ عما یتوہم الظالمون علوا کبیرا"۔

ہمارے حضرت خواجہ باقی بااللہ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ عبارت "انالحق "کے معنیٰ یہ نہیں کہ میں حق ہوں بلکہ معنیٰ یہ ہیں کہ میں نہیں ہوں اور موجود حق ہے سبحانہ۔

(3)بعض صوفیہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ اسمائی وصفاتی کمالات کے ظہور میں ہمارا محتاج ہے نعوذ باللہ حضرت مجدد قدس سرہ مکتوب مذکور میں فرماتے ہیں:" اللہ تعالیٰ غنی مطلق ہے ذات میں بھی اور صفات میں بھی اور افعال میں بھی اور کسی امر میں کسی چیز کا محتاج نہیں ہے جس طرح وجود میں محتاج نہیں ہے ،ظہور میں محتاج نہیں ہے اور وہ جو بعض صوفیہ کی عبارت سے مفہوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کمالات اسمائی وصفاتی کے ظہور میں ہمارا محتاج ہے یہ بات اس فقیر پر بہت گراں ہے۔"

(یہ فقیر) جانتا ہے کہ خلق کی پیدائش سے مقصود خلق کو کمالات کا حصول ہے نہ کہ ایسا کمال کہ اس پاک بارگاہ کی طرف عائد ہو،آیت کریمہ:

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون

اسی معنیٰ کی تائید کرتی ہے ، پس جن وانس کی پیدائش سے مقصود معرفت کا حصول ہے جو کہ ان کا کمال ہے ،نہ کہ ایسا امر جو کہ بارگاہ حق سبحانہ کی طرف راجع ہو ، اور وہ جو حدیث قدسی میں واقع ہوا ہے "فخلقت الخلق لاعرف"

اس جگہ بھی مخلوق کی معرفت مراد ہے نہ یہ کہ میں معروف ہوجاؤں اور ان کی معرفت کے واسطہ سے کمال حاصل کروں ۔ تعالیٰ اللہ عن ذٰلک علوا کبیرا

(4)بعض حضرات اشیاء کو ابتداء بغیر توسط اسباب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور رفع اسباب میں بھی کمال سمجھتے ہیں حضرت مجدد قدس سرہ مکتوب مذکور میں فرماتے ہیں:"جاننا چاہیئے کہ ساری ممکنات کیا جواہر کیا اعراض اور کیا اجسام اور کیا

عقول اور کیا نفوس کیا افلاک اور کیا عناصر سب قادر مختار کے ایما کی طرف مستند ہیں کہ عدم کے پردے سے ان کو وجود میں لایا ہے اور جس طرح یہ وجود میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں بقا میں بھی اللہ سبحانہ کی محتاج ہیں، اسباب ووسائط کے وجود کو اپنے فعل کا روپوش بنایا ہے اور حکمت کو قدرت کے پردے بنائے ، بلکہ اسباب کو اپنے ثبوت فعل کے دلائل کیا اور حکمت کو وجود قدرت کا وسیلہ فرمایا کیونکہ ارباب فطانت (ہوشیاری ودانائی) کہ جن کی باطنی آنکھیں انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی متابعت کے سرمہ سے آراستہ ہیں جانتے ہیں کہ اسباب وسائل کہ وجود وبقا میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور اسی سے ثبوت وقیام رکھتے ہیں اور اسی سے رکھتے ہیں اور در حقیقت جماد محض ہیں کیونکہ دوسرے میں کہ (وہ دوسرے) انہیں کے مثل ہیں تاثیر کریں گے اور ان کا احداث واختراع (یعنی عدم سے وجود میں لانا ) کریں گے ، ایک قادر ہے ان کے وراء جو کہ انہیں ایجاد کرتا ہے اور ان کے لائق کمال عطا کرتا ہے کہ جس طرح عقلا اس فعل کو جماد محض سے دیکھتے ہیں ، اس جگہ سے سراغ لگا لیتے ہیں اس کے فاعل ومحرک کا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ فعل جماد محض کے سزاوار نہیں ہے،ل ایک فاعل ہے ان کے وراء کہ اس کی ایجاد فرماتا ہے ، تو فعل جماد عقلا کے نزدیک فاعل حقیقی کے فعل کا پردہ نہیں ہوا بلکہ وہ فعل اس کی جمادیت کی طرف نظر کرتے ہوئے فاعل حقیقی پر دلیل ہوا فکذا ہٰذا۔"

ہاں کم عقل کی نظر میں فعل جماد فاعل حقیقی کے فعل کا روپوش ہے کہ کمال غباوت(کند ذہنی) کی وجہ سے جماد محض کو اس فعل کی وجہ سے صاحب قدرت جان لیا ہے اور فاعل حقیقی سے کافر ہو گیا ہے

یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا

یہ معرفت مشکاۃ نبوت سے لی گئی ہے ہرژخص کی سمجھ اس جگہ تک نہیں پہنچتی ہے ،

صوفیہ کا ایک گروہ رفع اسباب میں کمال جانتا ہے اور ابتداء اشیاء کو اسباب کے توسط کے بغیر حضرت حق سبحانہ سے وابستہ کرتا ہے ، نہیں جانتے ہیں کہ رفع اسباب میں حکمت کا رفع ہے کہ اس حکمت کے ضمن میں کتنی حکمتیں ملحوظ ہیں

ربنا ما خلقت ہٰذا باطلا (تفصیل کے لیے مکتوب 266 دیکھیں)