باب ۱۶ از ۵۷صفحات ۲۳۷–۲۵۶
خمیرطینت
اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد قدس سرہ کو حضور سرور کونینﷺ کی طینت(خمیر جسم اطہر)کے بقیہ سے پیدا فرمایا،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:"اگرچہ اس دولت خاصہ محمدی(یعنی حضرت کی خلقت کا ظہور نفس الٰہی ہونا)میں کسی دوسرے کی شرکت نہیں مگر فقیر اس قدر معلوم کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اس دولت خاصہ سے آپ کی تخلیق وتکمیل کے بعد بقیہ رہ گیا تھا کیونکہ سخیوں کی ضیافت کی دولت کے خوان میں زیادتیاں ضرور ہوا کرتی ہیں جو بصورت الش(؟؟؟؟)نوکروں کے نصیب ہوتی ہیں وہ بقیہ آنحضرت ﷺ کی امت کے دولتمندوں میں سے ایک کو بطور الش عطا کیا گیا ہے اور اس کو خمیر مایہ بنا کر اس امتی کی طینت میں گوندھا گیا ہے اور اسے تبعیت ووراثت کے طور پر آنحضرتﷺ کی دولت خاصہ میں شریک کیا گیا ہے؎
باکریماں کارہا دشور نیست
یہ بقیہ حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوات والتسلیمات کی طینت کے بقیہ کی مانند ہے جو درخت خرما کی خلقت کے نصیب ہوگیا ہے چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے:
اکرمو عمتکم النخلۃ فانہا خلقت من طینۃ آدم
ہاں!سخیوں کے پیالہ میں سے زمین کو حصہ ملا کرتا ہے(مکتوبات دفتر سوم مکتوب 100،تذکرہ مشائخ نقشبندیہ للتوکلی)
حضرت مجدد قدس سرہ پر اس خاص فضل الٰہی کی عنایات اس قدر ہیں کہ زبان وقلم ان کے بیان وتحریر سے قاصر ہیں،جن لوگوں نے حضرت مجدد قدس سرہ کے کمالات میں نظر کی ہے،آپ روحانیت میں عروج وارتقا کی جن حدوں کو پار کر گئے ہیں اور قرب ولایت ونبوت ورسالت اور اولو العزم سے جو حصے پائے ہیں،اسرار مقطعات
قرآنی سے جو مالامال ہوئے ہیں اور انبیاء کرام بالخصوص سید الانبیاء ﷺ کی تبعیت ووراثت سے جو انوکھے کمالات ومقامات پائے ہیں وہ اسی عنایت ازلی کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔
آپ کے علوم ومعارف کی علوم شرعیہ سے مطابقت،آپ پر حضور سرور کونینﷺکی متابعت کے سات درجوں کا انکشاف اور ہر درجے کے کمالات سے حصہ پانا جن کی طرف ہم شروع میں اشارہ کر چکے ہیں یہ سب کچھ اسی خمیر کی برکتیں معلوم ہوتی ہیں۔
حضور سرور کونینﷺ کی سنتوں کی کمال اتباع اس طور پر کہ اس سے فوق کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے،الف چانی میں احیاء سنت اور ان کی ترویج واشاعت کی ہر ممکن کوشش اور ہر کمال کے حصول کو اتباع سنت سے مربوط کرنا جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں یہ سب اسی خمیر طینت ہی کی رحمتیں معلوم ہوتی ہیں،ایسا لگتا ہے کہ تجدید الف ثانی جن کمالات کے فیضان کا نام ہے ان کا سبب یہی خمیر طینت ہے،اسی نے دیا جو دیا اور آپ کو پہنچایا جہاں پہنچایا۔
خالق دہر جل وعلا کو جو بلند کام آپ سے لینا تھا اس کی تیاری کا ازل ہی سے سامان قسمت کردیا گیا تھا ،آپ جگہ جگہ اپنے علوم ومعارف کو مشکاۃ نبوت سے ماخوذ فرماتے ہیں،جگہ جگہ نبوت ورسالت کے پرچم لہراتے ہیں،شریعت وطریقت کو آپ نے کس انوکھے انداز میں ملادیا یہ سب اسی خمیر طینت کی تجلیاں معلوم ہوتی ہیں۔
دل کے اندھے جن کو بصیرت کا نام ونشان حاصل نہیں وہ اس کمال پر ناک بھوں چڑھانے لگے اور حیرت واستعجاب سے دیکھنے لگے مگر آپ کی بلند وبالا شخصیت اور مشاہدات ومکشوفات کی سچائی کے سامنے اس کو لفاظی تو نا کہہ سکے مگر تاویل کے دروازے کھولنے لگے،دراصل ان کی آنکھیں صرف محسوسات تک منحسر ہیں اور روھانی
کمالات سے کوری،ان کمالات کے لیے دل بینا کی ضرورت ہے پھر بھی اگر آپ حیرت واستعجاب کو مٹانا چاہیں تو حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ارشاد الطالبین کا صفحہ37و38 مطالعہ فرمائیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ چیز نہ قرآن کے خلاف ہے اور نہ حدیث کے اور نہ ہی عقلا اس پر کوئی استحالہ قائم۔
ہم سامعین کے اطمینان کی خاطر حضرت قاضی ثناءاللہ رحمۃ اللہ علیہ کی نفیس تشریح کا ترجمہ سپرد قلم کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں:
مسئلہ ممکن ہے کہ بعض اولیاء بعض انبیاء کی بقیہ طینت سے پیدا ہوئے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی طینت اکرم سے پیدا ہوئے ہوں
سوال:یہ بات عقل میں نہیں آتی ہے کیونکہ ہر ایک اپنے والدین کے نطفہ سے پیدا ہوتا ہے
جواب:اکثر چیزیں ہیں کہ انسان کی عقل سے ثابت نہیں ہوتی ہیں شریعت سے ثابت ہوتی ہیں یا کشف والہام سے چنانچہ نفس ولایت کہ قرب بے چوں کا نام ہے امام محی السنہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر معالم التنزیل میں آیت کریمہ:
منہا خلقناکم وفیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارۃ اخریٰ
کی تفسیر میں عطا خراسانی کا قول ذکر کیا ہے کہ نطفہ جو رحم میں قرار پکڑتا ہے فرشتہ اس جگہ سے کچھ مٹی لاتا ہے کہ جس میں دفن کیا جائے گا تو نطفہ میں ڈال دیتا ہے تو مٹی اور نطفہ سے آدمی پیدا ہوتا ہے۔
اور خطیب نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:اور کوئی نہیں پیدا ہوتا ہے مگر اس کی ناف میں وہ مٹی ہوتی ہے جس سے وہ پیدا کیا جاتا ہے تو جب اسے عمر کے سب سے رذیل حصہ کی طرف لوٹایا جاتا ہے(یعنی موت آجاتی ہے)تو لوٹایا جاتا ہے اسی مٹی کی طرف جس سے پیدا کیا گیا اور جس میں
دفن کیا جائے گا اور بے شک میں اور ابو بکر وعمر ایک مٹی سے پیدا کیے گئے اور اسی میں ہم دفن کئے جائیں گے"(خیال رہے کہ میں نے صرف حدیث کا ترجمہ ذکر کیا ہے ورنہ اصل متن میں حدیث اور اس کا ترجمہ دونوں ہیں)
مرزا محمد بدخشانی نے کہا کہ اس حدیث کے شواہد ہیں حضرات ابن عمر، ابن عباس،ابو سعید اور ابو ہریرہ(رضی اللہ عنہم)بعض کو بعض تقویت دیتے ہیں،جس وقت صحیح بخاری کی شرح میں کتاب جنائز میں ابن سیرین کا قول لایا کہ انھوں نے کہا کہ اگر میں قسم کھاؤں تو سچا ہوں گا اور میں شک نہیں کرتا اس بات میں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر وعمر ایک طینت(مٹی)سے پیدا ہوئے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن جعفر سے فرمایا کہ تم میری طینت سے پیدا ہوئے ہو اور تمہارے باپ فرشتوں کے ساتھ آسمان میں پرواز کرتے ہیں۔
اور جائز ہے کہ وہ خاک کہ حق تعالیٰ نے پیغمبر کے واسطے مہیا کی ہو اور زمین کی پیدائش کے آغاز سے اس کاک کو انوار برکات ونزول رحمت سے پرورش کیا ہو اور اس سے کچھ باقی رہ گئی ہو جو کہ اولیاء سے کسی کا خمیر مایہ ہو جائے یہ امر عقلا محال نہیں ہے اور شریعت سے مستفاد ہے اور کشف سے ثابت ہوتا ہے اور اس کو اصطلاح میں اصالت کہتے ہیں اور ساحب اصالت نظر کشفی میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس کا جسم موتیوں سے آراستہ ہے اور دوسروں کا آب وگل سے۔
علم متشابہات:
پرور دگار عالم جل وعلا نے حضرت مجدد قدس سرہ کو اس قدر نوازا کہ ان چند مخصوص بزرگوں میں بنایا جن کو قرآنی متشابہات اور حروف مقطعات کے اسرار کا علم عطا فرمایا اور آپ کو علماء راسخین سے فرمایا،اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کو آپ یوں بیان فرماتے ہیں:
"اےبھائی!حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب مجید کو دو قسم بنایا محکمات اور متشابہات پہلی قسم علم شرائع واحکام کا منشا اور دوسری قسم علم حقائق واسرار کا مخزن ید،وجہ،قدم،ساق،اسابع اور انامل کہ قرآن واحادیث میں آئے ہیں سب متشابہات سے ہیں اور اسی طرح حروف مقطعات بھی کہ قرآنی سورتوں کے اوائل میں وارد ہوئے ہیں متشابہات سے ہیں کہ ان کی تاویل پر اطلاع نہیں دی ہے مگر علماء راسخین کو ۔
خیال نہ کریں کہ قدرت کا نام ہے کہ جس کی تعبیر“ید” سے کی ہے اور یاذات ہے کہ"وجہ"سے اس کی تعبیر کی ہے بلکہ ان کی تاویل اسرار غامضہ سے ہے کہ اخص خواص کو یہ ظاہر کی ہے،حروف مقطعات قرآنی کے بارے میں کیا لکھے کہ ہر حرف ان حروف سے ایک سمندر ہے موجیں مارتا ہوا عاشق ومعشوق کے اسرار خفیہ سے اور غامض رمز ہے محب ومحبوب کے رموز دقیقہ سے۔
محکمات ہر چند امہات کتاب ہیں لیکن ان کے نتائج وثمرات کہ متشابہات ہیں مقاصد کتاب ہیں،امہات وسائل سے زیادہ نہیں ہیں حصول نتائج کے واسطے پس مغز کتاب متشابہات ہوئیں اور محکمات کتاب اس مغز کا چھلکا،متشابہات ہیں کہ رمز واشارہ سے اصل کو بیان کرتی ہیں اور اس معتبہ کی حقیقت معاملہ سے نشان دیتے ہیں بخلاف محکمات(کہ وسائل ہیں)
متشابہات حقائق ہیں اور محکمات متشابہات کی نسبت ان حقائق کی صورتیں،عالم راسخ وہ شخص ہوگا کہ مغز کو چھلکے کے ساتھ جمع کرے اور حقیقت کو صورت میں لائے"(تفصیل کے لیے دیکھئے مکتوب276جلداول)
مکتوب 18دفتر دوم میں فرماتے ہیں"علم شریعت کی ایک صورت ہے اور ایک حقیقت صورت وہ کہ علماء ظواہر کا نصیب ہے شکراللہ تعالیٰ سعیہم جو کتاب وسنت کے محکمات سے تعلق رکھتی ہے اور اس کی حقیقت وہ ہے کہ علماے راسخین کا
حصہ ہے رضی اللہ تعالیٰ عنہم کہ کتاب وسنت کے متشابہات سے متعلق ہے"
حضرت علامہ بدرالدین سرہندی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ایک دن مخدوم زادہ نوراتم قیوم خواجہ محمد معصوم سلمہ اللہ نے خلوت میں مجھ سے فرمایا کہ حضرت مجدد قدس سرہ پر متشابہات اور مقطعات کے اسرار ورموز ظاہر ہوئے ہیں لیکن آپ بتاتے نہیں ہیں جب آپ سے دریافت کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ شیطان بڑا دشمن ہے اور وہ ہمیشہ اظہار اسرار کی جستجو میں رہتا ہے کہ ان معاملات کئ مکاشفات کو ظاہر کیا جائے تاکہ وہ استراق سمع کرکے فورا ان کا افشا کردے اللہ پاک نے ان علماء کو جو ان تک پہنچے ہیں راسخین فرمایا ہے ان کے رسوخ کی وجہ سے کہ وہ اس معاملے کو پاشیدہ رکھتے ہیں اور جب کسی کو آگاہ فرمایا گیا ہے تو اس نے اسے مستور ہی رکھا ہے ،میں نے عرض کیا کہ(بفضلہ تعالیٰ)آنجناب اس امر پر قدرت رکھتے ہیں کہ اس محل وموقر سے شیاطین کو دفع کردیں اور اپنے اطراف سے بھی ان کو دور کردیں تاکہ استراق سمع نہ کرسکیں جب میں نے حد سے زیادہ اصرار کیا اور التماس کیا (کہ وہ اسرار ظاہر کردیں) تو آنجناب نے حرف ق کے اسرار کا اظہار کیا تو میرے ہوش اڑ گئے"(حضرات القدس ص:70 برکات احمدیہ میں بھی اس قسم کا واقعہ درج ہے)
خیال رہے کہ کتب حنفیہ میں جو یہ درج ہے کہ متشابہات کا علم اللہ ورسول ﷺ کے علاوہ کسی کو نہیں ہوسکتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ نظرواستدلال کے ذریعہ کوئی نہیں جان سکتا ہے کشف اس سے مستثنیٰ ہے(دیکھیے حاشیہ نورالانوار اس بحث سے متعلق)
علوم فنا وبقا:
حضرت مجدد قدس سرہ کا قول نقل کرتے ہوئے حضرت علامہ بدرالدین فرماتے ہیں"وہ علوم جو مقام فنا فی اللہ اور بقا باللہ سے تعلق رکھتے ہیں اللہ پاک نے
محض اپنی عنایت سے مجھ پر منکشف فرمادیے ہیں اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ ہر چیز کی خاص وجہ کیا ہے اور سیر فی اللہ کے کیا معنیٰ ہیں اور برقی تجلی کیا ہے اور محمدی المشرب کون ہے اور اسی طرح کی دوسری باتیں اور ہر مقام میں اس کے لوازم اور ضروریات بتائی جاتی ہیں اور ان کی سیر کرائی جاتی ہے اور بہت کم ایسی چیزیں ہوں گی جن کی نشاندہی اولیاء اللہ نے کی ہوگی اور وہ راستے میں چھوڑ دی گئی ہوں اور نہ دکھائی گئی ہوں اور وہ شخص مقبول ہو گیا جس نے اس کو بے چون وچرا قبول کرلیا"
علم مقامات:
درجہ نمبر 4میں فرماتے ہیں"اللہ تعالیٰ نے محض اپنی عنایات بے غایت سے مدارج کمالات میں ترقیاں عطا فرمائی ہیں مقام ولایت سے اوپر مقام شہادت ہے اور شہادت سے ولایت کی نسبت ایسی ہی ہے جیسے کی تجلی ذاتی سے تجلی صوری کی نسبت ہے ،ان دونوں کے درمیان دوری ان دونوں تجلیوں کے درمیان کی دوری سے زیادہ ہے اور مقام شہادت سے اوپر مقام صدیقیت ہے اور دونوں مقاموں میں جو فرق ہے وہ نہ تو عبارت میں بیان ہو سکتا ہے اور نہ اشارے سے بتایا جا سکتا ہے اور اس مقام صدیقیت سے اوپر صرف مقام نبوت ہے اور کوئی نہیں اور صدیقیت اور نبوت کےدرمیان کوئی دوسرا مقام نہیں ہو سکتاہے بلکہ محال ہے اور ایسا محال ہونا صریح اور صحیح کشف سے معلوم ہوا ہے،
اور وہ جو بعض بزرگوں نے ان دونوں مقاموں کے درمیان ایک واسطہ ثابت کیا ہے اور اسےقربت کہا ہے تو اس سے بھی مجھے مشرف فرمایا گیا ہے اور اور اس کی حقیقت کی بھی مجھے اطلاع دی گئی ہے ،بہت سی توجہ اور بے حد تضرع کے بعد پہلے تو اسی طرح جیسا کہ بعض اکابر نے بتایا ہے مجھ پر بھی اظہار ہوا لیکن بعد میں مجھے اس کی حقیقت سے آگاہی دی گئی،بیشک اس مقام کا حصول صدیقیت کے بعد اور عروج کے
وقت ہوتا ہے لیکن واسطے کا ہونا محل تامل کیونکہ وہ مقام بہت بلند ہے اور عروج کی منزلوں میں اس سے اوپر کوئی مقام نہیں اور ذات جل وعلا پر زائدیت وجود اسی مقام میں ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ علماے حق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے اور اسی مقام پر وجود بھی راہ میں رہ جاتا ہے اور اس سے اوپر عروج واقع ہوتا ہے"
درجہ نمبر10 کے تحت فرماتے ہیں:
علم مشارب:
حضرت مجدد پر انبیا علیہم السلام کی استعداد کے مشارب،ان کے تعینات کے مبادی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر ایک کی نسبت یئنی محبیت،محبوبیت اور خلت اور اسی طرح ان سالکوں کی استعداد جو کسی نبی کے زیر قدم ہوں مکشوف کردی گئی تھی پھر ان مشارب میں ہر ایک کے قدم کا فرق بھی ظاہر کردیا گیا تھا اسی لیے آپ فرماتے تھے کہ فلاں شخص ولایت موسوی میں ہے،فلاں ولایت عیسوی میں،فلاں محمدی المشرب ہے اور فلاں نزدیک ہے فلاں ولایت کے نقطہ مرکز سے اور فلاں اس دائرے کے قریب ہے وغیرہ یہ بجی آپ کی عظیم خصوصیات اور رفیع مقامات میں سے ہے۔(درجہ11 کے تحت فرماتے ہیں)
تعین وجودی کہ جس کے متعلق آج تک کسی عارف نے لب کشائی نہیں کی تھی آپ پر ظاہر کیا گیا اور اس عالی مقام کے اسرار وبرکات سے آپ کو ممتاز فرمایا گیا جیسا کہ مکتوبات کے دفتر سوم میں مکتوب 89 میں تفصیل آئی ہے اور اسی طرح دوسرے مکتوبات میں بھی ہے۔
علم قلوب خمسہ:
درجہ نمبر12 کے تحت فرماتے ہیں:"حضرت مجدد قدس سرہ کو قلوب خمسہ کے اسرار وعلوم سے بھی نوازا گیا تھا خصوصا مرتبہ علیا سے جو قلب پنجم سے تعلق رکھتا
ہے اور یہ رتبہ قرب کا اعلیٰ مرتبہ ہے اور منازل حصول کا منتہیٰ بھی ہے اور آپ کی اعلیٰ خصوصیات میں سے بھی ہے اور آپ حضور انورﷺ کی نیابت کے رتبہ تک پہنچائے گئے تھے اور اس مقام میں بھی داخل کیے گئے تھے جس سے اونچا کوئی مقام نہیں اور اقطاب واوتاد کو آپ کی ولایت کے تحت رکھا گیا تھا جیسا کہ رسالہ مبدا ومعاد میں آپ نے فرمایا ہے"پھر اس کے بعد مبدا ومعاد کی عبارت نقل کی ہے۔
علوم طریقت:
درجہ13 کے تحت فرماتے ہیں"حضرت مجدد پر ولایت کے تین درجات منکشف فرمائے گئے تھے یعنی ولایت صغریٰ،ولایت کبریٰ اور ولایت علیا ان تینوں کی تفصیل آپ نے مکتوبات شریف میں تحریر فرمائی ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیے مکتوب260،287،302وغیرہ جلد اول اور مکتوب 3جلد دوم نیز ہماری تالیف خصائص نقشبندیہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درجہ14 کے تحت فرماتے ہیں"حضرت مجدد پر حقیقت قرآن،حقیقت کعبہ اور حقیقت بیت المقدس کے اسرار منکشف فرمائے گئے اور یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ ایک ہزار سال کے بعد حقیقت احمدی کے ساتھ حقیقت محمدی متحد کردی گئی تھی اس کی تفصیل بھی آپ نے خود فرمائی ہے ،تفصیل کے لیے دفتر سوم کے مکتوبات 77،124 وغیرہ دیکھیں۔
درجہ 16 کے تحت فرماتے ہیں"حضرت مجدد کو اللہ تعالیٰ نے حق الیقین سے مشرف فرمایا اور صوفیہ کی اصطلاح میں جو حق الیقین ہے وہ آپ کے نزدیک عین الیقین ہے اس کے بعد آپ نے تحریر فرمایا کہ قدسیہ عین الیقین اور حق الیقین کے متعلق یہ فقیر کیا کہے؟اور اگر کہے تو کون ہے جو سمجھ سکے اور کیا حاصل کر سکے؟ یہ معارف احاطہ ولایت سے خارج ہیں اور علماے ظاہر کی طرح ارباب ولایت بھی سمجھنے
سے قاصر اور عاجز ہیں یہ علوم انوار نبوت(علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام)کی مشکات سے ماخوذ ہیں کہ دوسرے ہزار والی تجدید سے محض تبعیت اور وراثت کی وجہ سے تازہ ہوئے ہیں۔(حضرات القدس ص:84)
درجہ 22 کے تحت فرماتے ہیں"حضرت مجدد قدس سرہ کو انبیاء علیہم السلام کی ولایت سے مشرف فرمایا گیا اور ولویت ظلی سے ولایت اصلی کا اتصال فرمایا گیا"
درجہ18 کے تحت فرماتے ہیں"حضرت مجدد قدس سرہ کو حضور سرور کونینﷺ کے کمال اتباع کی وجہ سے ایسے مقام سے جو مقام رضا سے بالا تر ہے ممتاز فرمایا گیا جیسا کہ آپ نے دفتر دوم کے مکتوب دوم میں تحریر فرمایا ہے،حضرت مجدد قدس سرہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے سرور کونینﷺ کی متابعت کے سات درجات عطا فرمائے آپ قدس سرہ ہر درجہ کے بالتفصیل کمالات مکتوب50دفتر دوم میں تحریر فرماتے ہیں جن کی طرف ہم ابتدا میں اشارہ کر چکے ہیں،ان کمالات کو آپ پڑھیں تو آپ کو محسوس ہو جائے گا کہ آپ کا کاشانہ عرفان کتنا بلند اور شریعت،طریقت اور حقیقت میں آپ اس مقام تک پہنچے ہیں جہاں گنے چنے ہی مقبول اشخاص پہنچ پاتے ہیں،اور ان علوم ومعارف کو حاصل کرلیا ہے جن سے بہت کم لوگ مشرف ہوتے ہیں،یہ متابعت کے سات درجات کا انکشاف بھی آپ کے خصائص میں سے ہے ۔
روحانی عروج:
آپ کا روحانی وعرفانی عروج وارتقا ہر عام وخاص پر روشن وباہر ہے اور اس کمال کو پہنچا ہوا ہے کہ کچھ بیان کرنا چھوٹا منھ اور بڑی بات مگر اس دور پر فتن میں جہالت ونادانی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگ اب کھلے ہوئے حقائق سے انکار کرنے لگے اور عقل ناقص کا اس قدر غلبہ ہوگیا ہے کہ ہر پاگل اپنے آپ کو بہت بڑا ہوشمند تصور کرتا
ہے اور شریعت وطریقت کے حقائق میں بے جا دخل دیتا ہے،تعصب کی عینک آنکھوں پر اس قدر لگی ہے کہ جان بوجھ کر عظمتوں کا انکار کردیتا ہے،میں نے انصاف پسندوں اور اعتراف حقائق کی دل میں کسک رکھنے والوں کے لیے چند کمالات عرض کر دیے اور بھی چند ملاحظہ فرمائیں اور آپ کی روحانی منزلوں سے آشنا ہو کر پروردگار عالم کی اس رحمت وعظمت کی قدر کریں۔
درجہ6 کے تحت حضرت مجدد قدس سرہ کی زبانی مولانا بدرالدین قدس سرہ فرماتے ہیں:
"مجھ فقیر کو جب اس راستے کی خواہش پیدا ہوئی تو عنایت خداوندی سے خانوادہ حضرت خواجگان نقشبندیہ قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم کے ایک خلیفہ(حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ)کی خدمت میں پہنچایا گیا اور وہاں سے ان بزرگوں کا طریقہ اخذ کرکے اس بزرگ کی صحبت اختیار کی اور اس بزرگ کی توجہ کی برکت سے خواجگان نقشبندیہ کا وہ جذبہ جو صفت قیومیت میں کمال فنا حاصل کرنے سے پیدا ہوتا ہے اس فقیر کو حاصل ہوا اور اندراج نہایت فی البدایۃ سے بھی کسی قدر سیرابی حاصل ہوئی جب یہ جذبہ اچھی طرح پختہ ہوگیا تو سلوک میں مجھے قرار حاصل ہوا اور میں نے اس راہ کو شیر خدا حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی روحانی تربیت سے انجام کو پہنچایا یعنی مجھے اس اسم تک عروج حاصل ہوگیا جو میرا مربی(پرورش کنندہ)تھا اور پھر حضرت خواجہ نقشبند کی روحانیت کی مدد سے اس اسم سے قابلیت اولیٰ کے درجے تک عروج کیا جسے حقیقت محمدی(علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام)سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے بعد مجھے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی روحانی دستگیری سے اس قابلیت اولیٰ سے بھی بلندی نصیب ہوئی اور وہاں سے پھر میں اس مقام تک پہنچ گیا جو اس قابلیت سے بھی بلند تر ہے گویا یہ قابلیت اس مقام کی خصوصی تفصیل ہے اور مقام اس کا اجمال ہے یہ مقام
اقطاب محمدیہ کا مقام کہلاتا ہے اور اس فقیر کا اس مقام تک ترقی حضور انورﷺ کی روحانی تربیت سے حاصل ہوئی اس مقام تک پہنچتے وقت اس فقیر کو حضرت خواجہ علاء الدین عطا قدس سرہ کی روحانیت سے بھی ایک گونہ امداد حاصل رہی جو حضرت خواجہ نقشبند کے خلیفہ اور قطب ارشاد ہیں۔اقطاب کا منتہاے عروج اسی مقام تک ہے اور دائرہ ظلیت بھی اسی مقام تک پہنچ کر ختم ہوجاتا ہے۔
اس کے بعد اصل خالص کا مقام ہے یا اصل اور ظل دونوں ملے ہوئے ہیں افراد کی ایک جماعت کو اس دولت تک پہنچنے کا امتیاز حاصل ہے،بعض اقطاب کو بھی افراد کی صحبت کے ذریعہ اس اصل اور ظل آمیز مقام کا مشاہدہ میسر ہوجاتاہے،لیکن اصل خالص تک پہنچ جانا اصل خاص کا مشاہدہ بتفاوت درجات کرنا صرف ٖافراد ہی کا خصوصی امتیاز ہے(یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی فضل والا ہے)
اور اس فقیر کو اس مقام تک پہنچ جانے کے بعد جو اقطاب ککا مقام کہلاتا ہے سرور کونینﷺ کی طرف سے قطبیت ارشاد کی دولت عطا ہوئی اور مجھے اس منصب پر سرفراز فرمایا گیا اس کے بعد پھر عنایت خداوندی شامل ھال ہوئی تو اس مقام سے مزید بلندی کی طرف متوجہ فرمایا گیا چنانچہ ایک مرتبہ اصل ظل آمیز تک رسائی حاصل ہوئی اور اس مقام میں بھی گذشتہ مقامات کی طرح فنا اور بقا نصیب ہوئی اور پھر وہاں سے اصل مقام تک پہنچا دیا گیا اس آخری عروج میں جو کہ مقامات اصل کا عروج ہے اس فقیر کو حضرت غوث اعظم محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس اللہ سرہ الاقدس کی روھانیت سے امداد حاصل ہوئی اور ان کی قوت تصرف نے ان تمام مقامات سے گزار کر اصل الاصل تک واصل فرمایا۔
اور پھر وہاں سے مجھے اس دنیا کی طرف واصل کردیا گیا جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہر
مقام سے واپس کیا جاتا تھا اور اس فقیر کو نسبت فردیت کا سرمایہ جس کے ساتھ آخری عروج مخصوص ہے اپنے والد ماجد(خواجہ عبد الاحد قدس سرہ)سے حاصل ہوا تھا اور میرے والد کو یہ نسبت اپنے ایک بزرگ(حضرت شاہ کمال کیتھلی قدس سرہ) سے حاصل ہوئی تھی یہ جذبہ قوی رکھتے تھے اور کرامات وخوارق عادات میں شہرت رکھتے تھے ۔
نیز اس فقیر کو علم لدنی کی توفیق حضرت خضر(علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام)کی روحانیت سے حاصل ہوئی لیکن یہ صورت حال اس وقت تک رہی جب تک کہ مقام اقطاب سے نہیں گزرگیا لیکن اس مقام سے گذر جانے اور بلند تر مقامات میں ترقیاں حاصل کرلینے کے بعد ان علوم کا حصول خود اپنی حقیقت سے ہونے لگا یعنی علوم اپنی ذات میں خود بخود اپنی ذات سے حاصل ہونے لگے کسی غیر کی مجال نہ تھی کہ درمیان میں آسکے"
درجہ 7 کے تحت فرماتے ہیں:
"پھر اس فقیر کو کو نزول کے وقت جسے سیر عن اللہ باللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے دوسرے سلسلوں کے مشائخ کے مقامات پر بھی عبور حاصل ہوا اور ہر مقام سے کامل حصہ پایا اور وہ مشائخ میرے کام میں میرے مددگار ثابت ہوئے اور اپنی اپنی نسبتوں کے چیدہ چیدہ حصے عطا فرمائے،سب سے پہلے مجھے اکابر چشتیہ(قدس اللہ اسرارہم)کے مقامات پر عبور حاصل ہوا اور ان مقامات سے وافر حصہ مجھے ملا اور ان مشائخ عظام میں سے حضرت خواجہ قطب الدین (بختیار کاکی) رحمۃ اللہ علیہ کی روحانیت نے دوسرے بزرگوں سے کہیں زیادہ میری امداد فرمائی اور سچ تو یہ ہے کہ یہ بزرگ اس مقام میں بڑی شان والے ہیں اور اس مقام کے سردار ہیں۔
اس کے بعد مشائخ کبرویہ(قدس اللہ اسرارہم) کے مقام پر گزرہوا یہ دونوں
مقام (چشتیہ وکبرویہ) عروج کے اعتبار سے مساوی ہیں لیکن یہ مقام(کبرویہ)فوق سے نزول کرتے وقت اس شاہراہ کی دائیں جانب ہوتا ہے اور وہ مقام(چشتیہ) اس صراط مستقیم کی بائیں جانب ہے اور یہ شاہراہ(صراط مستقیم) وہ راستہ ہے کہ اقطاب ارشاد میں سے بعض اکابر اسی راستے سے فردیت کے مقام تک پہنچتے ہیں اور آخری انتہا تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں،افراد تنہا(یعنی بلا قطبیت ) کا راستہ دوسرا ہے بغیر قطبیت کے اس راستے سے گزرنا ممکن نہیں مقام صفات اور اس شاہراہ کے درمیان یہ مقام واقع ہوا ہے،گویا ان دونوں مقاموں کے درمیان ایک برزخ ہے جسے دونوں طرف سے حصہ ملتا ہے اور پہلا مقام تو اس شاہراہ کی دوسری جانب واقع ہوا ہے جو صفات سے کم مناسبت رکھتا ہے۔
اس کے بعد اکابر سہروردیہ کے مقام پر عبور حاصل ہوا جو شیخ شہاب الدین قدس اللہ سرہ کی طرف منسوب ہیں یہ مقام اتباع سنت(علیٰ مصدرہا الصلاۃ والسلام)کے نور سے روشن ہے اور مشاہدہ فوق الفوق کی نورانیت سے زینت حاصل کئے ہوئے ہے اور عبادتوں کی توفیق اس مقام کی رفیق ہے(یعنی اس مقام والوں کے لیے حاصل ہے)۔
بعض سالکوں کو جو ابھی تک اس مقام پر فائز نہیں ہوئے ہیں لیکن عبادات نافلہ میں مشغول ہیں اور اسی میں آرام حاصل کیے ہوئے ہیں اس مقام کی مناسبت سے اس مقام کا کچھ حصہ حاصل ہے کیونکہ عبادات نافلہ سےبلا واسطہ اس مقام کو مناسبت ہے اور اور دوسروں کو خواہ وہ مبتدی ہوں یا منتہی اسی واسطے سے اس مقام کے ساتھ مناسبت ہے اور یہ مقام بہت عجیب ہے کیونکہ جو نورانیت اس مقام میں ظاہر ہوتی ہے وہ دوسرے مقامات میں کم ہے اور اس مقام کے مشائخ کمال اتباع کی وجہ سے عظیم الشان اور رفیع المکان ہیں اور اپنے ابناے جنس میں امتیازی خصوصیت رکھتے ہیں۔
اس کے بعد ہمیں مقام جذبہ میں لے آئے اور یہ مقام بے شمار مقامات جذبات کو
لیے ہوئے ہے پھر اس مقام سے نیچے بھی نزول ہوا ،مراتب نزول کی انتہا مقام قلب پر ہوتی ہے جو ایک حقیقت جامعہ ہے اور ارشاد وتکمیل کا تعلق اس مقام تک نزول ہونے پر ہے چنانچہ مجھے اس مقام پر نزول ہوا لیکن قبل اس کے کہ مجھے اس مقام میں تمکین حاصل ہو پھر عروج واقع ہوا اور اس مرتبہ میں نے سایہ (ظل) کی طرح اصل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور اس عروج میں جو کہ قلب کے مقام میں واقع ہوا مجھے تمکین اور پختگی نصیب ہو گئی۔(حضرات القدس ص:80)
قیومیت اشیا:
حضرت مجدد قدس سرہ کی رفعت وبلندی کا آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اشیاء کا قیوم بنایا اور یہ آپ کے خصائص میں سے ہے،مرتبہ قیومیت کیا ہے ہم ذرا اس پر تفصیلی روشنی ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ نام اور مرتبہ اس نام سے پہلی مرتبہ حضرت مجدد قدس سرہ کے وجود مسعود سے لوگوں کے درمیان آیا،جن کے دلوں میں اعتراف عظمت وحق کے دروازے کھلے ہوئے تھے انھوں نے تو بلا چون وچرا قبول کرلیا کیونکہ وہ حضرت مجدد قدس سرہ کی علمی وروحانی جلالت شان سے واقف تھے ،آپ کے بلند عروج وارتقاء روحانی سے آشنا تھے اور جانتے تھے کہ آپ جیسے امام ربانی اور مجدد الف ثانی نے یہ منصب اپنے لیے مشاہدہ فرمایا اور کسی مناسبت سے قیومیت نام تجویز فرمایا اور صاحب منصب کو قیوم فرمایا جو ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
مگر ہر دور میں کچھ نہ کچھ ایسے بغض وعناد کے حامل ضرور ہوتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ ہمیں مل جائے،دوسروں کی بلندیاں یکلخت انھیں بھاتی ہی نہیں ،خاص کر وہابی دیوبندی جن کی تنگ نظری خود انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے بارے میں ہر پڑھا لکھا انسان جانتا ہے جنیں بات بات پر شرک کے ڈھیر نظر آنے
لگتے ہیں،جس قوم کو انبیاے کرام علیہم السلام جیسے رفیع الشان گروہ کے ان اوصاف کے قبول میں پس وپیش ہو جن کے ساتھ ظاہر شرع ناطق ہے اور قرآن وسنت سے ثابت ہیں بھلا وہ غیر انبیاء کے لیے وہ مقامات ومناصب بلند وبالا کیسے قبول کر سکتے ہیں جن کے ساتھ قرآن وسنت بظاہر ناطق نہیں ہیں دراصل یہ قوم نہایت محروم قوم ہے خدا تعالیٰ کی عطاؤں پر ہر وقت منھ سمیٹے رہتے ہیں،انھیں بہت ہڑتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی کو نوازتا ہے،مگر اس سے فائدہ کیا ہے اپنمے ہاتھوں اپنی ہلاکت کے سوا ۔
ہم چند اقتباسات درج کرتے ہیں جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انسان رفعتوں کی کن حدوں پر پہنچ سکتا ہے اور منصب قیومیت بھی اس ضمن میں واضح ہو جائے گا۔
انسان کامل:
دفتر دوم مکتوب11میں پہلے فوق عرش ظہور کے کمالات بیان فرماتے ہیں اور آیت کریمہ: اللہ نور السمٰوٰات والارض الاٰیۃ
کے معنیٰ تاویلی نہایت عارفانہ انداز میں بیان کرتے ہیں اور نہایت تفصیل سے ثابت کرتے ہیں کہ ظہور ذات کبھی بصفات ہوتا ہے اور کبھی بے پردہ صفات،پھر فرماتے ہیں کہ عرش مجید کو بے شائبہ ظلیت تجلی سے حصہ ہے اور کسی کو نہیں ہاں! قلب انسان چونکہ عالم صغیر کا عرش ہے جو کہ عالم کبیر کے عرش سے ایک گونہ مشابہت رکھتا ہے اسی لیے انسان میں جو کاملین ہیں ان کے قلوب کو بھی تجلی بے شائبہ ظلیت سے حصہ ہے پھر کچھ خصائص انسانی بیان کرکے فرماتے ہیں:
"پس انسان عجوبہ( عجیب اور جو لوگوں کو تعجب میں ڈالے)ہے کہ خلافت کی لیاقت لی ہے اور بار امانت اٹھایا ہے،انسان کے خصائص غریبہ سے سنو کہ اس کا معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ حضرت احدیت مجردہ کی مرآتیت (آئینگی)کی
قابلیت پیدا کرلیتا ہے اور صفات وشیونات کے اقتران کے بغیر ذات احد کا مظہر ہوجاتا ہے،تعالیٰ شانہ اس کا بیان یہ کہ انسان کامل جب ذات احدیت تعالیٰ وتقدس کے ما سوا کی گرفتاری سے آزاد ہو جاتا ہے تو ذات احد جل سلطانہ کے ساتھ گرفتاری پیدا کرلیتا ہے اور صفات وشیونات میں سے کوئی چیز اس کی ملحوظ ومنظور ومقصود ومطلوب نہیں رہتی ہے المرء مع من احب کے حکم کے مطابق اس کو ایک قسم کا اتصال مجہول الکیفیۃ حضرت احدیت مجردہ سے پیدا ہوجاتا ہے اور وہ گرفتاری کہ ذات احد جل سلطانہ سے اس کو حاصل ہوئی تھی قرب بے چون کی نسبت ذات بے چون کی طرف اس میں ثابت کرتی ہے اس وقت میں انسان کامل ذات احد کا آئینہ بن جاتا ہے اس طرح پر کہ صفات وشیونات اس میں کچھ بھی مشہود ومرئی مہیں ہوتا ہے بلکہ ذات احدیت مجردہ تعالت وتقدست اس میں ظاہر ہوتی ہے سبحان اللہ العظیم" تفصیل کے لیے دیکھیے مکتوب مذکور۔
(2)مکتوب 80 دفتر سوم میں پہلے تو نہایت تفصیل سے ثابت کرتے ہیں کہ ظل میں جو کچھ حسن وکمال اور وجود وتوابع وجود ہے سب اصل سے مستفاد ہے،پھر فرماتے ہیں:" چونکہ عالم اسما وصفات واجبی تعالیٰ کے ظلال ہیں اس کے اصول بھی اسما وصفات ہوں گے اور یہ ظلال اعراض ہیں کہ ان کا قیام اپنے اصول سے ہے جو کہ اسما وصفات ہوں گے اور ان کے درمیان کوئی جوہر نہیں ہے کہ اس سے قائم ہوں معتزلہ سے نظام بحکم ان الکذوب قد یصدق ( بہت جھوٹا بھی سچ بول دیتا ہے) اس بھید پر آگاہ ہوگیا اس نے کہا کہ عالم بتمامہ اعراض ہے اور کوئی جوہر ان کے درمیان نہیں ہے کہ اس سے قائم ہوں لیکن نظام نے خطا کی ہے کہ ان اعراض کا قیام بانفسہا کہا ہے(یعنی اعراض بذات خود قائم ہیں)اور ان کے اس اصول سے غافل رہا کہ جس سے قیام رکھتے ہیں۔
اور صوفیہ سے شیخ محی الدین ابن العربی قدس سرہ نے عالم کو اعراض مجتمع فرمایا ہے اور ان کے قیام کو ذات حق جل وعلا سے رکھا نہ کہ اسما وصفات سے کہ ان کے اصول ہیں"حضرت مجدد قدس سرہ کو حضرت شیخ کی اس بات پر بڑا تعجب ہے کہ ان اعراض مجمعہ کا قیام انھوں نے ذات حق سے کیسے مانا ؟
اولا ذات سے مراد وہ ذات ہے جو تمام وجوہ واعتبارات سے خالی ہے تو اس جگہ قیام کے کیا معنیٰ؟کیونکہ قیام بمعنیٰ اختصاص ناعت ہو سکتا ہے اور اس جگہ کوئی نعت وصفت نہیں تو قیام بھی نہیں۔
ثانیا یہ کہ قیام بھی منجملہ ان وجوہ واعتبارات میں سے جن کی نفی کی گئی ہے لہٰذا اس مرتبہ مقدسہ میں اس کے اثبات کے کوئی معنیٰ نہیں رہے۔
پھر آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:"اور جب افراد عالم اسما وصفات کے ظلال ہوگئے تو ناچار ان کا اصول ان کے اصول تک ہوگا کہ اسما وصفات ہوں گی اور اگر اصول اصول تک بھی پہنچیں تو ذات مجرد مقدس منتہی ہوگا اس سے آگے گزرنا ہوگا کیونکہ اصالت کو بھی اس کی گنجائش نہیں ہے کہ غناے ذاتی ہے اس جگہ سب سے کیا اسم کیا صفت اور کیا شان کیا اعتبار۔
تو عالم کو حضرت ذات تعالیٰ کے مرتبہ مقدسہ سے سوا محرومی کے کوئی حصہ نہیں ہوا اور وصل واتصال کی اس جگہ گنجائش نہ ہوگی لیکن عادت اللہ جاری ہوئی ہے کہ اپنے کمال رحمت ورافت سے قرون متطاولہ وازمنہ متباعدہ(لمبے دوروں اور دور دراز زمانوں)کے بعد کسی صاحب دولت کو فناے اتم کے بعد بقاے اکمل بخشتے ہیں اور ذات اقدس سے انموذج(نمونہ) اس کو عطا فرماتے ہیں کہ اس کا قیام جیسا کہ پہلے اپنی اصل سے تھا کہ اسما وصفات ہوں گی اب اس انموذج سے قائم ہوگا اور جن اعراض سابقہ کا مجموعہ رکھتا تھا اور یہ ذات موہوب اس کی حقیقت ہوگی اور اس کا انسانی کمال انجام کو
پہنچے گا اور نعمت اس کے حق میں تمام ہوگی ،اور ایک بات کہتا ہوں اچھی طرح سننا کہ عارف مخصوص کا قیام اس ذات محبوب سے نہیں ہے بلکہ تمام افراد عالم کو کہ اعراض مجتمعہ ہیں جس طرح پہلے قیام اسما وصفات سے رکھتے تھے اب ان کا قیام اس ذات موہوب سے مربوط کردیا ہے اور اس ایک ذات سے سب کو قائم کردیا؎
خاص کند بندہ مصلحت عام را
خلافت کا راز کہ آیت کریمہ: انی جاعل فی الارض خلیفۃ آیا ہے اسی جگہ متحقق ہوتا ہے اور خبر: ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ کی حقیقت اس مقام میں واضح ہوتی ہے اور وہ جو ہم نے کہا کہ ذات اقدس سےاس کو انموذج عطافرماتے ہیں،میدان عبارت کی تنگی کی وجہ سے ہے ورنہ انموذج کی اس جگہ کیا گنجائش ہے اور کون چیز ہے کہ اس کی صورت پر آئےاور صورت کی اس جگہ کیا مجال ہے"تفصیل کے لیے دیکھیے مکتوب مذکور
(3)مکتوب74دفتردوم میں سورہ فاطر کی آیت:فمنہم ظالم لنفسہ الآیۃ
اور سورہ احزاب کی آیت: انا عرضنا الامانۃ الآیۃ
کےمعنیٰ کی تاویل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"جاننا چاہئے کہ ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ (بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا) کہ وہ پروردگار صورت سے منزہ اور متعالی ہے پس آدم کی تخلیق اس سبحانہ کی صورت پر بایں معنیٰ ہو سکتی ہے کہ اگر مرتبہ تنزیہ عالم مثال میں کوئی صورت فرض کی جاسکتی ہے تو ضرور یہ صورت جامع ہوگی کہ انسان جامع اسی صورت پر موجود ہوا ہے کوئی دوسری صورت کو اس کی قابلیت نہیں ہے کہ اس مرتبہ مقدسہ کی مثال ہوسکے اور اس کا آئینہ بن سکے، اسی جگہ سے ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی خلافت کے لائق ہوا ہے کیونکہ (شئ)جب تک شئ کی صورت پر مخلوق نہ ہو اس شئ کی خلافت کے
لائق نہ ہوگی کیونکہ شئ کا خلیفہ شئ کا خلف(پس ماند۔فرزند) ہوتا ہے اور اس شئ کا قائم مقام ہے اور جب انسان خلیفہ رحمان تعالیٰ ہوگیاتو لا محالہ بار امانت کا تجمل متعین ہو گیا لا یحمل عطایا الملک الا مطایاہ (بادشاہ کی عطاؤن کو اس کی اونٹنیاں ہی اٹھا سکتی ہیں)
تمام آسمان اور زمین اور تمام پہاڑ جامعیت کہاں سے پائیں گے تاکہ اللہ کی صورت پر پیدا ہوں اور اس تعالیٰ کی خلافت کے لائق اور اس سبحانہ کی امانت کے بوجھ کو اٹھا سکیں اور محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس بار امانت کو بالفرض آسمان وزمین اور پہاڑ کے حوالے کر دیتے تو ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے اور ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا اور وہ امانت اس فقیر کے گمان(زعم)میں جمیع اشیاء کی قیومیت ہے نیابت کے طور پر کہ افراد انسان کے کاملین کے ساتھ مخصوص ہے یعنی انسان کامل کا معاملہ اس جگہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کو بحکم خلافت جمیع اشیاء کا قیوم بنادیتے ہیں اور سب کو وجود وبقا اور تمام کمالات ظاہری وباطنی کا فیض اسی (قیوم)کے واسطے سے پہنچاتے ہیں اگر فرشتہ ہے تو اسی سے متوصل اور اگر جن وانس ہیں تو اسی کا دامن تھامے(متشبث)درحقیقت جمیع اشیا کی توجہ اسی کی جانب ہے اور سب اس کے نگراں ہیں جانیں یا نہ جانیں۔
پھر چند سطروں کے بعد فرماتے ہیں: