مواد پر جائیں

باب ۳۷ از ۵۷صفحات ۵۰۱–۵۲۲

امرا کے نام خطوط

مکتوبات شریف میں جن امرا کے نام خطوط ہیں ان کے نام یہ ہیں (۱)سید فرید(۲)خانخاناں (۳)خان جہاں (۴)خواجہ جہاں (۵)مرزا مظفر خاں (۶)مرزا بدیع الزماں (۷)قلیج خاں (۸)جباری خاں (۹)مرزا فتح اللہ (۱۰)داراب خاں (۱۱)فتح خان افغان (۱۲)شیخ عبد الوہاب (۱۳)ممریز خاں افغان (۱۴)صدر جہاں (۱۵)خان اعظم (۱۶)لالا بیگ (۱۷)سکندرخاں لودی (۱۸)خضر خاں لودی (۱۹)بہادرخاں (۲۰)شیخ صدرالدین (۲۱)جعفر بیگ وغیرہ۔

ان میں کا ہر ایک، ایک سے بڑھ کر ایک جاہ وحشمت کا مالک تھا بعض امرا کے نام کئی کئی مکتوب ہیں،شیخ فرید کے نام تو تقریبا انیس مکتوبات شریفہ ہیں،آپ اس بوریہ نشیں مرد خدا کی ہمت،جد وجہد اور اس کا کام تو دیکھیں منقول ومعقول کی اعلیٰ

کتابوں کی تدریس بھی،افاضۂ انوار کے لیے مریدوں کی باطنی تربیت بھی،سب کے قیام وطعام کا بندوبست اور انتظام،قوت تصرف سے سب کو منازل طے کرانا، ان کی سننا اور علوم ومعارف انھیں سنانا،ذکر وعبادت کی کثرت بھی، اس کے ساتھ ساتھ اہل کفر کی طرف سے جو کچھ ظلم وستم ہو رہے تھے ان پر نظر اور ان کے ازالہ کی کو شش،رافضیوں اور شیعوں کی طرف سے جو اسلام اور اہل اسلام کو زبردست خطرات تھے ان کا مقابلہ بھی،تصنیف وتالیف بھی اور دین کی خدمت کے لیے مختلف اسفار بھی وغیرہ وغیرہ۔

پھر مادی وسائل کا فقدان الگ درد کا سبب تھا یہ سب ایک انسان سے بہت مشکل ہے مگر رب تعالیٰ جب کام لینا چاہتاہے تو فرد واحد سے وہ لے لیتا ہے جو لاکھوں اور سیکڑوں نہیں کر پاتے ہیں،کاش! آج کے علما وصوفیہ آپ کو پڑھتے،قریب سے دیکھتے اور آپ کے لائق تقلید کارناموں کو اپناتے،بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی چند اقتباسات اور ملاحظہ فرمائیں۔

شیخ فرید چونکہ سید تھے اس لیے انھیں خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘از حق سبحانہ وتعالیٰ خواستہ می آید کہ بتوسل وجود شریف آں سلالۂ عظام ارکان شریعت غرا واحکام ملت زہرا قوت گیرند ورواج پذیرند؎

کار ایں است وغیرہ ایں ہمہ ہیچ’’

یعنی بارگاہ خداوندی میں دعا ہے کہ ان اہل بیت عظام کے وسیلے سے شریعت غرا کے ارکان اور ملت زہرا کے احکام قوت پکڑیں گے اور رواج پائیں گے،کام تو بس یہی ہے اس کے علاوہ سب ہیچ۔

پھر اہل بیت کی فضیلت اور یہ کہ آج بھی نجات اہل بیت کے سفینہ ہی سے ہو سکتی ہے بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘ہمت علیا را بتمام برآں گمارند کہ ایں سعادت عظمیٰ را بدست آرند بعنایت اللہ سبحانہ از قسم جاہ وجلال وعظمت وشوکت ہمہ میسر است با وجود شرف ذاتی اگر ایں علاوہ بہ آں منضم شود گوئے سبقت بچوگان سعادت از ہمہ پیش بردہ باشند’’

یعنی اپنی بلند ہمتی کو پورے طور پر اس پر مقرر کریں کہ اس سعادت عظمیٰ کو حاصل کریں،اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے جاہ وجلال اور عظمت وشوکت سب کچھ میسر ہے شرف ذاتی کے با وجود اگر یہ اس کے ساتھ مل جائے تو سبقت کی گیند سعادت کے چوگان سے سب سے آگے لے جانے والے ہوں گے۔

ایک دفعہ آپ کو معلوم ہوا کہ بادشاہ کی طرف سے چار علما کی تقرری کا حکم ہوا ہے،آپ کی مجددانہ فطرت نے فورا اس خطرہ کا احساس کر لیا کہ اگر کہیں علماے سو کی تقرری ہو گئی تو ساری جد وجہد بے کار ہو جائے گی اور دین پھر تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا،آپ نے فورا شیخ فرید کو خط لکھا اور بادشاہ کی تعریف کی اور اس خبر پر مسرت کا اظہار فرمایا اور لکھا کہ ماضی میں علماے سو کے اختلاط اور ان کی دنیا طلبی سے اسلام اور اہل اسلام کو کن کن بلاؤ ں کا شکار ہونا پڑا،پھر آپ ان کو رائے دیتے ہیں کہ اس کام کے لیے علماے آخرت ضروری ہیں اگر چار ایسے دیندار علما میسر نہ آ سکیں بلکہ کوئی ایک ہی ملے تو کافی ہے،گنتی پوری کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ جیسے مل جائیں بھر لیے جائیں،مقصد ایک سے بھی پورا ہو سکتا ہے۔

آپ کی بلند نظر چونکہ جانتی تھی کہ حکومت کے لیے کیسے عالم کی ضرورت ہے،عقل ودین میں کتنا کامل انسان چاہیے اور ویسے کامل نہیں پاتے ہیں اس لیے ہو سکتا ہے ایسے چار عالم نہ ملیں تو بھی انھیں رائے دیتے ہیں:

‘‘اگر علماے آخرت پیدا شود چہ سعادت کہ صحبت او کبریت احمر است واگر پیدا نشود بعد از تامل صحیح بہترین ایں جنس را اختیار کنند ما لا یدرک کلہ لا یترک کلہ’’

یعنی اگر علماے آخرت میسر آئیں تو کیا ہی نیک بختی ہے کہ ان کی صحبت کبریت احمر (سونا)ہے اور اگر میسر نہ آئیں تو اس جنس سے سب سے بہتر کو اختیار کریں جس کا سب نہیں پایا جا سکتا ہے اس کا سب چھوڑا نہیں جا سکتا ہے۔

آپ کو یہ بھی فکر رہتی کہ کہیں ان امرا کی مجلسوں میں اہل بدعت وضلالت علما کا دخل نہ ہو جائے اور باہم صحبت کی راہیں کشادہ نہ ہو جائیں اس لیے وقتا فوقتا اس قسم کے خطرات کا اظہار فرمایا کرتے تھے چناں چہ ایک مکتوب میں شیخ فرید کو لکھتے ہیں:

‘‘ایں فقیر از صحبت گرامی شما دور افتادہ است معلوم نہ دارد کہ در مجلس شریف از کدام قسم مردم را گنجائش است وانیس خلوت وجلوت کیست’’(مکتوب ۵۴ جلد ۱)

یعنی یہ فقیر آپ کی صحبت گرامی سے دور ہے معلوم نہیں کہ مجلس شریف میں کس قسم کے لوگوں کی گنجائش ہے اور خلوت وجلوت میں ساتھی کون ہے؟

کفر واہل کفر کا غلبہ اور اسلام واہل اسلام کی غربت وزبوں حالی اور ضعف ونا توانی بیان کرنے کے بعد آپ قدس سرہ خان اعظم کو دینی خدمات کے لیے آمادہ وتیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘امروز وجود شریف شما را مغتنم می شمریم ومبارز دریں معرکۂ ضعیف وشکست خوردہ جز شما را نمی دانیم حق سبحانہ وتعالیٰ موید وناصر شما باد بحرمۃ النبی و آلہ الامجاد علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات والتحیات والبرکات۔’’

اس دور میں آپ کے وجود مسعود کو میں غنیمت شمار کرتا ہوں اور اس کمزور اور شکست خوردہ معرکے میں تمہارے سوا کسی کو مجاہد نہیں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کی تائید اور مدد فرمائے گا۔

جذبات سے سرشار کرنے کی مجددانہ فطرت آپ دیکھ رہے ہیں پھر دینی خدمات کا جنون اس طرح پیدا کرتے ہیں:

‘‘در خبر وارد است لن یومن احدکم حتیٰ یقال انہ مجنون دریں وقت آن جنون کہ مبنائے آں فرط غیرت اسلام است در نہاد شما محسوس است الحمد للہ سبحانہ علیٰ ذٰلک’’

حدیث شریف میں ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اسے مجنوں کہا جائے،اس وقت میں وہ مجنوں کہ جس کی بنیاد غیرت اسلام کی زیادتی ہے تمہاری فطرت میں محسوس ہوتی ہے۔

اب ذرا مجددی قلم کی جولانی دیکھیں فرماتے ہیں:

‘‘امروز آں روز است کہ عمل قلیل را باجر جزیل باعتناء تمام قبول می فرمایند،از اصحاب کہف غیر از ہجرت عمل دیگر نمایاں نیست کہ ایں ہمہ اعتبار پیدا کردہ است،سپاہیاں در وقت غلبۂ اعدا اگر اندک تردد می کنند اعتبار بسیار پیدا می کنندد بخلاف در وقت امن وتسکین اعدا، وایں جہاد قولی کہ امروز شما را میسر شدہ است جہاد اکبر است مغتنم می دانید ہل من مزید بگوئید وایں جہاد گفتن را بہ از جہاد کشتن دانید’’

یعنی آج کا دن وہ دن ہے کہ تھوڑے عمل کو بڑے اجر کے عوض پوری توجہ کے ساتھ قبول فرمائیں،اصحاب کہف سے ہجرت کے علاوہ دوسرا عمل ظاہر نہیں ہے کہ جس نے یہ اعتبار پیدا کر لیا ہے،دشمنوں کے غلبہ کے وقت اگر سپاہی تھوڑی کوشش کریں تو بہت اعتبار رکھتی ہے اس کے بر خلاف دشمنوں کے امن وسکون کے وقت میں،یہ قولی جہاد کہ آج آپ کو میسر ہوا ہے جہاد اکبر ہے لہٰذا اس کو غنیمت جانیے اور زیادتی کے طالب رہیے اور اس قولی جہاد کو جنگی جہاد سے بہتر شمار کیجیے۔

جو دوسروں سے کام لینے کے لیے ان کے اندر اتنے جذبات پیدا کر رہا ہےخود اس کے دل میں احیاء دین کے لیے کیا جذبہ ہوگا،دل کس طرح تڑپتا ہوگا،روح کو کس قدر بے چینی ہوگی،رات ودن اور صبح وشام کس بے چینی میں گذرتے ہوں گے، تمنا تو

بہت کچھ ہے اور کرنے کو جی تو بہت چاہتا ہے مگر:

‘‘امثال ما مردم فقرا بے دست وپا ازیں دولت محرومیم؎

ہنیئا لارباب النعیم نعیمہا

وللعاشق المسکین ما یتجرع

دادیم ترا از گنج مقصود نشاں

گر ما نرسیدیم تو شاید برسی

یعنی ہم جیسے فقرا بے دست وپا لوگ اس دولت سے محروم ہیں، اصحاب نعمت کو ان کی نعمتیں مبارک ہوں اور عاشق مسکین کے لیے رنج وغم کے گھونٹ،ہم نے تمہیں خزانۂ مقصود کا پتا بتا دیا اگر ہم نہ پہنچیں تو ہو سکتا ہے تم ہی پہنچ جاؤ۔

مکتوب کے آخری حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ اس شہر میں ان ایام میں تشریف لے گیے تھے جہاں خان اعظم تھے وہیں سے مکتوب تحریر فرماکر انھیں آمد کی اطلاع بھی دی غالبا ملاقات کے متمنی تھے مگر کھل کر کہہ نہ سکے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس سفر میں ملاقات ہوئی یا نہیں؟ اپنی اس توجہ،مکتوب نویسی اور امرا سے تعلق کی وجہ بھی ظاہر فرمادی تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس تعلق سے کوئی مادی منفعت درپیش ہے بلکہ صرف اسلام اور اہل اسلام کے غلبہ اور اس کی عزت اور احکام کفر واہل کفر کی بربادی وذلت مقصود ہے،فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس اللہ سرہ نے فرمایا کہ اگر میں شیخی کروں(یعنی مسند مشیخت پر بیٹھ کر لوگوں کو صرف مرید کروں)تو کوئی پیر عالم میں مرید نہ پائے لیکن مجھکو دوسرا کام(سپرد) فرمایا ہے اور وہ شریعت کی ترویج اور ملت کی تائید ہے(اسی لیے)لا محالہ بادشاہوں کی صحبت میں جاتے تھے اور اپنے تصرف سے ان کو مطیع کرتے تھے اور ان کے وسیلے سے شریعت کی ترویج فرماتے تھے’’

خان اعظم کو اللہ تعالیٰ نے کافی رعب ودبدبہ اور شوکت وحشمت عطا فرمائی تھی،اور ان کی بات بڑی لائق توجہ سمجھی جاتی تھی،حضرت مجدد قدس سرہ انھیں یاد دلاتے ہیں کہ آپ کی یہ مقبولیت ،وجاہت اور حشمت وشوکت کسی دنیوی منصب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ خانوادۂ نقشبندیہ کے اکابر قدس اللہ اسرارہم کے ساتھ قلبی لگاؤ اور محبت والفت کی وجہ سے ہے،اکابر سے محبت کا یہ احسان جتا کر پھر خان اعظم سے التماس کرتے ہیں:

‘‘سعی فرمایند کہ لا اقل احکام کبیرۂ اہل کفر کہ در اہل اسلام شیوعی پیدا کردہ اند منہدم ومندرس گردند،اہل اسلام ازاں منکرات محفوظ مانند جزاکم اللہ سبحانہ عنا وعن جمیع المسلمین خیرالجزاء’’

ترجمہ: کوشش فرمائیں کہ کم از کم اہل کفر کے بڑے احکام جو اہل اسلام میں عام ہو گئے ہیں ختم ہو جائیں،اہل اسلام ان برائیوں سے محفوظ رہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ آپ کو ہماری اور تمام مسلمانوں کی طرف سے بہترین جزا دے۔

اس کے بعد فرماتے ہیں اکبری دور میں اہل اسلام کے ساتھ عناد مفہوم ہوتا تھا اور اس سلطنت جہانگیری میں بظاہر وہ عناد نہیں ہے اگر ہے تو عدم علم کی بنیاد پر ہے،ڈر یہ ہے کہ اس جگہ بھی انجام کار عناد تک پہنچے اور مسلمانوں پر معاملہ زیادہ تنگ ہو جائے‘‘ترس آنست کہ مبادا ایں جا ہم کار بعناد انجامد وبر مسلماناں معاملہ تنگ تر افتد’’

شیخ محمد اکرام پر آفاقی تیور:

آپ دیکھ رہے ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر خطرات پر کس طرح تھی اور قبل از وقت اس کے ازالہ کی تدبیر میں لگے رہتے تھے،حیرت تو یہ ہے کہ تاریخ نویسی اور تحقیق کے دعویداروں کو یہ سب کچھ دکھائی نہیں دیا،شیخ محمد اکرام جیسے لوگوں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی رہ گئیں،وہ تنکے بٹور بٹور کر آشیانہ بناتے رہے،جس میں تنہا

حضرت مجدد قدس سرہ نہ ہوں ملا عبدالقادر بدایونی حلفیہ بیان دے دے کر اکبری الحاد بیان کریں تو شیخ جی اسے موسیقی ونغمے قرار دیں،اس بے چارے ملا پر جگہ جگہ وہ برق گرائی ہے کہ بیان سے باہر ہے،قصور صرف اتنا ہے کہ جس اکبر سے شیخ جی کو قلبی لگاؤ ہے اس کی حماقت وبد عقلی اور ذہنی الحاد کو ملا صاحب نے بے نقاب کر دیا۔

وہی باتیں حضرت مجدد قدس سرہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اکبری فتنوں نے اسلام اور اہل اسلام کو کن مصیبتوں سے دوچار کردیا تھا،حضرت مجدد قدس سرہ نے متعدد مکتوبات اور رسالہ اثبات النبوت کے دیباچہ میں کھل کے بیان فرمایا ہے مگر شیخ جی ملا جی پر تو بخار اتار گئے اگر حضرت مجدد پر اتارتے تو انھیں پتہ چل جاتا کہ آسمان پر تھوکنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کی مجددانہ بصیرت نے امرا کی تسخیر فرماکر پھر رفتہ رفتہ جس طرح جہانگیری سلطنت کا رخ اسلام کی طرف موڑا ہے وہ آپ ہی کا حصہ تھا، امرا کی تسخیر سے عوام میں جہانگیر کی بے اعتدالیاں بالکل بے اثر ہو کر رہ گئی تھیں،سارے بڑے بڑے امرا کو آپ نے اس طرح مٹھی میں لے لیا تھا کہ جہانگیر بالکل بے بس ہو کر رہ گیا تھا۔

جہانگیر میں کوئی معمولی بگاڑ نہ تھا اس کے بگاڑ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے وصال سے چند سال قبل تک سجدہ کا رواج تھا،جس کے نتیجہ میں آپ کو قید وبند کی مشقتیں جھیلنا پڑیں،جہانگیر کے حواشی (ساتھ رہنے والے) اس وقت بھی بہت سے علماے سو تھے جنھوں نے حضرت مجدد کو قتل کرانے کے لیے بہت کچھ مکر کیے آخر وہ داؤ قید وبند کی صورت میں ظاہر ہوا،وہی بالآخر بادشاہ کی بے اعتدالیوں کے خاتمہ کا سبب بھی بنا،اسی کے ذریعہ آپ کو بادشاہ کے روبرو کلمۂ حق کہنے کا موقع ملا اور اپنے علم وعمل،تقویٰ وطہارت اور علوم ومعارف سے اسے ایسا متاثر کیا کہ

بیان نہیں ہو سکتا ہے،آپ ایک قیدی کی حیثیت سے اس کے ساتھ تھے مگر اس مجاہد کے آپ ذرا وار تو دیکھیں،نڈر پن اور اعلاء کلمۃ اللہ کی جسارت تو دیکھیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہر منصب سے دور رہ کر اور کمال انقطاع اپنا کر آپ نے جس طرح امرا و وزرا وحکام اوور بالآخر بادشاہ کو اپنی مٹھی میں لے لیا وہ ہر ایک سے نرالا طرز ہے۔

اپنے لیے کبھی کسی منصب کا استعمال کیا نہ ہی دولت کا،آخر تک کمال فقر ودرویشی ہاتھوں میں رہی اور امرا کے وسیلے سے نہیں بلکہ شاہی عتاب کے ذریعہ بادشاہ تک پہنچ کر بادشاہ کو سچے اسلام سے بالمشافہ آشنا کیا اور پورے شاہی خاندان کو ہمیشہ کے لیے اپنی غلامی میں داخل کر لیا۔

بات چل رہی تھی امرا وعمائدین کو دینی خدمات پر آمادہ کرنے کی لہٰذا اس سلسلے میں چند اقتباس اور ملاحظہ فرمالیں،صدر جہاں جو کہ جہانگیر کے بچپن میں تعلیمی نگراں بھی رہے تھے عہد اکبری میں معمولی منصب کے حامل تھے جہانگیر نے اپنے دور میں ان کو چار ہزاری منصب پر فائز کردیا تھا،مکتوب ۱۴۹ میں پہلے تو انھیں یہ ذہن دیتے ہیں کہ شریعت مصطفویہ کی ترویج اور اعداء دین کی تذلیل جب سےمسلمانوں نے سنی ہے بہت خوش ہیں اس پر اللہ عز وجل کا شکر بجا لاتے ہیں پھر انھیں یوں ابھارتے ہیں:

‘‘یقین است کہ مقتدایان اسلام از سادات عظام وعلماے کرام درخلا وملامقصدی ازدیاد ازداد ایں دین متین وتکمیل ایں صراط مستقیم خواہند بود’’ یعنی یقین ہے کہ اسلام کے پیشوا سادات عظام اور علماے کرام خلوت وجلوت میں اس دین متین کی زیادتی اور اس صراط مستقیم کی تکمیل چاہیں گے۔

بادشاہ کو چونکہ اس وقت علما کی طلب تھی لہٰذا آپ صدر جہاں کو بادشاہ کی اس بات پر ایک تعریفی جملہ استعمال کرنے کے بعد بتاتے ہیں کہ علماے سو نے اکبری دور میں کیا کیا تھا سارا فساد وبگاڑ ان کا ہی تھا،ان کی نا زیبا حرکتیں بیان کرنے کے بعد

علماے آخرت کی فضیلت بیان فرماتے ہیں،پھر مکتوب ۱۹۵ کے آغاز میں بادشاہ کے عمومی احسانات اور ان کی وجہ سے عامہ مخلوق کا بادشاہوں سے محبت کا لگاؤ بیان فرماتے ہیں اور یہ کہ اس لگاؤ کی وجہ سے بادشاہ کی خیر وصلاح اور شر وفساد عام مخلوق میں پھیلتی ہے پھر الناس علیٰ دین ملوکہم کے مقولے کو بیان کرنے کے بعد انھیں یوں جذبات خدمات دینی سے سرشار کرتے ہیں:

‘‘اکنوں کہ انقلاب دول بظہور پیوستہ وثورت عناد اہل ملل برہم شکستہ بر ائمہ اسلام از صدور عظام وعلماے کرام لازم است کہ تمام ہمت خود را مصروف رواج شریعت غرّا ساختہ در بدایت امر ارکان اسلام منہدمہ را بر پا سازند کہ در تسویف خیریت ظاہر نمی شود ودلہاے غریباں ازیں تاخیر در اضطراب است شدتہاے قرن سابق در دلہاے مسلماناں متمکن است مبادا تلافیِ آن نشود غربت اسلام بتطویل انجامد۔’’

ترجمہ: اب جب کہ دولتوں کا انقلاب ظاہر ہوا ہے اور ملت والوں کے عناد کی تیزی ٹوٹ گئی ہے ائمۂ اسلام بڑے بڑے صدور (صدر کی جمع) اور علماے کرام پر لازم ہے کہ اپنی پوری ہمت آغاز امر ہی میں ختم شدہ ارکان اسلام کو قائم کرنے میں صرف کریں کیونکہ تاخیر میں خیریت ظاہر نہیں ہوتی ہے غریبوں کے دل اس تاخیر سے بے چین ہیں،پہلے زمانے کی شدتیں مسلمانوں میں بیٹھی ہوئی ہیں کہیں ان کی تلافی نہ ہو اور غربت اسلام لمبی ہوجائے۔

آپ کی بالغ نظر حالات پر اتنی گہری پکڑ رکھتی تھی کہ کس ڈھیل سے کیا برے نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں،جہانگیر کی تخت نشینی کے بعد آپ اتنی چستی سے کام لے رہے تھے کہ بس آپ ہی کا حصہ ہے،آپ کو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ اگر کہیں ڈھیل ڈھال اور تسویف (ٹال مٹول) سے کام لیا گیا تو معاملہ بگڑ جائے گا،بادشاہ کی کم اہلیت آپ خوب جانتے تھے،اب اگر اس کے حواری سست پڑتے تو ہو سکتا تھا کہ پھر

اسی دنیا دار علما کے گروہ کو دخل ہو جاتا جس نے اکبر کو ضلالت کے نقطۂ آخر تک پہنچا دیا تھا،جہانگیر کو اس منزل تک پہنچانا بہت آسان تھا اس لیے کہ باپ کا نمونہ سامنے تھا اور راہ ہموار تھی اس لیے آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:

‘‘ہر گاہ بادشاہاں را گرمیِ ترویج سنت سنیہ مصطفویہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام والتحیۃ نباشد ومقربان ایشاں نیز دراں باب خودرا معاف دارند وحیات چند روزہ را عزیز شمرند کار بر فقراء اہل اسلام بسیار تنگ وتیرہ خواہد بود انا للہ وانا الیہ راجعون،عزیزے می فرماید؎

آنچہ از من گم شدہ گر از سلیماں گم شدے

ہم سلیماں ہم پری ہم اہرمن بگریستی’’

ترجمہ: جبکہ بادشاہوں کو سنت سنیہ کی گرمی نہ ہو اور ان کے مقربین بھی اپنے آپ کو اس معاملہ میں معاف رکھیں اور چند روزہ زندگی کی قدر نہ کریں تو فقراے اہل اسلام پر معاملہ بہت تنگ وتاریک ہو جائے گا انا للہ وانا الیہ راجعون، ایک بزرگ فرماتے ہیں: جو کچھ ہم نے گم کیا ہے اگر سلیمان سے گم ہو جاتا تو سلیمان بھی پری بھی اہرمن بھی روتے۔

پھر اسلام کی بربادی اور اہل اسلام کی ذلت وخواری کی وجہ سے جو خود پر بیت رہی تھی اسے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اس شعر سے تعبیر فرماتے ہیں؎

صبّت علیَّ مصائب لوانّہا

صبّت علیٰ الایّام صرن لیالیا

یعنی جو مصیبتیں ہم پر پڑی ہیں اگر وہ دنوں پر پڑ جاتیں تو وہ رات ہو جاتے۔

پھر دور اکبری میں جو شعائر مٹ گئے تھے انھیں میں سے قاضیوں اور ججوں کا تقرر بھی تھا آپ اس کی نشاندہی فرماکر ایک صاحب کا نام بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر مناسب سمجھیں تو انھیں شہر سرہند کا قاضی مقرر فرمادیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ارکان سلطنت سے

سفارش کرکے علما وصلحا کو نوکریاں بھی دلوایا کرتے تھے،دراصل یہ بھی آپ کی وسعت نظری کا ایک نمونہ اور دین کی اہم خدمت تھی،آپ چاہتےتھے کہ نیک اور صالح علما کے ہاتھ میں احکام شرع کا نفاذ آجائے تاکہ دین کا صحیح کام زور دار پیمانے پر ہر جگہ ہونے لگے۔

آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ جہانگیر کے دور میں سب سے زبردست خطرہ رافضیوں سے تھا،یہ لوگ حکومت کی نوازشات سے بڑے بڑے منصبوں پر فائز تھے،یہ فتنہ کوئی کم جان لیوا نہ تھا اس لیے آپ جہاں اکبری دور کی فتنہ سامانیاں بیان فرماتے ہیں اور محو شدہ عقائد اور احکام شریعت کی ترویج واشاعت پر ابھارتے ہیں وہیں ان خاص خاص امرا کو عقائد اہل سنت کی ترغیب اور ان کی ترویج پر بھی زور دیتے ہیں اور اسی میں نجات کو منحصر فرماتے ہیں۔

یہ فرقۂ ضالہ(اہل تشییع یعنی روافض) بزعم خویش اہل بیت کی محبت کا داعی ہے،سادات کرام کا نسبی تعلق چونکہ اسی بزرگ خاندان سے ہے اسی لیے رافضیوں سے قربت کا امکان بہت زیادہ تھا اس کا ہم پہلے تفصیل سے بیان کر چکے ہیں،اسی خطرہ کی وجہ سے آپ سادات امرا کے نام عقائد اہل سنت پر تفصیلی مکتوبات تحریر فرماتے ہیں،اہل بیت کے ظاہری وباطنی فضائل اس طور پر بیان فرماتے ہیں کہ رافضیوں کی بھی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں،محبت اہل بیت اور ان کی خدمت اس طرح سپرد قلم کرتے ہیں کہ رافضی کیا کرے گا،آپ دکھاتے جاتے ہیں کہ ہم اہل سنت سے بڑھ کر کوئی واقعی محبت کیا کرے گا اور پھر رافضیوں کا رد بلیغ نہایت تفصیل سے فرماتے ہیں،پھر انھیں سادات امرا کو ان کے آباء کرام کا واسطہ دے دے کر عقائد اہل سنت، دین متین اور سنت سنیہ کی ترویج واشاعت پر ابھارتے ہیں۔

یہ باتیں آپ کو متعدد مکتوبات میں ملیں گی اس کا بیان آئندہ صفحات میں قد

قدرے تفصیل سے آئے گا چند اقتباس ملاحظہ فرمائیں،سید فرید کو مکتوب ۱۹۳ میں عقائد اہل سنت کا لازم ہو نا اور شیعوں کا رد کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘سیادت پناہا! مکرما! امروز اسلام بسیار غریب است جیتلے کہ امروز در تقویت آں صرف می کنند بکروڑہا می خرند تا کدام شاہباز را بایں دولت عظمیٰ مشرف سازند ترویج دین وتقویت ملت در ہمہ وقت از ہر کس بوقوع می آید زیبا است ورعنا،اما دریں وقت کہ غربت اسلام است از امثال شما جواں مردان اہل بیت زیبا تر ورعنا تر است کہ ایں دولت خانہ زاد خاندان بزرگ شما است از شما ذاتی است وا زدیگراں عرضی۔’’

ترجمہ:سیادت پناہ! مکرم آج اسلام بہت غریب ہے جو پیسہ کہ آج اس کی تقویت میں خرچ کریں کروڑوں کے ساتھ خریدیں گے،دیکھتے ہیں کون سے شہباز کو اس عظیم دولت سے مشرف کرتے ہیں!دین کی ترویج اور ملت کی تقویت ہر وقت جس سے بھی واقع ہو اچھی ہے اور خوب تر لیکن اس وقت میں کہ اسلام کی غربت ہے تمہارے جیسے اہل بیت کے جواں مردوں سے بہت اچھی اور خوب تر ہے یہ دولت تمہارے خاندان کی خانہ زاد ہے جو کہ تمہارے لیے ذاتی ہے اور دوسروں کے لیے عرضی۔

اس کے بعد یاد دلاتے ہیں کہ اگر چہ شہزادگی کی نسبت سرور کونین ﷺ سے آپ کو حاصل ہے لیکن حقیقت وراثت نبوی اس امر عظیم القدر کی تحصیل میں ہے،اس کے بعد آقا ﷺ کا یہ ارشاد بیان فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم ایسے زمانے میں موجود ہو کہ اوامر ونواہی سے اگر دسواں حصہ بھی چھوڑو گے تو ہلاک ہو جاؤگے اور تمہارے بعد ایسا گروہ آئے گا کہ اگر دسواں حصہ بھی ان سے وقوع میں آئے گا تو نجات پائیں گے پھر آپ کے الفاظ یہ ہیں:

‘‘ایں آن وقت است وایں گروہ آن گروہ؎

گوئے توفیق وسعادت درمیان افگندہ اند

کس بمیداں نمی آید سواراں را چہ شد’’

یعنی یہ وہی وقت ہے اور یہ گروہ وہی گروہ ہے،توفیق اور نیک بختی کی گیند درمیان میں ڈال دی ہے سواروں کو کیا ہوا کوئی میدان میں نہیں آرہا ہے۔

بادشاہوں اور امرا ووزرا کے دربار میں عموما کتب دینیہ پڑھی جاتی تھیں،مسائل واحکام دینیہ سیکھنے کا شوق تھا،آپ قدس سرہ کو برابر یہ فکر رہا کرتی تھی کہ کہیں فاسد مذاہب اور باطل عقائد کے حاملین مصنفین کی کتا بیں نہ پڑھی جائیں جو عقائد واعمال کے فساد وبربادی کا سبب بن جائیں،اس زمانے میں کتابیں اتنی عام نہ تھیں جتنی اس زمانے میں ہیں،اس لیے آپ اپنے مکتوبات میں نافع کتابوں کے نام لکھ لکھ کر بھیجا کرتے تھے اور فاسدکتابوں کا رد فرمایا کرتے تھے۔

آپ کی بلندیِ نظر کا یہ عالم تھا کہ آپ جانتے تھے کہ علم کلام میں تحریر شدہ کتب میں جس طرح مسائل زیر بحث آئے ہیں ہو سکتا ہے کہ ان سے سامع الجھ جائے اور مسئلے کی تحقیق وتشفی نہ ہو پائے اور مخالف کی کوئی بات جم جائے اسی لیے عقائد اہل سنت پر مشتمل آپ نے ان امرا کے نام تفصیلی مکتوبات تحریر فرمائے ہیں۔

چناں چہ خان جہاں جو کہ بادشاہ کے مقربین خاص میں سے تھےجہانگیر ان پر کافی اعتماد کرتا تھا اور بات مانتا تھا حضرت مجدد قدس سرہ کو ان کی اصلاح کا خاص دھیان تھا،دفتر دوم میں ۱۵ صفحات پر مشتمل عقائد واعمال سے متعلق نہایت جامع مکتوب تحریر فرمایا جس میں دین کے تمام اہم مسائل بیان فرمائے،اسی طرح دیگر امرا کو تحریر فرماتے آپ جانتے تھے کہ ان امرا کے لیے کس طرح کی کتابوں کی ضرورت ہے،شیخ فرید کو عقائد کے متعلق ضروری باتیں تحریر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘ان عقائد حقہ کی تصحیح کے واسطے امام اجل تورپشتی کا رسالہ بہت مناسب ہے اور

سمجھ کے قریب ہے،ضروری ہے کہ مجلس شریف میں(اس کا) ذکر ہوا ہوگا لیکن رسالۂ مذکورہ چونکہ استدلالات پر مبنی ہے اور بہت طول وبسط رکھتا ہے اگر ایسا رسالہ ہو جو کہ خالص مسائل کو متضمن ہو بہتر اور زیادہ مناسب ہوگا،دریں اثنا حقیر کے دل میں خیال آیا کہ اس باب میں رسالہ لکھے جو کہ عقائد اہل سنت وجماعت پر مشتمل اور مسائل اخذ کرنے میں آسان ہو اگر میسر ہوا تو لکھ کر خدمت میں بھیجے گا۔’’

حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر کی وسعت کو آپ دیکھ رہے ہیں بیک وقت اس مرد حق آگاہ کو کیا کیا فکر تھی اورکیا کیا کرنا تھا آپ اس سے مکتوبات کی اہمیت کا اندازہ کر سکتے ہیں،علما کے لیے کتنا درس ہے کتنی عبرت ہے،آپ نے تحریر کا یہ ڈھنگ کس مصلحت سے اپنایا،آپ چاہتے تو موٹی موٹی کتا بیں تصنیف فرما سکتے تھے،دلائل وبراہین کے انبار لگا سکتے تھے مگر چونکہ دین کی تبلیغ مقصود تھی اور حکمت کے ساتھ مخاطب کے ذہن میں بات کو اتاردینا تھا،اسی لیے اختصار کے ساتھ ہر ضروری بات کو کہہ جاتے ہیں،لب ولہجہ کی درستگی اور گفتگو کی متانت وسنجیدگی لفظ لفظ سے پھوٹی پڑتی ہے،اس طریقے سے آپ چند اوراق میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں جس کے لیے بڑی بڑی کتا بیں درکار ہوتیں۔

چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی آپ کو کتنی نظر حاصل تھی جو کہ غایت درجہ دینی لگن کا نتیجہ ہے،آپ دیکھتے کہ فلاں امیر فلاں زبان جانتا ہے تو اس کو اسی زبان کی کتاب کی نشاندہی فرماتے،چناں چہ شیخ فرید کو ٹصحیح عقائد کے بعد کون علوم لازم ہیں ان کو بیان کرنے کے بعد ان کے مقتضیٰ پر عمل ضروری قرار دینے کے بعد فرماتے ہیں:‘‘بعضی از طلبہ فرمایند کہ از کتاب فقہ کہ بعبارت فارسی بودہ باشد در مجلس خواندہ می باشند مثل مجموعہ خانی وعمدۃ الاسلام۔’’

اسلام وکفر دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں،دونوں میں کسی بھی مرحلہ میں کسی

بھی قسم کا اتحاد نہیں ہو سکتا ہے،اسلام واہل اسلام کی عزت کفر واہل کفر کی ذلت ہے،اور کفر واہل کفر کی عزت میں اسلام اور اہل اسلام کی ذلت ہے،حضرت مجد د قدس سرہ جیسا اسلام کا شیدائی اور مسلمانوں کا ہمدرد کس طرح کفر اور اہل کفر کے غلبہ اور عزت کو برداشت کر تا،اسلام اور اہل اسلام کو اکبری دور میں جو کچھ نقصان پہنچا وہ انھیں منہ لگانے ہی سے پہنچا ہے اسی لیے آپ جگہ جگہ ان امرا کو کفر واہل کفر کی خواری وذلت کی رغبت دلاتے ہیں،شیخ فرید کو مکتوب ۱۹۳ میں فرماتے ہیں:

‘‘عزت اسلام واہل آن در خواریِ کفر واہل کفر مقصود از اخذ جزیہ خواریِ کفار است واہانت ایشاں ہر قدر کہ اہل کفر در عزت باشند ذلت در اسلام ہماں قدر است ایں سر رشتہ را نیک باید نگاہ داشت واکثر مردم ایں سر رشتہ را گم کردہ اند واز شومیِ آں دین را برباد دادہ۔’’

ترجمہ:اسلام اور اہل اسلام کی عزت کفر اور اہل کفر کی خواری میں ہے،جزیہ لینے سے مقصود کفار کو خوار کرنا اور ان کی توہین کرنا ہے،جس قدر کہ اہل کفر کی عزت ہو گی اسی قدر اسلام میں ذلت ہے،اس سر رشتہ کو اچھی طرح دھیان میں رکھنا چاہیے ،جبکہ اکثر لوگوں نے اس سر رشتہ کو گم کر رکھا ہے اور بدبختی سے دین کو برباد کردیا ہے۔

پھر کفار کے ساتھ جہاد اور ان پر شدت وغلظت بایں طور بیان فرماتے ہیں:

‘‘قال اللہ سبحانہ وتعالیٰ یٰآ یّھا النبیّ جاہدإ الکفار والمنافقین واغلظ علیہم،جہاد با کفار وغلظت بر ایشاں از ضروریات دین است۔’’

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: اے نبی! کفار ومنافقین سے جہاد کرو،کافروں کے ساتھ جہاد اور ان پر سختی ضروریات دین میں سے ہے۔

جہانگیر کی اصلاح وتربیت کا کام چونکہ کافی حد تک ہو چکا تھا،اور کفر اہل کفر سے

قلبی لگاؤ بالکل ختم ہو چکا تھا یہ اسلام کے دردمندوں کے زخموں پر بہت بڑا مرہم تھا،اب وہ چاہتے تھے کہ جب بادشاہ پکا مسلمان ہے تو اس کی حکومت میں کفری رسوم وعادات کیوں جاری ہیں؟ ہاں! جو کفری رسوم وعادات پھیلی ہوئی تھیں ان کے بارے میں ہو سکتا ہے کہ بادشاہ کو خبر نہ ہو،نیز حسن ظن کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ اسلامی سلطنت میں کفریہ رسوم کا جاری ہونا عدم علم کی بنا پر ہو سکتا ہے،لہٰذا آپ مسلمانوں پر لازم قرار دیتے ہیں کہ بادشاہ کو ان رسوم سے مطلع کریں کیونکہ ان کا رفع اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ بادشاہ کو علم ہو،اب مسئلہ یہ تھا کہ بادشاہ تک ہر ایک کی رسائی کیسے ہو سکتی ہے لہٰذا اس کا طریقہ بتاتے ہیں کہ وہ علماے دیندار ہی کو کم از کم مطلع کردیں،اور کفریہ رسوم کو مٹانے کی کوشش آپ صرف بادشاہ ہی تک محدود نہیں رکھتے ہیں بلکہ تمام عوام وخواص،عالم وغیر عالم پر لازمی قرار دیتے ہو ئے فرماتے ہیں:

‘‘بقایاے رسوم کفر کہ در قرن سابق پیدا شدہ بود دریں وقت کہ بادشاہ اسلام را آں توجہ باہل کفر نماندہ است بسیار گراں است،بر مسلماناں لازم است کہ بادشاہ اسلام را از زشتیِ رسوم آں بد کیشاں اعلام بخشند ودر دفع آن کوشند،شاید بقایاے اینہا مبنی باشدبر عدم علم بادشاہ بزشتیِ آنہا اگر فی الجملہ گنجائش وقت یابند بعضے از علماے اہل اسلام را اعلام بخشند کہ آمدہ بر شناعت رسوم اہل کفر۔’’

ترجمہ: کفر کی بقایا رسمیں کہ قرن سابق(دور اکبری) میں پیدا ہو گئی تھیں اس وقت میں کہ بادشاہ اسلام کو اہل کفر کی طرف توجہ نہیں رہی ہے بہت گراں ہے،مسلمانوں پر لازم ہے کہ بادشاہ اسلام کو ان بد کیشوں کی رسموں کی برائی سے مطلع فرمائیں اور ان کے ختم کرنے کی کوشش کریں ہو سکتا ہے کہ ان کافروں کی بقایا رسوم کی جانکاری بادشاہ کو نہ ہو،اگر کچھ وقت کی گنجائش پائیں تو بعض علماے اسلام کو اطلاع دیں کہ وہ اہل کفر کے رسوم کی برائی کی خبر دیں۔

آپ قدس سرہ کو ہر حال میں کفر واہل کفر کی ذلت وخواری مطلوب تھی،آپ چاہتے تھے کہ ان کا شیرازہ منتشر ہو،ان کی طاقت منتشر ہو کیونکہ اس میں ہی اسلام اور اہل اسلام کی عزت وطاقت ہے،ان ہی ایام میں گوبند مارا گیا تھا اور اس کے حواری بھی فنا کے گھاٹ اترے تھے،آپ اس فعل کی مدح وستائش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘دریں وقت کشتن کافر لعین گوبند و آل او بسیار خوب واقع شد،وباعث شکست عظیم بر ہنود مردود گشت بہر نیت کہ کشتہ باشند وبہر غرضی کہ ہلاک کردہ خواریِ کفار خود نقد وقت اہل اسلام است،ایں فقیر پیش ازانکہ ایں کافر را بکشند در خواب دیدہ بود کہ بادشاہ وقت کلۂ سر شرک را شکستہ است والحق کہ آں گبر رئیس اہل شرک بود وامام اہل کفر حذلہم اللہ، و آں سرور دین ودنیا علیہ الصلاۃ والسلام در بعض ادعیہ خود اہل شرک را بایں عبارت نفریں فرمودہ اند اللہم شتت شملہم وفرق جمعہم وخرب بنیانہم وخذہم اخذ عزیز مقتدر۔’’

ترجمہ: اس وقت کافر لعین گوبند اور اس کی اولاد کا مارا جانا بہت خوب واقع ہوا اور ہنود مردود کی بڑی شکست ہوئی،خواہ کسی نیت اور کسی غرض سے اس کو قتل کیا ہو،بہر حال کفار کی خواری خود اہل اسلام کے لیے نقد وقت ہے،اس فقیر نے اس کافر کے قتل سے پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ بادشاہ وقت نے شرک کے سر کی کھوپڑی کو توڑا ہے،صحیح یہ ہے کہ وہ کافر اہل شرک کا سردار اور اہل کفر کا پیشوا تھا خذلہم اللہ سبحانہ،اور سرور دین ودنیا ﷺ نے اپنی بعض دعاؤں میں اہل شرک کو اس عبارت کے ساتھ لعنت ونفریں فرمائی ہے: اے اللہ! تو ان کی جمعیت کو پرا گندہ فرما،اور ان کی جماعت میں تفرقہ ڈال اور ان کے گھروں کو ویران کر اور ان کو ایسا پکڑ جیسے غالب طاقتور پکڑتا ہے!

کفر واہل کفر اور کافروں کے معبودوں کا بطلان بیان کرتے ہوئے مکتوب ۶۷ ج ۲ میں خان جہاں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘تا اظہار حقیقت اسلام نمودہ آید وبیان بطلان وشناعت کفر وکافری می کردہ شود،کفر خود ظاہر البطلان ست ہیچ عاقلی آں را نہ پسندد،در بطلان آں را بے تحاشی ظاہر بایدساخت و آلہہ باطلۂ ایشاں را بے توقف نفی باید کرد، الٰہ برحق جل سلطانہ بے تردد وبے شبہ خالق سمٰوٰت است۔’’

ترجمہ:تاکہ اسلام کی حقیقت ظاہر کی جا سکے اور کفر وکافروں کی شناعت اور بطلان کو بیان کیا جا سکے،کفر خود ظاہر البطلان ہے کوئی عقلمند اسے پسند نہیں کرے گا،اس کے بطلان کو بے تحاشہ ظاہر کرنا چاہیے اور ان کے باطل خداؤں کی بے توقف نفی کرنا چاہیے بلا شک وشبہ معبود برحق جل سلطانہ آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔

اس کے بعد آپ نے تفصیل سے بتوں اور معبودان باطلہ کی بے چارگی اور درماندگی بیان فرمائی،فرماتے ہیں:‘‘کبھی سنا گیا ہے کہ کافروں کے باطل معبودوں نے مچھر کو بھی پیدا کیا ہو اگر چہ سب اکٹھے ہو جائیں اور اگر مچھر انھیں کاٹ لے اور تکلیف پہنچائے تو اپنی حفاظت نہیں کر پاتے ہیں کجا یہ کہ دوسروں کی حفاظت کریں،اہل کفر گویا اس امر(اپنے معبودوں کی درماندگی وعاجزی) کی قباحت سے واقف ہو گئے اسی لیے یہ کہتے ہیں کہ یہ معبود حق سبحانی کی بارگاہ میں ہمارے سفارشی ہو ں گے اور ہمیں اللہ کے نزدیک کردیں گے،بے عقل ہیں انھیں کہاں سے معلوم ہو گیا کہ ان جمادات کو سفارش کی گنجائش ہوگی اور حق سبحانہ وتعالیٰ شرکاء کی سفارش کہ در حقیقت دشمنان دین ہیں اپنے دشمنوں کے پجاریوں کے حق میں قبول فرمائے گا!پھر ایک مثال بیان فرماکے خوب خوب اس کا رد فرمایا۔’’

حضرت مجدد قدس سرہ کی پوری کوشش یہ تھی کہ یہ امرا و وزرا اور عمائدین

سب کے سب سچے مسلمان، پکے سنی اور نیک انسان بن جائیں،بادشاہ کے یہی لوگ قریب تھے،آپ جانتے تھے کہ اگر یہ سدھر گیے تو بادشاہ سدھر جائے گا،نیز ملک ان ہی کے حوالہ تھا جب یہ راہ مستقیم پر گامزن ہوں گے تو پوری عوام پر ان کے اثرات مرتب ہوں گے،اسی لیے ان پر بہت خوب توجہ فرمائی اور انھی بادشاہ کی تربیت کے لیے بھی ابھارتے تھے،نورجہاں اور دیگر شیعی امرا کی وجہ سے بادشاہ کے شیعی عقائد کے حامل ہوجانے کا بہت قوی امکان تھا،خان جہاں کو چونکہ غایت قرب حاصل تھا اس لیے آپ نے ایک طویل مکتوب دین کے مہتم بالشان مسائل پر مشتمل تحریر فرمایا پھر آخر میں انھیں خود یاد دلایا کہ تم کیا کر سکتے ہو،اور اللہ تعالیٰ کے تم پر کیا احسانات ہیں؟ فرماتے ہیں:

‘‘دولتے کہ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ شما را بہ آں ممتاز ساختہ است ومردم ازاں دولت غافل اند بلکہ نزدیک است کہ شما ہم آں را در نیابید،آنست کہ بادشاہ وقت کہ بہفت پشت مسلمان آمدہ است واز اہل سنت است وحنفی مذہب ہر چند چند سال است کہ دریں اوان کہ اوان قرب قیامت است وبعد عہد نبوت،بعضی از طلبۂ علوم بشومیِ طمع کہ ناشی از خبث باطن است بامرا وسلاطین تقرب جستہ براں خوشامد ایشاں در آمدند ودر دین متین تشکیکات نمودند وشبہا پیدا کردند وسادہ لوحان را از راہ بردند۔’’

ترجمہ:جس دولت سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کو ممتاز کیا ہے دوسرے لوگ اس سے غافل ہیں بلکہ بہت ممکن ہے کہ آپ بھی اس کو نہ جانتے ہوں وہ یہ ہے کہ بادشاہ وقت سات پشتوں سے مسلمان ہے اور اہل سنت سے ہے اور حنفی مذہب ہے،اگر چہ چند سال ہوئے کہ اس وقت میں کہ قرب قیامت اور زمانۂ نبوت سے دوری کا وقت ہے بعض طالبان علوم طمع کی نحوست کی وجہ سے جو کہ باطنی خباثت سے پیدا ہے امرا وسلاطین سے قربت پیدا کرکے ان کی خوشامد کی راہ سے آئے اور دین متین میں

میں شکوک ڈالے اور شبہات پیدا کیے اور سادہ لوحوں کا راستہ ماردیا۔

پھر فرماتے ہیں ایسا عظیم الشان بادشاہ چونکہ اچھی طرح آپ کی بات سنتا اور قبول کرتا ہے،کیسی دولت ہے کہ صراحتاً یا اشارتاً کلمۂ حق یعنی کلمۂ اسلام کہ اہل سنت وجماعت شکراللہ تعالیٰ سعیہم کے عقائد کے موافق بادشاہ کے گوش گذار کریں،پھر یوں تاکید کرتے ہیں:

‘‘ہر قدر کہ گنجائش دانند سخن اہل حق را عرضہ دارید بلکہ ہموارہ مترصد ومنتظر باشید کہ تقریبے پیدا شود سخن مذہب وملت درمیان آید’’

یعنی جس قدر گنجائش جانیں اہل حق کی بات پیش کریں بلکہ ہمیشہ منتظر ومتلاشی رہیں کہ جیسے موقع ملے مذہب وملت کی بات درمیان میں آ جائے۔

پھر مکتوب شریف کے آخر میں بادشاہ کی اصلاح وتربیت پر یوں زور دیتے ہیں:

‘‘معلوم ایشاں است کہ سلطان کالروح است وسائران کالجسد اگر روح صالح است بدن صالح وگر فاسد است بدن فاسد ست پس در اصلاح سلطان کو شیدن در اصلاح جمیع بنی آدم کو شیدن ست واصلاح در اظہار کلمۂ اسلام است بہر روش کہ گنجائش وقت باشد۔’’

ترجمہ: آپ کو معلوم ہے کہ بادشاہ روح کے مانند ہے اور باقی انسام جسم کی طرح اگر روح درست ہے بدن درست ہے اور اگر روح خراب ہے بدن خراب،پس بادشاہ کی اصلاح میں کوشش کرنا تمام بنی آدم کی اصلاح میں کوشش کرنا ہے،اور اصلاح کلمۂ اسلام کےظاہر کرنے میں ہے وقت میں جیسی گنجائش ہو۔

پھر معتقدات اہل سنت وجماعت کے لیے بادشاہ کے سلسلے میں یوں زور دیتے ہیں:

‘‘واز گذشت کلمۂ اسلام از معتقدات اہل سنت وجماعت نیز گاہ وبیگاہ گوش زد باید ساخت ورد مذہب مخالف باید نمود اگر ایں دولت میسر گردد وراثت عظمیٰ از انبیا علیہم

الصلوات والتسلیمات بدست آید،شمارا ایں دولت مفت بدست آمدہ است قدر آں را بدانند زیادہ چہ مبالغہ نماید ہر چند مبالغہ وابرام ایں جا مستحسن است۔’’

ترجمہ:اور اہل سنت وجماعت کے عقائد سے کلمۂ اسلام کو وقت بے وقت گوش گزار کرنا چاہیے اگر یہ دولت میسر ہو جائے تو انبیا علیہم الصلوات والتسلیمات کی وراثت عظمیٰ ہاتھ آئے گی اور تم کو یہ دولت مفت میں ہاتھ آتی ہے،اس کی قدر جانیں زیادہ کیا مبالغہ کرے ہر چند اس مقام پر مبالغہ واصرار اچھا ہے۔

پھر مکتوب ۵۴ دفتر سوم میں انھیں آگاہ فرماتے ہیں کہ جو طاقت وقوت تمھیں حاصل ہے اگر اس کو دینی خدمات اور شریعت مصطفویہ علیٰ مصدرہا الصلاۃ والسلام والتحیۃ کے بجا لانے کے لیے استعمال کریں تو یہ انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کا کام ہوگا،ہم جیسے فقیر اگر سالوں جان کھپائیں تب بھی تمہاری گرد کو بھی نھیں پہنچ سکتے ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ ان بڑے بڑے امرا وعمائدین کے جاہ ومنصب کے سامنے کبھی فقر ودرویشی اور تصوف وسلوک کی تحقیر نہیں ہونے دی بلکہ ہر موڑ پر اس کی عظمت وبرتری ان کو بتا تے ہیں،اس سے کئی فائدے تھے،ایک تو تصوف وسلوک اور روحانیت کو چار چاند لگے اور صوفیہ کرام کا سر بلند رہا کہ ہمیں جو دولت خالق کائنات جل وعلا نے عطا فرمائی ہے اس کے مقابل ان دنیوی کامیابیوں اور ظاہری شان وشوکت کی کوئی حیثیت نہیں،لہٰذا اس سے روحانیت کے حامل افراد کے دل دنیوی جاہ وحشمت کی طرف مائل ہونے سے بچ گئے۔

دوم یہ کہ ان اغنیا کو ہر وقت اس چیز کا احساس رہتا کہ ہم خواہ کتنے ہی بڑے منصب کے حامل سہی لیکن ہم اہل اللہ کے محتاج ہیں،ان کے کرم اور سہارے کے بغیر ہماری کشتی ساحل پر نہیں لگ سکتی ہے اس سے ان امرا واغنیا کا فقرا کے ساتھ