مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیحضرت میر محمد نعمان صاحب

باب ۳۶ از ۵۷صفحات ۴۸۹–۵۰۱

حضرت میر محمد نعمان صاحب

اپنے خلیفہ حضرت میر محمد نعمان قدس سرہ کو حضرت مجدد قدس سرہ نے خلافت دے کر خدمت واحیاے سنت کے لیے برہانپور بھیجا،تیسری مرتبہ حضرت میر کو اس دیار میں کتنی بڑی کامیابی ملی اور کس قدر لوگوں کا رجوع ہوا،مجددی کمالات سے کیسے سینے روشن ہوئے،علامہ بدرالدین سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

‘‘حضرت مجدد کے حکم کی تعمیل میں برہانپور گئے وہاں آپ کو مقبولیت عظیم حاصل ہوئی اور اس قدر آپ کے تصرف اور صحبت کا اثر ہوا کہ اس کی تفصیل لکھنے کے لیے ایک علیٰحدہ کتاب کی ضرورت ہوگی فقیر وامیر اور اہل غفلت یا اہل حضور پر آپ کی صحبت وتصرف کے اثر سے اس قدر جذب ومستی کا غلبہ ہوا کہ وہ لوگ اپنے کپڑے پھاڑ دیتے تھے اور مرغ بسمل کی طرح زمین پر تڑپتے تھے اور کبھی کبھی تیس چالیس آدمی یکبارگی ہوش کھو بیٹھتے اور زمین پر گر پڑتے بلکہ دیکھنے والوں میں سے بھی صوفیہ کے منکر (غالباً) بھی معتقدوں کی طرح مدہوشی اور بے خودی سے زمین پر لوٹتے تھے اور تڑپتے تھے میر صاحب کے تصرفات اس حد تک ہوئے کہ دوسرے مشائخ کے مرید

بھی جو اس شہر میں تھے بے اختیار ہو کر ان کے حلقۂ ارادت میں داخل ہو گئے اور بہت سے فاسق بھی اصلاح پذیر ہو گئے اور بہت سے ہوش والے بے خودی اور جذب سے سرشار ہو گئے’’کچھ آگے چل کر فرماتے ہیں:

‘‘چونکہ میر صاحب کو حضرت مجدد قدس سرہ کے ساتھ آپ کے اصحاب میں سب سے زیادہ عشق ومحبت کا امتیاز حاصل تھا اس لیے ان کی شہرت ومقبولیت نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ربع مسکون میں سورج کی طرح ہو گئی تھی،مریدوں کی کثرت اس درجہ تھی کہ بعض دشمنوں نے سلطان وقت(جہانگیر) تک یہ بات پہنچائی کہ آپ کے ملک کی سرحد برہانپور کے شہر میں ایک درویش ہے جو خود کو حضرت میر کہلاتا ہے اور اس کے مرید ایک لاکھ ازبکی سوار ہیں’’(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے حضرات القدس جلد دوم،حالات حضرت میر)

حضرت شیخ بدیع الدین:

حضرت شیخ بدیع الدین سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کو آگرہ بھیجا گیا مولانا نور بخش فرماتے ہیں:

‘‘شیخ کو سلطان ہند جہانگیر کے لشکر کی خلافت دے کر بغرض اشاعت طریقہ آگرہ میں بھیجا جہاں اس سلسلہ عالیہ کا کوئی خلیفہ نہ تھا اور اسے تاکید کردی کہ مستقل مزاج رہنا اور ہماری اجازت کے بغیر وہاں سے نہ آنا،چناں چہ شیخ صاحب لشکر سلطانی میں تشریف لے گئے اور وہاں ان کو قبولیت عامہ نصیب ہوئی،ارکان سلطنت میں سے خانخاناں،اعظم خاں،خان جہاں لودھی،سکندر خاں،سید صدر جہاں،اسلام خاں اور مہابت خاں وغیرہ داخل سلسلہ ہو گئے اور مجلس حلقہ گرم ہونے لگی۔’’

یہ بات ذہن نشین رہے کہ ان بزرگوں کی بیعت وارادت آج کے پیروں کی طرح نہیں تھی جو کہ صرف حلقہ بڑھانے کے چکر میں رہتے ہیں ان کی اصلاح سے کوئی

غرض نہیں رکھتے ہیں، وہاں ظاہری پابندیاں تو لازم تھیں اس کے ساتھ ساتھ اصلاح قلب کی تمام تر کوششیں اپنائی جاتی تھیں،توجہات کے ذریعہ قلوب واذہان کی صفائی کی جاتی تھی اور عام طور پر ہر مرید ایک نیک مسلمان ہو جاتا تھا،بیعت اتباع سنت پیدا کرنے کا اہم ذریعہ تھی اور عوام کی اصلاح کا اس سے پختہ کوئی اور طریقۂ کار نہیں ہو سکتا تھا۔

یہ تھی وہ منظم جد وجہد اور کوشش جو احیاے سنت اور اماتت بدعت کے لیے کی گئی،جن افراد کو حضرت مجدد قدس سرہ نے سر زمین سرہند پر بیٹھ کر تیار کیا تھا انھوں نے آپ کی حیات اور بعد حیات آپ کے تجدیدی فیضان کو کس طرح ہر ہر ملک،ہر ہر صوبے اور قریہ وشہر میں پھیلایا اور عام کیا اس کا مختصر خاکہ آپ نے سماعت فرمایا،تاریخ عالم میں کہیں اس کی مثال نہیں مل سکتی ہے کہ کسی نبی کے دیوانے اور شیدائی نے اپنے نبی کے کمالات اور ان کے بیان کردہ احکام وشرائع کو اس طرح منظم طور پر تن تنہا عام کردیا ہو؎

ایں سعادت بزور بازو نیست

تجدید شریعت:

حضرت مجددقدس سرہ کا ظہور اور وجود جس بھیا نک دورمیں ہوا ہے وہ اسے آپ قدرے تفصیل سے پڑھ چکے ہیں،ایسے بھیا نک دور میں تجدید کا کام انجام دینے کے لیے خدا وند قدوس نے آپ کو طا ہری و با طنی اوصاف و خصا ئل کے ساتھ آراستہ کر کے اس کام کے لیے مقرر فرما یا یہ بھی آپ پڑھ چکے،حضرت مجدد قدس سرہ نے تن تنہا ایسے ہو لنا ک وقت میں تجدید کا فریضہ نہا یت کا میاب طریقے سے انجام دیا اسے بھی آپ نے پڑھا،اب مختلف شعبوں پر آپ کے تجدیدی کا رنا موں کی ایک جھلک ملا حظہ فرما ئیں۔

اس دور کی تا ریخ پر آپ ایک با ر پھر سے نظر ڈا لیں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ عقائد حقہ خاص کر الٰہیات و نبوات کے کن اہم اور بنیا دی عقائد کو متزلزل کیا جا رہا تھا،ان حملہ آوروں میں اکبر کے حواری علماے سو بھی تھے اور روافض بھی نیز صوفیہ خام بھی،فلسفہ نے تحقیقات و تدقیقات کے نام سے شکوک و شبہات کے دروازے الگ کھول رکھے تھے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کے سامنے چاروں طرف دشمنان دین نے جنگ کے محاذ کھول رکھے تھے،آپ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ حالات کا جا ئزہ لیا اور تمام بنیادی عقائد کو دلوں میں اتارنے اور اذعان و ایقان کی دولت عطا کر نے کا ایک انو کھا اور نرالا طریقہ نکا لا،آپ نے عقائد کی ترویج و اشاعت میں ایک نرالا ڈھنگ یہ نکا لا کہ عام متکلمین کی روش سے ہٹ کر عقائد حقہ کو نہایت معقول انداز میں پختہ دلائل کے ساتھ لو گوں کے سام نے پیش کر نا شروع کر دیا،قاری و نا ظر کو فلسفیات کی تگ و دو میں الجھنے سے بچا یا،قرآن و سنت سے اثبات پھر کشف و الہام صریح سے تا ئید کے ساتھ عقائد کہیں مختصر تو کہیں طویل مکتوبات کے ذریعہ بھیجے،انداز تحریر و تقریراتنا نرالا کہ بات دل میں اترتی چلی جا ئے اور قاری کو قدم ودم پر سکون و اطمینان کا سامان مہیا ہو تا رہے۔

آپ نے شریعت کے عقائد واعمال کو کس قدر رواج دیا یہ آپ پڑھ چکے،بیعت و ارادت ایسا پر کشش اور مضبوط را ستہ ہے جس کے ذریعہ وابستہ ہو نے والا فرد ہر طرح سے اپنے رہبر کے فرمان پر عمل کر تا رہتا ہے آپ نے وہی اختیار کیا اور اپنی انو کھی شخصیت سے لوگوں کو متاثر کیا پروردگار نے لو گوں کے دلوں میں آپ کی محبت ڈالی اور فوج در فوج لوگ آپ کی طرف آنا شروع ہو ئے،آپ نے آنے والوں کے ظاہر وباطن کی اصلاح کر کے عقائد حقہ ،اعمال صالحہ اور احیاے سنت کے لیے انھیں ملک اور بیرون ملک بھیجنا شروع کیا اس طرح رفتہ رفتہ اصلاح و تجدید کا کام ہر ملک میں اور

خاص کر ہندوستان میں بڑی تیزی کے ساتھ شروع ہو گیا۔

ہندوستان میں آپ خود مو جود تھے،بیرون ہند اپنے خلفا کو بھیجا جنھوں نے اپنے عمل و کردار اور تصوف و روحانیت کے ذریعہ عقائد کے سلسلے میں اذعان و یقین کے ساتھ عقائد کی ترویج و اشاعت کی،یہ وہ کا میاب طریقہ تھا جسے نوک قلم بیان نہیں کر سکتی ہے،جس قدر کثرت سے یہ کا م اس طریقہ سے ہوا اور مسلسل کئی صدی تک رہا یہ اپنی مثال آپ ہے،ہر قسم کی تجدید میں آپ کا یہ خاص عنصر ہے کہ آپ نےاسے منظم طریقے سے رواج دیا اور لو گوں کو عامل بنا یا۔

دوم آپ نے ان تمام فرقوں کا مقابلہ تحریر کے ذریعہ بھی کیا جو اسلام و سنت اور مذہب اہل سنت کو مٹانا چا ہتے تھے ،ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ یہا ں بھی آپ نے عام متکلمین سے الگ تھلگ راستہ اختیار کیا،جنھوں نے آپ کے مکتوبات کا مطا لعہ کیا ہے وہ جا نتے ہیں کہ آپ اپنی با ت کو اس انداز اور لب و لہجہ میں کہتے ہیں کہ ذی علم ہو تو اسے بھی لطف آتا ہے اور عام آدمی ہو تو وہ بھی بہ آسانی سمجھ لیتا ہے۔

آپ دلائل و براہین اور قیل و قال کی نیر نگیوں میں قاری کو الجھا تے نہیں ہیں،فلسفیات کی تشکیکات سامنے نہیں لا تے ہیں،اگر کہیں مخالفین کے با طل عقائد بھی ذکر کرتے ہیں تو اس طرح کہ عام پڑھنے والا بھی ان کی قباحت و بطلان محسوس کر لیتا ہے۔

اس وقت جتنے بھی گروہ اور فرقے اسلام و سنت کو نشانہ بنا ئے ہو ئے تھے آپ نے سبھی کو ننگا کردیا،آپ نے تمام اہم اہم مسائل پر نہا یت تفصیل سے قلم اٹھایا اور بنیادی امور پر اس قدر تو جہ منعطف فرمائی کی بیان سے با ہر ہے،عقائد کے سلسلے میں اس دور میں سب سے زیادہ حملے الٰہیات پر تھے پھر نبوات اور صحابۂ کرام پر،آپ نے ان موضوعات پر اس ودر لکھا ہے کہ سب کو جمع کردیا جا ئے تو ہر موضوع پر ایک

کتاب جمع ہو جا ئے،آپ کا نشانہ حکومت و اہل حکومت بھی تھے اور عوام و خواص بھی یعنی علما و صوفیہ بھی۔

آپ ہر میدان کے غازی تھے،علما کی صف میں بڑے عالم،صوفیا میں بہت بڑے صوفی،عقل و خرد میں تو اتنا بلند مقام تھا کہ بڑے بڑے سرنگوں تھے،صبح و شام ذکر و فکر اور مراقبات کے ذریعہ اصلاح نفوس اور تزکیہ و تصفیہ کا کام،درس و تدریس اور تحریر و تقریر کے ذریعہ عقائد و اعمال اور دیگر کمالات کا احقاق اور بیعت و ارادت کے ذریعہ اشاعت و ترویج الغرض ایک عجیب منظر تھا،اب آپ ذرا تفصیل سے پڑھ لیں کہ آپ نے یہ چو مکھی لڑائی کیسے لڑی ہے اور حق کا پرچم کیسے لہرا یا اور با طل کا منہ کیسے کا لا کیا ؟

آپ حالات پڑھ چکے ہیں کہ الٰہیات و نبوات پر فلسفہ کی طرف سے یو رش تھی،صوفیہ خام نے بھی اس سلسلہ میں بڑی کو تا ہیاں برتی تھیں،حضرت مجدد قدس سرہ کے کلام سے آپ پڑھ چکے کہ نبوت کو مشکوک کیا جا رہا تھا،حضور سرور کو نینﷺ کے مبا رک نا موں پہ پا بندیا ں عائد ہو رہی تھیں،کھلے دربار میں ہنود اسلام اور مسلمانوں کے لیے دل آزار با تیں کر تے حتیٰ کہ سرور کون و مکاں ﷺ کی تو ہین کر تے،مسجدیں ڈھاتے،کفر و کا فروں کو کس قدر چھوٹ اور دلیری حاصل ہو گئی تھی یہ ہر وہ شخص جا نتا ہے جس نے اس دور کو پڑھا ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے مذکورہ با لا رعقائد با طلہ کو افراد صالح کے ذریعہ جہاں دفن کیا وہیں تحریر و تقریر کے ذریعہ بھی تمام غلط عقائد و اعمال کا پردہ فاش کیا۔

آپ نے ایک طرف امرا سے روابط پیدا کیے اور انھیں متاثر کیا حتیٰ کہ اکثر تو حلقۂ ارادت میں داخل ہو گیے تھے یا قریب قریب سب ہی آپ کی بلندو بالا شخصیت و عظمت کے معتقد تھے۔حکومت کی لگام امرا کے ہاتھ میں تھی،آپ نے کتنی دلیری

کے ساتھ کفر اور کافروں کے خلاف آواز اٹھائی یہ آپ پڑھیں گے،ان امرا کو ہر وقت ہر منا سب تدبیر سے اسلام و سنت کی اشا عت کے لیے جذبات سے سر شار فرما یا کرتے تھے۔

دو سری طرف روافض کے اثر و رسوخ سے جہا نگیری دور میں مذہب اہل سنت کو سخت خطرات لا حق ہو گیے تھے،الغرض امرا و وزرا کو آپ نے اس طرح سدھا را اور ان سے حکومت کا رخ صحیح اسلامی خطوط پر قائم کر نے کا کام لیا اور عوامی سطح پر آپ نے اصلاح عقائد و اعمال کے لیے آپ نے مبلغوں اور دا عیوں کی وہ بڑی جماعر تیا ر کی جو علوم ظاہری و با طنی دو نوں کے حامل تھے،اس طرح آپ نے دو طرفہ کا م شروع کیا اور ان تمام رہبروں کی رہبری کی پول کھول دی جودین کے نام پر اپنے پیٹ بھر رہے تھے۔

شریعت کے ہر بنیا دی اور اہم مسئلے پر آپ نے تو جہ دی اور ہر طرح سے شریعت کی تا ئید و توثیق کی اور تمام کا میا بیوں کا مدار شریعت پر عمل قرار دیا۔

اب ہم چند اقتبا سات سپرد قلم کرتے ہیں جن سے آپ دیکھیں گے کہ اس مرد مجا ہد نے کیسی جنگ لڑی ہے اور کس طرح ہر میدان میں با طل کو پچھاڑا ہے؟

امراء کے نام خطوط:

(۱)امرا واراکین میں سب سے زیادہ شیخ فرید،خانخاناں کے نام مکتوبات ہیں،اگرچہ جہانگیری دربار کے تمامی امرا کے نام آپ نے خطوط بھیجے ہیں اور موقع ومحل کے لحاظ سے انھیں خوب استعمال کیا ہے،جس وقت جہانگیر کی تخت نشینی ہوئی آپ نے دربار کے ایک امیر لالا بیگ کو ابھارا کہ ابھی نیا نیا معاملہ ہےآغاز ہی سے اگر بادشاہ سدھر گیا تو کتنا بڑا کام ہو جائے گا،اسلام کی زبوں حالی بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘در ابتداے پادشاہت اگر مسلمانی رواج یافت ومسلماناں اعتبار پیدا کردند فبہا واگر عیاذا باللہ سبحانہ در توقف افتاد کار بر مسلماناں بسیار مشکل خواہد شد الغیاث،الغیاث ثم الغیاث’’(مکتوب ۸۱ ج ۱)

ترجمہ: بادشاہت کے شروع میں اگر مسلمانی نے رواج پالیا اور مسلمانوں نے اعتبار پیدا کرلیا تو کیا کہنا،اگر عیاذ باللہ سبحانہ توقف(رکاوٹ پڑگئی یا تاخیر ہو گئی) تو کام مسلمانوں پر بہت مشکل ہو جائے گا،فریاد! فریاد! فریاد!

آپ دیکھ رہے ہیں کہ حالات پر آپ کو کتنی گہری نظر حاصل تھی نیز کفر واہل کفر کے رواج وغلبہ نے حضرت مجدد قدس سرہ کو کس قدر مجروح کردیا تھا ،کس طرح فریاد کر رہے ہیں،دل کے پھپھولے کس طرح جل رہے ہیں آخر میں کتنے جوش وخروش سے فرماتے ہیں:

(۲)‘‘تاکدام صاحب دولت بایں سعادت مستسعد گردد وکدام شاہباز بایں دولت دست برد نماید’’یعنی کون دولت مند اس سعادت کے لیے تیار ہوتا ہے اور کون شہباز اس دولت کی سبقت لے جاتا ہے۔

(۳)شیخ فرید جن کے نام حضرت مجدد قدس سرہ کے سب سے زیادہ مکتوبات ہیں خوش قسمتی سے انھیں جہانگیری دربار میں کافی بڑا منصب اور جہانگیر سے کافی قرب حاصل ہو گیا تھا،بادشاہ ان پر بہت اعتماد کرتا تھا،آپ قدس سرہ نے ان کے مقام ومنصب سے خوب خوب فائدہ اٹھایا ہر طرح سے انھیں دینی کاموں کے لیے آمادہ کیا اور طرح طرح کی نصیحت فرماکر اسلام واہل اسلام کی امداد واعانت کے لیے انھیں میدان میں اتارا۔

مکتوب ۴۷ میں فرماتے ہیں جس وقت جہانگیر تخت نشین ہوا اور یہ خبر عام ہوئی تو فورا شیخ کو ایک طویل مکتوب تحریر فرماتے ہیں جس میں اکبری دور کی

زیادتیاں،اہل اسلام پر ظلم وستم اور اسلام کی زبوں حالی،علماے سو اور صوفیہ خام کی بے اعتدالیاں اجمالا ذکر کرتے ہیں،آغاز میں یوں نصیحت فرماتے ہیں:

‘‘بادشاہ عالم کی نسبت، دل کے مانند ہے بدن کی بنسبت کہ اگر دل صالح ہے تو بدن صالح اور اگر فاسد ہے تو فاسد بادشاہ کی صلاح عالم کی صلاح ہے اور اس کا فساد عالم کا فساد’’ پھر کچھ سطر بعد فرماتے ہیں:

‘‘امروز کہ نوید زوال مانع دولت اسلام وبشارت جلوس بادشاہ اسلام بگوش خاص وعام رسیدہ اہل اسلام بر خود لازم دانستند کہ ممد ومعاون بادشاہ باشند وبر ترویج شریعت وتقویت ملت دلالت نمایند ایں امداد وتقویت خواہ بزبان میسر شود خواہ بدست’’

ترجمہ: آج کے دن کہ دولت اسلام کے مانع کے زوال کی خوشخبری اور بادشاہ اسلام کے جلوس کی بشارت عام وخاص کے کان پہنچی ہے اہل اسلام اپنے اوپر لازم کرلیں کہ بادشاہ کے مددگار ومعاون ہوں گے اور شریعت کی ترویج اور ملت کی تقویت پر دلالت کریں گے یہ امداد وتقویت خواہ زبان سے میسر ہو یا ہاتھ سے۔

پھر امدادواعانت کی سب سے بہتر اور فائدہ مند صورت ذکر فرماتے ہیں‘‘سابق ترین دولت مدد تبیین مسائل شرعیہ است واظہار عقائد کلامیہ بر طبق کتاب وسنت واجماع امت’’یعنی مددوں میں سابق ترین دولت مسائل شرعیہ کو بیان کرنا اور کتاب وسنت اور اجماع امت کے مطابق عقائد کلامیہ کا اظہار ہے۔

(۴)چونکہ ایسے وقت میں موقع پرست اہل بدعت وضلالت عموما فائدہ اٹھا لے جاتے ہیں اور تملق وچاپلوسی کی وجہ سے عموماً اقتدار حاصل کر لیتے ہیں جن سے پھر دین کا وہی حشر ہوتا جو اکبر کے دور میں ہوا، اسی لیے کتنی بر وقت تنبیہ فرماتے ہیں‘‘تا مبتدعی وضالی درمیان آمدہ ازراہ نبرد وکار بفساد نہ انجامد’’تاکہ کوئی بدعتی اور گمراہ درمیان میں آکر راہ سے بھٹکا نہ دے اور انجام کار فساد تک نہ پہنچے۔

(۵)پھر علماے حق کی نشاندہی فرماتے ہیں اور علماے سو کی قباحتیں اور برائیاں اور ان کے ہاتھوں دین کی تباہی وبربادی بیان فرماکر امداد واعانت کے لیے کس طرح چست اور تیز کرتے ہیں:

‘‘اگر کسے با وجود استطاعت امداد ہر قسم مددے کہ باشد تقصیر نماید ودر کارخانۂ اسلام فتورے واقع شود آن مقصر معاتب گردد’’یعنی مدد کی استطاعت رکھتے ہوئے کسی قسم کی مدد ہو اور کوئی نہ کرے جس کی وجہ سے اسلام میں فتور واقع ہو جائے تو وہ کمی کرنے والا عتاب کا شکار ہوگا۔

(۶)پھر خود جو کر سکتے تھے اور کیا تمنا تھی، اس کا اظہار یوں فرماتے ہیں اور مخاطب کو جذبات سے سرشار فرماتے ہیں:‘‘بناء علیٰ ذٰلک این فقیر قلیل البضاعت نیز می خواہد کہ خود را در جرگۂ ممدان دولت اسلام اندازد ودریں باب دست وپاے بزند بحکم من کثر سوادہم فہو منہم یحتمل کہ ایں بے استطاعت را داخل آں جماعہ کرام سازند’’

ترجمہ: اسی بنیاد پر یہ فقیر تھوڑی پونجی والا بھی چاہتا ہے کہ خود کو دولت اسلام کی مدد کرنے والوں میں ڈال دے اور اس سلسلے میں ہاتھ پاؤں مارے بحکم‘‘جس نے ان کی جماعت بڑھائی وہ انھیں میں سے ہے’’احتمال ہے کہ اس بے استطاعت کو اس جماعت کرام میں داخل کر لیں۔

پھر انھیں سید فرید کو جو قرب ومنزلت اور طاقت وقوت حاصل ہوئی تھی اس سے فائدہ اٹھانے کی یوں التجا کرتے ہیں:

(۷)‘‘ومتوقع از جناب شرف ایشاں آنست کہ چوں استطاعت وقرب بادشاہ بر وجہ اتم ایشاں را حق سبحانہ وتعالیٰ میسر ساختہ است در خلا وملا در ترویج شریعت محمدی علیہ وعلیٰ آلہ من الصلاۃ افضلہا ومن التسلیمات اکملہا کو شند ومسلماناں را از غربت بر آرند’’

ترجمہ: آپ کے شرف سے امید یہ ہے کہ چونکہ بادشاہ کا قرب اور استطاعت پورے طور پر حق سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کو میسر کی ہے لہٰذا خلوت وجلوت میں شریعت محمدی کی ترویج واشاعت کے لیے کوشش کریں اور مسلمانوں کو غربت سے نکالیں۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ اسلام اور اہل اسلام کے تئیں دل کی گہرائیوں میں کتنا درد تھا،کس طرح دیوانہ وار شریعت محمدیہ علیٰ مصدرہا الصلاۃ والسلام کی ترویج واشاعت کے لیے کوشاں تھے۔

مکتوبات شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ محض خطوط کے ذریعہ ہی نہیں بلکہ سلطنت کا رخ اسلام اور اہل اسلام کی عزت وعروج اور کفر واہل کفر کی خواری وذلت کے لیے آپ ان عمائدین و اراکین سے ملاقاتیں بھی کیا کرتے تھے،چناں چہ اسی مکتوب میں ضمناً فرماتے ہیں:

‘‘امید است کہ دریں نزدیکی انشاء اللہ العزیز بشرف حضور مشرف گردد’’ (امید ہے کہ ان شاء اللہ جلد ہی حضوری کے شرف سے مشرف ہوں گا)

ان ملاقاتوں میں حالات پر قابو پانے کے لیے کیا کیا مشورے دیتے تھے اور تنہائیوں میں کس کس طرح سے انھیں بادشاہ کو مکمل اسلام کی طرف موڑنے اور اسے خدمت اسلام پر آمادہ کرنے کے لیے آپ کیا کیا ان امراء کو ہدایت دیا کرتے تھے اس کی تفصیل معلوم تو نہ ہو سکی مگر اتنا ضرور ہے کہ اس بگڑے ما حول میں بہر حال حالات ایسے تھے کہ ہر بات کو خطوط کے ذریعہ نہیں کہا جا سکتا تھا۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی وہ بالغ نظری ہی تھی کہ جس نے تھوڑے عرصے میں دھارے کا رخ موڑ دیا،آپ کی مجددانہ صلاحیتیں سمجھنے کے لیے بڑی گہری نظر کی ضرورت ہے،اتنا بڑا کام یوں ہی آسانی سے نہیں ہو گیا اس کی تفصیلات آج ہمارے

سامنے نہیں ہیں لیکن ان اشاروں سے ہم سمجھ سکتے ہیں۔

شاید تاریخ عالم میں ایسا انسان نظر آئے جس نے حکومت کے ہر عہدے سے اپنے آپ کو علاحدہ بھی رکھا اور سب کو تابع بھی بنا لیا،آپ ان مکتوبات کو پڑھیں گے جو عمائدین سلطنت کے نام لکھے گئے ہیں تو معلوم ہو گا کہ اس نڈر مجاہد نے ان امرا وعمائدین کو قدم قدم پر ترویج واشاعت دین کے لیے ابھارا ،ان کی غلطیوں پر انھیں متنبہ کرنے میں کبھی کوتاہی نہ برتی نہ کبھی ان کا جاہ ومنصب مانع اظہار حق ہو سکا،ہر امیر کے دربار کی خبر تھی،ہر ایک کی دینداری سے واقفیت تھی،ان کا تزکیۂ نفس بھی فرماتے تھے،خوف آخرت ودنیا سے بے تعلقی اور اللہ عزوجل کی رغبت بھی دلاتے تھے،ان کی دولت وثروت اور جاہ ومنصب سے دین کے کن شعبوں میں کیا مدد ہو سکتی ہے اس کی رہنمائی بھی فرماتے تھے۔

عام طور پر یہ سب چیزیں انسان کو دنیا دار اور گنہ گار بنا دیتی ہیں مگر آپ قدس سرہ نے ان پر اتنا عظیم احسان فرمایا کہ جو چیزیں بگڑنے کا سبب بنتی تھیں ان کو آخرت کے حصول کا ذریعہ بنادیا،غرضیکہ آپ دوہرا کام کر رہے تھے،ایک تو خود انھیں نیک بناکر نیکیوں کے ذخیرے جمع کرنے کی راہیں بتا رہے تھے،دوسرے ان کے ذریعہ اسلام اور اہل اسلام کو قعر غربت ومذلت سے نکال کر عزت کی شاہراہ عطا فرمارہے تھے۔

آپ کی ذات میں عبرت ہی عبرت ہے جس ہمہ جہتی اور ہمہ گیری کا ظہور آپ سے ہوا بڑے سے بڑے عہدیدار اور منصب کی تحصیل کے مواقع آپ کے ہاتھ میں تھے،دولت وثروت جمع کرنے کا بڑا سے بڑا ذریعہ آپ کو حاصل تھا اس کے باوجود غربت وافلاس کی زندگی گزار کر اور ہر منصب سے لا تعلق رہ کر اپنے نبی مکرم ﷺ کی حقیقی سنت پر عمل کرکے جہاں آپ یہ دکھا رہے تھے کہ دنیاے دنی (گھٹیا دنیا)

اس لائق نہیں کہ اس کے خالق کو چھوڑ کر اس کو اپنا یا جائے،یا محبت یہ نہیں چاہتی کہ محبوب حقیقی کے ماسوا سے تعلق ظاہر پیدا کیا جائے وہیں ان امرا سے روابط وتعلقات پیدا کرکے یہ بھی دکھا رہے تھے کہ تصوف یا کمال ان سے بے تعلق رہنا نہیں ہے،امر معروف اور نہی منکر صرف غریبوں کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ لوگ زیادہ محتاج ہیں،ان کے پاس بگڑنے کے اسباب زیادہ ہیں،لہٰذا انھیں سنبھالنے کی بھی زیادہ ضرورت ہے،دینی ہمدردی کے یہ بہت مستحق ہیں،دینی خدمات کے لیے جہاں غربا کا تن کام آ سکتا ہے وہیں امرا کا دھن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے،کہیں تن ضروری ہے تو کہیں دھن ضروری ہے۔

مگر یہ ہر کس وناکس کا کام نہیں اس کے لیے بڑا دل چاہیے،بڑے جگر کی ضرورت ہے بغیر تائید الٰہی یہ دولت میسر نہیں آ سکتی ہے،حیرت تو یہ ہے کہ اتنے اختلاط کے با وجود شخصیت اس قدر بے داغ تھی کہ کسی بھی مرحلہ میں کوئی مخالف تک یہ نہ کہہ سکا کہ آپ کی یہ تگ ودو حصول منصب وجاہ کے لیے ہے۔