باب ۴۱ از ۵۷صفحات ۵۶۰–۵۷۱
علوم غیر نافعہ
دنیا اور اہل دنیا کی مذمت بیان کرنے کے بعد دنیا کسے کہتے ہیںِ اور دنیا کے معنیٰ بیان کرتے ہوئے مکتوب ۷۳ میں فرماتے ہیں:
‘‘آنچہ ترا از حق تعالیٰ باز دارد پس از زن وفرزند ومال وجاہ وریاست ولہو ولعب واشتغال بما لا یعنی ہمہ داخل دنیا است۔علومے کہ بہ آخرت کار نیایند ہم از دنیا اند اگر تحصیل نجوم ومنطق وہندسہ وحساب وامثال آنہا از علوم لا طائل بکار می آید فلاسفہ از اہل نجات می بودند،قال علیہ الصلاۃ والسلام علامۃ اعراضہ تعالیٰ عن العبد اشتغالہ بما لا یعنی۔’’
ترجمہ: جو چیز اللہ تعالیٰ سے دور کرے وہ دنیا ہے، لہٰذا بیوی، بچے، مال و جاہ، اقتدار و ریاست، لہو و لعیم اور غیر ضروری کام سب دنیا میں داخل ہیں، اسی طرح وہ علوم جو آخرت میں کام نہ آئیں، وہ بھی دنیا میں شمار ہوں گے، اگر علم نجوم، منطق ہندسہ اور حساب وغیرہ کی تحصیل کار آمد ہوتی تو فلاسفہ نجات یافتہ ہوتے۔ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: بندہ سے اللہ کے اعراض کی علامت یہ ہے کہ بندہ لایعنی کام میں مشغول ہو جائے۔
کچھ لوگوں نے علم نجوم سیکھنے کی ضرورت یوں بیان کی کہ اس کے ذریعہ اوقات
نماز کی معرفت ہوتی ہے آپ نے اس کو یوں رد فرمایا کہ یہ مت کہیے کہ بغیر علم نجوم کے اوقات نماز پہچانے نہیں جا سکتے ہیں بلکہ اوقات نماز کی معرفت کے جو طریقے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے،پھر فرماتے ہیں کہ‘‘ بہت سے لوگ ہیں کہ علم نجوم سے کچھ نہیں جانتے ہیں اور اوقات نماز کو نجوم کے عالموں سے بہتر پہچانتے ہیں۔’’
اسی طرح کا ایک حیلہ لوگوں نے تحصیل منطق وحساب کے سلسلے میں بھی گڑھا تھا کہ فی الجملہ در بعض علوم شرعیہ درکا راند، حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘بالجملہ بعد از تمحلات بسیار وجہ جواز از برائے اشتغال بایں علوم پیدا می شود اما اگر مقصود از خواندن اینہا غیر از معرفت احکام شرعیہ وتقویت ادلّہ کلامیہ امرے دیگر نباشد والا لا یجوز اصلا’’
ترجمہ: حاصل یہ کہ ان علوم کے جواز کے لیے بڑے تکلفات کیے گئے ہیں، لیکن اگر ان علوم کے پڑھنے سے مقصود احکام شرعیہ کی معرفت اور علم کلام کی دلیلوں کو تقویت دینے کے علاوہ جو بھی ہی ناجائز ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ کی مجددانہ بصیرت ایسی نہ تھی کہ یہ داؤ پیچ آپ کو مطمئن کر سکتے،آپ خوب جانتے تھے کہ ان علوم سے کیا حاصل ہے اسی لیے آپ نے جواز منحصر فرمادیا کہ احکام شرعیہ واعتقادیہ کی معرفت وتائید کے واسطے ہوں تو وجہ جواز نکل سکتی ہے ورنہ نہیں مگر یہ نکتہ بھی ساتھ میں تلقین فرماتے ہیں کہ:
‘‘انصاف باید کرد ارتکاب امر مباح کہ مستلزم فوت امور واجبہ باشد از حد اباحت بر می آید یا نہ؟ شک نیست کہ اشتغال بہ ایں مفوت اشتغال بعلوم شرعیہ ضروریہ است۔’’
آج عصری علوم وفنون کے دلدادہ اس مرد حق آگاہ کے مبنی بر حقیقت کلام کو پڑھیں اور غور کریں کہ جس چیز کو وہ کامیابی تصور کر رہے ہیں وہ انھیں کہاں لے جا رہی ہے،حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی محبت اور لالچ نے دلوں میں اس قدر گھر کر لیا کہ اب
ہر چیز میں مادی منفعت مطلوب ہو گئی،جہاں یہ منفعت نظر آئی اسی کی تحصیل ضروری ہو گئی۔
آج انگریزیت کو جو فروغ ہوا اور ہو رہا ہے اس کی خاص وجہ یہی ہے،اس میں وہ عزت وجاہ،دنیوی مناصب کا حصول اور شادی بیاہ کی کامیابی دیکھ رہے ہیں پھر ستم یہ کہ حضرت مجدد قدس سرہ تو ان علما کو رو رہے ہیں جو علوم دینیہ سے بھی واقف تھے مگر ان کا انہماک واشتغال ان علوم لا یعنی سے تھا اور یہاں تو نوبت یہ پہنچ گئی ہے کہ اب صرف عصری علوم وفنون ہی ہیں،اسلامی تعلیم تو بالکل رخصت ہو گئی،اب ادارے،کالج اور یونیورسٹیاں صرف اسی لیے ہیں اور اسی پر قوم نازاں وفرحاں ہے جبکہ اس کے مقاصد اظہر من الشمس ہیں۔
حیرت تو یہ ہے کہ دینی تعلیم ان کی نظر میں بے کار اور بے فائدہ ہوگئی،اس کے پڑھنے والے حقیر،اس کے ادارے حقیر جبکہ دشمنان اسلام کی اس تعلیم میں نامعلوم کتنی دولت خرچ کر رہے ہیں،یہ انگریز دوستی اسلامی تعلیمات کے لیے سب سے بڑا آزار ثابت ہوئی،اس نے اسلامی علوم وفنون کو ختم سا کردیا جس کے نتیجے میں بالآخر وہ ساری بلائیں اور مصیبتیں آگئیں جو جہالت ونادانی سے آ سکتی تھیں۔
حیرت بالائے حیرت یہ کہ پڑھے لکھوں کی وہ قوم جنھیں عوام اپنا رہبر سمجھتی ہے،جن کو اپنی نوک پلک کو بے پناہ درست رکھنا چاہیے ان میں خود انگریزیت نوازی کا شوق بڑھتا جا رہا ہے،افسوس صد افسوس! گلشن اسلام خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں کس قدر اجڑتا جا رہا ہے کاش! لوگ سمجھیں اور بے ہوشی چھوڑ کر عقل وشعور کا دامن پکڑیں،یہ محل اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کرنے کا نہیں اس لیے اتنے ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ جہاں ان علوم وفنون کی قباحتیں بیان کرتے ہیں وہیں
دونوں جہان کی فلاح وبہبود کے ضامن علوم کو جگہ جگہ لازم اور ضروری قرار دیتے ہیں،کون کون سے علوم کس لیے ضروری ہیں اس سلسلے میں چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
(۱)‘‘کار اینست کہ اولا تصحیح عقائد بر وفق آراء علماء اہل سنت وجماعت کہ فرقۂ ناجیہ اند باید کرد ثانیا علم وعمل بمقتضائے احکام فقہیہ لازم باید ساخت بعد از تحصیل ایں دو جناح اعتقادی وعملی قصد طیران عالم قدس باید نمود۔’’(مکتوب ۹۱ جلد ۱)
ترجمہ: کام یہ ہے کہ سب سے پہلے اہل سنت و جماعت کے علماء جو کہ فرقہ ناجیہ ہیں کی رائے کے مطابق عقیدہ کی تصحیح کر لی جائے، دوسرے یہ کہ علم و عمل کو احکام فقہیہ کے مطابق ہونا چاہئے، اعتقادی و علمی کے ان دونوں پروں کو حاصل کرنے کے بعد عالم قدس کی طرف پرواز کرنا چاہئے۔
(۲)‘‘نقد سعادت دارین منوط بمتابعت سید کونین است علیہ وعلیٰ آلہ من الصلوات والتسلیمات اتمہا واکملہا بر نہجیکہ علماے اہل سنت شکر اللہ تعالیٰ سعیہم بیان فرمودہ اند اولا تصحیح عقائد بمقتضائے آرا ئے صائبہ ایں بزرگواراں باید کرد وثانیاً علم حلال وحرام وفرض وواجب وسنت ومندوب ومباح ومشتبہ حاصل باید نمود وعمل بمقتضائے ایں علم نیز درکار ست۔’’(مکتوب ۷۵ جلد ۱)
ترجمہ: دونوں جہاں کی سعادت حضور ﷺ کی ایسی پیروی پر منحصر ہے، جسے علمائے اہل سنت نے بیان فرمایا ہے، سب سے پہلے ان بزرگوں کی درست رائے کے مطابق عقیدے کو درست کرنا چاہئے، دوسرے یہ کہ حلال، حرام، فرض، واجب، سنت، مندوب، مباح اور مشتبہ کا علم حاصل کر کے اس کے مطابق عمل کرنا چاہتے۔
(۳)‘‘آیت کریمہ: وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ذکر کرکے فرماتے ہیں :‘‘مدار نجات بر دو چیز آمد امتثال اوامر وانتہا از نواہی ومعظم ترین ایں دو جزء جزو اخیر است کہ معبر بورع وتقویٰ است۔’’
ترجمہ: نجات دو چیزوں پر منحصر ہے ایک اوامر کی بجا آوری اور دوسری نواہی سے اجتناب۔ مگر ان دونوں میں اہم دوسری یعنی نواہی سے اجتناب ہے، جسے ورع اور تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
پھر ورع وتقویٰ کی اہمیت ایک حدیث پاک سے واضح کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
‘‘وفضیلت انسان بر ملک ازیں جزو متحقق است وترقی بر مدار قرب ہم ازیں جزو ثابت می شود چہ ملائک در جزء اول مشارکند وترقی در ایشاں مفقود است پس رعایت ورع وتقویٰ از اہم مہام اسلام آمد از اشد ضروریات دین۔’’
ترجمہ: فرشتوں پر انسان کی فضیلت اسی چیز (نواہی سے اجتناب) کی وجہ سے ہے۔ ایسےہی قرب میں ترقی بھی اسی لیے ثابت ہے، اس لیے کہ پہلے (اوامر کی بجا آوری) میں تو فرشتے خود ہی شریک ہیں۔ اس لیے اس میں ترقی مفقود ہے، اس سے ثابت ہوا کہ ورع و تقویٰ کی رعایت نہایت اہم اور دین کی شدید ضرورتوں میں سے ہے۔
اس کے بعد فضول مباحات سے اجتناب وپرہیز پر تاکید فرماتے ہیں کیونکہ محرمات سے مکمل طور پر بچاؤ ان کے بچاؤ کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے اس کے بعد یوں رقم طراز ہیں:
‘‘واجتناب از محرمات نیز بر دو قسم است قسمی است کہ بحقوق اللہ سبحانہ تعلق دارد وقسمی است کہ بحقوق عباد متعلق است ورعایت قسم ثانی اہم تر است،حق سبحانہ وتعالیٰ غنیِ مطلق است وارحم الراحمین وعباد فقرا ومحتاجانند وبالذات بخیل ولئیم اند،’’(ایضا)
ترجمہ: محرمات سے بچنے کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے متعلق ہے، اور دوسری قسم حقوق العباد سے متعلق ہے، دوسری قسم کی رعایت زیادہ
اہم ہے، اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارحم الرٰحمین ہے اور بندے با لذات فقیر، محتاج، بخیل اور لئیم ہیں۔
یہ چند اقتباسات ہدیۂ ناظرین ہیں جن سے معلوم ہوا کہ عقائد اہل سنت اور احکام فقہیہ کا علم ضروری ہے محرمات کی تفصیلات نیز حقوق اللہ اور حقوق العباد کا جاننا بھی اشد ضروری ہے،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو ا کہ ان امورکا بھی علم ضروری ہے جن سے ورع وتقویٰ کا تعلق ہے،راہِ سلوک میں قدم رکھنے سے پہلے عقائد واعمال وغیرہ کا علم ضروری ہے پھر خداوند قدوس توفیق دے تو عالم قدس کی طرف پرواز کرے جس کے لیے علم تصوف بھی ضروری ہے یہی وہ علوم ہیں جن سے سعادت دارین وابستہ اور اخروی نجات انھیں پر منحصر ہے،جو علم وراثت انبیاے کرام علیہم الصلاۃ والسلام ہے وہ یہی ہے۔
اب آپ ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ عصری علوم وفنون کی تو اتنی لگن ہے کہ کامیابی کی ہر راہ اسی پر منحصر نظر آ رہی ہے مگر حقیقی کا میابی اور ابدی فلاح جس سے وابستہ ہے اس کی کوئی فکر نہیں ہے،پھر جو حاصل بھی کرتے ہیں وہ بھی نا تمام خاص کر نفس کے تزکیہ اور قلب کے تصفیہ سے متعلق جو علم ہے اس کا احساس بھی نہیں،ہمارے علماے کرام میں آج کتنی ظاہری وباطنی خامیاں اور کوتاہیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ میں طرح طرح کی برائیاں نمودار ہو رہی ہیں،وہ انھیں امور سے نادانی اور عدم واقفیت کی وجہ سے ہے،حقیقت یہ کہ کوئی انسان ان علوم اور ان پر عمل کے بغیر کامل انسان نہیں بن سکتا ہے،یہ ایک علاحدہ بحث ہے جس پر تفصیل سےروشنی ڈالنے کے لیے ایک علاحدہ کتاب کی ضرورت ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ کی بصیرت اچھی طرح جانتی تھی کہ علوم اسلامیہ(تفسیر،حدیث۔فقہ اور ان سے متعلقہ امور) کے علاوہ جتنے بھی علوم ہیں ان سے
دین ودنیا کی کوٗی غرض وابستہ نہیں ان کی وجہ سے زندگی کا سفر طویل تر ہوتا ہے،فکر ونظر کی ساری توانائیاں بے محل خرچ ہوتی ہیں،ان کی گتھیاں سلجھانے میں انسان کو جو دماغی محنت کرنی پڑتی ہے وہ اگر علوم دینیہ میں خرچ کی جائے تو علوم اسلامیہ کو فروغ حاصل ہوگا،اسلامی شوکت بڑھے گی،قرآن وسنت کی اشاعت ہوگی،قرآن وسنت کے بحر بے کراں سے وہ مسائل واحکام برآمد ہوں گے جو زمانے کی ضرورتیں پوری کریں گے،عمل کے جذبات ابھریں گے،انوار سنت سے قلب وجگر روشن ہوں گے،چین وسکون کی دولت بے بہا ہاتھ آئے گی،شب وروز ذکر وعبادت میں شمار ہوں گے،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے رابطہ وتعلق مضبوط ہوگا اور نفس انانیت سے بچے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہر عاقل جانتا ہے کہ اس میں(دنیاوی تعلیم میں) کسی طرح کامیابی نہیں ہے،رزاق اللہ تعالیٰ ہے وہ عصری علوم وفنون کے بل بوتے پر روزی نہیں دیتا ہے،اگر حضرت مجدد قدس سرہ کی رہنمائی کو اپنا یا جاتا تو ہم حقیقی نعمتوں سے محروم نہ ہوتے،آج ہمارے سامنے صحیح اسلامی تاریخ ہے،ہماری ساری فتح وکامرانی ہمارے اسلامی تعلق اور مذہبی پختگی کے سر ہے مگر ہم نے ان وادیوں میں بھٹک کر اپنا سب کچھ گنوا دیا مولاے کریم عقل سلیم عطا فرمائے تاکہ پھر سے کامیابیاں ہاتھ آئیں۔
حضرت مجدد قدس سرہ نے جو کچھ لائحۂ عمل پیش کیا وہ صرف قول اور تحریر تک نہ تھا بلکہ آپ نے اپنے افراد کی اس متعینہ نظام پر مکمل تربیت فرمائی اور ظاہر وباطن کے علوم سے آراستہ جماعت تیار کی اور پھر وہ کچھ کر گئے جو ہزاروں مل کر بھی نہ کر سکتے تھے،آپ تفصیل سے پڑھ چکے ہیں کہ وہاں اصل تحریر نہ تھی بلکہ آپ نےسب کچھ عملا کر کے دکھا دیا اور منظم تحریک چلائی جس کی وجہ سے صالح نظام اور معاشرہ
وجود میں آیا اور وہ روشنی دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئی۔
تردید رفض وخروج:
دوسرا گروہ جو مذہب اہل سنت وجماعت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہا تھا وہ روافض کا تھا،ہندوستان میں ان کی آمد اور پھر حکومت پر ان کا تسلط پچھلے صفحات میں ہم مختصرا بیان کر چکے ہیں جس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کی ضرب کتنی کاری تھی اور حکومت وسیاست اور مادی طاقت کے بل بوتے پر یہ کیا کیا گل کھلا رہے تھے،جو حالات پیدا ہو گئے تھے اور یہ بد مذہب جس طریقے سے سرایت کر رہے تھے اس سے کوئی بھی عاقل اور ذی علم نا واقف نہ تھا۔
ان لوگوں نے اپنی جو اہمیت پیدا کر لی تھی اس سے ہر کوئی خائف ومتاثر ہو سکتا تھا مگر حضرت مجدد قدس سرہ جیسا نڈر مجاہد ان باطل طاقتوں کے سامنے کیسے سر نگوں ہو سکتا تھا، اس کے بر خلاف آپ نے انھیں ہر موڑ پر للکارا،مناظروں اور مباحثوں میں انھیں جگہ جگہ شکست دی،مختلف محفلوں اور دینی مجلسوں میں خود جا جاکر ان کے عقائد ونظریات کی قلعی کھولتے، درسگاہ میں طلبہ کے سامنے ان کی تردید میں تقریر کرتے،دلائل وبراہین کے ذریعہ ان کا رد بلیغ فرماتے اس پر بھی آپ کی ایمانی غیرت اور اسلامی حمیت کا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو آپ نے آغاز جوانی میں اس فرقۂ ضالہ کے خلاف ایک رسالہ بنام‘‘رد شیعہ’’ تحریر فرمایا،جس کا مختصر حال آپ پڑھ چکے۔
جس زمانے میں اس مرد حق آگاہ نے شیعوں کے خلاف نہایت شدت کے ساتھ آواز بلند فرمائی یہ وہ دور تھا کہ بڑے بڑے علما اگر شیعوں کی موافقت نہ کر رہے تھے تو کم از کم خا موش ضرور ہو گئے تھے اور ایسا بھی ہوا کہ کچھ بزرگوں نے توریہ جیسی صورت اپنا لی کہ اس انداز میں کتابیں تصنیف فرمائیں جو مذہب اہل سنت کے موافق مگر شیعوں کو خوش کرنے والی تھیں،مگر آپ کی روش سب سے الگ تھی میدان کارزار کا
یہ سپاہی دیوانہ وار ہر حملے کا دفاع کرتا اور پھر اپنی طرف سے وار کرتا۔
کبھی توحید پر حملہ ہوتا،کبھی نبوت پر،کبھی حضرت ابو بکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہم کی عزت وحرمت پر،کبھی حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر،کبھی حضرت طلحہ وزبیر اور کبھی حضرت امیرمعاویہ اور کبھی سارے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مگر یہ سب کا چہیتا بے جھجک کسی بھی طاقت وقوت کی پرواہ کیے بغیر رات دن جہاد کرتا رہا بالآ خر سب کو سوائے فرار کے کچھ نظر نہ آیا اور اس شیر حق کے سامنے کوئی ڈٹ نہ سکا فللہ الحمد۔
رسالہ رد شیعہ میں آپ نے ان کے فرقے ان کے عقائد اور پھر ان کی تردید نہایت مدلل انداز میں فرمائی ،اس کے علاوہ متعدد مکتوبات قدسی آیات میں خاص کر ان موضوعات پر قلم اٹھایا،خاص کر طبقہ ٔ امراپر چونکہ اس کے اثرات زیادہ مرتب ہو رہے تھے لہٰذا ان کے نام مکتوبات میں یہ رنگ زیادہ غالب ہے۔
آپ کی طبیعت شروع ہی سے بہت حساس اور غیرت مند واقع ہو ئی تھی اور چونکہ جہانگیر کے دور میں دین کوسب سے زیادہ خطرہ اسی فرقہ سے تھا اور اس بات کا بہت کچھ امکان پیدا ہو گیا تھا کہ بادشاہ ان کے مذہب سے وابستہ ہو جاتا،اکبر کے دین الٰہی سے زیادہ برے اثرات عوام وخواص پر اسی کے مرتب ہونے کے امکانات تھے،یہ جس روپ میں ہندوستان آیا تھا اور جو تلبیسات رکھتا تھا وہ لوگوں کے بھٹکنے کے لیے بہت کافی تھیں،اسی لیے آپ نے آغاز ہی میں اس کی تردید کو سب سے اہم ضرورت محسوس کیا۔
آپ جب تک حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کی خدمت میں نہ پہنچے تھے اس وقت تک تقریر وتحریر کا ڈھنگ عالمانہ معقول ومنقول کے ذریعہ عربی وفارسی زبان میں رد فرماتا رہا،مگر حضرت خواجہ قدس سرہ کی نوازشات وعنایات کے بعد اس میں
ایک نیا رنگ آگیا کہ جہاں آپ ان کے عقائد باطلہ کا رد قرآن وسنت اور معقول دلائل کی روشنی میں فرماتے وہیں کشف وشہود کے ذریعہ ان (معقول و منقول دلائل) کی تائید فرماتے،عظمت صحابہ وخلفا ے راشدین جہاں آپ آیات واحادیث کے ذریعہ بیان فرماتے وہیں ان کی عظمتوں ورفعتوں کے ڈنکے مشاہدات صحیحہ کے ذریعہ بجاتے۔
خلفاے راشدین کی افضلیت،عظمت صحابۂ کرام واہل بیت عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے سلسلے میں جو موقف علماے اہل سنت وجماعت کا شروع سے رہا ہے آپ نے اپنے کشف کے ذریعہ اس کی بھر پور تائید فرمائی،یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ کچھ وجوہات کی بنا پر خود اولیاے کرام رحمہم اللہ کے مکشوفات ایسے واقع ہو رہے تھے جو بظاہر شیعوں کے موید تھے یہ اور بھی زیادہ مضر اور نقصان دہ تھے،اسی لیے آپ نے کشف وشہود کو دخل دے کر ایک تو ان بزرگوں کے کشف وشہود کی رسائی کھول دی کہ کہاں تک ہے۔
دوسرے یہ بھی بتا دیا کہ شیعہ حضرات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور ان کے خانوادے سے الفت ومحبت کے زبانی دعوے کچھ بھی کریں مگر جتنی گہرائی سے ان کی عظمتیں ورفعتیں ہم جانتے ہیں اور ان کو جتنا ہم پہچا نتے ہیں تم شیعہ نہیں،جس شان سے آپ نے ان بزرگوں کے فضائل ومناقب بیان کیے ہیں اور جو حیثیت واقعی ہر ایک کو عطا کی ہے اس میں کو ئی بھی آپ کا ساجھی وشریک نہیں نہ پہلے اور نہ بعد،تجدید کا یہ گوشہ معمولی نہیں ہے اس طرح آپ نے علما وصلحاے امت کے صحیح موقف کی تائید کرکے قاری کے اطمینان قلب کا سامان فراہم کردیا،اب آپ چند اقتباسات قدرے تفصیل سے مطالعہ فرمائیں:
پہلے تو آپ حضرت مجدد قدس سرہ کی زبانی یہ سمجھ لیں کہ ر فض کیا ہے اور
خروج کیا؟ اور ان کے مقابلے میں تسنن کیا ہے؟
(۱)‘‘نجابت آثار! من علامات اہل السنۃ والجماعۃ تفضیل الشیخین ومحبۃ الختنین،تفضیل شیخین کہ با محبت ختنین جمع شود از فضائل اہل سنت وجماعت است۔’’
ترجمہ: نجابت آثار! شیخین کو دیگر صحابہ پر فضیلت دینا اور حضرات عثمان و علی کی محبت اہل سنت و جماعت ہونے کی علامت ہے۔ لہٰذا تفضیل شیخین اور ختنین (دامادوں یعنی حضرت عثمان و علیرضی اللہ عنہما) کی محبت اہل سنت و جماعت کی فضیلتوں میں سے ہے۔
آخر میں تفضیل پر تفصیل سے بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘پس محبت حضرت امیر شرط تسنن آمد وآنکہ ایں محبت ندارد از اہل سنت وجماعت خارج گشت وخارجی نام یافت وآنکہ در محبت امیر طرف افراط اختیار کرد وزیادہ از آنچہ شاید بوقوع آورد وغلو درآں محبت نمود و بسب وطعن اصحاب خیر البشر علیہ وعلیہم الصلاۃ والسلام زبان کشود وترک طریق صحابہ وتابعین وسلف صالحین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کرد رافضی نام یافت۔’’
ترجمہ: حضرت علی کی محبت سنی ہونے کے لیے شرط ہے، جس میں حضرت علی کی محبت نہیں وہ اہل سنت سے خارج ہوا۔ لہٰذا خارجی کہلایا۔ اور جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں افراط سے کام لیا اور حد سے زیادہ اور غلو کر بیٹھا اور ساتھ ہی ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو سب و شتم اورلعن طعن کرنے لگا۔ اور صحابہ تابعین و سلف صالحین کے طریقے کو چھوڑ دیا اس کا نام رافضی پڑ گیا۔
پھر فرماتے ہیں:‘‘پس اہل سنت متوسط ہیں درمیان افراط محبت امیر اور درمیان اس محبت کی تفریط کے کہ رافضیوں اور خارجیوں نے اختیار کی ہے اور شک نہیں کہ حق درمیان میں ہے اور افراط(زیادتی) اور تفریط(کمی)دونوں مذموم جیسا
کہ امام احمد حنبل نے حضرت امیر سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری مثال اے علی! عیسیٰ جیسی ہے ان کو یہود نے دشمن رکھا یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان لگایا اور نصاریٰ نے دوست رکھا یہاں تک کہ ان کو اس منزل پر لے آئے کہ جو وہ نہیں رکھتے تھے یعنی ابن اللہ کہہ دیا،اس کے بعد حضرت امیر نے فرمایا کہ مجھ میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک وہ جنھوں نے میری محبت میں زیادتی کی اور جو کچھ مجھ میں نہیں ہے ثابت کیا اور دوسرا وہ جو مجھ سے دشمنی کرے اور دشمنی میں مجھ پر بہتان رکھا،پس خارجیوں کے حال کو یہودیوں سے تشبیہ دی اور حال روافض کو نصاریٰ کے احوال سے کہ دونوں حق وسط سے دو جانبوں میں جا پڑے۔’’
رافضیوں اور شیعوں نے اپنے آپ کو اس طرح پیش کیا ہے کہ گویا اہل بیت سے محبت صرف انھیں کو حاصل ہے اہل سنت کو نہیں،آپ فرماتے ہیں:
‘‘وہ بڑا نادان ہے جو اہل سنت وجماعت کو محبان حضرت امیر سے نہ جانے اور محبت کو روافض کے ساتھ مخصوص جانے،محبت امیر رفض نہیں ہے،خلفاے ثلاثہ سے تبرا رفض ہے اور صحابۂ کرام سے بیزاری مذموم اور قابل ملامت ہے۔’’
پھر آپ نے تفصیل سے ثابت کیا کہ اہل سنت کو ہی صحیح محبت اہل بیت حاصل ہے اور کسی کو نہیں۔