باب ۲۳ از ۵۷صفحات ۳۲۲–۳۳۴
خلقت محمدی
جاننا چاہیے کہ خلقت محمدی باقی افراد انسانی کی پیدائش کی طرح نہیں ہے، بلکہ افراد عالم سے کسی فرد کی پیدائش سے مناسبت نہیں رکھتی ہے کہ آپ نشاء عنصری کے باوجود نور حق جل و علا سے پیدا ہوئے ہیں جیسا کہ آپ ‘‘خُلقت من نور اللہ’’ میں اللہ کے نور سے پیدا کیا گیا اور دوسروں کو یہ دولت میسر نہیں ہوئی ہے۔ اس دقیقہ کا بیان یہ ہے کہ ماسبق گزر گیا ہے کہ حضرت واجب الوجود جل سلطانہ کی صفات ثمانیہ حقیقیہ ہر
ہر چند دائرہ وجوب میں داخل ہیں لیکن اس احتیاج کے واسطے سے کہ یہ حضرت ذات کی محتاج ہیں ان میں امکان کی بو ثابت ہے اور جب صفات حقیقیہ قدیمہ میں امکان کی بو کی گنجائش ہوئی تو واجب الوجود تعالیٰ کی صفات اضافیہ میں امکان کا ثبوت بطریق اولیٰ ہوگا اور ان کا قدیم نہ ہونا ان کے امکان پر سب سے بڑی دلیل ہوگا اور کشف صریح سے معلوم ہوا ہے کہ حضور سرور کونینﷺ کی پیدائش اسی امکان سے ناشی ہے کہ صفات اضافیہ سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ اس امکان سے جو کہ باقی ممکنات عالم میں ثابت ہے اور جس قدر غور سے ممکنات عالم کے صحیفہ کو مطالعہ کیا جاتا ہے سرور عالم کا وجود اس جگہ مشہود نہیں ہوتا ہے بلکہ آپ کی خلقت و امکان کا منشا صفات اضافیہ کا وجود اور ان کا امکان محسوس ہوتا ہے اور جب اس سرور علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کا وجود عالم ممکنات نہیں ہوگا بلکہ اس عالم کے فوق ہوگا لامحالہ اس کا سایہ نہ ہوگا نیز عالم شہادت میں شخص کا سایہ شخص سے لطیف تر ہوتا ہے اورجب ان سے لطیف تر عالم میں نہیں تو ان کے سایہ کی کیا صورت ہے علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات۔
سنو سنو صفت علم صفات حقیقیہ سے ہے اور موجود خارجی کے دائرہ میں داخل ہے اور جب اس صفت کو اضافت عارض ہوتی ہے اور اس اضافت سے تقسیم پاتی ہے۔ مثلاً علم اجمالی یا علم تفصیلی یہ اس کی قسمیں صفات اضافیہ سے ہوں گی اور ثبوت الامری کے دائرہ میں داخل ہوں گی جو کہ صفات اضافیہ کا جائے قرار ہے جیسا کہ گزر گیا اور مشہود ہوتا ہے کہ علم جملی کہ صفات اضافیہ سے ہے وہ نور ہے کہ نشاء عنصری (اس دنیا میں) اصلاب (پشتوں) سے کثیر رحموں (ماؤں کے رحم) میں حکمتوں اور مصلحتوں کے مقتضا سے صورت انسانی میں کہ احسن تقویم (سب سے بہترین پیدائش) ہے (اس نور نے) ظہور کیا ہے اور محمد اور احمد نام ہوا ہے۔’’
اچھی طرح سننا چاہیے کہ اس قید اجمالی نے ہر چند علم مطلق کو مقید کر دیا ہے اور
حقیقت سے اضافت میں لائی ہے، لیکن کسی قسم کی زیادتی مقسم میں پیدا نہیں کی ہے اور کسی چیز نے اسے مقید نہیں کیا ہے کیوں کہ اجمال علم نفس علم کا نام ہے نہ کسی ایسے امر کا جو علم کے ساتھ منضم ہو اس کے بر خلاف تفصیل علم کہ جزئیات کثیرہ کا تقاضا کرتی ہے تاکہ تفصیل متصور ہو عجب قید ہے کہ مظہر اطلاق ہے اور کتنا اچھا مقید ہے کہ عین مطلق ہے اسی قسم کی نازکی مطلق علم میں ذات عالم جل سلطانہ کی نسبت ملاحظہ کرنا چاہیے کہ علم نفس عالم و نفس معلوم ہو سکتا ہے جیسا کہ علم حضوری میں ثابت ہے بخلاف دوسری صفات کے کہ یہ قابلیت نہیں رکھتی ہیں نہیں کہہ سکتے ہیں کہ قدرت عین قادر اور عین مقدور ہے اور ارادہ عین مرید اور عین مراد ہے پس علم کو ذات عالم کے ساتھ ایک قسم کا اتحاد ہے اور ایک اضمحلال (نیستی و نابودگی) ہے جو اس کے غیر کو حاصل نہیں ہے اس جگہ احمد کا قرب احد کے ساتھ دریافت کرنا چاہیے کیوں کہ وہ واسطہ کہ درمیان رکھتا ہے اور وہ صفت علم ہے ایسا امر ہے کہ مطلوب سے اتحاد رکھتا ہے پس حجابت کی اس جگہ کیا گنجائش۔’’
اور نیز علم کے لیے ایسا حسن ذاتی ہے کہ اس کے غیر کو صفات سے یہ حسن ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا اس فقیر کے گمان میں صفات واجبی میں سب سے زیادہ محبوب حق جل و علا کے نزدیک صفۃ العلم ہے اور چوں کہ اس کا حسن بے چونی کا شائبہ رکھتا ہے حِس (قوت احساس) اس کے ادراک میں قاصر ہے، ادراک تام اس حسن کا منشا آخرت سے وابستہ ہے جو کہ دیدار کا مقام ہے جب خدا عز وجل کو دیکھیں گے جمال محمد کو پائیں گے ہر چند اس دنیا میں ‘‘تہائی حسن حضرت یوسف کو مسلم ہے اور باقی تہائی سب کو تقسیم ہوا لیکن اس نشاء (آخرت) میں حسن حسن محمدی ہے اور جمال جمال محمدی ہے علیہ الصلوات و التسلیمات کہ محبوب خداوند ہیں جل سلطانہ کیوں کر کسی دوسرے کے حسن کو آپ کے حسن میں شراکت ہوگی کہ آپ کا حسن مطلوب کے ساتھ متحد ہونے
کی وجہ سے عین مطلوب کا حسن ہےاور دوسرے کو چوں کہ اتحاد نہیں ہے لہٰذا وہ حسن نہیں ہے پس پیدائش محمدی علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام حدوث کے باوجود قدم ذات کی طرف مستند ہوئی اور آپ کا امکان بھی وجوب ذات کی طرف منتہی ہوا اور آپ کا حسن حسن ذات ہوا کہ غیر حسن کا شائبہ اس میں کائن (موجود) نہیں جب ایسا ہے تو لامحالہ جمیل مطلق کی محبت کا متعلق ہوا اور اس سبحانہ کے محبوب ہوئے فان اللہ جمیل یحب الجمال
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ آیت کریمہ:
یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ (المائدہ: ۵؍۵۴)
اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور محبوب کونینﷺ کے علاوہ دیگر لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے۔ لہٰذا دوسرے بھی محبوب ہوئے تو دوسروں میں بھی وہ کمالات ہوں گے جو محبوبیت کی بنیاد پر آپ کو حاصل ہیں اس کے جواب میں آپ ذرا مجددی قلم کی جولانگی دیکھیں فرماتے ہیں۔
اقسام محبت:
محبت دو قسم پر ہے ایک محبت وہ ہے جو محب کی ذات سے تعلق رکھتی ہے اور ایک محبت وہ ہے کہ اس کی ذات کے غیر سے تعلق رکھتی ہے پہلی قسم محبت ذاتی ہے اور اقسام محبت میں سب سے اعلیٰ ہے کیوں کہ کوئی شخص کسی چیز کو اس قدر نہیں چاہتا ہے جتنا کہ خود کو نیز محبت کی یہ قسم سب سے زیادہ محکم اور زیادہ مضبوط ہے کہ کسی عارض کے عرض سے زوال پذیر نہیں ہوتی ہے نیز یہ محبت جس سےمتعلق ہوتی ہے وہ محبوب صرف ہے کہ محبّیت کا شائبہ نہیں رکھتا ہے بخلاف قسم دوم کے کہ عارضی ہے زوال قبول کرتی ہے اور اس کا جس سے تعلق ہوگا وہ ہر چند ایک جہت سے محبوب ہے لیکن متعدد وجوہ سے محبّیت بھی رکھتا ہے اور چوں کہ خاتم الرسل علیہ و علیہم الصلاۃ و
التسلیمات کا حسن و جمال حضرت ذات تعالیٰ کے حسن و جمال کی طرف مستند ہے جیسا کہ گزر گیا لامحالہ (اس لیے) ناچار قسم اول کی محبت کہ ذات جل شانہ سے متعلق ہے آپ سے متعلق ہوگی اور ذات سبحانہ کی طرح اس محبت کے تعلق کی وجہ سے آپ بھی خالص محبوب ہوں گے۔’’
مطلب یہ کہ پروردگار جس طرح اپنی ذات سے محبت کرتا ہے اور اس کی ذات محبوب ہے اسی طرح اپنے محبوب ﷺ سے بھی محبت کرتا ہے،آپ فرماتے ہیں: دوسروں کو ایسی دولت میسر نہیں ہوتی ہے اور حسن ذات سے قلیل النصیب ہیں (اس لیے) محبت کی دوسری قسم ان سے متعلق ہوگی اور ایک وجہ سے ان کو محبوب بنائےگی محبوب مطلق (یعنی کامل اور من کل الوجوہ) آپ ہیں کہ ذات محب کی طرح ہمیشہ محبوب ہیں۔
محسوس ہوتا ہے کہ اس قسم کا غلبۂ محبت کہ حضرت موسیٰ کو حضرت حق سبحانہ کے ساتھ ہے اور وہ (حضرت موسیٰ) اس محبت کی وجہ سے محبین کی اصل و سردار ہوتے ہیں اسی طرح افراط محبت حضرت حق سبحانہ کو حضرت خاتم الرسلﷺ کے ساتھ ہے ہر چند یہ فقیر ان دونوں محبتوں کے دریا میں بہت غوطہ زنی کرتا ہے کہ ان دونوں محبتوں کے درمیان قوت و ضعف کے لحاظ سے فرق کرے اور اس محبت کو کہ خالق کو ہے محبت مخلوق سے شدید تر پائے بحکم آیت کریمہ:
فَاِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْغٰلِبُوۡنَ (المائدہ: ۵؍۵۶)
ترجمہ: تو بے شک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے۔’’
کچھ بھی تفاوت ظاہر نہیں ہوتا ہے گویا ان دونوں محبتوں کو میزان عدالت میں برابر تولا ہے اور بال برابر فرق کم زیادہ تجویز نہیں کیا ہے۔
اس کے بعد حضرت مجدد قدس سرہ نے شیخ محی الدین ابن العربی اور ان کے
متبعین کے مکشوفات و تحقیقات کے اعتبار سے اعتراضات قائم کیے جو قابل دید ہیں مگر چوں کہ نہایت دقیق ہیں اس لیے میں نے چھوڑ دیے، مقصود واضح ہے، انھی اقتباسات سے ایک سوال اور اس کا جواب آپ بھی غور سے پڑھیں اور اپنے نبی کونینﷺ کے کمالات کو سن کر جلا بخشیں۔
سوال یہ ہے کہ صوفیہ کرام نے تمام افراد عالم کو اسماے الٰہی کے مظاہر اور جلوہ گاہیں مانا ہے اور حقائق اشیا انھی اسما کو پایا ہے اور اشیا کو ان کا ظلال جانا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام عالم اسماے الٰہی کا ظہور ہے جل و علا اور حضرت مجدد قدس سرہ نے بعض اسما کے ظہور کو حضور سرور کونینﷺ کی خلقت کے ساتھ خاص قرار دیا ہے یعنی ظہور اسم الٰہی صرف آپ کی پیدائش کے ساتھ خاص ہے کسی اور میں اسم الٰہی کا ظہور نہیں۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں صوفیہ کے نزدیک اشیا کے حقائق اعیان ثابتہ ہیں جو کہ اسماے الٰہی کی علمی صورتیں ہیں خود اسماے الٰہی نہیں، اس عالم کو انھی علمی صورتوں کا ظہور کہا ہے اگرچہ مجازی طور پر اسما کا ظہور بھی کہیں بلکہ شے کی علمی صورت بھی ان کے نزدیک اس شے کا عین ہے نہ کہ اس شے کی شبح و مثال اور جو میں نے اس سرور علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کی خلقت میں کہا ہے وہ نفس اسم الٰہی کا ظہور ہے جل سلطانہ، نہ کہ اس اسم الٰہی کی علمی صورت کا ظہور، اور نفس شے اور اس کی علمی صورت کے درمیان بہت فرق ہے ، آگ کا تصور کریں تو اس کی صورت علمیہ میں وہ اشراق (چمک) و اضاءت کہاں ہےجو کہ آگ میں تھی اس کی صورت علمیہ شبح و مثال سے زیادہ نہیں ہے، منطقی لوگ اسے پسند کریں یا نہ کریں بلکہ عین آتش کہیں لیکن ہمارا کشف صریح عینیت کو جھٹلاتا ہے اور آگ کی علمی صورت سواے شبح و مثال کے نہیں جو آگ خارج میں موجود ہے۔’’
پھر آپ اسماے الٰہی کی علمی صورتوں اور بعینہ اسماے الٰہی جل شانہ کے ظہور کے درمیان یوں فرق بیان فرماتے ہیں کہ اسما کی علمی صُوَرْ کے ظہور کا امکان اور ان کا وجود امکانِ عالم کے قبیل سے ہے اور وجود عالم کے قبیل سے کہ خداوندی کاریگری سے مرتبہ وہم میں اس نے ثبات و تقرر پیدا کر لیا ہے اور خلقت محمدی علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام میں جو نفس اسم الٰہی کا ظہور ہے اس کا امکان، امکان صفات اضافی کے قبیل سے ہے اور ان کا وجود بھی ان صفات کے وجود کی طرح مرتبہ نفس امر میں ثابت و مقرر ہے اور حضور سرور کونینﷺ کے غیر کوئی بھی نظر نہیں آتا ہے کہ نفس اسم الٰہی کا ظہور ہو مگر قرآن مجید کہ وہ بھی نفس اسم الٰہی کا ظہور ہے جل سلطانہ جیسا کہ اسی سے اوپر ذکر پا چکا ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہ ظہور قرآنی کا منشا صفات حقیقیہ سے ہے اور ظہور محمدی کا منشا صفات اضافیہ سے (اس لیے) لا محالہ قرآن کو قدیم اور غیر مخلوق کہا ہے اور اس کو حادث و مخلوق۔
نام محمد و احمد:
مکتوب:۹۶، ج:۳؍ میں فرماتے ہیں: ہمارے پیغمبر علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام دو ناموں سے موسوم ہیں اور آپ کے دونوں مبارک نام قرآن مجیدمیں مسطور ہیں، فرمایا:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ (الفتح: ۴۸؍۲۹)
اور نیز بشارت روح اللہ کی حکایت میں فرمایا ہے:
اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ (الصف: ۶۱؍۶)
ان دونوں مبارک ناموں میں سے ہر ایک کی ولایت علاحدہ ہے، ولایت محمدیﷺ ہر چندآپ علیہ الصلاۃ و السلام کے مقام محبوبیت سے ناشی ہے، لیکن اس جگہ خالص محبوبیت موجود نہیں ہے (بلکہ نشاء محبت کا اختلاط بھی رکھتی ہے اگرچہ وہ اختلاط بالاصالت اس کے لیے ثابت نہیں لیکن خالص محبوبیت کے مقام سے
مانع ہے اور ولایت احمدی خالص محبوبیت کے مقام سے ناشی ہے کہ محبیت کی آمیزش نہیں رکھتی ہے اور یہ ولایت پہلی ولایت سے پیش قدم ہے اور ایک امر مطلوب سے نزدیک تر ہے اور محب کو مرغوب تر ہے کیوں کہ محبوب ہر چند محبوبیت میں مکمل تر ہوگا استغنا و بے نیازی اس کی کامل تر ہوگی اور محب کی نظر میں زیباتر آئےگی اور رعناتر (زیباتر) دکھائی دےگی اور محب کو اپنی طرف زیادہ منجذب کرےگی اور شیفتہ اور زیادہ سرگشتہ کرےگی؎
نہ تنہا آفتم زیبائی اوستبلائے من ز ناپروائی اوست
(اس شعر میں) بلا سے مراد افراط عشق ہے جو کہ عاشق کا مطلوب ہے۔
سبحان اللہ، احمد عجب بلند نام ہے، کہ کلمہ مقدسہ ‘‘احد’’ سے مرکب ہے اور حلقہ حرف میم سے کہ اسرار الٰہی کے غوامض (رازوں) ٍسے ہے عالم بے چون سے تعلق ہے اور گنجائش نہیں رکھتا ہے عالم چون میں اس پنہاں راز کی تعبیر حلقہ میم کے غیر سے کی جا سکے، اگر گنجائش رکھتا تو حق تعالیٰ اس سے تعبیر فرماتا۔ احد، احد ہے کہ لا شریک لہ ہے اور حلقہ میم طوق عبودیت ہے کہ بندہ کو مولا سے ممتاز کیا ہے پس بندہ وہی حلقہ میم ہے اور لفظ احد اس کی تعظیم کے واسطے آیا ہے اور اس کا اظہار اختصاص کیا ہے علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام؎
چو نام ایں است نام آور چہ باشد
ہزار سال کے بعد کہ جسے امور عظام کی تغیر میں تاثیر ہے اسی نے معاملے کو اس مقام تک کھینچا اور ولایت محمدی ولایت احمدی تک انجام پذیر ہوئی اور دو طوق عبودیت سے کاروبار ایک طوق عبودیت تک پہنچا اور پہلے والے طوق (م) کی جگہ الف کہ اس کے رب سے اشارہ ہے، متمکن ہو گیا یہاں تک کہ محمد احمد ہو گیا علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام۔
................
۔1 جب نام کا یہ عالم ہے تو نام والے کا کیا عالم ہوگا۔
اس کا بیان یہ ہے کہ دو طوق عبودیت دو حلقہ میم سے عبارت ہے کہ اسم مبارک محمد میں اندراج پایا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ دو طوق آپ کے دو تعین کی جانب اشارہ ہوں ان تعینوں سے ایک تعین جسدی بشری ہے اور دوم تعین روحی ملکی ہے اور تعین جسدی میں ہر چندعروض و حال کی وجہ سے فتور ہو گیا ہو اور تعین روحی نے قوت پکڑی ہو لیکن اس تعین کا اثر باقی رہا تھا ہزار سال چاہیے تھے تاکہ وہ اثر بھی زائل ہو اور اس تعین کا کوئی نشان نہ رہے اور جب ہزار سال آخر آئے اور اس تعین (جسدی) سے اکثر نہیں رہا اور ایک طوق عبودیت ان دو طوقوں سے ختم ہو گیا اور اس کو زوال و فنا عارض ہوئی اور الف الوہیت کہ اس کو بقا باللہ کے رنگ میں کہا جا سکتا ہے اس میں بیٹھ گیا ناچار محمد احمد ہو گیا اور ولایت محمدی ولایت احمدی تک منتقل ہ گئی پس نام ہوا دو تعین کا اور احمد کنایہ ہوا فقط ایک تعین کا تو یہ نام حضرت اطلاق سے قریب تر ہوا اور عالم سے دور تر۔
سوال: فنا و بقا کہ مشائخ نے قرار دی ہے اور ولایت کو اس سے وابستہ کیا ہے کس معنی کر ہے؟ اور یہ فنا و بقا کہ تعین محمدی میں کہا ہے کس معنی کر ہے؟
جواب: فنا و بقا کہ ولایت جس سے وابستہ ہے وہ فنا و بقا شہودی ہے، اگر فنا و زوال ہے تو باعتبار نظر ہے اور اگر بقا و ثبات ہے تو بھی باعتبار نظر ہے۔ اس جگہ صفات بشری کا استتار (چھپنا) ہے زوال نہیں اور اس تعین (محمدی) کی فنا ایسی نہیں ہے، بلکہ اس جگہ صفات بشری کا زوال وجودی متحقق ہے اور (تعین) جسدی سے انخلاع (خالی ہونا) روحی تک ثابت ہے اور جانب بقا میں ا س جگہ بھی بندہ ہر چند حق نہیں ہو جاتا ہے اور بندگی سے باہر نہیں ہوتا ہے لیکن حق سے نزدیک تر جا پڑتا ہے اور معیت زیادہ پیدا کرتا ہے اور خود سے دور تر ہو کر بشری احکام اس سےزیادہ مسلوب ہو جاتے ہیں۔
جاننا چاہیے کہ یہ عروج محمدی کہ صفات بشری کے انتفا سےوابستہ ہے ہر چند آپ
علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کے کاروبار کو بالاتر لے گیا اور اونچی چوٹی تک پہنچا دیا اور غیر و غیریت کی کشمکش سے چھٹکارا دے دیالیکن معاملہ آپ کے امتیوں پر تنگ تر ہو گیا اور آپ کا نور ہدایت مناسب بشر کے واسطہ سے تھا کمتر ہو گیا اور اس توجہ نے کہ ان واپس ماندگان کے حال سے تھی قلت پیدا کی اور پورے طور پر قبلۂ حقیقی کی طرف متوجہ ہو گئی۔ افسوس اس رعایا پر کہ بادشاہ ان کے حال کی طرف متوجہ نہ ہو اور کلی طور پر اپنے محبوب کی طرف متوجہ ہو جائے اسی وجہ سے ہزار سال بعد کفر و بدعت کی تاریکیاں غالب ہو گئی ہیں اور اسلام و سنیت کے نور نے کمی پیدا کر لی۔’’
یہاں سے آپ پورے طور پر تجدید الف ثانی کا راز سمجھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ ایسے عالم میں کیا ایسے مجدد کی ضرورت نہ تھی جو محمد رسول اللہﷺ کا سچا نائب ہو اور آپ کے کمالات ظاہری و باطنی سے کامل حصہ رکھتا ہو اور پھر سے اس خلا کو پر کر کے نور سنت سے دنیا کو روشن کر دے اور اپنے محبوبﷺ کے جلووں سےلوگوں کو قریب کر دے اور عرفان کی راہیں کشادہ کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مقام سے حضرت مجدد قدس سرہ کے سارے کمالا کے خد و خال کا راز سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ کی پیدائش بقیہ خمیر اطہر سے ہوئی، اس کا بھید بھی یہیں سمجھ میں آتا ہے روحانی طور پر جو عروج ہوا، ہر منزل و مرحلے سے واقفیت ہوئی،ہر مقام سے نصیب حاصل کیا، زبردست قوت و ہمت سےپورے عالم میں نور سنت پھیلا دیا، تیزی سے کمالات حاصل ہونے لگے۔ ہر ملک، ہر صوبے، ہر شہر و بستی میں آپ کا فیض پہنچا۔ یہ سب اسی نیابت و وراثت کا اثر تھا حضور سرور کونینﷺ کے کمالات آپ کے صحبت یافتوں پر ظاہر ہوئے اور پھر رفتہ رفتہ کم ہوتے گئے آپ کے عظیم مقام و منصب سے لاعلمی بڑھنے لگی، ہزار سال تک پہنچتے پہنچتے نبوت سے انکار و توہین تک بات پہنچنے لگی، بالآخر وہ نائب و مجدد و منور الف ثانی تشریف لایا جس نے اپنے نبی کے وہ کمالات باطن اور
سب کے مقامات و منازل لوگوں پر عیاں کر دیے اور آپﷺ کی عظمت و رفعت اور درجات کی بلندیوں سے دنیا کو آشنا کر دیا۔؏
ابر رحمت ان کے مرقد پہ گہر باری کرے
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، حضور سرور عالمﷺ کے مبارک دو ناموں کے اسرار و رموز اور ان کی ولایت بیان ہو رہی تھی، مکتوب؍۹۲ آپ نے پڑھا، اب مکتوب؍۹۴ کا کچھ حصہ بھی پڑھ لیجیے جو گویا پہلی تقریر کی ایک گونہ تفصیل ہے، حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حق سبحانہ تعالیٰ فی حد ذاتہ جمیل ہے اور اس کے لیے حسن و جمال ذاتی ثابت ہے، وہ حسن و جمال نہیں جو ہمارے ادراک میں آئے اور ہم پر مکشوف ہو اور ہماری عقل و خیال میں آئے اس کے باوجود اس حضرت میں ایک ایسا مرتبہ ہے اقدس کہ یہ حسن وجمال بھی اپنی غایت عظمت و کبریائی کے باوجود اس مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا ہے اور حسن و جمال سے متصف نہیں کیا جا سکتا ہے تعین اول کہ تعین وجودی ہے اس کمال و جمال ذاتی کا تعین ہے اور اس کا ظل اول ہے اور اس مرتبہ اقدس سے کہ کمال و جمال کی بھی اس جگہ گنجائش نہیں ہے اس تعین (وجودی) میں کچھ ثابت نہیں ہے کہ وہ (مرتبہ اقدس) غایت عظمت و کبریائی کی وجہ سے کسی تعین سے متعین نہیں ہوتا ہے؏
در کدام آئینہ در آید او
اس کے باوجود اس مرتبہ اقدس سے ایک راز اور کیفیت اس تعین اول کے مرکز دائرہ میں ودیعت رکھا ہے اور اس بےنشان سے ایک نشان چھپایا ہے چناں چہ تعین اول ولایت خلیلی کا منشا ہے اور وہ راز اور وہ کیفیت کہ اس تعین کے مرکز میں رکھی ہے ولایت محمدی کا منشا ہےعلیٰ صاحبھا الصلاۃ و السلام
اور وہ حسن و جمال ذاتی کہ تعین اول اس کا ظل ہے صباحت سے مشابہت رکھتا ہے
کہ عالم مجاز میں حسن رخسار و جمال خال کے قبیل سے ہے اور وہ راز و کیفیت کہ مرکز میں امانت رکھی ہے ملاحت سے مناسبت رکھتی ہے جو کہ قد کے حسن اور رخسار کے گورےپن کے علاوہ ہے اور حسن چشم و جمال خال کے ورا ایک امر ذوقی ہے جب تک ذوق نہیں دیں پا نہیں پائیں گے (حاصل نہیں کلر پائیں گے)، ایک شاعر کہتا ہے؎
آں دارد آں نگار کہ آنست ہر چہ ہست
آنرا طلب کنند حریفاں کہ آں کجاست
اس بیان سے ان دونوں ولایتوں کے فرق کا پتا لگا ہے، ہر چند دونوں قرب حضرت ذات تعالیٰ و تقدس سے پیدا ہوئی ہیں لیکن ایک کا مرجع کمالیت ذات ہے اور دوسرے کا صرف ذات تعالیٰ اور جب ملاحت صباحت کے اوپر ہے تو ملاحت تک وصول مرتبہ صباحت کو طے کرنے کے بعد ہی متصور ہو سکتا ہے اور جب تک جمیع مقامات ولایت ابراہیمی تک وصول میسر نہیں ہوگا اس ولایت کی حقیقت تک کہ ولایت محمدی کی اونچی چوٹی ہے میسر نہیں آئےگاعلیٰ صاحبھا الصلاۃ و السلام
ہو سکتا ہے اسی وجہ سے خاتم الرسل علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات حضرت ابراہیم کی ملت کی متابعت کا مامور ہوئے ہوں علیہما الصلاۃ و السلام تاکہ اس متابعت کے وسیلہ سے ان کی ولایت کی حقیقت تک پہنچیں اور وہاں سے اپنی ولایت کی حقیقت کہ جس کی تعبیر ملاحت کی جگہ ہے، سے متحقق ہوں اور چوں کہ ہمارے پیغمبر کو دائرہ ولایت خلت کے مرکز سے مناسبت ذاتی ہے کہ حضرت اجمال ذات سے قریب تر ہے اور اس دائرہ کے محیط سے مناسبت کمتر ہے کہ رخ کمالات ذات تعالیٰ کی تفصیل کی طرف ہے پس جب تک اس دائرہ کے محیط کے کمالات سے بھی متحقق نہیں ہوں گے ولایت خلت تمام نہیں ہوگی اور اسی وجہ سے ماثورہ درود میں کما صلیت علیٰ ابراھیم آیا ہے تاکہ ولایت خلت کے کمالات پورے طور پر آپ کو حاصل ہوں جس طرح سے ولایت والے (یعنی حضرت ابراہیم) کو میسر ہوتے ہیں ، علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ
پھر چند سطر بعد ایک راز بیان کرتے ہیں جو صرف آپ پر ہی منکشف ہوا ہے وہ یہ کہ دائرہ ولایت خلت کے مرکز کا نقطہ کہ اس کے باقی نقطوں سے محبت کے ساتھ ممتاز ہوا ہے اگرچہ بسیط ہے لیکن چوں کہ اعتبار محبیت اور اعتبار محبوبیت کو متضمن ہے صورت دائرہ پیدا کرتا ہے اور اس مرکز سے دائرہ پیدا کرتا کہ اس کا محیط اعتبار محبیت ہے اور اس کا مرکز اعتبار محبوبیت اور ولایت موسوی علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کا منشا اعتبار محبیت ہے کہ اس کا محیط دائرہ ہے اور ولایت محمدی کا منشا اعتبار محبوبیت ہے کہ اس دائرہ کا مرکز ہے حقیقت محمدی کا حصول اس جگہ تصور کرنا چاہیے اور ہزار سال بعد مرکز دائرہ ثانی کے اس نقطہ نے کہ حقیقت محمدی اس سے وابستہ ہے، بھی وسعت پیدا کی اور دو اعتبار اس میں ہویدا ہوئے اور صورت دائرہ میں ظاہر ہوا کہ اس کا مرکز خالص محبوبیت ہے اور اس کا محیط محبوبیت ممتزج بہ محبیت ہے اور منشاء ولایت احمدی اس دائرہ کا مرکز ہے اور احمد دوسرا نام اس سرور علیہ الصلاۃ و السلام کا کہ اہل سمٰوٰت میں اس نام سے معروف ہیں جیسا کہ کہا ہے اس جگہ سے ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام نے کہ اہل سماوات سے ہوئے ہیں اس سرور کی آمد کی بشارت نام احمد کے مانند ہے اور اسم مبارک کو ذات احد جل شانہ سے بہت تقرب ہے اور اس اسم دیگر سے ایک حصہ حضرت ذات تعالیٰ سے نزدیک تر ہے۔ چناں چہ بیان کیا گیا اور یہ اسم (مبارک احمد) اسم مبارک احد سے ایک حلقہ میم جدا ہوا ہے کے وہ مبدأ محبت ہے جو ظہور و اظہار کا باعث ہوا ہے نیز میم کہ احمد میں اندراج ہوتی ہے، حروف مقطعات قرآنی سے ہے جو (حروف) سورتوں کے شروع میں نازل ہوتے ہیں اور اسرار غامضہ سے ہے اور اس لیے حرف مبارک میم کو اس سرور سے خاص خصوصیت ہے جو آپ کی محبوبیت کی باعث ہوئی ہے اور ان کو سب پر فوقیت دی ہے۔