باب ۲۹ از ۵۷صفحات ۳۹۳–۴۰۹
حدیث تجدید اور اس کی تخریج
حضور سرور کونینﷺ کا ارشاد گرامی ہے:‘‘ان اللہ عز وجل یبعث لہٰذہٖ الامۃ علیٰ رأس کل مأئۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا’’ یعنی اللہ عزوجل ہر سو سال کے سرے پر کسی ایسے کو بھیجے گا جو اس کے دین کو نیا اور تازہ کرے گا۔
ابو داؤد نے باب ما یذکر فی قرن المائۃ میں روایت کیا ہے حاکم نے بھی اسے اپنی مستدرک میں روایت کیا ہے،مشکاۃ میں ابو داؤد کے حوالہ سے کتاب العلم فصل دوم میں ذکر کیا ہے،حضرت ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے مرقاۃ شرح مشکاۃ میں مذکورہ بالا کتب کے علاوہ طبرانی کی معجم اوسط کا بھی حوالہ دیا ہے اور اس کی سند ورجال کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس کے سبھی رجال ثقہ(قابل اعتماد) ہیں اس کے علاوہ بھی دیگر کتب احادیث میں اس کو ذکر کیا گیا ہے۔
تجدید کا مفہوم حدیث کی روشنی میں:
مجدد یا تجدید کی اصطلاح اسی حدیث بالا سے لی گئی ہے،حضرت ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے اس حدیث کے بیان میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہ قول بھی نقل فرمایا کہ‘‘ایسا کوئی سال نہ گزرےگا جس میں لوگ کسی بدعت کو رائج اور کسی سنت کو ضائع نہ کریں یہاں تک کہ سنتیں ختم اور بدعتیں رائج ہو جا ئیں گی’’ مشکاۃ میں حدیث مذکورہ بالا کے بعد حضرت ابراہیم کے حوالے سے سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ ارشاد گرامی بھی نقل کیا گیا ہے:
‘‘یحمل ہٰذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وَ انتحال المبطلین وتاویل الجاہلین’’(بیہقی)یعنی اس علم کو(جو قرآن وحدیث کا
علم ہے)عادل(اور ثقہ افراد)اپنے اسلاف(کے جا نشینوں)سے حاصل کرکے غلو کرنے والوں کی تحریفات،باطل پرستوں کے غلط دعاوی اور جا ہلوں کی تاویلات کا انتفا کریں گے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں ان دونوں حدیثوں کے ساتھ یہ حدیث بھی ذکر فرمائی ہے کہ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:‘‘لا تجتمع ہٰذہٖ الامۃ علی الضلالۃ’’ یعنی یہ امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔
ان محدثین اور دیگر بزرگوں کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسری والی حدیث پہلی حدیث کی شرح ہے اور پہلی حدیث اس آخری حدیث یعنی یہ امت کبھی گمراہی پر مجتمع اور متفق نہ ہوگی،قرآن پاک نے خود فرمایا:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾
’’ یعنی ہم نے ذکر(قرآن) اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھنے سے تجدید کی حکمت و مصلحت بھی سمجھ میں آجاتی ہے اور مجدد کے کام بھی معلوم ہو جاتے ہیں،اللہ تعالیٰ نے جس حفاظت کا وعدہ فرمایا اس کا اس عالم اسباب میں یہ انتظام فرمایا کہ ایک تو اپنے کرم سے اس امت کو اس عظمت سے سرفراز فرمادیا کہ کبھی بھی پوری امت گمرہی وضلالت پر جمع نہیں ہوگی،اس دنیا میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا کہ امت کا ہر فرد گمراہ ہو جائے بلکہ ہر دور میں حق پر افراد قائم رہیں گے۔
گمراہ اور بد دین لوگ تین طرح سے حق پر پردہ ڈالیں گے ایک تو غلو کرنے والے تحریفات کرکے دوم باطل لوگ غلط دعاوی کرکے سوم جاہل لوگ بے جا تاویلات کرکے یہ سب اپنے اپنے فاسد مزعومات وخیالات اور باطل نظریات وعقائد کو قرآن وسنت ہی سے ثابت کریں گے جس سے حق کمزور اور مشتبہ ہونے لگے گا تو
اللہ تعالیٰ ایسے بندے پیدا فرمائے گا جو ان باطل پر ستوں کی اس قسم کی تمام کو ششوں کو نا کام بناتے رہیں گے اور حق کی مردہ رگوں میں خون دوڑاتے رہیں گے جس سے دین کو نئی زندگی اور جوانی ملتی رہے گی اور حق پورے کر وفر کے ساتھ جلوہ گر رہے گا،حق اور باطل کے سارے اشتباہات ختم ہوتے رہیں گے اور حق اس قدر واضح ہوتا رہے گا کہ سعادت ازلی جن کی یاور ومددگار ہوگی وہ حق کو بہ آسانی یقین کے ساتھ پہچانتے رہیں گے اور حق وباطل کے درمیان پورا پورا خط امتیاز کھینچتے رہیں گے۔
یہاں یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ دین ایک مکمل نظام حیات ہے،اس کے مختلف شعبے ہیں اور ہر شعبے کے جدا گانہ احکام وضوابط ہیں،اس پر عمل کرنے سے ظاہر کی بھی تطہیر ہوتی ہے اور باطن کی بھی،حدیث شریف سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دین کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی،یہ افراد کو جس طرح برے اعمال واخلاق سے بچاتا ہے اور خدا کی بارگاہ سے دور کرنے والے افعال سے محفوظ رکھتا ہے وہیں باطنی تزکیہ وتطہیر کرکے خداوند قدوس کے حقیقی اور خصوصی جلؤں سے بھی مالامال کرتا ہے۔
نیز یہ بات بھی تاریخ سے عیاں ہے کہ باطل پر ستوں کے حملے مختلف ادوار میں مختلف حصوں پر ہوئے ہیں،کبھی حکومت وسیاست پر کبھی عقائد وذات وصفات وغیرہ پر ،کبھی عمل پر کبھی روحانی تزکیہ وتطہیر پر،حق کا کوئی گوشہ یا شعبہ ایک دن یا ایک ماہ یا ایک مہینہ میں مکمل طور پر مضمحل نہیں ہو جاتا ہے،بلکہ رفتہ رفتہ فسادات پھیلتے ہیں،فتنے جنم لیتے ہیں اور ایک صدی تک بڑھتے بڑھتے وہ فتنے اپنی ایک طاقت بنا لیتے ہیں اور حق پر غالب آنے کے آثار شروع ہو جاتے ہیں۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی ایک شعبہ کبھی کئی ایک،کبھی ظاہر اور کبھی ظاہر وباطن دونوں کمزور پڑنے لگتے ہیں ایسے عالم میں پروردگار عالم ان طاقتوروں کو پیدا کرتا ہے
جن کی ضرورت ہوتی ہے اور انھیں پورے طور پر اس کام کی طرف متوجہ کر دیتا ہے،وہ حق کے جلوے اس قدر عام کر دیتے ہیں اور ایسی رونق بخش دیتے ہیں کہ اہل سعادت کے قلب وجگر معمور اور پر نور ہو جاتے ہیں۔
یہ ہے تجدید اور مجددین کا اجمالی بیان جو احادیث کی روشنی میں ہمارے سامنے آتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ دین کے ظاہر وباطن کی تجدید اپنے اندر اس قدر وسعت رکھتی ہے کہ اس پر کافی تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے،احادیث،اقوال علما اور بزرگان دین کے ارشادات کی روشنی میں جو کچھ اس وقت ہماری فہم قاصر میں آیا ہے میں اسے سپرد قلم کرتا ہوں تاکہ یہ گوشہ اچھی طرح واضح ہو جائے اور آغاز میں مذکورہ با لا سوالات کا شافی جواب ہاتھ آجائے۔ وباللہ التوفیق
ضروری امور:
تجدید کی حقیقت اور اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے پہلے چند امور ذہن میں محفوظ کر لیجئے:
(1)سرور کون ومکاں ﷺ جامع جمیع کمالات الٰہیہ ہیں امت میں جو بھی کمالات الٰہیہ ہیں، امت میں جو بھی کمالات ظاہر ہوئے اور جو علوم ومعارف علما وعرفا کو حاصل ہوئے یا ہوں گے سب آپ کے کمالات کا پرتو اور عکس ہیں سب کا منبع ومخزن آپ ﷺ کی ذات مبارکہ ہے پھر آپ کے کمالات کچھ وہ ہیں جن کا تعلق ظاہر سے ہے اور کچھ وہ ہیں جن کا تعلق باطن سے ہے۔
(2)آپ ﷺ کے وہ کمالات جن سے امت کو حصہ حاصل ہوتا ہے اور امت کو اتباع وپیروی کی دولت حاصل ہو سکتی ہے اس کے سات درجے حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات شریف سے ماخوذ ہو سکتے ہیں۔
اول:وہ اوصاف وکمالات جن کا تعلق ظاہر کے عمل اور قلب کی تصدیق سے
ہے جن کو قرآن وسنت میں بیان فرمایا گیا ہے،درجہ ولایت پر پہنچنے اور اطمینان نفس کی منزل سے پہلے جن احکام وشرائع اور عقائد سے وابستگی ہوتی ہے،علماے ظاہر وعباد(عبادت کرنے والے) اور زاہدین جو اطمینان قلب کی منزل تک نہ پہنچے ہوں ان سب کو حسب عمل انھیں کمالات سے حصہ ملا ہے،ان میں جتنا زیادہ جو احکام شرع اور عقائد صحیحہ سے آراستہ ہے اتنا ہی وہ فیضیاب اور صاحب کمال ہے۔
دوم: آپ ﷺ کے وہ اقوال وافعال ہیں جو باطن سے تعلق رکھتے ہیں اخلاق کی تہذیب اور صفات رذیلہ کا دفع اور امراض باطنیہ وعلل معنویہ کا ازالہ جوکہ مقام طریقت سے تعلق رکھتے ہیں اس درجہ کے کمالات ان ارباب سلوک کے ساتھ مخصوص ہیں جنھوں نے طریقۂ صوفیہ کو شیخ کامل سے حاصل کیا ہو اور سیر الیٰ اللہ کے صحراؤں اور پر خطر وادیوں کو طے کر چکے ہوں۔
سوم:سرور کونینﷺ کے وہ احوال واذواق ومواجید ہیں جو کہ ولایت خاصہ سے تعلق رکھتے ہیں اس درجہ کے کمالات ان ارباب ولایت کے ساتھ مخصوص ہیں جو مجذوب سالک یا سالک مجذوب ہوں،جب مرتبہ ولایت کو مکمل طے کر لیا گیا تو نفس مطمئنہ ہو گیا اس کے بعد چوتھا درجہ شروع ہوتا ہے۔
درجہ چہارم:یہ علما راسخین کے ساتھ مخصوص ہے اس درجہ میں اور پہلے درجہ میں فرق یہ ہے کہ اس مرحلہ میں عمل واتباع صورتا ہوتی ہے اور اس درجہ میں حقیقتا اس کی تفصیل بسط چاہتی ہے جو پھر کسی مقام پر کی جائے گی،اولیاے کرام کو اگرچہ تمکین کے بعد ایک قسم کا اطمینان حاصل ہوجاتا ہے مگر مکمل اطمینان کمالات نبوت میں حاصل ہوتا ہے اس درجہ کے کمالات سے کتاب وسنت کے متشابہات کی تاویلات اور مقطعات قرآنی کے اسرار ورموز ہیں، یہاں اسرار ورموز سے مراد وہ تاویلات نہیں ہیں جن کا تعلق علم ظاہر سے ہے جیسے ید کی تاویل قدرت سے اور وجہ کی ذات سے یہ
اسرار و رموز دراصل معاملات ہیں جو ان متشابہات ومقطعات سے متعلق ہیں ان کی تفصیل کے لیے دوسرا مقام ہے:
درجہ پنجم: میں آپ ﷺ کے وہ کمالات ہیں جن کے حصول میں علم وعمل کو کوئی دخل نہیں ان کا حصول محض فضل خداوندی اور عنایت ایزدی پر ہے یہ درجہ نہایت بلند ہے اس سے پہلے والے درجات کو اس درجہ سے کوئی لگاؤ اور تعلق نہیں،اس درجہ کے کمالات بالاصالت انبیاے کرام علیہم السلام کو حاصل ہوتے ہیں ان کی تبعیت ووراثت میں جس کو خدا چاہے ان سے نوازے۔
درجہ ششم: میں وہ کمالات ہیں جو محبوب کونین ﷺ کے مقام محبوبیت کے ساتھ مخصوص ہیں اس درجہ میں بھی علم وعمل کو کوئی دخل نہیں محض محبت کے ساتھ یہ کمالات مخصوص ہیں جو کہ تفضل واحسان سے بھی بالا ہے اس درجہ کے کمالات اقل قلیل بہت خاص بندوں کو حاصل ہوتے ہیں،خیال رہے کہ پہلے کے علاوہ باقی پانچ درجات کا تعلق عروج کے مقامات سے ہے ان کا حصول صعود سے وابستہ ہے۔
درجہ ہفتم: میں وہ کمالات ہیں جو ہبوط ونزول سے تعلق رکھتے ہیں یہ درجہ تمام درجہ سابقہ کا جامع ہے،معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے نہایت اختصار کے ساتھ کمالات کے سات درجے بیان کردیے تفصیل کے لیے مکتوب 54 جلد دوم کی طرف رجوع کریں نیز میں نے ہر درجہ کے کمالات کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی کیونکہ وہ بسط چاہتی ہے اس کے لیے حضرت مجدد قدس سرہ اور ان کے فرزند حضرت خواجہ محمد معصوم اور حضرت شاہ غلام علی قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم کے مکتوبات کی طرف رجوع کیا جائے نیز مذکورہ تفصیل کو اگر اجمال میں لانا چاہیں تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ کمالات دوقسم کے ہیں ظاہری وباطنی اول میں علمی وعملی واعتقادی اور دوم میں باقی سب درجات۔
(3)اس امت مرحومہ میں آپﷺ کے کمالات مختلف زمانوں میں مختلف ظاہر ہوئے اور ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے،حضرت شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں"حضورﷺ کے افاضات سے جو کمال صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں پر چمکا اس نے صحابہ کرام کو قرب الٰہی سبحانہ کے انتہائی درجہ پر پہنچا دیا اور وہ (کمال)تجلیہ ذاتیہ دائمہ ہے پس وہ لوگ نیکی واحسان ویقین و محبت اور حضرت حق سبحانہ کی معرفت کے اعلیٰ درجہ پر پہنچے اور دنیا سے اعراض ،آخرت کی طرف توجہ اور سنن ہدیٰ بلکہ آقا علیہ السلام کی سنن عادیہ کو اپنی پسندیدہ عادت بنا لیا اور نماز کو بطریق مسنون کہ مومن کی معراج ہے اور تلاوت قرآن مجید اور اذکار ماثورہ سے فائدے حاصل کیے ،وطن وملک اور املاک کو چھوڑا اور کافروں کے ساتھ جہاد اور جنگوں اور خدا کی راہ میں شہادت کی آرزو رکھتے تھے،نسبت سنیہ اور طمانیت کی وجہ سے حالت یہ تھی کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں اور کمال خضوع کی وجہ سے گویا اللہ تعالیٰ کو ماتھے کی آنکھ سے دیکھتے تھے کہتے تھے
‘‘کنا نتراء اللہ ہا ہنا’’
اولیاء کرام کو ضیائی شہود ہوتا ہے اور سرور کونینﷺ کے مشاہدہ قویہ کے انعکاس کی وجہ سے صحابہ کرام کو گویا رویت عین ہے اور یہ ان کے وجوہ فضل سے ہے اولیاء امت پر، راہ خدا میں کمال مجا ہدات،ترک دنیا اور رغبت آخرت کی وجہ سے وہ اپنے سے بے خبر تھے مرتبہ احسان کا کمال اور ان حالات کی لطافت وصفا جن سے دست ادراک کوتاہ ہے ان کا سرمایہ تھا اور فنا وبقا واستغراق اور بےخودی اور اسرار توحید وجودی اور کثرت خوارق ان اکابر سے منقول نہیں ہیں پھر تاجدار مدینہ ﷺ کے قلب پاک سے تعلق رکھنے والا کمال اللہ تعالیٰ نے امت میں ظاہر فرمایا، اس کمال کے قابل اکابر صوفیہ مثل حضرت ذوالنون مصری،حضرت بایزید بسطامی وحضرت
جنید بغدادی اور ان جیسے بزرگ ہوئے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین اس کمال کے مقتضیات،ذوق وشوق،استغراق وبے خودی،آہ ونالہ،اسرار توحید،اشعار ونغمہ کا سننا ،وجد ورقص،حسن وجمال کی طرف میلان،کم کھانا،کم سونا وغیرہ ہیں اور حق سبحانہ کے مشہود میں متحیر ہونا ،سکر ومستی،فنا وبقا اور عالم کو وجود حق اور اس کے توابع کا مظہر پانا اس کمال کے معارف سے ہے۔
یہ کمال اسرار قلبی سے ہے اس جگہ میں تجلیات افعالیہ وصفاتیہ ظاہر ہوتی ہیں اور اس ذوق وشوق قلبی اور نور توحید کو دیکھنے سے ہر طرف انجمنیں آراستہ ہوتی ہیں اور ولولہ وطنطنہ،شورش وگرمی اور دل کی بے تابی دنیا میں پیدا ہوئی ہے۔
پھر محبت والفت کے آثار ونتائج کی نہایت حسین اور انوکھی تصویر کھینچنے کے بعد فرماتے ہیں: ‘‘لیکن اصحاب کرام کا طریقہ کہ صفاء مرتبہ احسان اور اقتصار اذکار ماثورہ تھا ناپید ہوگیا ،انھیں حالات قلبی نے ولایت کو نبوت پر فضیلت دی کہ ولایت میں توجہ اور رخ حق کی طرف ہے اور نبوت میں توجہ خلق کی جانب’’ مزید تفصیل کے لیے مکتوب 92 ملاحظہ ہو۔
(4)قرآن مجیدتمام احکام وشرائع کا جامع ہے حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘قرآن مجید جمیع احکام شرعیہ کا جامع ہے بلکہ تمام شرائع سابقہ کا جامع ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہ بعض احکام اس شریعت میں اس قسم کے ہیں جو عبارۃ النص،اشارۃ النص،دلالۃ النص اور اقتضاء النص سے مفہوم ہوتے ہیں اہل لغت کے عوام وخواص اس فہم میں برابر ہیں اور دوسری قسم کے وہ احکام ہیں جو استنباط واجتہاد کے واسطے سے مفہوم ہوتے ہیں یہ فہم ائمہ مجتہدین کے ساتھ مخصوص ہے۔
تیسری قسم کے وہ احکام ہیں جن کے فہم میں طاقت بشری عاجز ہے جب تک احکام نازل فرمانے والے جل جلالہ کی جانب سے اعلام(خبر دینا) حاصل نہ ہو ان کا فہم
متصور نہیں ہو سکتا ہے یہ اعلام رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے رسول اکرمﷺ کے علاوہ کسی کو یہ اعلام حاصل نہیں،یہ احکام ہر چند کتاب سے ماخوذ ہیں لیکن ان احکام کے مظہر رسول اللہ ﷺ ہیں (اس لیے ) لا محالہ ان احکام کو سنت کی طرف منسوب رکھا ہے کیونکہ ان کو ظاہر کرنے والی نسبت ہے (یہ ایسے ہی ہے)جیسے احکام اجتہادیہ کو قیاس کی طرف منسوب کرتے ہیں اس اعتبار سے کہ ان احکام کا مظہر قیاس ہے تو سنت وقیاس دونوں احکام کے مظہر ہوئے اگرچہ ان دونوں مظہروں میں بہت فرق ہے کہ ایک کا اعتماد راے پر ہے جو کہ خطا کی گنجائش رکھتی ہے اور دوسرا حق جل وعلا کے اعلام سے موید ہے کہ اس جگہ خطا کی گنجائش نہیں۔
دوسری قسم(سنت)اصل(قرآن)سے کمال مشابہت رکھتی ہے گویا مثبت احکام ہے ہر چند در حقیقت تمام احکام کی مثبت وہی کتاب عزیز ہے،الغرض احکام شرعیہ کے اثبات میں معتبر کتاب وسنت ہیں اور مجتہدین کا قیاس اور اجماع امت بھی احکام کو ثابت کرتے ہیں،یہی چار دلائل ہیں ان کے بعد کوئی دلیل احکام شرعیہ کی مثبت نہیں ہو سکتی۔(یہاں تک میں نے مکتوب 55جلد دوم کا متعدد مقامات سے گویا لفظی ترجہ نقل کیا ہے)
(5)احکام شرعیہ کے علاوہ دیگر علوم ومعارف ہیں جن سے اہل اللہ مخصوص ہوتے ہیں،اگرچہ یہ معارف بھی انھیں احکام کےثمرات ونتائج ہیں لہٰذا یہ بات بھی جائز ہے کہ خواص اہل اللہ ذات باری تعالیٰ وصفات وافعال کے معارف میں ان اسرار ورموز کا ادراک وفہم حاصل کریں جن سے ظاہر شریعت خاموش اور ساکت ہے اور حرکات وسکنات میں اللہ تعالیٰ کا اذن وعدم اذن پائیں اور مرضی وغیر مرضی جان لیں۔
بسا اوقات ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات میں بعض عبادت نافلہ کی ادائیگی میں مرضی کے بجائے غیر مرضی مولیٰ پائیں اور اس کے ترک کے ماذون ہوں،کبھی
نیند کو بیداری سے بہتر سمجھیں،احکام شرعیہ اوقات سے موقت ہیں اور احکام الہامیہ ہمہ وقت ثابت ہیں اور چونکہ ان بزرگوں کے حرکات وسکنات اللہ تعالیٰ کے اذن واجازت سے مربوط ہیں ناچار دوسروں کے نوافل بھی ان کے فرائض ہوں گے مثلاً ایک فعل ایک شخص کی نسبت بحکم شریعت نفل ہے وہی دوسرے شخص کی بہ نسبت فرض پس دیگر لوگ کبھی نوافل ادا کرتے ہیں اور کبھی امور مباحہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہ بزرگوار چونکہ کام مولیٰ تعالیٰ کے اذن واجازت اور حکم سے رکھتے ہیں اسی لیے سب فرائض سے ادا ہوتا ہے۔
دوسروں کا مستحب ومباح ان کا فرض ہے،اس سے ان بزرگوں کی بلندی شان تصور کرنی چاہیے،علماے ظواہر غیبی خبروں کو انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی خبروں کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں اور دوسروں کو ان چیزوں میں شرکت نہیں دیتے ہیں، یہ بات وراثت کے منافی ہے اور بہت سے علوم ومعارف صحیحہ جو کہ دین متین سے تعلق رکھتے ہیں،کی نفی کرتے ہیں،ہاں! احکام شرعیہ جو ادلۂ اربعہ سے مربوط ہیں ان میں الہام کی گنجائش نہیں ہے لیکن امور دینیہ احکام شرعیہ کے علاوہ بہت ہیں کہ جن میں پانچویں اصل الہام ہے۔
اب رہ گیا یہ سوال کہ جب دین کتاب وسنت سے کامل ہو چکا تو کمال کے بعد الہام کی کیا ضرورت ہے اور کیا نقصان اور کمی رہ گئی تھی جس کی تکمیل الہام سے کی جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ الہام کمالالت زائدہ کا مثبت نہیں ہے بلکہ پوشیدہ امور اور دین کے مخفی کمالات کا مظہر ہے جس طرح اجتہاد مظہر احکام ہے اسی طرح الہام ان دقائق واسرار کا مظہر ہے جن سے اکثر لوگوں کا ادراک قاصر اور فہم کوتاہ ہے۔
ہر چند الہام واجتہاد میں فرق واضح ہے کہ اجتہاد راے کی طرف منسوب اور یہ الہام خالق عز وجل کی طرف تو الہام نے ایک قسم کی اصالت پیدا کرلی جو کہ اجتہاد
میں نہیں ہے ،الہام اعلام نبی کے مشابہ ہے جو کہ ماخذ سنت ہے جیسا کہ گزرگیا اور یہ الہام ظنی ہے اور وہ اعلام علم قطعی۔(ماخوذ از مکتوب 55 جلد دوم مکتوبات شریف)
(6)استعداد وصلاحیت،فہم وادراک،علم وعمل ،اجتہاد واستنباط اور سعادت وشقاوت وغیرہ میں اس حکیم مطلق جل وعلا نے لوگوں کو مختلف طبقات ومراتب پر پیدا فرمایا اور تقسیم ازلی نے سب کو جدا جدا مراتب ومقامات اور اظہار کمالات میں مختلف منازل عطا فرمائے یہی وجہ ہے کہ قرآن وسنت کے ظاہروباطن اور بحر ذخار سے علوم ومعانی ،احکام وشرائع،معارف وحقائق،عبرت ونصیحت اور خوف وخشیت وغیرہ اوصاف وفضائل حاصل کرنے میں لوگ مختلف ہیں،مجتہدین کا فرق مراتب ہمارے سامنے ہے، احکام ومسائل کے استنباط میں ان کے کثیر اختلافات دعویٰ مذکورہ کی بین دلیل ہیں،کوئی علوم وفنون کے اخذ میں اتنا آگے ہے کہ اس کے ادراک وفہم کو بڑے بڑے نہ پا سکے ،اور بلندی ماخذ سے کوتاہ دستی کی وجہ سے معترض ہو بیٹھے کچھ کا کچھ کہنے اور بکنے لگے جیسے سراج الامہ امام الائمہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ قدس سرہ۔
اسی قرآن وسنت کے ظاہری معانی ومفاہیم تک بعض علما کی رسائی ہوتی ہے اور اسی سے بعض ان سے بڑھ کر مسائل واحکام کی تحقیق وتدقیق فرماتے ہیں اور کچھ آگے بڑھتے ہیں تو اسی بحر ذخار سے وہ گوہر آبدار اور لعل وجواہر نکال کر لاتے ہیں جن سے زمانے کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں اور لوگ جدید مسائل واحکام کی دولتوں سے مالامال ہوتے ہیں،یہ غوطہ زن بھی اپنی اپنی طاقت وقوت کے اعتبار سے مختلف قسم کے موتی پاتے ہیں، کچھ اور بڑھتے ہیں جو اسی سے معارف وحقائق کے گنجینے پاتے ہیں، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اسرار و رموز اور معانی ومطالب کے مقطعات ومتشابہات میں دریا تلاش کر لیتے ہیں، یہ ہدایت و رشد کے حاملوں کا حال ہے جو کہ
اس کو سن کر دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں،خوف وخشیت سے قلوب کانپتے ہیں اور بدن لرزتے ہیں اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں،اسی کی تلاوت کرنے والے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے پانی کی موجیں رک جاتی ہیں،دھاریں ٹھہر جاتی ہیں،وحوش وطیور اور حیوانات ودرندے بھی مدہوش ہو ئے بغیر نہیں رہ پاتے ہیں۔
اور اس کو سن کر نرے بھٹکتے بھی ہیں گمراہ بھی ہوتے ہیں،اسی سے استدلال کرکے کافر ومرتد بھی ہوتے ہیں،طغیان وسرکشی میں تیز سے تیز تر ہوتے چلے جاتے ہیں الغرض اس گلستاں سے کوئی علم وعمل ،فضل وعرفان اور تقویٰ وطہارت کے پھول چنتا ہے اور اعتقاد وعمل کی صحیح روشنی حاصل کرکے ابدی نجات اور سرمدی فتوحات کا سامان مہیا کرتا ہے تو کسی کو طغیان وسرکشی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔
عقائد واعمال میں لوگ جس قدر بھٹکے اور کم یا زیادہ ضلالت وگمرہی کا شکار ہوئے سب اسلامی فرقوں نےاپنا ماخذ قرآن وسنت ہی کو بنایا،مگر رشد وہدایت اور گمرہی وضلالت اور ان کے مختلف درجات کے حامل انسانوں کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے ہے جنھوں نے سعادت ازلی اور شقاوت کے اعتبار سے مختلف حصے حاصل کیے۔
(7)حکمت الٰہیہ اور مشیت ازلی کا تقاضہ یہ ہوا کہ ظاہری وباطنی فیوضات وبرکات اور حقائق وکمالات کو مختلف اوقات وازمان کے ساتھ موقت فرمائے اور مختلف اشخاص وافراد کے ذریعہ انھیں منصہ شہود پر جلوہ گر فرمائے، جس زمانے کے لوگوں کو جیسی ضرورتیں آئیں جیسی ان کی صلاحتیں ہوں اسی طرح کی عنایات سے انھیں نوازا جائے اور ان کے ظاہر وباطن کی تکمیل کی جائے۔
پھر منشا الٰہی سب زمانوں میں سب کے ساتھ رشد وہدایت کا نہ تھا بلکہ ہمیشہ حق کے ساتھ باطل،صحیح کے ساتھ فاسد لگا رہا،ایک طرف داعیان حق کی دعوت قبول
کرنے والے تھے تو دوسری طرف اہل باطل کی باطل باتوں پر لبیک کہنے والے بھی تھے، سچ کہا ہے کسی نے؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفی سے شرار بو لہبی
اہل باطل کا کام ہمیشہ حق کو دبانااور نور حق کو بجھانا رہا کبھی مادی طاقتوں کے ذریعہ تو کبھی حق میں باطل کی تخلیط کرکے۔کبھی معانی حقہ ومطالب صادقہ میں غلط تاویلات اور نصوص و آیات میں تحریف وتبدیل کرکے یہ تحریف وتبدیل اور تخلیط وتلبیس کبھی ایسی ہوتی ہے جسے ادنیٰ تامل اور معمولی غور وفکر سے سمجھا جا سکتا تھا اور کبھی اتنی گہری کہ جس کے لیے دقیق نظر کی ضرورت درکار ہوتی۔
نیز باطل کبھی کچھ ہوتا کبھی کچھ کبھی بہت بڑی طاقت کا مالک ہوتا ،ظاہر ہے جس زمانے میں باطل جس قوت کا حامل ہوتا اس کے لیے ایسے ہی طاقتور حق پرست کی ضرورت ہوتی،مالک رحمت جل وعلا انھیں اسلحوں سے لیس ویسے ہی مجاہد پیدا فرماتا ہے۔ مختصر یہ کہ تکمیل نفوس اور احقاق حق وابطال باطل کے لیے جیسے جیسے مقدس نفوس اور مجاہدوں کی ضرورت پڑی ہر زمانے کو ایسے جتنے افراد کی ضرورت پڑی اسی قدر وہ اپنے بندوں میں ایسے افراد بھیج کر رحمتیں اور احسانات فرماتا رہا۔
پہلے یہ کام حسب ضرورت انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات انجام دیتے رہے،جن جن شہروں،صوبوں،ملکوں اور زمانوں میں جیسی قوتوں کے حامل ان مقدس نفوس کی اہل زمانہ کو ضرورت ہوتی رہی یہ تشریف لاتے رہے،مختلف قوموں اور افراد کو ان کے تہذیبی وتمدنی ارتقا کے اعتبار سے جیسے جیسے احکام ومسائل کی ضرورت پڑتی رہی یہ دیتے رہے،ان کی صلاحیتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے ان کی تکمیل کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ کبھی نبی تشریف لائے تو کبھی وہ تشریف لائے جو
نبوت کے ساتھ ساتھ رسالت کے بھی حامل تھے پھر رسولوں میں کبھی کبھی اولوالعزم رسل تشریف لائے پھر کبھی کتنے آئے کبھی کتنے آئے مختلف صحیفے اور کتب سماویہ لائے اور سب کے آخر میں خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کو سارے اوصاف حمیدہ وخصائل محمودہ کا جامع بنا کر دنیا والوں کو عطا فرمادیا جو تمام کمالات سابقہ کے جامع اور جدید معارف و حقائق اور کمالات وفضائل کے حامل بن کر تشریف لائے اور کتاب آسمانی کا نسخہ جامعہ ساتھ لائے،اب آپ کے بعد کسی جدید نبی کا امکان نہ تھا اور نہ ہی قرآن مجید کے بعد کسی صحیفے وکتاب کی ضرورت تھی کیونکہ اس میں سب کچھ تھا سب زمانوں اور سب ملکوں اور سب قوموں کے لیے تھا۔
مگر جس زمانے میں آپ ﷺ نے ظہور پر نور فرمایا، جس ملک وقوم میں ظہور فرمایا تنہا وہ اس کے حامل نہ تھے کہ تمام کمالات ان پر عیاں کر دیے جا ئیں،قرآن وسنت سے سارے حجابات اٹھا دیے جائیں بلکہ انھیں اپنی موجودہ تہذیب وتمدن اور تتمیم وتکمیل کے لیے جو کچھ چاہئے تھا اپنی بلند استعداد اور صلاحیت کے اعتبار سے وہ جو کچھ لے سکتے تھے انھیں دیا گیا اور انھوں نے لیا بھی پھر کیا تھا دم میں کایا پلٹ گئی اور وہ کچھ کا کچھ بن گئے۔
اب آپﷺ کے بعد بھی ابھی دنیاوی ترقیات ہونا تھیں نئی نئی ایجادات واختراعات ہونا تھیں،تہذیبیں بدلنا تھیں،آپ کی تعلیمات اور فیوض وبرکات کو مختلف زمانوں اور مختلف قوموں میں پہنچا نا تھا،ہر ایک کو اس کی ظاہری وباطنی استعداد وصلاحیت کے اعتبار سے ظاہری وباطنی کمالات سے نوازنا تھا ،باطل کی تخلیط وتلبیس سے مقابلہ کرنا تھا۔
آپ ﷺ کے بلند وعظیم نور نے باطل کو سر اٹھانے کے قابل نہ رکھا تھا ہر طرف کفر وضلالت کی تاریکیاں چھٹ رہی تھیں،عقائد واعمال کی اصلاح ہو رہی تھی
،آپﷺ نے جن کو اپنی ظاہری حیات مبارکہ میں اپنے نور سے منور کیا تھا ان کے بازووں کی قوت کا مقابلہ کرنے کا کسی میں دم نہ تھا،قلوب وابدان میں نور کے نفوذ نے وہ جگہ ہی کہاں چھوڑی تھی جس سے شیطانی وسوسوں سے عقائد واعمال میں کچھ خرابی پیدا ہو سکتی تھی۔
مگر جب آپﷺ تشریف لے گئے اور آپ کے فیضان نظر کے فیض یافتہ اس دنیا سے دھیرے دھیرے جانے لگے تو باطل نے سر اٹھانا شروع کیا نور کدہ کو ظلمت کدہ بنانے کی تیاریاں ہونے لگیں اور عقائد واعمال میں کجی کے دروازے کھلنے لگے،وساوس شیطانی کو دلوں میں داخل ہونے کے لیے چور دروازے ہاتھ آنے لگے اور حق کے ساتھ باطل کی تلبیس وتخلیط شروع ہو گئی۔
اب آپﷺ کے بعد کسی جدید نبی کا چونکہ امکان ختم ہوچکا تھا لہٰذا جو کام پہلے ادوار میں انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات انجام دیتے رہے اس کے لیے اس امت کے علماء کو چنا گیا اور وراثت ونیابت کا تاج زریں انھیں عطا فرمایا گیا اور قیامت تک کے لیے رحمتوں اور برکتوں کا دروازہ ایسے پاکیزہ نفوس کے روپ میں کھول دیا گیا۔
اب پہلے کے مقابلے میں آبادی بھی بڑھ رہی تھی دنیا جو مبغوض خدا ہے اس کی ترقیاں بھی ہو رہی تھیں،تہذیبیں بدل رہی تھیں،ہر بعد کا دور پہلے کے دور سے تیز ترقی پر تھا مختلف قوموں اور زبانوں کے حامل انسانوں اور سعید وشقی افراد واشخاص کے ہاتھوں میں قرآن وسنت عربی زبان میں پہنچ رہے تھے ،شیطانی چیلے بڑھتے جا رہے تھے اور دنیوی مفادات عیاں سے عیاں تر ہوتے جا رہے تھے۔
ایسے حالات میں مختلف زمانوں میں مختلف ملکوں میں کیسے کیسے قوی افراد کی ضرورت تھی یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ خوب جانتے تھے جو باطل پرستوں
کے وعظ کا مقابلہ وعظ سے تقریر کا تقریر سے،تحریر کا تحریر سے ، قلوب کی ظلمتوں کا نورانیت سے کرنے کا دم رکھتے،میدان کارزار میں جنگ وجہاد سے باطل کا منھ پھیر سکتے جو ایسی باریک نظر کے حامل ہوتے کہ باطل کسی بھی روپ میں کسی بھی زمانے میں کتنی گہری سازش کے ساتھ آتا پہچان لیتے اور دفن کر دیتے۔
جو زمانے کے تقاضوں اور حالات کے اعتبار سے ان تمام معنوی قوتوں اور باطنی کمالات کے حامل ہوتے جن سے اس زمانے کے لوگوں کے نفوس کی تکمیل ہوتی اور ان کی قوت واستعداد فعل میں تبدیلی ہوتی،ایسے افراد ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے،جب اجتہاد واستنباط اور اصول واوضاع کی تدوین وترتیب کی ضرورت تھی تو مجتہدین پیدا فرمائے،پند ووعظ کی ضرورت تھی تو ساحرالبیان واعظین ومقررین پیدا فرمائے اور تصنیفات وتالیفات کی ضرورت تھی تو مصنفین ومولفین پیدا فرمائے۔احادیث کی تدوین وتنقیح اور فاسد سے صحیح کو جدا کرنے کی ضرورت تھی تو محدثین پیدا فرمائے،احکام وشرائع کے حکم وعلل ومصالح اور اسرار ورموز کی ضرورت تھی تو حاملان اسرار ورموز پیدا فرمائے یہ تو سب کچھ ظاہر کی تکمیل کے لیے ہوا۔
قلب ونفس کے تصفیہ وتزکیہ،فضل وکمال،وصل وعرفان اور دیگر معنوی فیوضات وبرکات کے لیے مختلف شعبوں میں مختلف مراتب ومقامات کے حامل افراد زمانے کو عطا فرمائے جس طرح سابقہ ادوار میں مختلف ازمان میں انبیاے کرام ورسولان عظام واولوالعزم مرسلین علیہم الصلوات والتسلیمات زمانے کے حالات وتقاضوں کے اعتبار سے مختلف قوتوں وطاقتوں کے حامل مقامات ومراتب پر فائز تشریف لاتے رہے اسی طرح اس امت میں عملی واعتقادی خامیوں کو دور کرنے،راہ راست پر قائم رکھنے اور جدید کمالات سے آراستہ کرنے اور قدیم کمالات کو نئی تازگی دینے کے لیے علما و واعظین فقہا ومجتہدین اور صلحا وکاملین آتے رہے ہیں اور آتے رہیں