مواد پر جائیں

باب ۴۲ از ۵۷صفحات ۵۷۱–۵۹۳

محبت اہل بیت

محبت اہل بیت کے فوائد وثمرات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ اہل سنت کو اہل بیت سے محبت نہیں کیونکہ یہ محبت ایمان کاجز ہے اور سلامتیِ خاتمہ کو اس محبت کے رسوخ سے وابستہ کیا ہے،اس فقیر کے والد بزرگوار(مخدوم عبد الاحد قدس سرہ) کہ علم ظاہر وباطن کے عالم تھے،اکثر اوقات اہل

بیت کی محبت کی ترغیب فرماتے اور فرماتے تھے کہ اس محبت کو سلامتیِ خاتمہ میں دخل عظیم ہے،اس کی حفاظت کرنی چاہیے،ان کے مرض موت میں یہ فقیر حاضر تھا جب آپ کا معاملہ آ خر کو پہنچا اور اس عالم کا شعور کم رہ گیا،فقیر نے اس وقت میں ان کی بات کو یاد دلایا اور اس محبت کے بارے میں پوچھا؟

اس بے خودی کے بارے میں فرمایا کہ میں اہل بیت کی محبت میں غرق ہوں،اللہ عز وجل کا شکر بجا لایا گیا،محبت اہل بیت ،اہل سنت کا سرمایہ ہے مخالف اس چیز سے غافل ہیں اور ان کی متوسط محبت سے جاہل۔’’

پھر آپ نے اہل بیت کی محبت کے سلسلے میں خوب خبر لی ہے،چند اقتباسات پیش خدمت ہیں:

(۱)مکتوب ۸۰ جلد۱ میں پہلے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تہتر فرقوں میں ناجی فرقہ اہل سنت وجماعت کا ہے پھر اس حدیث شریف سے اس کا یوں اثبات کرتے ہیں کہ آقا علیہ الصلاۃ والسلام سے جب اس فرقۂ ناجیہ کی علامت پوچھی گئی تو آپﷺ نے فرمایا‘‘الذین ہم ما انا علیہ واصحابی’’

حضرت مجدد قدس سرہ یہاں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اتنا ہی کافی تھا کہ فرما دیا جاتا کہ جو فرقہ میرے طریقے پر ہوگا وہ نجات یا فتہ ہے پھر واصحابی کا ذکر کیوں ہوا، پھر اس کی گتھی کو یوں سلجھاتے ہیں کہ آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ صحابۂ کرام کا ذکر اس بنیاد پر ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ میرا طریقہ وہی ہے جو میرے صحابہ کا طریقہ ہے، اور نجات کا راستہ صحابہ کے طریقے کے ساتھ متعلق ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:‘‘من یطع الرسول فقد اطاع اللہ’’ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اطاعت رسول عین اطاعت حق ہے،رسول اللہﷺ کی اطاعت کے خلاف عین معصیت حق جل جلالہ ہے،پھر آیت سے ثابت کرتے ہیں کہ جو اطاعت خدا کو

اطاعت رسول کے خلاف تصور کرتے ہیں قرآن انھیں کافر کہتا ہے،پھر اپنے مطلب کو یوں بیان فرماتے ہیں:

‘‘پس درما نحن فیہ دعویٰ اتباع آں سرور نمودن علیہ الصلاۃ والسلام بخلاف اتباع طریق اصحاب رضوان اللہ تعالٰ علیہم اجمعین دعویٰ باطل است بلکہ آن اتباع فی الحقیقت عین معصیت رسول است علیہ الصلاۃ والسلام پس نجات را دراں طریق مخالف چہ مجال۔’’

ترجمہ: ہماری گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے طریقے کی پیروی کیے بغیر اتباع رسول ﷺ کا دعویٰ باطل ہے، بلکہ یہ اتباع در حقیقت رسول اکرم ﷺ کی معصیت ہے، پس ان کا طریقہ کہا ں اور نجات اخروی کہاں۔

پھر یہ ثابت کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی اتباع وپیروی کا جس فرقہ نے التزام کیا ہے وہ اہل سنت وجماعت ہیں کو ئی دوسرا نہیں کیونکہ جو لوگ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے اصحاب میں طعن کرتے ہیں وہ خود ان اصحاب کی اتباع سے محروم ہیں جیسے شیعہ اور خوارج،اور معتزلہ جو مذہب محدَث(نو پید) رکھتے ہیں ان کا سردار واصل ابن عطا امام حسن بصری کے شاگردوں سے ہے کہ ایمان وکفر کے درمیان واسطہ ثابت کرکے امام سے جدا ہو گیااور امام نے ان کی شان میں فرمایا:اعتزل عنا،اسی قیاس پر باقی دوسرے فرقے ہیں۔

پھر صحابۂ کرام میں طعن کرنے کے عیوب ونقائص یوں بیان فرماتے ہیں:

‘‘طعن کردن در اصحاب فی الحقیقۃ طعن کردن است بہ پیغمبر خدا جل شانہ اٰ من برسول اللہ من یوقّر اصحابہ چہ خبث ایشاں منجر بہ خبث صاحب ایشاں میشود نعوذ باللہ سبحانہ من ہٰذا الاعتقاد السوء۔’’

ترجمہ: صحابہ کرام پر طعن کرنا در اصل رسول خدا ﷺ پر طعن کرنا ہے، (اس لے رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والا آپ کے صحابہ کی تعظیم و توقیر ضرور کرے گا) اس لیے کہ ان کی (صحابہ کی) خباثت بیان کرنا ان کے (رسول اکرم ﷺ) تک پہنچتی ہے، اس برے عقیدے سے اللہ کی پناہ ۔

صحابۂ کرام میں طعن وتشنیع کرنے سے دوسری زبردست خرابی یہ لازم آئے گی فرماتے ہیں:

‘‘وایضا شرائع کہ از راہ قرآن واحادیث بما رسیدہ است بتوسط نقل ایشاں است ہر گاہ ایشاں مطعون باشند نقل ایشاں نیز مطعون خواہد بود وایں نقل مخصوص ببعض دون بعض نیست بل کلہم فی العدالۃ والصدق والتبلیغ سواء پس طعن ایشاں ایّ واحد کان منہم مستلزم طعن در دین است والعیاذ باللہ’’

ترجمہ: قرآن و حدیث کی شریعت ہمیں انہیں (صحابہ کرام)کے نقل کے ذریعہ ملی ہے، لہٰذا جب یہ لوگ مطعون ہوں گے تو ان کی نقل بھی مطعون ہوگی اور ایسا نہیں ہے کہ بعض کی نقل تو مطعون ہو اور بعض کی نہ ہو۔ اس لیے کہ سارے صحابہ عدالت، صدق اور تبلیغ میں برابر ہیں، پس ان میں سے جس پر بھی طعن ہو در اصل دین پر طعن کو مستلزم ہوگا۔ والعیاذ باللہ

جو لوگ طعن کرتے ہیں وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ صحابۂ کرام کی متابعت ہم بھی کرتے ہیں ضروری نہیں کہ سارے صحابۂ کرام کے ہم متابع ہو جائیں بلکہ بیک وقت سارے صحابۂ کرام کی پیروی ممکن نہیں کیونکہ ان کی آراء میں تناقض اور ان کے مذاہب میں اختلاف ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ اس کا جواب دیتے ہو ئے فرماتے ہیں کہ بعض صحابہ کی پیروی اس وقت فائدہ مند ثابت ہوگی جبکہ اس سے دوسرے بعض کا انکار ملا ہوا نہ ہو

اور بعض سے انکار کی صورت میں بعض دیگر کی متابعت نہیں ہو سکتی ہے پھر اس کو مثال سے یوں واضح فرماتے ہیں:کیونکہ حضرت امیر(حضرت علی رضی اللہ عنہ)نے خلفاے ثلٰثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تعظیم و توقیر کی ہے اور ان کو پیروی کے لائق جان کر ان سے بیعت کی تو خلفاے ثلٰثہ کے انکار کے با وجود حضرت امیر کی پیروی کا دعویٰ محض افترا ہے بلکہ وہ انکار در حقیقت حضرت امیر کا انکار ہے اور ان کے اقوال وافعال کا صریح رد۔’’

(یہ تو ایک کلی بحث تھی مذہب شیعہ کے بارے میں کہ یہ مذہب محدث ہے کسی حال میں لائق تقلید وپیروی نہیں ہےحقانیت کی ادنیٰ بو بھی اس میں موجود نہیں اب کچھ جزوی باتیں سماعت فرمائیں جو اس مذہب والوں نے مختلف صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں کہی ہیں اور آپ نے ان کی تردید فرمائی۔)

معلوم ہوا کہ یہ فرقہ حضرت امیر کرم اللہ وجہہ کی محبت والفت اور اتباع کا دعویٰ کچھ بھی کرے مگر حقیقتا یہ اتباع سے محروم ہے۔

پھر مزید تنقیح کے ساتھ جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘ کہ تمام صحابۂ کرام کی متابعت اصول دین میں لازم ہے اور ہر گز اصول دین کبھی اختلاف نہیں رکھتے ہیں اگر اختلاف ہے تو فروع میں ہے اور جو شخص بعض میں طعن کرتا ہے وہ جمیع صحابہ کی پیروی سے محروم ہے ہر چند ان کا کلمہ متفق ہے لیکن اکابرین کے انکار کی بد بختی(کلمہ کے اتفاق کو) اختلاف میں ڈال دیتی ہے اور اتفاق سے نکال دیتی ہے،نیز تمام صحابہ ٔ کرام شریعت کے مبلغ ہیں جیسا کہ گزر گیا کیونکہ تمام صحابۂ کرام عدول ہیں ہر ایک سے کچھ شریعت ہم کو پہنچی ہے اور اسی طرح قرآن بھی ایک آیت یا زیادہ ہر ایک سے لے کر جمع کیا ہے پس بعض سے انکار اس کے پہنچائے ہوئے(قرآن) سے انکار ہے تو تمام شریعت کا بجا لانا منکر کےبارے میں ثابت نہیں ہوا فکیف النجاۃ والفلاح؟

اس کے علاوہ ہم کہتے ہیں کہ قرآن پاک حضرت عثمان کا جمع کیا ہوا ہے بلکہ جمع کرنے والے در حقیقت حضرت صدیق وفاروق ہیں حضرت امیر کا جمع اس قرآن کے ما سوا ہے پس سوچنا چاہیے کہ ان اکابر کا انکار در حقیقت قرآن کے انکار تک پہنچاتا ہے عیاذا باللہ۔ایک شخص نے ایک شیعہ مجتہد سے سوال کیا کہ قرآن حضرت عثمان کا جمع کردہ ہے اس قرآن کے حق میں کیا عقیدہ رکھتے ہوِ اس نے کہا کہ اس کے انکار میں مصلحت نہیں دیکھتا ہوں کہ اس کے انکار سے دین پورے طور پر برباد ہو جائے گا۔

اس بحث سے آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ صحابۂ کرام میں سے کسی کا بھی انکار انسان کو دین پر اعتماد سے محروم کر دیتا ہے،ایسے انسان کو قرآن وسنت پر صحیح اعتقاد حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ قرآن وسنت انھیں صحابہ کے ذریعہ ملے ہیں اب انکار کرنے والے خواہ رافضی ہوں یا خارجی جو بھی منکر ہوگا اس کا عمل اپنی من گھڑت شریعت پر ہوگا رسول اللہ ﷺ کی شریعت پر نہ ہوگا۔’’آپ نے اس طرح کی بحث متعدد مکتوبات میں فرمائی ہے جس سے مذہب شیعہ و خوارج کلی طور پر باطل ہوجاتا ہے۔

اس کلی بحث کے علاوہ اس فرقۂ ضالہ کے مختلف عقائد ونظریات کا متعدد مکتوبات میں رد فرمایا ہم چنداہم تبرکاً پیش کرتے ہیں:

(۳)حضرت ابو بکر وعمر وعثمان وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی خلافت ونیابت کا انکار ان کے مذہب کا اہم رکن ہے،اس گمراہ فرقے نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فضل وشرف اور عظمت وبزرگی سے انکار کرکے طرح طرح سے مرتکب توہین وتنقیص ہوئے ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ جگہ جگہ کلی طور پر سارے صحابۂ کرام کا شرف وفضل بیان فرماتے ہیں،چناں چہ مکتوب ۵۹ میں فرماتے ہیں:

‘‘خفی علیہم فضیلۃ الصحبۃ وفضل الصحابۃ حرموا عن محبۃ اہل بیت الرسول ومودۃ اولاد البتول فمنعوا عن خیر کثیر نا لہا اہل السنۃ۔ومما ینبغی ان یعلم ان الانکار عن بعض انکار عن جمیعہم فانہم فی فضیلۃ صحبۃ خیر البشر مشترکون وفضیلۃ الصحبۃ فوق جمیع الفضائل والکمالات۔’’

ترجمہ: شیعوں سے صحبت اور صحابیت کی فضیلت مخفی رہی، لہٰذا یہ لوگ اہل بیت رسول اور اولاد بتول کی محبت سے بھی محروم رہے، جس کی وجہ سے ان ساری بھلائیوں سے بھی محروم رہے، جو اہل سنت و جماعت کے حصے میں آئیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ بعض صحابہ کا انکار سارے صحابہ کا انکار ہے، اس لیے سب کے سب خیر البشر ﷺ کی صحبت کی فضیلت میں مشترک ہیں اور صحبت کی فضیلت تمام فضائل و کمالت سے بڑھ کر ہے۔

پھر فرماتے ہیں کہ اسی لیے حضرت اویس قرنی جو خیر التابعین ہیں سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کے صحابہ میں سے کسی ادنیٰ صحابی کے مرتبے تک نہیں پہنچ سکے،تو تم فضیلت صحبت کے برابر کسی چیز کو نہ کرو کوئی بھی ہو کیونکہ ان کا ایمان صحبت کی برکت سے اور وحی کے نزول کی وجہ سے شہودی ہو گیا تھا،صحابہ کے بعد کسی کو ایمان کا یہ درجہ میسر نہ آیا۔

(۴)صحابہ ٔ کرام کی ترتیب افضلیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘ترتیب افضلیت درمیان خلفاء راشدین ترتیب خلافت است اما افضلیت شیخین باجماع صحابہ وتابعین ثابت شدہ چناں چہ نقل کردہ اند آں را جماعہ از اکابر ائمہ کہ یکے از ایشاں امام شافعی است۔’’(مکتوب ۶۶ جلد ۱)

ترجمہ: خلفائے راشدین کے درمیان افضیلت کی ترتیب، خلافت کی ترتیب کے اعتبار سے ہے، مگر شیخین کی ا فضیلت پر صحابہ و تابعین کا اجماع ہے، اسے اکابر ائمہ نے

نقل کیا ہے ، جن میں ایک امام شافعی بھی ہیں۔

پھر آپ نے امت کے اہم علما ومحدثین کے نصوص نقل فرمائے خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد گرامی نقل فرمایا جو اس بات میں صریح ہے کہ نبی اکرمﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر حضرت ابو بکر پھر حضرت عمر ہیں،ایک دوسری روایت حضرت امام ذہبی کے حوالےسے نقل فرمائی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ خبر دار! مجھے خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگ مجھے حضرت ابو بکر وعمر پر فضیلت دیتے ہیں جس کو میں نے فضیلت دیتے ہوئے پایا وہ مفتری ہے تو اس پر وہی ہے جو مفتری پر ہے یعنی بہتان تراشی کی سزا۔

ایک دوسری روایت نقل فرمائی جس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں کوڑے ماروں گا،پھر فرماتے ہیں:‘‘وامثال ذٰلک منہ ومن غیرہ من الصحابۃ متواترۃ بحیث لا مجال فیہا لانکار واحد۔’’

اس کے بعد عبد الرزاق جو اکابر شیعہ سے تھا اس کا قول نقل فرمایا،اس نے کہا کہ‘‘ میں حضرت ابو بکر وعمر کو اس لیے فضیلت دیتا ہوں کہ خود حضرت علی نے ان دونوں کو اپنے اوپر فضیلت دی ہے ورنہ میں ان کوکیوں فضیلت دیتا،میرے لیے گناہ ہے کہ میں حضرت علی سے محبت کروں پھر ان کی مخالفت کروں۔’’

یہ تو حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں تفصیل تھی،پھر حضرت عثمان کی حضرت علی پر افضلیت یوں بیان فرماتے ہیں:

(۵)‘‘اما تفضیل عثمان بر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما پس اکثر علماء اہل سنت برآنند کہ افضل بعد از شیخین عثمان است پس علی ومذہب ائمہ اربعہ مجتہدین نیز ہمیں است۔’’

ترجمہ: اکثر علماے اہل سنت کے نزدیک شیخین کے بعد حضرت عثمان ،

حضرت علی سے افضل ہیں، اس کے بعد حضرت علی افضل ہیں، چاروں ائمہ مجتہدین کا بھی یہی مذہب ہے۔

بعض علما نے اس سلسلے میں حضرت مام مالک کا توقف نقل کیا تھا،آپ فرماتے ہیں کہ امام قاضی عیاض مالکی نے حضرت امام مالک کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے رجوع کر لیا تھا اور اس بات کے قائل ہو گئے تھے کہ حضرت علی سے حضرت عثمان افضل ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔

یہاں ایک بات اور قابل بیان ہے وہ یہ کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے جب اہل سنت کی علامات پو چھی گئیں تو آپ نے اپنے دور میں جتنے اسلامی فرقے تھے اس میں اہل سنت کو ممتاز کرنے کے لیے یہ علامات ذکر فرمائے:‘‘تفضیل الشیخین وحب الختنین والمسح علیَ الخفین’’یعنی حضرت ابو بکر وعمر کو فضیلت دینا،دونو دامادوں یعنی حضرت علی وعثمان سے محبت کرنا،اور موزوں پر مسح کو جائز سمجھنا، اس میں حب الختنین سے کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت امام ان دامادوں میں سے کسی کو کسی پر فضیلت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے اس عبارت کی نہایت حسین توجیہ فرمائی،فرماتے ہیں:‘‘ اس فقیر کے نزدیک اس عبارت کو اختیار کرنے کا محل دوسرا ہے کہ چونکہ فتنوں کا ظہور اور مردوں کے امور میں خلل حضرات ختنین(عثمان وعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی خلافت کے زمانے میں بہت ہو گیا تھا اور اس کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں کدورت نے راہ پا لی تھی امام(اعظم) نے اس چیز کو ملاحظہ فرمایا تو ان کے حق میں لفظ محبت اختیار فرمایا ہے اور ان کی دوستی کو علامات سنت سے بتایا،بغیر اس کے کوئی شائبۂ توقف ملحوظ ہو اور توقف کیسے ہو سکتا ہے بلکہ احناف کی کتا بیں بھری پڑی ہیں کہ ان کی افضلیت ان کی خلافت کی ترتیب پر ہے،خلاصہ یہ کہ شیخین کی افضلیت یقی

یقینی ہے اور حضرت عثمان کی افضلیت اس سے کم۔’’

افضلیت کے منکر کو آپ اگر چہ کافر ومرتد قرار نہیں دیتے،ضال ومبتدع سمجھتے ہیں مگر اس شخص کا حال بھی یزید پلید کی طرح سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں:‘‘یہ منکر یزید بے دولت کی طرح ہے کہ احتیاط کی وجہ سے اس کے لعن میں توقف کیا ہے اور جو ایذا سرکار علیہ السلام کو خلفاے راشدین کی ایذا کی راہ سے پہنچی ہے وہ اس ایذا کے مانند ہے جو امامین(حضرت حسن وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی ایذا کی راہ سے نبی اکرم ﷺ کو پہنچی ہے۔’’

پھر ایک حدیث نقل فرمائی جس میں سرور کونین ﷺ نے فرمایا:

‘‘اللہ اللہ فی اصحابی لا تتخذوہم غرضا من بعدی من احبہم فبحبی احبہم ومن ابغضہم فببغضی ابغضہم ومن اٰ ذاہم فقد اٰذانی ومن اٰ ذانی فقد اٰذیٰ اللہ ومن اٰ ذیٰ اللہ فیوشک ان یَّا خذہ’’

یعنی میرے صحابہ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو! میرے بعد ان کو نشانہ نہ بنانا،جس نے ان سے محبت کی میری محبت کے سبب کی،جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے مجھے مبغوض رکھنے کے سبب بغض رکھا(مطلب یہ کہ صحابہ سے بغض نبی ﷺ کے بغض کی علامت ہے)اور جس نے ان کو ایذا دی تو اس نے مجھے ایذا دی،اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی اور جو اللہ تعالٰ کو ایذا دےگا تو اللہ تعالیٰ اسے عنقریب پکڑے گا’’

پھر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پاک بھی نقل فرمایا:‘‘ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیۡنًا’’ بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت۔

علم کلام کی بڑی مشہور ومتداول کتاب شرح عقائد نسفی جس کے مصنف حضرت

علامہ سعدالدین تفتا زانی ہیں ،اہل سنت کے زبر دست محقق اور مقبول مصنف ہیں،علامہ موصوف نے توقف کے قائلین یعنی وہ لوگ جو حضرت عثمان وعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے ہیں ان پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا:‘‘والانصاف انّہ ان ارید بالافضلیۃ کثرۃ الثواب فللتوقف جہۃ وان ارید کثرۃ ما یعدّ ہ ذوو العقول من الفضائل فلا۔’’یعنی اگر افضلیت سے کثرت ثواب مراد ہے تو توقف کے لیے گنجائش ہے اور اگر ان امور میں کثرت مراد ہے جس کو اہل فضل فضائل شمار کرتے ہیں تو نہیں مطلب یہ کہ پھر تو حضرت عثمان پر حضرت علی ہی فضیلت رکھتے ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے اس پر زبردست گرفت فرمائی،آپ فرماتے ہیں کہ مولانا سعد الدین نے شرح عقائد نسفی میں جسے اس افضلیت میں بے انصاف جانا ہے وہ انصاف سے دور ہے اور جو تردید کی ہے وہ بے فائدہ ہے،اس کے بعد اس پر دلیل قائم کی کہ علما کے نزدیک ثابت ومقرر ہے کہ اس جگہ افضلیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ثواب زیادہ ہے وہ مراد نہیں ہے جسے علامہ افضلیت سمجھتے ہیں یعنی فضائل ومناقب کا کثرت سے ظہور۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سلف نے صحابہ وتابعین سے جو فضائل ومناقب حضرت علی کے نقل کیے ہیں وہ کسی صحابی کے نقل نہیں کیے یہاں تک کہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:‘‘ما جآ ء لاحد من الصحابۃ من الفضائل ما جآ ء لعلیِِّ’’ اس کے با وجود ان سب نے خلفاے ثلٰثہ کی افضلیت کا حکم لگایا ہے ،لہٰذا معلوم ہوا کہ وجہ افضلیت فضائل ومناقب کا کثرت سے ظہور نہیں بلکہ اس کے علاوہ شئ دیگر ہے،اس افضلیت پر اطلاع بصریح یا بقرائن ان حضرات کو حاصل تھی جنھوں نے دولت وحی کا مشاہدہ کیا اور وہ سرور کونین ﷺ کے صحابہ ٔ کرام ہیں۔ اسی لیے معلوم ہوا کہ

توقف کی کو ئی وجہ نہیں اگر کثرت ثواب بھی مراد لیں کیونکہ توقف کی گنجائش اس وقت ہوتی جبکہ صراحتا یا دلالۃ صاحب شریعت کی جانب سے جانکاری نہ ہوئی ہوتی اور جب افضلیت معلوم ہو گئی تو توقف کیوں کریں اور اگر جانکاری نہ ہوتی تو افضلیت کا حکم کیوں لگاتے،پھر ان کا سخت الفاظ میں رد فرمایا جو دونوں کو برابر سمجھتے ہیں۔

حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ کی ایک عبارت میں ان کے قلم سے یہ صادر ہو گیا کہ سبب ترتیب خلافتہم مدۃ اعمارہم یعنی خلفاے اربعہ کی خلافت کی ترتیب کا سبب ان کی عمروں کی مدت ہے،مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت ابو بکر کا وصال حضرت عمر وعثمان وعلی سے پہلے تھا اس لیے وہ مسند خلافت پر پہلے رونق افروز ہوئے،ان کے بعد چونکہ حضرت عمر کا وصال باقی اپنے دو خلفا سے پہلے مقدر تھا اسی لیے حضرت عمر خلیفۂ دوئم ہوئے،حضرت عثمان کی قضا حضرت علی سے پہلے مقدر تھی اسی لیے خلیفۂ سوم ہوئے،آخر میں حضرت علی ہوئے اس لیے کہ ان کی حیات باقی تین خلفاء سے زیادہ تھی۔

اس عبارت سے کچھ لوگ یہ سمجھ سکتے تھےکہ حضرت ابو بکر سب سے پہلے جو خلیفہ بنائے گئے ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ آپ سب سے افضل ہیں،یوں ہی حضرت عمر وعثمان رضی اللہ عنہم بلکہ اس کا سبب مذکور ہوا۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے دو وجوہ سے اس خیال کا رد کیا اول تووہی ہے کہ یہ عبارت فضیلت میں برابری پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ امر خلافت دیگر ہے اور افضلیت دیگر شئ، دوم یہ کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ اس قول سے فضیلت میں مساوات وبرابری لازم آتی ہے تو یہ اور اس کے مثل حضرت شیخ قدس سرہ کے دیگر اقوال شطحیات کے قبیل سے ہیں جو کہ استدلال وتمسک کے لائق نہیں ہیں۔حضرت شیخ کےاکثر معارف کشفیہ جو کہ علوم اہل سنت سے الگ ہیں وہ صواب ودرستگی سے بھی دور

ہیں ان کی پیروی وہی کرے گا جس کے دل میں کھوٹ ہو یا وہ محض مقلد ہو۔

(۶)صحابہ ٔ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے باہمی اختلافات اور محاربات ومنازعات کی وجہ سے بہت لوگ بھٹکے اور طرح طرح سے بے ادبی وگستاخی کا شکار ہو کر خسارۂ اخروی کے مستحق ہوئے،اس سلسلے میں اہل سنت کا جوموقف رہا ہے وہ نہایت صاف ستھرا،ہر کجی سے دور اور نہایت احتیاط پر مبنی ہے جس میں پورے طور پر عظمت صحابہ کا لحا ظ رکھا گیا ہے،اور جو لوگ بھی ان کے خلاف گئے ہیں ان سے یقینا چوک ہوئی ہے،حضرت مجدد قدس سرہ اہل سنت کا موقف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘منازعات ومحاربات کہ درمیان ایشاں واقع شدہ است بر محامل نیک صرف باید کرد واز ہوا وتعصب دور باید داشت زیرا کہ آں مخالفات مبنی بر اجتہاد وتاویل بودہ نہ بر ہوا وہوس چنانچہ جمہور اہل سنت برآنند۔’’(مکتوب ۲۵۱ جلد ۱)

ترجمہ: صحابہ کرام کے درمیان جو منا رغات و محاربات ہوئے انہیں اچھے محامل پر محمول کرنا چاہئے، اور اس بارے میں خواہش نفس اور تعصب سے بالکل دور رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ ان حضرات کی باہمی مخالفتیں اجتہاد اور تاویل پر مبنی تھیں، نہ کہ ہواو ہوس پر، یہی جمہور اہل سنت کا مذہب ہے۔اور یہ چیزیں اہل سنت و جماعت کی آرا کے مطابق ہیں، جو کہ فرقہ ناجیہ ہیں۔ اور ان بزرگوں کی پیروی کے بغیر نجات کا تصور ہی نہیں ہے، اور اگر بال کے برابر بھی مخالفت ہو تو خطرہ ہی خطرہ ہے، یہ بات صحیح کشف اور صریح الہام سے یقین کہ حد تک پہنچ چکی ہے، جس میں تخلف کا کچھ بھی احتمال نہیں ہے۔

آپ قدس سرہ نے متعدد مکتوبات میں اس بات کو دہرایا ہے اور نہایت سختی کے ساتھ اجتناب وپر ہیز کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں متعدد علما کے نصوص نقل

فرمائے ہیں،ان آپسی اختلافات میں حق کس کی جانب تھا؟ آپ مذکورہ بالا عبارت کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘اما باید دانست کہ محاربان حضرت امیرکرم اللہ وجہہ بر خطا بودہ اند وحق بجانب امیر۔’’

ترجمہ: معلوم رہے کہ حضرت امیر (سیدنا علی) کرم اللہ وجہہ کے محاربین خطا پر تھے اور حق حضرت علی کے ساتھ تھا۔

مگر یہ خطا ایسی نہیں تھی جس کی وجہ سے ان پر لعن وطعن جائز ہو یا ان کی تفسیق وتضلیل درست ہو،آپ فرماتے ہیں:‘‘لیکن چوں ایں خطا خطأ اجتہادی است از ملامت دور است واز مواخذہ مرفوع ’’یعنی یہ خطا خطائے اجتہادی ہے لہٰذا اس پر نہ ملامت درست اور نہ ہی مواخذہ۔

شارح مواقف نے شرح میں کہہ دیا کہ ہمارے بہت سے اصحاب اس بات پر ہیں کہ صحابہ ٔ کرام کے منازعات از روئے اجتہاد نہ تھے، حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں معلوم نہیں کہ شارح نے اصحاب سے کون سا گروہ مراد لیا ہے اہل سنت اس کے خلاف حکم لگاتے ہیں جیسا کہ گزر گیا‘‘وکتب القوم مشحونۃ بالخطأ الاجتہادی کما صرح بہ الامام الغزالی والقاضی ابو بکر وغیرہما’’ (یعنی اہل سنت کی کتابیں بھری پڑی ہیں کہ صحابہ کی خطائیں خطأ اجتہادی تھیں جیسا کہ امام غزالی اور قاضی ابو بکر وغیرہما نے ان کی صراحت کی ہے) پس تفسیق وتضلیل در حق محاربان حضرت امیر جائز نباشد(پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے محاربین پر تفسیق وتضلیل کا حکم لگا نا روا نہ ہوگا)

بعض فقہا نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے لفظ جور استعمال کردیا تھا اور کہہ دیا تھا:‘‘کان معاویۃ امیرا جائرا’’ یعنی حضرت معاویہ ڈکٹیٹر اور جور

والے تھے،حضرت مجدد قدس سرہ اولاً تو اس کی تاویل کرتے ہیں جیسا کہ آپ کا طریقہ ہے کہ علما وفقہا وصوفیہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کی حق وصداقت سے ہٹی ہوئی عبارتوں کو اچھے محمل پر محمول کرتے ہیں،فرماتے ہیں کہ جور سے مراد حضرت علی کے زمانۂ خلافت میں حضرت امیر معاویہ کی خلافت کا خلاف حق ہونا مراد ہے وہ جور مراد نہیں جس کا مآل فسق وضلالت ہے تاکہ اہل سنت کے اقوال کے موافق ہو’’

اس تاویل کے بعد آپ کا اپنا مزاج یہ ہے:‘‘باوجودیکہ ارباب استقامت ایسے الفاظ کے استعمال سے پر ہیز کرتے ہیں جو خلاف مقصود کا وہم پیدا کریں اور خطا سے زیادہ جائز قرار نہیں دیتے ہیں’’ پھر آپ کے خاص الفاظ یہ ہیں:‘‘کیف یکون جائزا وقد صحّ انّہ کان اماماعادلا فی حقوق اللہ سبحانہ’’ یعنی جائر کہنا کیسے صحیح ہوگا جبکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ آپ حقوق اللہ سبحانہ کی ادائیگی میں امام عادل تھے۔

عارف نامی حضرت مولانا عبد الرحمان جامی قدس سرہ نے اس خطا کو ‘‘خطأ منکر’’ کہہ دیا تھا،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت جامی نے بھی زیادتی کی ہے،خطا پر جو بھی زیادہ کریں گے خطا ہے،یعنی صرف خطا کہہ سکتے ہیں اس سے زیادہ کچھ کہنا خطا ہے،اس سے بھی آگے بڑھ کر حضرت جامی قدس سرہ نے کچھ اور فرمادیا تھا،آپ فرماتے ہیں:

‘‘اگر ایں سخن دربارۂ یزید میگفت گنجائش داست اما در بارۂ حضرت معاویہ گفتن شناعت دارد’’ یعنی اگر یہ بات یزید کے حق میں کہتے تو گنجائش تھی لیکن حضرت امیر معاویہ کے بارے میں شنیع ہے،اس کے بعد آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ثقہ حضرات کی اسناد سے سرور کونین ﷺ کی یہ دعا نقل فرمائی:‘‘اللہم علمہ الکتاب والحساب وقہ العذاب’’ یعنی اے اللہ! تو معاویہ کو کتاب اور حساب سکھا اور ان کو عذاب سے بچا ایک مقام پر یہ دعا دی:‘‘اللہم اجعلہ

ہادیا مہدیا’’ اے اللہ! تو انھیں رہبر اور راہ یافتہ بنا۔

آپ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی دعا قبول ہوتی ہے مطلب یہ کہ حضرت امیر معاویہ کو علم کتاب وحساب بھی ہے اور وہ عذاب سے بھی محفوظ ہیں اور ہادی ومہدی بھی ہیں،اس کے بعد حضرت جامی قدس سرہ کے بارے میں فرماتے ہیں:‘‘ظاہرا ایں سخن از مولانا بر سبیل سہو ونسیان سر بر زدہ باشد’’ یعنی مولانا جامی سے یہ بات سہو ونسیان کی وجہ سے سرزد ہو گئی ہوگی،ایک اور جگہ حضرت جامی نے کچھ اور اشعار میں حضرت امیر معاویہ کا نام نہ لے کر‘‘آں صحابیِ دیگر’’ کہہ دیا تھا،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘ایں عبارت نیز از ناخوشی خبر می دہد ربنا لا تواخذنا ان نسینا او اخطأ نا۔’’ یعنی مولانا کی یہ عبارت بھی درست نہیں ہے،اے اللہ! ہماری خطا ونسیان پر مواخذہ نہ فرما۔

حضرت امام شعبی سے حضرت امیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کچھ مذمت نقل کی تھی،مذمت بھی ایسی جو فسق سے بھی زیادہ تھی،اس سے بھی شیعہ دھوکہ دیتے تھے کیونکہ وہ اہل سنت کے زبردست امام ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں‘‘یہ چیزیں ثبوت کو نہیں پہنچی ہیں،حضرت امام اعظم جو کہ ان کے شاگردوں میں سے ہیں اگر مذمت سچی ہوتی تو وہ نقل کے زیادہ حقدار تھے،امام مالک جو کہ تابعی ہیں اور ان کے ہم عصر اور علمائے مدینہ میں سب سے بڑے عالم انھوں نے حضرت معاویہ اور عمرو بن العاص کے شاتم (گالی دینے والا) کو قتل کا حکم دیا ہے جیسا کہ گزر گیا،اگر وہ شتم کے مستحق تھے تو قتل کا حکم کیوں دیا پس معلوم ہوا کہ ان کا شتم کبیرہ گناہوں سے جان کر شاتم کے قتل کا حکم دیا، نیز حضرت امیر معاویہ کا شتم حضرت ابو بکر وعمر وعثمان کے شتم کے برابر ٹھرایا ہے جیسا کہ گزرگیا پس حضرت امیر معاویہ مذمت وبرائی کے مستحق نہ ہو ں گے۔’’

اس کے بعد حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘اے بھائی! اس معاملے میں معاویہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ تقریبا آدھے صحابۂ کرام اس معاملہ میں ان کے ساتھ شریک ہیں تو اگر حضرت امیر کے جنگی (جنگ کرنے والے) کافر یا فاسق ہوں گے تو دین کے اس حصے سے اعتماد ختم ہو جائے گا جو ان کی تبلیغ سے ہم تک پہنچا ہے،لہٰذا اس بات کو وہی جائز قرار دے گا جو زندیق ہے اورجس کا مقصد دین کو باطل کرنا ہے۔

اے برادر! اس فتنے کے اٹھنے کا منشأ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہے اور ان کے قاتلوں سے قصاص طلب کرنا،طلحہ وزبیر جو کہ مدینہ سے پہلے آئے تاخیر قصاص کی وجہ سے آئے،حضرت صدیقہ نے بھی اس معاملے میں ان کی موافقت کی،اور جنگ جمل کہ جس میں تیرہ ہزار آدمی قتل ہوئے اور طلحہ وزبیر جو کہ عشرۂ مبشرہ سے ہیں شہید ہوئے،تاخیر قصاص عثمان کی وجہ سے تھی،اس کے بعد معاویہ بھی شام سے باہر نکل کر ان کے ساتھ شریک ہوئے،جنگ صفین لڑی،حضرت امام غزالی نے صراحت کی کہ یہ جھگڑا مخالفت پر نہ تھا بلکہ حضرت امیر کی خلافت کے آغاز میں قصاص لینے کے سلسلے میں تھا،شیخ ابن حجر نے بھی اس بات کو معتقدات اہل سنت سے قرار دیا، ابو شکور سالمی حنفی کا قول نقل کرکے اور اس کی تاویل کرکے آخر میں فرماتے ہیں:

‘‘ اے برادر!اسلم دریں موطن سکوت از ذکر مشاجرات صحابۂ پیغمبر است علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات واعراض از منازعات ایشاں،پیغمبر فرمودہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلاۃ والسلام ایاکم وما شجر بین اصحابی ونیز فرمودہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلاۃ والسلام اذا ذکر اصحابی فامسکوا ونیز فرمودہ علیہ الصلاۃ والسلام اللہ اللہ فی اصحابی لا تتخذوہم غرضا من بعدی’’

ترجمہ: اے برادر! سلامتی اسی میں ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام کے

مشاجرات کو بیان کرنے سے سکوت کیا جائے اور ان کے منازعات سے اعراض کیا جائے۔ اس لیے کہ پیغمبر خدا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: میرے صحابہ کے مشاجرات (جھگڑوں) سے بچو، حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا: جب میرے صحابہ کا ذکر ہو تو خاموش رہو، نیز یہ بھی ارشاد ہوا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو، میرے بعد انہیں نشانہ (طعن وتشنیع کا) نہ بنانا۔

پھر فرماتے ہیں کہ امام شافعی نے فرمایا نیز حضرت عمر بن عبد العزیز سے بھی منقول ہے:‘‘تلک دماء طہّر اللہ عنہا ایدینا فلنطہّر عنہا الستنا’’یہ خون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہا تھوں کو پاک رکھا تو چاہیے کہ ہم زبانیں بھی پاک رکھیں،اس سے معلوم ہوا کہ ان کی خطائیں بھی زبان پر نہیں لانا چاہیے اور خیر کے علاوہ ان کا ذکر نہیں کرنا چاہیے’’

مکتوب ۳۶ جلد دوم محاربات ومشاجرات کے سلسلے میں ایک فیصلہ کن گفتگو یوں فرماتے ہیں:‘‘نبی اکرمﷺ کے اصحاب باہمی محاربات ومنازعات کے وقت تین گروہ تھے ایک گروہ نے دلیل واجتہاد کے ذریعہ جانب امیر میں حق ہونا معلوم کیا تھا،دوسرے گروہ نے بھی دلیل واجتہاد کے ذریعہ جانب دیگر کا حق ہونا پایا اور ان کے علاوہ ایک گروہ متوقف تھا جو کسی جانب کو دلیل سے ترجیح نہیں دیتا تھا،پس پہلے گروہ پر جانب امیر کی مدد واجب ہوئی کہ ان کے اجتہاد کے موافق تھی اور دوسرے گروہ پر جانب مخالف امیر کی مدد کہ ان کے اجتہاد کا مقتضی ٰ تھا اور تیسرے گروہ پر توقف لازم آیا،ایک کو دوسرے پر ترجیح خطا،پس تینوں گروہوں نے اپنے اجتہاد کی چاہت پر عمل کیا اور ان پر جو لازم وواجب تھا اسے بجا لائے تو ملامت کی کیا گنجائش ہے اور طعن کیسے مناسب؟۔’’

پھر حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مذکور اور ایک حدیث

‘‘اذا ذکر اصحابی فامسکوا’’ یعنی جب میرے اصحاب کا ذکر ہو تو خاموش رہو اور ایک کو دوسرے پر اختیار نہ کرو،ذکر کرکے فرماتے ہیں:‘‘لیکن جمہور اہل سنت اس دلیل سے جو ان پر ظاہر ہوئی اس بات پر ہیں کہ حق جانب امیر میں تھا اور ان کے مخالف خطا کی راہ چلے لیکن یہ خطا چونکہ اجتہادی تھی اس لیے ملامت اور طعن سے دور رہے اور تشنیع وتحقیر سے مبرّا (الگ)،حضرت امیر(علی) سے منقول ہے آپ نے فرمایا: ہمارے بھائی ہم پر باغی ہوئے یہ نہ کافر ہیں نہ فاسق کیونکہ ان کے پاس تاویل ہے جو فسق وکفر کو منع کرتی ہے۔’’

پھر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں کچھ احادیث نقل کرکے ارشاد فرماتے ہیں:‘‘تمام صحابۂ کرام کی تعظیم وتوقیر میں دیگر احادیث بھی بہت ہیں پس سب کو معزز ومکرم رکھنا چاہیے اور ان کی لغزشوں کو اچھے محلوں پر محمول کرنا چاہیے یہ ہے اس مسئلہ میں مذہب اہل سنت جبکہ رافضی اس معاملہ میں بہت غلو کرتے ہیں اور حضرت علی سے جنگ لڑنے والوں کی تکفیر کرتے ہیں اور مختلف نوع کے طعن اور متعدد قسم کی گالیوں سے اپنی زبانوں کو گندہ کرتے ہیں اگر مقصود حضرت امیر کی جانب حقانیت کا ظہور اور ان کے محاربین کی خطا کا اظہار ہے تو جو اہل سنت نے اختیار کیا ہے کافی ہے اور عدالت واعتدال کی حد پر ہے۔

اکابرین دین کو برا کہنا اور طعن کرنا دیانت وتدین سے دور ہے جو کہ روافض نے اختیار کیا ہے،نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو گالیاں دینا دین وایمان تصور کر رکھا ہے عجب دین ہے کہ جا نشینان پیغمبر علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات کو گالی گلوچ جس کا جزو اعظم ہے! بدعتی گروہوں میں سے جنھوں نے بھی بدعت اختیار کی ہے اور اہل سنت سے جدا ہوئے ان سب میں فرقۂ خوارج وروافض معالے سے دور ہیں اور حق سے بعید جا پڑے ہیں،جو گروہ اکابر دین کے سب و طعن کو اپنے ایمان کاجزو اعظم تصور

کرے حق سے کیا حصہ رکھے گا؟ روافض بارہ فرقے ہیں اور سبھی اصحاب پیغمبر علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات کو کافر کہتے ہیں اور خلفاے راشدین کو گالیاں دینا عبادت جانتے ہیں۔’’

الغرض یہ مکتوب گرامی نہایت کثیر معلومات پر مشتمل ہے اور تفصیل سے مذہب رفض وخروج کی خبر لی ہے اور ان کی باطنی خباثت کو طشت از بام کر دیا ہے،ہم نے نہایت اختصار کے ساتھ چند بحثیں ذکر کردی ہیں،یہ طائفۂ شنیعہ آج بھی اہل سنت کی دشمنی میں سب سے آگے ہے،حضرت مجدد قدس سرہ نے متعدد مکتوبات میں مختلف مسائل پر قلم اٹھایا ہے اورمطاعن کے نہایت مدلل ومفصل جوابات مرحمت فرمائے ہیں۔

مکتوب ۹۶ جلد دوم میں واقعۂ قرطاس پر قلم اٹھایا تو ایسا اٹھایا کہ مخالف کو مجال دم زدن نہیں رہی،چھ مقدمات باہرہ قائم فرمائے جو کلیات کی حیثیت رکھتے ہیں جن سے خود بخود سیکڑوں شبہات کے جوابات مل جاتے ہیں،آخر میں خود فرماتے ہیں:

‘‘اور جب یہ مقدمات معلوم ہو گئے تو بلا تکلف یہ شبہ اور اس جیسے دیگر شبہات کا جواب حاصل ہو گیا بلکہ متعدد جوابات حاصل ہو گئے کیونکہ ان مقدمات میں سے ہر ایک مقدمہ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ معتد بہ جواب ہے جیسا کہ گزر گیا اور ان مقدمات کا مجموعہ بعون اللہ تعالیٰ سبحانہ اس شبہ کو بالکلیہ ختم کردیتا ہے اور اس تشکیک کے دفع میں نظر سے حدس میں لاتا ہے جیسا کہ ذہین منصف پر پوشیدہ نہیں۔

لفظ حدس مجبوراً زبان پر آتا ہے ورنہ ان جیسی تشکیکات بدیہی البطلان ہیں،ان شبہات کے بطلان میں جو مقدمات لائے جاتے ہیں وہ تنبیہات کے قبیل سے ہیں اس بداہت پر،بلکہ اس قسم کے شبہات اورتشکیکات اس فقیر کے نزدیک اس شخص کی طرح ہیں جو فنون والا ہے بے وقوف لو گوں کے پاس آئے اور اس پتھر کو جو کہ اس کے

سامنے ہے دلائل و مقدماتِ زر اندودہ (سونے کا پانی چڑھا ہوا) کے ذریعہ ان پر ثابت کرے کہ وہ سونا ہے اور یہ بے چارے ان ملمع کیے ہوئے مقدمات کے دفع کرنے میں عاجز ہیں،ان دلائل کے کے غلط مادوں کی تعیین سے قاصر،لا محالہ اشتباہ میں پڑیں گے بلکہ اس پتھر کے سونا ہونے کا یقین کریں گے اور اپنے احساس کو فراموش کریں گے بلکہ متہم ٹھہرائیں گے،عقلمند کوچاہیے کہ حس کی بداہت پر بھروسہ کرے اور ملمع کیے ہوئے مقدمات کو متہم بنائے۔

جس مسئلہ میں ہم گفتگو کر رہے ہیں اس میں بھی خلفاے ثلاثہ کی بزرگی اور بلندیِ درجات بلکہ تمام صحابۂ کرام حضرت خیر البشرﷺ کی بزرگی کتاب وسنت کے مقتضیٰ کے مطابق محسوس ومشاہد ہے،طعن کرنے والا ،قدح پیدا کرنے والا ان بزرگوں کی شان میں زر اندودہ دلائل کے ذریعہ ان میں قدح وطعن کرے وہ طعن ان میں اس پتھر کے قدح کی طرح ہے جو اس کے وجود میں کریں اور راہ سے بھٹکا دیں۔’’

حضرت مجدد قدس سرہ کے اس مبارک بیان سے آج تک روافض کی بھاگ دوڑ اور کوشش کا حال ظاہر ہے سوائے تلبیس کے اور کچھ ہاتھ نہیں آیا،یہ فرقۂ شنیعہ عجب احمق فرقہ ہے،اور تو اور ہے جن کی محبت کا اظہار ہی سب کچھ مذہبی سرمایہ ہے اور جس کے بل بوتے پر یہ پھولے پھولے رہتے ہیں یعنی حضرت علی اور ان کی آل پاک کے سلسلے میں اگر ان کی خرافات پڑھیں گے تو آپ دیر تک ہنسیں گے،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:

(۷)‘‘ایں جماعہ بحکم تقیہ کہ دارند اکابر اہل بیت را منافق ومخادع انگاشتہ اند وحکم کردہ اند کہ حضرت امیر سی(۳۰) سال بحکم تقیہ با خلفا ءثلاثہ صحبت بنفاق داشتہ اند وبناحق تعظیم وتو قیر ایشاں نمودہ۔’’

ترجمہ: ان شیعوں کے یہاں تقیہ ہے جس کی وجہ سے اکابر اہل بیت کو منافق

ومخادع(فریبی) تک کہہ دیا۔ چنانچہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر تقیہ کی وجہ سے پورے ۳۰ برسوں تک تینوں خلیفہ کی صحبت میں رہے اور ان کی تعظیم و توقیر کرتے رہے۔

(حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں عجیب معاملہ ہے اگر اہل بیت رسول کی محبت محبت رسول کے واسطہ سے ہے علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات،چاہیے کہ دشمنان رسول کو بھی دشمن رکھیں اور دشمنان اہل بیت سے زیادہ ان پر سب ولعن کریں،ابو جہل کہ دشمن رسول ہے علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتحیات اور مختلف قسم کے آزار اور بے شمار جفائیں سرکار علیہ السلام کو پہنچائی ہیں،علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتحیات اس جماعت کے کسی فرد سے نہیں سنا گیا کہ ابو جہل کو برا کہتا ہو اور لعن کرتا ہو اور اس کی برائیوں میں زبان کھولتا ہو۔)

پھر فرماتے ہیں‘‘مخالف لوگ تینوں خلفاء کی خلافت کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں اور ان کی خلافت کو غصب اور تغلب (زبردستی حاصل کرنا) سے منسوب کرتے ہیں اور حضرت امیر کے علاوہ کسی کو امام بر حق نہیں جانتے ہیں،اور حضرت علی سے جو تینوں خلفا کی بیعت واقع ہو ئی اسے تقیہ پر محمول کرتے ہیں اور اصحاب خیر الانام علیہ وعلیہم الصلاۃ والسلام کے درمیان صحبت نفاق جانتے ہیں اور ایک دوسرے کو رعایت ومدارات میں دھوکہ باز تصور کرتے ہیں کیونکہ ان کے گمان میں امیر کے موافق ان کے مخالفین کے ساتھ یقینا بحکم تقیہ صحبت نفاق رکھتے تھے اور جو کچھ ان کے دلوں میں تھا اس کے خلاف زبان سے ظاہر کرتے تھے اور مخالفین بھی چونکہ ان کے گمان میں دشمنان امیر اور دوستان امیر کے دشمن تھے،نفاق کے ساتھ آشنائی رکھتے تھے اور دشمنی کو دوستی میں ظاہر کرتے تھے اور جو باطن میں ہوتا اس کے خلاف ظاہر کرتے،پس چاہیے کہ ان کے نزدیک اس امت کے بد ترین صحابۂ کرام ہوں اور سب سے بری

صحبت خیر البشر علیہ وعلیٰ آلہ الصلاۃ والسلام کی صحبت ہو کیونکہ یہ برے اخلاق اسی جگہ پیدا ہوئے ہیں،اور سب سے بد ترین زمانہ صحابۂ کرام کا زمانہ ہو کہ جو نفاق وعداوت،بغض وکینہ سے بھرا ہوا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام مجید میں فرماتا ہے:‘‘رحمآء بینہم’’ جب اس امت کے سابقین ان اخلاق ذمیمہ کے ساتھ متصف ہوں گے تو لاحقین میں کیا خیریت پائیں گے۔’’

حضرت علی اور ان کی آل پاک کے سلسلے میں آپ نے ان کا یہ حال پڑھا جب ان پر یہ حملے ہیں تو اوروں کی کیا گنتی،ان کی خباثت کہاں تک نقل کی جائے،تفصیل کے لیے دیکھیے مکتوب ۵۹،۸۰،۲۶۶،۲۸۶ جلد اول اور ۳۶،۶۰،۶۷ جلد دوم اور ۱۷ جلد سوم۔

ہم اس بحث کو حضرت مجدد قدس سرہ کی اس عبارت پر ختم کرتے ہیں،جس میں آپ نے نہایت جامع انداز میں صحابۂ کرام کے بھی فردا فردا اوصاف فاضلہ بیان فرمائے ہیں،باقی آپ نے ان تمام صحابۂ کرام کے بھی فرداً فرداً فضائل ومناقب بیان فرمائے جن کی شان میں مخالفین طعن کرتے ہیں،طوالت کی وجہ سے ہم نے چھوڑ دیے،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:

‘‘فالحذر الحذر ثم الحذر الحذر ثم الحذر الحذر عن طعن اکابر الدین وذم کبراء الاسلام الذین بذلوا جہدہم فی اعلاء کلمۃ الاسلام ونصرۃ سید الانام وانفقوا اموالہم لتائید الدین باللیل والنہار وفی السر والجہار،وترکوا لحب الرسول عشائرہم وقبائلہم و اولادہم وازواجہم واوطانہم ومساکنہم وعیونہم وزروعہم واشجارہم وانہارہم۔

واٰ ثروا نفس الرسول علیہ وعلیہم الصلاۃ والسلام علیٰ انفسہم واختاروا محبتہ علیٰ محبتہم ومحبۃ اموالہم وذریاتہم،وہم الذین نالوا شرف الصحبۃ وفازوا فی صحبتہ برکات النبوۃ وشاہدوا الوحی وشرفوا بحضور الملک ورأؤا الخوارق والمعجزات حتیٰ صار غیبہم شہادۃ،وعلمہم عینا ویعطوا من الیقین ما لا یعطیٰ لاحد من بعدہم حتیٰ لا یبلغ انفاق غیرہم مثل احد ذہبا مبلغ انفاق مد شعیرہم ولا نصیفہ ۔

وہم الذین اثنیٰ اللہ تعالیٰ علیہم فی القراٰن العظیم ورضی اللہ عنہم ورضوا عنہ،ذٰلک مثلہم فی التوراۃ ومثلہم فی الانجیل کزرع اخرج شطأ ہ فاٰ زرہ فاستغلظ فاستویٰ علیٰ سوقہ یعجب الزراع لیغیظ بہم الکفار،سمیٰ اللہ تعالیٰ غالظہم کفارا فلیحذر عن غیظہم کما یحذر عن الکفر واللہ سبحانہ الموفق۔’’