مواد پر جائیں

باب ۳۰ از ۵۷صفحات ۴۰۹–۴۱۸

چند اہم امور

ہماری ان تمہیدات کا حاصل چند اہم امور ہیں(1)سرور کائناتﷺ تمام ظاہری وباطنی کمالات کے جامع ہیں اور ان کمالات میں قابل اظہار کمالات کا اظہار مختلف ازمان واوقات اور مختلف اشخاص وافراد سے متعلق تھا اس میں کیا حکم و مصالح تھے اسے بہتر طور پر اللہ ورسول ﷺ ہی جانتے ہیں،ایک خاص حکمت یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ دنیا جتنی آپﷺ کی بعثت اور دنیا میں آپ کی آمد ورفت سے دور ہوتی جاتی تھی اتنے ہی آپ کے فیوضات وبرکات خصوصی اور کمالات روپوش ہوتے جاتے تھے ،اب کمالات وفیوضات وبرکات کو تازہ کرنے کے لیے انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات نہیں آ سکتے تھے لہٰذا آپ کے مخصوص امتیوں کو اس کام کے لیے منتخب کیا گیا جو آپ کے فیوض وبرکات اور کمالات کو تازہ کریں اور آپ سے ربط وتعلق کو مضبوط کریں۔

نیز دن بہ دن صلاحیتیں گھٹ رہی تھیں،استعدادوں میں ضعف آرہا تھا اس لیے ایسے افراد کو بھی منتخب کیا گیا جو آپﷺ کے جدید اور نئے کمالات آپ کی امت تک پہنچائیں تاکہ لوگ وصل وعرفان کی راہیں بہ آسانی طے کر تے رہیں،ان افراد میں حسب ضرورت ایسی قوت ہو کہ دل میں قوی تاثیر پیدا کریں اور کثیر مجاہدات وریاضات نہ ہونے پر بھی آپ ﷺ کے کمالات سے حصہ پا سکیں ،اگر آپ ائمہ طریقت اور دیگر مخصوص بزرگان دین میں غور فرمائیں تو یہ نکتہ بہ آسا نی ذہن میں اتر جائے گا ۔

(2) قرآن پاک چونکہ جمیع احکام شرعیہ کا جامع ہے اس کی تہوں میں ہرتہذیب ہر قو م اور ہر زمانے کے تقاضوں کے مطابق سارے احکام بندوں کے لیے

موجود ہیں لہٰذا حسب زمانہ اور ضرورت ایسے افراد کی بھی ضرورت تھی جو اس بحر ذخار سے جدید احکام وشرائع امت کو عطا فرمائیں اور ہر دور میں قرآن وسنت سے متعلقہ علوم کو تازہ کرتے رہیں یہی وجہ ہے کہ احکام شرع کی تدوین وترتیب کے لیے تابعین وتبع تابعین کے دور میں کیسے کیسے اجتہاد واستنباط کے حامل افراد اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور قرآن وسنت سے متعلق علوم کے وہ دریا بہائے اور ان نفوس قدسیہ نے وہ اصول وضوابط قرآن وسنت سے اخذ کرکے اور ان سے فروع مستنبط کرکے امت کو ایک شاہراہ عطا فرما دی جس پر چل کر ہر زمانے میں وہ بہ آسانی اپنی دینی ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آغاز میں مجتہدین کثرت سے پیدا ہوئے اور جب یہ ضرورت پوری ہو گئی تو اب وہ سلسلہ ختم ہو گیا اور حکمت الٰہی تھی کہ چار مجتہدین کے مذاہب ایسے مدون ہو گئے جو ہر طرح کامل تھے باقی مجتہدین کے اجتہادات کو دنیا دھیرے دھیرے بھول گئی۔

(3) نفس و شیطان ساتھ لگے ہیں اس لیے جس طرح پہلی امتوں نے تحریف وتبدیل کی اور احکام ومسائل کو اپنے مزعومات وخواہشات نفس کے تابع کرلیاگیالہٰذا اس وقت میں بھی یہ ہونا تھا کہ ایسے فاسد ذہن اور نفس امارہ کے شکار لوگ ہوں گے جو نفس وشیطان کے فریب کھا کر عملی واعتقادی خامیوں کے شکار ہوں گے اور احکام شرع کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کریں گے اور غلط وباطل تاویلات کرکے امت کے ایمان لوٹیں گے ،اس لیے ایسے افراد واشخاص کی ضرورت تھی جو اصلاح اعمال اور تصحیح عقائد کا فریضہ انجام دیں،بدعت کو فنا کریں،سنت کو رواج دیں اور شیطان کے چیلوں کی غلط اور فاسد تاویلات کا منھ توڑ جواب دیں اور ہر ایک کو اس کی حیثیت بتاتے رہیں،سب کو موت کے گھاٹ اتارتے رہیں،اس کام کو تقریر وتحریر،تصنیف وتالیف اور تحقیق وتدقیق وغیرہ جن جن چیزوں سے انجام دیا جا

سکتا تھا مختلف ازمان میں جیسے جیسے تقاضے ہوئے امت کے علماء ومصلحین نے اس ضرورت کو پورا کیا اور آج بھی ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

حقیقت تجدید:

ان امور کو نظر میں رکھنے کے بعد آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ سرور کو نین ﷺ کے کمالات کو تازہ کرنا اور نئے نئے فیوضات وبرکات سے امت کو آشنا کرنا بھی تجدید ہے اور قرآن وسنت سے احکام ومسائل کا استنباط کرنا اور امت کو عملی واعتقادی شاہراہیں عطا کرنا بھی تجدید ہےاور قرآن وسنت کے ظاہری احکام وشرائع کو رواج دینا ،عام امت کو عامل بنانا ان کی تحقیق وتدقیق کرکے امت کو تزلزل وتذبذب کی پر خطر وادیوں سے نکالنا بھی تجدید ہے اور باطلوں کی سرکوبی،حق کے ساتھ باطل کی تخلیط وتلبیس کو ختم کردینا اور دودھ کو دودھ اور پانی کو پانی کردینا بھی تجدید ہے۔

نیز یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کی مرضی پر ہے وہ چاہے تو کسی زمانے میں ایک سے،چاہے ایک ساتھ کئی ایک سے لے وہ اس کو بادشاہوں سے لے یا غریبوں سے،جس زمانے میں جیسی شخصیتیں مطلوب ہوتی ہیں اور جن اوصاف وخصائل، علم وفضل اور وصل وعرفان کے حاملوں کی زمانے کو ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی وہ فرق مراتب کے ساتھ بندے منتخب فرماتا ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے پہلے زمانوں میں فرق مراتب کے ساتھ انبیاے کرام پھر کسی زمانے میں رسولان عظام اور پھر کبھی کبھی بہت مدت کے بعد اولوالعزم رسل علیہم الصلوات والتسلیمات تشریف لائے ہیں ٹھیک اسی طرح مجددین میں بھی ہوتا ہے اور حسب صلاحیت واستعداد اپنے اپنے حلقے اور زمانے میں تجدید کا کام انجام دیتے ہیں جس کا کام جتنا ہی وسیع وہ اتنا ہی اجر کا مستحق ہوتا ہے۔

اس سے معلوم ہوگیا کہ مجدد کے لیے نہ تو یہ ضروری ہے کہ وہ ہر زمانے میں

ایک ہی ہو نہ یہ ضروری ہے کہ علم وفضل میں سب سے بلند منزل پر فائز ہو اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ ہر شعبہ کا مجدد ہو بلکہ ایک بھی ہو سکتا ہے،زیادہ بھی،الگ الگ شعبوں کے الگ الگ مجدد بھی ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام یا اکثر شعبوں کی تجدید کا کام ایک ہی فرد سے لیا جائے ،حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے درج ذیل قول سے ہمارے اس خیال کی تائید ہو تی ہے جو انھوں نے حدیث تجدید کے تحت سپرد قلم کیے ہیں وہ فرماتے ہیں:

'یعنی مجدد سنت کو بدعت سے جدا اور ظاہر کرے گا ، علم کو پھیلائے گا ، اہل علم کو عزت دے گا ، بدعت کو مٹائے گا اور اہل بدعت کو توڑے گا ۔

صاحب جامع اصول نے فرمایا کہ علما نے اس حدیث کی تاویل میں کلام کیا اور ہر ایک نے اس عالم کی طرف اشارہ کیا جو اس کے مذہب میں ہے اور حدیث کو اسی پر محمول کیا اور بہتر یہ ہے کہ عموم پر محمول کی جائے کیوں کہ لفظ من واحد اور جمع پر واقع ہوتا ہے۔

نیز حدیث فقہا کے ساتھ بھی خاص نہیں کیونکہ امت کا انتفاع اگرچہ فقہا سے کثیر ہے،پس امت کا نفع حاصل کرنا اولی الامر(سلاطین وحکام) اور محدثین،قاریوں،واعظوں اور زاہدوں سے بھی کثیر ہے کیونکہ دین اور قوانین سیاست کا حفظ اور عدل کی اشاعت اولی الامر کا کام ہے اور اسی طرح قرّا ومحدثین نفع پہنچاتے ہیں تنزیل اور ان احادیث سے جو شریعت کے اصول اور اس کے دلائل ہیں اور واعظ نفع پہنچاتے ہیں وعظ اور لزوم تقویٰ پر ابھار کر لیکن جس کو تجدید کے لیے پیدا کیا جائے اس کی شرط ہے کہ ان فنون میں سے ہر فن میں اس کی طرف اشارہ کیا جائے۔

اس سلسلہ بیان میں حضرت امام جلال الدین سیوطی قدس سرہ کے بارے میں کہتے ہیں:''اور شیخ الشیوخ سیوطی جنھوں نے علم تفسیر جوکہ در منثور میں ماثور ہے،کو

زندہ کیا اور اپنی مشہور جامع میں تمام احادیث متفرقہ کو جمع کیا اور کوئی فن نہیں چھوڑا مگر ان کی اس فن میں متن اور شرح تحریر ہے بلکہ ان کے زیادات ومخترعات ہیں وہ مستحق ہیں کہ مجدد فی القرن المذکور ہوں جیسا کہ انھوں نے دعویٰ کیا ہے اور وہ اپنے دعویٰ میں مقبول ومشکور ہیں،آگے کے الفاظ یہ ہیں:

ہٰذا والاظہر عندی واللہ اعلم ان المراد بمن یجدد لیس شخصا واحدا بل المراد بہ جماعۃ یجدد کل احدفی بلد فی فن او فنون من العلوم الشرعیہ ماتیسر لہ من الامور التقریریہ اوالتحریریہ ویکون سببا لبقائہ وعدم اندراسہ وانقضائہ الیٰ ان یاتی امر اللہ الخ(مرقاۃ المفاتیح ،جلد اول، ص:247-248)

چند اہم گوشے:

اس تقریر سے مجدد کے بارے میں چندامور معلوم ہوئے ایک تو یہ کہ مجدد ایک بھی ہو سکتا ہے اور ایک سے زیادہ بھی دوم مجدد کئی قسم کے ہو سکتے ہیں مثلا امام سیوطی مجدد فی القرن تھے ،اس سے معلوم ہوا کہ مجدد کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہر فن کا مجدد ہو، سوم تجدید کا دعویٰ ہو سکتا ہے اب اگر خارجی شواہد تائید کریں گے اور اس کی خدمات اس طرح کی سامنے آئیں گی تو وہ اپنے دعوے میں مقبول ومشکور ہوگا،چہارم کسی فن کا مجدد وہ ہے جو اس فن کی بقا کا سبب بنے اور اس کو ختم نہ ہونے دے ۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ جن جن فنون کی بقا کا سبب بنے گا اور اس کے ذریعہ جو جو امور

.....................

۔1 اور حقیقی علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، مگر میرے نزدیک یہ بات واضح ہے کہ دین کی تجدید کرنے والے سے مراد شخص واحد نہیں ہے، بلکہ جماعت مراد ہے جن کا ہر فرد اپنے وطن میں اپنی استطاعت بھر تحریر و تقریر کے ذریعہ علوم شرعی کے ایک فن یا چند فنون کی تجدید کرتا ہے اور وہ شخص قیامت تک اس مذکورہ فن کی بقا کا سبب ہوتا ہے۔(سید نور عالم)

دینیہ رواج پائیں گے وہ ان سب کا مجدد ہوگا شریعت سے متعلقہ مختلف علوم وفنون میں جس فن کا رواج بقا کا سبب بنے گا تو وہ تمام شریعت کا مجدد نہ ہوگا بلکہ صرف اسی فن اور جملہ فنون شریعت کے بقا ورواج کا ذریعہ وسبب بنے گا تو وہ اپنے زمانے میں پوری شریعت کا مجدد بنے گا۔

اسی پر آپ طریقت کے شعبوں کو قیاس کر لیجیے جس روحانی فیض کی بقا کا وہ سبب بنے گا وہ اس کا مجدد ہوگا،جن جن کمالات کے اظہار کا ذریعہ بنے گا وہ ان کا مجدد ہوگا ،جو فیوضات وبرکات اس کے ذریعہ تازہ ہوں گے اور نئے نئے جلوہ گر ہوں گے وہ ان کا مجدد ہو گا جتنے زمانے تک کے لیے بقا کا سبب بنے گا اتنے زمانے تک کا مجدد ہوگا۔

مجدد کے اوصاف:

جس علم وفن اور فضل وکمال کی تجدید پرور دگار عالم کسی بندے سے کراتا ہے اسے اس فن میں نہایت بصیرت عطا فرماتا ہے ،اس کے حدود وقیود کو وہ اچھی طرح سمجھتا ہے،اس کو رواج دینے اور پھیلانے کے لیے کن کن وسائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس کے لیے کوشاں ہوتا ہے، خداوند قدوس وہ وسائل و ذرائع مہیا فرماتا ہے،جس کام کی تجدید کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ہر امکانی کوشش کرتا ہے ،ہر موقع ومحل اس کے لیے تلاش کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کئ دل میں اس کی اتنی اہمیت ڈال دیتا ہے کہ وہ ہمہ تن اسی میں مصروف رہتا ہے،دنیا کی رنگینیوں،رعنائیوں اور اسباب عیش وراحت سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے۔

جس کام کی تجدید کرنا چاہتا ہے اس کے مٹنے اور ختم ہونے کے تمام حربوں کو دفع کرتا ہے،اس کو مٹانے والے کن چور دروازوں سے داخل ہوتے ہیں انھیں وہ اچھی طرح پہچانتا ہے اور مٹانے والوں کی سرکوبی کرنا اچھی طرح جانتا ہے،یہ کام اللہ تعالیٰ ہر کس وناکس سے نہیں لیتا ہے جن سے لیتا ہے انھیں بے پناہ عزم واستقلال دیتا ہے

،ہمت وجرات دیتا ہے وہ کسی بھی محاذ پر کسی طرح باطل کے سامنے سر نگوں نہیں ہوتا ہے ،ہر میدان میں ہر محاذ پر ہر ایک کے سامنے نہایت بے باکی کے ساتھ اظہار حق کرتا ہے اور کسی بھی مرحلہ میں ادنیٰ سی حیلہ سازی یا رو رعایت نہیں کرتا ہے، اپنے پرائے کی ناراضگی یا ملامت کا اسے کوئی خوف نہیں ہوتا ہے ،کبھی کسی مرحلہ میں وہ دین کا سودا نہیں کرتا ہے ،اپنے موقف پر اتنا اٹل ہوتا ہے کہ کسی بھی مادی اور باطل طاقت سے مرعوب ہونا ،لچک کھا نا یا خاموشی اختیار کرلینا اسے نہیں آتا ہے وہ اس معاملہ میں کسی تشکیک کا شکار نہیں ہوتا ہے،تذبذب وتزلزل تو اس کے پاس بھٹکتا بھی نہیں ہے،وہ ظاہری وباطنی تمام اوصاف حمیدہ اور فضائل جمیلہ سے آراستہ ہوتا ہے ،دلوں کو موہ لینے والے صفات کا حامل ہوتا ہے،ہر کام خداوند قدوس کے لیے کرتا ہے اور کسی سے ان خدمات کے معاوضے کا خواہش مند نہیں ہوتا ہے۔

چنانچہ پروردگار عالم غیب سے اس کی تائید فرماتا ہے اور یوماً فیوماً وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے اور اس کام کو تکمیل تک پہنچا دیتا ہے جس کی تجدید اس کے سپرد تھی ،اس سلسلے میں اس کی نمایاں خدمات اور تجدیدی کارنامے خود اسے پہچنوا دیتے ہیں اور سلیم الطبع لوگ ان کے مقام ومنصب کا تعین کر لیتے ہیں کسی تعصب کا شکار نہ ہو کر اس کا جائز حق اسے دیتے ہیں نہ گھٹاتے ہیں اور نہ ہی عقیدت میں اسے اس کے مقام سے بڑھاتے ہیں۔

مجدد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کی تجدیدی کوششیں اس کی زندگی ہی میں سب پر عام اور حاوی ہو جائیں اور ایک دم ساری دنیا اسے پہچان لے بلکہ وہ اس کام کو اس کے تمام خد وخال کے ساتھ پہچنوا دیتا ہے اور ایک معتد بہ حد تک اس کو نافذ کردیتا ہے اور اس کام کے معاونین وانصار کی ایک ایسی پختہ جماعت یا افراد دنیا والوں کو دے کر جاتا ہے جو اس کے ان کارناموں کو رفتہ رفتہ عالم میں عام کرتے ہیں یہ مجدد کے

اوصاف وخصائل کا ایک نمونہ ہم نے پیش کیا ہے۔

حدیث تجدید سے متعلق بعض مباحث:

حدیث تجدید کے الفاظ آپ پڑھ چکے ہیں ایک مرتبہ پھر دہرا لیں:

ان اللہ عز وجل یبعث لہٰذہ الامۃ علیٰ راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا (سنن ابو داؤد،کتاب الملاحم، باب ما یذکر فی قرن المأۃ:۴۲۹۱)

اس حدیث پاک میں چونکہ لفظ راس آیا ہے یعنی صدی کے سرپر جاری ہو یعنی اول میں یا آخر میں،کچھ نے یہ بھی کہا کہ جس صدی میں وہ مجدد ہو اس کے آغاز میں تجدیدی کارنامے سے لوگ جانیں اور اس کی ان خدمات کا سلسلہ اس صدی سے پہلے والی صدی کے آخر میں کچھ نہ کچھ جاری ہو چکا ہو نیز صدی سے مراد یہی ہجری سال لیا ہے۔

اس کے بر خلاف کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سرور کونینﷺ کے اس دور میں یہ نظام ہجری مقرر ہی نہ ہوا تھا تو یہ نظام کیسے مراد لیا جا سکتا ہے یہ بات بظاہر معقول ہے اسی بنیاد پر ان لوگوں نے پہلی بات کی حتما تردید کی ہے اور کہا ہے کہ صدی سے مراد قرن ہے اور لفظ راس زائد ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے عربی میں علیٰ رؤس الاشہاد میں لفظ روس اور فارسی یا اردو میں بر سر منبر یا بر سر مجلس میں لفظ سر زائد ہے۔

بہر حال ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کون سی صدی مراد ہے اتنا ضرور ہے کہ احادیث کریمہ پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سو سال کو حالات کے تغیر وتبدل میں خاصا دخل ہے اور اتنے عرصہ میں فاسد ذہن رکھنے والوں کی طرف سے ایک نمایاں خرد برد عقائد واعمال میں ہو جاتی ہے، حق کے ساتھ باطل کی ملمع کاری، نت نئے فتنے پیدا ہو ہو کر حق کو مشتبہ کر دیتے ہیں،باطل کی آمیزش سے حق کے حسن وجمال پر ایسے پردے پڑ جاتے ہیں جن کو ہٹانا عام اہل حق کے بس کی بات نہیں ہوتی

ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ مخصوص قوت کے مالک بندے پیدا فرماتا ہے ورنہ ہر قرن میں اہل حق موجود رہے ہیں اور رہیں گے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے حصے میں الگ الگ کام مقدر فرمائے ہیں وہ انھیں سے لیتا ہے ،ہر صدی کے کچھ ایسے بھی کام ہیں جو ان مخصوص بندوں کے حصے میں نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے کچھ اخص الخواص افراد ہوتے ہیں جو صدیوں سے بگڑتے چلے آئے امور کو زندگی دیتے ہیں اور تازگی پیدا کردیتے ہیں۔

میں نے ان اوراق میں ایسے ہی ایک فردجید کے کارنامے اپنے علم وجانکاری اور رسائی کی حد تک پیش کرنے کی سعی حاصل کی ہے،پہلے تجدید کے لواحق اور ضروری مباحث کو سپرد قلم کیا ہے پھر ان امور کا مختصر خاکہ پیش کیا ہے جو اس غیر منقسم ہندوستان کو درپیش تھے،کچھ وہ تھے جو صدیوں سے عام دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اور جن کی حقانیت وصداقت پر بڑے بڑوں نے یقین کر لیا تھا اور انھیں کو رفتہ رفتہ عین ایمان سمجھا جانے لگا تھا ،کچھ نے مخاشفہ اور کچھ نے تقلیداً اس طرح ان امور کو تسلیم کر لیا تھا کہ گویا اجماع سا ہوتا جا رہا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ ورسول ﷺ اور ان کے احکام کی پوری ترجمانی نہ کرتے تھے اور جو تعارف چاہئے تھا اس سے کوسوں دور تھے ۔

پھر کچھ اخلاف نے وہ گل کاریاں کی تھیں کہ دیکھنے والے حیرت زدہ ہوجاتے،اب کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے حقائق پر غور وخوض اور انصاف وعدل آپ کے اختیار میں ہے،اے اللہ عز وجل!ہمارے نسیان وخطا کو معاف فرما اور حق وصواب کو قبول فرما کر اپنی رضا وخوشنودی عطا فرما آمین! بجاہ النبی الامین وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔

اقسام تجدید:

یہ بات اچھی طرح واضح ہو چکی کہ تجدید کی متعدد قسمیں اور صورتیں ہو سکتی ہیں،یہاں نہایت اہم اور واضح چند اقسام بطور نمونہ عرض کر رہے ہیں:

تجدید شریعت:

اس سے مراد قرآن وسنت کے وہ واضح احکام ومسائل جو عقائد واعمال سے تعلق رکھتے ہیں ،اجتہاد واستنباط بھی اس میں داخل ہے ،احیاء سنت کا فریضہ انجام دینا، لوگوں نے جن سنتوں پر عمل کرنا چھوڑدیا ہو انھیں رواج دینا اور پھیلانا،سنت کو بدعت سے ممتاز کرنا ،اسی طرح عقائد حقہ کا لوگوں کو پابند بنانا یہ دولت صرف اہل سنت وجماعت کو حاصل ہوتی ہے ،عقائد میں کجی کی راہیں ہر دور میں لوگوں نے نکالی ہیں مگر اہل حق نے ہر باطل فرقہ کا تحریر وتقریر کے ذریعہ ہمیشہ منھ توڑ جواب دیا اور باطل کو کبھی پنپنے نہ دیا ،الغرض کمالات کے درجات میں پہلے درجہ سے متعلق جتنے امور ہیں وہ تجدید شریعت میں داخل کیے جا سکتے ہیں،ہماری مراد تجدید شریعت سے یہی ہے۔

تجدید طریقت:

تجدید طریقت سے ہماری مراد درجہ دوم کے کمالات کی تجدید ہے یعنی ان اقوال واعمال کو رواج دینا اور خدمت وحفاظت کرنا جو کہ سرور کونینﷺ کے باطن سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی بقا کا سبب بننا،تہذیب اخلاق کی دولت سے لوگوں کو مالامال کرنا ،رذیل اور گھٹیا صفات اور امراض باطن کو زائل اور دور کرنا یہ سب تجدید طریقت میں داخل ہے۔