مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیحقیقت محمدی و حقیقت احمدی

باب ۳۲ از ۵۷صفحات ۴۳۳–۴۵۳

حقیقت محمدی و حقیقت احمدی

(۱)مکتوب ۲۰۹ جلد اول میں مبدأ ومعاد کی ایک عبارت کا حل پیش کرتے ہو ئے فرمایا سرور کون ومکاں ﷺ بھی عالم خلق اور عالم امر کے اجزا سے مرکب پیدا کیے گئے تھے جو اسم الٰہی آپﷺ کے عالم خلق کی پرورش کرتا ہے اور رب ہے وہ شان‘‘العلیم’’ ہے اور جو عالم امر کا مربی ہے وہ اس سے اوپر کا مرتبہ ہے،حقیقت محمدی شان العلیم سے عبارت ہے اور حقیقت احمدی اس معنیٰ سے عبارت ہے جو شان العلیم کا مبدأ ہے اور اس کے فوق میں ہے۔

اس کے بعد فرماتے ہیں: ‘‘جو نبوت حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والتسلیم کی پیدائش سے پہلے اس سرور(کونین)ﷺ کوحاصل تھی اور آپ ﷺ نے جس مرتبہ کی خبر دی اور فرمایا‘‘کنت نبیا وا اٰ دم بین الما ء والطین’’وہ حقیقت احمدی کے اعتبار سے تھی کہ عالم امر سے تعلق رکھتی ہے اور اسی اعتبار سے حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا

وعلیہ الصلاۃ والتسلیم نے کہ کلمۃ اللہ تھے اور عالم امر سے زیادہ مناسبت رکھتے تھے اس سرور ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت اسم احمد سے دی اور فرمایا:‘‘ومبشرا برسول یا تی من بعدی اسمہ احمد’’اور جو نبوت نشأ عنصری(دنیا)سے تعلق رکھتی ہے باعتبار حقیقت محمدی کے نہیں ہے بلکہ دونوں حقیقتوں کے اعتبار سے ہے اور آپ کا پرورش کنندہ(رب) اس مرتبہ میں وہی شان(العلیم)اور اس شان کا مبدأ(یعنی جو العلیم کے فوق میں ہے)اسی لیے اس مرتبہ کی دعوت(یعنی دنیا میں)زیادہ تام ہے مرتبۂ سابق کی دعوت سے کیونکہ اس مرتبہ میں آپ کی دعوت عالم امر کے ساتھ مخصوص ہے اور آپ کی تربیت روحانیوں(ساکنان عالم ارواح )پر مقصور تھی اور اس مرتبہ میں آپ کی دعوت خلق اور امر (دونوں)کو شامل ہے اور آپ کی تربیت اجسام وارواح پر مشتمل ہے،زیادہ سے زیادہ(یہ کہا جا سکتا ہے)یہ کہ اس دنیا میں آپ کے نشاۃ عنصری کو آپ کے نشاۃ ملکی پرغالب کیا ہے علیہ وعلیٰ اٰلہ الصلاۃ والسلام تاکہ خلائق سے مناسبت زیادہ پیدا ہو جو کہ افادہ واستفادہ کا سبب ہے کیونکہ خلائق میں جانب بشریت غالب ہے،حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کو بڑی تاکید کے ساتھ اظہار بشریت کا حکم فرماتا ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:‘‘قل انما انا بشرٌ مثلکم یوحیٰ الیَّ’’ یہ بشریت کی تاکید کے واسطے ہے۔

اور اس دنیا سے انتقال فرمانے کے بعد آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی جانب روحانیت غالب آگئی اور بشری مناسبت کا رخ کمی کی طرف ہو گیا اور دعوت کی نورانیت نے تفاوت پیدا کیا،بعض صحابۂ کرام فرماتے ہیں کہ ابھی ہم سرور کونین ﷺ کے دفن سے فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ اپنے دلوں میں فرق اور تفاوت محسوس کیا (اس کی تفصیل ترمذی شریف میں ہے۔اور فرق کیوں نہ محسوس کرتے)کہ ایمان شہودی غیبی سے تبدیل ہو گیا اور معاملہ آغوش سے گوش(کان)کی طرف کھنچ گیا اور دیکھنے

سے سننے کی جانب آگیا،اور آپ ﷺ کی رحلت کے زمانے سے جب ہزار سال گزر گئے تو اتنی لمبی مدت اور طویل زمانے میں جانب روحانیت اس طور پر غالب آئی کہ جانب بشریت کو مکمل طور پر اپنے رنگ میں رنگین کر لیا اور عالم خلق کو عالم امر کے رنگ میں رنگ لیا’’ پھر کچھ سطر بعد فرماتے ہیں:

‘‘اس جگہ سے ہے جو اگلے شرائع سے نقل کرتے ہیں کہ انبیاء کرام میں سے اولوالعزم پیغمبر کے ارتحال کے ایک ہزار سال کے بعد رسل عظام مبعوث ہوتے تھے کہ اس پیغمر(اولوالعزم) کی شریعت کی تقویت فرماتے تھے اور کلمۂ حق بلند کرتے،جب ان کی شریعت کا دورہ ختم ہو جاتا تو دوسرے پیغمبر اولوالعزم مبعوث ہوتے تھے اور اپنی شریعت کی تجدید فرماتے تھے اور خاتم الرسل علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات کی شریعت چونکہ نسخ وتبدیل سے محفوظ ہے اسی لیے آپ کی امت کے علما کو انبیاء کا حکم دے کر شریعت کی تقویت اور ملت کی تائید کا کام علما کو سونپ دیا اس کے باوجود ایک پیغمبر اولوالعزم(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو آپ کا متابع بنا کر آپ کی شریعت کی ترویج فرمائی ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:انّا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافطون’’

معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت خاتم الرسل ﷺ کے ارتحال کے ایک ہزار سال بعد آپ کی امت کے جو اولیا ظاہر ہوں گے وہ ہر چند اقل ہوں گے مگر اکمل ہو ں گے تاکہ اس شریعت کی تقویت اتم طور پر کر سکیں،حضرت مہدی کہ خاتم الرسل ﷺ نے جن کے قدم مبارک (آنے) کی بشارت فرمائی ہے ہزار سال بعد وجود میں آئیں گے اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام خود بھی ہزار سال بعد نزول فرمائیں گے’’

پھر آپ نے حدیث شریف‘‘لم یدرییٰ اولہم خیر ام اٰخرہم’’(نہیں جانا جا سکتا

ہے کہ اس کا اول بہتر ہے یا آخر)کی نفیس تشریح فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ کہ اس دور کے اولیاے کرام کے کمالات صحابۂ کرام کے کمالات کے اگرچہ عین نہ ہوں گے مگر مشابہت بہت ہو گی،عام لوگ فرق نہیں کر سکتے ہیں چونکہ آقائے کائناتﷺ دونوں کا فرق اچھی طرح جانتے تھے اس لیے آپ ﷺ نے ‘‘لا ادری’’نہیں فرمایا یعنی میں بھی نہیں جانتا بلکہ ‘‘لا یدریٰ’’ فرمایا یعنی جانا نہیں جا سکتا ہے،چونکہ آپ یقین سے جانتے تھے اس لیے فرمایا:‘‘خیر القرون قرنی’’یعنی سارے زمانوں سے بہتر میرا زمانہ ہے،آپ کا زمانہ صحابہ ٔ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی شامل ہے۔

مذکورہ مکتوب حقائق سے نہایت پر ہے میں نے موضوع سے متعلق مختصرا ترجمہ پیش کردیا ہے،مکتوب شریف کا یہ طویل اقتباس سب کی تائید کر رہا ہے،اس مکتوب میں آپ نے صراحت کی ہے کہ ہزار سال کے عرصہ میں حقیقت محمدیہ عروج فرماکر حقیقت احمدی کے مقام تک پہنچ گئی یہ اہم مکشوف تمام ادراکات سے بالا تھا اس لیے اس کی تفصیل اس مکتوب میں فرمائی ورنہ اصل مکشوف مبدأ ومعاد میں مذکو رہے۔

(۲)کمالات نبوت کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ منصب نبوت اگر چہ خاتم الرسل ﷺ پر ختم ہو گیا لیکن اس کے کمالات سے کامل پیروکاروں کو حصہ ملتا رہے گا اس کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘ایں کمالات در طبقۂ صحابہ بیشتر است ودر تابعین وتبع تابعین نیز ایں دولت بر سبیل قلت سرایت کردہ است بعد ازان رو بہ استتار آوردہ است وغلبۂ کمالات ولایت ظلی جلوہ گر گشتہ است اما امید است کہ بعد از مضی الف ایں دولت از سر تازہ گردد وغلبۂ شیوع پیدا کند وکمالات اصلی رو بظہور آرند وظلی استتار پیدا کنند’’

ترجمہ:یہ کمالات صحابۂ کرام کے طبقہ میں زیادہ ہیں اور تابعین وتبع تابعین میں

بھی یہ دولت کمی کے ساتھ سرایت کیے ہوئے ہیں،اس کے بعد رخ پوشیدگی کی طرف ہو گیا ہے اور ولایت ظلی کے کمالات جلوہ گر ہوئے ہیں لیکن امید ہے کہ ہزارسال گزرنے کے بعد یہ دولت نئے سرے سے تازہ ہوگی اور غلبۂ شیوع پیدا کرے گی(پھیلے گی) اور کمالات اصلی ظاہر ہوں گے اور ظلی چھپ جائیں گے۔

(۳)مکتوب ۲۳۴ جلد اول میں کافی اسرار ومعارف بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘اے فرزند! یہ وہ وقت ہے کہ پہلی امتوں میں اس طور میں کہ وقت ظلمت سے پر ہے اولوالعزم پیغمبر مبعوث ہوتے تھے اور شریعت جدیدہ کا احیاء فرماتے تھے اس امت میں کہ خیر الامم ہے اس کے پیغمبر خاتم الرسل ﷺ نے علما کو بنی اسرائیل کے انبیاء کا درجہ دیا ہے اور انبیا کے وجود سے وجود علما پر کفایت فرمائی ہے اسی لیے ہر صدی کے سرے پر اس امت کے علما سے ایک مجدد متعین ہوتا ہے جو کہ احیاے شریعت فرماتا ہے خاص کر ایک ہزار (سال)گزرنے کے بعد کہ پہلی امتوں میں پیغمبر اولوالعزم کی بعثت کا وقت ہے ایسے وقت میں ہر پیغمبر پر اکتفا نہیں کیا ہے اس دور میں اس وقت عالم تام المعرفت عارف درکار ہے کہ پہلی امتوں کے اولوالعزم کا قائم مقام ہو’’آپ کے خاص آخری الفاظ یہ ہیں‘‘دریں طور وقت عالم عارفے تام المعرفت درکار است کہ قائم مقام اولی العزم امم سابقہ باشد’’

(۴)مکتوب ۲۶۱ جلد اول میں اسرار بلکہ معارف نماز بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘جان لو! عقلمند کے لیے اشارہ کافی ، یہ وہ کمال ہے جو ہزار سال بعد وجود میں آیا ہے اور ایسی آخریت ہے جو اولیت کے رنگ میں ظاہر ہوئی،شاید اسی وجہ سے(سرور کونینﷺنے) فرمایا اولہم خیر ام آخرہم(یعنی ان کا اول بہتر ہے یا آخر)’’

ترمذی شریف میں بروایت حضرت انس پوری حدیث یوں ہے‘‘مثل امتی مثل المطر لا یدریٰ اولہ خیر ام آخرہ’’حضرت نے اسی حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا اولہم خیر ام اوسطہم اس لیے کہ اول کو آخر سے مناسبت زیادہ دیکھی کہ تردد کا محل ہوئی۔

اور دوسری حدیث میں پیارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کا بہترین اول ہے یا آخر اور اس کا درمیان تیرہ (تاریک) ہے’’ ہاں اس امت کے متاخرین میں اگرچہ نسبت کی بلندی ہے لیکن قلیل بلکہ اقل ہے اور اس امت کے متوسطین میں ہر چند اس بلندی کے ساتھ نسبت نہیں ہے لیکن کثیر بلکہ اکثر ہے ولکل وجہۃ کمیۃ وکیفیۃ (اور ہر ایک کے لیے کمیت وکیفیت کے اعتبار سے ایک جہت ہے) لیکن اس نسبت کی اقلیت نے متاخرین کو بلند درجات پر پہنچا دیا اور سابقین سے مناسبت دے دی اور بشارت دیتے ہوئے آقائے کریم ﷺ نے فرمایا:

‘‘الاسلام بدأ غریبا وسیعود کما بدأ فطوبیٰ للغربآ ء’’(سبحان اللہ ذہن رسا کی پرواز دیکھیں حدیث پاک کے وہ معنیٰ اخذ کیے کہ طبیعت عش عش کر اٹھی)

اس امت کی آخریت کا شروع ہزار دوم کے آغاز سے ہے نبی کریم ﷺ کے ارتحال سے(یعنی وصال اقدس کے ایک ہزار سال گزرنے کے بعد دوسرا ہزارا شروع ہوا) کیونکہ ایک ہزار کو امور کی تغییر میں عظیم خاصیت اور اشیاء کی تبدیل میں قوی تاثیر ہے اور چونکہ اس امت میں نسخ وتبدیلی نہیں ہے(اس لیے)لامحالہ اگلوں کی نسبت اسی تازگی وتابانی کے ساتھ پچھلوں میں جلوہ گر ہوئی ہے اور شریعت کی تائید وملت کی تجدید الف ثانی (ہزارۂ دوم)میں فرمائی ہے اور اس چیز پر عادل گواہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان ہیں؎

فیض روح القدس اگر باز مدد فرماید

دیگراں ہم بکنند آنچہ مسیحا می کرد

(یعنی اگر روح القدس کا فیض پھر سے مدد فرمائے تو دوسرے بھی وہی کر سکتے ہیں جو مسیحا نے کیا )

اے برادر! آج یہ بات اکثر مخلوق پربھاری ہے اور ان کی سمجھ سے دور ہے لیکن اگر انصاف سے کام لیں اور ایک دوسرے کے علوم ومعارف کا تقابل وموازنہ کریں اور احوال کی صحت اور فساد ،علوم شرعیہ کی مطابقت اور عدم مطابقت کے ساتھ ملاحظہ کریں اور شریعت ونبوت کی تعظیم وتوقیر کو دیکھیں کہ کس میں زیادہ ہے تو شاید استبعاد سے باہر آئیں۔

دیکھیں کہ فقیر نے اپنی کتب ورسائل میں لکھا ہے کہ طریقت وحقیقت شریعت کی خادم ہیں،نبوت ولایت سے افضل ہے اگرچہ اس نبی کی ولایت ہو اور لکھا کہ کمالات ولایت کو کمالات نبوت سے کوئی مقدار نہیں ہے کاش کہ قطرہ کا حکم رکھتے دریائے محیط(سمندر) کی بہ نسبت اور اس کے مثل بہت لکھا خاص کر اس مکتوب میں جو میرے فرزند کے نام ہے(یعنی مکتوب ۲۶۰ بنام حضرت خواجہ محمد صادق قدس سرہ)یہ طریقہ کے بیان میں لکھا ہے اس جگہ ملاحظہ فرمائیں ،اس گفتگو سے مقصود حق سبحانہ کی عظمت کا اظہار،اس طریقہ کے طالبوں کو رغبت دلانا ہے نہ کہ دوسروں پر اپنی فضیلت دینا اللہ عزوجل کی معرفت اس شخص پر حرام ہے جو کہ اپنے آپ کو کافر فرنگ سے بہتر جانے کجا یہ کہ اکابر دین سے۔’

تحدیث نعمت کے طور پر جوکچھ ان اقتباسات میں مذکور ہے وہ تجدید الف ثانی کی حقیقت سمجھنے کے لیے بہت کافی ہے،قرب وولایت ایک باطنی امر ہے اس کو سمجھنے کے لیے باطنی نگاہ کی ضرورت ہے،کون کس مرتبہ پر فائز ہے،بلندی مرتبت

کے لحاظ سے بلندیٔ نظر کی ضرورت ہوتی ہے،عقلی وعلمی پیمانوں سے اسے ناپا نہیں جا سکتا ہے،عام عقول واذہان کے پاس یہ دولت ہے ہی نہیں اور نہ ہی ان کے یہاں معیار کشف وکرامت اور مشاہدہ وتصرف ہے۔

بڑے بڑے مجاہدات میں جو ظاہر میں مجاہدات ہیں علما وبزرگوں کی شہادتیں اپنے اپنے پیمانوں اور علم وادراک کے لحاظ سے ہیں،اس میں عقیدت و محبت کو بہت دخل رہا ہے،سلسلہ سے وابستگی نے عموما نظروں کو تنگ کردیا انھوں نے وابستۂ سلسلہ کے مشائخ کو نہایت عقیدت سے دیکھا جبکہ دیگر مشائخ کو پڑھنے کی زیادہ توفیق نہ ہوئی،حقیقت کو پڑھنے اور پرکھنے سے کام بہت کم رکھا لہٰذا دوسروں کے کمالات سے خالی الذہن رہے ذہن وفکر کا مرکز وہی بزرگ رہے جن سے عقیدت ومحبت کا رشتہ ہے اسی لیے حضرت مجدد قدس سرہ کو کسی نے کثیر الدعاوی (بہت زیادہ دعوے کرنے والا) کہہ دیا کسی نے کچھ کسی نے کچھ۔۔۔

مگر تجدید الف ثانی آپ کو من جانب اللہ عطا ہوئی تھی،آپ مجدد الف ثانی سے ایسے مشہور ہوئے کہ نرے نام تک بھول گئے یہ گویا خدا کی طرف سے اشارہ ہے کہ ہم نے انھیں مجدد الف ثانی بنایا ہے،انھوں نے تجدید الف ثانی کی ہے خواہ تمہارے ناقص ذہن سمجھ پائیں یا نہ۔

ایک استبعاد یہ بھی تھا کہ اس دور میں ایسے ایسے ولی کیسے ہو سکتے ہیں یہی فکر کی بنیادی غلطی تھی، کاش! وہ سمجھتے کہ ایسے دور میں تو ایسے نفوس قدسیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی مقدس ذات سے فیوضات وبرکات اور حقائق وکمالات کے جو دریا بہے اور اپنی تازگی کے ساتھ پھر سے جو نسبتیں جلوہ گر ہوئیں انھیں کا اثر ہے کہ آپ کے نسبی و روحانی فرزندوں نے جو ترقیاں کی ہیں اور جیسے جیسے کمالات اور

معارف وحقائق کا اظہار فرمایا اور ہر طرح کے وہ تصرف وکرامات اور مشاہدات ومکشوفات بھی دکھا دیے جو پرانے بزرگوں سے منقول ہیں یہ گویا حضرت مجدد قدس سرہ کی طرف سے اعلان تھا کہ جو کچھ ہم نے کہا ہے وہ دوسروں کو عطا بھی کردیا ہے،جو ہم نے دیکھا ہے وہ لاکھوں اور کروڑوں کو دکھا بھی دیا ہے،تم کہاں تک انکار کروگے؟

نیز جو تم شریعت سے ہٹ کر ریاضات ومجاہدات اور نغمہ وسرود میں تلاش کرتے ہو اور شریعت کو جس کے لیے کافی نہیں سمجھتے ہو اس سے کہیں زیادہ ہم نے شریعت وسنت کو کلیجے سے لگا کر حاصل کر لیا اور دکھا دیا ہے کہ سرور کونینﷺ نے جو کچھ ہمارے لیے ضابطۂ حیات سنن و واجبات اور فرائض وغیرہ کی صورت میں مقرر فرمایا ہے جملہ کمالات کی تحصیل کے لیے وہی کافی ہے،اسی سے سب کچھ ملے گا،اس سے ہٹ کر وہی ہے جو شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے؎

خلاف پیمبر کسے رہ گزید

بمنزل نہ ہرگز خواہد رسید

بڑا سے بڑا کمال،بڑی سے بڑی کرامت،بڑا سے بڑا مشاہدہ صرف ا ور صرف اتباع سنت سے حاصل ہو سکتا ہے،شریعت وہ کمال ہے جو بلند ی ورفعت کی اس منزل سے فائز ہوتا ہے جو بشری عروج وارتقا کا نقطۂ آخر کہی جا سکتی ہے اس کے ماسوا جو بھی مکشوف ومشہود ہوگا وہ حقیقت تک نارسائی کی دلیل ہے۔

بلندیاں شریعت کے دامن میں،رفعتیں شریعت کی جھولی میں اور فلاح دارین شریعت کی عطا ہے،اب آئندہ صفحات میں آپ شریعت ونبوت کی تعظیم وتوقیر اور ملت کی تائید وتقویت،کمالات اور نسبتوں کا احیاء اور تجدید پڑھیں گے معلوم ہو جائے گاکہ جو کچھ حضرت مجدد قدس سرہ نے ان اقتباسات میں فرمایا ہے آپ کی

خدمات اس سے بھی زیادہ ہیں،بلندیاں آپ کے کیسے بوسے لیتی ہیں،رفعتیں کس طرح آپ پر نثار ہوتی ہیں اور بہاریں کس طرح خزاں رسیدہ کو چمن زار بناتی ہیں؟

(۵)مکتوب ۴ دفتر دوم میں آپ نے علم الیقین اور عین الیقین اور حق الیقین کے بارے میں ثابت فرمایا ہے کہ صوفیہ نے ان کے تعلق سے جو بیان فرمایا ہے وہ در حقیقت علم الیقین کے تین حصوں سے دو حصہ ہے ابھی ایک حصہ تو علم الیقین ہی کا در پیش ہے عین الیقین اور حق الیقین تو بہت بعد کی بات ہیں،اسی مکتوب گرامی میں آخر میں فرماتے ہیں:

‘‘یہ معارف دائرۂ ولایت سے خارج ہیں،ارباب ولایت علماے ظواہر کی طرح ان کے ادراک سے عاجز ہیں اور ان کے پانے میں کوتاہ دست ہیں یہ علوم مشکاۃ نبوت کے انوار سے حاصل کیے گیے ہیں علیٰ اربابہا الصلاۃ والتحیۃ، کہ تجدید الف ثانی کی تبعیت و وراثت کے طور پر تازہ ہوئے ہیں اور تازگی کے ساتھ ظہور پائے ہیں،ان علوم ومعارف کا مالک اس الف (ہزار دوم) کا مجدد ہے آخری الفاظ بعینہٖ یہ ہیں۔’’

‘‘کمالا یخفیٰ علی َ الناظرین فی علومہ و معارفہ التی تتعلق بالذات والصفات والافعال و تتلبس با لاحوال والمواجید والتجلیات والظہورات فیعلمون انَّ ہٰؤ لآء المعارف والعلوم ورأ العلماء و وراء معارف الاولیاء بل علوم ہٰؤ لآء بالنسبۃ الیٰ تلک العلوم قشر وتلک المعارف لبّ ذٰلک القشر واللہ سبحانہ الہادی’’

یعنی جیسا کہ ان حضرات پر مخفی نہیں جنھوں نے حضرت مجدد قدس سرہ کے ان علوم ومعارف میں غور کیا ہے جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور افعال و احوال ومواجید اور تجلیات وظہورات سے وابستہ ہے کہ یہ علوم ومعارف علما اور اولیا کے معارف سے پرے ہیں بلکہ علما واولیا کے علوم اور حضرت مجدد کے مذکورہ معارف میں چھلکے اور مغز کی نسبت ہے۔

(۶)تجدید الف ثانی ایک بڑی خاص عطا وہ ہے جو آپ نے مکتوب ۶ دفتر دوم میں بیان فرمایا،چونکہ وہ منزل ایسی تھی جو آپ کو تجدید الف ثانی کی تجدید کے سلسلے میں عطا ہوئی تھی اور آپ سے پہلے وہ مخصوص دولت کسی ولی کو نہیں ملی،آپ قدس سرہ نے رمز واشارے کے ذریعہ سے اسے بیان کیا جو بعض اہل علم کے لیے مخالفت کا سبب بن گئی،ہم پہلے مکتوب ۶ کی ابتدائی اصل عبارت نقل کرتے ہیں اس کے بعد اس کی تو ضیح وتشریح میں بعض محققین کے اقوال نقل کریں گے،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:

‘‘انگارم کہ مقصود از آفرینش من آنست کہ ولایت محمدی بولایت ابراہیمی علیہما الصلوات والتسلیمات منصبغ گردد وحسن ملاحت ایں ولایت باجمال صباحت آں ولایت ممتزج شود ورد فی الحدیث اخی یوسف اصبح وانا املح و بایں انصباغ وامتزاج مقام محبوبیت محمدیہ بدرجۂ علیا رسد۔’’

ترجمہ:میں سمجھتا ہوں کہ میری پیدائش سے مقصود یہ ہے کہ ولایت محمدی ولایت ابراہیمی سے رنگین ہو اور اس ولایت کا حسن ملاحت ولایت کے اجمال صباحت سے مل جائے،حدیث شریف میں آیا ہے کہ میرے بھائی یوسف میں صباحت اور مجھ میں ملاحت ہے اور اس انصباغ(رنگینی)وامتزاج(آمیزش) سے محبوبیت محمدیہ کا مقام درجۂ علیا کو پہنچ جائے۔

حضرت خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ نے اس عبارت کی تشریح چاہی تھی،حضرت مجدد قدس سرہ نے مکتوب ۹۷ دفتر دوم میں اس کی مکمل وضاحت فرمائی ہے اور غالبا مکتوب ۹۴و۹۵ دفتر سوم میں اسی مقام کو نہایت تفصیل سے بیان فرمایا ہے،میں اس عبارت کے تعلق سےحضرت مولانا زید فاروقی کا بیان نقل کر دیتا ہوں،جس سے کافی حد تک بات سمجھ میں آجائے گی،فرماتے ہیں:

‘‘اجمال صباحت سے اشارہ اس ضمنی اتباع ملت ابراہیمی کی طرف ہے جو آیتِ‘‘اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا’’سے مستفاد ہے ’’پھر تقریبا ایک صفحہ کے بعد فرماتے ہیں:‘‘حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی قدس سرہ نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ قولہ انگارم ۔۔الخ حضرت مجدد نے جو یہ بات کہی کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری پیدائش کا مطلب یہ ہے،تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سردار دو عالم ﷺ کے کمال متابعت کی وجہ سے مجھ کو متا بعت ابراہیم علیہ السلام کا شرف بھی عنایت کیا ہے جو کہ اتبع ملۃ ابراہیم کے ضمن میں مو جود ہے،اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دونوں اصحاب شریعت کے کمالات سے اس حیثیت سے مستفید کیا ہے جیسا کہ خادم زلّہ بردار(کسی کا بچا ہوا کھانے والا) مستفید ہوا کرتا ہے،یہ صورت استفادہ اولیا میں کسی کو نصیب نہیں ہوئی ہے،آپ کا ارشاد اظہار شکر کی بنا پر ہے اور اگر اس کو افتخار پر محمول کر کیا جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ اولیاء پیشین سے اللہ کے فضل پر بکثرت افتخار ثابت ہے۔۔الخ اور آپ نے مثال میں حضرت غوث اعظم کا قول‘‘قدمی علیَ رقبۃ کل ولی اللہ’’لکھا ہے۔’’

(خیال رہے کہ میں نے یہاں صرف ترجمہ لکھا ہے فارسی عبارت اصل کتاب میں موجود ہے)

خلت ابراہیمی کی ولایت اور محبوبیت محمدی کی ولایت کے امتزاج اور اختلاط کے سلسلے میں حضرت شاہ عبد العزیز قدس سرہ نے پر از حقائق مضمون لکھا ہے،ذیل کے سطور میں اس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔

‘‘ولایت خلت کے علاوہ دوسری ولایتوں کا بیان شارع نے کیا ہے چاہے وہ بیان صراحت کے ساتھ ہوا ہو چاہے کنایہ اور اشارے سے،جیسے ولایت محبت ہے اس کا پتہ یحبہم و یحبونہم اور یحب اللہ ورسولہ اور یحبہ اللہ ورسولہ سے اور ولایت رضا کا پتہ

رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ اور لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ سے پتہ چلتا ہے لیکن ولایت خلت کا پتہ کسی جگہ سے نہیں ملتا ہے۔

حضرات صحابہ اور تابعین اور ان کے بعد حضرت جنید بغدادی اور مشائخ قادریہ و چشتیہ کے زمانے تک ولایت خلت کے علاوہ دوسری ولایتوں کے ذریعہ کمالات حاصل کیے جاتے تھے اور ان ولایتوں سے کمالات حاصل کرنے کے طریقے کتابوں میں مدون و مرتب اور مبوب ہوئے،حضرت مجدد سے پہلے طریقۂ نقشبندیہ کی راہ محبت و محبوبیت تھی،ذکر جہر و وجد و شوق ان کا مشغلہ تھا،حضرت عبد الخالق اس طریقہ کے بانی ہیں ان کو خضر نے ذکر خفی کی تعلیم دی حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند بخاری نے اس طریقے کی آبیاری کی اور وہ بار آور ہوا،حضرت خواجہ ناصرالدین عبید اللہ احرار کے زمانے میں علوم توحید کا امتزاج ہوا یعنی جناب شیخ اکبر کے بیان کردہ علوم اس طریقے میں بھی رائج ہو گئے اور اس امتزاج نے ایسا رنگ پیدا کیا کہ علوم توحید کا غلبہ ہو گیا۔

اب حضرت مجدد قدس سرہ کا زمانہ آیاآپ نے ان تمام علوم کو بطون البطون میں پہنچایا یعنی اس کو چھوڑا اور اپنے چاک سینہ سے محبوب تک پہنچنے کا ایسا راستہ نکالا کہ شوق ووجد ایک طرف رہ گیے اور مدار کار قلب،روح،سر،خفی،اخفیٰ اور عناصر پر ہوا یہاں تک کہ باطن سے انوار اٹھ اٹھ کر پھر باطن پر گرنے لگے تا آں کہ مقام خلت نے جلوہ دکھایا۔

محبت عاشقی ہے اور محبوبیت معشوقی اور خلت دوستی و یاری، عاشقی میں آہ و نالہ و بے تابی اور سر پھوڑنا ہے،معشوقی میں ناز و دلار اور فخر ومباہات اور خلت میں صحبت و سرگوشی اور راز ونیاز از جانبین،یہ ہے اجمال صباحت خلت اور اگر کوئی تفصیل چاہتا ہے تو حضرات مجددیہ کی صحبت چند سال اختیار کرے اور پھر بطریق وجدان خود ملاحظہ

کرے اور دیکھ لے کہ ولایت محمدی کا حسن ملاحت ولایت ابراہیمی کے جمال صباحت سے کس طرح ملا ہے اور اس کی آمیزش سے محبوبیت محمدیہ کا مقام کس درجۂ علیا کو پہنچا ہے۔’’

راہ ولایت خلت کا بیان ایک ہزار سال سے کسی نے نہیں کیا تھا یہ مقام سردار دوعالم ﷺ کے جو ہر شریف میں مکنون و مخزون تھا،اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد قدس سرہ کی ذات کو اس مقام کے ظہور کا منشأ بنایا اور آپ کے طفیل ہزارہا طالبان حق اس راہ سے مستفید ہوئے۔۔۔

عجب تر یہ ہے کہ سالہا سال حضرت مجدد قدس سرہ نے اس طریقہ اور اس راہ سے طالبان حق کی رہبری کی اور پھر حضرت سکندر فرزند پسر حضرت کمال کیتھلی سرہند آئے اور سر حلقۂ طریقۂ محبوبیت حضرت غوث صمدانی سیدنا عبد القادر جیلانی کا مبارک خرقہ آپ کو پہنایا،اس طرح آپ از راہ خلت مقام محبوبیت کو پہنچے،پروردگار عالم اپنے خاص بندوں سے ایسے عجیب معاملات کرتا ہے،عجیب تر معاملہ یہ ہے جو اس نے اپنے محبوب ﷺ کے ساتھ کیا ہے کہ ابتداے کار مقام ابراہیمی سے ہوئی جب کہ آپ نے حجر اسود کو اس کے مقام پر رکھا پھر آپ مدینہ منورہ تشریف لے گیے اور آپ نے یہود ونصاریٰ سے جہاد کیا اور آپ کو مقام مو سوی اور مقام عیسوی عنایت ہوا ان دونوں مقاموں کا آغاز از وقت اسراء بہ سوئے بیت المقدس ہو چکا تھا اور غزوۂ تبوک میں اس میں تضاعف وتزاید ہوا اور حجۃالوداع میں پھر کمال ابراہیمی سے مشرف ہوئے اور اس طرح النہایۃ ہی الرجوع الیٰ البدایۃ متحقق ہوا یعنی ابتداء سیر سالک کی جہاں سے ہوتی ہے جب لوٹ کر پھر اسی مقام پر آجا تا ہے تو سیر کی انتہا ہو جاتی ہے۔’’(حضرت مجدد اور ان کے نا قدین،از۔ فاروقی صاحب)

سراج الہند حضرت شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی قدس سرہ کا بیان آپ نے پڑھا

اور بار بار پڑھئے کہ شاہ صاحب نے کس قدر دقیق معرفت کو آسان کر دیا اور حضرت مجدد قدس سرہ کے تجدیدی کمالات جن کی وجہ سے آپ ہزارۂ دوم کے مجدد ہوئے کتنی وضاحت کے ساتھ بیان فرمادیا،حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے مبارک کلام میں خود ان کی بلند پایہ شخصیت جہاں جلوہ گر ہے وہیں مجدد قدس سرہ کے مخصوص کمالات اور ان کی نسبت کے خصائص بھی جلوہ گر ہیں۔

اس کمال کی گہرائی میں آپ اتریں تو آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ ہزارۂ دوم میں پہنچتے پہنچتے انسانی استعداد کس منزل پر آ گئی تھی رفتہ رفتہ اولیاے کا ملین کم ہوتے جا رہے تھے،بڑے اور بلند مقامات تک وصول کس قدر مشکل ہوتا جا رہا تھا،قرب خاص کی دولتوں سے محرومی بڑھتی جا رہی تھی،حضور سرور کو نین ﷺ کے مخصوص اور بلند پایہ کمالات تک وصول نہایت دشوار ہوتا جا رہا تھا،رحمت الٰہی کو اپنے بندوں کی ضعیفی و نا توانی پرترس آیالہٰذا حضرت مجدد قدس سرہ کو پیدا فرما کر حسن ملاحت کے ساتھ اجمال صباحت کے انصباغ وامتزاج نے کیا گل کھلائے کہ بہاروں پر بہار آ گئی،پھر سے معرفت و قرب خاص کا دور جام آ گیا اور دلوں کے پیمانے شراب معرفت سے چھلکنے لگے،روحانیت کا دور دورہ ہوا اور حق کی شعائیں تیز تر ہو گئیں اور پھر سے وہ سارے کمالات جلوہ دکھانے لگے جو ایک دور ابتدائی صدی تک رہ کر روپوش ہو گئے تھے۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے بڑے لطیف اور دقیق اشاروں میں اپنے مخصوص کمالات بیان فرمائے اور ملاحت وصباحت کو اور ان کے کمالات کے درمیان فرق بتایا ہے،چند اشارے میں بھی سپرد قلم کرتا ہوں:

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ملت ابراہیمی کی اتباع و پیروی کا حکم دیا اور سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے درود ابراہیمی میں اپنی امت کو تعلیم دی

ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ کے لیے اسی طرح صلوات و برکات مانگیں جو حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے تھیں،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ شاید اس سے مقصود اسی دولت عظمیٰ کا حصول ہے اور یہی غرض مطلوب ہے،اب آپ سنیں کہ ملاحت وصباحت میں کیا فرق ہے؟

آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں حسن ذات تعالیٰ کی مخبر ہیں صفات کی آ میزش کے بغیر لیکن حسن صفات و افعال و آثار سب کا سب حسن صباحت سے مستفاد ہے کہ کثیر البرکت ہے،حسن ملاحت حضرت اجمال کے زیادہ مناسب ہے گویا ملاحت مر کز ہے حسن(مطلق) کے لیے اور صباحت اس مر کز کا دائرہ۔۔۔

یہ بھی دھیان رہے کہ حضرت ذات میں بساطت بھی ہے اور وسعت بھی اگرچہ یہ بساطت و وسعت ہماری عقل کے ورا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ممتاز بھی تو ملاحت و صباحت بھی ایک دوسری سے ممتاز اور جدا ہو ں گی،نیز ان دونوں کے کمالات بھی ایک دوسرے سے ممتاز ہو ں گے۔

اب جبکہ حضرت مجدد قدس سرہ کا دور آیا تو حسن ملاحت اور حسن صباحت کا امتزاج ہوا اور ملت ابراہیمی کی پیروی کے حکم اور صلوات و برکات مذکورہ کی طلب سے مقصود تھا لہٰذا اب ہزار سال پورے ہو ئے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد قدس سرہ کو سبب بنا دیا اور پھر آپ قدس سرہ کے الفاظ میں‘‘و آنچہ مقصود از آ فرینش خود می دانستم معلوم شد کہ بحصول پیوست و مسئول ہزار سالہ باجابت قرین گشت۔’’

پھر اس کے بعد حضرت مجدد قدس سرہ کی نوک قلم سے یہ عبارت نکلی ہے ‘‘الحمد للہ الذی جعلنی صلۃ بین البحرین و مصلحا بین الفئتین۔۔۔الخ’’ علما نے اس عبارت میں دو چیزیں خاص طور سے بیان فرمائی ہیں ایک تو یہ کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے وجود مسعود سے دریاے شریعت اور دریاے طریقت میں ملاپ

ہو گیا۔

جنھوں نے آپ کو گہرائی سے پڑھا ہے وہ جا نتے ہیں کہ طریقت و تصوف میں کہاں کہاں سے کیا کیا آگیا تھا اور آپ نے ساری آلا ئشوں سے پاک فرما کر خالص شرعی تصوف بنا دیا گویا شریعت کے قوانین و ضوابط ہی صرف تصوف ہیں اس سے ہٹ کر کچھ نہیں۔

دوم علما و صوفیہ کے ما بین عقائد و اعمال میں ایک خاص جنگ چھڑ گئی تھی اور یہ آج تک کہا جاتا ہے کہ علما اور صوفیہ میں کبھی نہیں بنی،حضرت مجدد قدس سرہ نے دونوں کو باہم اتنا کھینچا اور ایک دوسرے سے قریب کیا کہ دونوں گو یا ایک ہی چیز ہو گئے،جو عالم ہے وہ صوفی اور جو صوفی ہے وہ عالم،یہ دونوں نکتے اپنی جگہ بجا ہیں اور عبارت مذکورہ میں دونوں کی طرف پورا پورا اشارہ ہے اور یہ بھی تجدید الف ثانی کی ز بردست عطا ہے لیکن اس مکتوب گرامی میں پہلی مرتبہ یہ عبارت جس موقع و محل پر نوک قلم سے نکلی ہے وہ اس بات کی صاف غمازی کرتی ہے کہ دو دریاؤں کو ملانے میں دریائے حسن ملاحت اور حسن صباحت کا انصباغ اور امتزاج بھی ہے فللہ الحمد۔

اب آپ کے وجود مسعود سے امت پر کمالات ممتزجہ کے دروازے کھل گیے اور کم وقت میں ایک ساتھ ان دونوں دولتوں سے حصہ حاصل ہونے لگا،فسبحان اللہ و بحمدہ۔

معاملۂ مذکورہ تو آپ کے وجود مسعود سے وابستہ ہی تھا اس کے علاوہ آپ کے سپرد ایک دوسرا بھی عظیم کا رخانہ سونپا گیا ہے اور وہ ہے کیا؟ مکتوب کی آخری سطر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کارخانۂ دیگر عظیم آپ کے ظہور مقدس سے کمالات نبوت ورسالت و اولوا لعزم وغیرہ کا ظہور ہے جو کہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بقول حضرت مجدد قدس سرہ تابعین اور تبع تابعین تک چلا ہے اور اس

کے بعد روپوش ہو گیا ،آپ تاریخ کا بالتفصیل مطالعہ کر لیں اور صافیہ کرام کے بیان کردہ کمالات پڑھ لیں کمالات نبوت وغیرہ کا کہیں پتہ نہیں ملے گا بلکہ صرف کمالات ولایت کی جلوہ گری نظر آئے گی۔

یہ ہیں آپ کے ظہور وجود سے مقصود کا ئنات کو عطا کرنا جو الف ثانی کے ساتھ مخصوص ہیں،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں میری پیدائش سے مقصود خلق کا ارشاد و تکمیل نہیں ہے معاملہ دیگر اور کارخانہ دیگر ہے اس ضمن میں جو بھی منا سبت رکھے گا فیض پائے گا ورنہ نہیں تکمیل و ارشاد کا معاملہ اس کا رخانہ کی نسبت مطروح فی الطریق(راستہ میں پڑی ہو ئی چیز) امر کی طرح ہے،انبیاے کرام علیہم الصلوات وا لتسلیمات کی دعوت ان کے با طنی معاملات کے بنسبت یہی حکم رکھتی ہے’’

آپ دیکھ رہے ہیں کہ مخلوق کی رہبری و ہدایت حضرت مجدد قدس سرہ کے لیے ایک ضمنی چیز تھی یہ تو آپ کی قوت و طاقت کے لحاظ ہے اتنا بڑا کا م ہو گیا جو ظاہراََ تجدید کا سبب بنا ورنہ در حقیقت تجدید الف ثانی آپ قدس سرہ کے اسی قسم کے کمالات ہیں جو آپ کے ذریعہ امت کو ملے ہیں اور مل رہے ہیں۔

آج آپ کو رحلت کیے ہوئے کئی صدیاں گزر گئی ہیں اب کوئی بتائے کہ آپ کے بعد وہی کمالات جلوہ گر ہو رہے ہیں جو آپ نے دیئے ہیں یا ان صدیوں میں کوئی اور بھی ایسا آیا ہے جو تا زہ کمالات دے گیا ہو؟ اور جو کچھ صدیاں با قی رہ گئی ہیں ان میں آنے والی نسلیں دیکھ لیں گی ااور معلوم ہو جائے گا کہ جس تجدید کو تجدید الف ثانی کہا جا رہا ہے وہ کچھ اور ہی ہے ،ہم نے تجدید الف ثانی کی طرف اشارے کر دیے ہیں آپ مزید تفصیل آئندہ اوراق میں پڑھیں گے نیز جو روحانی کمالات کے زیر عنوان ہم کمالات سپرد کر چکے ہیں وہ اکثر تجدید الف ثانی کے بہت بڑے عطیات ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدید جہاں اس حیثیت سے ممتاز ہے کہ آپ ہزارۂ

دوم کے مجدد تھے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اور آگے کریں گے بھی،اور تجدیدی خدمات جو ہزارۂ دوم میں آپ کی مقدس ذات سے وجود میں آئی ہیں اور جن کمالات کا ظہور ہوا ہے اور اوائل کی نسبتوں کو جلوہ دیا ہے کوئی بھی غور کرے کہ آج ان عطیات کا تعلق صدی سے نہیں ہے بلکہ یہ فیوضات و برکات اور علوم و معارف اس وقت تک کے لیے ہیں جب تک اس ہزارۂ دوم میں حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور مسعود نہیں ہو تا ہے۔

آپ کی تصریحات موجود ہیں کہ آپ کے علوم و معارف حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے سامنے پیش ہوں گے،جس نے بھی آپ کو پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے اس میں ذرا بھی مبا لغہ نہیں ہے،جو لوگ غلط فہمیوں کا شکار ہیں وہ در اصل عدم علم کی وجہ سے یا پھر تعصب وعناد کی وجہ سے،مگر اس سے آپ کے کمالات پر کوئی پردہ پڑنے والا نہیں ہے اور نہ ہی اس سے آپ کی عظمت و رفعت پر کوئی آنچ آنے والی ہے۔

آپ کی تجدید کی یہ بھی امتیازی شان ہے کہ دین کے تمام اہم شعبوں عقائد و اعمال اور ظاہری و باطنی کمالات پر حاوی ہے،جب کہ اس سے پہلے کی تجدیدیں زیادہ تر کسی ایک شعبے سے تعلق رکھتی تھیں،نیز آپ کی تجدید کا یہ بھی خصوصی نشان ہے کہ آپ کو بالاتفاق سبھی مجدد مانتے ہیں اور وصف مجددیت ہی کے ساتھ آپ عالم میں مشہور ہوئے حتیٰ کہ بہت سے لوگ آپ کو مجدد الف ثانی ہی کے نام سے پہچانتے ہیں وہ آپ کا اصلی نام تک نہیں جانتے ہیں،یہ سب کچھ منجانب اللہ ہوا۔

پہلے کے مجددین کی تجدید آج نرے خواص تک کو نہیں معلوم ہو سکی اور نہ سب کی اتفاقی چیز ہو سکی،کسی نے کسی کو مجدد مانا تو کسی نے کسی کو۔

یہ بھی آپ کی خصوصیات سے ہے کہ آپ کی تجدید الہامی تھی اور آپ اس کے

اظہار پر ما مور تھے،حضرت خواجہ محمد ہا شم کشمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقام پر بڑی لطیف بات تحریر فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کو کئی مرتبہ تجدید الف ثانی کا الہام ہوا اور اس کے اظہار کا حکم ملا پھر آپ نے اس کا اظہار فرمایا،حضرت خواجہ ہاشم کے دل میں خیال آیا کہ اگر علماے وقت سے بڑے علما بھی آپ کی تجدید الف کو تسلیم کر لیتے تو بڑی تا ئید ہوتی،اسی خیال کے ساتھ ایک دن حضرت مجدد قدس سرہ کی خدمت با برکت میں حاضر ہوئے،حضرت مجدد قدس سرہ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی نے کہ علوم عقلیہ و نقلیہ اور بلند تصانیف میں ان جیسا اس وقت ہندوستان میں نظر نہیں آتا ہے،میرے پاس خط بھیجا ہے اور تبسم کرتے ہو ئے فرمایا،ان تعریفی کلمات سے ایک یہ تھا‘‘مجدد الالف الثانی۔’’

خواجہ محمد ہا شم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ پو شیدہ نہ رہے کہ ان مولانا مذکور(عبد الحکیم صاحب سیالکوٹی)نے ایک رات واقعہ میں حضرت مجدد قدس سرہ کو دیکھا تھا کہ آپ مولانا پر آیت‘‘قل اللہ ثم ذرہم’’پڑھ رہے ہیں،اس واقعہ کو دیکھنے کے بعد حضرت مولانا صاحب حضرت مجدد قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے،تعلیم پائی اور مخلصان حقیقی سے ہو گئے،پس ظا ہری ملا قات سے پہلے مولانا کہتے تھے کہ حضرت مجدد کا اویسی ہوں،حضرت خواجہ فرماتے ہیں کہ اس مرتبہ یعنی تجدید الف والا اگر ان خصائص سے نوازا جائے تو تعجب خیز کو ئی بات نہیں۔(دیکھیے برکات احمدیہ ص:۱۷۵،۱۷۶)

آپ کے عظیم کمالات سے یہ بھی ہے کہ آپ کا ظاہری و باطنی فیضان اس قدر عام ہوا کہ کو ئی ملک اور صوبہ نہیں بچا جہاں فیض نہ پہنچا،نیز بڑے بڑے فقہاء و محدثین،مفسرین،متکلمین اور بڑے بڑے منطقی اور فلسفی آپ کے کمالات سے بہرہ ور ہو ئے اور آپ کے حلقۂ ارادت میں بالواسطہ یا بلا واسطہ داخل ہو ئے۔

با ت کافی طویل ہو گئی چونکہ تجدید کے سلسلے میں قیا س آرائیاں اور کو تا ہیاں بہت ہو گئی ہیں اس لیے تفصیل سے گفتگو کرنا پڑی ہمیں امید ہے کہ ہر ناظر منصف تجدید کو سمجھ سکتا ہے اور تجدید مائۃ و تجدید الف کا فرق محسوس کر سکتا ہے اب ہم چند اہم گو شوں پر تجدید الف ثانی کی خدمات کا جائزہ لیں گے اور تاریخ کی روشنی میں آپ قدس سرہ کےاہم تجدیدی کار ناموں کوسپرد قلم کریں گے جس سے جہاں آپ کے تجدیدی کار نامے سامنے آئیں گے وہیں لوگوں کو کام کی راہیں بھی معلوم ہونگی اور پتہ چل جائےگا کہ جب پرور دگار کام لینا چاہتا ہے تو ایک سے بھی وہ لے لیتا ہے جو ہزاروں مل کر نہیں کر پاتے ہیں۔