باب ۲۶ از ۵۷صفحات ۳۶۲–۳۷۳
حقیقت بہشت
اس فقیر کے نزدیک ہر شخص کی جنت اس اسم الٰہی کے ظہور کا نام ہے کہ اس شخص کا مبدأ تعین ہے اور وہ اسم درختوں، منبروں کی صورت میں اور حور و قصور (محلوں) کی صورت میں اور ولدان و غلمان کے لباس میں ظہور فرمایا ہے اور چناں چہ اسماے الٰہی جل سلطانہ کے اسما میں تفاوت ہے علو اور سفل کے اعتبار سے اور جامعیت و عدم جامعیت کے اعتبار سے جنات (جنتوں) میں بھی اسی کے اندازہ سے تفاوت ہے اگر اس ضمن میں شہود و مشاہدہ کا ظہور ثابت کیا جائے تو مستحسن اور زیبا ہے اور شے کو اس کے محل میں رکھنا ہے، لیکن اس جگہ کے غیر میں اس قسم کی باتیں اطلاق کرنا جرأت ہے اور شے کو اس کے اپنے محل میں نہ رکھنا ہے۔ شاید کہ صوفیہ علیہ نے زیادتی محبت اور کمال اشتیاق کی وجہ سے کہ مطلوب کے ساتھ رکھتے ہیں جس قدر خوشبو مطلوب کی ان کی مشام جان میں پہنچی غنیمت جانتے ہوئے ان کو سکر محبت کے غلبہ سے عین مطلوب و مقصود جان لیا ہے اور جو عاشقی کہ نفس مطلوب سے چاہیے اس کے ساتھ درمیان لائے اور حظوظ حاصل کیے اور مشاہدہ و مکاشفہ ثابت کیا ہے ایک بزرگ کہتے ہیں؎
ببوئے تو از جاج ہم مست و بے خود
ز ہر سو کہ آواز پائے بر آید
ہاں اس قسم کے معاملات عاشقیوں اور محبت کی بے آرامیوں میں جائز ہےبلکہ مستحسن کہ خدا کے واسطے ہے شوقِ لقاے مطلوب بے مثل کی راہ سے ہے ان کی خطا حکم صواب رکھتی ہے اور ان کا سکر صحو کا حکم رکھتا ہے۔
رویت اخروی:
اب آپ دیدار الٰہی جو آخرت میں ہوگا اس کے سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ کا کشف ملاحظہ فرمائیں اور آپ کی شان تجدید دیکھیں، فرماتے ہیں ‘‘جاننا چاہیے کہ اس فقیر کا مکشوف یہ ہے کہ ہر جنتی شخص کو دیدار بھی جنت میں اسی اسم الٰہی کے اندازہ سے ہوگا جو کہ اس شخص کے تعین و تشخص کا مبدأ ہے اور درختوں ، نہروں اور حور و غلمان کے لباس میں ظاہر ہوا ہے اس معنی کر کہ چندگاہ کے بعد کرم خداوندی جل شانہ سے یہ درخت و نہریں و غیرہما کہ اس اسم مقدس کے مظاہر رہے ہیں ایک وقت میں عینک کا حکم پیدا کریں گے اور اس شخص کے لیے دیدار بے کیف کی دولت کا وسیلہ بنیں گے اور پھر حالت اصلی میں آجائیں گے اور اس شخص کو اپنے ساتھ مشغول رکھیں گے اسی طرح ابد الآباد تک ہوتا رہےگا۔ تجلی ذاتی برقی کی طرح کہ اس دنیا میں ثابت کی ہے کہ حضرت ذات جل شانہ کی تجلی اس دولت کے لائق لوگوں کے لیے ہمیشہ اسما و صفات کے پردے میں ہے لیکن چند گاہ کے بعد تھوڑے زمانے کے لیے ان اسما و صفات کا پردہ اٹھےگا اور حضرت ذات بے پردۂ اسما و صفات متجلی ہوگی اور چوں کہ وہ اسم الٰہی جل سلطانہ حضرت ذات کے اعتبارات سے ایک اعتبار ہے، ناچار ہر شخص کی رویت کا متعلق وہی اعتبار ذاتی ہوگا جو کہ اس شخص کا رب ہے۔
تدقیق انیق:
اعتبارات پر کچھ تحقیق فرماکر پھر وجود عارف پر کلام فرماکر موجودات کے تین مرتبے یوں بیان فرماتے ہیں ‘‘پس موجودات کے تین مرتبے پیدا ہوئے۔ مرتبہ
وہم جو کہ اس دنیا کے اکثر افراد کا نصیب ہے، تمام انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کہ اس مرتبہ سے باہر ہیں اور اسی طرح ملائکہ کرام علیٰ نبینا و علیہم الصلوات و التسلیمات کہ ان کا وجود نشاء آخرت کے وجود کے مناسب ہے اور بہت کم اولیاے کرام بھی اس دولت سے مشرف ہوئے ہیں اور وہم سے نفس امر کے ساتھ ملحق ہو گئے ہیں۔
مرتبہ دوم نفس امر ہے کہ صفات و افعال واجبی جل شانہ اس جگہ ثابت ہیں اور ملائکہ کرام بھی اس مرتبہ میں موجود ہیں نشاء آخرت کا وجود بھی اس مرتبہ میں ثابت ہے اور اسی طرح انبیا اور اولیا سے اقل بھی اس مرتبہ تک پہنچے ہیں علیہم و علیٰ اتباعہم الصلوات و التسلیمات اس قدر ہے کہ صفات واجبی جل شانہ اس مقام کے مرکز میں ہیں کہ اس کا جزوِ اشرف ہےاور باقی موجودات حسب استعداد اس مرکز کے اطراف و جوانب میں۔
مرتبہ سوم خارج ہے اور موجود اس جگہ میں واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی ذات و صفات ثمانیہ اگر فرق ہے تو باعتبار مرکز اور غیر مرکز ہے کہ اشرف بارگاہ اقدس کے زیادہ مناسب ہے۔’’
سوال:مرتبہ وہم سے مرتبہ نفس امر تک جانے میں کون سی فضیلت رکھتا ہے اور کون سا قرب اس سے مربوط ہے؟
جواب: ہر خیر و کمال اور حسن وجمال کا منشا وجود ہے اور وجود کو ہر چند قوت و استقرار زیادہ پیدا ہوگی اور ان صفات کا ظہور کامل تر آئےگا اور شک نہیں ہے کہ وجود نفس امری وجود وہمی سے زیادہ قوی اور زیادہ ثابت ہے پس لا محالہ خیر و کمال اس میں تمام تر اور کامل تر ہوگا اور قرب میں کیا کلام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے صفات افعال (صفات فعلیہ جیسے احیا و اماتت وغیرہ) کے مرتبہ میں موجود ہوا ہے اور خالقیت و
رزاقیت کی صفات کے ساتھ حق ہمسائگی پیدا کیا ہے۔
جاننا چاہیے کہ عدم کا ثبوت اور اسی طرح ان کمالات کا ثبوت کہ ان میں شائبہ عدم ملحوظ ہے اگرچہ کمالات صفاتیہ سے ہو سب مرتبہ حس و وہم میں ہے اور جب تک عدم سے بالکل پاک نہیں ہوگا اور عدم کا عین و اثر زائل نہیں ہوگا مرتبہ نفس امر تک وصول کے لائق نہیں ہوگا اگرچہ وہمی ثبوت میں درجے ہیں عدم کی قوت و ضعف کے اعتبار سے جس قدر عدم زیادہ قوی ہوگا مرتبہ وہم کی گرفتاری زیادہ تمام ہوگی اور جب ضعیف تر ہوگا گرفتاری کم تر ہوگی۔ بہت سے اولیا کہ سیر و سلوک کی وجہ سے مراتب عدم سے گزر گئے ہیں اور ان میں عدم کے کچھ اثر کے سوا باقی نہیں رہا ہے جب تک وہ اثر باقی ہے مرتبہ نفس امر میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہاں مرتبہ وہم سے گذر کر اس کے انتہائی نقطہ تک پہنچتے ہیں اور مرتبہ نفس امر کے نظارہ کرنے والوں سے ہو جاتے ہیں اور اس مقام سے نصیب حاصل کرتے ہیں۔
محسوس ہوتا ہے کہ انبیاے کرام و ملائکہ عظام علیہم الصلوات التسلیمات فرق درجات کے لحاظ سے اور اسی طرح انبیا کے بعض متبعین اگرچہ بہت کم ہوں مرتبہ نفس امر کے مقام کی انتہا تک پہنچے ہیں اور ہر ایک کے لیے اس جگہ علیٰ تفاوت الدرجات ایک خاص موطن اور علاحدہ مقام ہے۔
قرآنی حروف کی انوکھی تحقیق:
حروف و کلمات قرآنی بھی اس جگہ مشہود ہوتے ہیں اور ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقام انبیا کے مقام کے اوپر ہے علیہم الصلوات و التسلیمات۔ گویا اس مقام سے خارج ہیں اور مقام فوق تک نہ پہنچ کر درمیان برزخ ہوکر اقامت کی ہے کہ مقام فوق ذات و صفات مقدسہ حضرت واجب الوجود تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور خارج میں اس کے سوا موجود نہیں اور یہ حروف و کلمات چوں کہ حدوث کے داغ رکھتے ہیں (اس لیے) اس
مقام کے وصول کی قابلیت نہیں رکھتے ہیں، لیکن اس مرتبہ کے تمام موجودات سے پیش قدم ہیں اور پنجہ اپنے مدلولات (معانی و مرادات) کے دامن میں مار رہے اور جن بزرگوں نے کہ مرتبہ نفس امر کے منتہا میں اقامت کی ہے مرتبہ فوق کے نظاروہ کرنے والوں سے ہیں اور کمال محبت و لگاو میں نرگس کی طرح مکمل آنکھ ہوکر اس جناب مقدس کے نگراں ہیں۔
عجب معاملہ ہے کہ یہی بزرگوار اس توطن و اقامت کے باوجود بحکم المرء مع من أحبّ اپنے محبوب کے ساتھ مجہول الکیفیۃ معیت رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ بے خود ہیں اور بے اتحاد اور بے اثنینیت اپنے مطلوب کے ساتھ مانوس و مالوف ہیں۔ اسی درمیان قرآنی حروف و کلمات کی معیت اس مرتبہ مقدسہ کے ساتھ ملاحظہ کی گئی معلوم ہوا کہ اس معیت کو دوسروں کی معیت کے ساتھ کوئی نسبت نہیں ہے، یہ معیت بہت بلند ہے، کچھ بھی ادراک میں نہیں آتی ہے کہ ابطن بطون سے وابستہ ہے، فہم مخلوق کی اس جہ کیا گنجائش ہے القرآن کلام اللہ غیر مخلوق آیا ہے۔ ان حروف و کلمات کی بلندی شان سے معلوم ہوتا ہے کہ کلام نفسی میں یہی حروف و کلمات ہیں۔ چناں چہ قاضی عضد نے اس کی تحقیق کی ہے اور بے تقدیم و تاخیر انھی کو کلام نفسی قدیم کہا ہے اور ان کی تقدیم و تاخیر کو ان کے آلہ حادثہ (زبان) کی طرف عائد کیا ہے۔
سوال:اگر یہی حروف و کلمات کلام نفسی ہوں گے تو چاہیے کہ مرتبہ خارج میں داخل ہوں اور سابق میں گذرا کہ اس مقام میں داخل نہیں ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟
جواب: یہ حروف وکلمات چوں کہ ذہنوں میں تقدیم و تاخیر کے ساتھ مذکور ہوتے ہیں۔ اس ملاحظہ کی وجہ سے لامحالہ نظر کشفی میں مرتبہ خارج میں ان کا عدم دخول معلوم ہوتا ہے اور جب دوبارہ تقدیم و تاخیر کے ملاحظہ کے بغیر دیکھا گیا تو مشہود ہوا کہ داخل ہیں اور اپنی اصل سے ملحق، بلکہ متحد ہیں تو ان کی معیت دوسروں کی
معیت کے ساتھ کیا نسبت رکھےگی کہ اس جگہ اتحاد ہے اور دوسروں کی معیت میں اتحاد گنجائش نہیں رکھتا ہے۔
سبحان اللہ یہی قرآنی کلمات و حروف چوں کہ کلام قدیم سبحانی تھے ان کا ظہور اس دنیا میں باقی صفات قدیمہ کے برخلاف بجنس خود ہوگا کہ حروف و کلمات اس تقدیم پر نفس کلام قدیم ہیں اور اس کے روپوش بجز عارضی قدیم و تاخیر کے کہ آلہ تکلم کے قصور کی راہ سے آئی ہے نہیں ہوگی۔ پس ساری اشیا میں قریب ترین بارگاہ الٰہی سے قرآن مجید ہوگا اور اس کی صفات واجبی جل سلطانہ کے ظاہر ترین بھی وہی کہ ظلیت کی گرد اس تک نہیں پہنچی ہے اور تقدیم و تاخیر کے خس و خاشاک کو محجوبوں کی آنکھ میں ڈال کر اپنی اصالت کے ساتھ عالم ظلال میں جلوہ گر ہوا ہے۔ لہٰذا عبادات میں افضل تلاوت قرآن مجید ہوئی اور اس کی شفاعت دوسروں کی شفاعت میں مقبول ترین ہوئی کیا ملکہ مقرب کی شفاعت کیا نبی مرسول کی شفاعت؟ جو نتائج و ثمرات کہ تلاوت قرآنی پر مرتب ہوتے ہیں ان کی کیا تفصیل ہو سکے بہت ایسا ہے کہ تلاوت کرنے والے کو اٹھا کر ان درجات پر لے جائے کہ بال کی اس جگہ گنجائش متصور نہ ہو۔
سوال: آیا آیات قرآنی کلمات و حروف ا س دولت سے مخصوص ہوتے ہیں یا باقی نازل شدہ کتب کے حروف و کلمات بھی قرآنی کلمات و حروف کے ساتھ اس دولت میں شرکت رکھتے ہیں اور سب کلام قدیم نفسی ہیں۔
جواب: سب کو اس دولت میں شرکت ہے۔ اس قدر فرق کشفی نظر میں متمثل ہوتا ہے کہ قرآن مجید گویا دائرہ کا مرکز ہے اور باقی نازل شدہ کتب بلکہ تمام وہ جو ازل سے ابد تک تکلم واقع ہوگا۔ سب گویا اس دائرہ کا محیط ہے۔ پس قرآن سب کی اصل ہوا اور جمیع کتب میں اشرف بنا کیوں کہ مرکز اجزاے دائرہ کا اشرف ہے اور دائرہ کے تمام نقلوں کی اصل گویا تمام نقطے اس کی تفصیل ہیں اور وہ سب کا اجمال، اللہ تعالیٰ نے
وَ اِنَّہٗ لَفِیۡ زُبُرِ الْاَوَّلِیۡنَ (الشعرا:۲۶؍۱۹۶)
ترجمہ: اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے۔’’
کلام الٰہی کا مسئلہ علم کلام کے نہایت اہم اور معرکۃ الآرا مسائل سے ہے۔ بعضوں نے تو علم کلام کی وجہ تسمیہ ہی یہ بیان کی کہ اس کے مسائل میں کلام الٰہی بھی جو نہایت اہمیت کا حامل ہے اس لیے اس علم کو کلام کہنے لگے کلام الٰہی کے سلسلے میں کیا کیا بحثیں وجود میں آئیں ورق کے ورق مخالفین نے سیاہ کر ڈالے، نرے علماے حق شہید ہوئے، سزائیں پائیں۔ خود علماے حق اہل سنت کے مابین بھی اختلافات ہو گئے، نظر و استدلال کے ذریعہ جو کچھ جس کی سمجھ میں آیا کہہ گیا، کوئی حق سے کوسوں دور، کوئی قریب۔ کوئی بہت قریب نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر اپنے پراے کے اقوال و مذاہب ہم نقل کرتے تو آپ اندازہ لگا لیتے کہ ایسے ایسے علم وفن اور عقل و خرد کے حاملوں کا جب یہ حال ہے تو ایک عام آدمی تو کجا خاص بھی کس منزل پر پہنچ جائے جہاں قلب کو سکون اور انشراح صدر حاصل ہو جائے یہ بہت مشکل ہے مگر یہ کہ خداوندی مدد یاری فرمائے ۔
ایسی منتشر فضا میں جہاں آدمی کسی نتیجہ تک پہنچنے کے بجائے تذبذب کا شکار ہو جائے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے یہ باطنی مشاہدات جہاں آپ کی دقت نظر کی بڑی دلیل ہیں وہیں اہل اسلام کے لیے اطمینان قلب اور ایمان کی پختگی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ آپ نے جس پر خطر ماحول میں اطمینان کی شاہراہ لوگوں کو عطا کی وہ اللہ پاک کی بڑی نعمت تھی۔ ہر طبقے کا انسان نہایت آسانی کے ساتھ منزل مقصود کا پتا لگا سکتا ہے اور اذعان و ایقان کی دولت سے مالا مال ہو سکتا ہے۔
آپ قدس سرہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی اور نشان منزل تھے۔ قرآن و
سنت کے ظاہری الفاظ و معانی سے بہت سے دھوکہ کھا گئے خاص کر الٰہیات میں اور معاد میں کیوں کہ یہ وہ امور تھے جہاں صرف کسی فن میں کامیابی یا عقل کی رہبری کارآمد نہیں ہو سکتی تھی۔ بالآخر اختلافات شروع ہوئے اور رفتہ رفتہ مناظرات و مباحثات کا ایک انبار لگ گیا۔ بات سلجھنے کے بجائے الجھتی چلی گئی۔ اس دور میں ایسے دانا و بینا کی ضرورت تھی جو حقائق پر بھرپور اطلاع رکھتا ہو اور بجائے نظر و استدلال کے مشاہدات سے حق کو حق اور باطل کو باطل کہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے معارف اس قدر بلند ہوتے ہوئے بھی قلب کو کتنے بھاتے ہیں یہ معمولی غور و فکر سے انسان سمجھ سکتا ہے۔ اب تک میں نے اس بات میں جتنے بھی مسائل ذکر کیے ہیں وہ دین کے نہایت اہم مسائل ہیں جن سے ایمان کا نہایت گہرا تعلق ہے، معمولی تجاوز بھی انسان کو گہرے گڑھے میں ڈال دیتا ہے۔ ان اقتباسات میں نئی نئی تحقیقات بھی ہیں، مشاہدات بھی ہیں اور قرآن و سنت کی تائیدات بھی۔ یہ رنگ ہر جگہ آپ کو اس انسان کے کلام میں ملےگی جسے دنیا مجدد الف ثانی کے نام سے جانتی پہچانتی ہے۔
حقائق ممکنات:
اس سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ کی تحقیق انیق گوش ہوش کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں، فرماتے ہیں ‘‘ممکنات کا خلق و نمود و وجود مرتبہ وہم و حس میں ہے کہ اتقان (مضبوطی) پائی ہے۔ کان اللّٰہ و لم یکن معہ شیئ (اللہ تعالیٰ تھا اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی) اور جب چاہا کہ اپنے پوشیدہ کمالات کو ظاہر کرے اسماے الٰہی جل سلطانہ سے ہر اسم نے مظاہر سے ایک مظہر طلب فرمایا تاکہ اپنے کمالات کو اس مظہر میں جلوہ فرمائے اور وجود و توابع وجود کی مظہریت کا قابل سواے عدم کوئی نہیں ہے کیوں کہ مظہر اور شے کا آئینہ شے کا مباین اور مقا بل ہے اور وجود کا مباین اور مقابل
صرف عدم ہے۔ پس حق سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت سے عالم عدم میں اسما سے ہر اسم کے لیے مظاہر سے ایک مظہر کا تعین فرمایا اور جب چاہا اور جس طور چاہا اس کو مرتبہ حس و وہم میں پیدا فرمایا۔
خلق الأشیاء متی شاء و کما شاء (اللہ نے چیزوں کو جب چاہا اور جیسے چاہا پیدا فرمایا) اور ابدی معاملہ اس سے وابستہ فرمایا۔ جاننا چاہیے کہ عدم خارجی کے منافی ثبوت خارجی ہے۔ وہ ثبوت نہیں جو کہ مرتبہ حس و وہم میں ثبوت پیدا کرے اور خداوند جل سلطانہ کی کاریگری سے اتقان و رسوخ (مضبوطی و پختگی) اس جگہ اس کو حاصل ہوا اور اس مرتبہ میں بطریق انعکاس و ظلیت حی، عالم، قادر، مرید، بینا و شنوا (سننے والا) اور گویا ہو اور مرتبہ خارج میں اس کا کوئی نام و نشان نہ ہو اور خارج میں سواے ذات و صفات واجبی جل سلطانہ کے کوئی چیز ثابت و موجود نہ ہو اور اس معنی کر کہا جا سکتا ہے الآن کما کان (اس وقت ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا)
اس کی مثال نقطہ جوّالہ اور دائرہ موہومہ کی مثال ہے کہ موجود صرف وہی نقطہ ہے اور دائرہ خارج میں معدوم ہے اور کوئی نام و نشان خارج میں نہیں رکھتا ہے اس کے باوجود اس دائرہ نے مرتبہ حس و وہم میں ایک ثبوت پیدا کیا ہے اور اس مرتبہ میں بطریق ظلیت انارت و اشراق (روشنی و درخشندگی) اس کو حاصل ہے۔ اس تحقیق سے ان مقدمات سے استغنا حاصل ہو جائےگا جو کہ حضرت شیخ محی الدین اور ان کے متبعین نے عالم کی تکوین میں (بیان) فرمائے ہیں اور تنزلات خمسہ بیان کیے اور علمی و خارجی تعینات قائم کیے اور حقائق و اعیان ثابتہ کو علم واجبی جل سلطانہ کے مرتبہ میں ثابت کیا اور ان کے عکوس کو خارج میں کہ ظاہر وجود ہے ثابت رکھا اور ان کے آثار کو خارجی نام دیا جیسا کہ اس شخص پر مخفی نہیں جو انصاف پسند ناظر ہے اور ان کے کلام میں ان کی اصطلاحات پر مطلع ہے اور اس تحقیق سے معلوم ہو گیا کہ کوئی چیز خارج میں حق جل
جل و علا کے سوا موجود نہیں ہے کیا اعیان (ذوات) کیا آثار اعیان بلکہ ان کا ثبوت حس و وہم کے مرتبہ میں ہے اور کسی قسم کا محظور لازم نہیں ہے کیوں کہ یہ(عالم) ایسا موہوم نہیں کہ وہم کی تراش سے ثبوت پیدا کیا ہے کہ وہم کے ارتفاع سے مرتفع ہو جائے بلکہ اس کا ثبوت خداوندی جل شانہ کی دستکاری سے مرتبہ وہم میں ہے اور ثبات و تقرر اور اتقان و استحکام اس مرتبہ میں رکھتا ہے و صُنع اللّٰہ الذی أتقن کلّ شیئ (اللہ کی کاریگری ہر چیز سے مضبوط ہے)
اس بیان سے واضح ہو گیا کہ حقائق ممکنات عدمات ہیں کہ علم واجبی کے خانہ میں تمیز و تعین پیدا کیا ہے اور خداوندی جل سلطانہ کی دستکاری سے دوبارہ مرتبہ حس و وہم میں ثابت ہوئے ان میں کے بعض اسماے الٰہی جل شانہ کے آئینے ہوئے اور اس مرتبہ میں بحکم ظلیت و انعکاس حی، عالم، قادر، مرید اور بینا و شنوا (سننے والا) و گویا ہوئے جب کہ شیخ اور ان کے متبعین کی تحقیق کے مطابق حقائق ممکنات اسماے الٰہی جل سلطانہ کی علمی صورتیں ہیں کہ ایک تنزلات خمسہ سے حضرت وجود ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس فقیر کی سمجھ کے مطابق حقائق ممکنات عدمات اور حضرت شیخ کے نزدیک وجودات متنزلہ اور حضرت شیخ نے نمود و کثرت کو خارج میں ثابت کیا ہے اور کہا ہے کہ علمی صورتیں متکثرہ کہ حقائق ممکنات ہیں اور ان کی تعبیر اعیان ثابتہ سے کی ہے ظاہر وجود تعالیٰ کے آئینہ میں کہ اس کے سوا خارج میں کوئی موجود نہیں ہے منعکس ہوکر خارج میں نمود پیدا کی ہے اور دکھاتے ہیں کہ خارج میں ہیں اور در حقیقت علاوہ ایک ذات تعالیٰ کے خارج میں کوئی موجود نہیں ہے۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ علمی صورتوں سے ہر ایک کو اوقات سے کسی وقت میں ظاہر وجود کے ساتھ کہ آئینہ کی طرح ہے ان صورتوں کے لیے نسبت مجہول الکیفیۃ پیدا ہوتی ہے جو کہ خارج میں ان کی نمائندگی کا سبب ہوتی ہے اور شیخ کہتے ہیں کہ یہ نسبت
مجہول الکیفیت کسی ایک کو معلوم نہیں ہے حتّٰی کہ انبیا کو بھی اس راز کی اطلاع نہیں دی ہے علیہم الصلوات و التسلیمات اور ان صورتوں کو خارج میں اس نسبت مجہول الکیفیت کے حصول کے بعد ظاہر کرنے کو خلق کہا ہے اور اشیا کی ایجاد جانا۔
اور اس تحقیق سابق سے کہ یہ فقیر (حضرت مجدد قدس سرہ) راہ یاب ہوا ہے اشیا کا جس طرح خارج میں کوئی وجود نہیں (اسی طرح) ان کی نمود (ظہور) بھی خانہ خارج میں اپنی اسی بے رنگی کے ساتھ ہے نہ غیر کا اس میں وجود ہے نہ نمود، اگر نمود ہے ان کا تو مرتبہ وہم میں ہے۔ خلاصہ یہ کہ نمود اور ثبوت ان کا ایک مرتبہ میں ہے ایسا نہیں کہ ان کانمود کسی جگہ ہے اور ان کا ثبوت دوسری جگہ مثال کے طور پر دائرہ موہومہ جو کہ نقطہ جوّالہ سے پیدا ہے جس طرح اس کا ثبوت مرتبہ وہم میں ہے اسی طرح اس کا نمود بھی اسی مرتبہ میں ہے کیوں کہ ان کا ارتسام وہم میں ہے نہ کہ خارج میں اور نمود (ظہور) بھی اسی مرتبہ میں ہے کیوں کہ خارج میں اس کا کوئی نشان نہیں ہے تاکہ نمودار ہو زیادہ سے زیادہ یہ کہ نمود وہمی کو نمود خارجی سمجھ لیں جیسے کہ مثالی صورتوں کو عالم مثال میں بیداری میں باطنی احساس سے دیکھیں اور خیال کر لیں کہ ان صورتوں کو عالم شہادت اور حس ظاہری میں دیکھیں اس قسم کا اشتباہ بہت واقع ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ کو دوسرے کے ساتھ مشتبہ پاتے ہیں اور ایک کا حکم دوسرے پر لگاتے ہیں۔ پس جس مسئلہ میں ہم گفتگو کر رہے ہیں وہ دائرہ موہومہ کہ خیال میں منتقش ہوا ہے چشم خیال سے اس مرتبہ میں کہ منتقش ہے دیکھیں اور خیال کریں کہ اس دائرہ کو چشم سر سے خارج میں دیکھیں ایسا نہیں ہے کیوں کہ خارج میں کہ نقطہ جوّالہ کا محل ہے کوئی نام و نشان نہیں ہے تاکہ دیکھا جائے اور صورت کا خارج میں نہ ثبوت ہے اور نہ نمود بلکہ اس کا ثبوت و نمود دونوں مرتبہ خیال میں ہیں، واللہ سبحانہ اعلم۔
پس وہ کہ شیخ قدس سرہ نے خارج جانا ہے اور اشیا کو اس میں بطریق انعکاس نمود ثابت کیا ہے وہ خارج نہیں ہے مرتبہ وہم خارج اس سے ورا ہے اور خارج متوہم ہوتا ہے خارج اس سے ورا ہے کہ ہمارے شہود و احساس سے برتر ہے جو کچھ ہمارا مشہود و محسوس و معقول و متخیل ہے سب دائرہ وہم میں داخل ہے موجود خارجی جل سلطانہ ہماری فہموں کے ماوراے ورا ہے آئینہ داری اس جگہ کیا گنجائش رکھتی ہے اور کون سی صورت ہے کہ اس میں وہ حضرت سبحانہ منعکس ہوآئینے اور صورتیں سب مراتب ظلال میں ہیں کہ مرتبہ وہم و حس کے دائرہ سے تعلق رکھتا ہے۔
رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحْمَۃً وَّھَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا (الکہف:۱۸؍۱۰)
ترجمہ: اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہ یابی کے سامان کر ۔’’