مواد پر جائیں

باب ۵۱ از ۵۷صفحات ۶۹۹–۷۰۹

تاثیر اسباب

اسباب کی تاثیر کے سلسلےمیں حضرت مجدد قدس سرہ کا مسلک یہ ہے کہ "جائز ہے کہ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ بعض اوقات اسباب میں بھی تاثیر پیدا فرمائے تاکہ موثر ہوجائیں اور بعض اوقات میں ان میں تاثیر پیدا نہ فرمائے پس لا محالہ کوئی اثر ان پر مرتب نہ ہوگا جیسا کہ ہم اس معنیٰ کا ان اسباب میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ مسببات کا وجود کبھی ان اسباب پر مترتب ہوتا ہے اور کبھی کوئی اثر ان سے ظاہر نہیں ہوتا ہے ، اسباب کی مطلق تاثیر کا انکار مکابرہ(لغو وباطل) ہے تاثیر کا قائل ہونا چاہیئے اور اس تاثیر کو اس سبب کے وجود کی طرح حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ کے ایجاد سے جاننا چاہیئے فقیر (حضرت مجدد قدس سرہ) کی رائے اس مسئلہ میں یہی ہے واللہ سبحانہ اعلم۔"

توسط اسباب منافی توکل نہیں:

بعض وہ صوفیہ جو درجہ کمال تک نہیں پہنچے انھوں نے یہ گمان کرلیا کہ اسباب کو عمل میں لانا اور ان کو واسطہ بنانا توکل کے خلاف ہے، اھجرت مجدد قدس سرہ اسی مکتوب میں بیان بالا کے بعد فرماتے ہیں:" اس بیان سے ظاہر ہوگیا کہ اسباب کا توسط توکل کے منافی نہیں ہے جیسا کہ ناقصوں نے گمان کرلیا ہے بلکہ توسط اسباب کمال توکل ہے حضرت یعقوب علیٰ نبینا وعلیہم الصلاۃ والسلام معاملہ کو حق جل وعلا کے سپرد رکھتے ہوئے اسباب کی رعایت کو توکل فرمایا :

علیہ توکلت وعلیہ فلیتوکل المتوکلون(میں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا اور

اسی پر بھروسہ کرنے والے بھروسہ کریں)۔"

مرید خیر وشر:

اللہ تعالیٰ خیر وشر کا ارادہ فرماتا ہے معتزلہ سے تو جو چوک ہوئی سو ہوئی لیکن حضرت شیخ محیالدین ابن عربی قدس سرہ اور ان کے متبعین رحمہم اللہ سے بھی اس مسئلہ میں زبردست چوک ہوئی ہے حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:"اللہ تعالیٰ خیر وشر کا ارادہ اور ان دونوں کا خالق ہے لیکن خیر سے راضی اور شر سے راضی نہیں ، ارادہ اور رضا کے درمیان یہ فرق باریک ہے کہ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ نے اہل سنت کو اس فرق کے ساتھ ہدایت بخشی ہے باقی تمام فرقے اس فرق کی راہ یابی نہ ہونے کی وجہ سے گمرہی میں پڑے ہیں معتزلہ نے اس جگہ بندے کو اپنے افعال کا خالق کہا ہے اور کفر ومعاصی کے ایجاد کو بندے سے منسوب کیا ہے۔"

شیخ محی الدین ابن عربی اور ان کے متبعین کے کلام سے مفہوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایمان اور نیک اعمال اسم الہادی کے مرضی(پسندیدہ ) ہیں کفر ومعاصی بھی اسم المضل کے مرضی ہیں، یہ بات بھی اہل حق کے خلاف ہے اور جانب ایجاب کی طرف میل رکھتی ہے کہ رضا کا منشا ء ہوتی ہے جیسا کہ کہتے ہیں اشراق و اضاءت آفتاب کی مرضی ہیں۔

فعل موقت کی جزاء مخلد:

یعنی دنیوی عمر میں چند سالہ کفر کی سزا دائمی عذاب ہے، اور ایمان موقت کی جزاء دائمی تلذذات یعنی جنت ہے ، اس کا سبب کیا ہے بعض مشائخ نے فرمایا کہ جنت میں دخول در حقیقت اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اور اسے ایمان سے اسی لیے وابستہ کیا گیا کہ جا اعمال کی جزاء ہوگی زیادہ لذیذ ہوگی ، حضرت مجدد قدسرہ کی دقت نظر کا آپ عالم دیکھیں اولا تا آپ نے اس جزاء وسزا دائمی کو حق سبحانہ کی تقدیر کے حوالے

کیا پھر فرماتے ہیں"اللہ سبحانہ کی توفیق سے ہم بھی اتنا جانتے ہیں کہ کفر اختیار کرنا حضرت حق سبحانہ کی نسبت جو کہ ظاہری وباطنی نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے اور آسمانوں وزمین کا موجد ہے اور ہر بزرگی وکمال کی ہے اس مقدس جناب کے لیے ثابت ہے (ایسے حق سبحانہ کے) انکار وکفر کی سزا ور بدلہ چاہیئے کہ سب سے سخت سزا ہو اور وہ عذاب میں خلود (ودوام) ہے۔"

پھر بعض مشائخ کا مذکورہ بالا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:"فقیر کے نزدیک دخول بہشت در حقیقت ایمان سے مربوط ہے لیکن ایمان اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کا عطیہ اور دوزخ میں دخول کفر سے مربوط اور کفر ناشی(پیدا)ہے نفس امارہ کی خواہش سے

مااصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک

جاننا چاہیئے کہ دخول بہشت کو ایمان سے مربوط کرنا درحقیقت ایمان کی تعظیم ہے بلکہ مومن بہ(جس پر ایمان لایا جائے)کی تعظیم ہے کہ ایسا جر عظیم القدر اس پر مترتب ہوا ہے۔

اسی طرح دخول نار کو کفر سے مربوط کرنا کفر کی تحقیر ہے اور اس ذات کی تعظیم ہے کہ جس کی نسبت یہ کفر واقع ہوا ہے کہ اس طور دائمی سزا اس پر مترتب ہوتی ہے بخلاف اس کے کہ جو بعض مشائخ نے کہا ہے کہ اس دقیقہ سے خالی ہے نیز دخول نار میں کہ دخول بہشت کا عدیل(مساوی )ہے اسی جیسی وجہ (جو بعض مشائخ نے بیان کی ہے) جاری نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ کیونکہ دخول نار در حقیقت کفر کے ساتھ مربوط ہے واللہ سبحانہ اعلم۔"

مومنوں اور کافروں کا مآل:

اہل حق کا عقیدہ ہے کہ حساب وکتاب کے بعد ایک گروہ گروہ جنت میں جائے گا اوی ایک دوزخ میں جو مومن ہوں گے جنت میں جانے کے بعد وہ ہمیشہ جنت میں

رہیں گے اور کافر ہمیشہ دوزخ میں، حضرت محی الدین قدس رہ سے اس مسئلہ میں زبردست چوک ہوئی ہے انھوں نے فرمایا کہ سب کا انجام رحمت ہے اور آیت کریمہ: رحمتی وسعت کل شیئ سے استدلال کردیا ،حضرت شیخ نے فرمایا کہ کافروں کو عذاب تین حقبہ(یعنی دوسو چالیس برس کیونکہ ایک حقبہ اسی سال کا لکھا ہے)ہوگا اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ آگ ان کافروں کے حق میں بردوسلام(یعنی ٹھنڈی اور سلامتی) ہو جائے گی، جس طرح حضرت ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام پر ہوگئی تھی ۔

اب ان پر اعتراض ہوا کہ نصوص قرآنیہ اور حادیث نبویہ جگہ جگہ صراحۃ کافروں کے لیے خلود فی النار بتاتی ہیں اور آپ یہ کہہ رہے ہیں تو انھوں نے کہہ دیا کہ یہ وعیدات ہیں اور وعید میں خلف جائز ہے یعنی اس کے خلاف کرنا جائز ہے، حد تو یہ ہے کہ یہاں تک کہہ دیا کہ صوفیہ سے کوئی بھی عذاب کفار کے خلود کا قائل نہیں ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے اس مسئلہ میں ان کا شدید رد فرمایا،آپ فرماتے ہیں:"وسعت رحمت مومنوں اور کافروں کے ساتھ دنیا کے ساتھ مخصوص ہے، آخرت میں کافر کو رحمت کی بو بھی نہیں لگے گی" اور پھر اس پر متعدد آیات سے استدلال فرمایا ہے ،خیال رہے کہ حضرت مجدد قدسرہ نے اس مقام پر وعید میں خلف کو وعدہ میں خلف کی طرح مستلزم کذب ٹھہرایا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے جس طرح خلف وعدہ محال ہے خلف وعید بھی محال ہے۔

حضرت شیخ قدس سرہ نے جس آیت سے خلف وعید کے جواز کےسلسلے میں استدلال کیا تھا اس کا آپ نے شافی جواب عطا فرمایا، اور رہ گیا اہل دل یعنی صوفیہ کا اجماع عذاب کفار کے عدم خلود کے سلسلے میں تو آپ فرماتے ہیں کہ یہ شیخ کا کشف ہے اور کشف میں خطا کی بہت گنجائش ہے لہٰذا اس کا کوئی شمار نہیں باوجودیکہ یہ اجماع کے بھی خلاف

ہے، تفصیل کے لیے دیکھیں مکتوب 266

خواص بشر خواص ملک سے افضل ہیں:

عام اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ خواص بشر یعنی انبیائے کرام علیہم السلام خواص ملک سے افضل ہیں،مگر امام الحرمیں اور ان کے شاگرد حضرت امام محمد غزالی اور حضرت شیخ ابن العربی رحمۃ اللہ علیہم اس بات کے قائل ہیں کہ خواص ملک خواص بشر سے افضل ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ کی تحقیق اور ان کی معرفت سب سے جدا گانہ ہے،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:"وہ جو اس فقیر پر ظاہر کیا ہے یہ ہے کہ فرشتوں کی ولایت نبی کی ولایت سے افضل ہے علیہم الصلوات والتسلیمات، لیکن نبوت ورسالت میں خاص نبی کے لیے ایسا درجہ ہے کہ فرشتے وہاں تک نہیں پہنچے ہیں اور وہ درجہ عنصر خاک کی راہ سے آیا ہے جو کہ بشر کے ساتھ مخصوص ہے ،اور نیز اس فقیر پر ظاہر کیا ہے کہ کمالات ولایت کا نسبت بکمالت نبوت کوئی شمار نہیں کاش قطرہ کا حکم رکھتے دریائے محیط کی نسبت پس جو فضیلت کی نبوت کی راہ سے آئی کئی گنا زیادہ ہوگی اس فضیلت سے کہ راہ ولایت سے حاصل ہو،پس افضلیت مطلقہ خاص انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کے لیے ہوگی اور فضل جزئی ملائکہ کرام کے لیے ہےعلیٰ نبینا وعلیہم الصوات والتسلیمات،پس درست وہی ہے جس کو جمہور علماء نے فرمایا شکر اللہ تعالیٰ سعیہم۔"

اس تحقیق سے ظاہر ہوگیا کہ کوئی ولی انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات میں سے کسی نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا بلکہ اس ولی کا سر ہمیشہ اس نبی کے زیر قدم ہوگا۔

المجاز قنطرۃ الحقیقۃ:

مجاز حقیقت کا پل ہے صوفیہ کے درمیان یہ نظریہ بہت مشہور ہے، نیک وصالح افراد نے اسے کسی معنیٰ کے لیے استعمال کیا ہو لیکن اہل ہوس نفس کے شکار خام صوفیہ نے اس سے جو اندرونی خواہشات کی تکمیل کی راہ ہموار کی ہے اسے آپ حضرت مجدد

قدس سرہ سے سماعت فرمائیں" صوفیہ خام کے ابلہوں (احمقوں) نے اس عبارت کے معنیٰ نہ سمجھ کر،حسین صورتوں سے دل لگی کرتے ہیں اور ان کے ناز وانداز پر فریفتہ ہوتے ہیں اس لالچ میں کہ ان کو وصول بحقیقت کا وسیلہ بنائیں اور حصول مطلوب کا زینہ بنائیں ہر گز نہیں یہ خود راہ مطلوب کی رکاوٹ ہے اور مقصود کے لیے مضبوط مانع،ایک باطل ہے کہ ان احمقوں کی نظر میں مزین ہوگیا ہے اور حقیقت کے دھوکے میں ڈالا ہے ، ان میں سے ایک گروہ نے ان صورتوں کے حسن وجمال کو حق جل شانہ کا حسن وجمال جان کر ان کے ساتھ گرفتاری کو عین حق کی گرفتاری جانتے ہیں اور ان کے مشاہدہ کو مشاہدہ حق سمجھتے ہیں ان میں سے بعض نے کہا ہے۔

امروز چوں جمال تو بے پردہ ظاہر ست

در حیرتم کہ دعویٰ فردا براں چیست

تعالیٰ اللہ عما یقولون علوا کبیرا

حق سبحانہ وتعالیٰ کو ان کوتاہ نظروں نے کیا گمان کرلیا ہے ؟ شاید نہیں سنا ہے کہ جنت کی حوریں ایسی مخلوق ہیں کہ ان کے بالوں کا ایک تار دنیا میں گرجائے تو اس بال کی چمک اور روشنی کی وجہ سے ہرگز دنیا میں رات نہ ہو اور تاریکی نہ ہو ، کوہ طور کے جل جانے کا قصہ اور ایک تجلی حق جل وعلا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے اور حضرت کلیم اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلاٰ والسلام کے بے ہوش جانے اور گر پڑنے اس تجلی سے بہ آں قرب ومنزلت نص قرآنی سے ثابت ہوا ہے۔

اور یہ اس بے عقلی کے باوجود ہمہ وقت بے پردہ حق کو دیکھتے ہیں اور رویت اخروی کے وعدہ پر تعجب کرتے ہیں

لقد استکبروا فی انفسہم وعتو عتوا کبیرا۔"

اس مکتوب گرامی کے آغاز میں اس عبارت کے معنیٰ بیان کرتے ہوئے فرماتے

ہیں:"اور جان لیجئے کہ مجاز حقیقت کا ظل ہے کہ ظل سے اصل تک کشادہ راہ ہے ،شاید اسی اعتبار سے کہا ہے :

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ

کیونکہ ظل کی معرفت اصل کی معرفت کو مستلزم ہے کیونکہ ظل اپنی اصلی صورت پر موجود ہے تو اصل کے انکشاف کا سبب ہوگا ، کیونکہ شئ کی صورت وہ ہے جس سے شئ منکشف ہو لیکن جان لیں کہالمجاز قنطرۃ الحقیقۃاس تقدیر پر ہے کہ مجاز کے ساتھ گرفتاری درمیان میں نہ آئے بلکہ نظر ثانی تک نہ کھنچے ، پہلی نظر ہے کہ حقیقت کا پل ہے کہ مخبر صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلاۃ والسلام نے اس کو النظرۃ الاولیٰ لکفرمایا ہے گویا لفظ لک سے اسی دولت کے حصول کی طرف اشارہ فرمایا اور اگر عیاذا باللہ سبحانہ مجاز کے ساتھ گرفتاری درمیان میں آگئی بلکہ نظر ثانی تک کھنچ گئی تو وہ مجاز وصول حقیقت کے لیے سد راہ ہوگا پل کیا ہوگا (بلکہ)ایک بت ہے جو اپنی پرستش کی طرف بلاتا ہے اور دیو ہے کہ حقیقت سے پھیرتا ہے ،لہٰذا مخبر صادق ﷺ نظر ثانی کو نقصان دہ جان کر النظرۃ الثانیہ علیک فرمایا کوم سی چیز اس سے زیادہ نقصان دے گی کہ حق سے باز رکھتی ہے اور باطل میں گرفتار کرتی ہے ۔

اور جاننا چاہیئے کہ پہلی نظر اس وقت نفع بخش ہے کہ اختیار سے نہ ہو اگر اختیار سے ہوگی تو نظر ثانی کا حکم رکھتی ہے، آیت کریمہ:

قل للمؤمنین یغضو من ابصارہم

اس مظلب کے اثبات میں کافی ہے ۔"

مکتوب66 ج3کا اکثر حصہ کا ترجمہ آپ نے پڑھا ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں آپ بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ صوفیہ کرام کی ایسی عبارات سے کس طرح مکاروں نے حظوظ نفسانی حاصل کیے اور حسین مردوں اور عورتوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی راہ

کس طرح ہموار کی جبکہ سب سے زیادہ یہی چیز مضراور نقصان دہ اس امت کے لیے ہو رہی ہے اور ہوئی ہے، اس کے بر خلاف حضرت مجدد قدس سرہ نے ان بزرگوں کے ایسے اقوال کی شرعی حدود میں مرادیں متعین فرماکر ان حسن وجمال کے پرستاروں لیے چور دروازے بند کرکے کس قدر اسلام وسنت کا تحفظ فرمایا ہے ۔

جنھوں نے مکتوبات شریف اور حضرت مجدد قدس سرہ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتےہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ سے قبل کے صوفیہ سے کیسی کیسی عبارتیں سرزد ہوئیں اور بعد کے لوگوں نے پھر کیا کیا گل کھلائے مگر حضرت مجدد قدس سرہ نے خود تو کبھی ایسی عبارت بولی نہیں جس سے لوگ دھوکہ کھائیں اور جنھوں نے بولی تھیں ان کے صحیح معنیٰ جو شریعت سے متصادم نہ ہو بیان کرکے شریعت وطریقت کا کس قدر تحفظ فرمایا ہے ۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

بعض احکام سکریہ:

صوفیہ کرام پر ایک حالت طاری ہوتی ہے اس وقت ان کی عجیب کیفیت ہوتی ہے،ایسی حالت میں یہ لوگ بےخود ہوتے ہیں اور اس کیفیت سے مغلوب ہوکر بعض دفعہ ایسے کلمات زبان سے ادا کردیتے ہیں جو شریعت سے متصادم یا نفس الامر کے خلاف ہوتے ہیں ایسی حالت کو صوفیہ کرام سکر سے تعبیر کرتے ہیں۔

جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ اقیسی حالت کے اقوال وافعال سے ناجائز فائدے اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں،دراصل اس گروہ کی بولی ہر منزل کی الگ ہوتی ہے،اس کا صحیح تعیین نہ کرنے جی وجہ سے لوگوں نے دو قسم کے دھوکے کھائے ایک نتو اہل علم نے کہ بعض بزرگوں کو تو انھوں نے کافر تک کہہ دیا جن کی بزرگی اور ولایت حد شہرت تک پہنچی ہوئی تھی انہیں وہ کافر کہنے سے مجبور ہوئے تو ان کے اقوال وافعال میں

دور ازکار تاویلات شروع کردیں اور اس طرح لا طائل بحثیں وجود میں آگئیں۔

دوم صوفیہ خام نے ان کا سہارا لے کر اور انھیں اپنا ایمان بناکر وہ کچھ کیا کہ جس کے ذکر سے روح کانپتی ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے مختلف ومتعدد مکتوبات صوفیہ کرام کی ان بولیوں اور خلاف شرع اقوال وافعال کی منزلیں متعین کرکے ایک طرف تو ان بزرگوں کی عظمت کا تحفظ کیا اور لوگوں کو انھیں طعن وتشنیع کا نشانہ بنانے سے روکا تو دوسری طرف صوفیہ خام کو ضلالت وگمرہی سے بچایا،ذیل میں ہم چند نمونے پیش کرتے ہیں مطالعہ فرمائیں۔

(1)بعض مشائخ رحمہم اللہ وسعت قلب کی خبر دیتے ہوئے فرماتے ہیں"اگر عرش کو اور جو کچھ اس میں ہے قلب عارف کے گوشہ میں ڈال دیں تو کچھ محسوس نہ ہوگا"حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جو مشائخ ارباب صحو ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ حکم سکر پر مبنی ہے اور شئ کی حقیقت اور اس کے نمونے کے درمیان امتیاز نہ کرپانے پر محمول ہے ۔

اس خطا کا سبب دراصل یہ ہے کہ انسان دراصل ایک ایسا نسخہ ہے جو سب کا جامع ہے جو کچھ تمام موجودات میں ہے وہ تنہا انسان میں ہےلیکن عالم امکان سے بطریق حقیقت اور مرتبہ وجوب سے بطریق صورت،اس جامعیت پر انسان کا قلب ہے کہ جو کچھ انسان کی کلیت میں ہے وہ قلب میں تنہا ہے اسی لیے قلب کو حقیقت جامعہ کہتے ہیںکیونکہ قلب عناصر وافلاک اور عرش وکرسی اور عقل ونفس کا جامع اور مکان ولا مکان کو شامل ،تو عرش ومافیہ لا مکانیت کو شامل ہونے کی وجہ سے لازمی طور پر قلب میں کوئی مقدار نہیں ہوگی کیونکہ عرش وما فیہ وسعت کے باوجود دائرہ مکان میں داخل ہیں، اور مکانی ہرچند وسیع ہو تنگ ہے لامکانی کے بغل میں اس کی کوئی قدر نہیں ہے،اس وجہ سے

ان مشائخ نے یہ حکم لگادیا۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ عرش مجید کہ ظہور تام کا محل ہے اس سے بلند تر ہے کہ تنگ قلب میں اس کی گنجائش ہواور جو قلب میں عرش مجید سے دکھائی دیتا ہے وہ عرش کا انموذج اور نمونہ ہے نہ کہ حقیقت عرش،اور کوئی شک نہیں کہ اس انموذج قلب کے پہلو میں کوئی مقدار نہیں ہے کہ وہ بے انتہا انموذجوں کا جامع ہے ،آئینہ کہ اس میں آسمان اس برائی کے باوجود دیگر اشیاء کے ساتھ دکھائی دیتا ہے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ آئینہ آسمان سے وسیع تر ہے،ہاں! آسمان کی صورت وپیکر کہ آئینہ میں ہے آئینہ کے پہلو میں چھوٹی ہے نہ کہ حقیقت آسمان۔

یہ بحث ایک مثال سے روشن ہوجاتی ہے، مثال کے طور پر انسان میں عنصر خاک کا نمونہ پوشیدہ ہے ،انسان کی جامعیت کے پیش نظر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وجود انسان عنصر خاک کے کرہ سے وسیع تر ہے بلکہ کرہ عنصر خاک کے پہلو میں علاوہ شئ حقیر کے کوئی مقدار نہیں ہے بلکہ شئ کے انموذج حقیر کو شئ جان کر یہ کم وقوع میں آیا ہے۔

(2)بعض مشائخ نے غلبپ سکر میں یہا ں تک کہہ دیا کہ جمع محمدی زیادہ جامع ہے جمع الٰہی سے،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ کلام بھی مذکورہ بالا کلام کے قبیل سے ہے کیونکہ حضرت محمدﷺ کو حقیقت امکان اور مرتبہ وجوب کا جامع جان کر حکم کردیا کہ محمد ﷺ کی جامعیت اللہ تعالیٰ کی جامعیت سے زیادہ ہے،اس جگہ بھی صورت کو حقیقت تصور کرتے ہوئے یہ حکم کردیا ،حضرت محمد ﷺ مرتبہ وجوج کی صورت کے جامع ہیں نہ کہ حقیقت وجوب کے اور اللہ تعالیٰ واجب الوجود حقیقی ہے اور اگر فرق کرتے حقیقت وجوب اور صورت وجوب کے درمیان تو ایسا حکم نہیں کرتے ،حاشا وکلا من ہٰذہ الاحکام السکریہ۔(مکتوب 95ج1)

(3)بعض صوفیہ نے خلق اور خالق کے درمیان اتحاد تک ثابت کردیا اور معیت

وغیرہ کے ذاتی ہونے کے قائل ہوئے جیسا کہ آپ پڑھ چکے یہ بھی سکر پر مبنی ہے،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:"اتھاد وعینیت اور نسبت احاطہ وسریان ومعیت ذاتیہ کا اس جگہ حکم لگانا غلبہ حال اور سکراتت سے ہے۔"

صوم وصلاۃ میں صوفیہ کا فرق:

نماز جیسی اہم عبادت کے سلسلے میں بعض صوفیہ نے ایسی باتیں کہہ کہ سوچی بھی نہیں جا سکتی ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ نماز کے کچھ کمالات بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:"ان صوفیہ سے ایک گروہ کو کہ جسے حقیقت نماز سے آگاہ نہیں کیا اور اس کے کمالات مخصوصہ پر اطلاع نہیں بخشی(تو اس گروہ نے)اپنے امراض کے علاجات دیگر امور سے ڈھونڈے اور اپنی مرادات کا حصول دیگر اشیاء سے وابستہ کیا ، لیکن ان میں سے ایک گرووہ نے نماز کو دور ازکار جانتے ہوئے اس کی بنیاد غیر اور غیریت پر رکھی اور روزہ کو نماز سے افضل سمجھا ۔

صاحب فتوحات مکیہ(شیخ ابن العربی)کہتے ہیں کہ روزہ میں کہ کھانا پینا چھوڑنا ہے ،صفت صمدیت سے موصوف ہونا ہے اور نماز میں غیروغیریت کے ساتھ آنا اور عابد اور معبود جاننا ہے،حضرت مجددقدس سرہ فرماتے ہیں"یہ قول جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں توحید وجودی پر مبنی ہے جو کہ سکر والوں کے حوال سے ہے۔

حقیقت نماز سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہے کہ ان سوفیہ سے جم غفیر نے اپنے اضطراب کی تسکین سماع ونغمہ اور وجد عتواجد سے تلاش کی اور اپنے مطلوب کو نغموں کے پردوں میں مطالعہ کیا ،لامحالہ رقص ورقاصی (ناچ کود)کو اپنی عادت بنایا باوجودیکہ آپ نے سنا ہوگا۔

ما جعل اللہ فی الحرام شفاء۔