مواد پر جائیں

باب ۴۳ از ۵۷صفحات ۵۹۴–۶۱۵

تجدید تصوف

یعنی خبردار خبردار! پھر خبردار خبردار! پھر بچو پر ہیز کرو! اکابرین دین کے طعن اور کبرائے دین کی مذمت سے جنھوں نے اپنی طاقت خرچ کی کلمۂ اسلام کو بلند کرنے میں اور سیدالانام کی مدد میں اور جنھوں نے شب وروز اور خلوت وجلوت میں دین کی تائید کے لیے اپنے مال خرچ کیے اور رسول کی محبت میں اپنے کنبے قبیلے اور اپنی اولادیں اور اپنی بیویاں اور اپنے وطن اور اپنے گھر اپنے چشمے،اپنی کھیتیاں اپنے درخت اور اپنی نہریں چھوڑیں۔

اور رسول اکرمﷺ کی ذات کو اپنی جانوں پر ترجیح دی اور آپ ﷺ کی محبت اختیار کی،اپنی محبت اور اپنے مالوں اور اپنی اولادوں کی محبت پر،یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے شرف صحبت پایا اور آپ ﷺ کی صحبت میں نبوت کی برکتوں کے ساتھ کامیاب ہوئے اور وحی کا مشا ہدہ کیا اور حضور ملک سے مشرف ہوئے اور خوارق عادات ومعجزات دیکھے،یہاں تک کہ ان کا غیب شہادت اور ان کا علم مشاہدہ بن گیا،جو انھیں یقین دیا گیا وہ ان کے بعد کسی کو نہیں دیا گیا،یہاں تک کہ ان کے غیر کا احد کے برابر سونا خرچ کرنا ان کے جو کے ایک مد خرچ کے برابر نہیں پہنچ سکتا ہے اورنہ ان کے آدھے کے برابر۔

یہی وہ لوگ ہیں جن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمائی،اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے۔ (البیّنہ)

یہ ان کی صفت توریت میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹّھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بَھلی لگتی ہے تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں ۔ اللّٰہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں بخشش اور بڑے ثواب کا ۔ (الفتح)

تجدید تصوف

قرآن پاک اور سنت نبوی میں ہمیں جس تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب یا احسان کا ذکر ملتا ہے اور جس کی تحصیل کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ رفتہ رفتہ تصوف کی صورت میں ایک مدون فن کیسے بن گیا؟ سر دست ہمیں اس سے بحث نہیں،ہم نے اسے مختصرا ایک علیٰحدہ اور مستقل تحریر میں بیان کردیا ہے،اس وقت ہم صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ یہ پہلے کیا تھا اور بعد میں کیا ہو گیا اور اس میں خواب و خیال کی آمیزشوں سے کیا کیا تصورات شامل ہو گئے۔

یہ مقدس چیز در اصل اس نسبت و تعلق کی حفاظت و تقویت کے لیے تھی جو ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے،حب دنیا و غیرہ کی وجہ سے انسان جن برائیوں کا مرتکب ہوتا ہے اور نفس و شیطان کی جن شرارتوں اور دھوکوں میں آکر بگڑ جاتا ہے حضور ﷺ نے اس کے لیے تزکیہ و تصفیہ کا حکم دیا اور سنت کی شکل میں وہ شاہراہ بھی عطا فرمادی جس پر مکمل عمل کرنے کے بعد انسان ایسی صاف ستھری زندگی بنا سکتا ہے جو آخرت کی فلاح و کامیابی کا سبب ہو۔

جب تک سرور کائنات ﷺ سےسچا عشق رہا، اس وقت تک آپ کے اقوال و افعال سے شغف اور ان پر عمل کا جذبہ بر قرار رہا،آپ ﷺ کی نسبتیں جلوہ گر رہیں،پھر رفتہ رفتہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کیفیتوں میں جس قدر کمی آتی گئی اوراسی قدر عمل میں سستی و کاہلی جگہ پاتی رہی مگر سنت پر عمل قلب و جگر کی جس گہرائی کے ساتھ پہلے تھا وہ رفتہ رفتہ اٹھ گیا،مگر آپ کے نائبین و وارثین سے جہاں تک ہو سکا اس کی حفاظت کرتے رہے اگر چہ مرور زمانہ کے ساتھ کم ہوتے رہے۔

ان مقدس بزرگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندوں کے تعلق کی بقا اور دنیا کی آلائشوں سے حفاظت ،قلب کی غفلت اور نفس و شیطان کی شرارتوں سے حفاظت کے لیے انوار و تجلیات اور قرب و عرفان کی تحصیل کے لیے نفس کی سختی سے مخالفت شروع کی اور اس سلسلے میں دنیا اور اہل دنیا سے انقطاع اور بے تعلقی اور نفس کو اس کی شرارتوں سے پاک کرنے کے لیے بھوک و پیاس ،چِلّوں اور خلوتوں کی وہ مشقتیں جھلیں کہ بیان سے باہر ہے،اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے دن بھر روزے سے رہتے اور رات بھر نمازیں پڑھتے،دنیا والوں سے کم ملتے جلتے،اپنے اوقات کی حفاظت کرتے، صحابۂ کرام کے بعد اس سلسلے میں متقدمین اور متوسطین اولیاے کرام نے جو کچھ کیا اسے اگر آپ پڑھیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ جو ریاضت ومجاہدہ اور محنت ومشقت وہ کر گئے اس سے زیادہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ان بزرگوں نے ان ریاضات و مجاہدات کے ساتھ ساتھ اپنے محسن آقا ﷺ کی سیرت و سنت پر عمل اور آپ کے اخلاق و عادات سے آراستگی کا پورا پورا خیال کیا اور خلاف شرع باتوں سے سخت محترز رہے،یہ بزرگان دین اپنے عمل میں لائق تقلید اور احوال میں صادق تھے۔

ان کے بعد جب اسلامی فتوحات نے اسلام کو عجم کی وسعتوں میں داخل کیا تو ہندوستان جیسے ملکوں میں عام طور سے صوفیہ کا وجود ہوا ،چونکہ یہاں جوگی اور سنیاسی بہت مشہور تھے،وہ بڑی بڑی محنتیں کرتے تھے،ان کے لباس مخصوص تھے،ان کا رہن سہن زیادہ تر جنگلوں میں ہوتا تھا، وہ لمبے لمبے حبس دم اور دیگر آسنوں کے ذریہ ان مکشوفات کو قوت دیتے تھے جو ریاضات کے تعلق سے ہوتے تھے،بہت سے صوفیوں نے ان جوگیوں سے بھی روابط پیدا کیے اور ان سے بھی بہت کچھ لے کر تصوف میں شامل کر دیا جیسا کہ آپ اکبر کے دور کے حالات کے سلسلے میں پڑھ چکے ہیں،ان کے علاوہ ریاضات و مجاہدات کی اور بھی نئی نئی شکلیں سامنے آئیں مثلا غاروں میں رہنا،کنویں میں الٹا لٹک جانا اور نہ معلوم کیا کیا داخل ہوا، جوگیوں کے اختلاط سے نری غیر شرعی رسمیں شامل ہو گئیں اور خلاف شرع امور کا ارتکاب کیا جانے لگا۔

ان ریاضتوں اور مجاہدہ کی کثرت سے عوام وخواص میں کئ قسم کی بد عنوانیاں پیدا ہونے لگیں ایک تو یہ کہ عام نجات و فلاح تو قرآن و سنت پر عمل سے مل سکتی ہے مگر خاص فلاح اور قرب و عرفان کی خصوصی دولتیں بغیر ان کٹھن مجاہدات کے نہیں مل سکتی ہیں لہٰذا عام انسان قرب و ولایت کے حصول کو صرف اسلامی قوانین پر عمل کر لینے سے بالاتر سمجھنے لگا۔

دوسرا نقصان یہ بھی ہوا کہ شرعی احکام و قوانین چونکہ ہر عام و خاص کے لیے ہیں اس میں غنی و فقیر اور سلطان و رعایا کی کوئی تخصیص نہیں ہے اس لیے ان پر عمل کوئی وجہ امتیاز نہیں رہا،امتیازی خصوصیت پیدا کرنے کے لیے ان ریاضات و مجاہدات کو اپنانا ضروری تھا۔

عوام کی نظر میں مخصوص عزت و احترام کا استحقاق نذر و نیاز اور رجوع عام جب ہی ہوتا جبکہ ایک عام شرعی زندگی میں وضع قطع اور ریاضات و مجاہدات کی یہ جلوہ آرائیاں نہ

ہوتیں،جن کی نظریں صرف ظاہر تک ہی محدود تھیں ان کی نظر میں انھیں مخصوص وضع قطع کے لوگوں کا احترام تھا خواہ وہ بباطن کتنے ہی برے کیوں نہ ہوتے، زمانہ کی رفتار کے ساتھ ان کے ساتھ گرویدگی اور لگاؤ اس قدر بڑھتا گیا کہ ان کی تعظیم وتکریم میں بسا اوقات اس حد تک غلو ہو گیا کہ لوگ انھیں سجدے کرنے لگے،ان کا غسالہ پینے لگے اور نفس کا شکار اس لباس میں جب بد عملی کے ساتھ آنے لگے تو نمازیں ترک کرنے لگے،مادی منفعتیں حاصل کرنے لگے تب بھی لوگ انھیں اچھی نگاہ ہی سے دیکھتے رہے اور ان کے اندر فضل و کمال تسلیم کرتے رہے اور ان کو اپنا مقتدا و رہنما سمجھ کر عمل سے بے پروا ہوتے چلے گئے،یہاں پر یہ بھی دھیان رہے کہ جو صوفیہ با عمل تھے بعد میں سنت پر عمل میں ان کا اس قدر اہتمام نہیں رہا جو ہا نا چاہیے تھا اور دقائق سے بے خبر ہوتے چلے گئے۔

تیسرا زبردست نقصان یہ ہوا کہ ریاضات و مجاہدات کے نتیجے میں جو باطنی آنکھیں کھلنے لگیں اور غیبی امور سامنے آنے لگے ان کی وجہ سے بہت سے صوفیہ غلط فہمیوں کا شکار ہو گئے ایک تو یہ کہ ایک کشف وہ ہوتا ہے جس کا تعلق قلب سے ہے دوم وہ کہ جس کا تعلق نفس سے ہوتا ہے،اول مفید کار آمد اور محبوب و پسندیدہ ہے اور حق کی طرف لے جاتا ہے۔

یہ کشف جن بزرگوں کوحاصل ہوا اس میں کمزور استعداد اور کم علم صوفیہ راہ حق سے ہٹ گئے کیونکہ اثناے راہ میں تجلیات و انوار اور واردات و کیفیات کے مختلف روپ ہوتے ہیں،ایسے ایسے امور بھی سامنے آتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہو تے ہیں قدم قدم پر ظل اور اصل کے اشتباہات واقع ہوتے ہیں،کچھ مقام ایسے ہوتے ہیں جہاں سالک بہت کچھ بھٹک سکتا ہے،اس لیےکشفی خطاؤں کے مختلف اسباب ہو تے ہیں۔

ہر سالک کی نظر اتنی دقیق نہیں ہو تی ہے کہ وہ ظل اور اصل کا فرق کر سکے اور نہ

ہی ہر سالک نقطۂ آخر پر پہنچتا ہےجہاں علوم طریقت مکمل طور سے علوم شریعت کے مطابق ہو تے ہیں لہٰذا ایسے حالات میں عموماً کم علم صوفیہ اور کم ظرف سالکین بھٹک گئے ہیں اور بجائے اس کے کہ شریعت کو میزان بناتے اور ان کے مکشوفات اگر اس پر کھرے اترتے تو قبول کرتے ورنہ رد کر دیتے، انھوں نےایسا نہ کرکے اپنے مکشوفات ہی کو میزان بنا لیا اور جو ظاہر ہوا اس کو حق سمجھ لیا،یہی لوگ تھے جنھوں نے رفتہ رفتہ شریعت کو عوام کے ساتھ مخصوص کر دیا اور خود کو ہر تکلیف شرعی سے آزاد کر لیا،انھیں ہر چیز میں خدا کی تجلیاں نظر آنے لگیں خاص کر مظاہر جمیلہ میں،لہٰذا حسین عورتوں اور لڑکوں کو دیکھنے کی راہیں بھی کھلنے لگیں اور رفتہ رفتہ اختلاط سے جو ہوتا ہے وہی سب کچھ ہو نے لگا،یہ مکشوفات اپنے ساتھ اس قدر آفتیں لائے کہ ان کی خرابیاں بیان نہیں ہو سکتی ہیں۔

اب رہا دوسری قسم کا کشف جس کا تعلق نفس سے ہے یہ ہمیشہ ضلالت و گمرہی کی طرف لے جاتا ہے،خدا سے دور کرتا ہے،فلاح سے محروم کرتا ہے اس میں عام طور سے وہی چیزیں سامنے آتی ہیں جس سے انسان بگڑتا چلا جاتا ہے عام طور پر کثرت جوع (بھوک)اور پیہم روزوں سے پیدا ہوتا ہے،ایسے اصحاب کشوف کم ہوتے ہیں جو ان دونوں کشفوں میں امتیاز کر لیں اور ہر ایک کو پہچان لیں ،کافروں کو یہی کشف ہو تا ہے اور مومنوں کو بھی ہوتا ہے مگر جو صاحب استقامت ہوتا ہے اور دین پر عمل غالب ہوتا ہے اور توفیق الٰہی شامل ہوتی ہے تو وہ بچ جاتا ہے۔

ان کشوف سے ایک خرابی یہ بھی پیدا ہوئی کہ جس کشف کا تعلق کائنات سے ہوتا ہے کہ کل کیا ہوگا،فلاں آدمی کے دل میں کیا ہے،سفر میں انجام کیا ہوگا،فلاں انسان خلوت میں کیا کرکے آیا ہے،کیا کھاکر آیا ہے وغیرہ وغیرہ یہ کشف بڑا ہی دلچسپ ہوتا ہے کم علم اور کم ہمت صوفیہ با ضابطہ احوال مخلوقات جاننے کے لیے

مراقبات کرتے ہیں،لوگوں کو غیبی خبریں دیتے ہیں جس سے لوگوں کا میلان بڑھتا ہے ایسے لوگوں کو عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بہت جلد عزت و اقتدار اور مال و جاہ کے خواہش مند ہوجاتے ہیں اور عوام کی تسخیر کا جذبہ اور اس کی لگن پیدا ہوجاتی ہے پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نفس کی جن خرابیوں کو دور کرنے کے لیے یہ مجاہدات ہوتے ہیں بالاٰخر ایسے لوگ کشف کے ذریعہ انھی خرابیوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر وہ خرابیاں نفس میں رچ بس جاتی ہیں اور اس فعل کو بنظر احسان دیکھنے لگتے ہیں۔

اس سے دوسرا نقصان خود ان کا اور ان سے وابستہ لوگوں کا یہ ہوتا ہے کہ بجائے توجہ الیٰ اللہ کے ان کی پوری توجہ الی الخلق ہوجاتی ہے اور بالاٰ خر قرب وعرفان کی ان دولتوں سے محروم ہوجاتے ہیں جن سے توجہ الی اللہ کے ذریعہ مالامال ہو سکتے تھے،ان ناقص لوگوں سے جو مرید ہوتے جاتے وہ بھی محروم ہو جاتے تھے،دنیا میں چونکہ ایسے شعبدوں کی بڑی چاہت رہی ہے اس لیے عوام کا رجوع بھی ایسے ہی لوگوں کی طرف زیادہ ہوا ،ان فریب خوردوں میں جو غیر دیندار تھے انھوں نے قوم و ملت کو زبردست نقصان پہنچایا۔

اس کشف کَونی کے بالمقابل کشف الٰہی ہے جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات و غیرہ اور دیگر امور حسنہ سے ہوتا ہے اور جس کے ذریعہ بزرگوں پر معارف و حقائق منکشف ہوئے اور یہی وہ کشف ہے جو سراسر محمود اور آخرت میں کام آنے والا،خدا کا قرب بخشنے والا ہے،اس کی اہمیت ان ناقصوں اور عوام کے دل میں بالکل نہیں رہتی ہے جبکہ حقیقتاً عظمت ورفعت کا باعث یہی ہوتا ہے۔

اسی کشف کونی کے دل دادوں نے عوام کو اتنا بھٹکایا کہ جن شخصیتوں کو عظمت وتقدس کی نگاہوں سے دیکھنا چاہیے تھا انھیں تو کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور جن کی کوئی خاص حیثیت نہیں تھی انھیں سب کچھ تسلیم کرلیا گیا۔

کشف کونی کے شکار لوگوں کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ چونکہ انھوں نے فکر کا محور کائنات کے احوال کو بنایا اس لیے وہ کشف الٰہی کے دقائق سے محروم رہ گئے اور طرح طرح کی غلطیاں کر بیٹھے۔

تصوف کی کرشمہ سازیوں سے یہ بھی بلا آئی کہ مختلف مجاہدات و ریاضات کی وجہ سے بسا اوقات غلبۂ سکر میں ایسے کلمات سر زد ہوئے جو شریعت کے مطابق نہ تھے،چونکہ یہ کلمات ایسی شخصیتوں سے صادر ہوئے تھے جن کی بزرگی و ولایت پر سب کو یا اکثر کو یقین یا ظن غالب تھا،جن کے دلوں میں چور تھا وہ انھیں صحیح محمل پر کیا محمول کرتے انھوں نے اپنی خواہشات میں انھیں ڈھال لیا جس سے ایسے نتائج برآمد ہوئے جو سراسر الحاد و زندقہ تھے۔

کشف ہی کی کرم فرمائیوں سے رفتہ رفتہ یہ تصور پیدا ہوگیا کہ شریعت اور ہے اور طریقت اور،عوام شریعت کی مکلف ہے اور خواص طریقت و معرت کے،شریعت پوست ہے اور طریقت و حقیقت مغز۔

اس شریعت اور طریقت کے فرق نے بے پناہ مفاسد کے دروازے کھولے اور اس بہانے ان لوگوں نے اپنے آپ کو شرعی تکالیف سے مکمل آزاد کر لیا،علوم شریعت کی تحصیل کرنے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کو زاہد خشک یا خشک ملا کہا گیا اور دین کے ٹھیکے دار یہی بن بیٹھے۔

بعد کے صوفیوں سے تصوف میں ایک خرابی یہ بھی پیدا ہو گئی کہ اثناےسلوک میں سیر کو سریع اور تیز بنانے کے لیے،اور کچھ عشق و محبت کی چنگاریوں کو شعلہ بنانے کے لیے بعض کامل بزرگوں نے حدود و قیود کے ساتھ سماع کو داخل کر لیا تھا،بعد کے لوگوں نے جنھیں نہ وہ منزل حاصل تھی اور نہ ہی وہ کیفیتیں مگر بزرگوں کی تقلید میں سماع کو لازم کر لیا اور بزرگوں کی مقرر کردہ حدود و قیود کو ختم

کردیا اور پھر اسی بہانے سے حسن و عشق پر مشتمل غزلوں اور گانوں کے ذریعہ خوب جم کے آتش نفس کو بھڑکایا گیا اور آج تو یہ معاملہ جس نقطۂ آخر پر پہنچ گیا ہے کہ کون دانش مند ہے جو نہیں جانتا ہے۔

رفتہ رفتہ حال یہ ہوا کہ قرب و عرفان کے حصول کے جو اصل اسباب تھے اور تزکیہ و تصفیہ کے جو اصل ذرائع تھے وہ کافور ہو گئے،اصلی تصوف کوسوں دور بھاگ گیا،بس روحانیت،تصوف،قرب اور علم لدنی سب یہی امور رہ گئے۔

تصوف میں ایک نقص یہ بھی آیا کہ چونکہ صحابۂ کرام کے دور میں قرب و عرفان کی راہ کچھ اور تھی اور پھرتابعین وتبع تابعین میں صحابۂ کرام کی کچھ نسبتیں باقی رہیں اگر چہ کم ہوتی چلی گئیں،حضور سرور کونین ﷺ کے فیض سے صحابہ کو جس راہ سے وصول حاصل ہوا وہ قرب نبوت کی راہ تھی جو نہایت آسان،فراخ اور کم وقت میں خدا تک پہنچانے والی اور ان کیفیات و احوال سے دور تھی جس کی وجہ سے رقص و سروروغیرہ کی طرف میلان ہوا۔

بعد میں عام طور پر جو راہ کھلی وہ قرب و لایت کی راہ تھی جو گونا گوں کیفیات و تجلیات کا حاصل اور مختلف مراحل و منازل کی متکفل تھی جب وہ کیفیات اور مراحل اولیا پر منکشف ہونے لگے تو ان کے نام بھی مقرر ہونے لگے اور ان کے مفاہیم بھی متعین ہونے لگے،جن کیفیات و تجلیات اور مراحل و منازل کو بیان کرنے کے لیے اصطلاحات مقرر کی گئیں ان میں بعض میں تعبیری غلطیاں ہوئیں نیز ان کی مناسبت سے جو الفاظ تعبیر کے لیے مقرر کیے گیے تھے وہ الفاظ پوری مساعدت نہیں کرتے تھے۔

الغرض اصل تصوف دین کی روح اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندوں کے رابطہ کو مضبوط کرنے والا،نفس و شیطان سے بچانے والا،قرب حق کی لازوال دولت کو بخشنے والا

اور سرور کونین ﷺ کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے والا تھا،جس مقصد کے لیے انسانی تخلیق وجود میں آئی تھی اس مقصد میں بہتر طور پر کامیاب کرنے والا،ساری غفلتوں سے دور رکھ کر اپنے مولیٰ کی یاد میں شب وروز بسر کرانے والا یہی مبارک راستہ تھا جو بعد میں تصوف کہلایا۔

جو کلیجے سے لگانے والی چیز تھی اسے رفتہ رفتہ ایک معما بنا دیا گیا اور وہ چیزیں داخل کر دی گئیں کہ شریف اور ذی علم انسان اس سے جڑنے کے بجائے اس سے بھاگنے لگا۔

خیال رہے کہ تصوف کے نقائص و عیوب جن کا قدرے بیان آپ نے پڑھا یہ ابتدائی چند صدیوں کے بعد ہی پیدا ہونے لگے تھے چنانچہ متقدمین صوفیہ کی کتابوں میں اس طرح کے بعض خیالات کی تردید ملتی ہے۔

یہ بھی دھیان رہے کہ ہر دور میں صاحب استقامت اور عارف کامل انسان رہے ہیں جن کا نصب العین شریعت کا تحفظ اور خداوند قدوس سے بندوں کا رشتہ جوڑنا رہا ہے اس سلسلے میں بزرگوں نے بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔

کتابیں پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جن مقدس بزرگوں نے تصوف میں خلاف سنت چیزوں کی آمیزش نہیں ہونے دی وہ بڑے بڑے بزرگان دین تھے جنھوں نے اپنے مریدین و متعلقین کو شریعت پر عمل کی تاکید کی اور باطل باتوں کی تردید کی،ان کے دور میں اس قدر باطل تصورات و توہمات تصوف میں داخل نہیں ہوئے تھے اور ان قوی التاثیر بزرگوں کی وجہ سے ان باطل توہمات کی زیادہ گنجائش بھی نہ تھی اور نہ اس دور میں اس قدر مکشوفات کے چرچے تھے اور نہ ہی اسے حجت ودلیل بنایا جاتا اور نہ روحانی مکشوفات کی اس قدر وضع و تدوین تھی۔

آپ ابتدائی صدی سے لے کر حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ

مبارک تک اور اس کے کچھ بعد تک دیکھیں گے تو یہی کیفیت ملے گی،سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے تربیت یافتہ نیز اس دور میں دوسرے بزرگان دین کا روحانی کمال اس درجہ پہنچا ہوا تھا اور ان کی آغوش تربیت سے ایسے ایسے مستقیم الاحوال اشخاص وجود میں آئے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے توہمات پل بھی نہیں سکتے تھے۔

مکشوفات کی وضع وتدوین کا عام دروازہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ سے کھلا اور انھوں نے اثناٗ راہ میں پیش آنے والے واقعات و حالات کو جن نازک تعبیروں سے ادا کیا تھا بعد میں کج فہموں نے اس سے بہت غلط نتائج برآمد کیے،پھر اس سلسلے میں کتابیں بھی زیادہ وجود میں آنے لگیں روحانی مسائل کی تعبیریں علمی انداز میں ہونے لگیں،بحث و تدقیق کے دروازے کھلنے لگے اور مادیت کے غلبے سے جوں جوں روحانیت کمزورپڑنے لگی اسی قدر توہمات شامل ہونے لگے،اب زیادہ تر ناقص لوگ پیدا ہونے لگے جنھوں نے لوگوں کو من چاہا تصوف دینا شروع کردیا۔

بعد کے زمانے تصوف میں ایک بنیادی غلطی یہ کی گئی کہ جن بزرگوں نے اپنے اثنا ے راہ کےمکشوفات بیان کر دیے انھیں ان صوفیوں نے آخری منزل سمجھ لیا یہ بہت بڑی غلطی تھی،حضرت ابن العربی کے ساتھ خاص کر اور اور دیگر بزرگوں کے بعض اقوال کے ساتھ یہی ناروا سلوک برتا گیا،وحدت الوجود اور وحدۃ الشہود کو جو معما بنادیا گیا اس کی خاص وجہ یہی ہوئی، اسی طرح انالحق و سبحانی ما اعظم شانی وغیرہ کے ساتھ حشر ہوا۔

تصوف کے سلسلے میں اگر آپ حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدیدی خدمات کا جائزہ لیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ نے انسانیت پر کتنا بڑا احسان کیاہے اور شریعت کا کس قدر تحفظ فرمایا،آپ نے چند چیزیں اپنا ئیں ایک تو آپ نے اس ریاضت و مجاہدہ کو غیر ضروری قرا دیا جو لوگوں نے ریاضت و مجاہدہ کے نام سے داخل

کیاتھاجس کی وجہ سے سنت کا اعتبار ساقط ہو گیا تھا۔

اسلام کے خلاف اعتدال سے تجاوز کر کے صوفیہ نے جو امر بھی اختیار کیا حضرت مجدد نے اسے خارج کر دیا اور سنت کے دقائق کی طرف توجہ دلائی اور آپ نے دلائل کے ساتھ بالتفصیل بیان فرمایا کہ صحیح معنوں میں سنت پر عمل ہی سب سے بڑا مجاہدہ ہے مثال کے طور پر آپ فرماتے ہیں کہ بھوکا رہنا،کثرت سے روزے رکھنا یہ واقعی مجاہدہ ہے لیکن اگر کوئی انسان جسے خوب بھوک لگی ہو اور وہ کھانا کھا رہا ہو اب اگر وہ اتنی مقدار کھانا کھائے جتنی مقدار سنت ہے اور اشتہا کے باوجود اپنا ہاتھ کھینچ لے تو یہ اس سے بڑا مجاہدہ ہے کہ کھانا سامنے آئے ہی نہ،اس میں(سنت کے مطابق کھانے میں)چند فوائد حاصل ہوئے ایک سنت پر عمل ہوا ،نفس پر یہ فعل بہت گراں گزرا اور خاص بات یہ کہ بھوک کی حالت میں عام طور سے انسان اندرونی طور پر ایسی کیفیت کا شکار ہوجاتا ہے کہ پھر اس کا دل نہ اوراد و اشغال میں لگتا ہے نہ عبادات میں جبکہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ کھانا حاضر ہو اور شدت بھوک ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔

اس کے ساتھ ساتھ اس طرح کے مجاہدات سے جسم میں نقاہت و ضعف لاحق ہوتا ہے جس کی وجہ سے دین کی تبلیغ و ترویج پر بھی اثر پڑتا ہے اور دیگر حقوق کی ادائیگی میں بھی فتور پڑتا ہے،پھر اس قسم کے مجاہدات ہر ایک کے بس میں نہیں جبکہ سنت پر عمل میں جو مجاہدہ ہے وہ اس قسم کا ہے کہ ہر ایک عمل کر سکتا ہے اور اس میں عمل کا تسلسل بھی ہے،یہاں یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ کہ سنت پر عمل میں صاحب سنت کی طرف توجہ ہوتی ہے اور یہی توجہ ہی در اصل روحانی کمالات کی اصل ہے اسی پر سارے قرب متفرع ہوتے ہیں،سنت پر عمل میں اپنے محبوب ﷺ کے ساتھ جو اعتنا و اہتمام ہے اور آپ کی عظمت کاجس قدر اعتراف ہے وہ اہل نظر پر مخفی نہیں، سنت پر عمل کرکے انسان عملاً یہ گواہی دیتا ہے کہ در اصل میرے ن

نبی کا طریقہ ہی کامل و مکمل ہے اورپھر وہ کمالات کی تحصیل میں کسی دوسرے طریقے کا محتاج نہیں ہوتا ہے۔

آپ یہاں سے حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدید کا راز سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کے ہر شعبۂ تجدید میں یہی رمز چھپا ہے کہ اتنے طویل عرصے میں نئی نئی چیزیں داخل ہوتے ہوتے محدثات کا ایک انبار لگ گیا تھا اور سنت اس کے دبیز پردوں میں چھپ گئی تھی،آپ نے ہر شعبہ میں سنت ہی کو اپنا امام و مقتدیٰ بنایا۔

اسی طرح آپ نے عزیمت پر عمل کو لازم کردیااور رخصتوں سے حتیٰ الامکان پرہیز و اجتناب کیا اور بچنے کی تاکید بھی کی مثلاً حالت سفر میں روزے نہ رکھنے کی رخصت ہے مگر عزیمت یہ ہے کہ روزہ رکھے،رمضان میں روزہ رکھنے میں جو رحمتیں و برکتیں حاصل ہو جائیں گی اور جس قدر رفع درجات حاصل ہوگا وہ قضا میں کہاں؟قضا میں صرف اتنا ہی ہے کہ انسان گنہ گار نہ ہوگا،اسی طرح سفر میں سنت موکدہ نماز نہ پڑھنے کی رخصت ہے،رخصت پر عمل سے صرف اتنا ہوگا کہ آپ گنہ گار نہ ہوں گے لیکن اگر عزیمت پر عمل کریں اور سفر میں پڑھیں تو کتنا اجر و ثواب ملے گا؟

اسی طرح سفر میں ترک جماعت جائز ہے لیکن عزیمت پر عمل کرنے یعنی جماعت سے نماز ادا کرنے میں جو اجر و ثواب ہے وہ رخصت میں کہاں،نیز مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے امر معروف و نہی منکر کے مواقع بھی ہاتھ آتے ہیں،مومنوں سے ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں،باہم محبت بھی بڑھتی ہے،پھر مسجد میں نماز ادا کرنے کا ثواب اپنی جگہ پر ہے،اسی طرح آپ باقی معاملات کو سمجھ سکتے ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ کی بالغ نظری آپ دیکھیں کہ کس قدر حکمت پر مبنی کام کیا اور اس چیز کو لازم کرکے کس قدر ذخائر مہیا کر دیے یہ باتیں ریاضات میں کہاں؟

اسی طرح نماز کی ادائیگی کے بارے میں آپ نے بار بار تاکید فرمائی ہے کہ

نہایت احسن طریقہ سے نماز ادا کی جائے،آپ اگر حالات پڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ صوفیہ خام نے ایک زمانے سے نماز کو غیر ضروری قرار دے دیا،بہت سے تو تارک ہو گئے تھے اور جو ادا بھی کرتے تھے ان میں اکثر ایسے تھے کہ وضو،غسل اور نماز میں جن سنن و مستحبات اور قلب کی حضوری ہونی چاہیے وہ نہیں ہوتی تھی،اس سلسلے میں آپ نے اتنا اہتمام فرمایا کہ نماز کے کمالات کو متعدد مکتوبات میں بیان فرمایا اور تاکید فرمائی کہ تعدیل ارکان کی رعایت کے ساتھ نماز ادا کی جائے ۔

مختلف مکتوبات میں وہ مسائل نماز بھی بیان فرمائے جن سے عام طور پر غفلت ہو جاتی ہے،آپ نے نماز کے اہتمام کو تجدید الف ثانی کے برکات سے فرمایا اور بار بار یہ ذہن دیا کہ ہزاروں سماع کی محفلوں میں جو حاصل نہیں ہو سکتا ہے وہ طول قنوت کی رعایت کے ساتھ وقت مستحب میں سنن و مستحبات کے ساتھ ایک وقت کی نماز میں حاصل ہو سکتا ہے،اکبر تو آخر میں نماز کا ایسا منکر ہو گیاتھا کہ لوگوں کو منع کرتا تھا۔

الغرض آپ نے تصوف کی بنا صوفیہ کے وضع کردہ ریاضات و مجاہدات اور غیر مسلموں سے اخذ کردہ اوراد و اشغال سے ہٹ کر صرف اور صرف مکمل طور پر سنت پر عمل میں رکھی،کھانے پینے،اٹھنے بیٹھنے،چلنے پھرنے،خلوت و جلوت،تجارت و معاملات اور زندگی کے ہر شعبے میں صرف سنت پر عمل ہو اور ثواب کی نیت سے نہیں بلکہ ہر کام اداے سنت کے طور پر ہو۔

مکتوبات شریف میں آپ نے ان سنتوں کا جو فرائض سے متعلق ہیں اور ان کے علاوہ دیگر سنتوں میں بہت فرق اور ثواب بیان فرمایا ہے،آپ نے جہاں فرائض و واجبات اور سنن موکدہ کو نہایت کمال کے ساتھ ادا کرنے کی تاکید فرمائی وہیں سنن غیر موکدہ کا بھی التزام فرمایا،تہجد کو لازمی قرار دیا،اسی طرح اشراق و چاشت،اوابین اور فے زوال وغیرہ کی سنتیں،نماز ظہر کے بعد کسی اچھے قاری و حافظ کی زبان سے

نہایت استغراق کے عالم میں قرآن سننا،خود پابندی کے ساتھ کئی کئی پاروں کی تلاوت کرنا اور ہر ایک میں آداب کا مکمل خیال رکھنا اور ہر عمل کو پابندی کے ساتھ ادا کرنا،آپ کی نماز بھی بڑے عجیب طرح سے ادا ہوتی،علامہ بدرالدین سرہندی آپ کی صفت نماز بیان فرماکر ارشاد فرماتے ہیں:

یہ فقیر(مولف)اس برگزیدہ امام ہمام کے خادموں میں شمار ہونے سے پہلے کبھی کبھی آپ کی مسجد میں جمعہ کی نمازوں میں شریک ہو جاتاتھا اور آپ کی نماز کو دیکھ کر بے اختیار ہو جاتا تھا اور یقین رکھتا تھا کہ آپ ہمیشہ حضرت سرور کائنات ﷺ کی خدمت میں رہتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہیں اور اسی طریقے کے مطابق نماز ادا کرتے ہیں اور یوں تو اس فقیر نے دوسرے علما و مشائخ کو بھی دیکھا ہے لیکن ایسی نماز کسی کی نہیں دیکھی،ہمیشہ اول وقت میں نماز ادا کرنا اور ایک ہی طریقہ سے ادا کرنا عجوبۂ روزگار معلوم ہوتا تھا،کبھی ہم نے نہیں دیکھا کہ آپ نے اپنے وقت سے ایک لمحہ بھی تجاوز کیا ہو یا طریقۂ نماز میں کبھی قومہ یا جلسہ یا کسی آداب نماز میں کسی طرح کا کوئی فرق محسوس ہوا ہو۔

آپ کی نماز ہی آپ کی اعلیٰ کرامت تھی کہ خرق عادت اور عرف عام ظاہر ہوتی تھی،یہ بات ظاہر ہے کہ ہمیشہ ایک طور پر بلا کسی رنج و مشقت کے اسی طرح پوری تعظیم و توقیر،وقار وخشوع اور خضوع اور انکسار کے ساتھ نماز ادا کرنا محض حضور انور ﷺکی اتباع اور آپ کی باطنی قوت کی وجہ سے تھی۔

آپ صرف نماز ہی کی تاکید نہ فرماتے بلکہ سخت ہدایت تھی کہ باجماعت پڑھی جائے اور جماعت بھی ایسی نہیں کہ گھر میں دوچار لوگوں کے ساتھ،یا جماعت اول گزر جانے کے بعد مسجد میں اپنے احباب و مریدین کے ساتھ کر لی جائے بلکہ تاکید تھی کہ جماعت اولیٰ کے ساتھ مسجد میں پڑھی جائے اور کثرت سے لوگ شامل ہوں۔

اس کے ساتھ ساتھ آپ نے نبوی دعاؤں کا التزام بھی بہت کیا،جن جن اوقات کی نمازیں اور دعائیں مروی ہیں آپ انھیں پابندی کے ساتھ کرتے اور ہر عمل میں اعتدال اور سنت پر عمل ضروری ہوتا،آپ نے ہر چیز میں میانہ روی اختیار فرمائی،لباس میں،کھانے پینے میں،بولنے چالنے میں،سونے جاگنے میں،اہل و عیال کے ساتھ گفت و شنید میں،احباب کی محفلوں میں آپ توسط اور میانہ روی کا التزام فرماتے،اس کے ساتھ ساتھ آپ نے دوام حضور مع اللہ کو لازم قرار دیا،ذکر کی کثرت اور ابتدا ہی سے اس بات کی تاکید فرمائی کہ لوح دل تمام اغیار کے نقوش سے خالی اور صاف ہو اور کوئی مراد اور خواہش سینے میں باقی نہ رہے۔

سالکین کے لیے آپ کی پر زور تاکید یہ تھی کہ تمام اوقات ان تین عبادتوں سے خالی نہ ہو یا کلمۂ طیبہ کی تصور معنیٰ کے ساتھ تکرار ہو یا لمبی قرات کے ساتھ نماز ہو یا تلاوت کلام مجید اورذکر کو لازم قلب کر لیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے طریقہ کی بنا نقشبندی سلوک پر رکھی جس میں جذبہ سلوک پر مقدم ہے،یہ راستہ سب سے زیادہ قریب تر ہے،خدا تک بہت جلد پہنچاتا ہے،خود حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس مکتوب میں صراحت کی ہے جو انھوں نے اپنے مخدوم حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کو تحریر کیا ہے کہ انصاف یہ ہے کہ فنا و بقا کی تحصیل میں نقشبندی طریق سے آسان تر کوئی راستہ نہیں ہے،ہم نے اپنی تالیف ‘‘خصائص نقشبندیہ’’ میں ان تمام امور کو تفصیلاً بیان کر دیا ہے۔

اس سلوک میں سالک کو محنت کم کرنا پڑتی ہے اس لیے کی اس کی بنا شیخ مقتدا کی صحبت و محبت پر رکھی ہے جس قدر محبت زیادہ ہوگی اسی قدر شیخ کے انوار و کمالات کا عکس مرید کے آئینہ ٔ قلب پر منعکس ہوگا،یہ نہایت اختصاراً آپ کے سامنے تصوف کی

بنیادی چیزیں بیان ہوئیں،اس سے چند فائدے حاصل ہوئے ایک تو تصوف شریعت و سنت کے سانچے میں ڈھل گیا اور علما و صوفیہ میں بظاہر کوئی اختلاف نہیں رہا،آپ نے خود اپنی اور اپنے مریدین کی وضع و قطع وہی بنائی جو اسلامی اور سنت کے مطابق تھی ان کا کوئی مخصوص لباس نہیں رکھا۔

ہر صوفی کے لیے آْپ نے تحصیل علم لازم قرار دے دیا،آپ جانتے تھے کہ محققین صوفیہ کے نازک مکشوفات تک صحیح نہ پہنچ پانے ہی کی وجہ سے کم علم صوفیہ نے دین میں رخنہ ڈالا ہے اور صوفیہ کی صحیح مراد تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بعد کے صوفیہ خام اعتقاد و عمل میں کفر و الحاد تک پہنچ گیے ہیں،علم بھی معمولی نہیں بلکہ آپ کی بارگاہ کے تربیت یافتہ سارے صوفیہ علوم و فنون میں کامل دستگاہ کے مالک تھے اور منقول و معقول سارے ہی علوم سے واقف تھے،تصوف و طریقت کے علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔

آپ کے یہاں باضابطہ تصوف کا درس ہوتا اور آپ انھیں کتابوں کو پڑھاتے اور مطالعہ کرتے جو مستقیم الاحوال صوفیہ کرام کی لکھی ہوئی ہیں جیسے عوارف المعارف شریف وغیرہ،تصوف کی اصطلاحات،نفس کے مکائد،قلب کے امراض اور ان سے بچاؤ اور ازالہ کے علم میں آپ کے دربار کے صوفی بہت ماہر تھے،صوفیہ پر تحصیل علم کو لازم قرار دینے کے ساتھ ساتھ علما کو عمل اور طریق صوفیہ کی تحصیل نہایت ضروری قرار دیا،آپ کے مکتوبات قدسی آیات کے مطالعہ سے ثابت ہو تا ہے کہ آپ جگہ جگہ تین چیزوں پر زور دیتے ہیں اولاً عقائد اہل سنت دوم سنت و فقہ پر عمل سوم طریق صوفیہ کا التزام۔

خالص علم ظاہر جو معقولات کے ساتھ ہو وہ کس قدر شرارتیں اور بلائیں لاتا ہے اور اس کے کیا مہلک اور مضر اثرات ہیں،جس نے بھی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے

وہ اچھی طرح جانتا ہے،خاص کر اکبر کا بھیانک دور جس نے بھی غائر نظر سے پڑھا ہے اسے پتہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں پر زیادہ تر آفتیں علماے سو اور کم علم صوفیہ سے آئیں۔

اگر طریقۂ صوفیہ کا التزام نہ کیا جائے تو تجربات شاہد ہیں کہ مزاج میں اعتدال کا جوہر پیدا نہیں ہو پاتا ہے اور نہ ہی رات و دن کی طاعت وعبادت میں وہ لگن اور تسلسل پیدا ہو پاتا ہے جو آخرت میں بلندی درجات یا نجات کے لیے ضروری ہے،تعلق مع اللہ کی وہ مبارک کیفیتیں جن سے خوف و خشیت،معاصی پر ندامت،حسد و بغض،جاہ و مال وغیرہ کی چاہت سے چھٹکارا مل پاتا ہے جو اعمال صالحہ کی بقا اور تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

تدریس و تعلیم جیسے نیک اور مفید کاموں میں وہ اخلاص و للٰہیت پیدا نہیں ہو پاتی ہے جو ہونا چاہیے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ علم و فن ایک ایسی دولت و نعمت ہے کہ اگر ذرا بھی دھیان نہ دیا جائے تو یہ تکبر و انانیت اور جنگ وجدال،بحث و مباحثہ اور محفلوں میں دوسروں کی تذلیل لاتا ہے اور بالاٰ خر اتنی بڑی نعمت کی نا شکری اور اسے دنیا کے لیے استعمال تباہیِ آخرت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

مختصر یہ کہ حضرت مجدد قدس سہ نے خوب دیکھ لیا تھا کہ علم اور تصوف اور علما و صوفیہ کے درمیان جو بعد حائل ہو گیا ہے وہ کن اسباب کے تحت ہے جس میں بیشتر دخل صوفیہ خام اور کچھ علماے سو کو ہے،آپ نے صوفیہ کو علم اور علما سے قریب کیا اور علما کو تصوف و صوفیہ سے،اور علما جس تصوف کی وجہ سے صوفیہ دور ہو گئے تھے اس تصوف کو آپ نے تمام بدعات سے پاک کرکے خالص شرعی اور اسلامی تصوف بنادیا۔

دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ مجاہدات و ریاضات سے پیدا ہونے والے غلط مکشوفات اور مغلوب کر دینے والی کیفیات یکسر ختم ہو گئیں،سنت پر عمل کا التزام نہ تو وجد لاتا

ہے،نہ حال اور نہ ہی رقص و سرود کی طرف میلان پیدا کرتا ہے۔

آپ غور سے دیکھیں کہ آج جو بگڑے ہوئے طریقت کے خانوادے ہمارے سامنے ہیں وہ زیادہ تر ان اہم بزرگوں سے منسوب ہیں جو عشق و محبت کی کیفیتوں سے مغلوب ہو گیے اور اس غلبہ میں ان سے ایسے اقوال و افعال سر زد ہوئے جو اگر چہ شریعت کے خلاف نہ تھے لیکن ان کے متبعین نے اتباع و پیروی میں انھیں اس قدر گاڑھا رنگ دے دیا کہ اب بس وہی اقوال و افعال ان کی نظر میں تصوف رہ گئے ہیں بس،بلکہ ان اقوال و افعال کے بہانے شریعت کے خلاف امور کا ارتکاب کرنے لگے اور آج تو نا معلوم ان چیزوں کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ بزرگان دین اپنے مرتبے و مقام کے لحاظ سے خواہ کچھ بھی ہوں لیکن عشق کے غلبات میں جو کچھ ان سے سرزد ہوا وہ کسی حال میں قوموں کے مناسب نہ تھا اور اس سے شریعت کو زبردست نقصان پہنچا اور آج کے جاہل لوگ اسی چیز کو روحانیت تصور کرتے ہیں،شریعت سے ہٹ کر تصوف کے تصور نے ہی انسانوں کو بہت کچھ خرابیوں کا شکار کردیا،حضرت مجدد قدس سرہ کی پوری کوشش یہی رہی کہ تصوف عین شریعت ہو اور اس میں وہ سارے امتیازات ختم کر دیے جائیں جو برائیوں اور لوگوں کی دوری کا باعث ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کے شرعی تصوف سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ باطنی نسبت میں بڑی قوت پیدا ہو گئی اور توجہات و تصرفات بہت قوی الاثر ہو گئے اور چونکہ معیار میزان سنت تھی لہٰذا کشف سنت کے معیار پر تولا جانے لگا جو اس پر کھرا اترا مقبول ورنہ مردود،لہٰذا کشفی غلطیاں بہت کم بلکہ نابود ہو گئیں،پہلی بات تو یہ کہ خلاف شرع کشف ہی کم ہو گیا۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے کشف کی مذکوری آفتوں ہی کی وجہ سے بہت حد تک

کشف سے دھیان ہٹا لیا اور سالکین اور صوفیہ کو ہمیشہ صرف توجہ الی للہ کا درس دیا۔

(۵) موت کے آنے سے پہلے اپنا کام کرنا چاہیے اور ‘‘یا شوق’’ کہتے ہوئے مرنا چاہیے۔ اول اعتقاد کی درستی سے چارہ نہیں اور جو کچھ بطریق ضرورت و تواتر دین سے معلوم ہے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ دوم جاننا اور عمل کرنا اس پر جو علم فقہ سے متعلق سے نیز ضروری ہے۔ سوم سلوک طریق صوفیہ بھی درکار ہے، نہ اس غرض کے لیے کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ کریں اور انوار اور رنگوں کو دیکھیں، یہ خود لہو و لعب میں داخل ہے۔ صور و انوار حسّی میں کیا نقصان ہے کہ کوئی ان کو چھوڑ کر ریاضات و مجاہدات سے صور و انوار غیبی کا لالچ کرے۔ صور و انوار غیبی اور حسّی دونوں حق سبحانہ کی مخلوق ہیں اور اس کے صانع ہونے پر دلالت کرنے والی نشانیوں سے ہیں۔ سورج اور چاند کا نور جو عالم شہادت سے ہے کئی طرح ان انوار پر فضیلت رکھتا ہے جو عالم مثال میں دیکھتے ہیں، لیکن چوں کہ یہ دید دائمی ہےاور خواص و عوام اس میں شریک ہیں اس لیے نظر اعتبار سے ساقط کر کے انوار غیبی کا لالچ کرتے ہیں۔ ہاں، مصرعہ:

جو پانی تیرے دروازے کے آگے جاری ہے وہ گدلا معلوم ہوتا ہے۔

بلکہ طریق صوفیہ کے سلوک سے مقصود اعتقادیات شرعیہ میں یقین کی زیادتی حاصل کرنا ہے تاکہ استدلال کی تنگ جگہ سے کشف کی فراخ زمین میں آجائیں اور اجمال سے تفصیل کی طرف آجائیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کی وحدت پہلے استدلال کے طریق یا تقلید سے معلوم ہوئی تھی اور اس کے موافق یقین حاصل ہو اتھا۔ جب طریق صوفیہ کا سلوک حاصل ہو جاتا ہے، وہ استدلال و تقلید کشف و شہود سے بدل جاتا ہے اور یقین اکمل حاصل ہو جاتا ہے۔ باقی اعتقادیات کا یہی حال ہے، اور نیز سلوک سے مقصود احکام فقہیہ کے ادا کرنے میں آسانی کا حاصل کرنا اور اس

دشواری کا دور کرنا ہے جو نفس کی سرکشی سے پیدا ہوتی ہے۔ فقیر کا یقین ہے کہ طریق صوفیہ حقیقت میں علوم شرعیہ کا خادم ہے نہ کہ شریعت کے خلاف کوئی امر۔ فقیر نے اس مضمون کو اپنی کتابوں اور رسالوں میں تحقیق کیا ہے اور اس غرض کے حصول کے لیے صوفیہ کے تمام طریقوں میں سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کا اختیار کرنا اولیٰ اور انسب ہے؛ کیوں کہ ان بزرگوں نےسنت کی پیروی کا التزام رکھا ہے اور بدعت سے پرہیز کیا ہے۔ (مشائخ نقشبندیہ، ص:۲۳۶)

تصوف کے حوالے سے آپ کی تجدید کا یہ گوشہ بھی نظر میں رکھنے کے لائق ہے کہ آپ سےپیشتر اور آپ کے زمانے میں عام طور پرصوفیہ کی روش حکومت اور اہل حکومت اور مالداروں سے عموماً سخت اجتناب و پرہیز ی رہی نہ صوفیہ ان کی مجلسوں میں جاتے تھے اور نہ ان کے نذرانے قبول کرتے تھے،اس بارے میں بزرگوں کی سیرت کے ضمن میں بڑے اہم اہم واقعات ملتے ہیں،غایت تقویٰ کی وجہ سے وہ دنیا اور اہل دنیا سے سخت پر ہیز ہی مناسب سمجھتے تھے،یہ صوفیہ حکومت کے معاملات میں کوئی دخل نہ دیتے تھے،حضرت مجدد قدس سرہ نے پوری زندگی نہایت کٹر صوفی بن کر بسر کر دی دنیا اور اہل دنیا سے سخت اجتناب اور پرہیز کا عالم یہ کہ اگر آپ چاہتے تو تو اپنے علم و فضل اور وسائل کی وجہ سے بڑے سا بڑا منصب حاصل کر لیتے مگر مائل ہونا تو دور کی بات کبھی حاشیۂ ذہن میں بھی نہیں آیا کہ کوئی عہدہ یا منصب قبول کیا جائے۔

اس کے با وجود امرا ٔ و وزرا اور اہل ثروت سے ربط و ضبط وہ بھی ان کی محفلوں میں حاضر ہوئے بغیر اس قدر کہ شاید کسی صوفی کا رہا ہو اور ہر ایک سے تعلق صرف دین کی خدمتوں،بادشاہت کی اصلاح اور عوام کی فلاح کے لیے تھا،جو اختلاط مع اجتناب آپ کے یہاں ملتا ہے تاریخ میں اس کی مثالیں بہت کم ہوں گی۔

ویسے تو بہت سے بزرگوں کی با رگاہوں میں سلاطین و امرا حاضر ہوئے وہ الگ چیز

ہے لیکن جس منظم طور پر آپ نے دور رہ کر ان کے دلوں میں اتر کر دین کا کام لیا ہے یہ آپ ہی کا حصہ ہے،آپ نے کبھی صوفیانہ اصول نہیں چھوڑے بلکہ اس سلسلے میں بھی ٹھیک اپنے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کیا۔

صوفیہ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ عام طور سے امرا و سلاطین کو بزرگوں سے محبت رہی،وہ ان سے ملنے آئے،حاضریاں دیں مگر امر معروف اور نہی منکر جس قدر آ پ نے ان لوگوں کو فرمائی وہ آپ ہی کی جواں مردی تھی،آپ کے تجدید تصوف کا یہ گوشہ بہت ہی اہم ہے کہ آپ نے تصوف کو اس قدر فروغ دیا اس قدر فروغ دیا کہ آپ کے اور آپ کے فرزندوں،خلفا اور بعد کے مجددی خلفا دنیا کے اکثر و بیشتر لوگوں پر کئی صدیوں تک چھائے رہے اور جو ان سے وابستہ تھا وہ گویا پکا صوفی تھا،بڑے بڑے علما و محدثین اور مفسرین و مصنفین ہر طرح کے لوگ آئے جو بباطن مجددی فیضان اور احمدی نوازشات سے قرب و عرفان کی اعلیٰ منزل پر فائز اور بظاہر ایک زبردست عالم اور عالمانہ شان و شوکت سے رہنا،ہر ایک کا مشغلہ اسلامی احکام کو فروغ دینا تھا۔

آپ کی تبلیغ صرف دین کے کسی ایک رکن یا غرض کے نام سے نہیں تھی مثلاً نماز و کلمہ کی تبلیغ بلکہ پورے دین کی تبلیغ تھی اور اسلام کو پوری قوت سے نافذ کرنے کی تبلیغ تھی۔

اسی طرح نہ ایسا تھا کہ آپ نے عوام کی خاطر لباس و غیرہ میں کوئی ڈھیل ڈھال دی ہو بلکہ کفر و کافروں سے جس قدر نفرت اپنے صوفیہ کے دلوں میں پیدا کی وہ آپ کے مکتوبات سے عیاں ہے۔

مشرکین ہند کی دوستیوں سے اسلام اور مسلمانوں پر کیا کیا آفتیں آئی تھیں یہ آپ خوب جانتے تھے،خاص کر صوفیہ میں عموماً دیگر مذاہب والوں کے لیے کچھ نرم گوشہ