مواد پر جائیں

باب ۸ از ۵۷صفحات ۱۱۶–۱۳۱

محاسن ظاہری

حسن صورت:

خالق حسن و جمال جل و علا نے جہاں حضرت مجدد قدس سرہ کو باطنی مدارج میں بلند قامت شخصیت بنایا تھا وہیں نہایت دلکش اور جاذب حسن و جمال ظاہری بھی عطا فرمایا تھا۔ جو دیکھتا آپ پر فدا ہو جاتا۔ حضرت مولانا بدر الدین سرہندی قدس سرہ جنھوں نے تقریباً ۱۶ سال آپ کے حسن و جمال کا مشاہدہ کیا تھاوہ آپ کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘حضرت مجدد رحمہ اللہ گندمی رنگ لیکن مائل بہ سپیدی تھے اور کشادہ پیشانی تھے اور آپ جیسے سردار کبار کی پیشانی اور چہرے سے ایک ایسا نور چمکتا تھا کہ آنکھیں اس کے مشاہدے سے خیرہ ہو جاتی تھیں۔ آپ کشادہ ابرو تھے اور ابرو ایسے تھے جیسے ایک منحنی کمان یعنی لمبے اور سیاہ اور باریک بھی اور آپ کی آنکھیں کشادہ اور بڑی بڑی تھیں ان کی سیاہی زیادہ سیاہ تھی اور سفیدی بھی بہت سفید تھی آپ کی ناک بلند اور باریک تھی، لب سرخ اور باریک تھے، منہ نہ لمبا تھا اور نہ بہت چھوٹا، آپ کے دانت ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور چمکدار تھے ایسے جیسے لعل بدخشاں اور آپ کی ریش مبارک خوب گھنی، رعب دار، دراز اور مربع تھی اور آپ کے رخساروں پر آپ کی ریش مبارک کے بال تجاوز نہیں کرتے تھے، آپ دراز قد اور نازک اندام تھے اور کبھی آپ کے بدن پر مکھی نہ بیٹھتی تھی، آپ کے پاوں کی ایڑیاں ایسی صاف اور چمکدار تھیں جیسے چین و چگل کے محبوبوں کی ہوتی ہیں اور آپ کے پسینے سے کبھی ناگوار بو نہیں آتی تھی جیسے کہ موسم گرما میں ہو جاتی ہے۔ غرض کہ آپ کا حسن، یوسف علیہ السلام کے حسن کی یاد تازہ کر دیتا تھا اور آپ کی وجاہت ابراہیم علیہ السلام کی وجاہت کی یاد دلاتی تھی۔ جو

جو شخص بھی آپ کو دیکھتا بے اختیار کہہ اٹھتا کہ ‘‘یہ انسان نہیں، یہ کوئی بزرگ فرشتہ ہیں’’ اور بلا تأمل ہر شخص کی زبان پر اسی طرح جاری ہو جاتا کہ سبحان اللہ اور یہی اللہ کے ولی ہیں گویا یہ حدیث کہ اولیا کے دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے، آپ ہی کی شان میں وارد ہوئی تھی۔’’

علمی مقام:

خداوند قدوس نے آپ کو علم و فضل کی کس بلند منزل پر فائز فرمایا تھا یہ سبھی اہل علم سبھی جانتے ہیں۔ امامت و اجتہاد میں آپ کے بلند مقام کو کون نہیں جانتا ہے۔ امام ربّانی کے نام سے آج بھی آپ جانے پہچانے جاتے ہیں۔ الغرض علم و فن کا کوئی بھی حصہ ہو منقول یا معقول ہر ایک میں ید طولیٰ کے مالک تھے، بڑے بڑے اس دور کے فضلا آپ کے آگے سرنگوں تھے۔ ابو الفضل و فیضی کی علمی منزل اور ذکاوت و ذہانت آج بھی زبان زد خاص و عام ہے۔ تاریخ شاہد ہےوہ جتنا احترام آپ کا کرتا تھا شاید کسی کا کرتا ہو۔

آپ کا بڑا مشہور واقعہ ہے کہ قیام آگرہ کے دوران ایک دن آپ اتفاق سے فیضی کے یہاں پہنچ گئے، اس زمانے میں بے نقط تفسیر میں مشغول تھا۔ ایک آیت کے تفسیر مضمون کی تقیید کے لیے اسے بے نقط الفاظ ہاتھ نہیں آرہے تھے، کافی دیر سے پریشان تھا، آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور جھوم اٹھا، کہا بہت وقت پر آئے، ہمارے سامنے اس وقت یہ مشکل ہے، آپ نے سنتے ہی فوراً برجستہ تقریباً ایک صفحہ عبارت بے نقط تحریر فرما دی۔

آپ کے فیضان درس و تدریس سے بڑے بڑے علماے روزگار وجود میں آئے، ذہن نہایت اعلیٰ اور دماغ بلند پایا تھا، جہاں آپ کا ذہن پہنچ جاتا بڑے بڑے فضلا کا نہ پہنچتا، لوگ دنگ رہ جاتے۔ آپ کے تبحر علمی پر ہمارے جیسے اس زمانے کے بے علم کا

کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔ آپ کی علوم و فنون میں اگر کوئی امامت و اجتہاد دیکھنا چاہے تو آج بھی آپ کے مکتوبات قدسی و دیگر تصنیفات کا مطالعہ کرے، آپ کا ایک گونا علمی تشخص سامنے آجائےگا۔

صوفیہ کرام میں بڑے بڑے دقاق علما و فضلا ہوئے ہیں مگر رنگ تصوف کے غلبے کی وجہ سے ان کو عالمانہ حیثیت سے لوگ کم پہچان سکے۔ حضرت مجدد قدس سرہ جس دور میں رونق افروز عالم ہوئے ہیں وہ علم و فن کا دور تھا، بڑے بڑے فضلاے نامدار آپ کے سامنے جس قدر ادب و احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں وہ آپ کے تبحر علمی کا کھلا ثبوت ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ جب تیسری مرتبہ مرشد عالی وقار قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضری دے کر سرہند آئے تو آپ اشارہ غیبی کی وجہ سے لاہور تشریف لے گئے جو اس زمانے میں علما و فضلا کا بڑا مرکز تھا۔ حضرت خواجہ محمد ہاشم رحمۃ اللہ علیہ لاہور میں آپ کی تشریف آوری کا حال لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘اکثر خواص و عوام اسی غوث الانام کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے، صحبت گرم ہوئی اور حلقہ و شغل و مراقبہ نے وسعت پیدا کی۔ اس زمانے میں لاہور میں ایک بڑے کامل تھے جو علوم ظاہری و باطنی کے جامع تھے، کافی تلامذہ ان کے حلقہ درس میں شامل ہوتے تھے۔ حضرت مولانا جمال تلوی رحمۃ اللہ علیہ ان کے ایک فاضل شاگر د نے خود حضرت خواجہ محمد ہاشم سے بیان کیا کہ قیام لاہور کے دوران میرے استاذ (مولانا جمال) بڑی نیاز مندی اور اخلاص تمام کے ساتھ حضرت مجدد قدس سرہ کی

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

1 ۔ مولانا موصوف کی بلندی درجت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ فیضی کے معاونین میں سے تھے۔ جب وہ بے نقط تفسیر لکھ رہا تھا، مولانا بدر الدین قدس سرہ کے بقول اس وقت مولانا جمال بھی موجود تھے۔

بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ ایک دن جب مولانا مجلس سے اٹھے تو بے پناہ تعظیم سے پیش آئے۔ شاگردوں پر یہ ادب و تعظیم کی افراط بڑی گراں گذری، فاضل مذکور کا کہنا ہے کہ چوں کہ میرے اعتقاد میں میرے استاذ کا پلّہ علوم ظاہری اور فنون میں بھاری تھا اور علوم باطنی اور ورع میں بھی کم نہیں تصور کرتا تھا۔ جب مولانا جمال باہر آئے تو بطور گستاخی میں نے عرض کیا کہ اس قدر تواضع و انکساری کا سبب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ (حضرت مجدد قدس سرہ) علماء باللہ اور محرمان اسرار ‘‘لی مع اللہ’’ سے ہیں ان کا احترام ہمارے جیسے لوگوں پر لازم ہے ہم کو اس سلسلے میں معذور بلکہ ماجور جانو۔

حضرت مجدد قدس سرہ کے خلفا کے احوال پر جب آپ نظر ڈالیں گے تو پتا چلے گا کہ اکثر وہ ہیں جو علوم نقلیہ اور فنون ادبیہ و عقلیہ میں بلند چوٹی پر فائز تھے۔ حضرت مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی، مشہور شارح و محشی حضرت مولانا طاہر لاہوری، مولانا عبد الحمید بنگالی وغیرہم کی ایک طویل فہرست ہے جو اپنی مثال آپ تھے۔

آپ کے مرشد گرامی قدس سرہ اور دیگر تلامذہ و خلفا وغیرہم نے جو جو ادق سوالات آپ سے کیے ہیں اور ان کے شافی جوابات کا پائے ہیں وہ آپ کی بلندی علم کی روشن دلیل ہے۔

یہ علوم و فنون ظاہری کی بات ہے، رہ گئے باطنی تو اس میں کہنا ہی کیا ہے۔ حضرت خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ آپ سے طریقت کے دقائق علوم اور بعض ارباب معرفت کے درجات مقامات و تحقیق فرمایا کرتے تھے اور آپ قدس سرہ جو کچھ ان امور کے سلسلے میں بیان کرتے حضرت خواجہ قدس سرہ کے لیے وہ اطمینان خاطر ہوتا۔ حضرت خواجہ قدس سرہ اکثر آپ کے بارے میں تعریفی کلمات فرمایا کرتے۔ آپ اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگا

سکتے ہیں جو سابق میں مذکور ہو چکا ہے۔ حضرت خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ نے چند اہم فقرات حضرت خواجہ قدس سرہ کے نقل فرمائے ہیں اور حضرت خواجہ قدس سرہ کی وہ روش بھی نقل فرمائی ہے جو حضرت مجدد قدس سرہ کے حضور میں ہوا کرتی تھی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ کی روش سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ غایت تواضع سے اس طرح حضرت مجدد کے ساتھ پیش آتے جس طرح ایک لائق مرید اپنے باکمال مرشد کے ساتھ پیش آتا ہے۔

ایک دن حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ آپ مرادوں اور محبوبوں کے کاملین سے ہیں ۔ ایک دفعہ فرمایا کہ آج زیر آسمان اس طائفہ علیہ (صوفیہ) سے آپ جیسا نہیں ہے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ صحابہ اور کامل تابعین و مجتہدین کے بعد اخص الخواص میں سے آپ جیسے چند گنے چنے نظر آتے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ‘برکات احمدیہ’۔ آپ کے کچھ علوم باطنی کا تذکرہ باطنی محاسن کے تحت آئےگا۔

تحریر و تقریر:

خالق حسن و ادا جل و علا نے جہاں حضرت مجدد قدس سرہ کو دیگر اوصاف و کمالات میں نمایاں مقام اور بلند مرتبہ عطا فرمایا تھا وہیں تحریر و تقریر میں وہ ید ِقدرت اور زور بیانی اور فصاحت و بلاغت عطا فرمائی تھی کہ صاحب ‘رود کوثر’کو لکھنا پڑا (رسالہ اثبات النبوۃ کی فصاحت بیان کرتے ہوئے) رسالہ کی تیسری خصوصیت اس کا فصیح و بلیغ انداز بیان ہے جو حضرت مجدد کی تمام تحریروں کا زیور ہے اور جس نے انھیں مذہبی مسائل پر اسلامی ہندوستان کا سب سے قادر الکلام اہل قلم بنا دیا تھا۔

ایک اور مقام پر ابو الفضل و فیضی و بدایونی اور شیخ عبد الحق محدث کی تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ‘‘حضرت مجدد کی شخصیت جامع صفات تھی، ان کے طرز تحریر میں قوس قزح کے سارے رنگ ہیں، کہیں زور خطابت ہے، کہیں متکلمانہ موشگافی اور

کہیں علمی متانت اور ان سب میں اعلیٰ درجے کی فصاحت و بلاغت۔

تصنیفات:

حضرت مولانا ابو الحسن زید فاروقی فرماتے ہیں: ‘‘حضرت مجدد کی تالیفات کی ابتدا رسائل سے ہوئی ہے اور انتہا مکتوبات پر ہوئی۔ شیخ صفر احمد مخدومی نے آپ کے سات رسائل اور تین دفتر مکتوبات کا ذکر کیا ہے۔

۱۔رسالہ تہلیلیہ: اس کو رسالہ تحقیق در کلمہ طیبہ بھی کہتے ہیں۔

۲۔رسالہ اثبات نبوت: اس کو رسالہ تحقیق نبوت بھی کہتے ہیں۔

۳۔رسالہ رد شیعہ: اس کو رسالہ رد روافض بھی کہتے ہیں۔ منشی نول کشور نے ۱۲۹۴ھ میں اس رسالہ کو مکتوبات شریف کے آخر میں طبع کیا ہے۔ میرے پاس رسائل سبعہ کا مجموعہ ۱۲۶۷ھ کا تحریر کردہ ہے اس میں اور مطبوعہ نسخہ میں فرق ہے قلمی نسخہ کے دیباچہ میں ہندوستان میں اسلام کی آمد اور وحدت کلمہ مسلمین کا ذکر ہے، پھر تحریر فرمایا ہے ‘‘حضرت خواجہ خسرو علیہ الرحمۃ و الرضوان در تعریف ملک ہندوستان می فرماید’’ اور پھر آپ نے ان کے چودہ اشعار لکھے ہیں۔

۴۔رسالہ معارف لدنیہ

۵۔رسالہ شرح الشرح بعض رباعیات حضرت خواجہ

۶۔رسالہ مبدأ و معاد

۷۔رسالہ مکاشفات غیبیہ

اول الذکر دو رسالے عربی میں اور باقی پانچ (۳ تا ۷) فارسی میں ہیں۔ شیخ صفر احمد نے لکھا ہے کہ رسالہ مکاشفات غیبیہ تو حضرت خواجہ محمد معصوم نے اور رسالہ مبدأ و معاد کو خواجہ محمد صدیق بدخشی نے جمع کر کے ابتدا میں خطبہ کا اضافہ کیا ہے۔ باقی تمام مضامین حضرت مجدد کے تحریر کردہ ہیں۔ خواجہ ہاشم نے زبدۃ المقامات میں

رسالہ اثبات نبوت کا ذکر نہیں کیا ہے اور رسالہ جذبہ و سلوک کا ذکر کیا۔ شیخ بدر الدین نے حضرات القدس میں رسالہ تہلیلیہ کا ذکر نہیں کیا ہے اور رسالہ آداب المریدین کا نام لکھا ہے۔ آخر میں وغیر ذالک لکھا ہے یعنی ان کے سوا اور بھی ہیں۔

خواجہ ہاشم اور شیخ بدر الدین نے تعلیقات عوارف کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت شہاب الدین کے ادب کے پیش نظر آپ نے لکھنا بند کر دیا۔ خواجہ ہاشم نے آپ کی تالیفات کے بیان کرنے سے چار ورق پہلے لکھا ہے کہ بعض فضلا کی التماس پر آپ نے عوارف کی شرح عربی میں لکھنا شروع کیا تھا۔ رسالہ تہلیلیہ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مجدد نے یہ رسالہ اس وقت لکھا ہے جب کہ آپ حضرت مخدوم سے عوارف و فتوحات اور فصوص کے حقائق و دقائق حل کر رہے تھے۔ علوم ظاہری کی مروجہ کتابوں کی انتہا اور علوم باطنی کی ابتدا کا دور تھا اور یہ بارہ صفحہ کا رسالہ آپ کی پہلی تالیف ہے۔ آپ نے اس رسالہ کی ابتدا ‘‘فإن قلتَ لا بدّ من تقدیر خبر لا ’’سے کی ہے۔ یہ عبارت غمازی کر رہی ہے کہ ہنوز تحصیل علم کا سلسلہ جاری تھا۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ یہ رسالہ آپ نے اپنے حضرت والا کی وفات کے بعد لکھا ہے کیوں کہ آپ نے صفحہ چھ پر لکھا ہے ‘‘قال شیخی و والدی فی رسالۃ’’ آپ نے اپنے والد کا ذکر قدس سرہ سے کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رحلت فرما چکے تھے۔ اس سلسلے میں میرا خیال یہ ہے کہ یہ دعائیہ جملہ مبیضہ کرتے وقت لکھا گیا ہے اور اسی طرح صفحہ گیارہ پر ‘‘و قد استفضناہ فی رسالتنا المحررۃ لإثبات النبوۃ’’ کا اضافہ ہوا ہے۔ (حضرت مجدد اور ان کے ناقدین)

آپ کے مکتوبات کا آغاز ان عرائض سے ہوا جو آپ نے حضرت خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں ۱۰۱۸ھ سے ارسال کرنے شروع کیے۔ آپ کے مکتوبات کے تین دفتر یعنی حصے ہیں؛ پہلے حصے کو خواجہ یار محمد الجدید بدخشی طالقانی نے جمع کیا ہے۔ ج

جب ۱۰۲۵ھ میں مکتوبات کی تعداد تین سو تیرہ کو پہنچی جو کہ انبیاے مرسل اور اصحاب بدر کی تعداد ہے تو حضرت مجدد کے اشارے پر اس دفتر کو بند کیا گیا۔ اس کا تاریخی نام در المعرفت ہے۔

دوسرے دفتر کو خواجہ عبد الحی حصاری نے جمع کیا ہے۔ اس دفتر کو ننانوے مکتوبات پر حضرت مجدد نے ۱۰۲۸ھ میں بند کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اسماے حسنیٰ بھی ننانوے ہیں اس دفتر کا تاریخی نام ‘‘نور الخلائق’’ ہے۔ تیسرے دفتر کو جمع کرنے کی ابتدا امیر نعمان نے کی تھی، انھوں نے تیس مکاتیب جمع کیے تھے کہ یہ خدمت ان کے مرید سرمست جامع احمدی خواجہ ہاشم کشمی کے سپرد ہوئی۔ جب مکاتیب کی تعداد ایک سو چودہ کو پہنچی حضرت مجدد نے فرمایا کہ قرآن مجید کی سورتیں ایک سو چودہ ہیں لہٰذا اس عدد پر اس دفتر کو بند کر دو۔ خواجہ ہاشم نے اس کا نام ‘‘بحر المعارف’’ رکھا ہے۔ یہ واقعہ ۱۰۳۳ھ کا ہے، اس کے بعد چند ماہ حضرت مجدد باحیات رہے، اس عرصہ میں دس مکتوبات تحریر فرمائے اور آپ کی وفات کے بعد ان کو اسی دفتر میں شامل کر دیا گیا۔ اس طرح یہ دفتر ایک سو چوبیس مکتوبات پر حاوی ہوا اور آپ کے کل مکتوبات کی تعداد پانچ سو چھتیس ہے، ان میں بیس عرائض ہیں جو آپ نےاپنے میر و مرشد کو ارسال کیے ہیں۔ اگر آپ کے رسائل سبعہ کو بھی اس میں ملا لیا جائے تو تعداد پانچ سو تینتالیس ہوئی۔

یہ ہے آپ کا مبارک اثاثہ جو اہل اسلام کے لیے سرمایۂ سعادت و نور ہدایت بنا ہوا ہے اور ہزارہا بندگان خدا اس کی بدولت مراتب عالیہ کو پہنچ چکے ہیں۔ حضرات عالی قدر آپ کے مکتوبات قدسی آیات کا ہر روز درس دیا کرتے تھے۔

صدہا مشائخ عظام اور علماے اعلام کے مکاتیب کو ان کے مخلصین اور شاگردوں نے جمع کیا ہے۔ خود آپ کے فرزندان گرامی قدر اور ان کے صاحب زادگان عالی گہر

کے مکتوبات کو بھی جمع کیا گیا ہے لیکن جو قبولیت آپ کے مکاتیب مبارکہ کو حاصل ہوئی ہے کسی کے مکاتیب کو نصیب نہ ہوئی۔ (حضرت مجدد اور ان کے ناقدین)

ظاہری وباطنی محاسن:

اللہ تعالیٰ کو حضرت مجدد قدس سرہ سے ایسے بھیا نک دور میں خدمات لینا تھیں لہٰذا اس نے ایسے کمالات واوصاف سے آپ کو نوازا، علوم ظاہری تفسیر وحدیث وفقہ اور ان کے لواحق میں پوری پوری مہارت عطا فرمائی بلکہ درجۂ امامت پر فائز فرمایا،علم کلام میں آپ کو الہام ہو ا کہ مجتہدین سے ہو، کیونکہ عقائد کے سلسلے میں جو کوتا ہیاں ہوئیں اور جو بدعتیں داخل ہو ئیں وہ سب سے زیادہ مہلک تھیں،یہی وجہ ہے کہ آپ نے نہایت تفصیلی مکتوبات جو کئی کئی صفحات پر مشتمل ہیں تحریر فرمائے اور ان سب میں شان اجتہاد جلوہ گر ہے۔

علوم آلیہ وفنون عقلیہ میں منطق وفلسفہ کی پہنچ کہاں تک تھی سب میں آپ کو کامل دستگاہ حاصل تھی،فلسفہ نے عقائد میں تشکیکات کے جو دروازے کھولے اور موشگا فیوں کا موقع فراہم کیا،علوم دینیہ کی قدریں گھٹائیں یہ سب کچھ آپ اچھی طرح جانتے تھے کیونکہ سب کی قباحتوں کو طشت ازبام کرنا تھا۔

انداز تحریر:

فصاحت وبلاغت اور عربی دانی میں جو ملکہ ومہارت عطا فرمائی گئی تھی اور انشا پردازی میں جو نمایاں مقام حاصل تھا وہ ہر اس ذی علم پر ظاہر ہے جس نے چند مکتوبات کا بھی مطالعہ کیا ہے،آپ کے زمانے سے لے کر آج تک جس قدرعربی وفارسی میں کتب معرض تحریر میں آئیں ان میں آپ کے مکتوبات شریف کی حیثیت فصاحت وبلاغت اور انشا پردازی میں کسی سے کم نہیں بلکہ سب پر فوقیت حاصل ہے بلکہ نیا انداز اور نیا طرز تحریر ہوتا ہے اور دینی باتوں کو آپ ایسے انوکھے ڈھنگ میں بیان

کرتے ہیں کہ بس پڑھنے والا پڑھتا رہ جاتا ہے اور قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی ذہنی وفکری ساری تسکین کا سامان موجود ہے، وہ بوجھ نہیں محسوس کرتا ہے بلکہ ہر سطر پر شوق بڑھتا جاتا ہے کہ دیکھیں اب کیا کہتے ہیں آگے کیا فرماتے ہیں غرضیکہ اسی ذوق میں مکتوب تمام ہو جاتا ہے۔

ذہن وفکر کو جلا اور تازگی اور اپنے موضوع پر بھر پور نئی نئی باتیں نہایت معقول انداز میں فراہم ہو جاتی ہیں کو ئی عقدہ لا ینحل (حل نہ ہونے والا مسئلہ) نہیں رہتا ہے،بحث کے سارے رخ سامنے آجاتے ہیں،اطمینان قلب حاصل ہو جاتا ہے مگر شوق ختم نہیں ہوتا ہے،کسی بحث کو چھیڑتے ہیں تو کبھی اس کو ادھورا نہیں چھوڑتے ہیں ایک بڑے سے بڑا ذہین، نظر عمیق رکھنے والا انسان جن خدشات کا شکار ہو سکتا ہے سب کو سوال وجواب کی صورت میں بیان فرماتے ہیں بلکہ کبھی کبھی بڑے علم وفضل کا مالک سوچ بھی نہیں پاتا ہے کہ یہاں یہ سوال اٹھ سکتا ہے مگر جس خوش اسلوبی سے آپ سوال کی صورت ذکر کرتے ہیں پھر جواب در جواب دیتے چلے جاتے ہیں تو قاری حیران رہ جاتا ہے اور آپ کے علوم وہبی و الہامی کے اعتراف پر مجبور ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ نے زبان وبیان پر جو قدرت عطا فرمائی تھی وہ بھی دیدۂ عبرت سے دیکھنے کے لائق ہے۔

آپ کے مکتوبات شریف کے سلسلے میں ایک زبردست عالمِ صالح ومتقی کا یہ تاثر پڑھنے کے لائق ہے علامہ بدرالدین فرماتے ہیں:

‘‘ایک با عمل عالم جو پرہیز گار بھی تھے اور مقتداے عصر بھی حضرت مجدد قدس سرہ کی تصانیف کے سلسلے میں کہا کرتے تھے کہ ہماری قوم کی کتابیں یا تو تصنیف تھیں یا تالیف تھیں یعنی تالیف تو وہ ہے کہ دوسرے لوگوں کی باتوں کو اچھی ترتیب کے ساتھ جمع کردیا جائے اور تصنیف وہ ہے کہ خود کے حاصل کیے ہوئے علوم و اسرار

اور نکات ومقدمات کو لکھا جائے تو مدت ہوئی کہ دنیا سے تصنیف ختم ہو چکی ہے اور صرف تالیف رہ گئی ہے اگر چہ میں آپ کا (حضرت مجدد قدس سرہ) مرید نہیں ہوں لیکن حق وانصاف کی بات یہ ہے کہ اس زمانے میں آپ کے مکتوبات اور رسالے سب کے سب تصنیفات ہیں تالیفات نہیں کیونکہ بہت میں نے مطالعہ کیا دوسروں کی کوئی بات آپ کے یہاں تحریر نہیں ہوئی سواے ندرت اور ضرورت کے زیادہ تر آپ کے مکشوفات اور ملہمات ہی ہیں جو سب کے سب بہت بلند،درست اور شریعت مطہرہ کے مطابق ہیں۔’’(حضرات القدس جلد دوم ص:۶۳)

جب آپ فلسفہ پر گفتگو کرتے ہیں تو ارسطو وفارابی بھی بے وقوف،احمق اور حقیقت علم سے کو رے نظر آتے ہیں،جس فلسفہ کی عقلیت کا بھوت سوار کیا گیا تھا جب آپ قلم اٹھاتے ہیں تو اس کو سب سے بڑا بد عقل ثابت فرماتے ہیں۔

آپ اگر علما وعرفا کی تصنیفات وتالیفات کے طرز پر مسائل کا اثبات فرماتے تو نہ معلوم کس قدر مختلف علوم وفنون سے متعلق تصنیفات وجود میں آتیں مگر آپ نے سب سے جدا گانہ ڈھنگ اپنایا،جب کسی موضوع پر مفصل کلام فرماتے ہیں تو نظر کی گہرائی اور استدلال کی قوت دیکھنے کے لائق ہوتی ہے،مگر دقیق سے دقیق بات کو اتنے سہل اور عام فہم انداز میں کہتے ہیں کہ ہر ایک سمجھ لے، ہر عام وخاص کو پوری تسلی بھی ہو جائے،دل کی گہرائیوں میں اتر بھی جائے۔

جدید جدید تحقیقات وتدقیقات بھی پیش کرتے ہیں،ذہانت وذکاوت اور بلند نظری دیکھ کر ایک متبحر عالم بھی حیران رہ جاتا ہے اور رسائیِ ذہن کو داد دیتا رہ جاتا ہے،پھر جب کوئی نیا مسئلہ،نئی بات اور جدید تحقیق پیش کرتے ہیں تو عموما قرآنی آیات واحادیث کریمہ سے استشہاد وتائید بھی کرتے جاتے ہیں اور اس انداز میں کرتے ہیں کہ ایک مفسر ومحدث عش عش کر اٹھتا ہے،اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا منبع

وسرچشمہ کوئی اور ہی ہے،یہ سب کچھ مشکات نبوت سے ماخوذ ہے،یہ آپ کے کلام میں بہت ہے اس کے ساتھ ساتھ کشف صحیح اور الہام صریح سے بھی بات کرتے جاتے ہیں،الغرض ایک جامع فنون وعلوم،مفسر ومحدث اور اصولی کے لیے آپ کے کلام میں پوری دلچسپی کا سامان ہوتا ہے اور وہ مطمئن ہو کر رہتا ہے۔

بات اتنے عام فہم اور آسان انداز میں کرتے ہیں کہ قلب میں اترتی چلی جائے،انداز اتنا معقول ہوتا ہے کہ فکر کے دریچے کھلتے جاتے ہیں،مخالف کے اقوال اور اس کے دعاوی واستدلالات کے ذکر سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں ، نہایت ضروری موقع پر شاید کبھی ذکر فرمادیں جب ذکر بھی کرتے ہیں تو اس کی فضاحت وشناعت کو عیاں سے عیاں تر کر دیتے ہیں جس سے قاری محسوس کر لیتا ہے اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ مخالف کی بات میں کوئی وزن نہیں ہے،غرضیکہ ذرا بھی ایسا گوشہ نہیں چھوڑتے ہیں کہ قاری کے دل میں اس کی عظمت بیٹھے اور شیطان کو بہکانے کا موقع ملے۔

مکتوبات کے ذریعہ ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ پڑھنے والا ایک موضوع پر چند منٹ میں حق کا پورا سامان پا لیتا ہے وقت کی قلت کے باوجود وہ اکتاتا نہیں ہے،جب وہ پڑھتا ہے تو اس موضوع پر اسے اطمینان بخش جا نکاری ہاتھ لگتی ہے کبھی تھک کر بیٹھتا نہیں ہے کہ آج نہیں اب کل پڑھیں گے،جبکہ ضخیم کتب ورسائل میں عموما یہی ہوتا ہے کہ ایک عدیم الفرصت انسان پڑھنے کی ہمت نہیں کرتا ہے اور پڑھتا ہے تو بحث واستدلال کی وسعتوں میں وہ حق کو جلد تلاش نہیں کر پاتا ہے۔

مکتوبات سے ایک خاص فائدہ یہ بھی تھا کہ جس کے نام مکتوب ہوتا وہ نہایت دلچسپی اور لگن سے پڑھتا وہ سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ کے اس مقدس ولی کی یہ نوازشات ہمارے ہی ساتھ خاص ہیں،آپ ہر ایک کو اس کی حیثیت کے مطابق مخاطب فرماتے،خصوصی ہدایات عطا فرماتے۔

خطوط ومکتوبات پڑھنے کا ذوق وشوق ہر وہ انسان جانتا ہے جس کے پاس وہ آتے ہیں،کتنے شوق سے ہاتھوں میں لیتا ہے،تمام ضروری باتوں اور کاموں پر خطوط پڑھنے کو تر جیح دیتا ہے،پڑھتے وقت انہماک دیکھنے کے لائق ہوتا ہے،ایک بڑا جس کام کو طلب کرتا ہے،جس کی ہدایت دیتا ہے اسے پورا کرنا اس پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے،خطوط میں حسب حیثیت تعریفی کلمات اور محبت والفت کا اظہار دل کو کھینچتا چلا جاتا ہے پھر جو جذبات ابھرتے ہیں وہ دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں۔

الغرض مکتوبات شریف کے ذریعہ جو کام لیا گیا اور امرا و وزرا اور دیگر لوگوں میں موقع بہ موقع وقتا فوقتا جو جوش پیدا کیا گیا وہ کتب ورسائل سے حاصل نہیں ہو سکتا تھا،ابھی ایک خط کی وجہ سے پیدا شدہ جذبات سرد نہ ہو پائے تھے کہ دوسرا مکتوب نئی قوت ،نیا جذبہ اور جدید حوصلہ لے کر تشریف لے آتا تھا،نئے نئے معارف اور جدید حقائق سے لبریز یہ مکتوبات جو کام کر رہے تھے اور انسان کو تازہ دم رکھے ہوئے تھے وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا تھا،پھر مکتوب کسی کے نام ہے مگر نقل در نقل ان مکتوبات کے علوم ومعارف سے سبھی کو سیراب کر رہے تھے۔

علوم ظاہری کا حال آپ پڑھ چکے مناظرہ ومباحثہ ہو یا تحریر وتصنیف علوم دینیہ ہوں یا غیر دینیہ کسی بھی میدان میں کسی بھی محاذ پر آپ کسی کے پیچھے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے سب سے آگے بنایا تھا ہر ایک آپ کا لوہا مانتا تھا،ابوالفضل اور فیضی جیسے معقولیوں کے دانت کھٹے تھے،بے نقط تفسیر سواطع الالہام کی تصنیف کے وقت ایک دفعہ حضرت مجدد قدس سرہ آگرہ پہنچ گئے فیضی نے دیکھا بڑا خوش ہو گیا بڑی قدر ومنزلت کے ساتھ استقبال کیا کافی دیر سے ایک مضمون کی گرفت میں الجھا ہوا تھا مگر بے نقط حروف کی عبارت اس کا ذہن ترتیب نہیں دے پا رہا تھا،آپ سے عرض کیا،آپ نے بلا تامل فورا ایک طویل عبارت پڑھ دی جس سے فیضی ہکا بکا رہ گیا۔

علوم باطنی کا تو کہنا ہی کیا صفحہ صفحہ پر،سطر سطر میں معارف وحقائق کی جلوہ گری،نئے نئے کمالات، نئے نئے مکشوفات ومشاہدات واسرار ورموز کے دریا بہتے نظر آتے ہیں،سطر سطر سے الہامی علوم کے چشمے پھوٹتے دکھائی دیتے ہیں،ہر منزل کی خبر ،ہر مرحلہ سے گزر،ہر جگہ کی کیفیات و واردات،ہر مقام کے انوار وتجلیات کے سمندر لہراتے نظر آتے ہیں،ایک بڑا سے بڑا صوفی بڑا سے بڑا صاحب مشاہدہ ومکاشفہ جب پڑھتا ہے تو اپنے آپ کو آپ کے سامنے طفل مکتب محسوس کرتا ہے،اسے ایسا لگتا ہے جیسے ابھی تک ہم نے کچھ حاصل ہی نہیں کیا ہے۔

ایک عام بشر روحانی ارتقاء وعروج کی جس منزل پر پہنچ سکتا ہے،غیر نبی کو نبی کی تبعیت و وراثت میں جو کچھ حاصل ہو سکتا ہے وہ آپ کو حاصل تھا،از اول تا آخر ہر مقام ومنزل کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے ہر وقت سامنے ہیں،کسی منزل ومقام کا کوئی دقیقہ کوئی خاصیت اور کوئی کیفیت نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوتی،ہر مقام میں جس بزرگ نے جو کچھ بیان کیا ہے آپ سب سے سوا بیان فرماتے ہیں اور ماسوا تو اتنا بیان فرمایا ہے کہ اب سننے والوں میں وہ لیاقت کہاں،سمجھنے کی وہ اہلیت کہاں؟

اثناء راہ میں کس مقام پر کس بزرگ سے کیا صادر ہوا،شریعت سے کتنا متصادم ہے،غلطی کا منشا کیا ہے،کشوف والہامات میں کس کس وجہ سے خطا ہوتی ہے،کہاں کہاں ٹھوکر لگتی ہے ہر خطا پر تنبیہ اور اس کی تردید،اس کے مقابل صحیح کا اثبات سب کچھ کرتے چلے جاتے ہیں،عروج ونزول میں صوفیہ کرام جن جن حدوں سے گزرتے ہیں،کہاں پر کس سے کیا چھوٹ گیا ہے سب کی نشاندہی کرتے چلے جاتے ہیں۔

اعمال و اشخاص کے فضائل ومناقب اور ان کی عظمتیں و رفعتیں جب بیان ہونے لگتی ہیں تو سلسلہ چلتا جاتا ہے اور وہ کچھ بیان ہو جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے‘‘مالا عین رأت ولا اذن سمعت’’ (جسے نہ آنکھوں نے دیکھا اور نہ ہی کانوں نے

سنا) کا مصداق ہیں۔

ان سب کی تفصیل کے لیے ایک فاضل بزرگ کا یہ تاثر حقائق ومعارف کے بیان میں کس قدر صداقت پر مبنی ہے یہ بزرگ صلحا وعرفا کے صحبت یا فتہ اور بزرگوں کے بیان کردہ معارف وحقائق سے اچھی طرح واقف تھے، ایک مرتبہ جب انھوں نے آپ کے کلام ربانی کے متعلق کچھ معاندین کی گفتگو سنی تو فرمایا:

‘‘سچ بات تو یہ کہ آپ کے بیان کردہ دقائق وحقائق سمجھنے کے لائق یہ لوگ نہیں ہیں،آپ کو تو اگلے وقتوں میں ہو نا چاہیے تھا جب کہ آپ کی قدر ومنزلت نیز آپ کے کمالات عالیہ کے مقام کو سمجھنے والے لوگ تھے اور پھر متاخرین بھی اپنی کتا بوں میں ان سے استشہاد و استدلال کرسکتے،اس زمانے کے لوگوں کی آپ کے کلام کے متعلق وہی مثال ہے جو اس کوتاہ اندیش اور حکمت اندیش کے قصے میں ہے،وہ قصہ یہ ہے کہ ایک عقلمند نے ایک بادشاہ کی محفل میں یہ بات کہی کہ میں نے ایک ایسا جانور دیکھا ہے جو آگ سلگا کر اس کو کھاتا تھا اس محفل والوں نے چونکہ ایسا جانور نہیں دیکھا تھا اس لیے یقین نہیں کیا اور اس شخص سے جھگڑنے لگے اور اس کو جاہل اور احمق قرار دیا۔’’(حضرات القدس ۶۳و۶۴)

امراء ،وزراء اور عہدیداروں کو جب احیاے سنت کے لیے تیار کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ کلیجہ چیر کر دکھا رہے ہیں،بدعت کے رواج اور سنت کی تباہی نے دل کو ایسا مجروح کر دیا ہے کہ جس کے پھپھولے بھی نظر آتے ہیں،کاش! کوئی ان زخمہاے دل پر مرہم رکھنے کے لیے تیار ہو جاتا،اگر کہیں آس نظر آتی ہے،امید کی کرن جگمگاتی ہے تو اپنے آپ کو اس پر فدا کرنے لگتے ہیں،بتاتے ہیں ہم بے بس ہیں تم کر سکتے ہو، گویا یہ سعادت میدان میں ہے تم اس کو اٹھا سکتے ہو،مقدر سے موقع ہاتھ آیا ہے اٹھا لو، کام کی راہیں بھی بتا تے ہیں اور مواقع استعمال سے آگاہ کرتے جاتے ہیں۔

وقت کی قدر وقیمت اور کام کی اہمیت کو قدم قدم پر خبر دیتے ہیں،ہر وقت ،ہر چیز پر نظر،پوری حکومت پر اطلاع،کہاں کس کا تقرر ہو رہا ہے،کون لایا جارہا ہے اس سے دینی نقصانات یا فوائد کیا کیا حاصل ہو سکتے ہیں سب کچھ خبر ہے،خبردار کرتے رہتے ہیں،کبھی محبت کا اظہار کرتے ہیں،شفقت کا ہاتھ پھیرتے ہیں،کبھی حسین پیراے میں زجر وتوبیخ بھی کرتے ہیں غرضیکہ کیا کیا بیان کیا جائے یہ راقم السطور فن تحریر سے نا واقف کیا لکھے جو کچھ ظاہر وباطن میں تجدید الف کے لیے آپ کو دیا گیا بہت کم کسی کو دیا گیا ،وہ رحمتوں کا مالک زمانے کی ضرورتوں سے خوب واقف ہے جس رحمت کی ضرورت تھی وہ عطا فرمائی۔