باب ۳۵ از ۵۷صفحات ۴۷۶–۴۸۹
افراد کی اہمیت
ایک داعیِ حق جو کام اچھے افراد کے ذریعہ کر سکتا ہے وہ کسی دوسرے طریقے سے نہیں کر سکتا ہے،ان افراد کے ذریعہ ہی حضرت مجدد قدس سرہ نے اپنے ظاہری وباطنی اوصاف دوسروں تک پہنچائے، لاکھوں کتابیں جو نہیں کر سکتی ہیں وہ چند اچھے افراد کر گزرتے ہیں کیونکہ موقع ومحل کے اعتبار سے زبان وبیان کی خصوصیات کو یہی اچھی طرح ملحوظ رکھ پاتے ہیں،تبلیغ ودعوت میں ایک اہم کارنامہ یہ ہے کہ داعی اپنی بات کو سامعین کے ذہن میں اچھی طرح اتاردے اور ثابت کردے کہ حقیقت پر مبنی یہی بات ہے اور اس کے اندر اس کو قبول کرنے کا جذبہ بیدار کردے،کس مقام پر ہمیں اپنی بات کس انداز میں کرنی ہے،کس چیز سے سامع کا ذہن متاثر ہو سکتا ہے یہ اچھا مبلغ ہی کر سکتا ہے۔
مکتوبات:
تیسری چیز جس نے حضرت مجدد قدس سرہ کے تجدیدی کام میں بڑی مدد کی ہے وہ آپ کے مکتوبات ہیں،ان سے چند فائدے حاصل ہوئے ایک تو آپ کے کمالات کو بقا حاصل ہوئی حضرت مجدد قدس سرہ کس تصوف کے حامل تھے،شریعت وطریقت کو آپ نے کس طرح ایک کیا،حقائق وکمالات اسرار ومعارف میں آپ کی کیا منزل تھی وغیرہ وغیرہ آج یہ چیزیں صرف مکتوبات ہی کے ذریعہ جانی جا سکتی ہیں آپ کی عظیم شخصیت کے بہت خد وخال اسی کے ذریعہ معلوم کیے جاسکتے ہیں ورنہ اب وہ افراد کہاں جن کے باطن آپ کے کمالات کے امین ہوں اور جن کے ظاہر میں آپ کا عکس نظر آئے۔
دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ جو لوگ بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل نہ تھے ان تک آپ کی ظاہری و باطنی اور اصلاحی کوششیں انھیں مکتوبات کے ذریعہ پہنچیں اور ان کی ہدایت ورہنمائی کا سبب بنیں،ان مکتوبات کے ذریعہ یہ کام بہت ہوا چند مثالیں آپ پڑھ چکے ہیں۔
ہر طبقہ کے لوگوں کو جو علمی فوائد پہنچے ،پہنچ رہے ہیں اور آئندہ پہنچیں گے وہ بیان نہیں کیے جا سکتے ہیں،ہر دور کے لوگوں کے لیے ان میں ہدایت ورہنمائی کا تسلی بخش اور قابل اطمینان سامان موجود ہے،مکتوبات کا رنگ عام کتا بوں کی طرح نہیں ہے،جن مسائل کو آپ بیان فرماتے ہیں سننے والے کو تسلی وتشفی ہوتی چلی جاتی ہے وہ ان میں اپنی روحانی تسکین کا سامان موجود پاتا ہے۔
تیسرا فائدہ یہ بھی ہوا کہ اثناے سلوک میں آپ جن منزلوں اور مرحلوں سے گزرتے جاتے تھے ان منازل ومراحل میں جو تازہ دم کمالات وعنایات خداوندی حاصل ہوتی تھیں وہ انھیں مکتوبات کے ذریعہ خلفا اور دیگر حضرات تک پہنچتی رہتی تھیں کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آج کوئی چیز مکشوف ہوئی اور کچھ دنوں تک وہ کیفیت برقرار رہی جو لوگ اس وقت موجود تھے انھوں نے اس کو آخری بات اور منزل تصور کر لیا پھر کچھ دنوں کے بعد دیگر مقامات ومنازل مکشوف ہوئے،نئی کیفیات وحالات نے رخ دکھایا تو انھیں کے ذریعہ وہ نئی نئی تحقیقات اور کیفیات ان افراد تک پہنچتیں جو ان سے قبل جا چکے تھے،اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ مکتوبات میں بیان شدہ کمالات کا رنگ بدلتا رہا،تحقیقات بدلتی رہیں،نئے نئے مقامات ومنازل لوگوں کے سامنے آتے رہے اور لوگ حسب استعداد کشاں کشاں منزل کی طرف رواں دواں رہے اور رفتہ رفتہ حقائق ومعارف کے حامل بنتے چلے گئے۔
یہ چند نہایت اہم اور عام فوائد میں نے بیان کر دیے اب میں اہم مسائل پر آپ کی تحریری خدمات سپرد قلم کرتا ہوں،آپ اندازہ کریں گے کہ آپ کتنے پر کشش انداز میں اپنی بات کہتے ہیں،آپ نے عقائد واعمال کے سلسلے میں ان تمام مسائل پر قلم اٹھایا ہے جن میں اہل بدعت اہل حق کی مخالفت کر رہے تھے،آپ حق کو معقول انداز میں بیان فرماتے ہیں اور اس کے مقا بل میں باطل کی تردید بھی خوب فرماتے جاتے ہیں ہر چیز کا مقام ومحل بھی خوب متعین فرماتے ہیں۔
آپ کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ بانسری کو ختم کرنے کے لیے دنیا سے بانس کے جنگل ختم کر دیے جائیں آپ جہاں علماے سو کی مذمت کرتے ہیں وہیں علماے حق کی اہمیت وافادیت اور ان کے فضائل ومناقب بھی بیان فرماتے ہیں،جہاں آپ تصوف کی خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی فرماتے ہیں وہیں تصوف کی تلقین اور تاکید بھی فرماتے ہیں،اس کی تحصیل پر زور بھی دیتے ہیں،مسائل پر ان کی اہمیت کی حیثیت سے بحث فرماتے ہیں،کہیں کم کہیں زیادہ کہیں بہت زیادہ گفتگو فرماتے ہیں،کہیں اجمال تو پھر اس کی تفصیل بھی ہے۔
پھر کچھ مکتوبات وہ ہیں جو اپنے پیر بزرگوار قدس سرہ کی بارگا ہ میں لکھے،شروع کے بیس مکتوبات حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کے نام ہیں جن میں آپ نے اثناء سلوک میں وارد ہونے والے حالات اور کیفیات بیان کی ہیں،کچھ احباب ومخلصین کی ترقیات،کچھ سفارشات اور کچھ مسائل کی تحقیق پر مشتمل ہیں۔
کچھ مکتوبات شریف وہ ہیں جو امرا کے نام تحریر کیے گئے ہیں ان میں زیادہ تر اسلام کی زبوں حالی اور ضعف وناتوانی،کفار کا اسلام اور اہل اسلام پر ستم،احکام کفر کا برملا اظہار،غرضیکہ جو کچھ ہو رہا تھا،حکومت کی طرف سے جو ستم ڈھائے جا رہے تھے ان کو ذکر فرماتے ہیں،پھر انھیں اسلام کی غیرت یاد دلاتے ہیں اور ابھارتے
ہیں،انھیں خدمت اسلام کاجذبہ دلاتے ہیں،عقائد بھی بیان فرماتے جاتے ہیں غرضیکہ ان تمام خطرات کو ذکر فرماتے ہیں جن کا اندیشہ تھا اور انھیں نصیحت بھی فرماتے جاتے ہیں۔
چند مکتوبات کے اقتباسات پیش خدمت ہیں آپ دیکھیں کہ اس مجاہد نے امرا وعہدیداران کی خود اصلاح بھی فرمائی اور انھیں خدمت اسلام پر آمادہ کرکے حکومت کا رخ رفتہ رفتہ اسلام کی طرف کردیا اور تمام ارکان سلطنت کو کس قدر اپنا گرویدہ بنا لیا تھا کہ سب کی لگام آپ کے ہاتھ میں تھی،خیال رہے کہ امرا سے آپ کو دو اہم کام لینے تھے ایک تو اکبر کی دینی اختراعات اور بے اعتدالیاں جو اس نے اپنائی تھیں جن کی قدرے تفصیل آپ پڑھ چکے ہیں (کا خاتمہ)، دوسرے حکومت کے اہم منصبوں پر شیعوں کے فائز ہو جانے سے اہل سنت وجماعت کو جو خطرات در پیش تھے یہ خطرہ جہانگیر کے دور میں سب سے زیادہ تھا،اسی لیے جو مکتوبات آپ نے امرا واراکین کے نام تحریر فرمائے ہیں ان میں شیعوں کی تردید اور مذہب حق اہل سنت وجماعت کے عقائد واعمال کی ترغیب بھی ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات قدسی کے با رے میں علا مہ نور بخش توکلی فرماتے ہیں:
خلفا کے علاوہ حضرت کے مکتوبات کے ذریعہ سے تبلیغ و اشاعت ظہور میں آئی۔ مکتوبات کی پہلی جلد ۱۰۲۵ھ میں تمام ہوئی جسے حضرت کے خلیفۂ خاص شیخ یار محمد جدید طالقانی نے جمع کیا تھا۔ لوگوں نے اس کی نقلیں حاصل کیں اور ایران توران، بدخشاں، ماوراء النہر میں شائع ہوئی اور اس کا بہت اچھا اثر پڑا۔ چناں چہ تجدید کے بائیسویں سال ایک درویش بلخ سے ہندوستان آیا، اس کی وساطت وہاں کے اکابر نے مثلاً مشائخ میں سے سیادت پناہ سیدمیرک شاہ اور شیخ المشائخ کبروی، میر محمد اور پھر مومن
بلخی نے اور علما میں سے مولانا ابانی حسن قتادانی اور مولانا نولک نے درخواستیں بھیج کر غائبانہ بیعت کی۔ (تذکرہ)
حضرت خواجہ کی نوا زشات:
تجدیدی کا م میں معاون افراد جس کثرت سے آپ کو ہا تھ آئے اس سلسلے میں حضرت خواجہ محمد با قی با للہ قدس سرہ کی عنایات و نوازشات کو بھی بہت دخل ہے،حضرت خواجہ قدس سرہ کا حضرت مجدد قدس سرہ کے تعلق سے جو عمل آپ نے پہلے پڑھا ہے۔
اگر غائر نظر سے دیکھا جائے تو حضرت خواجہ قدس سرہ نے جو کچھ حضرت مجدد کے بارے میں فرمایا اور جس انداز سے پیش آئے وہ بڑی حکمت پر مبنی تھا۔ پھر اپنے تمام ارادت مندوں کو دو چار کو مستثنیٰ کر کےآپ کے حوالے کر دیا اور سب کی تکمیل آپ کے سپرد کر دی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ کے اس عمل سے حضرت مجدد قدس سرہ کو کئی فائدے حاصل ہوئے؛ ایک تو یہ کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے ذریعہ جن کمالات کی تجدید ہونے والی تھی اور جو معارف خاصہ وجود میں آنے والے تھے وہ ایسے تھے کہ ہو سکتا تھا کہ خود آپ کے پیر بھائی اور دیگر ہم عصر لوگ ان کے ادراک سے قاصر رہتے اور انکار و رد سے کام لیتے، مگر حضرت خواجہ قدس سرہ نے جو مناقب اپنے اس مرید کے فرمائے اور جس تواضع کا ان کے سامنے اظہار فرمایا ان کے انکار پر جو زجر و توبیخ فرمائی وہ ایسی تھی کہ حضرت خواجہ کے ہر معتقد کے لیے حضرت مجدد کا ایک تعارف ثابت ہوا اور بجائے انکار کے ہر ایک حضرت مجدد قدس سرہ کی طرف اس طرح اپنی تکمیل کے لیے دوڑا جیسے حضرت خواجہ قدس سرہ کی طرف جا رہا ہو اور پیر بھائی ہو کر بھی حضرت مجدد کی ان عظمتوں کے قائل ہو گئے جو ایک مرید اپنے پیر کا ہوتا ہے۔ اس طرح پیر بھائیوں کو بھی جدید کمالات
سے فیضیاب ہونے کا موقع مل گیا۔
دوسرے حضرت مجدد قدس سرہ کو بھی کافی افراد ایک ساتھ ہاتھ آگئے اور نئے لوگوں کو بھی حضرت مجدد کی بارگاہ میں کامیابی کی یقینی منزل نظر آگئی۔ اب ہر ایک دوڑا چلا آرہا تھا اور اس تمام حلقے میں آپ اپنے تمام خد و خال کے ساتھ اسی عظمت سے مشہور و متعارف ہو گئے جو حضرت خواجہ قدس سرہ کا تھا۔
اب تین چیزیں جمع ہو گئی تھیں؛ ایک خود آپ بڑے باپ کے بیٹے تھے جو میدان تدریس کے زبردست شہسوار ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب حال و نسبت صوفی بھی تھے اور علما و صلحا کے مابین ایک مخصوص مقام کے حامل اور مرجع تھے۔ مختلف سلاسل کے بڑے بڑے اولیاے کرام سے گہرا تعلق اور مختلف دیار میں شہرت کے مالک انسان تھے۔
دوسرے اپنی بلند استعداد اور فکری صلاحیت کی وجہ سے علوم معقول و منقول میں درجۂ امامت و اجتہاد پر خود آپ کا فائز ہونا ہرفن کو اس کے بڑے استاذ سے حاصل فرمانا تھا۔ ہر استاذ کے حلقۂ تلمذ میں ممتاز منزل کے حامل تھے۔ علماے مشہور میں آپ کا کیا وقار تھا یہ آپ پڑھ چکے۔
تیسرے حضرت خواجہ قدس سرہ کے تعریفی کلمات اور غایت احترام و اکرام جس نے آپ کی باطنی عظمتوں کو بہت جلد متعارف کرا دیا۔
دوسرا فائدہ حضرت خواجہ قدس سرہ کے طرز عمل سے یہ بھی ہوا کہ جو امرا حضرت خواجہ قدس سرہ کے حلقۂ ارادت و عقیدت میں داخل ہوئے اور ان کے مزاج میں اسلامی حمیت و غیرت کی چنگاری پیدا ہوئی تھی حضرت مجدد قدس سرہ اسے شعلہ بنا دیا اور اپنی اعلیٰ دماغی سے ان سے خوب کام لیا اور ان کی صلاحیتوں کو خوب خوب بیدار کر دیا۔
حضرت خواجہ قدس سرہ کی ذات سے جو لگاو اور عقیدت کا تعلق پیدا ہوا تھا وہ حضرت مجدد کے ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا اور آپ نے پورا پورا ان امرا کی قوت و منصب سے فائدہ حاصل کیا۔ اگر یہی وجوہات نہ رہی ہوتیں تو اتنی تیزی کے ساتھ میدان میں کودنے کا معمہ سمجھ میں نہ آتا جس تیزی کے ساتھ حضرت خواجہ قدس سرہ کے وصال کے بعد تجدیدی میدان میں کودے ہیں۔
الغرض پودا حضرت خواجہ نے لگایا، پروان حضرت مجدد نے چڑھایا، خشت اول حضرت خواجہ قدس سرہ نے رکھی، تکمیل و تعمیر سب کچھ حضرت مجدد قدس سرہ نے فرمائی۔
منظم تبلیغ:
حضرت مجدد قدس سرہ نے (۱)تدریس، (۲)بیعت وارادت اور (۳)مکتوبات قدسی کے تین نہایت کامیاب طریقےاپنائے اس طرح آپ مکمل طور پر تیار ہو گئے اور افراد صالح کا ایک عظیم گروہ تیار کر لیا اب آپ نے منظم طور پر میدان میں قدم رکھ دیا اور مختلف ممالک اور ہندوستان کے مختلف مقامات پر اپنے تیار شدہ افراد کو بھیجنا شروع کیا ،مولانا نور بخش توکلی فرماتے ہیں:
‘‘حضرت شیخ نے سترہ برس کی عمر میں علوم ظاہری سے فارغ ہو کر درس وتدریس اور تصنیف ورسائل کے ذریعہ سے تبلیغ کا کام شروع کر دیا تھا بعد ازاں حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ سے اجازت ارشاد پا کر تلقین طلاب میں مشغول ہو گئے اور حسب اشارہ پیر بزرگوار لاہور میں اشاعت طریقہ فرما رہے تھے کہ حضرت خواجہ نے وفات پائی ان کے وصال کے بعد ان کے مسترشدین نے آپ سے تجدید بیعت کر کے استفادۂ باطنی جاری رکھا،آپ کے کمالات عالیہ کی برکت اور انوار صحبت کے فیض سے سلسلۂ نقشبندیہ ہندوستان میں دور دور شائع ہو گیا۔
اس کے بعد سلسلۂ عالیہ مجددیہ ہندوستان سے باہر دیگر ممالک میں پھیلنے لگا چناں چہ تجدید قیومیت کے چھٹے سال شیخ طاہر بدخشی،شیخ احمد برکی،خواجہ یوسف برکی،شیخ حسن برکی،مولانا یار محمد قدیم طالقانی،مولانا صالح گولامی،شیخ عبدالحق شادمانی اپنے شہروں سے دور دراز سفر طے کرکے سر ہند شریف میں حاضر ہوئے اور سلسلۂ عالیہ مجددیہ میں داخل ہوئے،یہ سب خلافت سے سرفراز ہو کر ذریعۂ اشاعت طریقہ بنے۔
تجدید کے بارہویں سال بہت سے جن بھی حضرت کے سلسلہ میں داخل ہوئے،چناں چہ جنوں کا بادشاہ مع لشکر آپ کا مرید ہو گیا،تجدید کے چودہویں سال حضرت نے اپنے خلیفے بغرض ہدایت خلق دنیا کے اطراف میں روانہ کیے،چناں چہ ستر اہل ارادت بسر کردگی مولانا یار محمد قدیم طالقانی ملک ترکستان وقبچان کو بھیجے اور چالیس ارادت مند یمن شام وروم کی طرف بسرکردگی مولانا فرخ حسین روانہ فرمائے اور اپنے دس معتبر یار مولانا صادق کابلی کے تحت میں کا شغر کی طرف روانہ کیے اور تین بڑے بڑے خلیفوں کو بسرکردگی مولانا شیخ احمد برکی توران بدخشاں اور خراسان کی طرف رخصت کیا ان خلفا کی ہر جگہ بڑی عزت ہوئی اور ان ملکوں کے چھوٹے بڑے وزیر بلکہ بادشاہ تک حضرت کے خلفا کے مرید بن گیے،خراسان،بدخشاں اور توران میں توطریقۂ عالیہ احمدیہ کا اس قدر رواج ہوا کہ وہاں کا کوئی شہر یا قصبہ ایسا نہ تھا جہاں اس سلسلہ کے خلفا نہ ہوں،یہاں تک کہ عبداللہ خاں ازبک جو وہاں کا بادشاہ تھا حضرت کا ایسا معتقد ہو گیا کہ کوئی کام آپ کے خلفا کے مشورے کے بغیر نہ کرتا’’
ہندوستان اور بیرون ہند آپ کے خلفا نے آپ کے مشن کو جس منظم انداز میں آگے بڑھایا اور جس تیزی کے ساتھ پورے عالم پر حاوی ہو گیے اور کو ئی خطہ ایسا نہیں چھوڑا جس کو نور سنت سے جگمگا نہ دیا،اس کی جھلک آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہماری تالیف‘‘تذکرہ مشائخ باقیہ مجددیہ’’ کا مطالعہ فرمائیں جس میں صرف اپنے شجرۂ
طریقت کے اعتبار سے اپنے روحانی آباء اور ان کے فرزندوں وخلفا کی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے جس سے آپ کو صحیح سے اندازہ ہو جائے گا کہ احیا وتجدید کا کام کتنے منظم،سلیقے اور کثرت سے ہوا ہے،ہم یہاں بنظر اختصار صرف آپ کے جانشین حضرت خواجہ محمد معصوم اور چند خلفا کی خدمات کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں تاکہ قارئین کے لیے یہ معما نہ رہے کہ آپ نے اتنا بڑا انقلاب کیسے برپا کردیا؟
حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات:
حضرت مجدد قدس سرہ کے جانشین حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کی ان خدمات کی تفصیل تو معلوم نہ ہو سکی جو آپ نے اپنے والد بزرگوار کی حیات میں انجام دیں لیکن مسند مشیخیت پر رونق افروز ہو نے کے بعد آپ نے حضرت مجدد قدس سرہ کے مشن کو کس طرح آگے بڑھایا اور تجدیدی شعاعوں سے کس طرح عالم کے گوشہ گوشہ کو منور کیا اس کا اجمالی خاکہ مولانا نور بخش توکلی کی زبان سے سماعت فرما لیجیے،فرماتے ہیں:
‘‘حضرت قیوم ثانی یکم ربیع الاول ۱۰۳۴ھ کو مسند ارشاد وقیومیت پر جلوہ افروز ہوئے اس روز پچاس ہزار آدمیوں نے آپ سے بیعت کی جن میں سے دو ہزار حضرت مجدد رضی اللہ عنہ کے خلفا تھے باقی خلفا جو مختلف ممالک میں تھے وہ بھی مختلف اوقات میں سرہند میں حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے،ماوراء النہر،خراسان وبدخشاں وغیرہ ممالک کے بادشاہوں نے اپنے وکیل مع تحائف بھیج کر غائبانہ آپ سے دوبارہ بیعت کی،قیومیت کے تیسرے سال جب شاہجہاں تخت پر بیٹھا تو سرہند میں حاضر ہو کر دوبارہ بیعت سے مشرف ہوا اور ترویج اسلام میں غایت درجہ کو شش کی گئی،چوتھے سال خواجہ محمد حنیف کابلی حاضر خدمت ہو کر آپ سے بیعت ہو ئے آپ نے انھیں خلافت دے کر کابل بھیجا خواجہ صاحب کو وہاں بڑی قبولیت نصیب ہوئی اور
ہزارہا لوگ ان کے مرید ہو کر صاحب حال ہوئے۔
پانچویں سال خواجہ محمد صدیق پیشاوری اور شیخ ابو المظفر برہانپوری حاضر خدمت ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے،آپ نے خواجہ صاحب کو خلافت دے کر پیشاور بھیجا جہاں ان کو بڑی کامیابی ہوئی اور شیخ صاحب کو کچھ مدت کے بعد خلیفہ بنا کر دکن روانہ کیا جہاں بہت سے لوگ ان کے مرید ہوئے،چھٹے سال اخون موسیٰ ننگر ہادی اور خواجہ عبد الصمد کابلی شرف بیعت سے مشرف ہوئے اور خلافت پا کر اپنے اپنے وطن میں اشاعت طریقہ میں مشغول ہوئے،ساتویں سال شیخ بدرالدین سلطانپوری اور شیخ انور نور محلی بیعت ہوئے اور خلافت دے کر بغرض اشاعت سلطانپور اور نور محل میں بھیج دیے گیے۔
آٹھویں سال ملک شام کے سات سو علما ومشائخ اور وہاں کے دیگر ہزارہا آدمی سرہند میں آ کر بیعت سے مشرف ہوئے، نویں سال فنگار روم نے اپنے وکیل کے ساتھ تحائف وہدایا بھیجے اور غائبانہ بیعت کی،تیرہویں سال عبد العزیز شاہ توران غائبانہ بیعت سے مشرف ہوا،چودہویں سال شہزادہ محمد اورنگ زیب عالمگیر بیعت سے مشرف ہوئے،پندرہویں سال اورنگ زیب کی بہن روشن آرا نے اور سولہویں سال روشن آرا کی بہن گوہر آرا نے آپ سے بیعت کی،انیسویں سال سلطان عبد الرحمان شاہ خراسان اور اس کی بیگم بیعت سے مشرف ہو ئے،اکیسویں سال ترکستان اور دشت قبچان کے تمام خان اور سلاطین اپنے اپنےلشکر سمیت غائبانہ مرید ہوئے،بائیسویں سال شاہ سلیمان بادشاہ ایران اپنے رفض سے تائب ہو کر غائبانہ مرید ہوا اور اس کے ساتھ ہزارہا شیعہ تائب ہو کر مرید ہوئے،تیئسویں سال بادشاہ کاشغر غائبانہ مرید ہوا،چوبیسویں سال امام سجن غائبانہ مرید ہوا،پچیسویں سال شیخ حبیب اللہ بخاری کو جو دسویں سال مرید ہوا تھا خلافت دے کر بخارا میں بھیجا وہاں ان کو قبولیت عامہ نصیب
ہوئی،چھوٹے بڑے وضیع و شریف،خواتین وسلاطین اور رعایا مرید ہوئی اور چار سو نے درجۂ تکمیل پر پہنچ کر ان سے خلافت پائی ان کے ذریعہ سلسلہ عالیہ خراسان وماوراء النہر میں بہت پھیلا۔
ستائیسویں سال حضرت نے اپنے خلیفہ خواجہ ارغون کو خطہءچین میں بھیجا اور اس کے ساتھ وہاں کا بادشاہ ملقب بہ قا آن مسلمان ہو گیا،اٹھایسویں سال آپ نے شیخ مراد کو خلافت دے کر بغرض اشاعت ملک شام میں بھیجا وہاں آپ دمشق میں مقیم ہوئے اور والیِ شام اور تمام امرا اور دیگر لوگ بکثرت ان کے حلقۂ ارادت میں آئے اور سلسلۂ عالیہ پورے طور پر رائج ہوا
چونتیسویں سال بہت سے ارادت مندوں کے ساتھ آپ حج کے لیے تشریف لے گئے،چھتیسویں سال واپس آئے جب بندرگاہ سورت میں پہنچے تو ہر روز ہزارہا لوگ مرید ہونے لگے صبح شام تقریبا تیس ہزار لوگ حلقہ میں شامل ہوئے،ہجوم خلق کی یہ کیفیت ہوئی کہ امرا وسلاطین کو آپ کی زیارت بدقت نصیب ہوئی۔
قصہ کوتاہ حضرت قیوم ثانی کی کثرت ارشاد ومشیخت بیان سے باہر ہے،جناب پیغمبرخداﷺ اور اصحاب رضی اللہ عنہم کے بعد کسی ولی کو اس قدر مشیخت نصیب نہیں ہوئی چناں چہ تاریخ مرآۃ العالم وجہاں نما میں جو عالمگیر کے حکم سے لکھی گئیں ہیں یہ لکھا کہ ہے کہ‘‘ مشیخت کی مسند پر کوئی ایسا شیخ نہیں بیٹھا جیسا کہ شیخ محمد معصوم رضی اللہ عنہ،جہان کے تمام اطراف وجوانب کے بادشاہ،علماء ومشائخ،چھوٹے بڑے وضیع وشریف مشرق سے مغرب اور جنوب سے شمال تک آنحضرت کے مرید تھے’’
خاص وعام بندگان خدا صبح وشام پروانوں کی طرح آنجناب پر جان فدا کرتے،ہندوستان، توران، ترکستان،بدخشاں،دشت قبچان،کاشغر،خطا ،روم،شام اور یمن کے بادشاہ آنجناب کے مرید ہوئے۔
اور اس وقت کے بڑے بڑے شیخ اور علما گروہا گروہ اپنی اپنی مشیخت ترک کرکے آنجناب کے مرید ہوئے،روئے زمین کے مختلف حصوں کے لوگ آنحضرت کو خواب میں دیکھ کر اور انبیا واولیا سے خوشخبری پا کر حاضر خدمت ہو کر شرف بیعت سے مشرف ہو ئے،مختلف ملکوں میں آنجناب کے خلفا کی خدمت میں ہزارہا ہزار آدمیوں کا مجمع،ہر روز سیکڑوں نئے مرید حاضر خدمت ہوتے اور فنا وبقا اور پروردگار کا پورا پورا قرب حاصل کرتے۔
حضرت کی مجلس کا رعب ودبدبہ اس قدر تھا کہ مجلس اقدس میں بڑے بڑے بادشاہ آپس میں گفتگو نہ کر سکتے تھے بغیر اجازت بات نہ کرتے اگر بڑا ضروری کام ہوتا تو کاغذ پر لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کرتے،عالمگیر بادشاہ پر اگرچہ آپ غایت درجہ مہربان تھے لیکن پھر بھی بہ سبب غایت ادب اس نے آنجناب کے حضور میں اس نےکبھی کسی سے گفتگو نہ کی اور بغیر اذن نہ بیٹھا۔
چالیسویں سال خصوصیت سے تمام روے زمین کے خلفا مع اپنے مریدوں کے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے،بادشاہ اور امیر اپنی اپنی سلطنت اور امیری چھوڑ کر آپ کی زیارت کو آئے،چناں چہ خانان توران وترکستان، والیان دشت قباچان وبدخشاں، فرماں روایان خطا وخراسان،تخت نشینان کاشغر وطبرستان،حاکمان قہستان وگرجستان سب کے سب حضرت کے دیدار فائض الانوار کے واسطے شہر سر ہند میں حاضر ہوئے،شہر کے گرداگرد ایک ایک میل تک لشکر پڑا تھا اس سے پہلے کبھی ایسا مجمع نہیں ہوا اور بعد میں بھی ایسا کبھی نہیں ہوا،نماز کے وقت اس قدر ہجوم ہوتا کہ ایک دوسرے کی پیٹھ پر سجدہ کرتے بلکہ کھڑے ہونے کو بھی کافی جگہ نہ ملتی۔
چوالیسویں سال حضرت قیوم ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مریدوں اورخلفا کو حسب ذیل طور پر اپنے فرزندوں کے سپرد کیا،حضرت محمد صبغۃ اللہ کو کابل اور اس کے
گرد ونواح کے تمام پٹھان اور مغل مرید ہوئے، بدخشاں، ترکستان، دشت قبچاق، کاشگر، خطا، روم وشام کے تمام مرید اور ہند کے بعض آدمی حضرت خواجہ محمد نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد ہوئے۔
خواجہ محمد حنیف کابلی،خواجہ محمد صدیق پیشاوری،خواجہ عبدالصمد اخون،موسیٰ ننگر ہادی،شیخ مراد شامی،خواجہ ارغون خطائی وغیرہ اور شہزادہ اورنگ زیب بھی آنجناب کے سپرد ہوا،جب حضرت حجۃ اللہ کابل گئے تو کابل کے تمام آدمیوں نے آپ سے رجوع کیا۔
حضرت خواجہ عبید اللہ مروج الشریعہ کو خراسان، ماوراء النہر،توران دارگنج غور سد،اندراپ قہستان،طبرستان اور سجستان کے علاقے سپرد کیے اور حسب ذیل خلفا آپ کے ماتحت کیے شیخ ابوالمظفر برہانپوری،شیخ حبیب اللہ بخاری،صفی پائندہ طلا،شیخ ابوالقاسم بلخی وغیرہ اورہند کے اکثر امرا اور شہزادہ معظم بھی آپ کے سپرد ہوئے آخر انھوں نے بھی حضرت حجۃ اللہ سے رجوع کیا۔
دکن اور پنجاب کے اکثر مرید اور خلفا کو خواجہ محمد اشرف کے حوالہ کیا،سلطان اورنگ زیب،اعظم شاہ،جعفر خاں،وزیر شائستہ خاں،مکرم خاں،محتشم خان اور سلطان عبد الرحمٰن حضرت شیخ سیف الدین کے سپرد کیے اور حسب ذیل خلفا ان کے حوالہ کیے،اخون میر محمد محسن سیالکوٹی،صوفی پائندہ،شیخ ابوالقاسم بھکری وغیرہ،سلطان ہند نے آکر حجۃ اللہ سے رجوع کیا،حضرت محمد صدیق کو عرب ،بحرین اور مشرق ہند کے اکثر شہر سپرد کیے۔
بعد ازاں حضرت قیوم ثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام خلفا کو جہان کے مختلف حصوں میں بھیجا ایک ہزار سات سو خلفا ترکستان اور دشت قباچان میں بھیجے ان کا سردار خواجہ محمد امین اور خواجہ عبدالرحمٰن کو بنایا،پانچ سو خلیفے کاشغر اور خطا کی ط
طرف بھیجے ان کا سردار خواجہ ارغون کو مقرر فرمایا،چار سو خلفا شام اور روم کی طرف بھیج کر اس کا سردار شیخ مراد کو بنایا،سات سو خلفا خراسان،بدخشاں اور توران میں شیخ حبیب اللہ کے ما تحت کرکے بھیجے،ایک سو خلفا کابل میں اور ایک سو خلفا نواح پیشاور میں بھیجے،بیس خلفا ننگر ہار میں بھیجے ان سب کا سردار خواجہ محمد حنیف،خواجہ محمد صدیق اور اخون موسیٰ کو مقرر فرمایا،باقی خلفا کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں بھیجا کہتے ہیں کہ خلفا اور فرزندوں کی وساطت کے بغیر براہ راست نو لاکھ آدمی حضرت قیوم ثانی رضی اللہ عنہ کے مرید ہوئے،آپ کے خلفا کی تعداد سات ہزار تھی جو سب کے سب صاحب کمالات تھے۔’’