مواد پر جائیں

باب ۱۱ از ۵۷صفحات ۱۵۸–۱۶۸

سخاوت وایثار

جود و سخاوت تو بہتوں میں ہوتی ہے مگر خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلا دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں،ایثار و قربانی اللہ والوں کے یہاں جس فراوانی کے ساتھ ملتی ہے وہ دوسروں کے یہاں نہیں ملتی ہے،حضرت مجدد قدس سرہ کے اندر ایثار اس قدر تھا کہ بیان سے باہر ہے اور خاص کر دین کے لیے جس قدر ایثار و قربانی سے آپ نے کام لیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

حکومت کا رخ سیدھا کرنے کے لیے،امراء و وزراء کو اپنانے اور بادشاہت کو راہِ راست پر لانے میں جو کچھ آپ نے کیا ہے اس کی مثا ل کم ملے گی،عام طور پر صوفیہ کرام نے جو زندگی گزاری وہ عزلت و گوشہ نشینی اور خلق سے انقطاع اور اہل ثروت و حکومت سے ترک تعلق اور دوری والی زندگی تھی،انھوں نے دنیا کی آلائشوں سے اپنے

آپ کو پاک رکھنے کا جو طریقہ سوچا وہ ان کے لحاظ سے درست تھا۔

مگر حضرت مجدد قدس سرہ نے دین کی اشاعت وترویج اور عوام و خواص اور رعیت و حکومت سب کو دیندار بنانے میں ان سب سے تعلق رکھ کر دنیا اور اہل دنیا سے جس قدر کنارہ کشی رکھا وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔

ابوالفضل اور فیضی کو حکومت میں اثر و رسوخ حاصل تھا اور یہ دونوں آپ کے علم و فضل کے جس قدر مداح تھے آپ چاہتے تو بہ آسانی کوئی اہم منصب حاصل کر سکتے تھے،نیز آپ کے خسر بھی نہایت صاحب ثروت اور حکومت کے منصب پر فائز تھے آپ ان کے توسل سے اچھی جگہ پا سکتے تھے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا،جبکہ اہل و عیال اور خانقاہی خرچ اور پھر آپ کی غربت و افلاس جس پر آپ کے مرشد کو بھی ترس آیا تھا اور انھوں نے ایک صاحب سے کچھ رقم مقرر کرنے کی سفارش بھی کی تھی مگر اس کے باوجود آپ نے کبھی کسی سے کوئی شکوہ نہیں کیا اور نہ منصب حاصل کیا۔

آگے چل کر امراء و غیرہ میں آپ کے جس قدر اثرات پھیل گئے تھے اگر ان کو آپ دنیا کے لیے استعمال کرتے تو نا معلوم کتنے بڑے دولت مند اور صاحب منصب انسان ہوتے مگر آپ نے دور رہ کر فقر و فاقہ کی زندگی گزار دی،قید و بند کی صعوبتیں جھیل لیں مگر دنیا کی رنگینیوں اور رعنائیوں کے قریب نہیں آئے۔

ضعیفی اور بڑھاپے میں انسان راحت و چین حاصل کرتا ہے اور گھر پر رہتا ہے،اولاد اور خادموں اور مریدین و معتقدین کی خدمات حاصل کرتا ہے مگر آپ کے اس جذبۂ ایثار کو تو دیکھیں کہ جب آپ قید سے رہا ہوئے تو سرہند میں تین دن قیام کرکے پھر آگرہ لشکر شاہی میں تشریف لے گیے جہاں شہزادہ خرم(شاہ جہاں)اور وزیر اعظم نے آپ کا پر زور استقبال کیا، بادشاہ نے چند روز لشکر کے ساتھ قیام کے لیے کہا پھربادشاہ نے آپ کو اختیار دیا کہ آپ چاہیں تو ساتھ رہیں یا سرہند چلے جائیں مگر آپ

نے دین کی خاطر ساتھ رہنے کو ترجیح دی مقصود صرف اس سے بادشاہ کی اصلاح تھی اس لیے کہ جس موقع کی آپ کو برسوں سے تلاش تھی وہ اب ہاتھ آیا تھا،اب آپ کو بلا واسطہ بادشاہ کی اسلامی تربیت کا موقع ہاتھ آیا تھا اور اسی لیے آپ نے ساتھ رہنا قبول کیا تھا۔

ہمت و جرأت:

اس موقع پر آپ نے جس ہمت و جرأت اور دلیری کا مظاہرہ کیا وہ آپ ہی کا حصہ ہے اس سلسلے میں مکتوب ۴۳ دفتر سوم کا ایک ایک حرف توجہ و انہماک سے پڑھیں،آپ سمجھ لیں گے کہ اسلامی درد اور سنت کا فروغ،خلق کی اصلاح و تربیت،اسلام اور اہل اسلام کا فروغ و عزت اور اسلامی حمیت و غیرت ساری خوبیاں کس کمال کے ساتھ آپ کے اندر ودیعت رکھی گئی تھیں اور ایک ایک کی حفاظت کرکے دنیا س سے اپنے آپ کو بچا کر سارے لمحات خدمت دین کے لیے صرف فرمائے۔

جہانگیر کے ساتھ ان ایام صحبت کا حال لکھتے ہیں کہ ان حدود سے احوال و اوضاع لائق حمد ہیں،عجیب و غریب صحبتیں گزر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عنایت سے بال برابر امور دینیہ و اصول اسلامیہ کی گفتگو میں سستی اور خوشامد راہ نہیں پاتی ہے اور انھیں عبارتوں سے کہ تنہائیوں اور خاص مجلسوں میں بیان کرتا تھا ان معرکوں(مجالس بادشاہی) میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بیان کرتا ہے،اگر ایک مجلس کو لکھے تو دفتر چاہیے خاص کر آج کی رات کہ رمضان المبارک کی سترہویں شب تھی اس قدر بعثت انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات اور عقل کا عدم استقلال،آخرت پر ایمان اور اس میں عذاب و ثواب،رویت کا اثبات اور خاتم الرسل کی خاتمیت اور ہر صدی کے مجدد اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی اقتدا،سنت تراویح،بطلان تناسخ،جن اور جنیوں کے احوال اور ان کا عذاب وثواب اور ان کے مثل دیگر چیزوں سے بہت مذکور ہوا اور اچھی طرح سنا گیا۔

اسی طرح ضمن میں دوسری اشیا اقطاب و ابدال و اوتاد کے احوال اور ان کی ایسی ایسی خصوصیت مذکور ہوئی الحمد للہ سبحانہ کہ(بادشاہ) اپنی جگہ رہے اور کوئی تغیر ظاہر نہیں ہوا اور ان واقعات اور ملا قاتوں میں شاید حق سبحانہ کی مصلحتیں اور راز پوشیدہ ہوں۔

ایک ایک نقطہ بار بار پڑھیے اور مکتوب شریف کے تیور دیکھیے آپ سمجھ لیں گے کہ آپ اظہار حق میں کس قدر دلیر تھے،اس مکتوب پر گہری نظر ڈالنے سے ان مسائل کا راز بھی سمجھ میں آتا ہے جن پر آپ نے کافی تفصیل سے اور مکرر گفتگو فرمائی ہے جو اجمالاً ا س مکتوب میں ذکر کیے گئے ہیں،نیز حکومت کی طرف سے کن بنیادی اور اعتقادی مسائل میں تزلزل اور تذبذب پیدا ہو چکا تھا اس کا سراغ بھی اس مکتوب سے لگایا جا سکتا ہے۔

آپ کی ہمت و جرأت اور دینی حمیت و غیرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اکبر کی حکومت میں شیعوں کو جو اقتدار حاصل تھا اسے تمام اہل علم جانتے ہیں،اس زمانے میں ان کے خلاف منہ کھولنا اور جگہ جگہ محفلوں میں ان کے عقائد باطلہ کا رد کرنا،ان کی شناعت و قباحت بیان کرنا پھر تحریراً ان کی تردید کرنا اور انھیں کافر کہنا ایک غیر معمولی اور نہایت اہم اقدام تھا،جبکہ بادشاہ کی حالت اسلام کے سلسلے میں کس قدر خراب ہو چکی تھی۔

آپ کی تصنیفات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خواجہ ہاشم فرماتے ہیں:اور رسالہ رد مذہب شیعہ شنیعہ با آنکہ ان اوقات میں ارباب تشییع ان شہروں میں غایت حشمت و جاہ میں تھے اور بادشاہ سے پورا تقرب رکھتے تھے اور بادشاہ بھی دین اور ارباب دین کے سلسلے میں نہایت عداوت میں تھا لیکن غیرت اسلامی کا جوش کہ حضرت حق سبحانہ نے آپ کو عطا فرمایا تھا این و آں کا ملاحظہ دل میں نہ لائے۔

غیرت و حمیت:

حضرت مجدد قدس سرہ کو جہاں اور بلند وبالا اوصاف و کمالات سے نوازا گیا تھا وہیں اسلامی غیرت و حمیت بھی آپ کے مزاج میں اعلیٰ درجہ کی تھی،آپ کے مکتوبات قدسی کا جنھوں نے بھی مطالعہ کیا ہے خاص کر ان مکتوبات کا جو امراء کے نام لکھے گیے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مادہ آپ کے اندر کس قدر شدت کے ساتھ تھا۔

مکتوب ۲۷ جو سیادت پناہ شیخ فرید کے نام ہے اس کی ایک عبارت کے تیور ملاحظہ فرمائیں:‘‘محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ وسلم کہ محبوب رب العالمین است مصدقان او ذلیل و خوار بودند و منکران او بعزت و اعتبار،مسلمانان با دلہای ریش در تعزیت اسلام بودند و معاندان بسخریہ و استہزاء بر جراحتہائے ایشاں نمک ہا می پاشیدند۔’’

ترجمہ: حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو کہ رب العالمین کے محبوب ہیں کے ماننے والے ذلیل و خوار ہیں جبکہ منکرین عزت و وقار کے ساتھ ہیں،مسلمان زخمی دلوں کے ساتھ اسلام کی تعزیت کر رہے ہیں جبکہ معاندین اسلام مذاق اڑا کر ان کے ز خموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔

یہی غیرت تھی جو ہر وقت آپ کے قلب نازک کو مجروح کیے ہوئے تھی اور رات و دن کا چین کھو گیا تھا،کفر اور کافروں کی عزت و اعتبار اور اسلام و اہل اسلام کی ذلت و خواری آپ کی برداشت سے باہر تھی۔

آپ کی غیرت و حمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جس وقت آپ کی آمد ورفت ابو الفضل اور فیضی کے یہاں تھی ایک دن آپ کے سامنے ابولفضل نے منطق وفلسفہ کی تعریف میں کافی مبالغہ سے کام لیا،آپ نے فرمایا کہ امام غزالی قدس سرہ العالی نے رسالہ شریفہ ‘‘منقذ عن الضلالۃ’’ میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ علوم جن کا واضع فلاسفہ خود اپنے آپ کو سمجھتے ہیں وہ کسی کام میں آتے ہیں جیسے ہیئت و نجوم اور

حکمت و طب فلاسفہ نے انبیاے سابقین کی کتابوں اور ان کے کلام سے چرائے ہیں اور ان کے طبع زاد ہیں جیسے ریاضی وغیرہ وہ دین کے کیا کام آتے ہیں۔ ابو الفضل نے یہ بات سنی چراغ پا ہو گیا اور بولا : غزالی نے نامعقول بات کہی ہے۔

آگے خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ ناقل ہیں: استماع ایں حروف او متنبہ شدہ از مجلس او برخاستند و وقت برخاستن فرمودند اگر ذوق محبت ما اہل علم دادی ازیں حرفہاے دور از ادب زبان باز دار۔’’

اس کے اس کلام سے آپ متغیر ہوئے، اس کی مجلس سے اٹھ گئے اور اٹھتے وقت فرمایا: اگر ہم جیسے اہل علم کی صحبت کا ذوق رکھتے ہو تو ادب سے دور ان الفاظ سے زبان کو باز رکھو۔’’

اتنا فرما کر آپ چلے گئے اور چند روز تک اس کی مجلس میں تشریف نہ لائے یہاں تک کہ ابو الفضل نے کسی کو بھیجا اور معذرت چاہ کر طلب کیا۔

ابوالفضل جس کے علم فن کی اس وقت طوطی بول رہی تھی،بادشاہی قربت نے جس کے دماغ میں اتنی نخوت پیدا کردی تھی کہ بڑے بڑوں کو باریابی کا موقع نہیں مل پاتا تھا اس جیسے انسان سے آپ کا یہ فرمانا کہ‘‘اگر ذوق صحبت با اہل علم داری ازیں حرفہای دور از ادب زبان باز داری’’آپ جیسے مرد مجاہد ہی کا کام ہو سکتا ہے۔

اللہ و رسول جل و علا و صلی اللہ عیہ وسلم اور شریعت کے آداب سے کوئی کلمہ خواہ وہ کسی کا ہوتا سبھی آپ کے مزاج پر اتنا گراں ہوتا کہ رگ فاروقی جوش میں آ جاتی اور برداشت کی تاب نہ رکھتی،ایک دفعہ مولانا حسن کشمیری نے آپ سے سوال کیا کہ عبد الکبیر یمنی نے یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ عالم بغیب نہیں،اس پر ذرا آپ کے تیور ملاحظہ فرمائیں:

‘‘مخدوما! فقیر را تاب استماع امثال ایں سخناں اصلا! نیست،بے اختیار رگ

فاروقیم در حرکت می آید و فرصت تاویل و توجیہ آں نمی دہد،قائل آں سخنان شیخ کبیر یمنی باشد یا شیخ اکبر شامی کلام محمد عربی علیہ و علیٰ آلہٖ الصلاۃ و السلام درکار است نہ کلام محی الدین عربی و صدرالدین قونوی و عبد الرزاق کاشی مارا بانص کار است نہ بفص فتوحات مدینہ از فتوحات مکیہ مستغنی ساختہ است۔’’(مکتوب ۱۰۰ ج۱)

عمل بعزیمت:

اولیاے کرام خاص کر نقشبندی بزرگوں نے رخصتوں پر عمل کے بجائے عزیمت پر عمل اختیار کیا ہے اس کی تفصیل اور فوائد تو کسی اور موقع پر بیان ہو گی سر دست کہنا یہ ہے کہ عزیمت پر عمل بڑے جگر والوں کا کام ہے اس میں محنت و مشقت اور جفا کشی اور ریاضت و مجاہدہ کا عنصر غالب ہے،بعض نازک مواقع پر عمل بعزیمت اتنا دشوار ہو جاتا ہے کہ بڑے بڑے پیچھے ہٹ جاتے ہیں خاص کر بادشاہوں اور سلاطین کے سامنے اظہار حق مردان کامل ہی کا حصہ ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی پوری حیات طیبہ آج ہمارے سامنے ہے ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی ہے کہ اعمال و اقوال میں آپ نے رخصت پر عمل کیا ہو اس کے بر خلاف جس جرأت و ہمت کے ساتھ آپ نے بادشاہ اور اس کے حواریوں اور اراکین سلطنت کو حق سے آگاہ کیا اور قدم قدم پر ٹوکا وہ اپنی مثال آپ ہے۔

عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ جو جری اور بہادر لوگ بادشاہوں کی غلطیوں پر تنقید بھی کرتے ہیں اور اظہار حق فرماتے ہیں نجی محفلوں میں ان کا لب و لہجہ کچھ اور ہوتا ہے اور بادشاہوں کے سامنے کچھ اور مگر یہاں حال یہ ہے کہ‘‘و بہماں عبارات کہ در خلوات و در مجالس خاصہ بیان می کرد درین معرکہا بتوفیق اللہ سبحانہ بیان می نماید۔’’(اور انھیں عبارتوں سے کہ تنہائیوں اور خاص مجلسوں میں بیان کرتا تھا ان معرکوں(مجالس بادشاہی) میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بیان کرتا ہے)

بیان میں جسارت و جرأت کا یہ منظر بھی لائق صد ستائش ہےکہ‘‘سر موے دریں گفت و گوہاے امور دینیہ و اصول اسلامیہ مساہلہ و مداہنت راہ نمی یابد’’(بادشاہ کے ساتھ ہوئی گفتگو میں کسی دینی امور اور اسلامی اصول میں کسی قسم کی مداہنت اور مساہلت قطعاً نہیں ہوتی ہے) کوئی موقع اس سے زیادہ کٹھن اور کیا ہو سکتا ہے کہ بادشاہ کے سامنے اس طرح اظہار حق کیا جائے اور صرف اتنا ہی نہیں آپ نے اس سلسلے میں قید و بند کی جو صعوبتیں اور ملامتیں جھیلی ہیں شاید کسی نے جھیلی ہوں،آپ کی اسیری کی داستان پڑھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ آپ اس میدان کے کتنے بڑے مجاہد تھے۔

نوٹ: حضور بحر العرفان نے حضرت مجدد الف ثانی کا تذکرہ دو (پتلی) کاپیوں میں تحریر فرمایا تھا۔ پہلی کاپی کے ۷۴ صفحات تھے جو یہاں نقل ہوئے جب کہ دوسری کاپی تلاش بسیار کے باوجود نہیں مل سکی۔ واضح ہو کہ حضرت کے اشارے کے مطابق اس (دوسری) کاپی کے ۹۲ صفحات بھی یہاں شامل ہونے تھے۔ لہٰذا جب بھی گمشدہ کاپی ملے اسے یہاں شامل کر دیا جائے۔(سید نور عالم مصباحی)

حصہ دوم

(۵)مکتوب ۴ دفتر دوم میں آپ نے علم الیقین اور عین الیقین اور حق الیقین کے بارے میں ثابت فرمایا ہے کہ صوفیہ نے ان کے تعلق سے جو بیان فرمایا ہے وہ در حقیقت علم الیقین کے تین حصوں سے دو حصہ ہے ابھی ایک حصہ تو علم الیقین ہی کا در پیش ہے عین الیقین اور حق الیقین تو بہت بعد کی بات ہیں،اسی مکتوب گرامی میں آخر میں فرماتے ہیں:

‘‘یہ معارف دائرۂ ولایت سے خارج ہیں،ارباب ولایت علماے ظواہر کی طرح ان کے ادراک سے عاجز ہیں اور ان کے پانے میں کوتاہ دست ہیں یہ علوم مشکاۃ نبوت کے انوار سے حاصل کیے گیے ہیں علیٰ اربابہا الصلاۃ والتحیۃ، کہ تجدید الف ثانی کی تبعیت و وراثت کے طور پر تازہ ہوئے ہیں اور تازگی کے ساتھ ظہور پائے ہیں،ان علوم ومعارف کا مالک اس الف (ہزار دوم) کا مجدد ہے آخری الفاظ بعینہٖ یہ ہیں۔’’

‘‘کمالا یخفیٰ علی َ الناظرین فی علومہ و معارفہ التی تتعلق بالذات والصفات والافعال و تتلبس با لاحوال والمواجید والتجلیات والظہورات فیعلمون انَّ ہٰؤ لآء المعارف والعلوم ورأ العلماء و وراء معارف الاولیاء بل علوم ہٰؤ لآء بالنسبۃ الیٰ تلک العلوم قشر وتلک المعارف لبّ ذٰلک القشر واللہ سبحانہ الہادی’’

یعنی جیسا کہ ان حضرات پر مخفی نہیں جنھوں نے حضرت مجدد قدس سرہ کے ان علوم ومعارف میں غور کیا ہے جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور افعال و احوال ومواجید اور تکلیات وظہورات سے وابستہ ہے کہ یہ علوم ومعارف علما اور اولیا کے معارف سے پرے ہیں بلکہ علما واولیا کے علوم اور حضرت مجدد کے مذکورہ معارف میں چھلکے اور مغز کی نسبت ہے۔

(۶)تجدید الف ثانی ایک بڑی خاص عطا وہ ہے جو آپ نے مکتوب ۶ دفتر دوم میں بیان فرمایا،چونکہ وہ منزل ایسی تھی جو آپ کو تجدید الف ثانی کی تجدید کے سلسلے میں عطا ہوئی تھی اور آپ سے پہلے وہ مخصوص دولت کسی ولی کو نہیں ملی،آپ قدس سرہ نے رمز واشارے کے ذریعہ سے اسے بیان کیا جو بعض اہل علم کے لیے مخالفت کا سبب بن گئی،ہم پہلے مکتوب ۶ کی ابتدائی اصل عبارت نقل کرتے ہیں اس کے بعد اس کی تو ضیح وتشریح میں بعض محققین کے اقوال نقل کریں گے،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:

‘‘انگارم کہ مقصود از آفرینش من آنست کہ ولایت محمدی بولایت ابراہیمی علیہما الصلوات والتسلیمات منصبغ گردد وحسن ملاحت ایں ولایت باجمال صباحت آں ولایت ممتزج شود ورد فی الحدیث اخی یوسف اصبح وانا املح و بایں انصباغ وامتزاج مقام محبوبیت محمدیہ بدرجۂ علیا رسد۔’’

ترجمہ:میں سمجھتا ہوں کہ میری پیدائش سے مقصود یہ ہے کہ ولایت محمدی ولایت ابراہیمی سے رنگین ہو اور اس ولایت کا حسن ملاحت ولایت کے اجمال صباحت سے مل جائے،حدیث شریف میں آیا ہے کہ میرے بھائی یوسف میں صباحت اور مجھ میں ملاحت ہے اور اس انصباغ(رنگینی)وامتزاج(آمیزش) سے محبوبیت محمدیہ کا مقام درجۂ علیا کو پہنچ جائے۔

حضرت خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ نے اس عبارت کی تشریح چاہی تھی،حضرت مجدد قدس سرہ نے مکتوب ۹۷ دفتر دوم میں اس کی مکمل وضاحت فرمائی ہے اور غالبا مکتوب ۹۴و۹۵ دفتر سوم میں اسی مقام کو نہایت تفصیل سے بیان فرمایا ہے،میں اس عبارت کے تعلق سےحضرت مولانا زید فاروقی کا بیان نقل کر دیتا ہوں،جس سے کافی حد تک بات سمجھ میں آجائے گی،فرماتے ہیں:

‘‘اجمال صباحت سے اشارہ اس ضمنی اتباع ملت ابراہیمی کی طرف ہے جو آیتِ‘‘اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا’’سے مستفاد ہے ’’پھر تقریبا ایک صفحہ کے بعد فرماتے ہیں:‘‘حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی قدس سرہ نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ قولہ انگارم ۔۔الخ حضرت مجدد نے جو یہ بات کہی کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری پیدائش کا مطلب یہ ہے،تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سردار دو عالم ﷺ کے کمال متابعت کی وجہ سے مجھ کو متا بعت ابراہیم علیہ السلام کا شرف بھی عنایت کیا ہے جو کہ اتبع ملۃ ابراہیم کے ضمن میں مو جود ہے،اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دونوں اصحاب شریعت کے کمالات سے اس حیثیت سے مستفید کیا ہے جیسا کہ خادم زلّہ؟ بردار مستفید ہوا کرتا ہے،یہ صورت استفادہ اولیا میں کسی کو نصیب نہیں ہوئی ہے،آپ کا ارشاد اظہار شکر کی بنا پر ہے اور اگر اس کو افتخار پر محمول کر لیا جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ اولیاء پیشین سے اللہ کے فضل پر بکثرت افتخار ثابت ہے۔۔الخ اور آپ نے مثال میں حضرت غوث اعظم کا قول‘‘قدمی علی رقبۃ کل ولی اللہ’’لکھا ہے۔’’

(خیال رہے کہ میں نے یہاں صرف ترجمہ لکھا ہے فارسی عبارت اصل کتاب میں موجود ہے)

خلت ابراہیمی کی ولایت اور محبوبیت محمدی کی ولایت کے امتزاج اور اختلاط کے سلسلے میں حضرت شاہ عبد العزیز قدس سرہ نے پر از حقائق مضمون لکھا ہے،ذیل کے سطور میں اس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔