باب ۴ از ۵۷صفحات ۵۱–۷۷
علماےسوء
بادشاہ اور دیگر اہل ثروت وحکومت ضلالت وگمرہی اور اسلام وسنت سے بیزاری کی کس حد پر پہنچ گئے تھے یہ آپ اجمالاً پڑھ چکے ہیں کہا جاتا ہے : الناس علیٰ دین ملوکہم
(لوگ بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں) بادشاہ اگر نیک ہے دین کاحامل ہے دینی خدمات قلب میں موجزن ہیں تو رعایا کو ہر ممکن طریقہ سے دین پر چلانے کی کوشش وسعی کرے گا، وسائل وذرائع جن سے دین کی اشاعت وترویج ہوتی ہے اور لوگوں کو جن کے ذریعہ دینی احکام کا پابند اور عامل بنایا جا سکتا ہے خواہ بخوشی کریں یا نا خوشی سے طوعا یا قہرا غرضیکہ ارباب حکومت کے پاس وہ قوت ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ رعایا کو جس نہج پر چلانا چاہیں رعایا چلے گی اب جب خود ایک شہنشاہ کا عالم یہ ہوجائے کہ وہ صرف بگڑے ہی نہیں بلکہ لوگوں کو بگاڑنے میں لگا رہے،گمراہ ہی نہ ہو بلکہ گمراہ گر بن جائے اسلام کی بیخ کنی جس کا نصب العین ہو جائے جو اسلام وسنت کو ختم کرنے میں منظم تحریک چلائے ہر وقت جس کا مشغلہ ہی یہ ہو کہ وہ دین کو مٹانے کی تمام تدبیریں کرے آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس کے اثرات کیا مرتب ہوں گے۔
پورے ملک میں نیچے سے لے کر اوپر تک ہزاروں اصحاب اقتدار ہوتے ہیں دنیوی عزت و وجاہت اور ثروت ودولت کے طالب عہدوں کی تلاش میں رہتے ہیں ہر غلط سے غلط اور گھناونا کام اور ہر برے سے برے امر کا ارتکاب کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اس اکبر شاہی حکومت میں اپنی کرسیوں کو بچانے کے لیے اور اپنی قربتوں اور عہدوں کے طالب کتنی تیزی کے ساتھ اکبر کے دین میں داخل ہو رہے ہوں گے،حکومت ودولت کا نشہ کوئی معمولی خمار نہیں لاتاہے،آج مشاہدات ہمارے سامنے ہیں ان چیزوں کی طلب وچاہت کیا کیا کراتی ہے پھر یہ اپنے داتا اکبر کو خوش کرنے کے لیے کیا کیا کرتے ہوں گے یہ جو کچھ آپ پڑھ چکے اور اپنے تجربات ومشاہدات سے سمجھ سکتے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ اکبر کے بگڑنے سے ہر فرد بگڑ گیا تھا لیکن اتنے طویل دور حکومت میں جو بادشاہ اس طرح اسلام کو ختم کرنے میں لگا ہو اس سے کتنے بگڑے ہوں گے اس کا بھی پتہ آسان نہیں لیکن ہر سمجھ دار اندازہ کر سکتا ہے
کہ ارباب اقتدار کے بگڑنے سے رعایا کس قدر بگڑتی ہے ۔
اس بادشاہ اور اس کے حواریوں کو بگاڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ علماے سو کا تھا جیسا کہ آپ پڑھ چکے،عزت وجاہ اور حکومت وثروت کے یہ طالب، دنیا کے کتے اپنے مقاصد اور مادی منفعتوں کی تحصیل میں کیا کیا نہیں کرتے تھے ،احکام شرع کی وقعت دلوں سے انھوں نے نکالی،مناظروں ومباحثوں میں ایک دوسرے پر طعن وتشنیع کرکے خود کو بے وقعت انھوں نے کیا،شریعت کو اپنے تابع کرکے جو چاہا فتویٰ دے دیا جس میں دنیا کا بھلا دیکھا جس میں بادشاہ کی خوشنودی نظر آئی وہ یہ حکم صادر کرادیتے ساتھ میں باطل دلائل کے یہ انبار بھی لگا دیتے۔
ڈاڑھی جیسی عظیم سنت اور انبیاے کرام کی پیاری چیز کو جب مٹانے پر آئے تو وہ عقلی ونقلی دلائل قائم کیے کہ لوگ سر پیٹتے رہ جائیں،اکبر جو حکم دیتا ،ادیان باطلہ سے وہ جو اختیار کرتا یہ دنیا کے پجاری فورا لبیک کہہ کر دلائل کی بہتات شروع کر دیتے،کہیں سودی قرض حلال کر رہے تھے کہیں متعہ جائز کر رہے تھے کہیں شرابیں حلال کر رہے تھے الغرض ہر طرف ان علماے سو نے کہرام مچا رکھا تھا، دین کو برباد کرنے کے لیے نت نئے فتنے یہ جنم دیتے تھے ،حضرت مجدد ان کے حال پر ماتم کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جو علما اس بلا میں مبتلا ہیں اور اس دنی (حقیر) کی محبت میں گرفتار ہیں وہ علماےدنیا سے ہیں یہی لوگ علماے سو،بدترین مردم اور دین کے چور ہیں اور حال یہ ہے کہ یہ لوگ خود کو دین کا مقتدا جانتے ہیں اور بہترین خلائق سمجھتے ہیں۔
ویحسبون انہم علیٰ شیئ الا انہم ہم الکاذبون استحوذ علیہم الشیطان فانساہم ذکر اللہ اولٰئک حزب الشیطان الا ان حزب الشیطان ہم الخاسرون
یعنی یہ لوگ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں خبردار! یہی لوگ جھوٹے ہیں ان پر
شیطان غالب آگیا تو اس نے انھیں اللہ کا ذکر بھلا دیا یہی لوگ شیطان کا گروہ ہیں،خبردار شیطان کا ہی گروہ گھاٹا پانے والا ہے۔’’
ایک بزرگ نے شیطان کو دیکھا کہ خالی بیٹھا ہے اور تضلیل واغواء(گمراہ گری)سے خاطر مطمئن کیے ہوئے ہے،اس بزرگ نے اس کا راز پوچھا تو اس ملعون نے کہا کہ اس وقت کے علماے سو نے اس کام میں میری بڑی مدد کی ہے اور مجھ کو اس مہم سے فارغ کردیا ہے(آخری الفاظ یہ ہیں)والحق دریں زمان ہر سستی ومداہنتی کہ در امور شرعیہ واقع شدہ است وہر فتورے کہ در ترویج ملت ودین ظاہر گشتہ است ہمہ از شومئ علماے سو است وفساد نیات ایشاں(مکتوب 33 ج 1)
حضرت مجدد قدس سرہ نے اس اجمال میں اس دور کے علماے سو کی پوری تاریخ سمیٹ دی ہے جو کچھ بگاڑ اور فساد ہوا،اسلام وسنت کے نور سے لوگ محروم ہوئے اور دین رو بہ زوال ہوا یہ سب علماے سو کی بد بختی اور ان کی نیتوں کے فساد کی وجہ سے ہوا ،جو کچھ ہوا اس کا مختصر خاکہ آپ پڑھ چکے ۔
مکتوب 47 میں یوں نوحہ کنا ں ہیں‘‘گزشتہ زمانے میں جو بھی بلا آئی اسی جماعت(علماے سو)کی نحوست سے تھی بادشاہوں کو بھی یہی لوگ راہ سے لے گئے،بہتر فرقے جنھوں نے گمرہی کا راستہ اختیار کیا ہے ان کے رہنما علماے سو تھے،علما کے علاوہ جو بھی گمراہ ہوا کم ہی اس کی گمرہی کا اثر دوسروں پر پڑا ہو۔
ایک جگہ فرماتے ہیں''دنیا کی محبت اور اس کی طرف رغبت علماء کے چہرۂ کمال کے لیے بد نما داغ ہے مخلوق کو اگرچہ ان سے فوائد حاصل ہوتے ہیں لیکن ان کا علم ان کی ذاتوں کے حق میں نفع بخش ثابت نہیں ہوا ہر چند شریعت کی تائید وملت کی تقویت ان پر مترتب ہے مگر بہت مرتبہ اہل فجور اور ارباب فتور سے بھی یہ تائید وتقویت حاصل ہو جاتی ہے جیسا کہ سید الانبیا ﷺ نے اس مرد فاجر کے بارے میں
‘‘ان اللہ لیؤید ہٰذا الدین بالرجل الفاجر’’
یعنی بیشک اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید فرماتا ہے فاجر شخص سے، یہ لوگ سنگ پارس کی طرح کہ تانبا، لوہا اور جو کچھ اس کو پہنچتا ہے سونا ہو جاتا ہے اور وہ خود اپنی ذات کے حق میں پتھر ہے،اسی طرح وہ آگ جو کہ پتھر اور بانس میں ودیعت کی گئی ہے عالم کو اس آگ سے منافع کا حصول ہے مگر وہ پتھر اور بانس اس اندرونی آگ سے محروم ہیں بلکہ میں کہتا ہوں کہ یہ علم ان کی ذاتوں کے حق میں نقصان دہ ہے کہ ان پر حجت کو پورا کردیا ہے(حدیث بھی یہی ہے)
ان اشد الناس عذابا یوم القیامۃ عالم لم ینفعہ اللہ بعلمہ
یعنی قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اس عالم کو ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے علم سے نفع نہیں دیا۔
نقصان دہ کیوں نہ ہوگا جو علم کہ خداے عز وجل کے نزدیک عزیز اور موجودات میں اشرف ہے اس کو کمینی دنیا یعنی مال وجاہ اور ریاست کے لیے ذریعہ بنا لیا ہے حالانکہ دنیا حق تعالیٰ کے نزدیک ذلیل وخوار ہے اور مخلوقات میں بد ترین ہے تو اللہ تعالیٰ کے عزیز کو خوار کرنا اور اس کے ذلیل کو عزت دینا بے انتہا قبیح ہے اور در حقیقت حق تعالیٰ کے ساتھ مقابلہ ہے اور تدریس وافتا اس وقت نفع دیتا ہے جبکہ خالصا لوجہ اللہ ہو حب جاہ وریاست کے شائبہ اور مال ورفعت کے حصول سے خالی ہو اس خالی ہونے کی علامت دنیا میں زہد(بے رغبتی) اور دنیا وما فیہا سے بے رغبت ہونا ہے۔’’
بات اگر چہ طویل ہو گئی ہے مگر ہے قابل عبرت، کیا اس زمانے میں جو علماے سو نے کیا آج نہیں کر رہے ہیں؟ آج بھی وہی کر رہے ہیں دنیاے دنی کے اقتدار ومنصب کو حاصل کرنے میں کیا کیا نہیں کر رہے ہیں ،نفس امارہ کے غلبہ،علم
کے غرور نے اختلافات وانتشارات کا دھارا کھول دیا ہے،معمولی معمولی باتوں پر جھگڑے،ایک دوسرے کی تضلیل وتفسیق اور خواہشات نفس کے سانچے میں احکام شرعیہ کو ڈھالنا،حصول زر ومال کے لیے تمام طرح کے حیلے بہانے نکالنا،اپنے آگے کسی کی عزت ووقار کو برداشت نہ کرنا ،ایک دوسرے کی تضحیک وتذلیل کرنا ،وعظوں،تقریروں اور تحریروں کو تحصیل دنیا کا وسیلہ بنانا،احکام شرعیہ کو توڑ مروڑ کر بیان کرنا آخر وہ کون سا قبیح فعل ہے جو اس جماعت سے صادر نہیں ہو رہا ہے،ان کی وجہ سے مدارس تباہ ہو رہے ہیں،علم اٹھتا جا رہا ہے،جس فن سے دنیا کے حصول کی زیادہ آس ہے اس کو اپناتے ہیں،جو جلسے وغیرہ تبلیغ دین وترویج شریعت کے لیے تھے آج ان میں گلے پھاڑے جاتے ہیں تو دنیا کے لیے،منبروں پر ایک دوسرے کو ذلیل کرتے ہیں تو دنیا کے لیے،موشگافیاں دکھاتے ہیں تو دنیا کے لیے حتیٰ کہ کافروں سے سودے بازی کرتے ہیں،قوموں کو بیچتے ہیں اور چندوں سے پیٹ بھرتے ہیں۔
حضرت مجدد قدس سرہ بھولے انسانوں کو آگاہ فرمارہے ہیں کہ تم ان کے دینی کاموں سے دھوکہ نہ کھانا،تدریس وافتا کی خدمتیں دیکھ کر متاثر نہ ہو جانا،وعظ وتقریر کی شیریں بیانی سے اپنے آپ کو ان کے حوالے نہ کردینا یہ دین کے ڈکیت ہیں،چور ہیں راہ زن ہیں،سارا خسارا ان ہی سے ہے،بگاڑ انھیں سے ہے،خیال رہے یہاں ان علما کی بات ہو رہی ہے جو عقائد کی صحت وسلامتی کے ساتھ اعمال کی بجا آوری میں کوتاہ ہیں،خدمات دینی کو تحصیل مال وزر کا ذریعہ بنا رکھا ہے،ایسے علما سے کچھ دینی کام بھی ہوتے ہیں،بظاہر خدمات بھی عمل میں آتی ہیں مگر خدمات ان کی خدا رسیدگی کی دلیل نہیں ،ان کا معیار یہی ہے اگر وہ دنیا وما فیہا سے بے رغبت ہیں تو سمجھ لو تمہارے رہبر ہیں،ان کی سوچ اور فکر اور ساری قوتیں خالص رضاے الٰہی کے لیے صرف ہوتی ہیں تو تمہارے مقتدا ہیں،خود عمل کرکے دوسروں کو عمل کراکے ترویج شریعت
واشاعت اسلام میں لگے ہیں تو وہ وارث انبیاے کرام ہیں علیہم الصلوات والتسلیمات ورنہ وہی ہیں جو بیان ہو چکا۔
ان علما کی بات نہیں ہے جنھوں نے غلط اور فاسد عقائد اپنا لیے ہیں اہل سنت وجماعت سے ہٹ گئے ہیں،حضرت مجدد ان کو عموما ضال مضل سے تعبیر فرماتے ہیں یہ لوگ بھی دو طرح کے اس زمانے میں تھے جن سے فساد ہورہا تھا،عوام بگڑ رہی تھی،بادشاہ اور اس کے حوار ین گمراہ ہو رہے تھے۔
ایک وہ جو منطق وفلسفہ کو اپنا پیشوا بنائے ہوئے تھے عقلیات کے دلدادہ، اسلامی اصول وضوابط کو عقلی پیمانوں پر ناپنے والے،منطق وفلسفہ کے مزخرفات کو اٹل اور محکم تصور کرنے والےتھے اور اس کے سارے اصل وضوابط کی صحت پر ایمان رکھتے تھے۔
دوم روافض وشیعہ جن کا سارا نصب العین صحابہ کرام بالخصوص خلفاء ثلٰثہ وغیرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین وتنقیص،اہل سنت وجماعت کی تذلیل اور ان کی تباہی کو ہی مقصد زندگی بنا رکھا تھا ،نہایت دل آزار باتیں بکنا اور ان بزرگوں کی عظمت دلوں سے نکالنا ہی ان کا شیوہ تھا حضرت مجدد قدس سرہ نے تفصیل سے سب کی خبر لی ہے۔
منطق وفلسفہ کے حملے:
اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے سلسلے میں فلسفہ نے جو ضلالت وگمرہی اختیار کی ہے اور جس قدر گھٹیا تصور ذات وصفات کا پیش کیا ہے اس کے بیان سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ایک مؤمن کی غیر ت کبھی بھی ان باتوں کو سننا گوارہ نہیں کرے گی ،مثلاً اس کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف ایک عقل پیدا کی ۔
دوم: یہ کہ یہ عقل بھی بطریق ایجاب وجود میں آئی بالاختیار نہیں۔
سوم: اس کا کہنا ہے کہ سارے حوادث عقل فعال سے وجود میں نہیں آے
چہارم: اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کا عقیدہ ہے کہ اس کو جزئیات متغیرہ کا علم نہیں ہوتا ہے ۔
پنجم: قرآن وسنت میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائیں گے ستارے جھڑ جا ئیں گے،پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے،دریا جاری ہو جائیں گے یہ سب باتیں نص قطعی سے ثابت ہیں مگر فلاسفہ اس کے منکر ہیں۔
ششم: اجسام کے بھی حشر کے منکر ہیں۔
ہفتم: یہ لوگ عالم کو اس کے تمام اجزا کے ساتھ حادث نہیں مانتے ہیں یعنی عقول ونفوس اور صورت وہیولیٰ کے قدیم ہونے کے قائل ہیں۔
ہشتم: اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں یہ لوگ قائل ہیں کہ وہ خارج میں وجود زائد کے ساتھ موجود نہیں بہ الفاظ دیگر نفی صفات کے قائل ہیں۔
نہم: معراج جسمانی کے منکر ہیں،الغرض دین وایمان کی جن باتوں پر بنیاد ہے ان بے وقوفوں نے ان میں وہ تلبیس وتخلیط کی ہے اور ضلالت وگمرہی کا وہ راستہ اختیار کیا ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کو لکھنا پڑا''ایں بے دولتاں در حمق و بلدہت پیش قدم فرق ضلالت اند کافراں التجا بحضرت حق سبحانہ وتعالیٰ می آمدند ودفع بلیہ از او تعالیٰ می طلبند بخلاف این سفیہان،دو چیز دریں بیدولتاں از جمیع فرق ضلالت وبلدہت بیشتر است یکے کفر وانکار است بہ احکام منزلہ وعناد وعداوت است باخبار مرسلہ،دویم ترتیب مقدمات فاسدہ است وتلبیس دلائل وشواہد باطلہ واثبات مقاصد ومطالب واہیہ آں قدر ضبط در اثبات مقاصد خود کہ ایشاں خوردہ اند ہیچ سفیہے نخوردہ۔(مکتوب 266 ج 1)
یعنی یہ بے دولت حماقت وبے خردی میں گمراہی کے تمام فرقوں سے آگے ہیں،کافر اللہ عز وجل کی بارگاہ میں التجا کرتے ہیں اور اس سے بلاؤں کا دفع طلب کرتے
ہیں بخلاف ان بے وقوفوں کے،دو چیزیں ان بے دولتوں میں گمراہی اور حماقت کے تمام فرقوں سے زیادہ ہے ایک نازل شدہ احکام کا انکار اور ان کے ساتھ کفر اور اخبار مرسلہ کے ساتھ عناد ودشمنی دوم فاسد مقدمات کی ترتیب اور باطل دلائل وشواہد کی تلبیس اور کمزور مقاصد ومطالب کا اثبات ہے کہ اپنے مقاصد ثابت کرنے میں جس قدر خبط(پاگل پن) ان لوگوں نے کھایا ہے کسی نادان نے نہیں کھایا ہے۔
بطور نمونہ فلاسفہ کے یہ چند عقیدے سپرد قلم کر دیے،اس گروہ نے عقائد کی بنیادوں کو بے پناہ متزلزل کیا اور لوگوں کو تشکیکات کی وادیوں میں بھٹکایا،یقین واذعان کے نور سے محروم کیا اور تدقیقات وتحقیقات کے نام پر حماقتوں کے وہ انبار لگائے کہ ہر سلیم الطبع ان کی بے خردی پر ماتم کرے،علما میں دینداری وللٰہیت اسی نے ختم کیا ،اسی نے انھیں متکبر بنایا،موشگافیوں اور کج بحثیوں کے دروازے اسی نے کھولے الغرض کیا کیا کہا جائے جو شناعتیں وقباحتیں مسلمانوں میں یہ لایا کوئی نہیں لایا۔
حضرت مجدد قدس سرہ کا درد پڑھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اکثر علما پر اس کا بھوت کس قدر سوار تھا اور مناظرات ومباحثات میں یہ گروہ کس طرح بھٹک گیا تھا،اکبر کو بگاڑنے میں اور عقائد میں تذبذب کا شکار کرنے میں اس نے کس قدر رول ادا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے اس کا بہت شدید رد فرمایا ہے اور اس کے اثرات بد سے خوب خوب آگاہ کیا ہے،اکبر نے اگرچہ شرک اپنا لیا تھا مگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بارے میں اس قدر بے ہودہ باتیں نہ بکی تھیں اور نہ خدا کا اتنا گھٹیا تصور پیش کیا تھا جتنا کہ فلسفہ نے کیا۔
صوفیہ خام:
اکبر کے دور میں ایک گروہ اور بھی تھا جس کی وجہ سے دین کو بہت نقصان ہو رہا تھا ،اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں جو تصورات اس جماعت نے پیش کیے
تھے ان میں فلسفہ کی کافی آمیزش اور ہم آہنگی تھی اور اصلی حقیقت تک نا رسائی کی بنیاد پر اثناء راہ کے کچھ مکشوفات ومشاہدات غلط وصحیح کے ذریعہ جن امور کا ارتکاب کیا اور جن نظریات وعقائد کی یہ جماعت حامل ہوگئی تھی وہ اسلام کے لیے کوئی معمولی المیہ نہ تھا ،جن بدعتوں اور ضلالتوں کو یہ جماعت رواج دے رہی تھی اور ان سے عقائد واعمال کے سلسلے میں عوام میں جو غلط فہمیاں پھیل رہی تھیں وہ دین کے لیے بے پناہ مضر اور نقصان دہ تھیں۔
خیال رہے کہ صوفیہ کے نام سے جو لوگ معروف ومشہور تھے ان کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،ایک وہ تھے جو علم وعمل میں نہایت کمزور اور غیر پختہ تھے اور اکابر کی بعض عبارتوں سے ان لوگوں نے بڑے غلط عقائد ونظریات کا عقیدہ قائم کرلیاتھا شرعی امور ان کی نظر میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے،رسوم وبدعات میں یہ لوگ قرب، وصل اور عرفان تلاش کرتے تھے،انھیں کو رواج دیتے تھے،یہی وہ گروہ ہے جس کو حضرت مجدد قدس سرہ صوفیہ خام کے نام سے تعبیر فرماتے ہیں،ان میں ان لوگوں کو بھی داخل کیا جا سکتا ہے جو اپنے بعض اکابر کے کچھ اقوال وافعال جو کہ کسی عقیدت یا مصلحت یا اثناء راہ کچھ مکاشفات جو ان سے ظاہر ہوئے،سے نا جائز فائدے اٹھارہے تھے اور خلاف شرع عقائد واعمال کے مرتکب ہوئے،ان حضرات نے ان امور کو اپنا لیا تھا جس میں نفس کی سہولت کا سامان تھا اور نفس کی مشقت والے امور سے کوئی تعلق نہیں تھا جیسا کہ آج بھی ایسے بہت ہیں۔
دوم: وہ بزرگان دین جو علم وعمل میں پختہ اور صاحب کشف ومشاہدہ تھے اس منزل پر پہنچنے سے قبل جہاں معارف وحقائق شریعت کے مطابق ہوتے ہیں ان بزرگوں سے ایسے ایسے معارف وحقائق اور مکشوفات سرزد ہوئے جو مسلمات سے ٹکراتے تھے یا اثناء راہ سے تعلق رکھتے تھے،حقیقت حال کما حقہ ان بزرگوں پر منکشف نہ ہونے کی
وجہ سے ان امور کا صدور ہوا اگر چہ یہ حضرات مخلص تھے،حضرت مجدد قدس سرہ بڑے احترام سے اور ان کی شخصیتو ں کا لحاظ کرتے ہوئے ان تمام باتوں کا تفصیلی رد فرماتے ہیں جو الوہیت ونبوت کے شایان شان نہیں،اس قسم کے امور بہت ہیں۔
سوم: وہ حضرات ہیں جو علم وعمل میں پختگی کے ساتھ ساتھ معارف وحقائق کو ہمیشہ شریعت کے تابع رکھتے تھے اور خلاف شرع مکشوفات پر دھیان نہیں دیتے تھے اور اسلاف کے خلاف شرع اقوال وافعال میں مناسب تاویلات سے کام لیتے تھے،حضرت مجدد قدس سرہ ایسے بزرگوں کی صحبت کو کبریت احمر سے تعبیر فرماتے ہیں اور جگہ جگہ ان کی صحبت وخدمت کے التزام کو ضروری قرار دیتے ہیں یہ طبقہ آپ کے زمانے میں نہایت نادر الوجود تھا ۔
صوفیہ خام کی جماعت کے افراد چونکہ ظاہراً تقویٰ وپرہیزگاری اور رسمی عبادات ومجاہدات کے حامل ہوتے ہیں اس لیے عموماً عوام کے دلوں میں ان کی قدر ہوتی ہے،مکاشفات ومعاینات اور دیگر خوارق عادات کا ظہور ہوتا رہتا ہے اس لیے قرب وعرفان میں ان کی رسائی عوام میں مشہور ہوتی ہے اور اسی وجہ سے لوگوں کی گرویدگی بھی ہوتی ہے۔
پھر ان صوفیہ خام کو ایک زبردست فائدہ یہ پہنچا کہ عموما واصلان حق،اولیاے کرام اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے چونکہ صوفیہ کے نام سے جانے پہچانے گئے ہیں،یہ جماعت اپنے آپ کو اسی نام سے موسوم کرتی تھی اور انھیں کی تقلید کی دعویدار تھی،انھیں کے لباس میں ملبوس رہتی تھی اسی لیے عوام کو ایسے لوگوں سے بہت دھوکے ہوئے،اس دور میں اس جماعت نے کیا روش اختیار کر رکھی تھی اس کی تھوڑی داستان آپ حضرت مجدد قدس سرہ کی زبانی سماعت فرمائیں:
توحید وجودی سے کچھ صوفیوں نے ایسے غلط مفہومات پیدا کیے جن کی وجہ سے وہ
کفریات تک کا ارتکاب کر بیٹھے اور ہر چیز کو خدا کہہ بیٹھے،حضرت مجدد قدس سرہ توحید کے اقسام تفصیل سے بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ان علوم غامضہ کو بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ
‘‘اکثر ابناے وقت بعضے بہ تقلید بعضے بہ مجرد علم بعضے دیگر بہ علم ممتزج بذوق ولو فی الجملہ وبعضے بہ الحاد وزندقہ دست بدامن ایں توحید وجودی زدہ اند وہمہ را از حق می دانند بلکہ حق می دانند۔’’(مکتوب43 ج1)
ترجمہ:اس زمانے کے اکثر لوگ جن میں بعض تو بطریق تقلید اور بعض محض علم کے زور پر اور کچھ دوسرے ذوق آمیز علم کی بنیاد پر خواہ جتنا بھی ہو اور کچھ لوگوں نے الحاد وزندقہ کے طور پر توحید وجودی کے دامن کو پکڑنا چاہا ہے اور سب کو حق سے جانتے ہیں بلکہ سب کو خدا سمجھتے ہیں۔
ایسے صوفیہ خام اس زمانے میں بھی بہت ہیں میں نے خود دیکھا ہے ایسے جا ہلوں کو ،خود مجھ سے کہنے لگے درختوں مکانوں وغیرہ کی طرف اشارہ کرکے کہ یہ بھی خدا ہے وہ بھی خدا سب کچھ خدا ہے نعوذ باللہ پھر صرف کہنے ہی پر اکتفا نہیں بلکہ ایک صاحب نے تو ایک کتابچہ بھی اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کردیا اور اس کو وہ معرفت خاص تصور کر رہے تھے جو علم کی عقل وادراک سے ماورا اور علم لدنی تھا۔
اس زمانے میں کن وجوہ سے یہ جاہل ایک محور پر جمع ہوئے تھے حضرت مجدد قدس سرہ نے اس مختصر عبارت میں سب کچھ بتا دیا ہے،آج بھی ان باتوں میں وہی اسباب ہیں،اس سے جو غلط فوائد انھوں نے حاصل کیے اس میں ایک یہ بھی تھا ‘‘گردنہاے خودرا از تکلیف شرعی بہ ایں حیلہ می کشادند ومداہنات در احکام شرعیہ می نمایند’’یعنی اپنی گردنوں کو اس حیلہ کے ذریعہ شرعی قوانین کی پابندی سے آزاد کرتے ہیں اور شرعی احکام میں سستی اور مداہنت سے کام لیتے ہیں۔
اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس حیلہ سازی پر نہایت خوش ومسرور اور آخرت کی فلاح وبہبود اپنے ہی لیے سمجھتے تھے،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘وبایں معاملہ خوش وقت وخورسند واتیان اوامر شرعیہ را اگر اعتراف دارند طفیلی می دانند مقصود اصلی وراے شریعت خیال می کنند۔’’
ترجمہ: ان سب کے باوجود یہ لوگ خوش اور مگن ہیں احکام شرعیہ کے بجا لانے کا اگر اعتراف بھی کرتے ہیں تو اسے طفیلی سمجھتے ہیں جب کہ شریعت کے ماورا کو مقصود اصلی خیال کر بیٹھے۔’’
آپ دیکھ رہے ہیں رسول ﷺ نے دنیوی واخروی فلاح وکامیابی کی ضمانت اتباع شریعت سے وابستہ کی تھی،مگر دین کے ان ڈکیتوں نے اسے کالعدم قرار دے دیا اور کہہ دیا کہ اس کی حیثیت تو صرف ایک طفیلی کی ہے مقصود اصلی اس کے علاوہ ہے۔
(2)ان صوفیہ خام کی ایک بڑی کمزوری یہ تھی کہ بزرگوں کے کلام کو اچھے محمل پر محمول کرنے کے بجائے اپنے مخترعات ومزعومات کے سانچے میں ڈھالتے تھے اور اپنی خواہشات کے مطابق جو عقائد گڑھ لیے تھے بزرگوں کے اقوال انھیں کے مطابق کرتے تھے ۔آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘دریں زمان بسیارے ازین طائفہ کہ بزی صوفیان خود را وا می نمایند،توحید وجودی را شائع ساختہ اند وکمال را جز آں نمی داند وبعلم از عین باز ماندہ اند و آن اقوال مشائخ را بمعانی متخیلہ خود فدرود آوردہ مقتداے روزگار خود ساختہ اند وبازار کاسدخود را علم بایں تخیلات رائج داشتہ اند’’
ترجمہ:یعنی اس زمانے کے بہت سے لوگ جو خود کو صوفیوں کے لباس میں ظاہر کرتے ہیں،توحید وجودی کو شائع کیا ہے اور کمال کو اس کے علاوہ نہیں جانتے
ہیں اور علم الیقین کی وجہ سے عین الیقین سے باز رہے ہیں، انھوں نے مشائخ کے اقوال کو اپنے خیالی معنوں میں ڈھالا ہے،اپنے آپ کو مقتداے روزگار بنایا ہے،اپنے کھوٹے بازار کو ان خیالات سے رائج رکھا ہے۔
(3)ان صوفیہ خام نے کیا کیا اس زمانے میں گل کھلائے تھے اور عوام کو کس قعر ضلالت میں ڈھکیل رہے تھے اور صوفیانہ وضع وقطع سے مال وزر کی تحصیل اور دولت دنیا کو بٹورنے کے چکر میں اسلام کو کس طرح برباد کر رہے تھے اس کا اندازہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ مکتوب 47 میں اسلام کی زبوں حالی اور فتنہ اکبری کی روداد شیخ فرید کو سنانے اور علماے سو کی دسیسہ کاریاں سنانے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
‘‘واکثر جہلاے صوفی نما ایں زمانہ حکم علماء سو دارند،فساد اینہا نیز فساد متعدی است’’
یعنی اس زمانے کے اکثر صوفی نما جاہل علماے سو کا حکم رکھتے ہیں،ان کا فساد بھی متعدی فساد ہے،عبارت کا لب ولہجہ بتا رہا ہے کہ علم وعمل سے کورے ان صوفیوں نے کیا کیا،اگر اکبر کو ضلالت وگمرہی کا مجسمہ بنانے میں ایک بازو علماے سو تھے تو دوسرے یہی صوفیہ خام۔
آج بھی آپ دیکھیے صوفیانہ وضع قطع اپنا کر پیری مریدی کا ڈھونگ رچا کر اپنی جہا لتوں پر پردے ڈال کر کس طرح عوام کو راہ حق و صواب سے بھٹکا رہے ہیں،اب کچھ ان کا جزوی کردار بھی سن لیجیے کہ یہ کیا کیا کرتے تھے اور مریدوں سے کرواتے تھے اور کتنی کتنی غلط باتیں کہہ جاتے تھے، مولانا حسن کشمیری نے حضرت مجدد قدس سرہ کو ایک عریضہ تحریر کیا اس میں لکھا تھا آپ فرماتے ہیں:
(4)''نوشتہ بودند کہ شیخ عبد الکبیر یمنی گفتہ است کہ حق سبحانہ وتعالیٰ عالم بغیب
نیست'' یعنی آپ نے لکھا تھا کہ شیخ عبد الکبیر یمنی نے کہا ہے کہ حق تعالیٰ عالم غیب نہیں ہے۔
حضرت یمنی کے فضائل اگرچہ بعض بزرگوں نے بہت لکھے ہیں مگر یہاں بحث بزرگی سے نہیں بلکہ شرعی پیمانے اور محمدی میزان پر اقوال وافعال ناپنے اور تولنے کی ہے،رگ فاروقیت فوراً حرکت میں آئی اور اس مقدس بارگاہ میں ایسے کلمات سننے کی تاب کہاں۔ذرا انداز بیان دیکھیں!
''مخدوما فقیر را تاب استماع امثال ایں سخنان اصلاً نیست بے اختیار رگ فاروقیم در حرکت می آید وفرصت تاویل وتوجیہ آں نمی دہد،قائل آں سخنان شیخ کبیر یمنی باشد یا شیخ اکبر شامی کلام محمد عربی علیہ وعلیٰ آلہ الصلاۃ والسلام درکار ااست نہ کلام محی الدین عربی وصدرالدین قونوی وعبد الرزاق کاشی مارا بنص کار است نہ بفص فتوحات مدنیہ از فتوحات مکیہ مستغنی ساختہ است(مکتوب100 ج1)
ترجمہ:اے مخدوم! فقیر کو اس جیسی باتیں سننے کی بالکل تاب نہیں ہے میری رگ فاروقی بے اختیار حرکت میں آتی ہے اور ایسی باتوں کی تاویل وتوجیہ کی فرصت نہیں دیتی ہے ،ان باتوں کے قائل شیخ کبیر یمنی ہوں یا شیخ اکبر شامی محمد عربیﷺ کا کلام درکار ہے نہ کہ محی الدین ابن عربی ،صدرالدین قونوی اور عبدالرزاق کاشی کا مجھ کو نص سے کام ہے نہ کہ فص(فصوص الحکم)سے مدنی فتوحات نے فتوحات مکیہ سے بے نیاز کردیا ہے۔
اس کلام کا حقیقی لطف تو اہل علم ہی اٹھا سکتے ہیں،آہ! حضرت مجدد قدس سرہ کی غیرت ایمانی کا نظارہ دیکھیے،بات کسی کی بھی ہو اگر غلط ہے تو غلط ہے اس میں حیلہ سازی نہیں،فتوحات مدنیہ نے وہ شرح صدر عطا کیا تھا، وہ وسعتیں دی تھیں اور وہ کمال بخشا تھا کہ سب سے بے نیاز کردیا،یہاں معیار مدنی میزان ہے جو اس پر کھرا وہ
کھرا،حضرت مجدد قدس سرہ کا یہی معیار ہے یہ معمولی بات نہیں فتوحات مدنیہ کے جلوے آپ آگے دیکھیں گے۔
(5)کچھ بزرگوں نے غلبہ حال وسکر میں کفر اور زنار باندھنے تک کی مدح وتعریف کردی ہے،ایک بزرگ فرماتے ہیں:
کفرت بدین اللہ والکفر واجب لدی وعند المسلمین قبیح
یعنی میں نے اللہ کے دین کے ساتھ کفر کیا اور میرے نزدیک کفر واجب تھا اور مسلمانوں کے نزدیک قبیح ہے۔
بزرگوں کی ان باتوں کو اس زمانے کے ایسے صوفیوں نے ایمان بنا لیا ہے اور دیر وحرم،کعبہ وبت خانہ کو یہ لوگ جھگڑا قرار دیتے پھرتے ہیں اور اس سلسلے میں عجیب جاہلانہ گل کاریاں کرتے ہیں،طرہ یہ کہ اس کو علم لدنی سمجھتے ہیں،یا للعجب! اسی کا نتیجہ تھا کہ عبدالرحیم خانخاناں کے ایک جلیس وندیم شاعر نے اپنا لقب کفری رکھا تھا،ان باتوں سے جہلا کفر سے کتنا قریب ہوتے ہیں اور دل میں کفر سے نفرت کتنی تیزی سے نکلتی ہے جو کہ زوال ایمان کا پیش خیمہ ہوتی ہے یہ ہر سمجھدار آدمی جانتا ہے۔
(6)آپ کے زمانے میں ایک بزرگ نظام تھانیسری تھے وہ عشا کی نماز رات کے نصف اخیر تک موخر کرتے تھے اور اسے قیام اللیل کا واسطہ اور ذوق وجمعیت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے جبکہ یہ بصراحت حنفیہ مکروہ ہے،ان کی ایک دوسری حرکت یہ تھی کہ غسالہ یعنی اعضاے وضو سے گرا ہوا پانی یعنی ماء مستعمل کو پینا لوگوں کے لیے جائز قرار دیتے تھے جبکہ امام اعظم قدس سرہ سے ایک روایت کے مطابق وہ نجاست غلیظہ ہے۔
(7)ایک نہایت قبیح وشنیع فعل جو بعض صوفیہ کرتے تھے کہ اپنے خلفا ومریدین سے لیے اپنے لیے سجدہ کراتے تھے ،خود نظام صاحب مذکور کے بعض خلفا
علی الاعلان اس فعل حرام کے مرتکب تھے،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں زمیں بوس ہونے پر بھی کفایت نہ کرتے تھے(دیکھیے مکتوب 29ج1)
(8)اثناء سلوک میں ایک کیفیت پیش آتی ہے جسے یہ لوگ توحید فعلی سے تعبیر کرتے ہیں اس وقت یہ لوگ حق سبحانہ کے علاوہ کسی کو فاعل نہیں سمجھتے ہیں،اس وقت عقیدہ بن جاتا ہے کہ تمام افعال کا فاعل ایک اللہ عز وجل ہے،ان افعال کا مباشر ان کا فاعل نہیں ہے یعنی بظاہر جس انسان سے یہ افعال صادر ہوتے ہیں حقیقتا فاعل نہیں،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ قول خود قریب ہے کہ زندقہ تک پہنچائے۔
(9)کچھ بزرگوں نے با وجودیکہ اللہ تعالیٰ کو مجہول مطلق کہتے ہیں اور اس پر کسی طرح کا حکم کا لگانا درست ومناسب نہیں جانتے اس کے با وجود اللہ تعالیٰ کے لیے قرب ومعیت واحاطہ وسریان وغیرہ کے لیے جو الفاظ وارد ہوئے ہیں ان سب کو قرب ذاتی ومعیت ذاتیہ وسریان ذاتی پر محمول کرتے تھے یہ سب زبردست غلطی تھی جو اپنے اندر سیکڑوں مفاسد رکھتی تھی ،اسی طرح فنا وبقا کو اسی ڈھنگ میں بیان کیا گیا جس سے وہم ہوتا تھا کہ حق تعالیٰ مخلوق میں حلول کر آتا ہے۔
(10)نرے بزرگوں نے ولایت کو نبوت سے افضل قرار دیتے ہوئے کہہ دیا ‘‘الولایۃ افضل من النبوۃ’’ (یعنی ولایت نبوت سے افضل ہے) اس سے جو نتیجہ برآمد ہوتا تھا کہ ولی نبی سے افضل ہے اس لیے بعض بزرگوں نے تاویل کرتے ہوئے یوں کہا کہ نبی کہ ولایت نبی کی نبوت سے افضل ہے،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:اما فی الحقیقۃ کار بر عکس است زیرا نبوت نبی از ولایت او افضل است'' جیسا کہ عنقریب آئے گا۔
(11)کچھ صوفیہ وجودیہ صفات حق کے بارے میں یہ شعر پڑھا کرتے تھے؎
از روے تعقل ہمہ غیر اند صفات
باذات تو از روے تحقق ہمہ عین
اس شعر سے مفہوم ہوتا ہے کہ ذات وصفات میں تغایر صرف علمی ہے،خارجی نہیں،خارج میں ذات وصفات متحد ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ معتزلہ وفلاسفہ جو کہ نفی صفات کرتے ہیں وہ بھی علمی تغایر کے قائل ہیں اور خارج میں اتحاد مانتے ہیں۔
(12)اسلام کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ مومن کے لیے ثواب اور کافر کے لیے عذاب ابدی ہے کچھ بزرگوں نے‘‘رحمتی وسعت کل شئ’’ (میری رحمت ہر چیز کو وسیع ہے) کے تحت یہاں تک کہہ دیا کہ کافروں کو تین حقبہ یعنی دوسو چالیس برس عذاب ہوگا اس کے بعد آگ ان پر برد وسلام ہو جائے گی جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہو گئی تھی،ان لوگوں نے وعید میں خلف جائز قرار دیا اور یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ صوفیہ میں سے کوئی بھی کافروں کے دائمی عذاب کا قائل نہیں ہے۔
(13)کچھ بزرگوں نے خواص ملک کو خواص بشر سے افضل قرار دیا یہ قول بھی جمہور علما کے خلاف ہے حضرت مجدد قدس سرہ کی تحقیق اس معاملہ میں بھی انوکھی ہے کما سیجیئ۔
(14)بعض بزرگوں نے خلافت خلفاے راشدین کے بارے میں یہ کہہ دیا سبب ترتیب خلافتہم مدۃ اعمارہم یعنی خلفاے راشدین کی خلافت کی ترتیب کا سبب ان کی عمروں کی مدت ہے۔
یعنی حضرت ابوبکر کا انتقال حضرت عمر سے پہلے مقدر تھا اس لیے خلافت پہلے
حضرت ابو بکر کو ملی،حضرت عمر کا وصال حضرت عثمان سے پہلے مقدر تھا اس لیے انھیں حضرت عثمان سے پہلے خلافت ملی اور حضرت عثمان کی شہادت حضرت علی سے پہلے مقدر تھی اس لیے حضرت علی سے قبل انھیں خلافت ملی،اس سے کچھ لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ان میں شرف ومرتبہ میں باہم کوئی تفاضل نہیں ہے جس سے ایک گونہ مذہب اہل سنت کو مذہب رفض سے قربت ہو رہی تھی۔
(15)کچھ بزرگ ایسے تھے جو تشبیہ وتنزیہ کے جمع کے قائل تھے ان کا کہنا تھا کہ تنزیہ پر ایمان تو سبھی مومنین کو حاصل ہے عارف وہ ہے جو تشبیہ کے تنزیہ کو جمع کرے اور خلق کو خالق کا ظہور دیکھے ،کثرت کو وحدت کے لباس میں جانے اور صانع کو مصنوع میں مطالعہ کرے حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
بالجملہ توجہ تنزیہ صف نزد ایشاں نقص است وشہود وحدت بے ملاحظہ کثرت عیب''یعنی خالص تنزیہ ان کے یہاں نقص ہے اور کثرت کے ملاحظہ کے بغیر وحدت کا شہود عیب،یہ وہ لوگ تھے جو احدیت خالص کی طرف توجہ کرنے والوں کو ناقص تصور کرتے تھے اور مطالعہ کثرت کے بغیر ملاحظہ وحدت کو تحدید وتقیید گمان کرتے تھے۔
(16)ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو ان لوگوں کو جو کہ ممکن اور واجب کا وجود جدا مانتے تھے مشرک کہتے تھے جبکہ یہ دو وجودوں کو ماننے والے اللہ تعالیٰ کے ماسوا کی عبادت سے تنزہ کرتے اور اجتناب واحتراز سے کام لیتے تھے یہ صوفیہ صرف ان ہی کو موحد مانتے تھے جو صرف ایک وجود کا قائل ہو اگرچہ وہ ہزار بتوں کی پوجا کرے کیونکہ یہ سب حق تعالیٰ کے ظہورات ہیں،ان کی عبادت حق سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت ہے یعنی عالم کو عین حق جانتے ہیں،ان میں سے متاخرین اگر چہ عینیت کے قائل نہیں مگر انھوں نے یہ کہہ دیا کہ عالم نہ عین حق ہے نہ غیر حق۔
(17)کچھ صوفیوں کا حال تو یہاں تک پہنچ گیا تھا کہ کہنے لگے تھے کہ ہم ماتھے کی آنکھوں سے بیداری میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور جو دولت سرور کونینﷺ کو ایک بار شب معراج میں حاصل ہوئی تھی ہم کو ہر روز میسر ہےاور جو نور ان کو دکھائی دیتا تھا اس کو صبح روشن کے مشابہ سمجھتے تھے اور اس نور کو مرتبہ بے کیفی تصور کرتے تھے اور مراتب عروج کی انتہا اسی نور کے ظہور تک تصور کرتے تھے،تعالیٰ اللہ سبحانہ عن ذٰلک علواً کبیرا
(18)کچھ لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہے،روزانہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اس نے ایسا فرمایا ہے،یوں کہا ہے،حد تو یہ تھی کہ کبھی اپنے دشمنوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ سزا اور وعید بیان فرمائی ہے،کبھی دوستوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارتیں سنایا کرتے تھے ۔
ان میں کچھ لوگ تو یہ تک کہہ دیا کرتے تھے کہ تہائی یا چوتھائی شب باقی رہنے سے نماز صبح تک اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی رہی اور ہر طرح کی باتیں ہم نے پوچھیں اور جواب پایا،اس جماعت کی باتوں سے پتہ چلتا ہےکہ یہ اسی نور مذکور کو عین حق جانتے تھے ،اسی کو خدا تصور کرتے تھے محض اس کا ظہور نہیں سمجھتے تھے۔
(19)شرعی قوانین وضوابط کے معاملے میں ان صوفیان خام کے جو عقائد ونظریات ہو گئے تھے وہ دیدۂ عبرت سے پڑھنے کے لائق ہیں،دل لرز اٹھتا ہے،جس سنت اور شریعت کو ہزارہا تکالیف ومصائب جھیل کر سرور کونین ﷺ نے اور آپ کے مقدس صحابہ نے رضی اللہ عنہم اجمعین تمام لوگوں کی فلاح ونجات کے لیے پھیلایا اس کے بارے میں ان حاملان انوار وتجلیات کا ظلم وستم دیکھیے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کتنے دردناک انداز میں فرماتے ہیں:
''متصوفان خام وملحدان بے سر انجام درصدد آنند کہ گردنہاے خود از ربقہ شریعت بر آرند واحکام شرعیہ را مخصوص بعوام دارند خیال می کنند کہ خواص مکلف بمعرفت اند وبس''(مکتوب 276 ج1)
ترجمہ:بعض متصوفان اور بے سر انجام بے دین اس کے در پے ہیں کہ اپنی گردنوں کو شریعت کی گرفت سے باہر کرلیں اور شرعی احکام کو عوام کے ساتھ خاص رکھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ خواص صرف معرفت کے مکلف ہیں۔
ان خامکاروں نے صرف اپنے آپ ہی کو آزاد نہیں کیا تھا بلکہ اپنی بد عملی پر پردہ ڈالنے کے لیے برابر اس عقیدے کی ترویج واشاعت کرتے تھے ،کیونکہ خطرہ تھا کہ ہماری بد عملی دیکھ کر حلقہ ارادت میں کہیں بزرگی کا بھرم نہ کھل جائے اور نذر ونیاز کی وصولیابی ختم ہو جائے،اس لیے ان کی تبلیغ یہ تھی:
می گویند کہ مقصود از اتیان شریعت حصول معرفت است وچون معرفت میسر شد تکلیفات شرعیہ ساقط گشت'' گویا شریعت ایک معمار ہے کہ جب تک مکان کی تعمیر ہو رہی ہے معمار کی ضرورت ہے اب مکان بن گیا معمار مر جائے تو مکان میں کیا فرق پڑے گا ،معرفت کے حصول تک شریعت کی ضرورت تھی وہ حاصل ہو گئی ضرورت ختم ہو گئی پھر جسارت دیکھیے کہ اپنے باطل دعوے کو نص قرآنی سے ثابت کرنے کی بھونڈی کو شش یہ کرتے تھے:
ایں کریمہ را ‘‘واعبد ربک حتیٰ یاتیک الیقین ای اللہ’’ پھر اس جماعت کو ایک خطرہ یہ تھا کہ اسلامی حکومت کہیں ہماری بد عملی پر ہماری سرزنش نہ کرے اور پٹائی ہو جائے تو اس کا بھی ان لوگوں نے یوں راستہ صاف کردیا'' چناں کہ از جہل امرا وسلاطین را بجز عدل وانصاف مکلف نمی دانند'' یعنی جیسا کہ جہالت کی وجہ سے امرا وسلاطین کو عدل وانصاف کے سوا کسی اور چیز کا مکلف نہیں جانتے ہیں،بادشاہوں کو
انھوں نے یہ سہولت دے دی اور ان کے آزار سے بھی مطمئن ہو گئے اب انھیں ایک خدشہ یہ تھا کہ جن بزرگوں کی ولایت وقرب پر سب کا اتفاق ہے اور عوام وخواص میں وہ مقبول ومشہور ہیں،ان کی عبادات وریاضات اور تقویٰ وطہارت بھی زبان زد عوام وخواص ہے تو اگر شریعت کی ضرورت نہ تھی تو مقربان خدا کیوں یہ تکلیفیں اٹھاتے رہے،اس کو نھوں نے بہ آسانی یوں حل کردیا:
''ومی انگارند کہ عبادات عارفاں ریائی است برائے آں می کنند کہ مبتدیان وپس روان ایشان بہ آں اقتدا کنند نہ آنکہ عارفان محتاج بہ عبادات اند'' یعنی یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عارفوں کی عبادت ریا کاری ہے اس واسطے کرتے ہیں تاکہ ابتدائی درجے اور پیچھے چلنے والے لوگ اس کی اقتدا کریں نہ کہ اس واسطے کہ عارفین عبادتوں کے محتاج ہیں۔
آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس جماعت نے کتنی عیاری اور مکاری سے سارے عرفاء وکاملین کی عبادتوں پر صرف پانی ہی نہیں پھیر دیا بلکہ شرک خفی یعنی ریا کاری کا بہتان والزام بھی عائد کردیا، مزید برآں یہ بھی دیکھیں ''در تائید ایں قول از مشائخ نقل می کنند کہ گفتہ اند تا پیر منافق ومرائی نباشد مرید ازوے منتفع نہ گردد''
خذلہم اللہ سبحانہ ما اجہلہم
جہالت ونادانی کا نقطہ آخر دیکھیے کہ جب تک پیر منافق اور ریا کار نہ ہوگا اس وقت تک مریدوں کو کوئی نفع حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔
(20) ان خامکاروں میں کچھ تو ضلالت اور گمرہی کی اس گہری وادی میں گر چکے تھے کہ اسلامی رمق ختم ہو گئی تھی اور اسلام کی بنیادی باتوں کا انکار کر رہے تھے ذرا ان کا حال سنیے:
''جمعے از ناقصان ایں راہ ازاں الفاظ موہمہ محو اضمحلال عینی دانستہ وبزندقہ رسیدہ اند کہ از عذاب وثواب اخروی انکار نمودہ اند کہ ہمچنانکہ از وحدت بکثرت آمدہ اند مرتبہ دیگر
ہمیں طور از کثرت بوحدت خواہند رفت وایں کثرت درایں وحدت مضمحل خواہد شد،جمعے ازیں زنادقہ آں محو شدن را قیامت کبریٰ خیال کردہ اند واز حشر ونشر وحساب وصراط ومیزان انکار نمودہ اند،ضلوا فاضلوا''
ترجمہ:یعنی اس راہ کے ناقصوں میں سے ایک گروہ نے محو واضمحلال کے الفاظ موہمہ سے عینی محو واضمحلال سمجھا ہے اور زندقہ تک پہنچے ہیں کہ اخروی عذاب وثواب سے انکار کردیا اور خیال کیا ہے کہ جس طرح وحدت سے کثرت میں آئے ہیں دوسری مرتبہ اسی طرح کثرت سے وحدت میں چلے جا ئیں گے اور یہ کثرت اس وحدت میں گم ہو جائے گی ،ان زندیقوں میں سے ایک گروہ نے اس گم ہونے اور محو ہونے کو قیامت کبریٰ خیال کرلیا ہے اور حشر ونشر اور حساب وصراط ومیزان کا انکار کر دیا ہے تو گمراہ ہوئے اور اوروں کو گمراہ کیا۔
تصوف کی آڑ لے کر کس طرح ضروریات دین کا انکار کردیا اور کہہ دیا کہ جس طرح دریا میں قطرہ گم ہو جاتا ہے اسی طرح بندہ خدا میں گم ہو جاتا ہے اور جب خدا میں گم ہو گیا تو عذاب وثواب سے کیا تعلق رہا،کچھ خباثت میں اور بڑھے تو انھوں نے اس کو قیامت کہہ دیا لہٰذا ان سب چیزوں کی چھٹی ہو گئی جو بعد قیامت پیش آئیں گی۔
کچھ ملحدوں کا حال تو اس درجہ پر پہنچ گیا تھا کہ'' بعضے از ملاحدہ کہ بباطل مسند شیخی گرفت حکم جواز تناسخ می نمایند ومی انگارند کہ نفس تا زمانہ کہ بحد کمال رسید از تقلب ابدان اورا چارہ نبودد، می گویند چوں بحد کمال رسید از تقلب ابدان بلکہ از تعلق بدن فارغ گشت'' یعنی بعض بے دینوں نے کہ باطل طور پر مشیخت کی مسند پکڑ لی ہے تناسخ(آواگون) کے جواز کا حکم دیتے اور سمجھتے ہیں کہ نفس جس وقت تک حد کمال کو نہیں پہنچتا ہے اس وقت تک اسے مختلف بدن بدلنے سے چارہ نہیں،کہتے ہیں کہ جب حد کمال کو پہنچ گیا تو مختلف بدنوں میں پھر نے بلکہ بدن کے تعلق سے فارغ ہو
یہ تھا اس گروہ کا کارنامہ جو جبہ ودستار کی آڑ میں لوگوں کا شکار کرکے اپنا پیٹ بھرتے تھے ،یہ تو بہت کم ہے جو نہیں لکھا گیا وہ اس سے کہیں زیادہ ہے ،ستم تو یہ کہ ان سب کی نسبت ایسے بزرگوں کی طرف کی جاتی تھی یا ان کی باتوں سے یہ مطالب اخذ کیے جاتے تھے جن کے بارے میں لب کشائی کی ہمت نہ تھی،اس کو کمال معرفت اور علم لدنی تصور کیا جاتا تھا،اب تھوڑا حال ان کے عقائد اور عبادات کے سلسلے میں اور سن لیجیے پھر بات کا رخ دوسری طرف کیا جائے۔
(22)ان لوگوں کا ایک عام خیال یہ تھا کہ قلب درست ہو،باطن صحیح ہو جائے تو اعمال ظاہر کی کوئی خاص ضرورت نہیں،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
''سلامتی قلب از التفات بما سوائے او تعالیٰ واعمال صالحہ کہ بہ بدن تعلق دارند وشریعت باتیان آں امر فرمودہ ہر دو درکار است،دعویٰ سلامت قلب بے اتیان اعمال صالحہ بدنیہ باطل است ہم چنان کہ روح دریں نشاء بے بدن غیر متصور است بسیارے از ملحدان ایں وقت ایں قسم دعوائے می نمایند،نجانا اللہ سبحانہ عن معتقداتہم السوء بصدقۃ حبیبہ’’
ترجمہ:اللہ تعالیٰ کے ماسوا کی طرف سے قلب کا خالی ہونا اور اعمال صالحہ جو کہ بدن سے تعلق رکھتے ہیں،اور شریعت نے جن کے بجا لانے کا حکم دیا ہے دونوں ہی درکار ہیں،اعمال صالحہ بدنیہ بجا لائے بغیر سلامتی قلب کا دعویٰ باطل ہے جیسے روح کو اس دنیا میں بے بدن کے تصور نہیں کیا جا سکتا ہے،بہت سے اس وقت کے ملحد اس قسم کا دعویٰ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہمیں ان کے برے عقیدے سے نجات بخشے۔
ایک اور موقع پر فرماتے ہیں''جو شخص باطن کو درست کرتا ہے اور ظاہر کو یوں
ہی چھوڑے ہوئے ہے،ملحد ہے اور اس کے باطنی احوال استدراج ہیں،حال باطن کی صحت کی علامت ظاہر کو احکام شرعیہ سے آراستہ کرنے کا اہتمام ہے۔
(23)ان صوفیوں کی ایک عام غلطی یہ بھی تھی کہ ان کی نظر میں مکاشفات اور معارف وحقائق کی اس درجہ اہمیت پیدا ہو گئی تھی کہ ان ہی کو اصل سمجھتے تھے ،اور اعمال وافعال کی بنیاد انھیں پر رکھتے تھے اگرچہ یہ مکشوفات ظاہر شریعت سے کتنے ہی کیوں نہ ٹکراتے ہوں،اسی لیے حضرت مجدد قدس سرہ نے متعدد جگہ اس کا تذکرہ کیا ہے کہ کتاب وسنت اور قیاس واجماع ہی دلائل حل وحرمت کے مثبت ہیں الہام وکشف مثبت احکام شرعیہ نہیں ہے،ایک جگہ فرماتے ہیں:
''پس مقرر شد کہ معتبر در اثبات احکام شرعیہ کتاب وسنت است وقیاس مجتہدان واجماع امت نیز بحقیقت مثبت احکام است بعد ازیں چہار ادلہ شرعیہ ہیچ دلیلے مثبت احکام شرعیہ نمی تواند شد،الہام مثبت حل وحرمت نبود وکشف ارباب باطن اثبات فرض وسنت نہ نماید''(مکتوب 55 جلد دوم)
ترجمہ:پس ثابت ہو گیا کہ احکام شرعیہ کے اثبات میں اعتبار کتاب وسنت کا ہے اور قیاس واجماع امت بھی در حقیقت احکام کو ثابت کرتے ہیں۔ان چار شرعی دلیلوں کے بعد کوئی دلیل احکام شرعیہ کو ثابت نہیں کر سکتی ہے ،الہام حلال وحرام کو ثابت نہیں کرتا اور ارباب باطن کا کشف فرض وسنت کا اثبات نہیں کر سکتا ہے۔
(24)نماز جیسی مہتم بالشان عبادت جس کے فضائل وکمالات سے قرآن وحدیث بھرے پڑے ہیں اس کے بارے میں ذرا ان متصوفہ کا رویہ ملاحظہ فرمائیں:
''جمعے را ازیں طائفہ کہ بہ حقیقت نماز آگاہ نساختند وبکمالات مخصوصہ آں اطلاع نبخشیدند،معالجات امراض خودرا از امور دیگر جستند وحصول مرادات خود را باشیاء دیگر مربوط ساختند''
ترجمہ: ان متصوفین کا ایک گروہ جنھیں نماز کی حقیقت اور اس کے مخصوص کمالات سے آگاہی نہیں بخشی گئی ان لوگوں نے اپنے امراض کا علاج دوسرے امور سے ڈھونڈا اور اپنی مرادات کا حصول دیگر چیزوں سے مربوط کیا۔
یعنی قرب حق کی نعمت ودولت حاصل کرنے کے لیے نماز جیسی چیز ان کی نظر میں نا کافی تھی اور اس میں کوئی خاص امتیاز نہ تھا اسی لیے ریاضات ومجاہدات ایسے اپنائے گئے جن کا قرآن وسنت میں کہیں وجود نہ تھا ،یہ طریقہ اختیار کرکے گویا عملا یہ بتا یا گیا کی قرب حق کی مخصوص دولت اس اسلام اور اس کی عبادت سے حاصل نہیں ہو سکتی ہے جو قرآن وحدیث میں بیان ہوا، اگر یہی کافی ہوتا تو نرے اسلام پر عمل کرتے ہیں بہت سے پکے نمازی ہیں انھیں کیوں نہیں معرفت وولایت حاصل ہو جاتی۔
اب ظاہر ہے ریاضات ومجاہدات کی قوت ہر ایک تو رکھتا نہیں ہے تو بے چارہ ضعیف وناتواں تحصیل معرفت کے لیے ہمت ہی کیوں کرے گا،یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے جو ان بڑی بڑی ریاضتوں کا حامل نہیں ہو سکتا ہے وہ ارادہ ہی کیسے کرے گا؟ آپ دیکھ رہے ہیں جس عرفان حق کے لیے بندوں کے مالک نے انھیں صلاحیتیں دیں اور معرفت کے لیے بھیجا اور انھیں حکم دیا وہ چند لوگوں کے لیے مخصوص ہو کر رہ گئی یہ تاثر کوئی نیا نہیں تھا بلکہ کافی زمانے سے پیدا ہو گیا تھا، بزرگوں نے تو خیر ہر حال میں شریعت کی پابندی لازم رکھی مگر ان خامکاروں کے نفوس امارہ پر عبادت بہت گراں تھی اس لیے یہاں تک کہہ دیا:
ازینہا نماز را دور از کار دانستہ ،مبنائے آں را بر غیر وغیریت داشتند'' یعنی ان میں سے ایک گروہ نے نماز کو دور ازکار جانا کہ اس کی بنیاد غیر وغیریت پر ہے یعنی نماز سے پتہ چلتا ہے کہ عابد اور ہے معبود اور،جبکہ یہاں تو ایک ہی ہے ،خدا کی پناہ! روزہ میں چونکہ یہ
غیر وغیریت نہيں بلکہ کھانا پینا وغیرہ ترک کرنا ہے جو کہ خدائی صفات سے ہے اس لیے ان بزرگوں نے روزہ کو نماز سے افضل قرار دیا ہے اور فرمایا:
''در صوم کہ ترک اکل وشرب است بصفت صمدیت متحقق شدن است ودر نماز بغیر وغیریت آمدن وعابد ومعبود دانستن'' یعنی روزے میں کہ کھانے پینے کو چھوڑنا ہے ،صفت صمدیت سے متحقق ہونا ہے اور نماز میں غیر وغیریت میں آنا اور عابد ومعبود جاننا۔
نماز کا چونکہ یہ حال ہو گیا لہٰذا اب روحانی غذا کہاں تلاش کی جائے تو اس کا سامان یوں فراہم ہوا :
''از عدم آگاہی حقیقت نماز است کی جم غفیر ازین طائفہ تسکین اضطراب خودرا از سماع ونغمہ و وجد و تواجد جستند ومطلوب خودرا در پردہائے نغمہ مطالعہ نمودند'' (مکتوب 261 ج 1)
ترجمہ:حقیقت نماز سے بے خبری ہی کا نتیجہ ہے کہ ان میں سےایک بڑے گروہ نے اپنے اضطراب کی تسکین سماع ونغمہ اور وجد وتواجد میں ڈھونڈی اور اپنے مطلوب کو نغمہ کے پردوں میں تلاش کیا۔
اس میں حظ نفس کا پورا سامان موجود تھا خاص کر آج کے صوفیوں کے لیے جو تصوف جیسی بے بہا دولت کے لیے بد نما داغ بنے ہیں اور اس سے تنفر کا باعث بھی،اور علماے ظاہر جنھوں نے تصوف کو اس کے قریب ہو کر سمجھنے کے بجائے خامکار صوفیوں سے سمجھا لہٰذا اپنی موشگا فیوں کی آما جگاہ بنادیا ان میں نرے حقائق کا انکار کر بیٹھے اور یہی چیز اللہ والوں کے انکار کا سبب بن گئی،مگر صوفیوں نے رقص وسرود کو اپنی عادت بنا لیا اور اس کے منکرین کو ملائے خشک کہنے لگے،اللہ والوں کے یہاں تو پھر بھی اس کے حدود وقیود تھے اور انھیں مکمل طور پر شریعت کا پاس ولحاظ تھا مگر بے