مواد پر جائیں

باب ۲ از ۵۷صفحات ۲۹–۳۸

حدیث تجدید

لفظ تجدید یا مجدد مندرجہ ذیل حدیث سے لیا گیا ہے جس کو امام داؤد نے اپنی سنن میں بیان کیا ہے،تاجدار مدینہ ﷺ فرماتے ہیں:

ان اللہ عزوجل یبعث لہٰذہ الامۃ علیٰ راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا(سنن ابی داؤد باب ما یذکر فی قرن المائۃ)

یعنی اللہ عز وجل اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر ایسے لوگ پیدا کرےگا جو اس کے لیے اس کے دین کو نیا اور تازہ کرتے رہیں گے۔

مشکات شریف میں بھی اسی حدیث کو ابو داؤد کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا ہے حضرت ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے مرقات میں طبرانی کا بھی حوالہ دیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح اور اس کے رجال سب کے سب ثقہ ہیں اور اسی طرح اس کی تصحیح حاکم نے بھی کی ہے۔

اسباب فساد:

حضرت مجدد قدس سرہ نے سب سے پہلے ان فساد کی راہوں اور اسباب کو تلاش کیا جن کی وجہ سے عقائد واعمال میں بگاڑ پیدا ہو رہا تھا اور نئے نئے فتنے اور فرقے جنم لے رہے تھے اور اسلام اور اہل اسلام کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے ،آپ (حضرت مجدد) نے غور کیا کہ اسلام وسنت کے احکام ومسائل عام طور پر نفس کے خلاف واقع ہوئے ہیں ،نفس وشیطان ہمیشہ عقائد واعمال میں انسان کو غلطیوں کا شکار کرکے آخرت کی تباہی اور بربادی میں لگے رہتے ہیں،شیطان بھی نفس امارہ ہی کو وسیلہ بناتا ہے اور عموما اسی کے ذریعہ بھٹکاتا ہے،نفس ہی کی آمیزش سے عقل برباد ہوتی ہے اور پھر عقل کے فساد سے انسان کی سوچ دینی نہیں رہتی ہے۔

عقل کے فساد سے انسان رفتہ رفتہ ایمان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے،اسلام کے

اہم اہم مسائل وعقائد شکوک وشبہات کی نذر ہونے لگتے ہیں،یہی عقل خالص جب انسان کی رہنما بنتی ہے تو دینی مسائل کو عقل کے معیار پر پرکھنے لگتا ہے جو عقل کے موافق آیا مان لیا ورنہ انکار کردیا۔

پھر عقل کے فساد ونقصان سےاحکام شرعیہ میں تشکیک پھر تضحیک شروع ہو جاتی ہے ،پھر اسی سے احکام شرع کی بجا آوری میں سستی و کاہلی شروع ہو جاتی ہے،انسان ان پر عمل کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے پھر علم بھی برائے عمل یا برائے آخرت نہیں بلکہ حصول دنیا اور مال وزر کے لیے حاصل کیا جاتا ہے اور پھر اسی سے ان تمام فتنوں کے دروازے کھلتے ہیں جو علماے سو سے اس دنیا میں ظاہر ہوئے۔

عقل کے فساد ہی نے تشکیک کے دروازے کھولے،ناقص عقل کو رہنما بنانے ہی سے منطق وفلسفہ کو نہایت شوق سے اسلامیات میں داخل کیا گیا،اسی کے سہارے بہت سے احکام شرعیہ تذبذب وتزلزل کا شکار ہوئے،الغرض حضرت مجدد قدس سرہ نے نبض پر ہاتھ رکھا اور جو بنیادی علاج ہو سکتا تھا آپ نے وہی کیا۔

آپ جانتے تھے کہ وعظ وتقریر اور تصنیف وتالیف کے ذریعہ اظہار حق تو کیا جا سکتا ہے اور مسائل کی تحقیق و تدقیق ہو سکتی ہے مگر قیل وقال اور بحث ومباحثہ کو اس میں بہت دخل ہے ،عقل جب فاسد ہوتی ہے اور نفس کا غلبہ ہوتا ہے تو انسان جلدی قبول حق کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے،شرارت نفس عز وجاہ کے ایسے خواب دکھاتی ہے کہ وہ کسی حال میں بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے،الغرض نظر واستدلال کا طریقہ یقینا بہت مفید رہا ہے اور علماے اسلام نے اس کے ذریعہ بہت کچھ کیا ہے مگر اس سے بھی زیادہ موثر اور پختہ جو طریقہ ہے وہ تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کا ہے جس کی اہمیت وافادیت سب کو مسلم ہے۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو اسلام کی بنا ہی اس پر رکھی گئی یہ ایک آسان اور مختصر

راستہ ہے جس سے آسانی کے ساتھ حق دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے کسی دوسرے طریقے سے یہ نہیں اترتاہے،جو ثبات وقرار اور اطمینان اس طریقے سے حاصل ہوتا ہے وہ کسی اور سے نہیں،اس سے اختلافات وفسادات کی راہیں مسدود ہوتی ہیں یہ چیز فساد سے صلاح کی طرف لاتی ہے،تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کی جو خدمت بزرگوں نے اس طریق سے کی ہے وہ کسی اور طریقے سے حاصل نہ ہو سکی،اس کے ذریعہ اسلام گویا پلایا جاتا تھا،اسلام کو پوری آب وتاب کے ساتھ اگر زندہ رکھا ہے تو اسی نے ،بڑھایا ہے تو اسی نے،انسان کو شکوک وشبہات کی وادیوں سے نکالا ہے تو اسی نے۔

مباحثات ومناظرات اور موشگافیوں کی وجہ سے زندگی کا سفر بڑا طویل بڑا پر خطر ہو جا تا ہے،جن قلبی توانائیوں کو خدا کے لیے صرف ہونا چاہئے،جن توجہات اورادراکات کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات واسما کے لیے ہونا چاہئے وہ ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں جن سے بھٹکنے اور دور ہونے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہ تھا ،سمجھنے کو کوئی کیا سمجھے اس کے ذریعہ علمی قوتیں اور توانا ئیاں اور قوت استدلال کے مظاہرے ہوتے ہیں مگر عوام کی ہدایت ورہنمائی اور صلاح کے لیے یہ طریق پختہ نہیں ۔

آج ہندوستانی حالات ہمارے سامنے ہیں پوری تاریخ اسلام ہمارے سامنے ہے۔ الغرض حضرت مجدد قدس سرہ نے اصلاح کا وہی طریقہ اختیار فرمایا جو نہایت پختہ،موثر اور عوام کے دلوں میں بہ آسانی اترنے والا ہو ،جاہل وعالم کو جس کے ذریعہ مطمئن کیا جا سکتا تھا وہ تھا تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کا راستہ جس کے ذریعہ بجائے بھٹکنے کے بندہ اور قریب ہوتا ہے ،دین کی حکمتیں اور مصلحتیں کھلتی ہیں،عقل کامل ہوتی ہے اور ظاہر وباطن اخلاق کاملہ اور اوصاف فاضلہ سے متصف ہوتے ہیں۔

تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کا کام آپ نے نہایت منظم طریقے سے کیا اور بڑی خوش اسلوبی سے چند برسوں میں قوت قدسیہ کے وہ مالک اور انوار وتجلیات کے حامل

ایسے سینکڑوں افراد آپ نے تیار کر دیے جنھوں نے وہ کیا جو لاکھوں نہ کر سکتے تھے جیسا کہ آگے تفصیل سے آئے گا۔

اس تصفیہ اور تزکیہ کی اہمیت وافادیت ہر دور میں رہی اور اس کے حاملین کا جو وقار،اثر اور نفوذ عوام وخواص کے قلوب واذہان پر رہا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے مگر تزکیہ وتصفیہ کے سلسلے میں جن جن ریاضات ومجاہدات کو اختیار کیا گیا اور اس کے نتیجے میں جو مکاشفات ومشاہدات شروع ہوئے وہ بھی دین کے لیے نرے مضر ثابت ہونے لگے،اپنی اپنی حیثیت واستعداد کے مطابق لوگوں پر معاملات منکشف ہوتے ہیں جس پر جو منکشف ہوتا تھا اگر چہ کسی خارجی وجہ سے وہ کشف صحیح ہوتا مگر اسے عقیدہ،نظر یا عمل کی اساس بنا لیا جاتا تھا، نیز مکشوفات وغیرہ شریعت حقہ کے موافق تب ہوتے ہیں جب وصل انتہا کو پہنچ جا تا ہے،انسان جب تک راستے میں ہوتا ہے مختلف امور ،کیفیات اور واردات طاری ہوتی ہیں جو کبھی بظاہر شریعت کے خلاف ہوتی ہیں ،یہیں سے تصوف کے معاملے میں فساد کی راہیں کھلیں اور ناقص لوگوں کے ذریعہ نہایت زبر دست غلطیاں ہونے لگیں جیسا کہ تفصیل آئے گی ۔

اصلاح کے لیے ضروری تھا کہ اب زمانے کو ایسا رہبر ملے جو از اول تا آخر مقامات واحوال اور کیفیات و واردات کا شناسا ہو اور ہر چور دروازے کو اچھی طرح پہچانتا ہو ،چنانچہ حضرت مجدد قدس سرہ نے اس کام کو جس خوش اسلوبی سے کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو،آپ نے ذات وصفات واسماء اور نبوت ورسالت ودیگر تمام احکام کے تقدس اور عظمت کو جس طرح برقرار رکھا اور ہر طرح سے ہر آلائش کو آپ نے جس طرح دور کرکے اسلام وسنت کی عظمت کو دوبالا کیا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔

مختصر یہ کہ دین کو نقصان اور قرآن وسنت کے احکام ومسائل اور اعتقادیات کو جو بربادیاں لاحق ہوئیں،ان میں سے ایک تو سب سے زیادہ دخل ان علماےسو کو ہے جو

نفس وعقل کے تابع ہوئے،ہر دور میں عقائد واعمال میں بربادی کا سرچشمہ زیادہ تر یہی گروپ رہا ہے،انھوں نے اپنی مادی منفعتیں حاصل کرنا ہی اپنا مقصود اصلی بنایا اور اس سلسلے میں ہر بڑے سے بڑا کردار جو اپنا سکتے تھے وہ اپنایا۔

دوسرے تصوف کا دم بھرنے والے ناقص حضرات نے بھی اسلام وسنت کو بہت نقصان پہنچایا اسی لیے حضرت مجدد قدس سرہ نے ان دونوں کی خوب خبر لی ہے ،پھر علما کو بگاڑنے میں نفس وعقل ناقص کے ساتھ منطق وفلسفہ نے بھی خوب حصہ لیا تھا ،عقائد جو تذبذب کا شکار ہوئے ،مختلف گمراہ فرقے رونما ہوئے وہ زیادہ تر اسی کی دین ہیں،قرآن وحدیث کے علوم کی قدریں گھٹانے والا یہی منطق وفلسفہ ہے،متکبر بنانے،مناظرات ومباحثات اور تخریب کاری پر ابھارنے والا یہی ہے۔

اللہ ورسول کی حقیقی عظمتوں پر جتنے شدید اور دقیق حملے اس نے کیے وہ کسی نے نہیں کیے،اس نے اپنے دام تزویر میں ایسوں ایسوں کو پھا نسا ہے جو بیان سے باہر ہے نا معلوم کتنوں کو جہنم کے حوالے کردیا ،جو درد و آہ دل میں ہونا چاہیے،جو سرد آہیں راتوں کی تنہائیوں میں بندوں کی طرف سے خدا کی بارگاہ میں پیش ہونا چاہئیں وہ اس نے کبھی پیدا نہ ہونے دی،تحقیق وتدقیق کے نام پر لوگوں کو ایسے خیالات کی دنیا عطا کی جس کی وجہ سے ایک جو قلبی وذہنی لگاؤ اللہ و رسولﷺ کے ساتھ پیدا ہونا چاہیے تھا،تسلیم واطاعت کا جو جذبہ رونما ہونا چاہیے تھا وہ کبھی نہ ہو سکا اسی لیے حضرت مجدد قدس سرہ نے اس کی بھی خوب خبر لی ہے اور اس کی تمام قباحتوں کو طشت ازبام کردیا اور بتا دیا کہ عقل سے کوتاہ اسے پختگی ذہن وفکر کا ذریعہ سمجھتے ہیں ورنہ یہ سراسر بے عقلی وبے خردی پر مبنی ہے اور ہر طرح ناقص ہے،اب ان گروہوں کی داستانیں سنیے کیا کیا انھوں نے گل کھلائے اور پھر حضرت مجدد قدس سرہ کی اصلاحی اور تجدیدی کوششیں۔

اس سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ نے جتنی بھی کوششیں کی ہیں وہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ عقائد واعمال کے مفسد عناصر کو آپ نے نشانہ بنا یا ہے ،ہندوستان اس وقت سب سے آگے ہو گیا تھا اسی لیے رحمت حق سے آپ کے وجود کی سعادت ہندوستان کو میسر آئی اور اپنی تجدید واصلاح کا آغاز اس ملک سے کیا اور رفتہ رفتہ آپ کی کوششیں پوری دنیا پر چھا گئیں،اگر آج بھی حضرت مجدد کو صحیح سے پڑھا جائے اور مشعل راہ بنایا جائے تو وہ ساری دشواریاں حل ہو سکتی ہیں بلکہ یہی ایک کامیاب راستہ مسائل کے حل کا ہے۔

اکبر کا ابتدائی حال:

اکبر بادشاہ دین سے جاہل اور ان پڑھ تھا لیکن دل میں طلب حق موجود تھی اگر اسے سنبھالا جاتا اور اخلاص کے ساتھ دینی تربیت کی جاتی تو اس سے بہت کچھ دینی کام لیا جا سکتا تھا ،وہ شروع میں اسلام اور اہل اسلام کی بڑی قدر کرتا تھا اسلامی مراسم کا سختی سے پابند تھا،نماز تو بڑی چیز ہے جماعت بھی قضا نہ ہوتی،امامت کے لیے سات عالم مقر ر تھے جن میں سے ایک ملا عبدالقادر بھی تھے لوگوں کو دربار میں جماعت کی تاکید کرتا ،سفر میں خاص ایک خیمہ نماز کے لیے نصب کیا جاتا جس میں باجماعت نماز ادا ہوتی۔

علم دین اور علماے دین کا ادب واحترام بادشاہ کے دل میں اس حد تک تھا کہ شیخ عبدالنبی جو کہ اکبر کے ابتدائی عہد میں صدر جہاں کے منصب پر فائز تھے اکبر ان کا بے پناہ احترام کرتا ،غایت تعظیم وتکریم کی وجہ سے کبھی کبھی ان کے پاس حدیث شریف سننے کے لیے پہنچ جاتا،ایک دو دن تو بادشاہ نے جو تیاں تک سیدھی کیں۔

........................

۔1 اکبر اور اس کے دین سے متعلق سارے مضامین ‘‘تذکرہ مجدد الف ثانی’’ سے لیے ہیں حضرت ملا عبد القادر بدایونی علیہ الرحمہ کی عبارتوں کے صرف ترجمے اقتصاراً لیے ہیں ۔

علماء وصلحا اور اولیاے کرام کی صحبت وخدمت کا اتنا حریص تھا کہ حضرت شیخ سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے پڑوس کی وجہ سے اس نے فتح پور کو دار السلطنت بنا لیا تھا،کئی دفعہ پا پیادہ اجمیر شریف حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کو گیا ،فتح پور سیکری میں اس نے ایک تالاب بنوایا،اس کے ارد گرد عمارتیں بنوائیں جن کا نام عبادت خانہ رکھا گیا تھا بادشاہ اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں اسی مقام پر ایک پرانے حجرے کے پتھر پر بیٹھ کر مراقبہ کرتا اور اکتساب فیض کرتا۔

فساد کا آغاز:

نماز جمعہ کے بعد بادشاہ اسی عمارت میں بیٹھتا ،علماء جمع ہوتے جن سے وہ دین کے اصول وفروع کی تحقیق وجستجو کرتا اور ان کی قدردانی کے طور پر ہر ایک کو حسب حیثیت نذرانے بھی پیش کرتا ۔

اب ان علما نے دیکھا کہ دنیاوی مفادات حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے،مال وزر کے طالب ادھر ادھر سے جمع ہونا شروع ہو گئے،دنیا جب جمع ہوتی ہے تو حسد آتا ہی ہے اب جب ہر ایک بادشاہ کی بارگاہ میں قرب ومنزلت کے لیے کوشاں رہنے لگا ،ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ تنہا ہمیں رہیں تاکہ صرف ہماری جیب گرم ہو ،بادشاہ کی ساری توجہات کا محور ہماری ذات ہو،اب اس چکر میں ان لوگوں نے ایک دوسرے کو گرانا اور ذلیل کرنا شروع کردیا،مناظرے اور مباحثے وجود میں آنے لگے ، ہر ایک دوسرے کو جاہل اور ان پڑھ ثابت کرنے کے درپے رہتا،سینکڑوں علما کا اجتماع ہوتا اور مقصد سب کا عزت واقتدار اور مال وزر کی تحصیل ہوتی۔

سب سے پہلا جھگڑا جو اس قوم سے شروع ہوا وہ تھا نشستگاہوں کا ہر ایک ایسی جگہ بیٹھنا چاہتا تھا جو بادشاہ سے قریب ہو ،ظاہر ہے ایسے حالات میں ان کا وقار کیسے قائم رہ سکتا تھا ،مگر بادشاہ نے پھر بھی چشم پوشی سے کام لیا،پھر آگے تو یہ حال ہوا

کہ ملا عبدالقادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں'' باہم ایک دوسرے پر زبان کی تلواریں نکالے ایک دوسرے کی تردید ونفی اور مقابلہ میں مصروف تھے ،ان کے اختلاف اس حد تک پہنچے کہ ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگا اور ایک دوسرے کو گمراہ کہنے لگا،ان مولویوں کی گردن کی رگیں پھول آئیں اور شور ہونے لگا سخت ہلڑ مچ گیا۔

ظاہر ہے ایسے حالات میں ان دین کے ستونوں اور رہبروں کا کیا احترام ووقار قائم رہتا،بادشاہ اس گروپ کی یہ ناشائستہ حرکات دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا اور حکم دے دیا کہ ان میں جو نا معقول ونالائق ہوں انھیں دربار میں آنے سے منع کردیا جائے۔

علماے سو کا کردار:

مگر جن کی آمد ورفت رہی ان کا حال یہ تھا کہ ایک کسی چیز کو حلال کہتا تو دوسرا اس کی حرمت کا فتویٰ دیتا،ایک کسی کو ناجائز کہتا تو دوسرا اس کی ضد میں اس کی حلت ثابت کرتا ،آپ ان علماے سو کے کارنامے پڑھ کر حیرت زدہ ہو جائیں گے،اکبر کے دربار میں ایک ملا عبداللہ سلطان پوری تھے جن کے اثر ورسوخ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کو سلطنت میں مخدوم الملک کا عہدہ ملا ہوا تھا،انھوں نے اپنے علم کے زور پر فریضہ حج کے اسقاط کا فتویٰ محض اس لیے دے دیا کہ حج نہ کرنا پڑے،زکات کے معاملے میں یہی ملا جی ششماہی تقسیم کا حیلہ کر لیا کرتے تھے تاکہ فرض ساقط رہے، زر اندوزی اور حرص دنیا کا یہ عالم تھا کہ جب ہزاروں ذلتوں کے ساتھ مرے تو جو مکان لاہور میں تھا اس کی جب تلاشی لی گئی تو ملا عبدالقادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کو وہم کی کنجیوں سے کھولنا نا ممکن ہے،منجملہ ان کے سونے سے بھرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے گور خانہ سے بر آمد ہوئے جنھیں مردوں کے بہانے سے اس نے دفن کیا تھا''

حرص دنیا نے بڑوں بڑوں پر حملے کیے اور اس آتش نے اچھے اچھوں کو لپیٹ میں لے لیا،ساری مشیختوں کے بھانڈے پھوٹنے لگے،حد تو یہ ہو گئی کہ ہندوستان کے صاحب کمال بزرگ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے جن کی عقیدت واحترام میں بادشاہ ان کی جوتیاں سیدھی کر دیا کرتا تھا اس کے گھر حدیث سننے جاتا تھا جب انھیں صدارت کے اختیارات ملے تو انھوں نے ہندوستان کے سارے مذہبی جاگیرداروں کو دوڑانا شروع کردیا اور رشوت خوری کا یہ عالم ہو گیا کہ ملا عبدالقادر فرماتے ہیں:

لوگ شیخ کے وکیلوں، ان کے فراشوں، دربانوں، سائیسوں، حلال خوروں (مہتروں) تک کو رشوتیں دے دے کر اپنےآپ کو اس گرداب سے باہر نکا لتے تھے۔ ان کے حال آپ پڑھیے اور سر پیٹیے کہ مخدوم الملک اور ان ملا جی میں انھیں عہدوں،دولتوں اور عز وجاہ کی خاطر ایسی رقابتیں تھیں کہ ایک دوسرے کے خلاف کتا بیں اور رسالے لکھتے اور نیچ پن کی انتہا یہ کہ ایک صاحب نے ایک دفعہ فتویٰ دیا کہ چونکہ اس کو بواسیر ہے اس لیے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے،دوسرا کہتا ہے تو چونکہ اپنے باپ کا عاق شدہ ہے اس لیے تیرے پیچھے نماز جائز نہیں پھر ستم بالائے ستم یہ کہ اکبر کے ذہن میں ایمان فروش رازی وغزالی سے کم نہ تھے جب ان رازیوں اور غزالیوں کا یہ عالم تھا تو اس جاہل کے دماغ میں پہلے کے رازی وغزالی کے بارے میں کیا تصورات قائم ہوئے ہوں گے؟

اور ان سب کے ابا ابوالفضل کے والد ملا مبارک ثابت ہوئے جنھوں نے اکبر کو الحاد وزندقہ کے نقطہ آخر ہی پر پہنچا کر چھوڑا،جب اکبر کے سامنے ان دنیا کے دل دادہ رہبروں کا یہ عالم تھا تو کس طرح اس کے دل میں ان کی عظمت رہتی،اور یہی لوگ اسلام کا تعارف بھی تھے تو بھلا اسلام کیسے اکبر کے دل میں سلامت رہتا پھر آخر وہی

ہوا جو ہونا چاہئے تھا ۔

اجتہاد کا دعویٰ:

سب سے پہلے ان ملاؤں نے اکبر کو کرسی اجتہاد پر بٹھایا اور یوں احکام صادر کیے گئے،ایک طویل محضر نامہ تیار کیا گیا اس میں اس کی عقل وفہم اور اجتہاد واستنباط کے خوب ڈھونگ رچے گئے آخر میں ملا عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:' یہ حکم تھا پورےہندوستان والوں کے لیے''اور بادشاہ جلال الدین محمد اکبر غازی چونکہ سب سے زیادہ عدل والے ،عقل والے اور علم والے ہیں اسی بنیاد پر ایسے دینی مسائل میں جن میں مجتہدین مختلف ہیں اگر وہ(اکبر)اپنے ذہن ثاقب اور صائب رائے کی روشنی میں بنی آدم کی معاشی سہولتوں اور دنیوی انتظام کی آسانیوں کے مد نظر کسی ایک پہلو کو ترجیح دے کر اسی کو مسلک قرار دیں تو ایسی صورت میں بادشاہ کا یہ فیصلہ اتفاقی سمجھا جائے گا اور عام مخلوق رعایا پرایا کے لیے اس کی پابندی لازمی ولابدی ہوگی’’ یہ ایک طویل محضر نامہ ہے میں نے بیچ کا کچھ ترجمہ نقل کردیا ہے۔