مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیتجدیدی کا م کا آغاز

باب ۳۳ از ۵۷صفحات ۴۵۳–۴۶۳

تجدیدی کا م کا آغاز

حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدید الف کا مختصر حال آپ پڑھ چکے،کس قدر جا مع اور ہمہ جہت تھی،جس کا تعلق کمالات ظاہر سے بھی تھا اور باطن سے بھی،عقائد و اعمال کی ترویج و اشاعت سے بھی اور کمالات جدیدہ کے افاضہ و اعطا سے بھی،ظاہر ہے ایک دم تو سارے کمالات کسی کو نہیں مل جاتے ہیں بلکہ بتدریج اپنی اپنی صلاحیت و استعداد کے لحاظ سے کمالات جلوہ گر ہو تے ہیں۔

یہ بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ پروردگار جس بندے سے جس قدر اور جس طرح کام لینا چاہتا ہے اسے آغاز ہی سے ویسا ذہن و صلاحیت دیتا ہے،اور جس قوت و طاقت اور علم و فضل اور ہوش و خرد کی ضرورت ہو تی ہے،وہ اگر چہ ابتدا ہی سے ہوش سنبھالتے ہی ظہور میں نہیں ہوتی ہے لیکن بہر حال آغاز بھی عمر کے لحاظ سے ہو جا تا ہے،جس انسان سے جس طرح کے کام وہ لینا چاہتا ہے ویسے ہی طبیعت،مزاج،عقل و فہم اور علم و فضل وغیرہ عطا فرماتا ہے،اور وہ انسان رفتہ رفتہ اپنے کام شروع کر دیتا ہے،اسباب و وسائل تلاشنا شروع کر دیتا ہے،خدا وند قدوس کی طرف سے اس کے قلب و ذہن پر

ایسے امور وارد ہو تے رہتے ہیں،جن کی اصلاح و تجدید کا کام ہو نا ہو تا ہے اور وہ اپنی طاقت جمع کرنا شروع کر دیتا ہے۔

آغاز میں اس کی محنت و کو شش اس قدر رنگ نہیں لا پاتی ہے کہ لوگ شروع ہی سے ان کی خدمات کو تجدیدی خدمات کہنے لگیں لیکن رفتہ رفتہ کمالات کے اضافے اور جد وجہد کی بار آوری اور تجربات اپنا رنگ دکھانے لگتے ہیں اور بالآخر ایک معتد بہ مقدار میں نئی فکر کے ساتھ جب تیزی سے وہ لو گوں میں عیاں ہو تا ہے تو لوگوں کا ذہن اس کے کا رنا موں کی طرف منتقل ہو نے لگتا ہے اور کاموں کو دیکھ کر لوگ خود تجدیدی کا م کی تعیین کر نے لگتے ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدید کا تعین تو الہامی طریقے سے بھی ہو گیا تھا اور خدمات بھی اتنی کثیر اور عیاں ہو گئی تھیں،اگر چہ اس وقت کی دنیا میں ذرائع اس قدر نہ تھے جو آج ہیں،مگر پھر بھی کثرت کا ر نے لو گوں کو منوا دیا تھا کہ آپ بالیقین مجدد ہیں۔

ان حالات کو سامنے رکھ کر آپ سوچیں کہ یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ تجدیدی کا م کا آغاز حضرت خواجہ با قی با للہ قدس سرہ کی خدمت میں پہنچ کر ہو ا ہے،اکبر کا انتقال تقریباََََََ ۱۶۰۵ ء میں ہوا اور آپ کی ولادت با سعادت ۱۵۶۴ء؁ میں،تقریبا ۴۰/۴۱ سال عمر عزیز کا حصہ اکبر کے دور میں گزارا اس میں عمر کے ابتدائی سترہ سال بچپن اور علوم و فنون کی تحصیل میں گزرے،آپ مذکورہ عمر میں تمام اہم علوم و فنون پر کامل مہارت حاصل کر چکے تھے اور باقی تقریبا ۲۳ سال کا زمانہ اکبر کے دور میں وہ گزرا ہے جس میں درس و تدریس اور منا ظرات و مباحثات اور رسائل و کتب کی تحریر و تصنیف کے ذریعہ آپ نے شب و روز دین کی خدمت کی ہے۔

حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں آپ اس وقت پہنچے ہیں جبکہ آپ کی عمر شریف تقریبا ۳۵ سال کی تھی علوم و فنون سے فراغت کے بعد اور حضرت خواجہ قدس

سرہ کی خدمت عالیہ میں پہنچنے سے قبل کے جو رسائل و کتب ہیں وہ جہاں علوم فنون میں آپ کے ید طولیٰ اور مہارت تامہ نیز اعلیٰ ذہانت و ذکا وت کا کھلا ثبوت ہیں وہیں اس دور کے حالات اور اسلام کی زبوں حالی اور مختلف فرقوں کا عقائد و اعمال پر حملہ سبھی کچھ بتا تے ہیں،اس عرصہ میں جو تحریرات و جود میں آئی ہیں اس میں عالمانہ اور محققانہ پہلو نمایاں ہے،اگر چہ آپ کو اپنے والد بزرگوار و غیرہ سے مختلف سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی مگر رنگ تصوف نہیں ہے۔

جس زمانے کی آپ کی تحریرات ہیں اس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ اکبر کی گمرہی اور اس کا اسلام سے انحراف و اعراض عروج پر تھا،فلسفہ کے ذریعہ اسلامی معتقدات اور مسلمات کو متزلزل کیا جا رہا تھا،روافض بری طرح حاوی ہو رہے تھے اور نہایت پر خطر حالات پیدا ہو گئے تھے۔

آپ نے کسی خطرہ کا خیال کیے بغیر بلا خوف و ہراس ا س فرقہ یا فرد کا رد کر نا شروع کر دیا تھا جو اسلامی عقائد و اعمال اور مذہب اہل سنت پر حملہ آور تھا،آپ نے تصنیف و تدریس کے ساتھ ساتھ مختلف محافل و مجا لس میں منا ظرے بھی کیے،آپ نے خود تحریر فرما یا ہے کہ اسلامی جوش وعقیدت اور حمیت و غیرت نے صرف تحریر پر اکتفا نہیں کرنے دیا بلکہ جگہ جگہ تقریروں اور منا ظروں سے بھی دفاع کیا۔

علوم و فنون سے فراغت کے بعد آپ کے مختلف اور متعدد جگہوں پر سفر کرنے کے نشانات ملتے ہیں،اگرچہ تفصیل اور اوقات کا تعین نہیں ہو پا یا ہے،اور یہ بھی طے ہے کہ فراغت کے بعد آپ کسی بڑے سے بڑے استاذ کے پا س نہیں گیے،لہٰذا قرین قیاس یہی ہے کہ کہ یہ کچھ صرف احیائے اسلام و سنت کے لیے تھا اور تجدیدی کا م کا آغاز فراغت کے بعد ہی ہو گیا تھا ،اگر چہ حضرت خواجہ قدس سرہ کی با رگاہ اقدس میں حضوری سے قبل تصوف و صوفیہ آپ کے نشانے پر نہ تھے،جیسا کہ تحریریں عکاس

ہیں۔

ہاں! ہم اتنا مان سکتے ہیں کہ ابتدا میں آپ کی صدائے حق کا حال وہی رہا جو نقار خانہ میں طوطی کی آواز کا ہو تا ہے اور رفتہ رفتہ یہ آواز طاقت پکڑتی رہی اور بتدریج ظاہر سے باطن کی بلندیوں کی طرف پرواز کر تی رہی اور خدمات کا ایک معتد بہ حصّہ اور ایک عرصہ گزر جانے پر لوگوں کے سامنے آیاپر در اصل سب سے زیادہ چوک لوگوں سے یہ ہوئی ہے کہ مکتوبات شریف کے وجود سے لوگ تجدید کا آغاز ما نتے ہیں اور اکبر کے مرنے اور جہا نگیر کی تخت نشینی کے وقت سے آپ کی خدمات کا سلسلہ جو ڑتے ہیں۔

مکتوبات قدسی سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نے جہانگیر کی تخت نشینی کی خبر شائع ہو تے ہی امرا کو متنبہ کیا کہ آغاز ہی سے معاملہ کو درست کر لیا جائے ورنہ کام بہت مشکل ہو جائے گا ،پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ امرا سے آپ کے روابط و تعلقات پہلے سے نہ تھے بلکہ اسی وقت روابط کا سلسلہ شروع ہوا جس وقت آپ نے انھیں خطوط لکھے ہیں۔

حالات صاف غمازی کرتے ہیں کہ دین حق کی پا مالی اور غربت آپ کے لیے مستقل آزار بنی ہو ئی تھی ،اور اس درد نے رات و دن کا چیل چھین لیا تھا اس لیے جہاں بھی اپنے درد کا درماں نظر آتا تھا آپ جا تے اور کلیجہ چیر کر دکھا تے اور اس کو بھی اپنے دکھ درد میں شریک کرنے کی کو شش کر تے،جن لو گوں کو عقل سلیم اور ایسے متحرک و فعال طبیعتوں کا اندازہ ہے وہ خوب جا نتے ہیں کہ ایسے دیوانوں کا کیا حال ہو تا ہے اور بظاہر حالات کی نا سازگاری ،باطل کا غلبہ۔اہل حق اور حق کی پا مالی انھیں کس قدر بے چین رکھتی ہے اور وہ ہر موڑ پر کس قدر وسائل و اسباب کے خواہاں رہتے ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی طبیعت و مزاج اور اسلام و سنیت کی تڑپ کو جس نے بھی پڑھا ہے وہ یہ کیسے مان لے گا کہ اکبر کے مرنے تک آپ چپ چاپ گو شۂ تنہائی

میں بیٹھے رہے اور جہا نگیر کے بیٹھتے ہی آپ میدان میں اتر آئے۔

بعض اہل علم کی نا دانی:

بعض مو رخین نے در پردہ اکبر کی حمایت کرتے ہو ئے یہ ثابت کرنا چا ہا ہے کہ اکبر آخری وقت میں با لکل بدل گیا تھا اگر چہ ان مو رخین نے اس مقام پر حوالوں کا ایسے ہی سہارا لیا ہے جیسے ڈوبنے والا تنکے کا سہارا لیتا ہے اور یہ ثابت کرنا چا ہا ہے کہ جہا نگیر کا رخ تو غالب طور پر اسلام کی ترویج و اشاعت کی طرف ہو گیا تھا جبکہ ان ہی کی تحریریں ہندؤں کے ساتھ اس کی مصالحت بتا تی ہیں،اکبری دور کے امرا کے بارے میں ان بعض مو رخین نے ان کا کٹر مسلمان ہو نا اور مختلف بزرگوں کے حلقۂ ارادت میں داخل ہو نا بھی بتا یا ہے۔

در اصل اس طرح کے بعض مورخین یا تو شیعہ ہیں یا وہابی سوائے معدودے چند کے،جن کا مبلغ علم خود ان کی تحریروں سے ظا ہر ہےانھیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ ابھی ہم چند سطر پہلے کیا لکھ آئے ہیں؟ان کا تو منشأ صرف یہ ہے کہ اکبر کو جس طرح ملا عبد القادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ نے عریاں کر دیا ہے اسے چھپا یا جائے اور حضرت مجدد قدس سرہ کا سہرا تنہا ان ہی کے سر نہ رہےاسی لیے ایسے مورخین کہیں حضرت بدایونی کو کو سنے لگتے ہیں تو کہیں فلاں بزرگ کی خدمات بتا نے لگتے ہیں،کہیں کسی امیر کا کارنا مہ ذکر کرنے لگتے ہیں،یہ سب کچھ حالات سے نا واقفیت اور مخصوص ذہنی کیفیت کا نتیجہ ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ:

آپ حضرت مجدد قدس سرہ سے پہلے سارے مجددین کے حالات پڑھ جا ئیں ان کے زمانے کی مذہبی تاریخوں کا بھی مطا لعہ کر لیں اور غور کریں کہ کون سا ایسا درجہ ہے جس دور میں کا فی بڑی تعداد میں اہل حق علما،محدثین اور مفسرین وغیرہ نہیں رہے

ہیں؟بزرگوں کے ارشادات تو یہ بتا تے ہیں کہ حضرت آدم علیٰ نبیناوعلیہ الصلاۃ والسلام کے تشریف لا نے کے بعد آج تک کو ئی دور اور وقت ایسا نہیں گزرا ہے جس میں دنیا مکمل ایمان والوں سے خالی ہو گئی ہو۔

حضور خاتم النبیین ﷺ کی امت میں تو ہر صدی اور ہر دور میں اہل حق اکثریت میں رہے ہیں،بڑے بڑے علما بھی،محدثین،مفسرین اور متکلمین بھی،عوام اکثریت کے ساتھ مذہب حق سے جڑی رہی اس کے با وجود بھی تجدیدی ضرورتیں پیش آتی رہیں اقور مجددین پیدا ہو تے رہے،جو خدمتیں مجددین نے کیں اس کا کچھ نہ کچھ تصور اور خاکہ مو جود رہا،دیگر اہل علم و فضل اس ضرورت کو محسوس بھی کرتے رہے،مگر کام اسی سے ہوا جس سے پروردگار نے لیا ۔

آج اس دور میں کن کن اصلاحات کی ضرورت ہے یہ اہل حق خوب جا نتے ہیں اور کچھ نہ کچھ افراد بہر حال رہے ہیں جو حق کو مکمل طور پر سمجھتے بھی ہیں اور ان کی ترویج و اشاعت کی کو شش بھی کرتے ہیں مگر وہ کو شش تجدید کی منزل پر پہنچ جا ئے یہی نہیں ہو پا رہا ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کا دور ایسا دور تھا کہ بڑے بڑے صوفیہ بھی تھے،ان کی خانقاہیں بھی ،کا فی وسیع حلقۂ ارادت بھی،عریض روحانی فیضان بھی،اسی طرح کا فی بڑی بڑی درسگاہیں بھی تھیں،مختلو علوم و فنون میں بڑی بڑی عبقری شخصیتیں بھی،قلم کے دھنی بھی تھے مگر تجدید کا منصب ہی اور ہے۔

کس دور میں دینی انحطاط اور دین کا وہ کس قدر حصہ ہے،اس کی ترویج و اشاعت،اس کی بقا و تحفظ کیسے ہو گا،اس وقت لوگوں کو کیسے فیضان کی ضرورت ہے ان سب کو جان لینا ان کی بقا و تحفظ کے اسباب تلاش کر لینا اور پھر انھیں اپنا مر کز توجہ بنا کر ان میں نمایاں خدمت کر دینا یہ ہر ایک سے نہیں ہو تا ہے بلکہ یہ مجددین ہی کا حصہ

ہے۔

اہم تنبیہ:

یہاں غور کرنے اور سمجھنے کی چیز یہ ہے کہ امرا وحکام کا اس دور میں یا کسی دور میں بزرگوں سے تعلق،ان کی خانقاہوں میں آمد ورفت اور محبت وعقیدت وغیرہ الگ چیز ہے اور انھیں اصلاحی کاموں کے لیے استعمال کرنا الگ بات ہے،حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات جو ان امرا کے نام لکھے گئے ہیں وہ اس بات کی صاف غمازی کرتے ہیں کہ آپ قدس سرہ عقائد واعمال میں ان امرا کی اصلاح بھی فرماتے تھے اور انھیں حکومت کا رخ اسلام کی طرف موڑنے اور انھیں اپنے مقام ومنصب سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لیے آمادہ بھی کرتے تھے،جس حسین پیرائے میں آپ نے ان کی اصلاح فرمائی اور دینی حمیت وغیرت بیدار فرمائی وہ آپ ہی کا حصہ ہے،ان امرا وحکام کی غلط روش چھڑانا اور پھر ان سے کام لینا جس خوبی سے آپ نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے وہ لائق تقلید ہے۔

دوسری بات یہ کہ عام علما وصلحا جو دینی حمیت وبیداری رکھتے تھے اور اکبر وجہانگیر کے خزانوں کے لالچی نہ تھے ان کے بارے میں خود شیخ محمد اکرام یوں رقمطراز ہیں:

‘‘عہد اکبری میں علما وصلحا کی کوئی کمی نہ تھی مورخین عہد نے ان کی جو طویل فہرستیں دی ہیں ان سے خیال ہو تا ہے کہ اس دور کو علم اور تصوف کا عہد زریں سمجھنا چاہیے لیکن عام طور پر ان بزرگوں نے عہد اکبری کی مذہبی بو العجبیوں کو روکنے کے لیے کوئی موثر کوشش نہ کی ان میں سے جو غالی وحدۃ الوجودی خیالات کے تھے(مثلا شیخ امان پانی پتی کے قبیلہ دار)وہ تو اکبر کی مذہبی اختراعوں میں اس کے شریک کار ہو گئے۔جو شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی طرح ان اختراعوں سے متنفر تھے وہ دربار سے کنارہ کش رہے اور گوشۂ تنہائی میں اللہ اللہ یا درس وتدریس کرنے

لگے،مخدوم الملک اور شیخ عبدالنبی صدرالصدور کو آپس کی مخالفتوں اور دوسری کمزوریوں نے بے اثر کردیا تھا،جونپور کے ملا محمد یزدی اور پنجاب کے علما اکبر کی تعزیری کو ششوں کا شکار ہو گئے،فتنے کا سد باب اور حالات کی اصلاح کسی سے نہ ہو سکی۔’’(رود کوثر ص: ۱۹۲)

تیسری چیز یہ کہ حضرت مجدد قدس سرہ اور ان کے تمام افراد ایک منظم کام کر رہے تھے ان کی خدمتیں اتفاقی نہیں تھیں کہ جو آگیا دامن سے وابستہ ہو گیا فبہا،یہاں تو ہر ایک کا علاقہ بٹا ہوا تھا ہر ایک کی نظر ہر چھوٹے بڑے پر تھی،کن کی اصلاح سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے،کس کے اقتدار سے کس قدر دینی منفعت حاصل ہو سکتی ہے یہ سب کچھ نظر میں تھا،پھر ایک خاص بات یہ تھی جو سب کی اصل ہے کہ خلوت وجلوت کی تمام ساعتوں میں سنت پر عمل،سنت کا ذکر،سنت کی ترویج واشاعت اور اشاعت سنت کے لیے دوسروں کو آمادہ کرنا،دلوں میں سنت کا درد پیدا کرنا،تمام کمالات کو اسی سے وابستہ دکھا دینا،جو عام مخلوط تصوف چلا آرہا تھا جس میں ابھی تک کیا کچھ تھا اس کا مختصر حال آپ پڑھ چکے اور آئندہ پڑھیں گے،مجددی فرزندوں کے یہاں اس تصوف کا کوئی تذکرہ نہ تھا یہاں ایک ہی تصوف تھا کہ سنت کو اس کے تمام خد وخال کے ساتھ ظاہر وباطن میں نافذ کر دیا جائے،بدعت کے تمام دروازے بند کردیے جائیں الغرض بات عقیدت ومحبت کی نہیں بلکہ انصاف کی ہے،حضرت مجدد قدس سرہ کے وجود سے جو کچھ دنیا کو ملا ہے اسے نہایت گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں بھر پور احساس ہے کہ اس مقام پر ہماری گفتگو کا فی طویل ہو گئی مگر کیا کروں علم و تاریخ دانی کا دعویٰ کرنے والوں سے جو قلب مجروح ہوا ہے اس کا مداوا یہی ڈھونڈا کہ تجربات کی روشنی میں اور مشاہدات کے یقینی ما حول میں حقائق کا اظہار کر

دیا جائے،باقی پھر ہر انسان کی اپنی طبیعت ہے،کسی شخصیت کے صحیح خدو خال اور منصفانہ جا ئزہ لینے کے لیے قلب و ذہن کا ہر آلائش سے پاک ہونا ضروری ہے۔

تجدیدی کام کے موثر طریقے:

حضرت مجدد قدس سرہ کی حیات کا وہ حصہ جو تحصیل علوم و فنون کے بعد کا ہے اور جس پر تجدیدی خدمات کا طویل سلسلہ پیدا ہوا ہے اسے ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں،ایک وہ ہے جو عمر کے اٹھارہویں سال سے شروع ہو کر حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت مبا رکہ تک رسائی کا حصہ ہے،ہمارے تجربات اور علم کے اعتبار سے اس حصہ میں زیادہ تر کام تجدید شریعت کا ہوا ہے،اس میں رسائل و کتب کی تحریر،مناظرات و مبا حث اور مواعظ و تقا ریر کے ذریعہ اور اپنوں سے روابط اور انھیں ہم خیال بنا نے،انھیں حتیٰ الوسع استعمال کر نے اور علم و فن کے اعتبار سے اپنے آپ کو پہچنوانے اور منوانے میں صرف ہوا ہے،یہ ابتدائی درجے کی خدمات تھیں جو رفتہ رفتہ قوت پکڑ رہی تھیں جیسا کہ آپ پڑھ چکے۔

دوسرا حصہ چند سالہ وہ ہےجو حضرت خواجہ قدس سرہ کی لقا سے لے کر ان کے وصال تک ہے،اس عرصہ میں زیادہ تر اوقات با طنی کمالات کی تحصیل اور شرعی خدمات میں بسر ہو ئے،حضرت خواجہ قدس سرہ کے دامن سے وابستہ ہو نے کے کچھ عرصہ بعد ہی آپ طالبان خدا کی تربیت کے لا ئق ہو گیے اور رفتہ رفتہ پو ری تیزی سے یہ کام بڑھنے لگا حتیٰ کہ آخری لمحات میں حضرت خواجہ قدس سرہ نے اپنا پورا روحانی تربیت کا بار حضرت مجدد قدس سرہ کے کا ندھوں پر ڈال دیا اور خود رفیق اعلیٰ کے حضور میں جا نے کی تیاری میں مکمل طور پر لگ گیے۔

تیسرا دور وہ ہے جو حضرت خواجہ قدس سرہ کے وصال کے بعد سے آخری لمحات تک ہے،یہ زمانہ آپ کے ظاہری وبا طنی عروج و ارتقا اور تجدیدی خدمات کے شباب

کا زما نہ ہے اس میں ہر قسم کی تجدید کا کام شروع ہو رہا تھا اور یوما فیوما کمالات جدیدہ کا فیضان اس قدر عروج پر تھا کہ بیان سے با ہر ہے،اس دور میں داخل ہو تے ہو تے آپ کے پاس ظاہری و با طنی وسائل کا ذخیرہ ہو چکا تھا اور ‘‘یدخلون فی دین اللہ افواجا’’کی جلوہ گری ہو رہی تھی،دنیا کی و سعتوں میں کام پھیلنے لگا تھا،غیر منقسم ہندوستان کی سرحدیں آپ کی خدمات پا ر کر چکی تھیں۔

آپ کے حالات پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اس بھیانک دور میں طوفان کا رخ مو ڑنے کے لیے جو وسائل تیار کیے وہ آپ کے تیار کردہ نہایت جا مع الصفات افراد تھے جو ظاہری و با طنی محاسن و اوصاف سے آراستہ اور آپ کی منظم خدمت سے مکمل آگاہ اور مقصد و منشأ اور کام کی اہمیت سے اچھی طرح واقف کار تھے۔

تجدید شریعت:

تحریر وتقریر اور ظاہری وباطنی اوصاف وفضائل سے آراستہ ہو کر آپ میدان جہاد میں اتر پڑے،حالات کا بڑی سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا اور پھر خدمت سنت ہی کو اپنا بنیادی محور بنایا یہی وہ چیز تھی کہ عمل واعتقاد کی دنیا میں اس کے نفاذ سے بدعت کو ختم کیا جا سکتا تھا،سرور کونینﷺ نے اسی کے ذریعہ اپنے غلاموں کو سارے کمالات عطا فرمائے، اس دور میں ہر طرف سے اسی پر حملے تھے،جبکہ سب کی جان اور بنیاد سنت پر عمل ہی تھا،اسی کو مرکز بنا کر آپ پورے طور پر اسی کی اشاعت میں لگ گئے،اس سلسلے میں جو بھی موثر طریقے ہو سکتے تھے آپ نے ان کو اپنایا اور ان تمام چیزوں کا خاتمہ کرتے رہے اور انھیں راہ سے ہٹاتے رہے جو رکاوٹ بن سکتی تھیں،حکمت وموعظت ایک داعی حق کے لیے لازمی چیزیں ہیں بغیر ان کے کبھی بھی پختہ نتائج برآمد نہیں ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں بھی آپ کو کمال عطا فرمایا

تھا،آپ دیکھتے جائیں کہ تن تنہا اس مرد حق آگاہ نے اتنا بڑا کام کیسے انجام تک پہنچایا۔

آپ نے سب سے پہلے جانبازوں کی وہ جماعت تیار کرنا شروع کی جو ان تمام علمی وعملی اور ظاہری وباطنی خوبیوں سے آراستہ تھی،جس کی آپ کو اس عظیم کام میں ضرورت تھی اور جس کو آپ ایک عظیم اسلحہ کے طور پر استعمال کر سکتے تھے ۔