باب ۳۸ از ۵۷صفحات ۵۲۳–۵۳۵
علماے سو کی مذمت
ہمیشہ تعلق خاطر رہا اور وہ ان بزرگوں کی بارگاہ میں عقیدت ومحبت کے نذرانے پیش کرتے رہے،اس طرح یہ امرا ان تمام برائیوں سے بچ گیے جو دنیا سے تعلق خاطر کی بنیاد پر ہو سکتی تھیں اور دنیا کی محبت کے بجائے ان کے دلوں میں آخرت کی محبت گھر کیے رہی جس سے انھیں نیکیاں جمع کرنے کا خوب موقع ملا۔
فقرا وصوفیہ کے ساتھ عقیدت ومحبت کی حد تک لگاؤ اتنا مفید ثابت ہوا کہ اس سے حضرت مجدد قدس سرہ اصلاح کا وہ تمام کام بہ آسانی کر لے گیے جو حکومت کے لیے کرنا تھا،ان کی دولتوں سے نرے غریبوں اور خانقاہی فقرا کی حاجت روائی بھی ہوئی،جس سے وہ سکون کے ساتھ تحصیل روحانیت میں لگے رہے،دنیاوی ضرورتوں نے ان کے باطن کو منتشر نہیں ہونے دیا اور ان کی مادی قوت وطاقت اور جاہ وحشمت سے اسلام واہل اسلام کو عزت وفروغ دینے کا بھی بہترین موقع ہاتھ آیا۔
اگر مکتوبات قدسی آیات سے وہ تمام تحریریں جمع کی جائیں تو بات کافی طویل ہو جائے گی جس میں قدم قدم پر انھیں دنیا کی بے وقعتی اورا س کی برائی پر خبردار کیا ہے،اور صوفیہ کرام ودرویشوں سے محبت پر ابھارا ہے،آپ نے چونکہ اپنی آنکھوں سے علماے ظاہر کے کارنامے دیکھے تھے،اور محض علم ظاہر کی بنیاد پر انسان عالم آخرت بن جائے یہ بہت مشکل ہے اس لیے آپ امرا واغنیا کو ان ہی بزرگوں اور علما سے وابستہ رہنے کی تاکید ونصیحت فرماتے تھے جو ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کے بھی حامل تھے،نیز علم ظاہر سے عاری صوفیوں سے بھی آپ لوگوں کو دور رکھنا چاہتے تھے،کیونکہ ان کے ہاتھوں سے دین پر کوئی کم مصیبتیں نہیں آئی تھیں،اب چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں داراب خاں کو بزرگوں اور صوفی سے لگاؤ اور محبت کی تاکید کرتے ہوئے اور اس کے فوائد پر آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘دولت خوشگوار کہ در خاندان شما احساس نمودہ می آید با وجود اسباب غنا وبا حصول
مواد استغنا نیاز مندی است با فقرا وخدمتگاری است بہ ایں طبقۂ علیا کہ منبئ از محبت واخلاص ایں طائفہٗ علیا است ومشعر از مودت و اختصاص ایں فرقۂ ناجیہ،محبان ایں طائفہ را بشارت المرء مع من احب کا فی است وجلیسان ایں طبقہ را نوید ہم قوم لا یشقیٰ جلیسہم وافی۔’’
ترجمہ:خوشگوار دولت جو آپ کے گھر میں محسوس ہو تی ہے مالداری کے اسباب کے باوجود استغنا(بے نیازی)کے مواقع کے حصول کے ساتھ فقرا کے ساتھ نیاز مندی ہے اور اس طبقۂ بلند کے ساتھ خدمتگاری کہ محبت واخلاص کی خبر دیتی ہے اس جماعت کے ساتھ،اور اس فرقۂ ناجیہ کے ساتھ اختصاص والفت کا احساس دلاتی ہے،اس جماعت سے محبت کرنے والوں کے لیے المرء مع من احب کی بشارت کا فی اور اس طبقہ کے ہم نشینوں کے لیے ہم قوم لا یشقیٰ جلیسہم کی خوشخبری بہت ہے۔
اس کے بعد انھیں بتاتے ہیں کہ یہی محبت جب غلبہ کرتی ہے تو محبوب کی اطاعت ضرور ہوتی ہے اور اپنی ساری مرادیں اس کی مراد میں فنا ہو جاتی ہیں یہ گویا فنا فی الشیخ کی منزل ہے جو فنا فی اللہ کا وسیلہ ہو تی ہے جس پر بقا باللہ مرتب ہوتی ہے۔
مکتوب ۶۷ دفتر دوم کے آ غاز میں خان جہاں کو اس نعمت کے شکر پر ابھارتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے درویشوں اور فقرا سے محبت بخشی ہے اور اس پر ان کی تعریف کرتے ہیں خودبھی اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں، فرماتے ہیں:
‘‘حمداً للہ سبحانہ کہ دریں طور اوان پر شبہ ومشتباہ اغنیا سعادتمند را از حسن نشا کہ دارند باوجود بے منا سبتیہا با فقرا دور ازکار سر نیاز است وایمانے بہ ایں طائفہ حاصل است چہ نعمتے است کہ تعلقات شتیٰ مانع حصول ایں دولت نگشتہ است وتوجہات پرا گندہ از محبت ایناں باز نداشتہ،شکر ایں نعمتے عظمیٰ بجا باید آورد وامیدوار باید بود کہ المرء مع من احب حدیث نبوی است علیہ وعلیٰ آلہ الصلاۃ والسلام۔’’
یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے حمد ہے کہ اس شبہ اور اشتباہ کے وقت نیک بخت مالداروں کو حسن فطرت کی وجہ سے کہ رکھتے ہیں،فقرا دور از کار کے ساتھ بے مناسبتی کے باوجود سر نیاز ہے اور اس جماعت کی تصدیق حاصل ہے،کیا نعمت ہے کہ متفرق تعلقات اس دولت کے حصول سے مانع نہ ہوئے اور منتشر توجہات نے ان کی صحبت سے باز نہیں رکھا،اس بڑی نعمت کا شکر بجا لانا چاہیے اور امید وار رہنا چاہیے کہ حدیث نبوی علیہ وعلیٰ آلہ الصلاۃ والسلام ہے کہ آدمی اسی کے ساتھ ہے جس کے ساتھ محبت ہے۔
مکتوب ۷۳ دفتر اول میں دنیا واہل دنیا کی مذمت اور علوم غیر نافعہ وعلماے سو کی برائی وغیرہ بیان کرکے اور اہم امور کی نصیحت کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
‘‘وہر حال رشتۂ محبت ایں طائفہ را از دست ندہد والتجا وتضرع بایں قوم شعار خود سازد ومنتظر باشد کہ حق سبحانہ وتعالیٰ بتوسل محبت ایں طائفہ محبت خود مشرف وبتمام بجانب خود کشد۔’’
ترجمہ:کسی بھی حال میں اس جماعت کی محبت کا رشتہ ہاتھ سے نہ جائے اور اس قوم کے ساتھ التجا وزاری اپنا شعار بنا لیں اور منتظر رہیں کہ حق سبحانہ وتعالیٰ اس جماعت کی محبت کے وسیلے سے اپنی محبت کا شرف بخشے اور مکمل طور پر اپنی جانب کھینچے۔
آپ ہر امیر کو اچھی طرح پہچانتے تھے جس کے اندر جو خامیاں ہوتیں بر ملا بیان فرماتے،جو کمیاں کوتا ہیاں ہو تیں ان کے اظہار میں کبھی ڈھیل سے کام نہیں لیتے،کسی منصب وعہدہ کے رعب نے اظہار حق سے کبھی منع نہیں کیا بلکہ ہر ایک پر اپنا رعب رکھتے تھے۔
مکتوب ۶۸ سے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ خان خاناں اس بات کے محتاج تھے کہ انھیں تواضع وانکساری کا جذبہ دلایا جائے،ان کے کلام میں آداب فقرا کی رعایت نہیں
تھی،حضرت مجدد قدس سرہ کی بارگاہ میں اس وقت ان کے تین خطوط آئے ہوئے تھے،آپ انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘در مکاتیب ثلاثہ شما غیر از استغنا امرے مفہوم نشد،ہر چند مقصود تواضع بود مثلا در مکتوب اخیر مسطور بود بعد الحمد والصلاۃ نمودہ می آیدایں عبارت را نیک دریا بند کہ در کجا باید نوشت،آری! خدمت فقرا بسیار کردہ اند اما رعایت آداب خدمت ہم ضروریست تا ثمرہ بر آں مترتب شود وبدونہا خرط القتاد۔’’
ترجمہ: آپ کے تینوں خطوط سے سوائے بے نیازی کے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی اگر چہ مقصود تواضع تھی مثال کے طور پر اخیر مکتوب میں لکھا تھا،بعد الحمد والصلاۃ نمودہ می آید، اس عبارت کو اچھی طرح دیکھیں کہ کہاں لکھنا چاہیے یہ ٹھیک ہے کہ آپ نے فقرا کی بہت خدمت کی ہے لیکن ساتھ ہی فقرا کے آداب کا لحاظ بھی ضروری ہے تاکہ اس پر نتیجہ مرتب ہو سکے اور بغیر اس کے تو خاردار درخت (ناگ پھنی) پر ہاتھ پھیرنے والی بات ہے۔
اسی مکتوب میں آگے چل کر ان کی بعض کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں اس کے بعد فقرا اور اہل اللہ سے تعلق کی وجہ بیان کرتے ہیں:
‘‘مقصود از آشنائی فقرا اطلاع بر عیوب مکنونہ است وظہور رذائل مخزونہ لیکن بدانند کہ اظہار ایں قسم سخنان نہ از روئے آزار است بلکہ از روئے نیک خواہی ودلسوزی است۔’’
ترجمہ: فقرا سے تعلق سے مقصود چھپے ہوئے عیوب پر اطلاع ہے اور پو شیدہ بری خصلتوں کا ظہور لیکن خیال رہے کہ اس قسم کی باتوں کو ظاہر کرنا آزار کی نیت سے نہیں ہے بلکہ بھلائی چاہنے کی وجہ سے ہے۔
انسان کو اس کے مقام ومنصب اور مزاج کے اعتبار سے مخاطب کرنا ہر کس وناکس کا کام نہیں،حضرت مجدد قدس سرہ کے کلام میں اس کی رعایت آپ بہت پائیں
گے،ہر حق کو اگرچہ کتنا ہی کڑوا ہو بڑی آسانی کے ساتھ حلق میں اتار دیتے ہیں اور اہل اللہ کی شان برقرار رکھتے ہیں۔
آپ قدس سرہ کے سامنے ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ اگر امرا وعمائدین سے تعلق رکھتے ہیں تو بد خواہوں کو زبان درازی اور بد ظنی کا موقع ہاتھ آتا ہے اور اگر استغنا وبے نیازی برتتے ہیں تو تکبر اور انانیت کا داغ لگتا ہے،حقیقت حال تک پہنچنا اور صحیح رائے قائم کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں،مگر آپ نے دین کی خاطر جس شان سے تعلق رکھا وہ بھی آپ ہی کا حصہ ہے،مکتوب ۱۹۸ میں خان خاناں سے فرماتے ہیں:
‘‘مخدوما! فقرا را باغنیا آشنائی کردن دریں زمان بسیار متعسر است اگر فقرا بگفتن یا نوشتن راہ تواضع وحسن خلق کہ از لوازم فقر است پیش گیرند کو تہ اندیشاں از سوء ظن خود می انگارند کہ طامع ومحتاج اند لا جرم دریں ظن خسر الدنیا والآخرہ می گردند واز کمالات ایں بزرگواراں محروم می مانند،واگر فقرا باستغناء حرف می زنند قاصر نظراں از بد خلقی خود قیاس می کنند کہ متکبر وبد خلق اند۔’’
ترجمہ:اے مخدوم! فقرا کو مالداروں سے پہچان کرنا اس زمانے میں بہت مشکل ہو گیا ہے،فقرا اگر بولنے اور لکھنے میں تواضع اور حسن خلق کہ فقرا کے لوازم سے ہے کا راستہ اختیار کریں تو کم اندیش اپنے سوء ظن کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ لالچی اور محتاج ہیں اور لامحالہ اس گمان میں دونوں جہاں کا خسارہ اٹھائیں گے اور فقرا اگر بے نیازی سے کام لیں تو قاصر نظر اپنی بد خلقی کی وجہ سے گمان کریں گے کہ یہ(فقرا)متکبر اور بد اخلاق ہیں۔
ان امرا اور عمائدین کو سدھارنے اور سنبھالنے میں اور سچا وپکا مسلمان بنانے میں آپ کی کوششیں کئی طرح کی تھیں،مکتوبات کے علاوہ انھیں اپنی دیگر تصنیفات بھی بھیجا کرتے تھے،اس کے علاوہ ایک خاص بات یہ تھی کہ آپ اچھے علما اور دیندار
حضرات کو نو کریاں دلوایا کرتے تھے،اس سے دوہرا فائدہ تھا،ایک تو یہ کہ امرا وعمائدین کے ہم نشین اور ہم صحبت اچھے لوگ رہیں گے تو عقائد واعمال میں بجائے فتور آنے کے یہ لوگ دن بدن نیکیوں کی طرف راغب رہیں گے،یہ بہت بڑا کارنامہ تھا اور اس کے فوائد بھی بہت متعدی تھے۔
آپ کی کوشش تھی کہ ہر منصب اچھے لوگوں کے ہاتھ میں آجائے تاکہ اسلام اور اہل اسلام کو خوب عروج حاصل ہو،دوم یہ کہ یہ حضرات معاش کی گونا گوں پریشانیوں سے نجات پا جاتے تھے اور مطمئن ہو کر دین کی خدمت کرتے تھے،ایک اہم فائدہ یہ تھا کہ اگر جگہ خالی رہے گی تو کوئی غلط انسان بھی آ سکتا ہے اور اس سے پھر وہی حالات سابقہ پیدا ہونے لگیں گے۔
علماے سو کی مذمت:
اکبر کو بگاڑنے میں چو نکہ سب سے بڑا ہاتھ علماے سو کا تھا جیسا کہ آپ پڑھ چکے اسی لیے حضرت مجدد قدس سرہ جہاں جہاں ان امرا وعمائدین ودیگر کو نصائح فرمایا کرتے وہیں آپ برابر انھیں علماے سو کے شر وفساد سے آگاہ فرمایا کرتے اور ان کی صحبت کے زہر ہلاہل ہونے پر تنبیہ فرمایا کرتے تھے،اب آپ چند اقتباسات علماے سو کی مذمت میں بھی پڑھ لیں اور دیکھیں آج بھی اس گروہ سے دین کو کتنا زبردست خطرہ لاحق ہے انھیں پہچانیں اور ان کی صحبت بد سے بچیں۔
مکتوب ۲۱۳ میں سید فرید صاحب کے بے شمار احسانات کا اعتراف کرتے ہیں پھر ان کے شکریے اور جزا کے سلسلے میں انھیں بتاتے ہیں کہ ہم فقیروں کی طرف سے یہی ہو سکتا ہے کہ سلامتیِ دارین کی دعا کریں،نیز انھیں مکافات کا ایک نیا طریقہ یہ بتاتے ہیں کہ وعظ وتذکیر سے کام لیا جائے اگر قبول ہو جائے تو کتنی بڑی نعمت ہے،اس طرح انھیں پند ونصائح اور ان کے قبول پر آمادہ کرنے کے بعد پہلے دیندار
علماے اہل سنت سے اختلاط وانبساط کو تمام نصیحتوں اور مواعظ کا خلاصہ بتاتے ہیں اور فلاح ونجات کو انھیں کی پیروی میں منحصر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
‘‘اگر معلوم شود کہ شخصے برابر دانۂ خردلہ از صراط مستقیم ایں بزرگواراں جدا افتادہ است صحبت اورا سم قاتل باید دانست ومجالست اورا زہر افعیٰ باید انگاشت،طالب علمان بیباک از ہر فرقہ کہ باشند لصوص دین اند اجتناب از صحبت اینہا نیز از ضروریات است ایں ہمہ فتنہ وفساد کہ در دین پیدا شدہ است از شومیِ ایں جماعت است کہ بواسطۂ حطام دنیوی آخرت را برباد دادہ اند۔’’
ترجمہ:اگر معلوم ہو جائے کہ کوئی شخص رائی کے دانے کے برابر ان بزرگوں کے صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہے تو اس کی صحبت کو زہر قاتل جانیں اور اس کے پاس بیٹھنے کو اژدہے کا زہر سمجھیں،بیباک طالب علم کسی بھی فرقہ کے ہوں دین کے رہزن ہیں ان کی صحبتوں سے پرہیز بھی ضروریات دین سے ہے،یہ دین میں جو کچھ فتنہ وفساد پیدا ہو گیا ہے اسی جماعت کی نحوست ہے کہ دنیا کے لالچ میں آخرت کو برباد کیا ہے۔
مکتوب ۱۹۴ میں صدر جہاں کو فرماتے ہیں:
‘‘معلوم شریف است کہ در قرن سابق ہر فسادیکہ پیدا شد از شومیِ علماے سو بظہور آمد’’ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ قرن سابق میں جو فساد بھی پیدا ہوا ہے اس کا سبب علماے سو ہی ہیں۔
چونکہ اس وقت بادشاہ کو کچھ علما درکار تھے اس لیے آپ صدر جہاں کو تاکید فرماتے ہیں کہ علما کے انتخاب میں نہایت گہری نظر کی ضرورت ہے،پھر فرماتے ہیں:
‘‘علماے سو لصوص دین اند مطلب ایشاں حب جاہ وریاست ومنزلت نزد خلق
است’’یعنی علماے سو دین کے رہزن ہیں ان کا مقصد خلق کی نظر میں جاہ اور حکومت ومنصب کی محبت ہے۔
مکتوب ۳۳ حاجی محمد لاہوری کے نام آپ نے خاص علماے سو کی مذت میں تحریر فرمایا اور تفصیل سے ان کی قباحتیں بیان فرمائیں،چونکہ کبھی کبھار ایسے علما سے بھی دینی خدمات ظہور میں آتی ہیں،علم خود ایک ایسی چیز ہے جو لوگوں کو متا ثر کرتا ہے پھر اس پر تدریس وافتا وغیرہ کے ذریعہ دینی خدمات عوام کے لیے بہکنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں،اسی لیے آپ نے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا کہ علم اور تدریس اور افتا وغیرہ کب نافع ہیں یہ سب بیان فرما کر ارشاد فرماتے ہیں:
‘‘والحق دریں زماں ہر سستی ومداہنتی کہ در امور شرعیہ واقع شدہ است وہر فتورے کہ در ترویج ملت ودین ظاہر گشتہ است ہمہ از شومیِ علماے سو است وفساد نیات ایشاں۔’’
اور صحیح بات یہ کہ اس زمانے میں جو سستی وکاہلی کہ امور شرعیہ میں واقع ہوئی ہے اور ہر فتور کہ ملت ودین کی ترویج میں ظاہر ہوا ہے سب علماے سو کی نحوست اور ان کی نیتوں کا فساد ہے۔
علماے سو ہر دور میں رہے ہیں اور ان سے دین وملت کا جو فساد واقع ہوا ہے اس سے تاریخ بھری پڑی ہے،اس زمانے میں بھی وہی حب دنیا وجاہ ہے جس نے انھیں بگاڑا ہے رفتہ رفتہ یہ دنیا کی طرف مائل ہو تے جاتے ہیں،اسی چیز نے آج علم کو ختم کردیا اور فتنہ وفساد کے وہ دہانے کھول دیے ہیں کہ بیان سے باہر ہے،دین کے جو سچے رہبر ہیں انھیں بھی بے وقعت کر دیا۔
آج ضرورت ہے کہ مدارس میں دیندار علما پیدا کیے جائیں،پہلے زمانے میں
صوفیہ کرام تھے جن کی رہبری اور جن کی وابستگی کی وجہ سے علماے آخرت کی بھی ایک معتد بہ مقدار رہتی تھی،اب یہ چیز مفقود ہے اسی لیے علماے آخرت کم ہیں اور علماے سو زیادہ،پرور دگار عالم سب کو امان میں رکھے،آمین!
ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کا طریقہ اس سلسلے میں عام لوگوں سے جدا رہا ہے آپ گر علماے سو کی مذمت کرتے ہیں تاکہ فتنہ وفساد کے دروازے بند ہوں تو اسی کے ساتھ علماے آخرت کی مدح وتعریف بھی کرتے ہیں،اور امرا وعمائدین کو جگہ جگہ انھیں علماے آخرت کی اتباع وپیروی کی رغبت دلاتے ہیں،ان کے اوصاف وخصوصیات بھی ذکر فرماتے ہیں تا کہ انھیں بہ آسانی پہچانا جا سکے،مکتوب مذکور میں فرماتے ہیں:
‘‘آری! علما کہ از دنیا بے رغبت اند واز حب جاہ وریاست ومال ومنفعت آزاد از علماے آخرت اند و ورثۂ انبیاء اند علیہم الصلوات والتسلیمات وبہترین خلائق ایشانند کہ فردائے قیامت سیاہی ایشاں را بخون شہداء فی سبیل اللہ وزن خواہند کرد وپلہ ٔ ایں سیاہی خواہد چربید ونوم العلما عبادۃ در شان ایشاں متحقق است،ایشانند کہ جمال آخرت در نظر شاں مستحسن آمدہ وقباحت دنیا وشناعت آں مشاہد گشتہ آنرا بنظر بقادیدند وایں را بداغ زوال متسم یافتند لا جرم خودرا بباقی سپردند واز فانی باز داشتند،شہود عظمت آخرت ثمرہ شہود عظمت جلال لا یزال است وذلیل داشتن دنیا وما فیہا از لوازم شہود عظمت آخرت است۔’’
خبردار! جو علما دنیا سے بے رغبت ہیں اور جاہ و سرداری اور مال و منفعت کی محبت سے آزاد ہیں، علماے آخرت اور انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کے وارث ہیں اور مخلوق میں سب سے بہتر یہی ہیں کہ کل قیامت میں ان کی سیاہی کو اللہ کی راہ میں شہید
ہونے والوں کے خون کے ساتھ تولا جائےگا اور ان کی سیاہی کا پلہ بھاری ہوگا، ‘‘علما کا سونا عبادت ہے’’ انھی کی شان میں ثابت ہے، ان لوگوں کی نظر میں جمال آخرت مستحسن ہے اور دنیا کی قباحت و شناعت مشاہدہ میں آچکی ہے۔ یہ حضرات آخرت کو بقا کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دنیا کو داغ زوال سے داغدار پاتے ہیں، لاجرم خود کو باقی کے سپرد کرتے ہیں اور فانی سے باز رکھتے ہیں، آخرت کی عظمت کا شہود عظمت جلال لا یزال (خدا) کا ثمرہ ہے اور دنیا کو ذلیل رکھنا شہود عظمت آخرت کے لوازم میں سے ہے۔
آج ہر ایک اپنے آپ کو نائب و وارث رسولﷺ تصور کرتا ہے اور ان تمام قرآنی آیات واحادیث کا خود اپنے آپ کو مصداق سمجھتا ہے جو اس سلسلے میں آئی ہیں جبکہ حال یہ ہے کہ جہاں دیکھو دین کا سودا دنیا سے کرتا پھرتا ہے،حضرت مجدد قدس سرہ نے عالم آخرت اور وارث نبی ہونے کی کئی علامتیں بتا دیں جس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارا صحیح رہبر اور مذہبی قائد کون ہے؟
حضرت مجدد قدس سرہ نے متفرق مقامات پر جو تعریف وتوصیف فرمائی ہے اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو تحریر کا فی طویل ہو جائے گی،علما تو علما رہے طلبا پر خرچ وغیرہ کی تاکید فرماتے اور ان کی عظمت دلوں میں بٹھاتے اور عام صوفیہ کرام پر انھیں(طلبا کو)ترجیح دیتے،ایک دفعہ سید فرید نے مولانا قلیج کو طلبہ وصوفیہ پر کچھ خرچ کرنے کا حکم دیا اور اس کا حوالہ حضرت مجدد قدس سرہ کو لکھے گئے ایک خط میں دیا آپ قدس سرہ پہلے تو ان کی عبارت کا ‘‘جزو خرچی برائے طالب علماں وصوفیاں فرستادہ شد’’ لکھتے ہیں اس کے بعد فرماتے ہیں:
‘‘ذکر تقدیم طالب علماں بر صوفیاں در نظر ہمت بسیار زیبا در آمد بحکم‘‘الظاہر عنوان الباطن’’ امید است کہ در باطن شریف نیز ایں جماعۃ کرام تقدیم پیدا کردہ باشند
ترجمہ: موصوف نے جو یہ ذکر کیا کہ انہوں نے طالبان علوم نبویہ کو صوفیہ پر مقدم رکھا ہے، یہ سبھی کے نزدیک بہت ہی عمدہ ہے، اس لیے کہ ظاہر باطن کا عنوان اور پتہ ہوتا ہے، امید ہے کہ جناب باطن میں بھی طلبہ کو صوفیہ پر مقدم رکھتے ہوں گے۔ اس لیے کہ ہر برتن سے وہی چھلکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے۔
اس کے بعد پھر یوں فضائل ومناقب بیان فرماتے ہیں‘‘طالب علموں کو مقدم کرنے میں شریعت کو رواج دینا ہے،شریعت کے حامل یہی ہیں اور ملت مصطفویہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام ان سے قائم ہے،کل قیامت کے دن شریعت کے بارے میں پو چھیں گے نہ کی تصوف کے بارے میں ،جنت میں داخل ہونا اور دوزخ سے بچنا شریعت کی بجا آوری سے وابستہ ہے،انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کہ کا ئنات میں سب سے بہتر ہیں،انھوں نے شرائع کی دعوت کی ہے اور نجات کا مدار اسی پر رکھا ہے ان اکابر کی بعثت سے مقصود شریعت کی تبلیغ ہے پس سب سے بڑی خیرات ترویج شریعت میں کو شش کرنا ہے اور اس کے احکام سے کسی حکم کو زندہ کرنا خاص کر اس زمانے میں جب شعائر اسلام ختم ہو گئے ہوں،راہ خدا عز وجل میں کروروں خرچ کرنا مسائل شرعیہ میں سے کسی مسئلہ کو رواج دینے کے برابر نہیں ہے کیونکہ اس فعل میں انبیاء کہ بزرگ ترین مخلوقات ہیں کی اقتدا ہے علیہم الصلوات والتسلیمات،اور ان اکابر کےساتھ مشارکت ہے اور ثابت ہے کہ کامل ترین حسنات انھیں کو سپرد کی گئی ہیں جبکہ کروروں خرچ کرنا ان اکابر کے علاوہ کو بھی میسر ہے۔
نیز شریعت کو بجا لانے میں نفس کی پوری مخالفت ہے کیونکہ شریعت نفس کے خلاف وارد ہوئی ہے اور اموال خرچ کرنے میں کبھی نفس موافق ہوتا ہے،جو
اموال خرچ کرنا شریعت کی تائید اور ملت کی ترویج کے واسطے ہو درجۂ علیا ہے اور اس نیت سے تھوڑی سی چاندی یا ایک پیسہ کا پچیسواں حصہ خرچ کرنا لا کھوں کے خرچ کے برابر ہے جو اس نیت کے غیر میں ہو۔’’
الغرض حضرت مجدد قدس سرہ کا مطمح نظر ہر وقت عقائد اسلام کی ترویج واشاعت اور ان کی ترقی تھی،احیاے سنت انھیں جان سے زیادہ عزیز تھا،جن بزرگوں سے یہ کام وجود میں آتا وہ انھیں جان سے زیادہ عزیز تھے،ان کی تعظیم واکرام وہ دین کی تعظیم واکرام سمجھتے تھے،ان کی گہری نظر ہمیشہ کو شاں رہتی کہ دین کے صحیح رہبروں سے قوم وابستہ ہو،اللہ والوں سے جو علم وعمل کے حامل اور خدا کے طالب ہوں ان سے لو گوں کا ربط ہو،جن ملاؤں نے دین کو تباہ وبرباد کیا،اکبر کو بگاڑا جس کے نتیجے میں اسلام اور اہل اسلام پر کیا کیا مصیبتیں آئیں آپ چاہتے تھے کہ دین کے ان ڈکیتوں کو امرا وعمائدین پہچان لیں تاکہ پھر سے فسادات کے وہ چشمے نہ پھوٹیں جو پھوٹ چکے تھے اور بمشکل تمام جنھیں بند کیا گیا تھا۔
ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اکبر اس حد تک بگڑ گیا تھا کہ عوام تک بہ آسانی اس کے اسلام سے انحراف کو پہچان رہی تھی،جب زیادہ بعد ہوتا ہے تو انسان دوسرے کا اثر جلد قبول نہیں کرتا ہے،مگر بزور حکومت عوام کو بھی بگاڑا جا رہا تھا اور یہ بگاڑ علماے سو کے ہاتھوں سے ہوا تھا،یہ بگاڑ ابھی تازہ تازہ تھا اسے مکمل طور پر قرار وثبات حاصل نہیں ہوا تھا،اگر خدا نخواستہ جہانگیر بھی اپنے باپ کی روش اپنا لیتا تو یہ فساد وبگاڑ اور پختہ ہو جاتا پھر جس تیزی کے ساتھ یہ پھیلتا اور پھر اسلام واہل اسلام کا ہندوستان میں جو حشر ہوتا اسے اہل دانش ہی سمجھ سکتے ہیں۔
یہ باتیں حضرت مجدد قدس سرہ کے کلام سے جگہ جگہ مترشح ہوتی ہیں،آپ کا حساس قلب ہر وقت اس ٹوہ میں لگا رہتا کہ بادشاہ اور اس کے عمائدین کے ارد
گردصرف اور صرف نیک،صالح اور ذی علم لوگوں کا حلقہ ہو تاکہ اکبر کی ساری کو ششیں یک لخت فنا ہو جائیں اور اس کے بر خلاف تیزی سے شعائر اسلام اور احکام شرعیہ کو رواج حاصل ہو اور الحمد للہ آپ اپنے اخلاص،خدا ترسی اور لگن ومحنت کی وجہ سے کا میاب بھی ہوئے،اپنے باطنی تصرفات سے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کو ضلالت وگمرہی کے تاریک ماحول میں ہدایت کا چراغ دکھلایا۔