باب ۳۴ از ۵۷صفحات ۴۶۳–۴۷۶
کام کے طریقے
تدریس :
اس سلسلے میں ایک اقدام آپ نے یہ کیا کہ علوم ظاہری خواہ عقلیہ ہوں یا نقلیہ کی تدریس شروع کی اور ہر فن میں نہایت اعلیٰ صلاحیت وقابلیت سے طلبہ کو متاثر کرنا شروع کیا اور تدریس میں وہ تحقیق وتدقیق اور نئے نئے نکات وعلوم زیر بحث آتے جس سے طلبہ جھوم اٹھتے،اس طرح بہت جلد آپ کی تدریس کا شہرہ ہو گیا اور اعلیٰ صلاحیت مند اور علمی ذوق رکھنے والے حضرات آپ کی مقدس بارگاہ کی طرف کھنچنے لگے،اس طرح آپ نےعلماے آخرت پیدا کرنے کا ایک موثر طریقہ اپنا کر اپنے کافی معاونین فراہم کر لیے۔
آپ کی مقدس درسگاہ چونکہ نہایت صاف ستھری پاکیزہ ماحول پر مشتمل تھی اور ان تمام امور سے پاک تھی جو اس جماعت کو بگاڑتے تھے،آپ ہر علم کی قدر اس کے
مرتبہ کے لحاظ سے دلوں میں بٹھاتے اور ان میں علم وعمل کے وہ جو ہر پیدا کرتے جس سے ان طلبہ کی شخصیت پر کشش بنتی،علم وعمل سے آراستہ ہوتے،کام کے طریقے سکھاتے،ان میں ہمت وجرأت پیدا کرتے،ان کے دلوں میں سنت کا درد پیدا کرتے،اس طرح وہ ایک جانباز مجاہد اور سپاہی بن کر قوم کے سامنے آتے ہر فن اور ہر علم میں وہ جو ہر دکھاتے کہ علماے سو کی ساری فنکاریاں اور موشگافیاں دھری کی دھری رہ جاتیں۔
اس علمی اور فنی مہارت نے ایک اور بھی اہم کام کردار ادا کیا کہ بڑے بڑے ماہرین فن آپ کی طرف دوڑنے لگے،آپ کے دیدار کے مشتاق رہنے لگے جس سے آپ کو دوسری درسگاہوں کے فارغین کی تربیت کا اچھا موقع ملا،وہ آتے اور آپ کے سامنے اپنے آپ کو طفل مکتب محسوس کرتے،آپ کے باطنی کمالات اور حقائق ومعارف حقہ کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے پھر آپ ہی کے ہو کر رہ جاتے،سارا غرور علم چور چور ہو جاتا،اس طرح تکبر وغرور میں مبتلا نروں کو آپ کی بارگاہ نے صالح ومتواضع انسان کامل بنادیا۔
غرضیکہ تدریس کے کام نے آئندہ کی تیاری میں خشت اول کا کام کیا اور اس سے لا تعداد فوائد حاصل ہوئے،آپ کی درسگاہ سے جو نقلی وعقلی علوم فنون میں ماہر روزگار افراد تیار ہوئے اگر آپ ان کے مقام ومنزل اور ان کی مہارت وقابلیت پڑھیں گے تو حیرت زدہ رہ جائیں گے مگر اس کے لیے دوسرا مقام ہے۔
بیعت وارادت:
افراد کی تیاری میں جس نے سب سے اہم کردار ادا کیا وہ ہے سلسلۂ بیعت وارادت اور اصل تصوف کی اشاعت،بیعت وارادت کا رشتہ ایسا مضبوط اور اہم رشتہ ہے کہ شاید عقیدت ومحبت اور لگاؤ کے لیے اس سے زیادہ مضبوط رشتہ نہ ہوگا،بیعت وارادت ہی
مرید کو اپنے پیر کی اطاعت سکھاتی ہے،ہر چیز پر مرید اپنے پیر ومرشد کے حکم کو مقدم سمجھتا ہے،تسلیم واختیار کا جو جذبہ اس کے ذریعہ ابھرتا ہے وہ کسی کے ذریعہ نہیں ابھرتا ہے،جو جاں نثاری وفداکاری اس کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے وہ کسی کے ذریعہ نہیں، جب مرید اپنے شیخ کے کمالات اور گونا گوں اوصاف وفضائل دیکھتا ہے اور ان کا پرتو وظل اپنے اندر محسوس کرتا ہے تو اس کی مثل‘‘مردہ بدست غسال’’ (جس طرح مردہ نہلانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے) ہوتی ہے وہ امرا و حکام اور سلاطین کے ساتھ روابط کی طرح شیخ سے روابط نہیں رکھتا ہے کہ حضور میں غایت درجہ نیاز مندی اور تسلیم واطاعت ہو اور پس پشت مخالفت کیونکہ یہاں خوف کہلواتا ہے اور دولت وعہدہ داری کام کرواتی ہے۔
وہاں خلوت ہو کہ جلوت ذکر ہے تو شیخ کا،اطاعت ہے تو شیخ کی اور محبت ہے تو شیخ کی اس سے ایک نورانی متحد ومتفق معاشرہ عمل میں آتا ہے،اور رفتہ رفتہ وہ تمام جراثیم نکلتے رہتے ہیں جو دنیا و آخرت کے لیے مضر ہیں،اور وہ تمام اوصاف پیدا ہوتے رہتے ہیں جن کی توانائی ہر مادی توانائی سے بڑھ کر اور جن کی قوت ہر قوت سے بالا تر ہے
روحانی کمالات ہی وہ کمالات ہیں جن کے آگے سب سرنگوں ہوتے ہیں،چپراسی سے لے کر بادشاہ تک سب اسی کے آگے جھکتے ہیں،سب کا رعب وجلال اس کے آگے سر خم کیے رہتا ہے،یہی وہ کمند ہے جس کے ذریعہ بہ آسانی ہر ایک کا شکار ہو سکتا ہے،اس کے ذریعہ اسلام صرف بتایا نہیں جاتا ہے بلکہ دکھایا جاتا ہے،سنتیں دلوں میں اتاری جاتی ہیں،قلب ونفس جن کی حکومت سارے جسم پر حاوی ہوتی ہے اس کے ذریعہ ان کا تصفیہ وتزکیہ کرکے انسان کو انسان کامل اور پکا مسلمان بنایا جاتا ہے،اسلام کی باطنی خوبیوں کو اسی کے ذریعہ پہچنوا سکتے ہیں،دین کی باطنی
عظمتوں اور محض قوتوں کو اسی کے ذریعہ آشکارا کر سکتے ہیں۔
علم واستدلال کے ذریعہ ایک عام مسلمان کو خاص مسلمان بنا نے میں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں مگر اس کے ذریعہ منکرین خدا کو خدا آشنا نہایت آسانی سے کردیا جاتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنی تمام ظاہری وباطنی عظمتوں کے ساتھ اگر زندہ رہا ہے تو تصوف کے ذریعہ،پھیلا ہے تو اسی کے ذریعہ۔
جس وقت امراوحکام آپس میں حصول اقتدار کے لیے بر سر پیکار تھے اس وقت بھی اسلام کی خدمت گر کوئی کر رہا تھا تو تصوف ہی کر رہا تھا،روح اسلام اگر بر قرار ہے تو اسی کے ذریعہ،اشخاص میں پورے طور پر اگر اسلام نافذ ہوا ہے تو اسی کے ذریعہ،اسی لیے حضرت مجدد قدس سرہ نے اپنی تمام تجدیدی خدمات کے لیے اسی کو منتخب فرمایا،آپ کی نظر میں یہی وہ ہتھیار تھا جس سے ہر باطل کو فنا کے گھاٹ اتارا جا سکتا تھا اور اعلاء کلمۃ اللہ کا فریضہ انجام دیا جا سکتا تھا۔
اللہ تعالیٰ کو چونکہ آپ سے بڑا کام لینا تھا اسی لیے آپ کی شخصیت کو اس معاملہ میں اتنا پر کشش بنایا تھا کہ جسے دیکھو وہ کھنچا چلا آرہا تھا ہر ایک کی نظر میں آپ کی ذات معرفت کا ایک شیریں چشمہ تھی جہاں نہایت صاف وشفاف ایسا پانی میسر آسکتا تھا جہاں ہر بڑے سے بڑے کی پیاس بجھ سکتی تھی اور کامل طور پر سیرابی حاصل ہو سکتی تھی۔
وسعت ارادت:
حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ سے وابستہ ہونے سے قبل آپ اگر چہ اپنے والد بزرگوار سے سلسلۂ عالیہ قادریہ وچشتیہ میں بیعت کر چکے تھے،کبرویہ سلسلے کی بھی تحصیل فرما چکے تھے،یہ ایک رسمی بیعت نہ تھی بلکہ روحانی منازل کی تحصیل بھی تھی جیسا کہ آپ پڑھ چکے مگر تاریخ سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ آپ نے ارادت وبیعت کا
سلسلہ شروع کیا ہو اور لوگ آپ کے مرید ہوئے ہوں،حضرت خواجہ قدس سرہ سے اجازت وخلافت کے بعد جس تیزی سے یہ کام ہوا اور آپ کے حلقے کو وسعت حاصل ہوئی وہ بھی مثالی تھا،حضرت علامہ بدرالدین سرہندی جنھوں نے آپ کے شب وروز کو دیکھا آپ کے حالات لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘ غرض کہ جب آپ کا شہرہ دنیا اور دنیا والوں پر ہوا اور آپ کی ہدایت کا چرچا تمام عالم میں شائع ہوا اور آپ کے کمالات کا ڈنکا ہفت اقلیم میں بجنے لگا تو آیت کریمہ اذا جاء نصراللہ والفتح ورأیت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا کے مصداق مختلف مقامات میں لوگوں نے آپ کے حلیۂ مبارکہ کو اپنے خوابوں میں دیکھا بلکہ انبیاء علیہم السلام سے بھی اشارے اور بشارتیں پائیں کہ آپ کی خدمت میں لوگ حا ضر ہوں چناں چہ بکثرت لوگ جوق در جوق اور فوج در فوج آپ کی خدمت میں حا ضر ہوئے اور جو بشارتیں انھیں خواب میں ملی تھیں ان کا مصداق آپ ہی کو دیکھا،اس لیے ہر شخص آپ کا معتقد اور مطیع بن گیا ،آپ کے خوارق عادات وکرامات نیز کشف قلوب واشراق غیوب اس طرح لگاتار ظاہر ہوتے تھے جس طرح کہ ابر نیساں ۔
پھر ظاہر وباطن میں آپ کے تصرفات اور توجہات بےحد وحساب محسوس ہوتے تھے اس لیے آپ کی صورت اور روحانیت کا ہر شخص شیدا بن گیا اور لوگ آپ کے در پر بالکل عاجز بن کر رہتے تھے اور ادب وانکسار کی حالت یہ تھی کہ وہ نقش بر دیوار بن جاتے تھے۔
پھر آپ جیسے قطب الاقطاب سے بات کرنے کی کس کو جرأت ہوتی اور ہم زبانی کی تاب کسے تھی؟آپ کی وجہ سے خدا کے دوستوں اور حق پرستوں کا ایسا مجمع لگ گیا
......................
۔ وہ بادل جو موسم بہار یا موسم سرما میں برستا ہے۔ مشہور ہے کہ اس کی بوند سے سیپ میں موتی، بانس میں بنس لوچن اور دہان اژدہا میں زہر پیدا ہوتا ہے۔ فرہنگ آنند راج
تھا کہ تمام دنیا میں اس کی مثال نہ تھی،ان طالبان حق اور سالکان حق میں سے جو شخص بھی آپ کو دیکھتا تھا تو بے اختیار اور با اضطرار کہہ اٹھتا تھا‘‘بے شک یہ کوئی بڑے فرشتے ہیں’’۔’’(حضرات القدس ص:۳۶)
اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کا تجدیدی کام کتنی تیزی اور وسعت وباقاعدگی کے ساتھ تھا۔
افراد صالح:
آپ کے سلسلۂ ارادت کو بہت وسعت حاصل ہوئی اور اس کے ذریعہ کامل افراد کا ایک عظیم ذخیرہ ہاتھ آگیا،جو افراد تیار ہوئے تھے وہ معمولی نہ تھے،علم منقول ہو یا معقول شریعت ہو یا طریقت،کشف ومشاہدہ ہو یا تصرف وکرامت ہر میدان کے شہسوار اور ہر محاذ کے غازی تھے،سنت پر عمل اور سنت کی ہر ممکن اشاعت، ظاہر و باطن کو سنت سے آراستہ کرنا اور عقائد واعمال کی تمام بدعتوں کو یک لخت ختم کرنا،جاہلانہ رسوم وعادات سے ذہن ودماغ اور اجسام کو پاک کرنا یہی اس جماعت کا محور اور بنیادی نقطۂ نظر تھا۔
ان کو کام کے طریقے بھی بتائے گئے تھے،مختلف مواقع سے دینی فوائد کی تحصیل، امرا وحکام کو اور عوام وخواص کو پنی طرف مائل کرنا ان میں دینی خدمات کے جذبات پیدا کرنا،سنت کے کام کے لیے انھیں ابھارنا،حکومت کا رخ اسلام کی طرف موڑنا سبھی کی تربیت دی گئی تھی،دنیا واہل دنیا سے استغنا اور توکل وقناعت تمام اوصاف عالیہ سے متصف کیا گیا تھا۔
الغرض یہ وہ جماعت تھی جو اپنی مثال آپ تھی،یہاں نہ صرف علم ظاہر کی موشگافیاں تھیں نہ جاہلانہ تصوف تھا نہ بیعت وارادت کی آڑ میں شکم پروری تھی یہ وہ تھے جو علماے ظاہر میں بڑے عالم ظاہر،صوفیوں میں بڑے صوفی،متقیوں میں بڑے
متقی اور بڑے بڑے تصرفات وکمالات کے حامل اسی لیے یہ جدھر نکل جاتے تھے تو علماے ظاہر بھی جھکتے تھے،صوفی بھی سیرابی حاصل کرتے تھے،ان کے سامنے کسی منطقی وفلسفی کی دال نہ گلتی تھی،نہ کسی مناظرے ومباحثے میں یہ پیچ کھانے والے تھے اور نہ ہی کسی کے کشف ومشاہدہ سے متاثر ہونے والے تھے۔
انھیں تاکید کی گئی تھی کہ عزلت وگوشہ نشینی بالکل اختیار نہ کی جائے بلکہ ہر وقت عوام میں رہ کر سنتوں کی اشاعت کریں اور رات دن طلبہ کو علوم ظاہری وباطنی کا فیض پہنچائیں ہر وقت انھیں آراستہ کریں اور اخلاق واوصاف حمیدہ سے متصف کریں،سنت کو اس کے پورے خدوخال کے ساتھ خود بھی اپنائیں اور دوسروں کو بھی تلقین کریں،بدعت کو ہر ممکن طریقے سے مٹائیں اور کوئی ایسا گوشہ نہ چھوڑیں کہ جس سے اس کے عمل کے جواز کی راہ فراہم کی جاسکے۔
جن خوبیوں کےافراد کی ضرورت تھی جیسے جیسے وہ تیار ہوتے جاتے انھیں کوئی نہ کوئی علاقہ سونپ دیا جاتا،کوئی اہم علاقہ سپرد کردیا جاتا،وہاں کے لیےمناسب ہدایات دے دی جاتیں،دین کی خدمت کا سب سے کامیاب طریقہ اور موثر طرز یہی ہے ہر دور میں جتنے اچھے صالح اور لائق افراد تیار ہوں گے دین کی اتنی ہی زبردست خدمت ہوگی۔
حضرت مجدد قدس سرہ کو سلوک وتسلیک میں جو قوت عطا کی گئی تھی اور نئے نئے کمالات عطا فرمائے گئےتھے اگرچہ آپ کی قوت تاثیر وتوجہ بہت جلد منازل ومراحل طے کراتی تھی مگر پھر بھی جو بلند سلوک عطا فرمایا گیا تھا اس کے نقطۂ آخر تک پہنچنا اور خصوصی کمالات سے حصہ پانا فرق استعداد کی وجہ سے ہر ایک کو چند لمحات میں تو حاصل ہو نہیں سکتا تھا ادھر افراد کی اشد ضرورت تھی اسی لیے آپ نے اس سلسلے میں اتنی وسعت دی کہ جب آپ دیکھتے کہ یہ روحانی مدارج کافی حد تک طے ک
کر چکا ہے اور اس کو مقامات اور سنتوں پر عمل میں ثبات اور تحقق حاصل ہو گیا ہے،اس سے خلق کو رشد وہدایت حاصل ہو سکتی ہے،عوام وخواص کو فلاح وکامیابی مل سکتی ہے اور سنتوں کی اشاعت اچھی طرح کر سکتا ہے،سنتوں پر عمل اور مشائخ کی توجہات سے باقی ماندہ مراحل طے کر سکتا ہے تو اسے آپ خلافت واجازت عطا فرماکر ارشاد وہدایت کے لیے بھیج دیتے مگر یہ اجازت مشروط ہوتی تھی۔
الغرض درس وتدریس اور بیعت وارادت کے ذریعہ ان افراد کی بڑی جماعت ہاتھ آگئی جس کے ذریعہ آپ نے اپنے تجدیدی کام کو آگے بڑھایا اور ان کمالات کی ترویج واشاعت بہ آسانی ہو سکی جو آپ کے ذریعہ تازہ اور زندہ ہوئے تھے،ان افراد کی تیاری میں آپ کے پیر ومرشد حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کی نوازشات کو بھی بہت دخل ہے جیسا کہ عنقریب آپ پڑھیں گے۔
خلفاےکرام:
اب آپ ایک مختصر فہرست ان افراد کی ملاحظہ فرمالیں جو اس روحانی اور علمی درسگاہ سے فارغ التحصیل تھے اور انھیں کن کن علاقوں میں دینی وشرعی خدمات کے لیے منتخب کیا گیا تھا،اگر ان کے علم وفضل۔تقویٰ وطہارت،تصرف وکرامت اور دیگر ظاہری وباطنی اوصاف واخلاق پڑھنا چاہیں تو ہماری کتاب‘‘تذکرہ مشائخ باقیہ مجددیہ ’’ کا مطالعہ کیجیے وہان آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ حضرات کن اوصاف کے حامل تھے اور جن علاقوں میں انھیں منتخب کیا گیا تھا وہاں انھوں نے کتنی تیزی،وسعت اور لگن ومحنت کے ساتھ کام کیا اور جن خدمات کے لیے انھیں بھیجا گیا تھا ان کو انھوں نے کتنے احسن طریقے پر انجام دیا،اجمالی فہرست یہ ہے:
۱۔حضرت خواجہ محمد صادق فاروقی مجددی
۲۔خازن الرحمہ حضرت خواجہ محمد سعید
۔عروۃ الوثقیٰ حضرت خواجہ محمد معصوم قدس اللہ اسرارہم یہ سب حضرت مجدد قدس سرہ کے فرزند تھے
۴۔حضرت میر محمد نعمان کشمی
۵۔حضرت شیخ طاہر لاہوری
۶۔حضرت مولانا محمد ہاشم کشمی
۷۔حضرت شیخ بدیع الدین سہارنپوری
۸۔حضرت شیخ نور محمد پٹنی
۹۔حضرت شیخ حمید بنگالی
۱۰۔حضرت شیخ مزمل
۱۱۔حضرت شیخ طاہر بدخشی
۱۲۔حضرت مولانا یوسف سمرقندی
۱۳۔حضرت مولانا احمد برکی
۱۴۔حضرت مولانا محمد صالح کولابی
۱۵۔ حضرت مولانامحمد صدیق کشمی
۱۶۔ حضرت مولانا شیخ عبدالحئی حصاری
۱۷۔ حضرت مولانایارمحمد۔۔۔طالقانی
۱۸۔ حضرت مولانا قاسم علی صاحب
۱۹۔حضرت شیخ حسن برکی
۲۰۔ حضرت مولاناعبدالہادی بدایونی
۲۱۔حضرت شیخ یوسف برکی
۲۲۔حضرت سید محب اللہ مانکپوری
۲۴۔حضرت شیخ احمد دیوبندی
۲۵۔ حضرت شیخ کریم الدین بابا حسن ابدالی
۲۶۔ حضرت مولانا عبدالواحد لا ہوری
۲۷۔ حضرت مولانا امان اللہ لاہوری رحمۃ اللہ علیہم اجمعین
یہ وہ خلفا ے کرام ہیں جن کا مختصر ذکر حضرت مولانا محمد ہاشم قدس سرہ نے برکات احمدیہ میں کیا یعنی اپنے علم اور جانکاری کے لحاظ سے خلفاے خاص میں شمار کیا ہے،کچھ کے اسما بھی ذکر کیے ہیں یعنی یہ حضرات عام خلفا میں ہیں جن کی فہرست یہ ہے:
۱۔حضرت مولانا امان اللہ فقیہ
۲۔حضرت شیخ محمد حری؟
۳۔ حضرت شیخ داؤد سالکی
۴۔حضرت شیخ سلیم بنوری
۵۔حضرت شیخ آدم بنوری
۶۔حضرت شیخ محمد تہاری
۷۔حضرت شیخ حامد تہاری
۸۔ حضرت صوفی قربان قدیم
۹۔ حضرت مولانا صادق کابلی
۱۰۔حضرت مولانا محمد ہاشم خادم
۱۱۔ حضرت مولانا نمازی گجراتی
۱۲۔ حضرت صوفی قربان جدید
۱۴۔ حضرت مولانا فرخ حسین صاحب
۱۵۔ حضرت مولانا صفر احمد
۱۶۔حضرت مولانا بدرالدین سرہندی(صاحب حضرات القدس)
۱۷۔ حضرت مولانا حمیدی احمدی
۱۸۔ حضرت حاجی حسین
۱۹۔حضرت شیخ عبد الرحیم برکی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین
ان کے علاوہ کتنے اور ہیں کسی کو پتہ نہیں،کچھ تو وہ اصحاب کمال ہیں جن سے اتفاقا حضرت مولانا محمد ہاشم کی ملاقات ہو گئی اور انھوں نے اپنے نور باطن سے پہچان لیا کہ یہ صاحب کمال ہے،پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ حضرت مجدد قدس سرہ کے در کے گدا ہیں جن کا ذکر برکات احمدیہ میں ہے ان کے علاوہ کچھ نام دیگر کتب میں بھی دیے ہیں انھیں میں حضرت شیخ زین العابدین تبریزی ثم المکی الشافعی اور حضرت شیخ عبد العزیز نجوی مغربی مالکی اور حضرت شیخ احمد استنبولی ۔۔۔ہیں۔
ان سب کے علاوہ کچھ حضرات وہ ہیں جو بظاہراہل سپاہ سے تھے اور بباطن اصحاب خانقاہ سے جن کے نام مکتوبات شریف میں خطوط ہیں جیسے حضرت خواجہ محمد اشرف کابلی،حضرت مولانا حاجی محمد خرکتی، حضرت مولانا عبد الغفور سمر قندی، حضرت حافظ محمود گجراتی،حضرت سلیم خان لشکری رحمۃ الللہ علیہم اجمعین۔
یہ چون(۵۴) اصحاب کمال کے اسماے گرامی ہیں جو معلوم ہوئے ہیں،جو نہیں معلوم ہوسکے وہ بہت زیادہ ہیں علامہ نور بخش توکلی فرماتے ہیں:
‘‘ حضرت خواجہ محمد معصوم کے ہاتھ پر یکم ربیع الاول ۱۰۳۴ء میں پچاس ہزار آدمیوں نے بیعت کی جن میں دو ہزار حضرت مجدد رضی اللہ عنہ کے خلفا تھے باقی خلفا
جو مختلف ممالک میں تھے وہ بھی مختلف اوقات میں سرہند میں حاضر خدمت ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے’’
خیال رہے یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے با ضابطہ سلوک طے کیا تھا اور درجۂ کمال کو پہنچے تھے اور مجددی کمالات اور احمدی رموز واشارات سے بھر پور حصہ پایا تھا ان میں حسب ظرف فرق مراتب ضرور ہے،خدمات بھی کسی کی کم کسی کی زیادہ تو کسی کی بہت زیادہ ہیں مگر سب صاحب ارشاد تھے۔
حضرت مجدد قدس سرہ کے یہ اور ان کے علاوہ گمنام خلفا نے فیضان مجدد کو پورے عالم میں عام کیا کوئی ملک کوئی صوبہ اور اہم شہر نہیں چھوٹا جہاں ان کے ذریعہ آپ کی تعلیمات اور تجدیدی کاوشیں نہ پہنچی ہوں،انھوں نے حضرت مجدد کے مشن کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔
خیال رہے کہ آپ کے یہاں ویسا دستور نہ تھا جیسا کہ بعد میں (اہل خانقاہ کے یہاں) ہوا کہ جسے چاہا خلافت دے دی،کہیں پہنچے خلافت نامہ تحریر کردیا،یا سلوک طے کیے بغیر آپ سے تبرکا خلافت لے لی ہو،وہاں تو حال یہ تھا کہ دوسرے مشائخ کے تربیت یا فتہ اصحاب فضل وکمال آتے تو انھیں بھی جب تک اپنی کسوٹی پر پرکھ نہیں لیا جاتا اور اپنی نسبتوں سے مالامال نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک خلافت نہ ملتی۔
آج کل جس طرح خلفا بٹورے جا رہے ہیں حلقے بڑھانے کے لیے خلافت نامے تحریر کیے جا رہے ہیں یہ بے چارے خلفا تو درکنار خلافت دینے والے تک تصوف کے الف سے واقف نہیں اس کو علمی حیثیت تک سے نہیں جانتے ہیں سلوک تو بڑی چیز ہے،اس کی وہاں کو ئی گنتی نہیں رہی۔
حضرت مجدد قدس سرہ کے خلفا تو خلفا رہے عام مریدین ہزاروں ایسے تھے جو صاحب نسبت اور صاحب حالات وکیفیات تھے اور ہر ایک حسب حیثیت احیاے سنت
میں لگا ہوا تھا،ہر ملک میں ہر صوبے میں ہر بڑے اور مر کزی شہر میں ایک نہ ایک نمائندہ مو جود تھا جو رات ودن کام میں لگا ہوا تھا اور سب کی قیادت سرہند کا بوریہ نشین کر رہا تھا،موقع بہ موقع سب کو ہدایات پہنچتی تھیں سب کی پشت پناہی والیِ سرہند کر رہے تھے ہر ایک کی دھن یہی تھی کہ کسی امیر یا وزیر کو کس طرح پکڑیں،کیسے متاثر کریں جس سے رخ اسلام کی طرف ہو جائے،کفر ٹوٹے اور بد مذہبی ختم ہو،کس علاقے میں کون کتنا با اثر ہے،کس سے کیا خدمات لی جا سکتی ہیں اور کون کتنا ممد ومعاون ہو سکتا ہے ؟
الغرض عوام وخواص سب پر یہ خلفاے کرام اور روحانی فرزندان گرامی اپنے تاثرات قائم کر رہے تھے اور حضرت مجدد قدس سرہ کی عظمتوں اور رفعتوں سے آشنا کرکے ان کے دامن سے وابستہ کر رہے تھے،اس طرح رفتہ رفتہ اراکین سلطنت کا ایک زبردست گروہ حضرت مجدد قدس سرہ کے الطاف وعنایات کا مورد (جگہ) بن گیا اور آپ کے حلقۂ ارادت میں آکر اپنی طاقتوں اور عہدوں کو دینی خدمات کے لیے استعمال کرنے لگا۔
اب ان امرا و وزرا کے نام بھی سن لیجیے جو حضرت مجدد قدس سرہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہو گئے تھے یا کم از کم آپ کی شخصیت اور عظمت ورفعت کے اس قدر قائل اور گرویدہ ہو گئے تھے کہ آپ کے حکم سے روگردانی دونوں جہان کا خسارہ سمجھتے تھے اور ہر حال میں آپ کی ہدایات اور ارشادات پر عمل واجب سمجھتے تھے اور اسی میں سعادت تصور کرتے تھے۔
مولانا رئیس احمد صاحب جعفری انوار الاولیا میں لکھتے ہیں:
‘‘بڑے بڑے افسران فوج،حکام و عہدیداران حضرت امام ربانی کے متوسلین میں شامل تھے جن میں شیخ فرید،مہابت خان،اسلام خان، سکندر خاں،حکیم فتح اللہ
خان،حکیم شیخ عبدالوہاب،سید محمود اختر،سید احمد، خضر خان لودھی،مرزا بدیع الزماں جپاتی خان،خان جہان اور قلیج خان وغیرہ قابل ذکر ہیں’’