باب ۴۶ از ۵۷صفحات ۶۳۸–۶۴۹
حقائق ممکنات عند المجدد
حقائق ممکنات (خیال رہے کہ یہ حقائق انبیائے کرام اور ملائکۂ عظام علیہم الصلوات والتسلیمات کے علاوہ ہیں)کی یہ تفصیل آپ نے ملاحظہ فرمائی اور جو نتائج برآمد ہوتے تھے وہ بھی کچھ سماعت فرمائے،اب آپ حضرت مجدد قدس سرہ کی مختلف ومتعدد تقریرات کا خلاصہ دیکھیں!
خلاصہ یہ ہے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ کی حقیقت وجود صرف ہے کہ کوئی دوسرا امر اس
کے ساتھ منضم نہیں،وہ وجود ہر خیر وکمال کا منشأ اور ہر حسن وجمال کا مبدأ ہے وہ وجود جزئی حقیقی اور ہر طرح بسیط ہے نہ ذہناً مرکب ہے نہ خارجاً اور باعتبار حقیقت ممتنع التصور اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر مواطاتاً محمول ہے بطور اشتقاق نہیں اگر چہ حمل کی بھی اس محل میں در حقیقت گنجائش نہیں کیونکہ تمام نسبتیں اس جگہ ساکت ہیں۔
اور جو وجود عام اور مشترک ہے(واجب اور ممکن کے درمیان) اسی وجود خاص تعالیٰ وتقدس کے ظلال سے ہے،یہ ظل ذات تعالیٰ وتقدس پر اور دیگر اشیا پر بر سبیل اشتقاق محمول ہے مواطاتاً نہیں اور اس ظل سے مراد مراتب تنزلات میں حضرت وجود کا ظہور ہے اور اس ظل کے افراد میں سے اولیٰ واقدم اور اشرف وہ فرد ہے جو کہ ذات تعالیٰ پر اشتقاقاً محمول ہے پس مرتبہ اصالت میں اللہ تعالیٰ وجودٌ کہا جا سکتا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ موجودٌ اور اس ظل کے مرتبہ میں اللہ تعالیٰ موجود صادق ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ وجودٌ چونکہ حکماء اور صوفیہ میں سے ایک گروہ عینیت وجود کا قائل ہے انھوں نے اس فرق کی حقیقت کی اطلاع نہیں پائی ہے اور نہ ظل کو اصل سے جدا کیا ہے،حمل اشتقاق اور حمل مواطات دونوں کو ایک مرتبہ میں ثابت کیا ہے اور حمل اشتقاق کو صحیح کرنے میں حیلے اور تکلف سے کام لیا ہے۔
یہ اصالت اور ظلیت تمام صفات حقیقیہ کی اصالت وظلیت کی طرح ہے کیونکہ مرتبۂ اصالت میں جو کہ موطن اجمال اور غیب الغیب ہے ان صفات کا حمل بطریق مواطات ہے نہ بطریق اشتقاق ،اللہ تعالیٰ علمٌ کہا جا سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ عالم نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ حمل اشتقاق میں حصول مغایرت ضروری ہے اگر چہ اعتباری ہی کیوں نہ ہو اور وہ اس موطن میں بالکل مفقود ہے کیونکہ تغایر صرف مراتب ظلیہ میں ہوتا ہے اور اس جگہ کوئی ظلیت نہیں کیونکہ وہ چند مراتب تعین اول کے اوپر ہے کیونکہ نسبتیں بطریق اجمال اسی تعین میں ملحوظ ہیں اور اس جگہ اشیا سے کسی شئ کا ملاحظہ کسی وجہ کے
اور مرتبۂ ظل میں جو کہ اس اجمال کی تفصیل ہے حمل اشتقاق صادق ہے حمل مواطات نہیں لیکن ان صفات کی عینیت اس مرتبہ میں عینیت وجود کی فرع ہے،یہ وجود ظلی بھی آثار خارجیہ کا مبدأ ہے،پس جو ماہیتیں کہ اس وجود سے متصف ہو ں گی ہر مرتبہ میں موجودات خارجیہ کے مراتب سے ہوں گی تو صفات حقیقیہ بھی موجودات خارجیہ ہوں گی اور ممکنات بھی خارج میں موجود ہوں گے۔’’
اگر آپ اس بحث کو بالتفصیل دیکھنا چاہیں تو مکتوب ۲۳۴ میں دیکھیے،حضرت مجدد قدس سرہ نے اس جگہ ایک اور سر غامض بیان فرمایا وہ یہ کہ کمالات ذاتیہ حضرت ذات تعالیٰ وتقدس کے مرتبہ میں عین ذات ہیں مثلا صفت علم اس موطن میں عین حضرت ذات ہے اسی طرح دیگر قدرت وارادت اور باقی صفات۔
نیز اس موطن میں حضرت ذات بتمامہ علم ہے اور اسی طرح بتمامہ قدرت ہے ایسا نہیں ہے کہ بعض حضرت ذات علم ہے اور بعض دیگر قدرت کیونکہ تجزی وتبعض اس جگہ محال ہے اور ان کمالات نے کہ گویا حضرت ذات تعالیٰ سے منتزع ہیں،حضرت علم کے مرتبہ میں تفصیل پائی ہے اور تمیز پیدا کیا ہے مع بقاء حضرۃ الذات تعالت وتقدست علیٰ تلک العرافۃ الاجمالیۃ الوحدانیۃ اس کے بعد اس موطن میں کوئی چیز نہیں بچی کہ اس تفصیل میں داخل نہ ہوئی ہو اور متمیز نہ ہوئی ہو بلکہ تمام کہ جن کا ہر ایک عین حضرت ذات تعالیٰ تھا مرتبۂ علم میں آیا ہے اور ان کمالات مفصلہ نے مرتبۂ ثانی میں وجود ظلی پیدا کرکے صفات نام پایا ہے۔’’
اور عدم چونکہ وجود کا مقابل ہے اور اس کی نقیض ہے تو بالذات ہر شر ونقص کا منشأ ہوگا بلکہ عین ہر شر ونقص ہوگا جس طرح وجود مرتبۂ اجمال میں عین ہر خیر وکمال ہے اور جس طرح حضرت وجود اصل الاصل کے موطن میں ذات تعالیٰ پر بطریق
اشتقاق محمول نہیں ہے،عدم بھی کہ اس وجود کے مقابل ہے ماہیت عدمیہ پر بطریق اشتقاق محمول نہیں ہے اس مرتبہ میں ماہیت کو معدوم نہیں کہہ سکتے ہیں بل ہو عدم محض اور تفصیل علمی کے مراتب میں کہ اس ماہیت عدمیہ سے تعلق پایا ہے اس ماہیت کے جزئیات عدم سے متصف ہوتے ہیں اور حمل اشتقاق اس جگہ درست آتا ہے اور مفہوم عدم گویا منتزع اس ماہیت اجمالیہ عدمیہ سے ہے اور ظل کی مانند ہے اس ماہیت کے لیے جمیع افراد مفصلہ پر اس کو بطریق اشتقاق محمول کرنا چاہیے اور جب وہ عدم مرتبۂ اجمال میں عین ہر شر وفساد ہے اور اللہ سبحانہ کے علم میں ہر شر دوسری شر سے جدا تھی اور ہر فساد نے دوسرے فساد سے امتیاز رکھا جیسا کہ وجود میں بھی یہی تھا۔
پس ہر کمال اس کمالات وجودیہ میں سے ان نقائص عدمیہ سے ہر نقص میں اس کے مقابل ہے فانہ علم میں منعکس ہوا اور ہر ایک(وجود وعدم) کی علمی صورتوں نے باہم ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ پیدا کیا پس وہ عدمات کہ شرور ونقائص سے عبارت ہیں ان کمالات منعکسہ کے ساتھ کہ مرتبۂ حضرت علم میں تفصیل علمی پائی ہے ممکنات کی ماہیات ہیں زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ عدمات ان ماہیات کے اصول ومادوں کی طرح ہیں اور وہ کمالات حلول کردہ صورتوں کے مثل ان میں،پس اعیان ثابتہ میرے نزدیک انھیں عدمات اور ان کمالات کا نام ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط ہو گئے ہیں۔’’
نتائج:
بات اگر چہ طویل ہو گئی اور بحث بھی خالص علمی تھی، میں نے نہایت اختصار کے ساتھ کچھ باتیں سپرد قلم کیں در اصل بہت سے بنیادی مسائل ہیں جو اسی بات پر موقوف ہیں کہ یہ بات سمجھ لی جائے کہ کائنات اور اس کے خالق میں کیا تعلق ہے اسی
فرق سے آپ سمجھ جائیں گے کہ حضرت مجدد قدس سرہ بارگاہ الوہیت میں کتنے محتاط ہیں اور ذات واجب تعالیٰ وتقدس کے مقدس آداب کا کس قدر لحاظ فرمایا ہے۔
(۱)حضرت شیخ اکبر اور ان کے متبعین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے قول سے لازم آتا ہے کہ وجود ممکن کے لیے بھی ثابت ہے جبکہ حضرت مجدد قدس سرہ کے نزدیک ممکن کا نصیب عدم ہے وجود نہیں،فرماتے ہیں:
‘‘وجود ہر خیر وکمال کا مبدأ ہے اور عدم ہر نقص وشرارت اور زوال کا منشأ تو وجود خاص واجب جل سلطانہ کے لیے ثابت ہوگا اور عدم ممکن کے لیے تاکہ ہر خیر وکمال اللہ تعالیٰ کی طرف عائد ہو اور ہر شر ونقص اس ممکن کی طرف راجع ہو۔’’
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘ممکن کے لیے وجود ثابت کرنا اور خیر وکمال کو اس کی طرف راجع ٹھہرانا در حقیقت ممکن کو حق تعالیٰ کے ملک وملکوت میں شریک کرنا ہے۔’’
بعض علماے ظواہر کا قول:
بعض علماے ظاہر نے یہ کہہ دیا کہ ممکن کے لیے بھی وجود ثابت ہے اور واجب کے لیے بھی پس قضیہ تشکیک کی بنا پر واجب تعالیٰ کا وجود اولیٰ واقدم ہوگا،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بھی در حقیقت واجب تعالیٰ کے ساتھ ممکن کو ان کمالات وفضائل میں شریک کرنا ہے جو وجود سے پیدا ہوتے ہیں،تعالیٰ عن ذٰلک علوا کبیرا۔
حدیث قدسی میں آیا ہے‘‘الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری’’ اگر علمائے ظواہر اس دقیقہ سے آگاہ ہوتے تو ہر گز ممکن کے لیے وجود ثابت نہ کرتے اور خیر وکمال کہ حضرت واجب تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اختصاص وجود کے اعتبار سے ممکن کے لیے ثابت نہ کرتے۔
(۲)اسی طرح حضرت شیخ اکبر قدس سرہ کے قول سے لازم آتا ہے کہ ممکن عین واجب ہے،اسی طرح ممکن کے صفات وافعال عین صفات وافعال حق تعالیٰ ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘وجودی در علم و خارج بجز ذات واجب تعالیٰ وغیر از اسما وصفات واجبی جل سلطانہا کہ عین ذات اند تعالیٰ وتقدس نزد ایشاں ثابت نشدہ وصورت علمیہ را عین ذی صورت دانستہ نہ شبح ومثال آں و ہم چنیں صورت منعکسہ اعیان ثابتہ را کہ در مرات ظاہر وجود نمودے پیدا کردہ است عین آں اعیان تصور کردہ اند نہ شبہ آں ناچار حکم بہ اتحاد نمودہ اند وہم اوست گفتہ۔’’
ترجمہ:یعنی چونکہ علم اور خارج میں واجب تعالیٰ کی ذات اور اسما وصفات واجبی جو کہ ان کے نزدیک عین ذات تعالیٰ ہیں کے علاوہ کوئی ثابت نہیں ہو سکا اور علمی صورتوں کو ذی صورت کا عین جانا نہ ان کی مثال،شبح اور اسی طرح اعیان ثابتہ کی صورت منعکسہ کہ ظاہر وجود کے آئینہ میں نمود پیدا کیا جائے ان اعیان کا عین تصور کیا نہ ان کی مثال لا محالہ اتحاد کا حکم کر کے ہمہ اوست کہا۔
مطلب یہ کہ اس سے لازم آتا ہے کہ ممکن عین واجب ہے اور ممکن کے صفات وافعال اللہ تعالیٰ کی صفات وافعال کا عین ہیں، اسی لیے وحدۃ الوجود کا ایک دیوانہ کہتا ہے۔؎
ہمسایہ وہم نشین وہمرہ ہمہ اوست
در دلق گدا واطلس شہ ہمہ اوست
در انجمن فرق ونہاں خانۂ جمع
باللہ ہمہ اوست ثم باللہ ہمہ اوست
ترجمہ: پڑوس، ہم نشین اور ہمراہی سب وہی ہے۔ فقیر کی گدڑی اور بادشاہ کے
اطلسی لباس میں وہی ہے۔ انجمن میں الگ الگ اور خلوت میں اکٹھا۔ خدا کی قسم، سب وہی ہے خدا کی قسم، سب وہی ہے۔’’
یہیں سے اتحاد کی شاخ پھوٹی،ذمہ داروں نے تو حال سے مجبور ہو کر جو کہا وہ کہا مگر تقلید محض اور دل کے مریضوں نے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا ایک دفعہ ایک نا اہل بات کے دوران سامنے موجود اشجار واحجار کو خدا کہنے لگا اور اس کا نام فقیری ودرویشی اور علم لدنی رکھ لیا گیا،یہی وہ کردار ہے جس نے تصوف جیسی اعلیٰ نعمت کے انکار پر نہ جانے کتنوں کو مجبور کر دیا اور صوفیہ واولیاے کرام کا گستاخ بنا ڈالا۔
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ سوء ادب ہے اور اللہ تعالیٰ کے اسما وصفات میں الحاد، آپ فرماتے ہیں ذلیل وجاروب کش کہ ذاتی خبث اور نقص سے داغدار ہے کو کیا مجال کہ خود کو بادشاہ عظیم الشان کہ تمام خیرات وکمالات کا منشأ ہے کا عین تصور کرے اور اپنے مذموم صفات وافعال کو اس کے جمیل صفات وافعال کا عین توہم کرے۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ان بزرگوں نے ہر چند تشریک وجود سے پر ہیز کیا ہے اور اثنینیت اور دوئی سے بھاگے ہیں لیکن غیر وجود کو وجود پایا ہے اور نقائص کو کمالات جانا۔
(۳)اسی سے یہ نتیجہ بھی نکلا کہ کسی چیز میں شرارت اور نقص ذاتی نہیں ہے اگر ہے تو نسبی اور اضافی ہے،زہر قاتل انسان کی طرف نسبت رکھتے ہوئے شرارت رکھتا ہے کیونکہ حیات کو ختم کردیتا ہے اور اس حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے کہ جس میں وہ زہر پیدا کیا گیا ہے آب حیات اور تریاق نافع’ جبکہ حضرت مجدد قدس سرہ کے نزدیک ہر ممکن میں ذاتی شرارت ونقص ہے۔
(۴)حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک پورا عالم اسما وصفات سے عبارت ہے کہ
جنھوں نے خانۂ علم میں تمیز پیدا کرکے ظا ہر وجود کے آئینہ میں خارج میں نمود وظہور حاصل کیا ہے جبکہ حضرت مجدد قدس سرہ کے نزدیک عالم عدمات سے عبارت ہے کہ اسما وصفات واجبی جل سلطانہ خانۂ علم میں ان عدمات میں منعکس ہوئیں اور خارج میں حق سبحانہ کی ایجاد سے وہ عدمات ان عکوس کے ساتھ وجود ظلی کے ساتھ موجود ہو گئے،پس عالم میں خبث ذاتی پیدا ہوا اور طبعی شرارت ظاہر ہوئی اور خیر وکمال سب کا سب اس مقدس بارگاہ کی طرف راجع ہوا۔
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ فقیر کے نزدیک حقائق ممکنات عدمات ہیں کہ اسما وصفات کے نقائض ہیں ان اسما وصفات کے عکوس کے ساتھ کہ ان عدمات کے آئینوں میں خانۂ علم میں ظاہر ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ ممتزج ہو گیے۔
اور قادر مطلق جل سلطانہ نے جب چاہا کسی ماہیت کو ان ماہیات ممتزجہ میں سے وجود ظلی کے ساتھ کہ یہ پرتو ہے حضرت وجود سے متصف کرکے موجود خارجی بنا دیا،بالجملہ حضرت وجود سے پر تو اس ماہیت ممتزجہ پر ڈال کر آثار خارجیہ کا مبدأ بنا دیا پس وجود ممکن علم میں اور خارج میں اس کے باقی صفات کی طرح پر تو ہے حضرت وجود کا اور اس کے تابع کمالات کا ،مثلا علم ممکن پر تو ہے علم واجب تعالیٰ کا اور ظل ہے اس کا کہ علم واجب اپنے مقابلے میں منعکس ہوا ہے اور قدرت ممکن بھی ظل ہے کہ عجز میں کہ قدرت کا مقابل ہے منعکس ہوا ہے،اسی طرح وجود ممکن ظل ہے حضرت وجود کا جو کہ آئینہ عدم کہ اس کے مقابل ہے منعکس ہوا ہے۔
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں لیکن فقیر کے نزدیک ممکن عین واجب نہیں ہے بلکہ شبح اور اس کی مثال ہے اور ایک کا حمل دوسرے پر ممتنع ہے تو فقیر کے نزدیک ممکن عین واجب نہ ہوگا اور ممکن اور واجب کے درمیان حمل ثابت نہ ہوگا کیونکہ حقیقت ممکن عدم ہے اور وہ عکس جو اسما وصفات سے اس عدم میں منعکس ہوا ہے ا
ان اسما وصفات کی شبح ومثال ہے نہ کہ ان کا عین تو ہمہ اوست کہنا درست نہ ہوگا بلکہ ہمہ زاوست کیونکہ جو کچھ ممکن ذاتی ہے عدم ہے کہ شرارت ونقص وخبث کا منشأ ہے اور جو کچھ کمالات کی جنس سے ممکن میں ظاہر ہے وجود اور اس کے توابع وہ سب اس واجب تعالیٰ سے مستفاد ہیں اور اس کے کمالات ذاتیہ کا پر تو ہیں،پس لا محالہ حق تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہوگا اور اس کا ماورا سب ظلمت کیف والعدم فوق جمیع الظلمات۔
الغرض عالم خارج میں وجود ظلی کے ساتھ موجود ہے جیسے کہ حق تعالیٰ وجود اصلی بلکہ اپنی ذات کے ساتھ خارج میں موجود ہے،اتنا ہو سکتا ہے کہ یہ خارج بھی اس خارج کا ظل ہو جیسے ممکن کے صفات اور وجود حق کے صفات اور وجود کا ظل ہیں لہٰذا عالم کو عین حق نہیں کہہ سکتے ہیں اور ایک کا دوسرے پر حمل درست نہ ہوگا،ظل شخص کو عین شخص نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان خارج میں تغایر موجود ہے لانّ الاثنین متغایران۔
یہاں کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حضرت شیخ اور ان کے متبعین بھی عالم کو ظل حق کہتے ہیں تو فرق کیا ہوا اس کا جواب حضرت مجدد قدس سرہ نے یہ دیا کہ یہ حضرات اس ظل کا وجود صرف وہم میں جانتے ہیں اور وجود خارجی کی بو اس کے اندر جائز نہیں مانتے ہیں،خلاصہ یہ کہ کثرت موہومہ کو وحدت موجودہ کے ظل سے تعبیر کرتے ہیں اور خارج میں صرف ایک موجود جانتے ہیں،خلاصہ یہ کہ یہ حضرات ظل کے لیے وجود خارجی ثابت نہیں مانتے ہیں اسی لیے اصل پر محمول کرتے ہیں اور حضرت مجدد قدس سرہ چونکہ ظل کو خارج میں موجود مانتے ہیں اس لیے حمل درست نہیں جانتے،دونوں حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ ظل کو وجود اصلی حاصل نہیں صرف ظلی ہے۔
(۵)حضرت شیخ اور ان کے متبعین رحمۃ اللہ علیہم اللہ تعالیٰ کی صفات حقیقیہ کو صرف خانۂ علم میں موجود مانتے ہیں خارج میں موجود نہیں مانتے ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ‘‘اہل حق شکر اللہ سعیہم کے علاوہ مخالف فرقوں سے بھی کوئی صفات واجبی جل سلطانہا کے وجود کا قائل نہیں ہوا ہے حتیٰ کہ اہل حق کے متاخرین صوفیہ نے بھی وجود صفات کا انکار کیا ہے اور زیادتی صفات کو علم کی جانب راجع قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:؎
از روئے تعقل ہمہ غیر اند صفات
باذات تو از روئے تحقق ہمہ عین
ترجمہ: عقل کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی صفات غیر ذات ہیں اور حقیقتاً سبھی عین ذات ہیں۔’’
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: اور حق یہ کہ اہل حق کی بات برحق ہے اور مشکات نبوت سے حاصل شدہ اور نور کشف وفراست سے ثابت شدہ ہے۔
مکتوب ۴۵ جلد ۲ میں اپنا اور شیخ کا مذہب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘ارباب توحید وجودی علاوہ ایک ذات تعالیٰ وتقدس کے کسی کو موجود نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ کے صفات واسما کو علمی اعتبارات جانتے ہیں اور حقائق ممکنات کے لیے کہتے ہیں کہ ان کو وجود کی بو بھی نہیں پہنچی ہے الاعیان ما شمت رائحۃ الوجود (اعیان نے وجود کی خوشبو نہیں پائی) ان کا کلام ہےاور یہ فقیر واجب تعالیٰ کے صفات کو بھی وجود زائد کے ساتھ موجود جانتا ہے جیسا کہ اہل حق نے فرمایا ہے اور ممکنات کہ واجب تعالیٰ کی صفات واسما کے آئینے ہیں کے لیے بھی وجود ثابت کرتا ہے۔’’
اس سلسلے میں ہم نہایت اہم گوشے ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں جس سے آپ بہ
آسانی سمجھ لیں گے کہ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کا مرغ روحانی لاہوتی وجبروتی فضا میں کتنا بلند پرواز واقع ہوا ہےاور آپ قرب وعرفان کی کن حدوں کو پار کر گئے ہیں جہاں نہایت خاص خاص بلکہ اخص الخواص کی بھی بمشکل رسائی ہوتی ہے اور آپ کے نوک قلم سے جو معارف نکل گئے ہیں وہ امت میں سے کسی عالم وصوفی کے نہ ملفوظات میں ہیں اور نہ کتا بوں میں بلکہ یہ صرف تجدید الف ثانی کا نصیب ہیں۔
پہلی بات تو یہ نظر میں رکھیں کہ اثناء سلوک میں آپ پر ایک وقت ایسا تھا جب آپ حقیقت واجب تعالیٰ صرف وجود کو قرار دیتے تھے جیسا کہ مکتوب ۲۳۴ جلد اول میں تصریح ہے مگر بالآخر جس عرفان سے مالامال ہوئے وہ سب سے وراء تھا۔
حقیقت باری تعالیٰ:
مکتوب اول جلد دوم میں آغاز کرتے ہوئے یوں تعارف فرماتے ہیں:
‘‘الحمد للہ الذی جعل الامکان مراٰ ۃََ للوجوب وصیر العدم مظہرا للوجود،والوجوب والوجود و إ ن کانا صفتئ کمال لہ سبحانہ فہو تعالیٰ ورائہما بل وراء جمیع الاسما والصفات و وراء جمیع الشیون والعتبارات و وراء الظہور والبطون و وراء البروز والکمون و وراء التجلیات والظہورات و وراء کل موصول ومفصول و وراء المشاہدات وا لمکاشفات و وراء کل محسوس و معقول و وراء کل معقول و وراء کل مو ہوم ومتخیل فہو سبحانہ وراء الوراء ثم وراء الوراء ثم وراء الوراء’’
چگویم باتو از مرغے نشانہ
کہ با عنقا بود ہم آشیانہ
زعنقا ہست نامے پیش مردم
زمرغ من بود آں نام ہم گم
ترجمہ: میں تمھیں اس پرندے کا نام و نشان کیسے بتاؤں، بس اتنا جان لیجیے کہ عنقا کا ہم آشیانہ ہے، بلکہ لوگ تو کم از کم عنقا کے نام سے واقف ہیں مگر میرے پرندے کے نام سے بھی کوئی واقف نہیں۔’’
یعنی تمام خوبیاں اس اللہ کے لیے جس نے امکان کو وجوب کا آئینہ بنایا اور عدم کو وجود کا مظہر کیا،اور وجوب و وجود اگر چہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال ہیں،پس اللہ تعالیٰ ان دونوں سے ورا بلکہ تمام اسما وصفات سے ورا،جمیع شیونات اور اعتبارات سے ورا اور ظہور وبطون سے ورا،بروز وکمون سے ورا،تجلیات وظہورات سے ورا،ہر موصول ومفصول سے ورا،مشاہدات اور مکاشفات سے ورا،ہر محسوس ومعقل سے ورا اور ہر موہوم ومتخیل سے ورا تو وہ سبحانہ وراء الورا ہے،پھر وراء الورا اور پھر وراء الوراء۔