مواد پر جائیں

باب ۱۳ از ۵۷صفحات ۱۸۵–۲۰۴

احیاےسنت

بدعت وضلالت کے ظلمت کدوں میں سرور کونینﷺ کی مبارک سنتوں کی شمع روشن کرنا معمولی جہاد نہیں تھا،ہر موقع اور ہر محل میں سنت کو نافذ کرنا اور خود اپنی نوک پلک اس قدر سنت کے مطابق کر لینا کہ جس سے اوپر متصور نہ ہو سکے،بدعت کا رواج کہاں سے ہو رہا ہے اور اس کا بدبو دار چشمہ کہاں سے پھوٹ رہا ہے،اسے کس طرح بند کیا جا سکتا ہے یہ سب کچھ مجددانہ بصیرت تھی،سنت کی عظمت دلوں میں بٹھانا اور بدعت کے سارے چور دروازے بند کر دینے کا کام جس شان اور جس جہاد سے آپ نے کیا وہ تجدید الف ثانی کا نہایت اہم گوشہ ہے اور بے مثال خدمت ہے اس سلسلہ میں آپ نے چند اقدامات کیے۔

ایک تو آپ نے نہایت سختی سے سنتوں پر عمل خود پر لازم کرلیا اور اس معاملہ میں اس قدر اعتناء فرمایا کہ قول وفعل میں،اٹھنے بیٹھنے،سونے جاگنے ۔کھانے پینے،گفت وشنید اور خلوت وجلوت میں سر مو سنت سے تجاوز نہ ہوتا ،آپ کے سوانح نگار خلفاء نے اس سلسلہ میں جو واقعات سپرد قلم فرمائے ہیں ان کو پڑھنے کے بعد ہر قاری یقین کرلے گا کہ سنت پر عمل کا اس سے زیادہ کوئی تصور نہیں ہوسکتا ہے۔

دوم:اپنے خلفاء اور مریدین کی تربیت سنت پرفرمائی،درس وتدریس کے ذریعہ،مجلسی گفتگو کے ذریعہ اور تحریر کے ذریعہ سنتوں پر عمل کی تاکید وتنبیہ یا صرف ترغیب ہی نہ فرماتے بلکہ ان کے فوائد ومنافع بھی بتاتے،روحانی ترقی کو اسی پر موقوف فرماتے، ان پر عمل سے جو روحانی ترقیات ہوتیں اور نازک موقعوں پر سنت پر عمل کے سلسلے میں جو تجلیات وانوار اور انعامات و احسانات الٰہی ملتے انھیں مکاشفات اور مشاہدات کی شکل میں آپ ان متبعین کو بتاتے،ظاہر ہے جو کمال وتکمیل کا طالب ہو اور رتجلیات وانوار کا خواہشمند ہو ،اسلاف کی نسبتوں کا حامل بننا

چاہتا ہو جب اس کا رہبر ان سب کا حصول سنتوں پر عمل سے موقوف کردے گا تو روحانیت کے متلاشیوں کے لیے خلوت وجلوت کی ساری توانائیاں اسی عمل بر سنت ہی پر صرف ہوں گی۔

متبوع ومقتدا کے افعال واعمال جو سراسر نفسانی خواہشات کے خلاف اور جسمانی محنتوں اور مشقتوں پر مبنی ہوتے ہیں اس کا عکس تابع اور مقلد میں کتنا پرتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کے یہ اوصاف متبعین تک پہنچتے پہنچتے کس قدر مضمحل ہوجاتے ہیں یہ ہر ذی شعور انسان جانتا ہے ۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی قیادت کا خاص جوہر یہ ہے کہ آپ نے اپنے مجاہدات وریاضات اور سراسر محنتوں اور مشقتوں پر مبنی تمام اوصاف وافعال اپنے متبعین میں اس خوبی کے ساتھ اتارا اور ایسی حکمت ودانائی سے کام لیا کہ وہ اوصاف واخلاق ایک تو پورے ظور پر جلوہ گر ہوگئے دوم صدیوں تک باقی رہے اور آج بھی باقی ہیں اگرچہ اگلوں کی بنسبت کم ہیں۔

کسی قائد کا ان اعمال وافعال کا پابند ہونا جن کا وہ قائد ہے اور بات ہے لیکن پیرو کاروں میں مکمل وہ اوصاف پیدا کردینا اور انھیں حیات کا لازمی عنصر بنا دینا یہ اور بات ہے۔

سنت کے داعی ومبلغ اور ترویج واشاعت کرنے والے اس دنیا میں بہت ہوئے ہیں،سنت پر سختی سے عمل کرنے والے ،سنتوں کو زندہ کرنے والےکثیر تعداد میں پیدا ہوئے مگر قرون اولیٰ کے بعد احیاء سنت کا کام جس خوبی اور اہمیت کے ساتھ آپ نے کیا اور جس قدر لوگوں کے ظاہر وباطن میں سنتیں آپ نے نافذ کیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔

عام طور پر لوگوں کے احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام کی ترویج واشاعت اور

خود ان پر عمل کرکے ؒوگوں کو سنت پر عمل کی دعوت دے مگر آپ نے صرف دعوت نہ دی بلکہ اپنے سارے عقیدت مندوں کی نہایت اعلیٰ پیمانے پر سنت کے مطابق تربیت فرمائی،قدم قدم پر انھیں دیکھا اور پرکھاپھر قوموں کے سامنے اور ان کے روبرو دعوت وتبلیغ کرائی اور ان افراد کے ذریعہ اصلاح وتبلیغ کا عظیم کام لیااور مکتوبات قدسی آیات کے ذریعہ تحریروں میں بھی اشاعت وترویج فرمائی،فوائد ومنافع بیان فرمائے ۔

اپنی حیات بھر تمام خلفاء اور مریدین کی خبر گیری بھی کی چنانچہ آپ کے خلفاء ومریدین کے جنھوں نے حالات پڑھے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کے تربیت یافتہ لوگوں کے آپ کے پس پشت دیگر ملکوں اور شہروں اور آپ کے وصال کے بعد اس سلسلے میں آپ کی جانشینی کا حق کس طرح ادا کیا اور آپ کے تبلیغی و دعوتی اثرات پوری دنیا میں کس قدر سرایت کر گئے تھے ،کسی شخص واحد نے بدعتوں کے اس اندھیرے طوفانوں کے مقابل چراغ جلائے ہوں جو آپ نے جلائے ہیں تو مثال دے۔

تاریخ اسلامی شاہد ہے کہ افراد جس کثرت سے آپ کے فیض سے پوری دنیا میں سنتوں سے مالامال ہوئے اور پھر سے سنتوں میں جو بہار آئی وہ اظہر من الشمس ہے۔

تیسرا طریقہ سنت کی تروج واشاعت کا جو آپ نے اختیار فرمایا وہ سب سے انوکھا تھا وہ یہ ہے:

‘‘ پچھلی صدیوں میں لوگوں کے سامنےاولیاء کرام کے مجاہدات وریاضات جس محنت ومشقت پر مبنی تھے اس سے یہ عام تصور پیدا ہوگیا تھا کہ روحانیت اور اس کا کمال ایسے کٹھن مجاہدات وریاضات پر موقوف ہے،جبکہ سنت پر عمل اس کے مقابل کوئی ریاضت ومجاہدہ نہیں اس تاثر کے دو زبر دست نقصان ہوئے ایک تو یہ کہ کثرت

سے لوگ ہمت ہار کر بیٹھ گئے اور سمجھ لیا کہ روحانیت ہمارے بس کی بات نہیں۔

دوسرے سنتوں کی حیثیت بہت معمولی ہوگئی اور یہ ذہن بن گیا کہ سنت پر عمل کوئی امتیازی چیز نہیں بلکہ عوام وخواص سب میں مشترک ہے لہٰذا اگر اسی سے کمالات کی تحصیل ممکن ہوتی تو عوام وخواص سب کو کمالات کا حصول ہونا چاہئے تھا لہٰذا سنت سے ہٹ کر جو چیزیں ایجاد کی گئی تھیں جیسے جان لیوا مجاہدات وریاضات۔سرور ونغمہ کی محفلیں اور وجد وحال وغیرہ یہی امور کمالات کے حصول کے لیے اساس اور بنیاد بن گئے۔’’

حضرت مجدد قدس سرہ نے حضور سرور کونین ﷺ کے کمالات کے درجےمقرر فرمائے اور وہ وہ کمالات بیان فرمائے کہ آپ سے پہلے اس آسمان کے نیچے کسی نے نہ سنے تھے نہ ارباب مجاہدات وریاضات کی یہاں ان کمالات کا پتہ تھا نہ اصحاب کشف ومشاہدہ کے یہاں ان کا کوئی نام ونشان اور یہ سارے کمالات آپ نے اتباع سنت سے وابستہ اور مربوط بتائے،قدم قدم پر تنبیہ فرمائی کہ جس کا قدم اتباع سنت میں جتنا آگے ہوگا وہ اتنا ہی تحصیل کمالات میں سابق ہوگا ،چنانچہ تجدید طریقت وحقیقت میں پڑھیں،نیز تجدید معارف میں دیکھیں گے کی یہ مجاہد سنیت جو کچھ بتاتا ہے وہ کتنا بلند ہے اور عین شریعت کے مطابق ہے سارے کمالات اسی پر منحصر ہیں۔

اس کے برخلاف بدعتوں سے اور خلاف سنت مجاہدات سے جو پیدا ہوتا ہے وہ کتنا خطرناک ہے اور نقصان پہنچایا ہے،بدعات سے جو کیفیات واحوال وجود میں آتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے؟ اس میں بہکنے کے چور دروازے کتنے ہیں اور کمالات سے انسان کس قدر محروم ہوجاتا ہے؟

الغرض ایک طرف سنت کی اہمیت اور منفعت بتائی تو دوسری طرف اس کے

خلاف کی قباحت وشناعت ،بیک وقت دونوں چیزوں کو آپ پابندی سے ظاہر کرتے رہے اور جس سے سنت کی عظمت ور بدعت سے نفرت دلوں میں بیٹھتی چلی گئی۔

ایک خاص چیز جو لوگوں کے ذہنوں پر عیاں ہوئی تھی وہ تھا مجاہدات وریاضات اور ان سے پیدا ہونے والے احوال ومواجید کا بھوت،آپ قدس سرہ نے اپنے بیانات سے عمل سے جگہ جگہ ثابت کردیا کہ مکمل سنت پر عمل خود سب سے بڑا مجاہدہ ہے اور ان سے پیدا ہونے والے احوال وکیفیات بزرگی وولایت کی دلیل نہیں،مسلمان تو مسلمان ایسے مجاہدات اور ان کی کیفیات کا فروں کو بھی حاصل ہوئی ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے سنتوں سے جو روحانی کما لات وابستہ کر دیے اس کا خاص فائدہ یہ ہوا کہ سنت پر عمل بظاہر چند چیزوں پر منحصر نہ رہابلکہ ظاہر وباطن میں سنتیں پیوست ہو گئیں،دوم یہ کہ روحانی نقصان وخسارہ کی وجہ سے کوئی خلوتوں میں بھی سنتیں چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھا بلکہ کمالات روحا نیت کو شوق سنتوں پر عمل میں دن بہ دن اضافہ کرتا تھا ۔

آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر روحانی قوتیں عطا فرمائیں تھیں کہ روحانیت کے رائج اور غیر رائج تمام سلسلوں میں آپ مکمل بصیرت رکھتے تھے اور ہر ایک سے سلاک کی قدرت رکھنے کے با وجود آپ نے سلسلۂ نقشبندیہ کی ترویج واشاعت اور سلسلوں کی بنسبت زیادہ فرمائی،اس سلسلے کو آپ لوگوں کے حالات کے زیادہ موافق سمجھتے تھے کیونکہ اس میں سنت پر عمل کی ترغیب زیادہ تھی،

اس ناقص کی رائے کے مطابق آپ کے احیاے سنت اور تجدید سنت کا یہ اجمالی خاکہ ہے،جو زبانی لفاظی نہیں بلکہ دلائل وشواہد کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے،جس شخص نے آپ کو اور آپ کے مکتوبات قدسی آیات کو پڑھا ہے وہ یقین سے جانتا ہے جہ جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے وہ مکمل طور پر صداقت پر مبنی ہے۔

(۱)مکتوب ۲۳ جلد دوم میں سنت کی ترویج اور بدعت کو ختم کرنے اور اپنے دور میں بدعت کے رواج اور سنت سے لا پرواہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘اسلام نے اس وقت میں غربت پیدا کرلی ہے اور مسلمان غریب ہو گئے ہیں اور جہاں تک جائیں گے غریب تر ہوتے جا ئیں گے اس حد تک کہ اللہ کہنے والا زمیں پر نہ رہے گا اور قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی،نیک بخت وہ ہے کہ اس غربت میں متروک سنتوں میں سے کسی سنت کو زندہ کرے اور عمل میں داخل بدعتوں سے کسی بدعت کو مردہ(ختم)کردے’’

یہ و ہ وقت ہےکہ حضرت خیر البشر ﷺ کی بعثت کے ہزار سال گذر گئے اور قیامت کی علامتوں نے پر تو ڈالا ہے اور عہد نبوت دے دوری کی وجہ سے سنت پو شیدہ ہو گئی ہے اور انشاء کذب(جھوٹ پھیلنا) کے سبب بدعت ظاہر ہو گئ ہے،شہبا زچاہئے کہ سنت کی مدد کرے اور بدعت کو شکست دے۔

بدعت کو رواج دینا دین کی تخریب کا سبب ہے اور بدعتی کی تعظیم اسلام ڈھانے کا باعث ہے

من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علیٰ ہدم الاسلام

(جس نے بدعتی کی توقیر کی اس نے اسلام ڈھانے پر مدد کی)

سنا ہوگا،پوری ہمت اور کامل ارادہ اس طرف متوجہ کرنا چاہئے کہ سنتوں میں سے کسی سنت کی ترویج کی جائے اور بدعتوں سے کوئی بدعت ختم کی جا ئے،(یوں تو)ہمہ وقت خاص کر اس ضعف اسلام کے وقت میں مراسم اسلام کو قائم کرنا سنت کی ترویج اور بدعت کی تخریب سے وابستہ ہے۔(تفصیل کے لیے دیکھئے مکتوب مذکور)

(۲)لوگ علوم ومعارف اور احوال ومواجید کی تحصیل کے لیے کیسے کیسے مجاہدات وریاضات اپناتے تھے اور ذکر وفکر، اوراد ومشاغل خلوت نشینی وغیرہ اختیار

کرتے رہے مگر سنتوں کے دیوانے اس مرد مجاہد کا حال دیکھئے فرماتے ہیں:

‘‘ایں فقیر از نقد وقت خود می نویسد کہ مدتہا از علوم ومعارف واز احوال ومقامات در رنگ ابر نیساں ریختند وکاریکہ باید کرد بعنایت اللہ سبحانہ کردند والحال آرزوئے نماندہ است الا آنکہ احیاء سنتے از سنن مصطفویہ علی صاحبہا الصلاۃ والسلام نمودہ آید واحوال ومواجیدمر ارباب ذوق را مسلم باشد’’(مکتوب ۳۷ ج۱)

یہ فقیر اپنا نقد وقت لکھتا ہے کہ مدتوں علوم ومعارف اور احوال ومقامات برسنے والے بادل کی طرح بہائے اور جو کام کرنا چاہئے تھا اللہ سبحانہ کی عنایت سے کیا اب کوئی آرزو باقی نہیں رہی سوائے اس کے کہ سنن مصطفویہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام سے کسی سنت کو زندہ کیا جائے اور احوال ومواجید خاص اہل ذوق کو مسلم رہیں۔

الفت ومحبت اور عشق جب سمایا ہوتا ہے اور کمال تک پہنچتا ہے تو محبوب ومعشوق کی ہر ادا سے محبت اور الفت ہوتی ہے ،عاشق صادق کی یہ آرزو رہتی ہے کہ سارا زمانہ ہمارے محبوب کی اداؤں کا حامل بن جائے تاکہ ہر طرف محبوب ہی محبوب اور اس کے جلوے نظر آئیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کو مدنی محبوب ﷺ سے جو إحبت ولگاؤ تھا وہ نقطۂ آخر تک پہنچا ہوا تھا جس کی جھلک ہر ہر سطر سے،زندگی کی ہر ساعت سے اور ہر ادا سے ظاہر تھا،سچے دیوانے کی اور کیا علامت ہو سکتی ہے کہ نہ معارف وحقائق کی آرزو ہے اور نہ اسرار ورموز کی اور نہ تجلیات وانوار کی طلب بس صرف جیسے ہو اپنے محبوب کی آرزؤں کو رواج دے دیا جائے اور لوگوں کو حامل بنا دیا جائے۔

سبحان اللہ! کیا شان تھی کاش زبزنی دعویدار سمجھتے اور ایسے عاشق کی قدر کرتے،آپ اگر غور سے مکتوبات شریف کا مطالعہ فرمائیں تو پتہ چل جائے گا کہ آپ کی بالغ نظر نے احیاء سنت کے سلسلے میں کیا روش اختیار کی ،کس کس طرح سنت کی

ترویج پر امرا وسلاطین کو ابھارا اور اپنے محبوب کونین ﷺ کی عظمت ومحبت کاملہ دلوں میں کس طرح بٹھالا۔

مکتوب ۱۱۴ کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

‘‘حق سبحانہ وتعالیٰ ہم مفلسان بے سروبرگ کو سید الاولین والآ خرین کی اتباع کی دولت سے کہ آپ کی دوستی کے طفیل سے اپنے کمالات وسماتی کو میدان ظہور میں لایا اور آپ کو تمام کائنات کا بہترین پیدا فرمایا علیہ من الصلاۃ افضلہا ومن التسلیمات اکملہا، مشرف فرمائے اور اس پر استقامت بخشے کہ اس متابعت مرضیہ(پسندیدہ پیروی) کو ذرہ جمیع تلذذات دنیوی اور تنعمات اخروی سے بمراتب بہتر ہے،فضیلت آپ کی روشن سنت کی متابعت پر معلق ہے اور بزرگی آپ کی شریعت کو بجا لانے سے وابستہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلاۃ والسلام’’

بیان کی بلاغت لفظ لفظ سے ظاہر ہے آپ قدس سرہ بتا رہے ہیں کہ سرور کونینﷺ کو تمام اولین وآخرین کا سردار بنایا،تمام اسمائی وصفاتی کمالات آپ کے طفیل آپ کی محبت کی وجہ سے ظاہر ہوئے،جب آپ کی بڑائی اور بزرگی کا یہ عالم ہے تو آپ ہی خیال کریں کہ پھر آپ کی پیروی سے بڑھ کر اور آپ کے طریقہ سے افضل کون سا طریقہ ہو سکتا ہے دنیا کی ساری لذتیں اور آخرت کی ساری نعمتیں جن کی تحصیل کے لیے شب بیداریاں ہوتی ہیں،مسلسل روزے رکھے جاتے ہیں ،نفس امارہ کی سرکشی کتم کرنے کے لیے طرح طرح کے ریاضات شاقہ اور مجاہدات شدیدہ اختیار کیے جاتے ہیں،ان ساری لذتوں اور نعمتوں سے کامل متابعت نہیں بلکہ متابعت کا ایک ذرہ برابر نہیں بلکہ بمراتب بہتر ہے،سبحان اللہ! سبحان اللہ! اپنے محبوبﷺ کی بارگاہ میں یہ خراج عقیدت مدح وثنا کی کس بلندی پر فائز ہے، پھر مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘مثلا قیلولہ کہ اس متابعت کی رو سے واقع ہو ان کروروں شب بیداریوں سے اولیٰ اور افضل ہے جو متابعت کی رو سے نہ ہوں،اس طرح یوم فطر(عید) کا افطار کہ شریعت مصطفوی نے جس کا حکم فرمایا ہے ابدالآباد کے ان سارے روزوں سے بہتر ہے جو شریعت سے ماخوذ نہ ہوں۔

ایک جیتل(ایک قسم کی چاندی یا پیسے کا انتیسواں حصہ) شارع کے حکم سے عطا کرنا اس سونے کے پہاڑ سے خرچ کرنے سے فاضلتر ہے جو کہ اپنے پاس سے ہو، امیر المومنیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک روز صبح کی نماز باجماعت ادا کرکے اصحاب میں نگاہ کی ایک شخص کو حاضر نہیان پایا پوچھا، اصحاب نے عرض کیا کہ وہ شخص رات بھر جاگتا ہے شاید اس وقت سو گیا ،امیر المومنین نے فرمایا کہ اگر وہ تمام رات سوتا اور نماز صبح کو با جماعت ادا کرتا تو بہتر ہوتا ۔

اہل ضلالت نے ریاضات ومجاھدات بہت کیے ہیں لیکن چونکہ شریعت حقہ کے مطابق نہیں ہیں بے اعتبار اور خوار ہیں اگر ان اعمال شاقہ پر اجر مترتب ہو تو بعض دنیاوی منافع کے ساتھ مقصور ہے پوری دنیا کی کیا حیثیت ہے کہ اس کے بعض منافع کا اعتبار کریں’’

جو لوگ اہل دانش لوگوں کے اعمال اور ان کی نفسیات سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ نرے ایسے کا موں میں کافی رقم خرچ کر دیتے ہیں جن کا شریعت نے حکم نہیں دیا اگر چہ وہ کام شریعت کے خلاف نہیں ہیں اسی طرح نرے ایسے لوگ ہیں جو ان اعمال وافعال کو بجا لاتے ہیں جن کا شریعت نے امر نہیں فرمایا حالانکہ وہ اعمال وافعال محنت ومشقت میں کہیں زیادہ ہیں ان اعمال وافعال سے جن کا سرور کونین ﷺ نے حکم فرمایا، جبکہ یہی لوگ زکات دینے میں سستی اور کاہلی کرتے ہیں اور فرائض وسنن اور واجبات کی ادائیگی میں لا پرواہی سے کام لیتے ہیں ایسے

لوگوں کی نظر میں مامورات شرعیہ کی وہ اہمیت نہیں ہوتی ہے جو ان کی ہوتی ہے کیونکہ شریعت کے اوامر غایت درجہ اعتدال پر مبنی ہیں جن پر ہر شخص آسانی سے عمل کر سکتا ہے اور سب کی طرف نظر کرتے ہوئے ان کی وضع و تدوین ہوئی ہے ،چونکہ ان اعمال میں اتنی محنت و مشقت نہیں ہے اس لیے ان کی اتنی اہمیت نہیں ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر بڑی گہری تھی آپ ان چیزوں سے بہت واقف تھے آپ کی بصیرت کا کمال یہی ہے آپ نے جگہ جگہ اس چیز پر زور دیا ہےکہ جو اعمال وافعال اپنی طرف سے بجا لائے جائیں وہ بظاہر کتنے ہی حسن ہوں ان کی اہمیت ان کے مقابل کچھ نہیں ہے جو بطریق سنت ادا کیے جائیں، مسنون طریقے پر ادا کیے جا نے والے اعمال بظاہر کتنے ہی آسان ہوں مگر ثواب کی جو فراوانی ان میں ہے وہ ان میں نہیں ہے ،جو قرب خداوندی ان میں حاصل ہوتا ہے وہ ان میں نہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی بالغ نظری کا آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں،دراصل سرسری اور کھلی ہوئی خامیوں کا اندازہ لگا لینا کوئی کمال نہیں ہے دینی گراوٹ جو مخفی راستوں سے آتی ہے اس کو سمجھ لینا اور ان خامیوں کا ازالہ کرنا جس سے دین اپنے تمام تر توانائیوں کے ساتھ قائم رہے یہ مجددانہ طریق ہوتا ہے،حضرت مجدد قدس سرہ نے احکام شریعت کی اہمیت وافادیت کے لیے جو پیرایہ بیان اختیار کیا وہ آپ ہی کا حصہ ہے لفظ لفظ سے عظمت شریعت اور سنت ظاہر ہے۔

(۳)حضرت مجدد قدس سرہ کے باطن میں محبوب کونینﷺ کی محبت والفت کے کیسے شعلے بھڑک رہے تھے اور آپ کا عشق کتنا سچا تھا اس کا آپ اندازہ مکتوبات قدسی آیات کے مطالعہ سے بہ آسانی لگا سکتے ہیں،محبت ولفت نے آپ کے اندر عجب دیوانگی کی کیفیت پیدا کر دی تھی سرور کونین ﷺ کی محبت کا اثر آپ سے تعلق رکھنے

والی ہر چیز تک سرایت کر گیا تھااور اس محبت کے اثر سے جو گیرت پیدا ہو گئی تھی ملاحطہ فرمائیں:

حضرت سید زید کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں:

‘‘پہلے تو انھیں یہ بتاتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ کی میراث دوقسم کی ہےایک میراث صوری دوم معنوی اول کا تعلق عالم خلق سے اور دوم کا عالم امر سے کیونکہ ۔۔۔۔ ایمان ومعرفت ہے اور رشد وہدایت پھر بتاتے ہیں کہ میراث صوری جو نعمت عظمیٰ ہے کا شکر یہ ہے کہ میراث معنوی سے آراستہ ہوا جائے اور میراث معنوی سے تحلی و آراستگی سرور کو نیں ﷺ کی کمال متابعت سے ہو سکتی ہے لہٰذا آپ کی کمال اتباع و پیروی لازم ہے تمام اوامر و نواہی میں یہ سب کچھ بیان کرکے فرماتے ہیں:

‘‘اور سرور دوعالم ﷺ کے کمال متابعت آپ ﷺ کے ساتھ کمال محبت کی فرع ہے

ان المحب لمن ہواہ مطیع (محبت کرنے والا محبوب کی اطاعت کرتا ہے)

اور کمال محبت کی علامت آپ ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ کمال بغض ہے اور آپ ﷺ کی شریعت کے مخالفین کے ساتھ دشمنی کا اظہار ہے،محبت میں مداہنت(سستی) گنجائش نہیں رکھتی ہے محب محبوب کا دیوانہ ہے مخالفت کی تاب نہیں رکھتا اور محبوب کے مخالفین کے ساتھ کسی طرح صلح نہیں کرتا ہے اس لیے کہ دو متباین محبتیں جمع نہیں ہوتی ہیں ضدین کے جمع کو محال کہا ہے ایک کی محبت دوسرے کی عداوت کو مستلزم ہے۔

اچھی طرح غور کر لینا چاہئے کہ ابھی کان ہاتھ سے نہیں گیا ہے گذشتہ کا تدارک ہو سکتا ہے کل (قیامت کے دن) کہ کام ہاتھ سے چلا جائے گا سوائے ندامت کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔؎

بوقت صبح شود ہمچو روز معلومت

کہ با کہ باختۂ عشق در شب دیجور

متاع دنیا غرور در غرور(سراسر دھوکہ) ہے اور اخروی ابدی معاملہ اس پر مترتب چند روزہ زندگانی کو اگر سید الاولین وآخرین کی متابعت میں بسر کیا جائے تو ابدی نجات کی امید ہے ورنہ ہیچ در ہیچ ہے کوئی بھی ہو اور کوئی بھی عمل خیر کہ کرے؎

محمد عربی کہ آبروئے ہر دوسرا است

کسیکہ خاک درش نیست خاک بر سر او۔’’(مکتوب۱۶۵ ج۱)

مکتوب شریف کے ہر ہر جملے سے محبت وغیرت کے چشمے پھوٹے پڑتے ہیں،یہاں نہ اس محبت کا اعتبار ہے جو صرف زبانی دعوں سے ہو اور عمل کچھ نہ ہو اور نہ اس محبت کا کہ سرور کونین ﷺ کی محبت کا دعویٰ بھی ہو اور اوامر پر عمل بھی لیکن آپ کے اورآپ کی شریعت کے دشمنوں کے ساتھ محبت ہو یا محبت تو نہ ہو مگر ان سے نفرت بھی نہ ہواور اگرنفرت بھی ہو مگر صرف دل میں ہو تو آداب محبت صرف قلبی نفرت پر اکتفا نہیں کرتے ہیں بلکہ اس عداوت اور نفرت کا اظہار بھی ضروری ہے۔

سبحان اللہ! مجددانہ بصیرت کتنی جامع ہوتی ہے اور کتنی گہری ہوتی ہے یہاں کوشش یہ ہوتی ہے کہ شریعت کا نفاذ پورے طور پر ہو،محبت کی علامتیں بھی ثبوت محبت کے لیے ضروری ہیں خود اعمال وافعال شرعی میں مداہنت اور اغیار کے ساتھ محبتانہ مراسم کیا کیا خرابیاں لاتے ہیں،رفتہ رفتہ دین کی روح کیسے نکلتی چلی جاتی ہے پھر صلح کلیت عوام میں کس طرح داخل ہوتی ہے ہر گہری نظر رکھنے والا جانتا ہے۔

جن صوفیہ کرام نے اس نکتہ سے غفلت برتی ہے اور موقع کی نزاکت محسوس نہیں کرسکے آج ان کے مقلدین ومتبعین کس طرح روح دین کو برباد کر رہے

ہیں،مخالفین واعداء دین کے ساتھ کیسے کیسے مراسم ہیں پھر کتنی اچھی تاویلوں سے اپنے آپ کو اور مریدوں کو سمجھائے رکھتے ہیں یہ کون پڑھا لکھا نہیں جانتاہے؟

اب تو مشرکین وکا فرین کو مرید کرنا شروع کردیا ہےبلکہ انھیں معبودان باطل کی پوجا کا حکم دیتے ہیں معاذ اللہ!معاذاللہ! سچی بات یہ ہے کہ بزرگی اور چیز ہے اور قیادت ورہنمائی امر دیگر،اغیار کو دعوت وتبلیغ میں کس تربیت کی ضرورت ہے ان سے تعلق رکھتے ہوئے بھی اپنے آپ کو ان کی آلائشوں سے بچائے رکھنا اور عوام کے سامنےاسلامی تحفظ کا خیال رکھنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمنان دین یا فساق وفجا ر ہماری ظاہری قربت سے دھوکہ کھا کر ان سے محبت کا تعلق پیدا نہ کرلیں وغیرہ وغیرہ یہ امور ہر ایک کے اندر جمع نہیں ہوتے۔

(۴)لوگوں کی عملی حالت پر آپ قدس سرہ کی گہری نظر تھی آپ چاہتے تھے کہ دین میں لوگوں کی نطر میں آسانی رہے،دین پر عمل جب ہر ایک کے لیے آسان رہے گا تو عمل کا جذبہ پیدا ہوگا لوگ قریب ہوں گے اس کے لیے آپ زبانی طور پر تحریری طور پر کوشش فرماتے جو مسئلے نفس پر زیادہ گراں ہوتےان میں یسر وسہولت نہایت بسط وتفصیل سے بیان فرماتے ان پر عمل کے دینی ودنیاوی فائدے بھی ذکر فرماتے اور کوشش فرماتے کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات بس جائے کہ قرب خداوندی کا حصول ریاضات ومجاہدات پر منحصر نہیں بلکہ سرور کونین ﷺ کی سنتوں پر عمل ہی کافی ہے۔

آپ کے عطا کیے ہوئے فرائض وواجبات وسنن پر عمل کا جو صحیح طریقہ ہے وہ اپنا لیا جائے صرف رسمی عمل نہ ہو ،ممنوعات ومنہیات سے اجتناب حاصل ہوجائے بس سارے کمالات کی تحصیل کے لیے یہی کافی ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی دعوت وتبلیغ میں ایک بات اور بھی خصوصیت کے

ساتھ ملحوظ رہتی کہ جب آپ کسی شرعی ممنوع سے بچنے کی تاکید فرماتے ہیں تو اس کے عوض کسی مباح چیز کو استعمال کے لیے ضرور بیان فرماتے دیتے ہیں اور اس ممنوع کے نقصانات اور اس مباح کے فوائد ومنافع کی بھی نشاندہی فرما دیتے ہیں۔

قیادت کا یہ جوہر معمولی حیثیت کا نہیں ہے ان تمام باتوں کے لیے آپ مکتوب ۱۹۱ ج اول وغیرہ کا مطالعہ کریں تو آپ تعجب کریں گے کہ اللہ کے اس بندے نے لوگوں کو اسلام وسنت کا گرویدہ کس طرح بنایااور دین کی عطمت کو دلوں میں کس طرح بٹھایا؟

لوگوں کی عام کمزوری یہ ہے کہ عام طور پر فرائض پر عمل نہیں کرتے اور جو کرتے بھی ہیں توان میں کوتاہیاں بہت کرتے ہیں،سنتوں اور مستحبات کا عام طور پر لحاظ نہیں کیا جاتا ہے،ان کی کوئی اہمیت نظر میں نہیں ہوتی ہے جس زبر دست اخروی خسارہ ہوتا ہے ،یہ شیطان کی گہری چال ہوتی ہے کہ معمولی غفلت سے انسان بہت بڑے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے ۔

حضرت مجدد قدس سرہ کو اس چیز کا بڑا لحاظ تھا اسی لیے آپ نماز وغیرہ کے چھوٹے چھوٹے مسائل سنتیں اور آداب تفصیل سے بیان فرماتے جن سے عوام تو عوام خواص بھی غفلت برت جاتے ہیں اور لوگوں کے ذہن میں یہ بات تاکید سے بٹھاتے کہ فرائض کی تتمیم وتکمیل کے لیے جو سنن وآداب ہیں ان کی حیثیت دوسری ہے اور دیگر سنن وآداب کی دوسری۔

مکتوب۲۹ جلد اول میں فرماتے ہیں:

‘‘مقربات اعمال یا فرائض ہیں یا نوافل،نوافل کا فرائض کے پہلو میں کوئی اعتبار نہیں ہے فرائض میں سے کسی فرض کو اوقات میں سے کسی وقت میں ادا کرنا ہزار سالہ نوافل کی ادا سے بہتر ہے اگرچہ بنیت خالص ادا کیا ہو ،کوئی بھی نفل ہو نماز

،زکات،روزہ اور ذکر وفکر اور ان جیسی دیگر چیزوں سے بلکہ میں کہتا ہوں کہ سنتوں میں سے کسی سنت اور آداب میں سے کسی ادب کی رعایت فرائض کی ادا کے وقت میں بھی یہی حکم رکھتی ہے’’

(۵)سرور کونینﷺ کی اتباع اور پیروی کی اہمیت اور فوائد منافع بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘اخروی نجات اور سرمدی فلاح سید الاولین والآخرین ﷺ کی متابعت سے وابستہ ہے لہٰذا آپ ﷺ کی متابعت سےحق جل سلطانہ کی محبوبیت کے مقام پر پہنچتے ہیں اور آپ کی متابعت سے تجلی ذات تعالیٰ وتقدس سے مشرف ہوتے ہیں اور آپ کی متابعت سے مرتبۂ عبدیت کہ جمیع مراتب کمال کے اوپر ہے اور مقام محبوبیت کے حصول کے بعد ہے سے سرفراز کرتے ہیں،اور آپ کے کامل متبعین کو انبیاء بنی اسرائیل کی طرح فرماتے ہیں اور پیغمبران اولوالعزم آپ کی متابعت کی آرزو کرتے ہیں (ولو کان موسیٰ حیافی زمنہ ما وسعہ الا اتباعہ)

(اگر آپ کے زمانے میں حضرت موسیٰ دنیا میں ہوتے تو آپ کی پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا)

اور روح اللہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے نزول اور حبیب اللہ کی ان کا پیروی کرنے کا قصہ معلوم ومشہور ہے،اور آپ کی امت آپ کی متابعت کے طفیل خیرالامم اور اہل جنت میں سب سے زیادہ ہوئی ہےکل(قیامت کے دن)متابعت کی بدولت امت ساری امتوں سے پہلے جنت میں لے جائیں گے اور تنعمات فرمائیں گے’’(مکتوب ۲۴۹)

(۶)طریقۂ علیہ نقشبندیہ کے اکابر قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم نے سنت سنیہ کی پیروی کا التزام کیا ہے اور عزیمت پر عمل اختیار فرمایا ہے اگر اس التزام اور اختیار

کے ساتھ ان کو احوال ومواجید سے مشرف کرتے ہیں تو نعمت عظیم جانتے ہیں اور اگر احوال ومواجید ان کو دیتے ہیں اور اس التزام اور اختیار میں فتور پاتے ہیں تو ان احوال کو نہیں پسند کرتے ہیں اور ان مواجید کو نہیں چاہتے ہیں اور اس فتور میں اپنی خرابی کے سوا کچھ نہیں جانتے ہیں،کیونکہ ہندوستان کے برہمن اور جوگی اور یونان کے فلاسفہ از قسم تجلیات صوری اور مکاشفات مثالی اور علوم توحیدی بہت رکھتے ہیں لیکن رسوائی اور خرابی کے علاوہ اس کا نتیجہ نہیں رکھتے ہیں اور بعد وحرمان کے علاوہ ان کو کچھ حاصل نہیں ہے۔(مکتوب ۲۳۷)

(۷)آپ کے خلیفۂ ارشد حضرت خواجہ سید محمد ہاشم کشمی ثم برہانپوری قدس سرہ نے ایک مرتبہ چند سوالات کیے جن کے جوابات مکتوب۳۱۳ ج اول میں ااپ نے عطا فرمائے جس میں سوال نمبر۲ کا خلاصہ اور اس کا جواب آپ ہی کی زبان مبارک سے سپرد قلم کرتا ہوں آپ گور سے پڑھیں جو بہت سارے شکوک وشبہات کو دور کردیتا ہے،فرماتے ہیں:

‘‘اور دوسرے سوال کا حاصل یہ کہ طریقۂ علیہ نقشبندیہ میں متابعت سنت کا التزام ہے حالانکہ سرور کونینﷺ نے ریاضات عجیبہ اور سخت بھوکیں برداشت کی ہیں اور اس طریقہ میں ریاضات کو منع کرتے ہیں بلکہ ریاضات کو صوری کشوف کے ظہور کی وجہ سے مضر جانتے ہیں تعجب ہوتا ہے کہ سنت کی پیروی میں ضرر کا احتمال کیونکر متصور ہوسکتا ہے۔

جواب: محبت اطوار! کس شخص نے کہا ہے کہ اس طریقہ میں ریاضات منع ہیں اور کہاں سے آپ نے سنا ہے کہ ریاجات کو مضر جانتے ہیں اس طریقہ میں محافطت نسبت کا دوام اور متابعت سنت علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام کا التزام اور ستر احوال میں کوشش اور توسط حال(میانہ روی) کا اختیار اور کھانوں اور لباسوں میں حد اعدال کی

رعایت ریاضات شاقہ اور مجاہدات شدیدہ سے ہے،زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عوام کالانعام ان امور کو ریاضات سے نہیں شمار کرتے ہیں اور مجاھدات سے نہیں جانتے ہیں،ان کے نزدیک ریاضت ومجاہدہ بھوک میں منحصر ہے اور بھوک کی کثرت ان کی نظر میں بڑی قدر والی ہے کیونکہ کھانا ان بہائم صفت لوگوں کے نزدیک ضروری ترین ضروریات اور اعظم مقاصد سے ہے پا اس کا ترک لا محالہ ریاضت شاقہ ہوگا اور مجاہدہ شدیدہ ہوگا اس کے برخلاف محافظت نسبت کادوام اور متابعت سنت علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام اور ان کے امثال کی عوام کی نظر میں کوئی قدر نہیں اور نہ کوئی شمار ہے تاکہ ان کاترک منکرات سے جانتے ہوئے ان امور کی تحصیل کو ریاضات سے شمار کرتے

پس اس طریقہ کے اکابر پر لازم ہےستر احوال میں کوشش کرتے ہوئے ایسی ریاضت چھوڑیں کہ عوام کی نظر میں عظیم القدر اور قبول خلق کا باعث ہے اور شہرت کو مستلزم ہے کہ آفت کو متضمن ہے اور شرارت کا نتیجہ خیز دکھائی دیتی ہے سرور کونین ﷺ نے فرمایا: آدمی کے لیے یہی شر کافی ہے کہ دین یا دنیا میں اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے مگر اللہ تعالیٰ جسے محفوظ رکھے۔

فقیر کے نزدیک دور و دراز بھوکیں ماکولات میں حد اعتدال کی مراعات بہت آسان ہے اور پوری آسانی رکھتا ہے (اور یہ فقیر)پاتا ہے کہ مراعات توسط حال کی ریاضت کثرت جوع کی ریاضت سے زیادہ ہے ،حضرت والد بزرگوار قدس سرہ فرماتے تھے کہ علم سلوک میں میں نے رسالہ دیکھا ہے اس میں لکھا تھا کہ ماکولات(کھانے کی اشیاء) میں اعتدال کی رعایت کرنا اور درمیانی کی حفاظت رکھنا مطلوب تک وصول میں کافی ہے اس مراعات کے ساتھ ذکر وفکر کی کوئی حاجت نہیں ہے،اور حق یہ کہ مطعومات اور ملبوسات میں بلکہ جمیع امور میں توسط حال اور میانہ روی

کتنا عمدہ ہے؎

نہ چنداں بخور کہ دہانت بر آید

نہ چنداں کہ از ضعف جانت بر آید

حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ نے ہمارے پیغمبر ﷺ کو چالیس مردوں کی طاقت عطا فرمائی تھی کہ اس قوت کی وجہ سے مشقت بھری بھوکوں کا بوجھ برداشت کر لیتے تھےاور صحبت خیر البشرﷺ کی برکت سے اصحاب کرام بھی اس بوجھ کو برداشت کر لیتے تھے اور ان کے اعمال وافعال میں کوئی فتور واقع نہ ہوا ،بھوک کے باوجود دشمنوں سے جنگ پر قدرت اس قدر رکھتے تھے کہ شکم سیر لوگ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچیں گے یہی وجہ تھی کہ ان میں بیس شخص جابرین سے دو سو اشخاص پر غالب آ گئے اور سو اشخاص ہزار لوگوں پر گلبہ حاصل کر لیتے تھے۔

اور صحابہ کے علاوہ جو بھوک کا مجاہدہ کرتے ہیں نزدیک ہے کہ سنتوں اور آداب کے بجا لانے میں عاجز آ جائیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ ادائے فرائض کے عہدہ سے بہ تکلف نکل پائیں،بغیر قدرت کے اس معاملہ میں صحابۂ کرام کی تقلید کرنا سنتوں اور فرائض میں اپنے آپ کو عاجز کرنا ہے۔

منقول ہے کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرور کونین ﷺ کی تقلید کرتے ہوئے صوم وصال(پے در پے بلا افطار روزے رکھنا) رکھا اور ضعف ونا توانی کی وجہ سے بے اختیار زمین پر گر پڑے حضور ﷺ نے بطریق اعتراض فرمایا: تم میں میرے مثل کون ہے؟ میں اپنے پروردگار کے پاس رات گذارتا ہوں اور اسی جگہ سے کھانا پینا کھاتا ہوں تو بے قدرت تقلید کرنا اچھا نہیں رکھا۔

نیز اصحاب کرام صحبت خیرالانام ﷺ کی برکت سے کثرت جوع کی پوشیدہ مضرتوں سے محفوظ ومامون تھے اور دوسروں کو یہ امن اور یہ حفاظت میسر نہیں ہے

اس کا بیان یہ ہے کہ بھوک کی کثرت البتہ صفا بخش ہے کسی گروہ کو صفائے قلب بخشتی ہے اور دوسرے گروہ کو صفائے نفس صفائے قلب کہ ہدایت کو فزوں تر کرنے والی اور نور بخش ہے اور صفائے نفس ضلالت نما ہے اور ظلمت افزا یونان کے فالاسفہ اور ہند کے برہمن اور جوگیوں کو بھوک کی ریاضت نے صفائے نفس بخش کر ضلالت وخسارے کی رہنمائی کی۔

بے خرد افلاطون نے اپنے نفس کی صفا پر اعتماد کیا اور اپنی کشفی وخیالی صورتوں کو اپنا مقتدا بنایا اور عجب(خود بینی) اختیا ر کی اور حضرت عیسی علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کہ اس وقت میں مبعوث ہوئے تھے کا مطیع نہیں ہوا اور کہا:

نحن قوم مہدیون لا حاجۃ بنا الیٰ من یہدینا

(یعنی ہم ہدایت یافتہ قوم ہیں ہمیں کسی رہنما کی حاجت نہیں)

اگر یہ ظلمت افزا صفا نہ رکھتا اور صور کشفیہ خیالیہ اس کے لیے راہ کی رکاوٹ نہ ہوتیں اور مطلب تک وصول کے لیے مانع نہ آتیں، اس نے اپنے آپ کو اس سفا کی وجہ سے نورانی پایا اور نہیں جانا کہ یہ صفا اس کے نفس امارہ کے باریک چھلکے سے نہیں گذری ہے اور اور اس کا امارہ اسی اپنی خبث(گندگی) اور نجاست پر ہے اس سے زیادہ نہیں ہے کہ نجاست مغلظہ کو شکر کے رقیق غلاف؟؟؟؟؟

قلب کہ فی حد ذاتہ پاکیزہ ہے اور نورانی،اس کے رخ پر نفس کی مجاورت(پڑوس) تاریک رنگ بیٹھ گئی ہے تھوڑے سے تصفیہ سے اپنی اصلی حالت کی طرف رجوع کر لیتا ہے اور نورانی ہو جاتا ہے اس کے برخلاف نفس کہ فی حد ذاتہاخبیث ہے اور ظلمت اس کی صفت ذاتی ہے جب تک سیاست قلب بلکہ متابعت سنت اور اتباع شریعت علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام بلکہ بمحض فضل خداوندی جل سلطانہ مزکیّٰ ومطہر نہ ہوجائے اور اس کا خبث ذاتی زائل نہ ہوجائے فلاح وبہبود اس سے متصور نہیں۔

افلاطون نے کمال جہل کی وجہ سے اپنی صفا کو کہ نفس امارہ سے تعلق رکھتی تھی صفاء قلب عیسوی کی طرح جانا(اسی لیے) لا محالہ اپنے آپ کو مہذب ومطہر حضرت عیسیٰ کی طرح سمجھا اور ان کی دولت متابعت سے محروم رہا اور خسارۂ ابدی کے داغ سے داغدار ہوا

اعاذنا اللہ تعالیٰ سبحانہ من ہٰذا البلاء

چونکہ یہ نقصان بھوک کی طبیعت میں پوشیدہ تھا (اس لیے)اس طریقہ کے اکابر قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم نے بھوک کی ریاضت کو ترک کرکے مطعومات میں اعدال کی ریاضت اور توسط حال کے مجاہدہ کی رہنمائی کی ہے اور بھوک کے منافع کو اس ضرر عظیم الخطر کے احتمال سے ترک کردیا اور دوسروں نے بھوک کے منافع کو ملاھظہ کیا اور اس کے نقصانات سے آنکھ بند کر لی اور بھوک کہ ترغیب دی ۔

عقلمندوں کے یہان ثابت شدہ (امر) یہ ہے کہ ضرر کے احتمال سے منافع کثیر کو چھوڑا جا سکتا ہے ،اسی گفتگو کے قریب ہے جو ان علماء نے فرمایا شکر اللہ تعالیٰ سعیہم کہ اگر کوئی امر سنت اور بدعت کے درمیان دائر ہو تو بدعت کا ترک سنت کے بجالانے سے بہتر ہے یعنی بدعت میں ضرر کا احتمال ہے اور سنت میں منافع کی توقع پس احتمال ضرر کو منافع کی توقع پر ترجیح دیتے ہوئے بدعت کو ترک کرنا چاہئےپس تعجب نہیں کہ سنت کے بجالانے میں ضرر دوسرے راستے سے پیدا ہوجائے،اس بات کی حقیقت یہ ہے کہ وہ سنت گویااس زمانے کے ساتھ موقت ہے چونکہ اس کی توقیت کو باریکی اور صفائی کی وجہ سے ایک گروہ نہ جان سکا اس لیے اس کی تقلید میں جلدی کی اور دوسرے گروہ نے اس کو موقت جان کر تقلید اختیار نہ کی واللہ سبحانہ اعلم بحقیقۃ الحال۔’’