مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیشریعت کی صورت اور حقیقت

باب ۵۵ از ۵۷صفحات ۷۴۴–۷۶۵

شریعت کی صورت اور حقیقت

مکتوب۵۰ جلد دوم میں فرماتے ہیں:‘‘شریعت کہ صورت ہے اور حقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ اور جو کچھ رسولﷺ اللہ سبحانہ کے پاس سے لے کر آئے،پر ایمان کے بعد نفس امارہ کی منازعت کے باوجود اور انکار جو کہ اس کی طبیعت میں رکھا گیا ہے، میں سرکشی وطغیان کے باوجود احکام شرعیہ کے بجا لانے کا نام صورت شریعت ہے؟؟؟؟؟ اس موطن میں اگر ایمان ہے تو صورت ایمان ہے اور اگر نماز ہے تو صورت نماز ہے اور اگر روزہ ہے تو صورت روزہ ہے اور اسی قیاس پر باقی احکام شرعیہ کیونکہ نفس کہ عمدۂ وجود انسان ہے اور ہر فرد جس کی طرف انا(میں ) کہہ کر اشارہ کرتا ہے وہ بھی وہی ہے(وہ نفس امارہ)اپنے کفر وانکار پر ہے،حقیقت اعمال اور حقیقت اعمال صالحہ کیوں کر متصور ہوگی یہ تو رحمت خداوندی ہے جل شانہ کہ محض صورت کو قبول فرماکر دخول جنت کی بشارت دی ہے(جو جنت)کہ اس تعالیٰ کیرضا کا محل ہے نیز اس کا احسان ہے کہ نفس ایمان میں تصدیق قلب کے ساتھ کفایت فرمائی ہے اور اذعان نفس کی تکلیف نہیں دی’’ پھر چند سطر بعد فرماتے ہیں:

یہ صورت شریعت استقامت کے ساتھ فلاح کی موجب ہے اور نجات اخروی کو مستلزم اور دخول جنت کو صحیح کرنے والی جیسا کہ گذر گیا اور جب صورت شریعت درست ہوگئی اور ولایت حاصل کرلی:

اللہ ولی الذین آمنوا

اس وقت اللہ سبحانہ کی عنایت سے سالک تیار ہوگیا کہ طریقت میں قدم رکھے اور ولایت خاصہ لائے اور نفس کی امارگی سے بتدریج کھنچے لیکن جان لیں کہ منازل وصول کا

طے کرنا اس ولایت کے ساتھ بھی اعمال شریعت کے ساتھ وابستہ ہے،ذکر الٰہی جل شانہ کہ اس راہ کا عمدہ ہے مامورات شرعیہ سے ہے اور ممنوعات شرعیہ سے پرہیز بھی اس راہ کی ضروریات سے ہے،اور فرائض کی دائیگی مقربات سے ہے اور راہ بین راہ نما پیر کہ وسیلہ ہو سکے نیز مامور شرعی ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وابتغوا الیہ الوسیلۃ

بالجملہ شریعت سے چارہ نہیں کیا صورت شریعت اور کیا حقیقت شریعت کیونکہ ولایت ونبوت کے تمام کمالات کے اصول احکام شرعیہ ہیں کمالات ولایت صورت شریعت کے نتائج ہیں اور کمالات نبوت حقیقت شریعت کے ثمرات،مقدمہ ولایت طریقت ہےکہ اس جگہ ماسوا کی نفی مطلوب ہےاور گیر وغیریت کا رفع مقصود،اور جب فضل خداوندی جل شانہ سے ماسوا پورے طور پر نظر سے مرتفع ہوگیا اور دید میں اخیار کا کوئی نام ونشان نہیں رہا فنا حاصل ہوگئی،اورمقام طریقت انجام کو پہنچا اور سیر الیٰ اللہ تمام ہوگئی ،اس کے بعد شروع مقام اثبات میں ہے کہ جس کی تعبیر سیر فی اللہ سے کی جاتی ہے اور یہی ہے مقام بقا کہ موطن حقیقت ہے کہ مقصد اعلیٰ ہے۔

(یہ مکتوب شریف نہایت اہم فوائد پر مشتمل ہے جن کا تعلق شریعت کے کمالات سے ہے من شاء فلیطالع)

تناسخ:

روح کا ایک قالب سے جدا ہوکر دوسرے قالب سے تعلق تدبیر پیدا کرلینا اس طور پر کہ بدن اول سے تعلق بالکلیہ ختم ہوجائے اسی کا نام تناسخ ہے،ہندووں کی زبان میں اسی کو آوا گون کہتے ہیں،اہل اسلام کے نزدیک اس کا عقیدہ رکھنا کفر ہے جس سے ضروریات دین کا انکار لازم آتا ہے،بعض ہندووں نے اکبر کے ذہن میں بھی اس کا اعتقاد راسخ کردیا تھا اور وہ تناسخ کا قائل ہوگیا تھا،اس سلسلے میں اکبر اس حد تک بڑھ

گیا تھا کہ حضرت ملا عبد القادر بدایونی فرماتے ہیں:

(یہاں بدایونی کا قول نقل کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

خیر یہ تو اکبر تھا مسند مشیخت پر براجمان ہونے والوں میں بعض کا حال بڑا عجیب ہے سنئے:حضرت شیخ محی الدین ابن العربی نے فتوحات مکیہ میں بعض روایات ایسی نقل کردی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شخص واحد متعدد جگہوں پر اپنی اسی شکل وصورت کے ساتھ ایک ہی وقت میں دیکھا جا سکتا ہے بلکہ اس وجود عنصری سے قبل بھی ہزاروں جسموں میں نظر آسکتا ہے اور بعد میں بھی ،حضرت مجدد قدس سرہ سے اس بارے میں دریافت کیاگیاچنانچہ آپ مکتوب ۵۸ جلد دوم میں فتوحات کی روایت اور اس کی وجہ تفصیلا بیان فرماتے ہیں:

وجماعہ کہ در دلہائے ایشاں مرض است ازیں حکایت تناسخ می فہمند ونزدیک است کہ بقدم عالم قائل گردند واز قیامت کبریٰ انکار نمایند

بعضے از ملاحدہ کہ بباطل خودرا بمسند شیخی گرفتہ اندحکم بجواز تناسخ می نمایند ومی انگارند کہ نفس تا زمانیکہ بحد کمال نرسد از تقلب ابدان اورا چارہ نبود ،ومی گویند چوں بحد کمال رسد از تقلب ابدان بلکہ از تعلق ابدان فارغ گشت و مقصوداز خلقت او کہ کمال اوست میسر شد۔

وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے ان حکایتوں سے تناسخ سمجھتے ہیں اور قریب ہے کہ عالم کے قدیم ہونے کے قائل ہو جائیں اور قیامت کبریٰ کا انکار کردیں۔

اور بعض ملحدین کہ باطل طریقہ سے اپنے آپ کو مسند مشیخت کے ساتھ پکڑا ہے جواز تناسخ کا حکم لگا تے ہیں اور کہتے ہیں کہ نفس جب تک حد کمال کو نہیں پہنچتا ہے بدان بدلنے سے ااس کو چارہ نہیں اور کہتے ہیں کہ جب حد کمال کو پہنچ گیا تو ابدان کے

تقلب بلکہ ابدان کے تعلق سے فارغ ہوگیا اور اس کی پیدائش سے مقصود کہ اس کا کمال ہے میسر ہوگیا۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘یہ بات کفر صریح ہے اور انکار ہے اس کا جو دین سے متوتر ثابت ہوا ہے،ہر گاہ آخر میں تمام نفوس جب حد کمال کو پہنچ جائیں گے تو دوزخ کیوں ہوگی اور عذاب کس کو دیا جائے گا ،یہ انکار دوزخ ہے اور عذاب اخروی کا انکار ہے اور حشر اجساد کا بھی انکار ہے کیونکہ ان کے گمان کے مطابق نفس کو اس جسم کی حاجت نہیں رہی ہے جو کہ اس کئ کمالات کا آلہ ہے تا جسم کا حشر ہو اس جماعت کا اعتقاد فلاسفہ کے اعتقاد کے مطابق ہے کہ حشر اجساد کا انکار کرتے ہیں اور روحانی عذاب وثواب جانتے ہیں بلکہ ان کا اعتقاد فلاسفہ کے اعتقاد سے بد تر ہے کہ وہ تناسخ کا رد کرتے ہیں اور عذاب روحانی ثابت کرتے ہیں اور یہ تناسخ بھی ثابت کرتے ہیں اور عذاب اخروی کا انکار بھی کرتے ہیں،ان کے نزدیک عذاب دنیا کا عذاب ہے کہ تہذیب نفوس کے لیے ثابت کرتے ہیں’’

سوال:پھر ایک نہایت اہم سوال ذکر فرماتے ہیں کہ حضرت امیر کرم اللہ وجہہ اور بعض دیگر اولیاء سے منقول ہےکہ بعض اعمال غریبہ وافعال عجیبہ وجود عنصری(یعنی یہ بدن جو کہ عناصر سے مرکب ہے)سے لمبے زمانوں پہلے ان عالم شہادت میں واقع ہوئے ہیں ،ان کو صحیح ماننا تناسخ کے جواز کے بغیر کیوں کر ہو سکتا ہے؟

جواب: ان اعمال وافعال کا صدور ان بزرگوں کی ارواح سے ہےکہ اللہ سبحانہ کی مشیت خود متجسد باجساد ہوکر افعال عجیبہ سے مباشر ہوتی ہیں،کوئی دوسرا جسم نہیں ہے کہ اس سے تعلق حاصل کریں،تناسخ یہ ہے کہ روح نے اس جسم سے تعلق سے پہلے دیگر جسم کہ اس جسم کے ،مباین ومغایر ہے سے تعلق رکھا ہو اور جب خود متجسد

جسد ہوتی ہےتو تناسخ کیاہوا۔

جنات کہ مختلف اشکال سے متشکل ہوتے ہیں اور متجسد بہ اجساد ہوتے ہیں اور اس حال اعمال عجیبہ کہ ان اشکال واجساد کے مناسب ہیں وقوع میں لاتے ہیں کوئی تناسخ نہیں ہے اور کوئی حلول نہیں ہے،جب جنات کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے یہ قدرت ہے کہ متشکل بہ اشکال ہوکر اعمال غریبہ وقوع میں لاتے ہیں تو کاملین کی ارواح کو اگر یہ قدرت عطا فرمائیں تو کیا محل تعجب ہےاور بدن دیگر کی کیا حاجت ہے؟

اسی قبیل سے وہ جو بعض اولیاء اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آن میں متعدد جگہوں میں حاضر ہوتے ہیں اور مختلف افعال وقوع میں لاتے ہیں اس جگہ بھی ان کے لطائف اجسام مختلفہ سے متجسد ہوتے ہیں اور اشکال متباینہ سے متشکل’’

آپ نے اس اقتباس سے تناسخ کی حقیقت اور اس کا ضروریات دین کے انکار کو مستلزم ہونا اور بعض صوفیہ خام کا غلط استدلال اور اس کا جواب سبھی کچھ سمجھ لا ہوگا اس کے ساتھ ساتھ اہل سنت وجماعت کا اولیاء کرام کے بارے میں عقیدۂ حق بھی پڑھ لیا ہوگا کہ بزرگان دین بیک وقت متعدد جگہوں پر موجود ہو سکتے ہیں۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ دیوبندی مکتبۂ فکر کے لوگوں نے کس قدر زبر دست ٹھوکر کھائی ہے دراصل یہ سب کچھ حقیقت تک نا رسائی اور اندرونی خبث کا نتیجہ ہے،بات آگئی ہے تو اس تعلق سے چند باتیں اور سن لیجیے جن سے کافی مشکل مسائل کی گتھی سلجھ جاتی ہے فرماتے ہیں:

اور اس طرح وہ عزیز کہ ہندوستان میں وطن رکھتا ہے اور اس دیار سے باہر نہیں گیا ہے کچھ لوگ مکہ معظمہ سے آئے اور کہتے ہیں کہ اس عزیز کو ہم نے حرم کعبہ میں دیکھا ہے اور ہمارے اور اس عزیز کے درمیان ایسا ویسا معاملہ گذرا ہے، اور کوئی گروہ نقل کرتا ہے کہ ہم نے اس کو روم میں دیکھا ہے اور دوسرے گروہ نے بغداد میں دیکھا

ہےیہ سب اس عزیز کے لطائف کا تشکل (شکل اختیار کر لینا) ہےکہ مختلف شکلوں میں اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس عزیز کو ان شکلات کی اطلاع نہ ہو ،لہۃذا اس جماعت کے جواب میں کہتا ہے کہ یہ سب ہم پر تہمت ہےمیں گھر سے باہر نہیں آیا ہوں،حرم کعبہ کو نہیں دیکھا ہے ،روم اور بغداد کو نہیں پہچانتا ہوں اور نہیں جانتا ہوں کہ تم لوگ کون شخص ہو؟

ارباب حاجات زندہ اور مردہ عزیزوں(یعنی جو بزرگان دین موجود ہیں یا انتقال کرگئے ان سے حاجت مندلوگ)مخاوف(خوف کی جگہیں) ومہالک(ہلاکت کے محل) میں مددیں طلب کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان عزیزوں کی صورتیں حاضر ہوئیں اور ان سے بلا کا دفع کیا ہے، کبھی ان عزیزوں کو اس دفع بلیہ کی اطلاع ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔؎

از ما وشما بہانہ برخاستہ اند

یہ بھی ان عزیزوں کے لطائف کا تشکل ہےاور یہ تشکل کبھی عالم شہادت میں ہوتی ہے اور کبھی عالم مثال میں جیسا کہ ایک شب میں ہزار انسان اس سرور ﷺ کو مختلف صورتوں میں خواب میں دیکھتے ہیں اور فائدے حاصل کرتے ہیں یہ سب کچھ آپ ﷺ کے لطائف اور صفات کا تشکل ہے مثالی صورتوں میں،اسی طرح مریدین پیروں کی مثالی صورتوں سے فائدے حاصل کرتے ہیں اور مشکلات حل کرتے ہیں۔

سبحان اللہ! کیسا حقیقت پر مبنی کلام ہے اور کتنے مسائل کا حل ہے،جس کے ہر ہر لفظ اور ہر ہر جملے سے اہل حق اہل سنت کی تائید وتوثیق ہوتی ہے،اولیا۴ کرام کا متعدد جگہوں پر مختلف شکلوں میں دکھائی دینا،فریاد کرنے والوں کی فریاد سننا،مدد کے لیے بیک وقت متعدد جگہوں پر پہنچ جانا ان سے ارباب حاجات کا حاجتیں طلب کرنا، بلائیں دفع کرنا یہ سب کچھ اقتباس سے عیاں ہے۔

بہت سے بد مذہب مولویوں کو آج تک یہی سمجھ میں نہیں آسکا کہ مالک دوجہاں ﷺ مدینہ طیبہ سے ہٹ کر اپنے امتیوں کے قبروں میں وہ بھی متعدد قبروں میں بیک وقت کیسے جا سکتے ہیں؟ اپنی ناقص سمجھ کے سانچے میں احادیث کو ڈھالنا شروع کردیا اور الفاظ کے ظاہر کو چھوڑ کر دور ازکار تاویلات کرلیں،ایسے مرد حق آگاہ کے کلام سے بھی اگر ہدایت نہ ملی تو پھر نصیب کا کیا علاج ہے۔

کمون وبروز:

مریدوں کی تربیت وتکمیل کے لیے بزرگوں نے ایک طریقہ نکالا کہ شیخ کامل کی روح ایک بدن سے مختفی اور پوشیدہ ہوجائے اور مرید کے بدن میں ظاہر ہوجائے تاکہ افاضۂ فیوضات ہو اور مرید پر شیخ کے انوار کا پرتو پڑے،بعض لوگوں کے ذہن پر تناسخ کا خبط سوار تھا لہٰذا ان خامکار صوفیوں نے اس کمان وبروز سے جواز تناسخ پر استدلال کیا۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘کمون وبروز کہ بعض مشائخ نے کہا ہے اس کا تناسخ سے کائی تعلق نہیں کیونکہ تناسخ میں نفس کا تعلق بدن ثانی سے ثبوت حیات کے واسطے ہے اور اس بدن کے حس وحرکت کے حصول کے لیے جبکہ بروز میں تعلق نفس بدن دیگر سے اس غرض کے حصول کے لیے نہیں ہے بلکہ اس تعلق سے مقصور کمالات کا حصول ہے خاص اس بدن کے لیے اور درجات تک پہنچنا ہے جیسے جن فرد انسانی سے تعلق پیدا کرلے اور اس کے جسم میں بروز (ظہور کرے) یہ تعلق اس فرد کی حیات کے واسطے نہیں ہے کیونکہ وہ فرد حسی وحساس ومتحرک اس تعلق سے پہلے سے ہے اور جو چیز اس فرد میں اس تعلق سے حادث ہوتی ہے اس جن کے صفات وحرکات وسکنات کا ظہور ہے’’

آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ کمون وبروز اور ہے اور تناسخ اور دونوں کے درمیان

زبردست فرق ہے جو قباحتیں اور شناعتیں تناسخ کی صورت میں لازم آتی ہیں ان میں سے کوئی بھی کمون وبروز میں نہیں،اور بہترین مثال سے ااپ قدس سرہ نے کمون وبروز کو سمجھایا لیکن چونکہ بعض لوگوں کو اس سے دھوکہ ہوتا ہے اسی لیے حضرت مجدد قدس سرہ کی بلند نگاہ ہمیشہ ان چور دروازوں کو بند کرنے پر رہتی ہے جہاں سے مطلب پرستوں کو خواہشات نفس کے شکار کا موقع ملتا ہے اس لیے آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:

‘‘مستقیم الاحوال صوفیہ کمون وبروز میں لب بھی نہیں کھولتےہیں اور ناقصوں کو فتنہ میں نہیں ڈالتے ہیں۔فقیر کے نزدیک کمون وبروز کچھ بھی درکار نہیں نہے ،اگر کوئی کامل کسی ناقص کی تربیت اس کے اندور بروز کیے بغیر کرنا چاہے تو چاہئے کہ اس کو خداوند قدوس کے قدرت دینے سے اپنی صفات کاملہ کو مرید ناقص پر منعکس کرے تاکہ مرید ناقص نقص سے کمال پر آئے اور صفات رذیلہ سے صفات حمیدہ کی طرف پھرے اور کوئی کمان وبروز درمیان میں نہ ہو :

ذٰلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم’’

نقل ارواح:

بعض مشائخ کا عجیب تر حال اور سن لیجئے آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘بعض دیگر مشائخ نقل ارواح کے قائل ہیں کہتے ہیں کہ روح کو کمال کے بعد ایسی قدرت حاصل ہو جاتی ہے کہ اگر چاہے تو اپنے بدن کو چھوڑ دے اور دوسرے بدن میں داخل ہوجائے،نقل کرتے ہیں کہ ایک بزرگ جو کہ یہ قدعت اور کمال رکھتے تھے ان کے پڑوس میں ایک جوان فوت ہوگیا ان بزرگ نے اپنے بدن کو کہ درازیٔ عمر کو پہنچ گیا تھا چھوڑا اور اس جوان کے بدن میں داخل ہوگئے یہاں تک کہ ان کا اول بدن مردہ اور ان کا بدن ثانی زندہ ہوگیا’’

آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ قول تناسخ کو مستلزم ہے کہ بدن ثانی سے تعلق اس بدن کی حیات کے لیے ہے اور اس قدر فرق ہے کہ تناسخ کا قائل نفس کے نقص کا قائل ہے اور تناسخ کو تکمیل نفس کے واسطے ثابت کرتے ہیں اور جو نقل روح کا قائل ہے روح کو کامل مانتا ہے اور کمال روح کے بعد نقل ثابت کرتا ہے فقیر کے نزدیک نقل روح کا قول تناسخ بھی گمراہی ہے کیونکہ تناسخ کو تکمیل نفوس کے واسطے اعتبار کیا ہے اگرچہ یہ اعتبار باطل ہے اور نقل روح کو حصول کمال کے بعد گمان کیا ہے اگرچہ کچھ کمال نہیں ہے جب ابدان کا بدلنا تحصیل کمالات کے واسطے قرار دیا ہے تو حصول کمال کے بعد بدن ثانی کی طرف نقل کس واسطے ہوگا ؟

اہل کمال تماشائی نہیں ہیں ان کی ہمت حصول کمال کے بعد ابدان سے تجرد ہے نہ کہ ابدان سے تعلق کیونکہ تعلق سے جو مقصود ہے حاصل ہوگیا،نیز نقل روح میں بدن اول کو موت دینا ہے اور بدن ثانی کو زندہ کرنا ہے پس بدن اول کو احکام برزخ کے حصول سے چارہ نہیں ہوا اور قبر کے عذاب وثواب سے گذر نہ ہوگا،اور بدن ثانی کے لیے جب جب حیات ثانی ثابت کرتے ہیں تو حشر اس کے حق میں دنیا میں ثابت ہوا ،میں سمجھتا ہوں کہ نقل روح کے معتقدین پتہ نہیں کہ عذاب وثواب قبر کے قائل ہوں گے اور حشر ونشر کے معتقد ہاں گے،افسوس صد افسوس! اس قسم کے دروغگو اپنے آپ کو مسند شیخی پر بٹھائے ہیں اور اہل اسلام کے مقتدا بنے بیٹھے ہیں ضلوا فاضلوا۔

تصوف اور صوفیہ خام کے سلسلے میں بات کافی طویل ہوگئی یہ تو میں نے اہم اہم مسائل ذکر کیے ورنہ ابھی بہت مسائل ہیں جن میں بعض نہایت اہم ہیں لیکن چونکہ نہایت دقیق اور طویل الذیل تھے اس لیے اسی پر اکتفا کرتا ہوں،ان چند مسائل سے آپ بہ آسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان خدا رسیدہ بندوں کے ان شظحیات سے اسلامی عقائد

ونظریات پر کتنی چوٹ پڑی تھی کیا ایسے حالات میں ایسے بندے کی ضرورت شدت سے محسوس نہیں ہو رہی تھی جو ہر منزل سے آشنا ہو ،ہر راہ سے واقفہو اور کمال وتکمیل کے نقطۂ آخر پر فائز ہوتا ہو،جو اپنی بلند نگاہی سے ایسے کمالات وحقائق اور اسرار ومعارف کا اظہار کرتا ہو جو سب سے اعلیٰ،سب سے دقیق اور عین اپنے نبیٔ امتﷺ کے بیان کردہ کمالات کے عین مطابق ہو ،جس سے عظمت نبوت ورسالت کا تحفظ ہوتا ہو ،ہر ذی شعور جانتا ہے کہ اس سلسلے میں جو کچھ تجدید الف ثانی نے دیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔

خطاء کشفی کے اسباب

متقی اور صالح صوفیہ کرام اور بزرگان دین سے جو خطائیں اور نفس الامر کے خلاف امور صادر ہوئے ہیں ان کا کچھ حصہ آپ پڑھ چکے،یہ غلطیاں اور خطائیں کیوں ہوتی ہیں جن کا تعلق کشف سے ہےحضرت مجدد قدس سرہ نے متعدد مکتوبات میں متعدد امور بیان فرمائے ان خطاؤ ں کے مبادی ومناشی کے بیان سے جہاں سالکین راہ کا زبردست فائدہ یہ ہوا کہ وہ ہوشیار ہو جائیں اور قرآن وسنت یا اجماع امت سے جن اشخاص وافراد کے فضائل ومناقب میں علو مرتبت ثابت ہے یا ذات وصفات وافعال واجبی اور دیگر مبدأ ومعاد سے متعلق جو حقیقت واقعی ہیں ان کے سلسلے میں دھوکہ کھا کر اپنی آخرت برباد نہ کرین یا دوسروں کو اشتباہ میں نہ ڈالیں۔

وہیں حضرت مجدد قدس سرہ کی بلند نگاہی اور دقت نظر کا بھی بین دلیل ہیں،بڑے بڑے ارباب کشف ومشاہدہ سے اس معاملہ میں بڑی بڑی خطائیں ہوگئیں،چھوٹوں کیا گنتی ہے ،دراصل راہ سلوک میں گوناگوں تجلیات وانوار کی وجہ سےظل کا اشتباہ اصل سے اور انموذج کا حقیقت سے بہت ہوتا ہے ہم یہان چند بطور نمونہ سپرد قلم کرتے ہیں

ملاحظہ فرمائیں:

مکتوب ۲۰۸ ج اول میں اپنے فرزند ارجمند خواجہ محمد صادق قدس سرہ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں:‘‘میرے فرزند نے پوچھا تھا کہ اس طریق کا سالک مقامات عروج میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنے کو مقامات انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات اتمہا واکملہا میں پاتا ہے بلکہ بعض اوقات پاتا ہے کہ ان مقامات سے بھی اوپر گیا ہے اس چیز کا راز کیا ہے حالانکہ ثابت شدہ اور اجماع کیا گیا ہے کہ فضل انباؑ کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے لیے ہے،اولیاء جو کچھ پاتے ہیں ان کے طفیل پاتے ہیں اور کمالات ولایت تک ان کے طفیل پہنچتے ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مقامات انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کے عروج کی نہایت نہیں ہیں بلکہ ان بزرگواروں کا عروج کتنے مراتب کے ساتھ ان مقامات سے بالا گیا ہے کیونکہ وہ مقامات اسماء الٰہی جل سلطانہ کا نام ہیں کہ ان کے مبادیٔ تعینات ہیں اور حضرت ذات تعالیٰ وتقدس کے فیوضات کے وسائل ہیں کیونکہ حضرت ذات کو اسماء کے توسط کے بغیر عالم سے کوئی مناسبت نہیں ہے اور غنا(بے نیازی) کے سوا کوئی نسبت حاصل نہیں،آیت کریمہ:

ان اللہ لغنی عن العٰلمین

اس معنیٰ کا گواہ ہے ،اور جب یہ بزرگوار مراتب عروج سے نزول فرماتے ہیں اور انوار فوق اپنے ساتھ لے کر نیچے آتے ہیں ان اسماء فرق مراتب کے اعتبار سے اقامت فرماتے ہیں اور انھیں وطن بناتے ہیں(جو اسماء کہ) ان کے احیاز طبعیہ(طبعی جگہیں) سے مشابہت رکھتے ہیں لہٰذا اگر کوئی انھیں اس کی استقرار(مبادیٔ تعینات میں قرار وقیام) کے بعد تلا ش کرے گا انھیں اسماء میں پائے گا

پس بلند استعداد کہ حضرت ذات تعالیٰ وتقدس کی طرف متوجہ ہے لا محالہ عروج

کے وقت میں ان اسماء تک پہنچے گا اور اس جگہ سے فوق کی طرف گذرے گا الیٰ ما شاء اللہ تعالیٰ لیکن وہ سالک جب اوپر سے نیچے آتا ہے اور اس اسم میں جو کہ اس کا مبدأ تعین ہے نزول کرتا ہے وہ اسم لا محالہ ان اسماء سے پایاں تر ہوگا جو کہ انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کے مقامات ہوں گے اور مقامات کا تفاوت اس جگہ سے ظاہر ہوگا جو کہ افضلیت کا مدار ہے ہر وہ جس کا مقام بلند ہے افضل ہے۔

اور جب تک سالک پھر اپنے اسم میں نہ پلٹے اور اپنے اسم کو ان اسماء سے پایاں تر نہ پائے ان بزرگوں (انبیاء کرام علیہم السلام) کی افضلیت بطریق ذوق وھال نہیں پائے گا بلکہ تقلیدا ان کو افضل کہے گا یقین سابق کی وجہ سے ان کی اولویت کا حکم لگائے گا لیکن اس کا وجدان اس کے حکم کو جھٹلائے گا اس وقت میں التجا وتضرع اور عجز ونیاز حضرت حق سبحانہ کی بارگا ہ میں درکار ہے تاکہ وہ جو حقیقت کار ہے ظاہر ہو جائے یہ مقام سالکین کے قدموں کے لغزش کھانے کا ہے۔’’

(پھر عناصر کی ایک مثال دے کر جواب کو واضح فرمایا،فرماتے ہیں:‘‘ تو ما نحن فیہ میں اس سالک کا عروج ان مقامات (انبیاء علیہم السلام)سے عارض کے اعتبار سے ہے اور وہ عارضی حرارت محبت کی زیادتی اور قوت جذب عشق ہے اور ذات کے اعتبار سے اس کا مقام ان مقامات کے تحت میں ہے ۔

یہ جواب جو کہا گیا منتہی کے حال کے مناسب ہے لیکن اگر ابتدا میں یہ وہم پیدا ہو اور خود کو اکابر کے مقامات میں پائے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مقام کے لیے ابتدا اور وسط میں ظل اور مثال ہے اور مبتدی ومتوسط جب ان کے ظلال تک پہنچتے ہیں تو خیال کر لیتے ہیں کہ ان مقامات کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں،اس لیے کہ وہ ظلال اور حقیقت کے درمیان فرق نہیں کر پاتے ہیں اور اسی طرح اکابر کے شبہ ومثال کو ان کے مقامات کے ظلال میں پاتے ہیں تو خیال کرلیتے ہیں کہ اکابر کے ساتھ مقامات میں

شرکت پیدا کرلی ہے،ایسا نہیں ہے بلکہ اس جگہ ظل شئ کا شتباہ نفس شئ کے ساتھ ہوتا ہے ’’

مکتوب ۲۲۰ میں اسی غلطی کے اسی سبب کی تقریر کرکے فرماتے ہیں‘‘ اسی قبیل سے ہے وہ جو بعض مشائخ نے کہا ہے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عارف مقاماتعروج میں برزخیت کبریٰ کو حائل نہیں پاتا ہے اور اس کے توسط کے بغیر ترقی پاتا ہے،ہمارے حضرت(خواجہ باقی باللہ قدس سرہ) فرماتے تھے کہ رابعہ بھی اسی جماعت سے ہیں یہ جماعت بوقت عروج چونکہ اس اسم سے جو کہ برزخیت کبریٰ کا مبدأ تعین ہے فوق میں گئے ہیں توہم کرلیا ہے کہ برزخیت کبریٰ درمیان میں حائل نہیں ہے ،اور برزخیت کبریٰ حقیقت حضرت رسالت خاتمیت ﷺ مراد لی ہے اور معاملہ کی حقیقت وہی ہے جو اوپر گذر گئی’’

خیال رہے کہ مذکورہ بالا غلطی کا ایک سبب وہ ہے جو آپ نے پڑھ لیا جس میں تفصیل سے سالک کے تینوں درجے مبتدی،متوسط ومنتہی کے بارے میں سبب خطا بیان کیا گیا اس قسم کی خطا کا سبب ایک اور ہوتا ہے چنانچہ اسی مکتوب۲۲۰ میں فرماتے ہیں:

(۲)‘‘اس غلطی کا منشا دوسرے گروہ کایہ ہوتا ہے کہ سالک کا سیر جب اس اسم میں واقع ہوتی ہے جو کہ اس کا مبدأ تعین ہے اور وہ اسم اجمالی طور پر جمیع اسما کا جامع ہے کیونکہ انسان کی جامعیت اسی اسم کی جامعیت کی وجہ سے ہے پس لا محالہ اسی ضمن میں کہ وہ اسماء کہ دوسرے مشائخ کے مبادیٔ تعینات ہیں بطریق اجمال نیز اس سیر کے ذریعہ ان (مشائخ دیگر) کے مبادی تعینات کو طے کرے گا اور ہر ایک سے گذر کر اس اسم کے منتہا تک پہنچے گااور فوقیت کا توہم کرے گا ۔

یہ(سالک)نہیں جانتا ہے کہ مقامات مشائخ سے جو کچھ اس نے دیکھا ہے اور جس

سے گذرا ہے وہ ان کے مقامات کا انموذج(نمونہ)ہے نہ کہ ان مقامات کی حقیقت اور جب اس مقام میں اپنے آپ کو جامع پاتا ہے اور دوسروں کو اپنے اجزا سے سمجھتا ہے لا محالہ اپنی اولویت کا وہم پیدا کرتا ہے اسی مقام میں شیخ بسطام کہتے ہیں:

لوائی ارفع من لواء محمد

غلبہ۷ سکر کی وجہ سے نہیں جانتے کہ ان کے لوا کا ارفع ہونا لوائے محمدﷺ سے نہیں ہے بلکہ ان کے لوا کے انموذج سے ہے کہ ان کی حقیقت اسم کے ضمن میں مشہود ہوا ہے ۔

اور اسی قبیل سے ہے جو انھوں نے اپنی وسعت قلب کے بارے میں کہا ہے کہ اگر عرش اور جو کچھ عرش میں ہے قلب عارف کے گوشہ میں رکھ دیں تو کچھ بھی محسوس نہ ہو ،اس جگہ بھی انموذج کا اشتباہ ہے حقیقت کے ساتھ ورنہ عرش کہ حضرت حق سبحانہ اس کو عظیم فرماتا ہے قلب عارف کا اس کے پہلو میں کیا اعتبار اور کیا مقدار ،جو ظہور کہ عرش میں ہے اس کا ایک فی صد بھی قلب میں نہیں ہے اگرچہ قلب عارف ہو ،رویت اخروی ظہور عرش کے ساتھ متحقق ہوگی،یہ بات آج کے ان چند صوفیہ پر گراں ہوگی لیکن آخر ان کا معقول ہوگی’’

پھر اس کے بعد نہایت عمدہ مثال سے اس کی وضاحت فرمائی،فرماتے ہیں:

‘‘ حقیقت شی کے ساتھ انموذج شی کے ساتھ اشتباہ ہی کی وجہ سے صاحب فتوحات مکیہ (شیخ ابن العربی قدس سرہ) نے کہا ہے کہ جمع محمدی جامع تر ہے جمع الٰہی سے،کیونکہ جمع محمدی حقائق کونی والٰہی پر مشتمل ہے پس جامع تر ہوگی، نہیں جانتے ہیں کہ وہ مرتبۂ الوہیت کے ظلال سے ایک طل پر اشتمال ہے اور اس کے انموذجات سے ایک انموذج پر نہ کہ اس مرتبۂ مقدسہ کی حقیقت پر بلکہ اس مرتبۂ مقدسہ کی عطمت وکبریائی جواس کے لوازم سے ہے کی طرف نسبت کرتے ہوئے جمع محمدی

کی کوئی مقدار نہیں ہے’’

(۳)سالک کی سیر جب اس اسم میں ہوتی ہے جو اس کا رب ہے وہاں ایک غلطی کا اور امکان رہتا ہے وہ یہ کہ سالک محسوس کرتا ہےکہ بعض وہ اکابر جن کا اس سے افضل ہونا یقینی ہے ، کہ اس کے توسط سے بعض درجات فوق تک پہنچے ہیں اور ان بعض اکابر نے اس سالک کے توسط سے ترقی فرمائی ہے،یہ بھی سالکوں کے قدموں کے لغزش کھانے کی جگہ ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘عیاذا باللہ کہ اس گمان کی وجہ سے اپنے آپ کو افضل جانے اور ابدی خسارہ میں ملائے اور کیا تعجب اور کون سی افضلیت اگر بادشاہ عظیم الشان اور تما م السلطان کسی زمیندار کے تصرف میں کہ اس کی مملکت میں داخل ہے،جائے اور زمیندار کے توسط سے بعض مقامات تک پہنچے اور اس کے توسل سے بعض مواضع فتح کرے زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس جگہ فضل جزئی کا احتمال ہے جو بحث سے خارج ہے کیونکہ ہر حجام وحائک اپنے بعض خصائص کی وجہ سے عالم ذو فنون اور حکیم مختلف صنائع وعلوم کے حامل پر فضل رکھتا ہے، لیکن وہ افضلیت اعتبار سے خارج ہے،جو معتبر ہے فضل کلی ہے جو عالم وحکیم کے لیے ثابت ہے۔’’

اس درویش(حضرت مجدد قدس سرہ) کو بھی اس طرح کے اشتباہات واقع ہوئے تھے اور اس قسم کے تخیلات بہت پیدا ہوئے تھے اور مدتوں یہ حالت رہی اس کے باوجود خداوندی حفاظت اس کے شامل حال تھی کہ یقین سابق میں سرمو تذبذب نہیں ہوا اور اجماعی عقیدہ میں کسی فتور نے راہ نہیں پائی

للہ سبحانہ الحمد والمنۃ علیٰ ذٰلک وعلیٰ جمیع نعمائہ

پھر اپنی داستان یوں سناتے ہیں‘‘جو کچھ مجمع علیہ(جس پر اجماع منعقدہو) کے خلاف طاہر ہوتا محل اعتبار میں نہ لاتا اور نیک محامل پر محمول کرتا ،اجمالا اتنا جانتا کہ

اس کشف کی سحت کی تقدیر پر یہ زیادتی فضل جزئی کی طرف راجع ہوگی،ہر چند کہ یہ وسوسہ معارض ہوتا کہ فضل کا مدار قرب الٰہی جل سلطانہ پر ہے اور یہ زیادتی اس قرب میں ہے تو جزئی کیسے ہوگی لیکن یقین سابق کے پہلو میں یہ وسوسہ ہباء منثورا ہو جاتا اور کوئی اعتبار نہ رکھتا بلکہ توبہ واستغفار اور انابت والتجا کرتا اور تضرع وزاری سے دعا کرتا کہ اس قسم کے مکشوف ظاہر نہ ہوں اور معتقدات اہل سنت کے خلاف سر مو منکشف نہ ہو۔

ایک روز اس خوف نے غلبہ کیا کہ کہیں ان مکشوف پر مواخذہ کریں اور ان توہمات سے سوال فرمائیں اور اس خوف کے غلبہ نے بے قرار اور بے آرام بنادیا،خداوند قدوس سبحانہ کی مقدس بارگاہ میں پہلے سے بہت زیادہ التجا اور تضرع کیا اور یہ حالت ایک مدت تک رہی اتفاقا اس وقت میں ایک بزرگ کے مزار پر گذر ہوا اور اس معاملہ میں ان بزرگ کو اپنا ممد ومعاون کیا اسی اثنا میں خدا وند جل شانہ کی عنایت پہنچی اور معاملہ کی حقیقت مکمل طور پر کھول دی اور حضرت رسالت خاتمیت ﷺ کہ رحمت عالمیاں ہیں اس وقت میں تشریف لائے اور غمزدہ دل کو تسلی دی اور معلوم ہوا کہ وہان قرب الٰہی فضل کلی کا سبب ہے لیکن یہ قرب کہ تم کو حاصل ہوا ہے مرتبۂ الوہیت کے ظلال سے ایک ظل کا قرب ہے جو اس اسم سے مخصوص ہے جو کہ تمہارا رب ہے تو فضل کلی کا موجب نہ ہوگا اور اس مقام کی صورت مثالی اس طور پر منکشف کردی کہ شک کی جگہ نہیں رہی اور زنگ کا محل بالکل زائل ہو گیا ۔’’

کتنا لائق تقلید دیدۂ عبرت سے پڑھنے کے لائق یہ بیان ہے،لوگ تو عموما ایسے مکشوفات میں خوش فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں مگر یہاں جو کیفیت تھی وہ لفظ لفظ سے ظاہر ہے،کتنا پیارا اصول بیان فرمایا اور یہ بھی بتا دیا کہ کس کس طرح کے اشتباہات پیش آتے ہیں۔

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ علوم ومعارف اسی قسم کے آپ بیان کر چکے تھے اس وقت ان کا نہ گلط ہونا معلوم تھا اور نہ غلطی کا سبب بعد میں احساس ہوا تو فرماتے ہیں:

‘‘اس درویش نے بعض ان علوم سے کہ محل اشتباہ رکھتے ہیں اور تاویل وتوجیہ کی گنجائش رکھتے ہیں اپنی کتب ورسائل میں لکھے تھے اور منتشر ہوگئے چاہا کہ ان کے اغلاط کا منشاء کہ محض فضل خداوندی لائح ہوا ہے لکھے اور منتشر کرے کہ مشتہر گناہ کے لیے توبہ کا اشتہار درکار ہے تاکہ لوگ ان علام سے خلاف شریعت نہ سمجھین اور تقلید کی وجہ سے گمرہی میں نہ پڑیں یا تعصب وتکلف سے تضلیل وتجہیل نہ اختیار کریں کہ اس راہ غیب الغیوب میں ایسے گل بہت کھلتے ہیں،کسی گروہ کو ہدایت کی طرف لے جاتے ہیں اور دوسرے گروہ کو ضلالت کی راہ دکھاتے ہیں۔

میں نے اپنے والد بزرگوار قدس سرہ سے سنا ہے کہ فرماتے ہیں: ۷۲ فرقوں سے اکثر گمرہی میں گئے ہیں اور راہ راست گم کی ہے اس کا منشا طریق صوفیہ میں دخول ہےکہ کام کو انجام تک نہیں پہنچایا ہے،غلطیاں کی ہیں اور ضلالت میں گئے ہیں’’

اس میں کتنی عبرت ونصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جن کو گناہ کرکے یا خلاف شریعت اقوال وافعال صادر کرکے توبہ کے وقت عزت نفس آڑے آجاتی ہے،سبحان اللہ! اللہ والوں کی کیا شان ہے بے نفسی لفظ لفظ سے ظاہر ہے،یہی روش اگر اختیار کی گئی ہوتی تو بہت سارے اختلافات اور جھگڑے اسلامیوں کے ختم ہوجاتے۔

(۴)سالکین کو اثناءراہ میں ایک ایسی منزل پیش آتی ہے جس جگہ اگر وہ اپنے آپ کو سنبھال نہ پائے تو بہت بڑی غلطی میں پرجاتے ہیں۔

صورت شریعت کا انتہائے عروج سلسلۂ ممکنات کی انتہا تک ہے اس کے بعد اگر مراتب وجود میں سیر واقع ہوئی تو صورت حقیقت کے ساتھ مخلوط ہوگی اور یہ اختلاط کا معاملہ بھی شان العم تک عروج سے ہے کہ سید البشر ﷺ کا مبدأ تعین ہے اس کے

بعد اگر ترقی ہوگی تو صورت وحقیقت دونوں رخصت ہو جائیں گی اور عارف کا معاملہ شان الحیٰوۃ تک پڑے گا ،یہ شان عظیم الشان کو عالم کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے ،یہ شیونات حقیقیہ سے ہے کہ گرد اضافت اس تک نہیں پہنچی ہے تاکہ عالم کے ساتھ تعلق پیدا کرے ،یہ شان دروازہ۷ مقصود ہے اور مقدمۂ مطلوب۔

اس محل میں عارف اپنے آپ کو دائرۂ شریعت سے باہر پاتا ہے لیکن چونکہ محفوظ ہے،شریعت کے دقائق سے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتا ہے ،جو لوگ اس دولت عظمیٰ سے مشرف ہوئے ہیں بہت تھوڑے ہیں،اگر ان کا عدد بیان کریں شاید بہت کم قبول کریں۔

صوفیہ کا ایک بڑا گروہ ہے جو اس مقام کے ظلال تک پہنچا ہے کیونکہ ہر ایک مقام عالی اکا سافل میں ایک ظل ہے،اس کے ظلال سے سمجھ لیا ہے کہ ٍقدم دائرۂ شریعت سے باہر رکھا ہے اور پوست کو چھوڑ کر مغز تک پہنچے ہیں،یہ مقام اقدام صوفیہ کے لغزش کھانے کا مقام ہے،ناقصوں کا ایک گروہ اس راہ سے الحاد وزندقہ تک پہنچا ہے اور سر شریعت غراء کی قید سے باہر لائے ہیں ضلوا فاضلوا۔

اور کاملیں میں سے ایک گروہ کہ درجات ولایت سے کسی درجہ سے مشرف ہوئے ہیں اور اس معرفت کو اس مقام عالی کے ظلال سے کسی ظل سے حاصل کیا ہے،ہر چند اس مقام کی اصل تک نہیں پہنچے ہیں لیکن محفوظ ہیں اور کوئی ادب آداب شریعت سے چھوڑنا جائز نہیں قرار دیتے ہیں اور ہر چند اس معرفت کا راز نہیں جانتے ہیں اور حقیقت معاملہ کو نہیں سمجھا ہے۔

اور چونکہ اس فقیر پر بعنایۃ اللہ سبحانہ وصدقۃ حبیبہ ﷺ اس معما کا راز منکشف ہوگیا ہے اور حقیقت کار کما ینبغی وضوھ سے مل گئی ہے،کچھ اس ماجرا سے بیان میں لائے احتمال ہے کہ ناقصاں راہ پر لائے اور کاملوإ کو معاملہ کی حقیقت کھولے۔

جاننا چاہئے کہ تکلیفات شرعیہ قالب کے ساتھ مخصوص ہیں اور قلب سے کیونکہ تزکیۂ نفس انھیں پر متفرع ہے اور جو لطائف دائرۂ شریعت سے باہر قدم رکھتے ہیں ان کے ماسوا ہیں،پس وہ جو شریعت سے مکلف ہے ہمیشہ ہمیشہ مکلف ہے اور جو مکلف نہیں ہے ہرگز مکلف نہیں ہوگا۔تفصیل کے لیے دیکھئے مکتوب ۱۷۲ جلد اول

(۵)خوابوں پر اعتبار بھی اہل سلوک کو غلطی میں مبتلا کردیتا ہے،حضرت مجدد قدس سرہ سے ایک صاحب سوال کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ واقعات (مکاشفات) اور منامات میں مثال وخیال میں دیکھتے ہیں کہ ہم بادشاہ ہوگئے ہیں اپنے خادموں اور نوکروں کو ملاحظہ کرتے ہیں اور نیز دیکھتے ہیں کہ ہم قطب ہو گئے ہیں اور عالم ہماری طرف رخ رکھتا ہے اور عالم بیداری اور ہوش کہ عالم شہادت ہے ان کمالات سے کچھ بھی ظاہت نہیں ہوتاہے یہ رویت کچھ سچائی رکھتی ہے یا باطل محض ہے؟

آپ قدس سرہ مکتوب ۵۸ب جلد دوم میں اس کے جواب میں فرماتے ہیں:‘‘یہ دیدکچھ سچزئی رکھتی ہے اس کا بیان یہ ہے کہ بادشاہت اور قطبیت کا معنیٰ اس جماعت میں موجود ہیں لیکن یہ معنیٰ ان میں ضعیف ہیں اس لائق نہیں کہ عالم شہادت میں ظاہر ہوں،اس کے بعد دو حال سے خالی نہیں ہے اگر یہ معنیٰ اللہ سبحانہ کی عنایت سے قوت پیدا کرے اور اس لائق ہوجائے کہ عالم شہادت میں ظہور پیدا کرے،اللہ سبحانہ کی قدرت سے عالم شہادت میں بادشاہ بھی ہو سکتے ہیں اور قطب وقت بھی ۔

اور اگر اس مرنیٰ نے اس قدر قوت پیدا نہ کی کہ عالم شہادت میں ظاہر ہو اور اس مثالی ظہور سے کہ ضعیف تر ظہورات سے ہےکفایت ہو سکتی ہے اور بقدر قوت ظہور پائے گا۔’’

اسی قبیل سے وہ واقعات ہیں کہ اس راہ کے طالب دیکھتے ہیں اور خود کو بلند مقامات میں پاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ارباب ولایت کے منصبوں سے سرفراز ہو

گئے ہیں،اگر شہادت میں یہ معنیٰ ظہور کریں تو عظیم دولت ہیں اور اگر مثال کے ظہور پر کفایت ہو تو بے ماحصل ہے اور مصیبت کی جگہ ہے۔

تفصیل کے لیے مکتوب مذکور دیکھیں،آج کل عام طور پر پیروں کی بشارتیں اسی کیفیت کی ہیں،کشف تو ہے نہیں کہیں اچھے خواب نظر آگئے تو اپنے آپ کو نا معلوم کیا سمجھ لیتے ہیں اور ہر ایک سے ذکر کرتے پھرتے ہیں،پیر لوگ انھیں خوابوں پر اعتماد کرکے اجازت وخلافت بھی دے دیتے ہیں اور بشارتیں بھی،اللہ کی پناہ!

(۶)سلوک میں غلطی کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ عام طور پر سلاسل میں پہلے ریاضات شاقہ اور مجاہدات شدیدہ کراکر تزکیۂ نفس کرتے ہیں اور عالم خلق کی پر خطر وادیاں اس تزکیہ کے ذریعہ طے کرتے ہیں،جب سالک ان وادیوں سے نکل کر عالم امر میں قدم رکھتا ہے تو اسے قلبی انجذاب اور روحی التذاذ کثرت سے حاصل ہوتا ہے۔

بہت سی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس انجذاب اور التذاذ کو روھانیت کی آخری منزل تصور کرلیتا ہے اور اس انجذاب پر قناعت کر بیٹھتا ہے اور اسی التذاذ پر کفایت کرلیتا ہے اور عالم امر کو لامکانی گمان کر بیٹھتا ہے ،اس سے نقسان یہ ہوتا ہے کہ اس عالم کی بے چونی کی آمیزش بے چانی حقیقی سے باز رکھتی ہے ۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘ شاید اسی مقام میں ایک سالک نے کہا تھا کہ میں نے تیس سال تک روح کو خدا سمجھ کر پوجا،اور دوسرے نے کہا کہ سر استوا اور تنزیہ کا ظہور فوق العرش معارف غامضہ سے ہے ’’ جبکہ یہ تنزیہ بھی دائرۂ امکان میں داخل ہے تنزیہ نما ہے در حقیقت تشبیہ ہے’’۔

(۷)اثناء سلوک میں ایک غلطی کا سبب اسماء وصفات کا ملاحظہ بھی ہے ،حضرت مجدد قدس سرہ مکتوب ۲۶۴ جلد اول میں میر سید باقر کو تنبیہ کرتے ہ

ہوئےفرماتے ہیں:‘‘اور اپنے کام میں متوجہ رہیں اور ذکر اسم ذات تعالیٰ وتقدس کے ساتھ مشغولیت رکھیں اسماء اور صفات کے ملاحظہ کے بغیر تاکہ معاملہ جہالت کی طرف کھنچے اور کام حیرت تک انجام پذیر ہو کیونکہ بہت سی دفعہ اسماء وصفات کا ملاحظہ احوال کے ظہور کا باعث ہوجاتا ہے،سنا ہوگا کہ احوال ومواجید میں خطا کا احتمال بہت ہے اور حق کے ساتھ باطل کا اشتباہ بیشتر ہوتا ہے اس محل میں۔

سنو!ان دنوں اطراف کے مشائخ سے ایک نےاس فقیر کے پاس پیغام بھیجا اور اپنے احوال کا اظہار کیا کہ فنا اور محویت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ جس پر نظر کرتا ہوں کچھ نہیں پاتا ہوں۔آسمان وزمین کی طرف نگاہ کرتا ہوں نہیں پاتا ہوں اور عرش وکرسی کو بھی نہیں پاتا ہوں اور اپنے آپ کو کہ ملاحظہ کرتا ہون کچھ نہیں پاتا ہوں اور کسی کے سامنے جاتا ہوں اس کو بھی نہیں پاتا ہون اور خدائے عزوجل وعلا بے نہایت ہے اور اس کی نہایت کو کسی نے نہیں پایا، مشائخ نے اسی کو کمال جانا ہے اگر تو بھی (حضرت مجدد قدس سرہ) اسی کو کمال جانتا ہے تو طلب حق جل وعلا کے لیے تمہارے سامنے کیوں آؤں اور اگر کوئی دوسرا امر کمال جانتے ہو تو لکھو؟

فقیر نے اس کے جواب میں لکھا کہ یہ امر قلب کی تلوینات سے ہیں اور قلب اس راہ کا پہلا زینہ ہے اور ان احوال والے نے مقام الب کا چوتھائی طے کیا ہے قلب کے تین دیگر حسے اس کو طے کرنا چاہئے اس کے بعد دوسرے زینے پر چڑھنا چاہئے کہ روح سے عبارت ہے الیٰ ماشاء اللہ تعالیٰ ۔

پھر ایک مدت کے بعد یہی ماجرا اس فقیر کے احباب سے ایک کے ساتھ پیش آیا کہ طریقہ اکذ کرکے اپنے وطن گیا تھا پلٹ کر آیا اور جب اسنے اپنے احوال بیان کئے تو معلوم ہوا کہ اس کا حال اس پوچھنے والے شیخ کے موافق ہے بلکہ یہ اس مقام میں ایک قدم بیشتر رکھتا ہے اور جب اچھی طرح اس کے احوال کو ملاحظہ کیا تو

معلوم ہوا کہ اس کی وہ محویت اور فنا عنصر ہوا میں ہے کہ ذات میں سے ہر ذرہ کو محیط ہے اور اس کا مشہود ہوا کے علاوہ کوئی دوسرا امر نہیں ہے اور بے نہایت خدا جانا ہے

تعالیٰ اللہ سبحانہ عن ذٰلک علوا کبیرا

دو۲سری مرتبہ اس کو طلب کیا اور اس کے حوال کی تفتیش کی یقین ہو گیا کہ اس کی گرفتاری عنصر ہوا کے علاوہ کسی دوسرے امر سے نہیں رہا ہے اس کو بھی اس معنیٰ پر مطلع کیا ،جب اس نے اپنے وجدان سے رجوع کیا معلوم ہو گیا کہ اس کا حاصل ہوا کے علاوہ کوئی دوسرا امر نہیں ہے ان احوال سے توبہ کرکے قدم پیشتر رکھا’’

جان لیجئے کہ قلب برزخ ہےعالم خلق کے درمیان کہ عناصر اربعہ کا عالم ہے اور عالم ارواح کے درمیان اور دونوں عالموں سے رنگ رکھتا ہے پس گویا کہ نصف قلب عالم خلق سے ہے اور اس کا نصف دیگر عالم ارواح سے،اور اس کے نصف عالم خلق کو ہم آدھا کریں تو معاملہ عنصر ہوا میں پڑے گا تو ربع قلب (چوتھائی) مقام ہوا سے عبارت ہوا کہ قلب اس کو متضمن ہے۔

(۸)اثناء راہ میں غلطیوں کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک مقام چند مرتبہ ظاہر ہوتا ہے اور یہ ظہورات دراصل اس مقام کے ظلال ہوتے ہیں اس مقام م کی حقیقت وہی ہے جو کہ اخیر مرتبہ میں ظاہر ہوتی ہے ،سالک ان ظلال کو اصل شئ تصور کرلیتا ہے جبکہ ظل اور اصل میں بہت فرق ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘ یہ اشتباہ بہت واقع ہوتا ہے کہ کہ ظل کو اصل کے عدم ظہور کے وقت اصل سمجھ لیتے ہیں’’

اس قسم کے اشتباہات کی مثالیں بہت ہیں میں نے یہ چند اسباب خطا متعدد مکتوبات سے جمع کردیئے ہیں،اگر سب کو جمع کیا جائے تو بہت ہو جائیں گے،بعض دقیق بھی ہیں جن کو اس دور مادیت میں کون سمجھے گا؟حضرت مجدد قدس