مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیارسال رسل کے فوائد

باب ۳۹ از ۵۷صفحات ۵۳۵–۵۴۸

ارسال رسل کے فوائد

علوم اسلامیہ میں منطق وفلسفہ کے دخل نے جہاں بہت سی خرابیاں پیدا کیں وہاں سب سے بڑی خرابی یہ بھی آئی کہ عقل دھیرے دھیرےصحت وسقم اور حق وباطل کا معیار بن گئی پھر بات یہاں تک پہنچی کہ جو عقل ناقص کی سمجھ میں آیا اسے مان لیا اور جو نہیں آیا اس کا انکار کر دیا،حتیٰ کہ احکام سے تجاوز کرکے بات انکار نبوت تک پہنچ گئی۔

جس مقدس جماعت کے طفیل سب کچھ ملا تھا آخر وہ ان عقلمندوں کی نظر میں بے فائدہ اور بے کار ہو کر رہ گئی،حضرت مجدد قدس سرہ کے زمانے میں یہ فتنہ اپنے شباب پر تھا،علم وعقل سے کوتاہ اور تہی دامن تحقیر وتنقیص نبوت کرتے،طرح طرح کی خامیاں اور کوتاہیاں نکالتے،جس سے حضرت مجدد قدس سرہ کا کلیجہ پھٹتا،آپ نے اس سلسلے میں بھی بنیادی خدمات انجام دی اور لسانی وقلمی جہاد فرمایا اور بالآخر ان شر پسندوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا۔

عظمت نبوت ورسالت کے تحفظ اور انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے مقدس وجود کی برکتیں اور رحمتیں جو متفرق طور پر مکتوبات قدسی آیات میں بیان ہوئی ہیں اگر ان کو یکجا کیا جائے تو ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے،چونکہ نبوت ورسالت ہی پر دین کا انحصار تھا،اور انکار کی بنا عقل ناقص کے سہارے پر رکھی گئی تھی،عقلی

تشکیکات کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کیا جارہا تھا اس لیے آپ نے رب عزوجل کی دی ہوئی علمی وعقلی قوتوں کو خوب استعمال فرمایا اور باطل کے تمام شکوک وشبہات کو خود اس کے انداز میں نیست ونابود کردیا،اس مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے اس باب میں مستقل ایک رسالہ بنام اثبات النبوت تحریر فرمایا جس میں مخالف کے تمام شکوک وشبہات کو بے وقعت وبے بنیاد ثابت کرکے یہ دکھا دیا کہ یہ قوم جس طرح علم سے عاری ہے اسی طرح عقل سے بھی خالی ہے اور آپ نے نہایت معقول انداز میں اثبات نبوت ورسالت کو بدلائل قاہرہ ثابت فرمایا اور اپنی مہارت علمیہ کے وہ جو ہر دکھائے کہ کسی منطقی وفلسفی کو مجال دم زدن نہ رہی اور کوئی اس مرد مجاہد کے مقابلے کے لیے تیار نہ ہوا۔

چونکہ انکار کی بنا عقل کے استقلال پر رکھی گئی تھی اسی لیے آپ ایک طرف ارسال رسل کے فوائد وبرکات بیان فرماتے ہیں تو دوسری طرف عقل کے عدم استقلال کو دلائل کی روشنی میں ثابت کرتے ہیں،انداز وہی ہے کہ پڑھنے والا پڑھتا ہی رہ جائے،بات اتنے معقول انداز میں ہوتی ہے کہ دل میں اترتی چلی جائے،چند اقتباسات ارسال رسل اور عقل کے عدم استقلال کے سلسلے میں ملاحظہ فرمائیں:

(۱)مکتوب ۲۶۶ جلد اول میں ایک بحث کے ضمن میں فرماتے ہیں:‘‘در بعثت انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات رحمت عالمیاں است اگر توسط وجود ایں بزرگواراں نمی بود ما گمراہاں را بمعرفت ذات وصفات واجب الوجود تعالیٰ وتقدس کہ دلالت می فرمود ومرضیات مولاء ما را جل شانہ از عدم مرضیات او سبحانہ کہ تمیز می نمود،عقول ناقصۂ ما بے تائید نور دعوت ایشاں ازیں معنیٰ معزول است وافہام نا تمام ما بے تقلید ایں بزرگواراں دریں معاملہ مخذول۔’’

ترجمہ: انبیاے کرام علیھم السلام کی بعثت عالمین کے لیے رحمت ہے اگر ان

حضرات کا وجود شریعت کا وسیلہ نہ ہوتا تو، ہم گمراہوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات و صفات کی معرفت کا علم کہاں سے ہوتا؟ اور کون اللہ تعالیٰ کی رضا کو عدم رضا سے ممتاز کرتا، ہماری ناقص عقلیں ان حضرات کی دعوت کے بغیر اس کام سے عاجز اور ہماری سمجھ ان بزرگوں کی تقلید کے بغیر خوار رہتی۔

پھر ایک سوال کا جواب دیتے ہوے فرماتے ہیں کہ بعثت تمام عالم والوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت کا سبب ہے جو کہ تمام دینی ودنوی سعادتوں کو متضمن ہے،بعثت ہی کی بدولت معلوم وممیز ہوتا ہے کہ بارگاہ قدس کے مناسب کیا ہے اور نا مناسب کیا ہے،آگے آپ کے الفاظ یہ ہیں:

‘‘زیرا کہ عقل لنگ وکور ما کہ بداغ امکان وحدوث متسم است چہ داند کہ مناسب حضرت وجوب کہ قدم از لوازم اوست از اسما وصفات وافعال کدام است ونا مناسب کدام تا اطلاق آں نمودہ آید واجتناب ازیں کردہ شود بلکہ بسیار ست کہ از نقص خود کمال را نقصان داند ونقص را کمال انگارد ایں تمیز نزد فقیر فوق جمیع نعم ظاہرہ وباطنہ است،بے دولت تر آنکہ امور نا مناسبہ را بجناب قدس او تعالیٰ نسبت دہد واشیاء ناشائستہ را بحضرت او سبحانہ منتسب سازد،وبعثت است کہ باطل را از حق جدا ساختہ است ونا مستحق عبادت را از مستحق عبادت تمیز دادہ،وبعثت است کہ براہ حق جل وعلا بتوسط آں دعوت می فرمایند وبندہا را بسعادت قرب ووصل مولیٰ جل سلطانہ می رسانند و بوسیلۂ بعثت اطلاع بر مرضیات مولیٰ جل سلطانہ میسر شود کما مر وجواز در تصرف در ملک او از عدم جواز آں متمیز می گردد وامثال ایں فوائد بسیار است۔’’

ترجمہ: اس لیے کہ ہماری لنگڑی اور اندھی عقل جو کہ امکان و حدوث کے داغ سے داغدار ہے۔ کیسے معلوم ہو پاتا ہے کہ حضرت وجوب تعالیٰ کے لیے قدیم ہونا لازم ہے، اسی طرح یہ بھی پتہ نہیں ہو پاتا کہ اسما، صفات اور افعال کے کیا مناسب ہے

ہے کہ جس کا اطلاق کیا جائے اور کیا غیر مناسب ہے کہ جس سے بچا جائے۔ بلکہ ایسا اکثر ہو جاتا کہ اپنے نقص کی وجہ سے کمال کو نقصان اور نقصان کو کمال سمجھ بیٹھتے۔ اس فقیر کے نزدیک یہ نعمت ہر ظاہری و باطنی نعمت سے بڑھ کر ہے، وہ شخص بہت بڑ ابے دولت ہے جو خداوند قدوس کی بارگاہ کو غیر مناسب امور سے منسوب کرتا ہے، اور غیر شائستہ چیزوں کو اس کی بارگاہ سے جوڑتا ہے۔

یہ بعثت ہی ہے جو حق و باطل اور مستحق و غیر مستحق کے درمیان تمیز کرتی ہے۔ یہ بعثت ہی ہے کہ جس کے واسطے سے راہ خدا کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں بندے اللہ جل شانہ کے قرب سے واصل ہوتے ہیں، بعثت ہی کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی مرضیات کا پتہ چلتا ہے اور بعثت ہی سے اللہ کی بادشاہت میں تصرف کے جواز اور عدم جواز کا پتہ چلتا ہے، اس سے اور بھی بہت سارے فائدے ہیں۔

مکتوب ۲۵۹ تو خاص اسی مسئلہ میں تحریر فرمایا گیا ہے جو مختلف اور اہم فوائد پر مشتمل ہے،ارسال رسل کی نعمت کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘شکر نعمت ارسال رسل علیہم الصلوات والتسلیمات بکدام زبان بجا آوردہ شود وبکدام دل اعتقاد منعم آں نمودہ آید وجوارح گہ کہ او باعمال حسنہ مکافات ایں نعمت عظمیٰ نماید۔’’

ترجمہ: رسولان کرام کے بھیجنے کی نعمت کا شکر بھلا کون سی زبان ادا کر پائے گی اور بھلا کس دل سے اس کے منعم کا اظہار اعتقاد ہو پائےگا۔ اور بھلا کس کے جوارح کے اعمال حسنہ سے اس نعمت عظمیٰ کا بدلہ ادا ہو پائے گا۔

پھر فرماتے ہیں اگر ان بزرگواروں کا وجود شریف نہ ہوتا تو ہم کم فہموں کو صانع جل علا کے وجود اور اس کی وحدت پر کون دلالت کرتا،یونان کے قدما فلاسفہ ذہا نتوں کے با وجود وجود صانع جل شانہ کی راہ نہ پا سکے اور وجود کا ئنات کو دہر کی طرف منسوب کر

دیا،اور جب انوار دعوت انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات دن بدن چمکے تو متاخرین فلاسفہ نے ان انوار کی برکت سے اپنے قدما فلاسفہ کے مذہب کا رد کرکے وجود صانع جل شانہ کے قائل ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی وحدت ثابت کی۔

پس ہماری عقلیں انوار نبوت کی تائید کے بغیر اس کام سے معزول ہیں اور ہماری سمجھ وجود انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کے توسط کے بغیر اس معاملہ سے دور۔

مذہب اہل سنت وجماعت:

حضرت مجدد قدس سرہ نے اپنے تمام تجدیدی کام کی بنیاد دو چیزوں پر رکھی ایک عقائد اہل سنت وجماعت سے وابستگی اور دوم اتباع سنت،آپ کی نظر میں فرقۂ ناجیہ صرف اور صرف اہل سنت ہیں،نجات اور تمام سعادات ان ہی دو چیزوں پر منحصر ہیں،یک سر مو تجاوز وانحراف آپ کی نظر میں محرومی اور خسارہ کا سبب ہے،آپ کی ساری تبلیغ کا محور یہی دو چیزیں ہیں اگر اس موضوع پر مکتوبات قدسی آیات کے مضامین جمع کیے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔

آپ کی اصل توجہ ان ہی دو چیزوں کی طرف منعطف رہی امرا وعمائدین اور عوام سب کو اسی کی دعوت دیتے رہے اور ان کی ترویج واشاعت پر زور دیا،اس سلسلے میں جو کامیاب طریقے اور جتنی محنت اور جد وجہد ہو سکتی تھی وہ آپ نے فرمائی،اور اس سلسلے میں جو پختہ اور مضبوط خدمت آپ نے انجام دی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

اس سلسلے میں آپ نے ایک مضبوط کام یہ کیا کہ نہایت معقول انداز میں عقائد کا اثبات فرمایا اور ان کی ترویج واشاعت اور اتباع سنت سے آراستگی کے لیے جو کو ششیں فرمائیں وہ نہایت کامیاب اور موثر تھیں۔(جن کی قدرے تفصیل آپ پڑھ چکے)

دوسرا یہ کہ جو گمراہ فرقے عقائد اہل سنت پر حملہ آور تھے اور جن کی وجہ سے

بدعت کو رواج ہو رہا تھا اور سنت اٹھ رہی تھی ان کا رد بلیغ فرمایا،ان کی عیاریوں،مکاریوں اور شاطرانہ چا لوں سے لو گوں کو ہمیشہ آگاہ فرمایا،آپ کی مجددانہ فطرت وبصیرت مخالف کے ہر پینترے سے واقف اور ہر چال سے آگاہ تھی،اسی لیے ہر حملے کو نہایت موثر طریقے سے روکا اور اس کا دفاع فرمایا،دشمن کی ہر گھات اور کمین گاہ پر آپ کی نظر تھی،اس کے ہر ہتھیار سے واقفیت تھی اسی لیے تن تنہا اس مرد مجاہد نے سب کو بیک وقت للکارا اور سب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سبھوں کو ایسا ناکام بنادیا کہ پھر سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔

عقائد اہل سنت پر مختلف ادوار میں مختلف فرقے روپ اور چوغے بدل بدل کر حملہ آور ہوتے رہے اور منھ کی کھاتے رہے،حضرت مجدد قدس سرہ کے دور میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات وغیرہ،نبوت ورسالت اور عظمت صحابہ پر سب سے زیادہ حملے اگر ہو رہے تھے تو وہ یا تو منطق وفلسفہ کی جانب سے یا شیعوں کی طرف سے یا پھر نا اہل علما وصوفیہ کی طرف سے تھے۔

حملے بھی اتنے سخت اور اتنے تیز تھے کہ اچھے اچھے اپنی عزت وناموس کی حفاظت کی خاطر گوشہ نشین ہو گئے تھے،اپنے اندر حملوں کی تاب نہ پاکر ساکت وخاموش ہو گئے تھے،نروں نے تو دشمن کے ساتھ وہ مصالحانہ رویہ اختیار کر لیا تھا کہ دیکھنے والے غیور کبھی برداشت نہ کر سکتے تھے،جس سے آنے والی نسلوں پر برے اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔

اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے مخالف کے ساتھ ایسا رویہ کہ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی جا سکے بظاہر میل ملاپ بر قرار رکھا جائے اور بعض معاملات اور مسائل میں ایسی روش اختیار کی جائے کہ جس سے مخالف خوش ہو اور اپنی تائید سمجھے اس کو ایک عام مورخ تو پسند کر سکتا ہے،جس کے ذہن میں صلح کل کا مادہ ہو وہ تو اس روش کو سراہ سکتا

ہے ، دین کے رموز اور عوام کے مزاج سے سے ناواقف انسان اس رویہ پر خوشی کا اظہار کر سکتا ہے مگر مجددانہ بصیرت اور غیرت کبھی اس چیز کو برداشت نہیں کر سکتی ہے،وہ کبھی بھی اور کسی بھی مرحلے میں کسی بھی گڑ بڑی اور کسی طرح کی مصالحت مخالف کے ساتھ برداشت نہیں کرتی ہے۔

مجددانہ فطرت نہ تو تعلقات دیکھتی ہے اور نہ ہی دشمن کی ظاہری ومادی طاقت وقوت سے متاثر اور خائف ہوتی ہے،مجدد دیوانہ وار اپنے دین کے تحفظ میں ہمہ تن مصروف ہو جاتا ہے اور ہر موڑ پر دشمن کو للکارتا ہے،دین میں لچک برداشت کرنے والے اس کی بلند نگاہی سے قاصر ہوتے ہیں اسی لیے اسے تشدد یا بے جا شدت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں۔

خدا ورسول ﷺ،ان کے آل واصحاب اور دین متین سے محبت رکھنے والا غیرت مند انسان کس طرح اپنے ان محبوبوں کی عزت وناموس پر حملوں کو برداشت کر سکتا ہے،اس کی غیرت وحمیت اس کو کیسے بیٹھنے دیتی ہے؟

علماے سو،صوفیہ خام اور مختلف گمراہ فرقوں کی طرف سے ذات وصفات اور نبوت ورسالت وغیرہ پر جو حملے ہو رہے تھے،کچھ اپنے تھے مگر علمی اور کشف کی غلطی کی وجہ سے ان مقدس بارگاہوں کی حقیقی عظمتوں سے نا واقف ہو نے کی وجہ سے لاشعوری طور پر تنقیص کا ارتکاب کر رہے تھے انھیں حضرت مجدد سرہندی جیسا غیور مرد مجاہد کس طرح برداشت کر سکتا تھا اور نہ ہی برداشت کیا بلکہ بلا کسی جھجک آپ میدان میں کود پڑے،نصرت خداوندی نے اپنے آغوش میں لے کر نہ صرف حفاظت فرمائی بلکہ‘‘کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ’’ (بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے) کا جلوہ دکھایا،بالآخر آج سب کے چراغ گل ہو گئے،ان کے مخالفین سب چراغ سحری بن کر رہ گئے،حد تو یہ کہ جن مقدس بزرگوں نے ان کی

مخالفت میں حصہ لیا انھیں دنیا علمی سطح پر جو بھی جانتی ہو مگر ان کے فیضان کے دروازے بند ہو گئے،اور عوام وخواص میں ان کی جو عزت واحترام ہونا چاہیے وہ نہیں ہے یہی ہے ہر دور کی تاریخ۔

اب ہم عقائد اہل سنت سے وابستگی کی تاکیدات اور ان کے مخالفین کی تردیدات اور اتباع سنت اور بدعت کی تردید وغیرہ سے متعلق چند اہم اقتباسات سپرد قلم کرتے ہیں۔

عقائد اہل سنت سے وابستگی:

عقائد اہل سنت سے وابستگی اور اس کی بنیادی حیثیت اور ان کی اہمیت سے حضرت مجدد قدس سرہ جہاں اپنے علمی تبحر اور نظر واستدلال کی حیثیت سے واقف تھے وہیں اپنے کشف ومشاہدہ سے بھی ان کی حقانیت اور مدار نجات ہونے کے قائل تھے،اسی لیے آپ کے مکتوبات شریف میں اس موضوع پر تاکیدات وتنبیہات بہت ہیں،آپ قدم قدم پر آگاہ فرماتے ہیں اور ہر طبقے کو ان کے ساتھ وابستگی کی دعوت دیتے ہیں،کبھی اجمالاً اور کبھی تفصیلاً عقائد بیان فرماتے ہیں،کبھی مستقلا اور کبھی دیگر موضوعات میں ضمنا اس پر زور دیتے ہیں،چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

(۱)مکتوب ۵۹ جلد اول میں سید محمود صاحب کو چند جملوں میں مراسم دوستانہ ادا کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

‘‘مخدوما! آدمی را از سہ چیز چارہ نیست تا نجات ابدی میسر گردد علم،عمل و اخلاص،علم دو قسم است علمی است کہ مقصود ازاں عمل است کہ علم فقہ متکفل آنست وعلمی است کہ مقصود ازاں مجرد اعتقاد ویقین قلبی است کہ در علم کلام بہ تفصیل ذکر یافتہ است بمقتضائے آراء صائبہ اہل سنت وجماعت کہ فرقۂ ناجیہ اند ونجات بے اتباع ایں بزرگواراں متصور نیست واگر سر مو مخالفت است خطر در خطر است،ایں سخن بکشف صحیح

والہام صریح بیقین پیوستہ است احتمال تخلف ندارد۔’’

ترجمہ: مخدوم گرامی! ابدی نجات پانے کے لیے آدمی کو تین چیزوں سے چھٹکارا نہیں: (۱) علم، (۲) عمل، اور (۳) اخلاص۔

علم کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ علم کہ جس کا مقصود عمل ہے، علم فقہ اس علم کا کام کرتا ہے، ایک وہ علم ہے جو صرف اعتقاد اور یقین قلبی کے لیے ہے، علم کلام میں اس کی تفصیل درج ہے۔ اہل سنت و جماعت جو کہ فرقۂ ناجیہ ہیں اور ان بزرگوں کی اتباع کے بغیر نجات کا تصور بھی نہیں ہے ان کی درست راے کے مطابق اگر بال برابر بھی مخالفت ہوئی تو نقصان عظیم ہے۔ یہ بات کشف صحیح اور الہام صریح کے ذریعہ اس قدر یقینی ہے کہ جس میں شک و شبہہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔

پھر اس کے بعد اسی مکتوب میں بعض عقائد خلفاے راشدین وعظمت صحابۂ کرام وغیرہ سے متعلق بیان فرمائے۔

(۲)مکتوب ۸۰میں مرزا فتح اللہ حکیم کو کچھ دعائیں دینے کے بعد فرماتے ہیں:‘‘ہر فرقہ از ہفتاد وسہ گروہ مدعی اتباع شریعت است وجازم نجات خود کل حزب بما لدیہم فرحون نقد وقت شاں است اما دلیلے کہ پیغمبر صادق علیہ من الصلاۃ افضلہا ومن التسلیمات اکملہا بر تمیز فرقۂ واحدہ ازفرق متعددہ فرمودہ است آنست الذین ہم علیٰ ما انا علیہ واصحابی’’ یعنی آں فرقۂ ناجیہ آنانند کہ ایشاناں بر طریقے اند کہ من برآں طریقم واصحاب من بر آں طریق اند’’

ترجمہ: تہتر فرقوں میں سے ہر ایک اتباع شریعت کا دعویدار ہے۔ اور اپنی نجات کا یقین رکھتا ہے۔ (ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے) ان کے پیش نظر ہے ، لیکن جو دلیل حضور ﷺ (ان پر سب سے افضل درود، اور کامل ترین سلام) نے ان فرقوں میں سے ایک جماعت کی پہچان کے لیے بیان فرمائی ہے۔ وہ یہ

(وہ لوگ وہ ہیں جو میرے اور میرے صحابہ کی طریقے پر ہوں) یعنی فرقہ ناجیہ وہ ہے جو اسی طریقے پر ہیں، جس پر میں ہوں، اور میرے صحابہ جس طریقے پر ہیں۔

پھر اس حدیث کے ایک گوشے کو اجاگر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:‘‘شک نیست فرقہ کہ ملتزم اتباع اصحاب آں سرور اند علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات اہل سنت وجماعت اند شکر اللہ تعالیٰ سعیہم ہم الفرقۃ الناجیہ۔’’

ترجمہ: ترجمہ: اس میں کوئی شک نہیں، کہ جو فرقہ سرور عالم ﷺ کہ صحابہ کے طریقہ پر ہے، وہ اہل سنت و جماعت ہیں۔ (اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو ٹھکانے لگائے) وہی فرقہ ناجیہ ہیں ۔

(۳)مکتوب ۱۱۲ میں شیخ عبدالجلیل تھانیسری ثم جو نپوری کو تحریر فرماتے ہیں:‘‘حق سبحانہ وتعالیٰ شانہ ما مفلساں را بحقیقت معتقدات حقہ اہل حق یعنی اہل سنت وجماعت متحقق ساختہ،توفیق اعمال مرضیہ نقد وقت گردانیدہ،احوالے کہ ثمرات ایں اعمال اند کرامت فرمودہ بتمام بجناب قدس خود جل سلطانہ جذب فرماید۔

ترجمہ: حق سبحانہ و تعالیٰ شانہ نے ہم مفلسوں کو عقائد اہل حق یعنی اہل سنت و جماعت کی حقیقت کے ساتھ تحقق عطا فرما کر، پسندیدہ اعمال کی توفیق سے نوازکر، ان احوال سے، جو ان اعمال کے نتائج ہیں مشرف فرما کر، مکمل طور پر اپنی طرف کھینچ لے۔ ؏

کار ا ینست وغیر ایں ہمہ ہیچ

کام یہی ہے اس کے علاوہ سب بے کار

چہ احوال ومواجید کہ بے تحقق بحقیقت ایں فرقۂ ناجیہ میسر شود جز استدراج ہیچ نمی دانم وجز خرابی ہیچ نمی انگاریم،با ایں دولت اتباع فرقۂ ناجیہ ہر چہ بدہند منت داریم وشکر بجا آریم واگر ہمیں را بدہند وہیچ از احوال ومواجید ندہند باک نداریم وراضی ایم۔’’

کیونکہ وہ احوال جو اس فرقہ ناجیہ کی حقیقت کے ساتھ تحقق کے بغیر حاصل ہوں، انہیں ‘‘استدراج’’ کے علاوہ کچھ نہیں جانتا، اور خرابی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا، اس فرقہ ناجیہ کی پیروی کے ساتھ جو کچھ دے دیں، احسان و کرم سمجھیں گے اور شکر بجا لائیں۔ اور اگر صرف یہی عطا فرمائی اور احوال و مواجید میں سے کچھ نہ دیں، تو کوئی خوف نہیں، اورو ہ اس پر راضی ہیں۔

یہ چند اقتباسات ہیں اگر تفصیل مطلوب ہو تو جلد اول مکتوب ۵۹، ۷۵،۸۰،۹۱،۱۱۲،۱۹۳،۲۶۶،۲۸۶ جلد دوم کے مکتوب ۳۶،۶۰،۶۷ اور جلد سوم کا مکتوب ۱۷ ملاحظہ فرمائیں۔ مذکورہ مکتوبات خاص اسی مو ضوع پر تحریر کیے گیے ہیں،دیگر موضوعات کے ضمن میں جو تاکیدات وتنبیہات ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔

عقائد کے سلسلے میں جو مستقل کتب تحریر کی گئی تھیں وہ طویل وبسیط ہو نے کی وجہ سے نیز ایسے استدلالات پر مشتمل تھیں جن کی وجہ سے قاری کا ذہن الجھ سکتا تھا اس لیے آپ انھیں امرا وعمائدین کے حال کے مناسب خیال نہیں کرتے تھے جبکہ انھیں کے بگڑنے کے آثار زیادہ تھے ان کے بگڑنے سے عوام بہت بری طرح متاثر ہو سکتی تھی اسی لیے آپ نے عقائد پر مشتمل بڑے بڑے تفصیلی مکاتیب تحریر فرمائے جن میں تمام ضروری بحثیں آگئیں جنھیں پڑھنے والا بڑے آرام سے سمجھ کر راہ تلاش کر لیتا ہے اور اسے حق کا پتہ مل جاتا ہے۔

خیال رہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ عقائد میں اہل سنت احناف کے زبردست امام حضرت ابو منصور ماتریدی قدس سرہ کے پیرو کار تھے،علم کلام میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو درجۂ اجتہاد عطا فرمایا تھا مگر آپ نے ان ائمہ ٔ کرام سے بہت کم اختلاف فرمایا،اللہ تعالیٰ کی توفیق،علماے اہل سنت کو نظر واستدلال اور قرآن وسنت کی روشنی میں خداوند قدوس اور اس کی ذات وصفات کی صحیح پہچان ملی،آپ قدس سرہ انھیں کی

تقلید کی دعوت دیتے ہیں اور ان کی اتباع وپیروی کو ہر حال میں ضروری قرار دیتے ہیں،عقائد کی درستگی اور تصحیح کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مکتوب ۱۹۳ میں فرماتے ہیں:

‘‘واگر عیاذاً باللہ سبحانہ در مسئلہ از مسائل اعتقادیہ ضروریہ خلل رفت از نجات اخروی محروم است واگر درعملیات مساہلہ رود یحتمل کہ بے توبہ ہم گذرانند واگر مواخذہ ہم کنند آخر کار نجات است،پس عمدہ کار تصحیح عقائد است،از حضرت خواجہ احرار قدس اللہ تعالیٰ سرہ منقول است کہ می فرمودند کہ اگر تمام احوال ومواجید را بما دہند وحقیقت مارا بعقائد اہل سنت وجماعت متحمل نسازند جز خرابی ہیچ نمی دانم واگر خرابیہا را بر ما جمع کنند وحقیقت مارا بعقائد اہل سنت وجماعت بنوازند ہیچ باکے نداریم۔’’

ترجمہ: نعوذ باللہ! اگر کسی اعتقادی مسئلے میں کوئی خلل پڑ جائے تو اخروی نجات سے محرومی ہے، جب کہ اگر عمل میں سستی و مساہلت ہو جائے تو احتمال ہے کہ توبہ کے بغیر بھی معافی مل جائے اور اگر سزا بھی ملے گی تو آخر کار نجات ہے۔ لہٰذا سب سے اہم کام صحیح عقیدہ رکھنا ہے۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے تمام احوال و مواجید مل جائیں، مگر اہل سنت و جماعت کے عقائد نہ ملیں تو اس میں اپنی خرابی کے سوا میں کچھ بھی نہیں جانتا ہوں۔ ایسے ہی اگر اللہ مجھے تمام برائیاں دے دے مگر میرے عقیدے کو اہل سنت و جماعت کے موافق رکھے تو مجھے کوئی خوف نہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے اہل سنت وجماعت کے عقائد اپنے مکتوبات میں بالتفصیل بیان فرمائے ہیں،ان میں تمام ضروری عقائد ذات وصفات،اسما وصفات اور نبوت ورسالت وعظمت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے متعلق تفصیل بیان فرمائے،خاص کر اس دور میں اہل سنت وجماعت سے جو گمراہ فرقے بر سر پیکار

تھے ان کا جگہ جگہ رد بھی ہے اور اپنے مدعا کا اثبات بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے محبوب بندوں کی معرفت میں حضرت مجدد قدس سرہ کو کمال عطا فرمایا تھا اور قرب وعرفان کی جس بلند منزل پر فائز کیا تھا اور انھوں نے قرآن وحدیث اور اپنے باطنی مشاہدات کی بنیاد پر جس عظمت ورفعت کو پہچانا اس عظمت ورفعت پر جب بھی کسی نے حملہ کیا تو آپ کی غیرت وحمیت نے اسے بالکل بھی برداشت نہ کیا اور آپ نے سب کا رد کیا،اس سلسلے میں ہمارے سامنے تین گروہ ہیں جنھوں نے صحیح عقائد ومعرفت نہ ہونے کی وجہ سے عقائد میں رخنہ اندازی کی ایک تو مناطقہ وفلاسفہ دوم شیعہ وروافض اور سوم کچھ صوفیہ۔

ان لوگوں نے عقائد حقہ کے سلسلے میں جو ٹھوکریں کھائیں اس کی ہلکی تصویر آپ پڑھ چکے،حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر میں یہ تینوں گروہ حق سے دور اور فلاح کے لیے مضر تھے،اسی لیے آپ نے ان تینوں کا رد بلیغ فرمایا اور ہر باطل قوت کا جس طرح مقابلہ کیا وہ آپ ہی کا حصہ تھا، اول ودوم کو تو ضال ومضل اور بعض عقائد کی بنیاد پر آپ نے کفر تک کا حکم لگا یا ہے اور سوم کو مجتہد خاطی قرار دیتے ہیں،ان کی بزرگی کا اعتراف کرتے ہوئے خطا کے اسباب بھی بیان کرتے ہیں،قدم قدم پر ان کی لغزشوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان کی واقعی حیثیت اور فضل ورفعت کا سامع وناظر کو ذہن بھی دیتے ہیں اور انھیں معذور قرار دے کر قاری کو ان مقدس شخصیتوں کے معاملے میں بھٹکنے نہیں دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت سے ثابت شدہ عقائد ونظریات سے جہاں بھی ان بزرگوں کا کشف ومشاہدہ متصادم نظر آیا وہاں مناسب تاویل وتوجیہ کر کے صحیح محمل پر محمول کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی عظمتوں کا تحفظ رہے اور اگر بات کسی طرح بنائے نہیں بنتی ہے تو بے دریغ تردید فرماتے ہیں،جس کی تفصیل

آئندہ صفحات میں آئے گی۔

اب ہم تینوں گروہوں کی اصلاح وترمیم اور ہدایت ورہنمائی کے سلسلے میں آپ کی بے مثال خدمات کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں: