مواد پر جائیں

باب ۳۱ از ۵۷صفحات ۴۱۸–۴۳۳

تجدید اسراروعلوم

علم وفن کے اسرار و رموز بیان کرنا ،احکام شرعیہ کے اسرار اور ان کی حکمتیں بھی اس میں داخل کی جا سکتی ہیں جیسا کہ امام غزالی قدس سرہ نے اسرار علم بہت بیان

فرمائے اور رواج دیا۔

تجدید افاضات:

اس سے مراد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو انوار وتجلیات وغیرہ کا فیض پہنچانا،لوگوں کو کثرت سے وصل وعرفان کی دولت سے مالامال کرنا ،بڑے بڑے مقامات قرب پر انھیں فائز کردینا،اس روحانی ونورانی فیض کے دریا بہانا اور اس کے بقا ورواج کی راہیں پیدا کردینا جیسا کہ سرکار بغداد حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ تجدیدی کارنامہ کتنا اہم ہے،ایسے بزرگ ایسی تجدید کے حامل صرف تجدید افاضات نہیں فرماتے ہیں بلکہ شریعت وطریقت کی اعلیٰ تجدید ایسے ہی بزرگوں کے حصے میں آئی ہے،جس خوبی اور خوش اسلوبی سےیہ بزرگ شریعت وطریقت کو رواج دیتے ہیں اور اس کو ظاہر وباطن میں نافذ کرتے ہیں یہ انھیں کا حصہ ہے۔

تجدید کمالات:

تجدید کمالات سے ہماری مراد کمالات کے درجات سبعہ میں آخری پانچ درجے ہیں یہ تجدید کا بہت بڑا منصب ہے ایسے کام کرنے والے خال خال کبھی کبھی آتےہیں،اس امت میں خال خال ہی اس اہم منصب پر فائز ہوتے ہیں۔

تجدید تصوف:

یہ بھی ایک قسم قرار دی جا سکتی ہے جس کے دائرے میں سیر وسلو ک میں پیش آنے والے احوال ومقامات کا تعین۔ان کے مختلف مراحل ومنازل کے مختلف اسما واصطلاحات کا تقرر وتعین وغیرہ داخل کیا جا سکتا ہے،اس سے متعلق بزرگوں کی خدمات نہایت اہم ہیں،اور صحیح یہ ہے کہ ایسے لوگوں نے شریعت کا جو کام کیا ہے وہ صرف علماے شریعت نہیں کر سکےمگر تعجب یہ ہے کہ تجدید کی جب اور جہاں بات آئی تو عام طور پر صرف علماے شریعت ہی کو گنا گیا اور ان بزرگوں کو نظر انداز کر دیا

گیا ،علم وفضل کی بڑی منزل پر فائز ہونے کے باوجود علما کی حیثیت سے معلوم ومعروف نہ تھے اور نہ عالمانہ تصنیف وتالیف کا کوئی کارنامہ انجام دیا لیکن دین وسنت کا وہ کام کیا کہ یہ(علماےشریعت)نہ کر سکے۔

ان تمام اقسام سے متعلق حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے تجدیدی کارنامےاور آپ کی تجدید الف ثانی کو ان اوراق میں میں نے اپنے علم ودانش کے مطابق پیش کیا ہے اور اس کا بھی لحاظ کیا ہے کہ کلام بہ اندازہ عقول ہو ورنہ اس شہباز حقیقت کو جنھوں نے تھوڑا بھی پڑھا ہے اور اس حسن زیبا کا جس نے ذرا بھی عکس دیکھا ہے اس کی نظر میں حضرت مجدد قدس سرہ ہمارے اس تعارف سے بہت زیادہ بالا ہیں مگر جنھوں نے انھیں بالکل نہیں پڑھا ہے اور ساتھ ہی ساتھ تنگ نظری کا شکار ہیں ان کے لیے تو یہی برق خاطف سے کم نہ ہوگا۔

اشکال اور اس کا جواب:

ہماری اس تقریر اور حوالوں سے اچھی طرح واضح ہو گیا کہ ایک وقت میں کئی مجدد ہو سکتے ہیں کوئی کسی شعبے کا اور کوئی کسی فن کا،حدیث تجدید میں خود اس بات کی پوری پوری گنجائش ہے کہ ایک صدی میں متعدد مجدد ہو سکتے ہیں،یہاں پر ایک بہت بڑا اشکال یہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے دفتر دوم کےمکتوب چہارم میں آخر میں کچھ اپنے تجدیدی کارنا موں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرمایا ہے:‘‘اور جان لو! کہ ہر صدی کے سرے پر ایک مجدد گزرا ہے لیکن صدی کا مجدد اور ہے اور الف کا مجدد اور،جس قدر فرق سو اور ہزار میں ہے اسی قدر ان دونوں کے مجددوں کے درمیان فرق ہے بلکہ اس سے زیادہ۔ اور مجدد وہ ہے کہ جو کچھ فیوض اس مدت میں امتوں کو پہنچتےہیں اس کے واسطے سے پہنچتے ہیں اگر چہ اس وقت کے اقطاب اور اوتاد ہوں اور بدلا ونجبا ہوں۔؏

خاص کند بندہ مصلحت عام را’’

آپ کے آخری الفاظ یہ ہیں:

‘‘ومجدد آں ست کہ ہر چہ دراں مدت از فیوض بامتاں برسد بتوسط او برسد اگر چہ اقطاب واوتاد آں وقت بودند وبدلا ونجبا باشند’’

اس ارشاد گرامی سے صاف ظاہر ہے کہ تجدید ایک ایسا عظیم منصب ہے کہ جو اس پر فائز ہو تا ہے وہ فیوضات الٰہیہ کے لیے واسطہ اور وسیلہ ہوتا ہے،امتیوں کو جو بھی ظاہری وباطنی فیوضات بارگاہ الٰہی سے حاصل ہوتے ہیں اسی کے واسطے سے ہوتے ہیں،خواہ عام ہوں یا خاص یا اخص الخواص تمام اولیاے کرام بھی اسی کے تابع ہوتے ہیں اور ہر ایک کو اس کی طرف رجوع لازم ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ان اوصاف کا حامل صدی میں صرف ایک ہی ہو سکتا ہے اس میں تعدد کی گنجائش نہیں ہے تو دونوں باتیں ایک جگہ جمع کیسے ہو سکتی ہیں یہ کافی اہم اشکال ہے۔

میری نظر میں اس کا جواب یہ ہے کہ مجدد شریعت تو کئی ایک ہو سکتے ہیں اور حدیث،محدثین اور فقہاء کے ارشادات کی روشنی میں تعدد مجدد کو مجدد شریعت کی طرف راجع قرار دیا جائے اور حضرت مجدد قدس سرہ نے جس مجدد کو بیان فرمایا ہے وہ طریقت اور دیگر کمالات کا مجدد ہے اور جس عظیم منصب کو بیان فرمایا ہے اس پر فائز صرف ایک ہی مجدد ہو سکتا ہے۔

ایک جواب اور دیا جا سکتا ہے کہ مجدد ظاہر وباطن کے کسی بھی شعبے کا ہو جس شعبے کا وہ مجدد ہے دین کے اسی شعبے کا فیض ہر شخص کو اسی کے واسطے سے ملے گا اس صورت میں فیض کی تخصیص کرنا پڑے گی یعنی مجدد کے زمانۂ تجدید میں اس کی تجدید کا جو فیض ہے وہ اس کے واسطے ہی سے دوسروں کو حاصل ہو گا ،خیال رہے کہ یہ بات

اس وقت ہو سکتی ہے جبکہ ایک صدی میں دین کے ہر شعبے کا مجدد جدا جدا ہو اور جس شعبے کا وہ مجدد ہے اس میں کوئی دوسرا شامل نہ ہو ۔

یعنی دین کے ہر شعبے کا مجدد ایک وقت میں ایک ہی ہوتا ہے اس شعبے میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں ہوتا ہے اور ایک صدی میں جو تعدد ہوتا ہے وہ دین کے متعدد شعبوں کے لحاظ سے ہے۔

بعض علما کے ارشادات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک وقت میں کسی خاص شعبے میں بھی متعدد مجدد ہو سکتے ہیں،مگر میری نظر میں تاریخ تجدید کا مطالعہ کرنے اور جن کے مجدد ہونے کی علما نے صراحت کی ہے اسے دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ دین کے جس شعبے کا جو مجدد ہوتا ہے وہ ایک ہی ہوتا ہے جو فکر وذہن اس کا ہوتا ہے وہ دوسرے کا نہیں لیکن پروردگار جل وعلا اس کے اعوان وانصار پیدا فرما دیتا ہے جو اس کے تجدیدی کا موں کو آگے بڑھاتے ہیں،اس طرح وہ شعبہ غالب آتا چلا جاتا ہے،اور بڑی حد تک ایک زمانے تک اس کا اثر رہتا ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پرانے فتنے کچھ روپ بدل کر پھر سے غالب آجاتے ہیں پھر ان کی سرکوبی کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا مجدد اس دور کے تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں سے مالامال ہو کر مقابلہ کے لیے میدان میں اترتا ہے اس کا یہ کام اصل میں وہی ہے جو پہلے ہو چکا ہے مگر مقابلہ کی نوعیت میں فرق ہوتا ہے خود فتنے کا روپ بھی کچھ نہ کچھ بدلا ہوا ہوتا ہے۔

مذکورہ بالا اشکال کا ایک جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے اگرچہ بظاہر الفاظ اس کی مساعدت نہیں کرتے ہیں وہ یہ کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ ہر مجدد کے لیے نہیں بلکہ اور نہ یہ مقام ومنصب صرف تجدید کے اعتبار سے ہے بلکہ حضرت مجدد قدس سرہ نے اپنی تجدید کو دیگر مناصب کے حصول کے ساتھ بتایا ہے کہ اب آنے والے ہر دور میں جو کچھ فیوضات ظاہری وباطنی پہنچیں گے وہ میرے توسط سے پہنچیں گے خاص کر تجدید فیض تجدید کی جہت سے اور دیگر فیوضات ان دیگر منصبوں کی جہتوں سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عنایت فرمائے ہیں،واللہ اعلم بالصواب۔

تجدید الف ثانی کے سلسلے میں قیاس آرائیاں

تجدید الف ثانی کی حقیقت سمجھنے میں کا فی کو تاہیاں ہو ئی ہیں،عموما اس موضوع پر اگر قلم اٹھایا ہے تو انھیں لو گوں نے جو صرف علم ظاہر سے کچھ مناسبت رکھتے تھے اس کے ساتھ ساتھ مخصوص عقائد ونظریات کے حامل تھے،وہ تجدید مائہ (دس سالہ تجدید) اور تجدید الف (ہزار سالہ تجدید) میں فرق نہیں کر پائے،اس کے ساتھ ساتھ ان کے ذہن میں یہ بسا ہوا ہے کہ عقائد واعمال کی اصلاح اور شرعی قوانین کی اشاعت کا جو سبب بنے وہ مجدد ہے،اب یہیں سے یہ دروازہ کھلا کہ جو جس مجدد کی عظمتوں کا جتنا قائل ہے اور محبت والفت اور عقیدت واحترام کا جتنا زیادہ حصہ رکھتا ہے اس کی تجدید اور دینی خدمات کی وسعتیں بیان کرنے کے لیے مجدد کی پیدائش کے وقت دنیا یا ملک کے کیا حالات تھے،غرضیکہ طویل سے طویل تر پس منظر تحریر میں آنے لگے تاکہ ان کی خدمات کا اچھی طرح قارئین کو احساس ہو جائے۔

پھر یہیں سے علما و مورخین کے مابین حضرت مجدد قدس سرہ کے دور کے حالات اور بگاڑ وفساد کے درمیان باتیں چل نکلیں،اکبر کے فساد وبگاڑ کی حدود وقیود میں بھی لمبی لمبی تحریریں وجود میں آگئیں کوئی کہہ رہا ہے کہ اکبر نے ایک نیا مستقل مذہب دین الٰہی کے نام سے سارے مذاہب سے کچھ کچھ لے کر ایک معجون مرکب تیار کیا تھا،کوئی کہہ رہا ہے نہیں اس طرح کوئی مستقل مذہب نہیں تھا ، یہ تو سب کو تسلیم ہے کہ اکبر عقائد واعمال کے سلسلے میں بے پناہ بگڑ گیا تھا اور اس سلسلے میں اس نے وہ رسوم وبدعات اپنا لی تھیں جو اسلام کے مسلمات کے سراسر منافی تھیں۔

پھر ایک بحث یہ بھی چل نکلی کہ اکبر کے مخصوص نظریات کا دائرہ کتنا وسیع تھا،حکومت کے عملہ پر اس کے کیا اثرات تھے،اراکین سلطنت اس سے کتنا متاثر ہوئے اور رعایا پر اس کے برے اثرات کی چھاپ کہاں تک پڑی،الغرض ورق کے ورق سیاہ کر ڈالے گئے پھر یہ بھی سوالات اٹھنے لگے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے دور میں فلاں بزرگ تھے،فلاں عالم تھے،فلاں محدث تھے اور اکبر کے بعض امرا یا جہانگیر کے بعض عمائد کا بھی حکومت کا رخ اسلام کی طرف موڑنے میں کافی دخل ہے لہٰذا تجدید کا سہرا تنہا حضرت مجدد کے سر ہی کیوں باندھا جاتا ہے،اس تاج زریں کا مستحق تنہا آپ ہی کا سر کیوں؟

یہ سب غلط فہمیاں صرف اس بنیا د پر پیدا ہوئیں کہ آج عام طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے دین الٰہی کو فنا کے گھاٹ اتاردیا اور نیست ونابود کر دیا،اس طرح آپ نے اس بگڑے ماحول میں اسلام وسنت کی زبردست اور بے مثال خدمت انجام دی ہے اور ہندوستان کے لیے آپ کا وجود سرمایۂ ملت کا نگہبان ثابت ہوا،آپ ایک نڈر مجاہد تھے،آپ نے جہانگیر کو سجدہ نہیں کیا اسی لیے آپ کو قلعۂ گوالیار میں قید وبند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں وغیرہ وغیرہ۔

اس طرح آپ کی تجدید کا خلاصہ زیادہ سے زیادہ یہ نکلتا ہے کہ عقائد واعمال کی اصلاح اور احیاے سنت کا فریضہ یوں تو ہندوستان میں اس دور میں اوروں نے بھی انجام دیا ہے مگر آپ نے سب سے زیادہ کو ششیں کی ہیں یعنی آپ کی تجدید صرف تجدید طریقت تک محدود ہے اور محدود خطۂ ارضی میں عمل میں آئی ہے،یہ سب علم وآگہی سے بے خبری کا نتیجہ ہے،وسعت معلومات سے کوتاہ دستی نے یہ سب کچھ کہلوایا اور بے جا تحریروں سے تاریخی اوراق سیاہ کروائے،حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدید اس فہم سے کو سوں دور ہے۔

تجدیدالف ثانی:

(۱)الف ثانی کی تجدید اس قدر جامع تجدید ہے کہ دین کے ظاہری وباطنی جملہ شعبوں پر مشتمل ہے،اس میں حکومت کا رخ بھی موڑا گیا ہے جبکہ حکومت اسلام اور نبوت کے انکار اور توہین وتنقیص تک پہنچ گئی تھی جس کو آپ بالتفصیل پڑھ چکے ہیں،کسی دور میں ،مسلمان کہلانے والا بادشاہ خود اپنے اسلام کے سلسلے میں اس قدر تذبذب اور نفرت کا شکار نہ ہوا ہوگا جس قدر اکبر ہوا یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے۔

دور اکبری کا آپ ایک بار پھر سے مطالعہ فرمالیں پھر آپ تجدید الف ثانی کہ قوت کا اندازہ لگائیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے کس قدر نبوت پر لوگوں کا اعتماد بحال کیا اور اسلام وسنت کی عظمت کا سکہ دلوں پر بٹھایا اور کمالات نبوت کو پھر سے تازہ فرما کر امت کو نبوت اور اس کی عظمت پر اذعان وایقان کے لیے زبر دست اور عظیم سرمایہ عطا فرما دیا۔

نبوت کی عظمت کو بادشاہ اور ان کے حواری بھی پامال کر رہے تھے اور کچھ صوفیہ بھی نیز بعض بزرگوں کے اقوال نے بھی بہت کچھ اثر ڈالا تھا حضرت مجدد الف ثانی کے اس سلسلے میں خدمات اتنی اہم ہیں کہ زبان وقلم بیان نہیں کر سکتے ہیں،قدرے

تفصیل آپ تجدید شریعت میں پڑھیں گے۔

(۲)تجدید الف ثانی نے احیاء سنت کا فریضہ جس حسن وخوبی کے ساتھ انجام دیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے،اس سے بھی نبوت کی اہمیت وعظمت میں اضافہ ہوا اور عقائد واعمال میں جو فلسفہ کی آمیزش سے ظلمتیں آگئی تھیں تجدید الف ثانی نے انھیں مکمل ختم کر دیا،قدم قدم پر انبیا کے احسانات اور ان کے فیوضات اور ان کی ضرورت کو بیان فرمایا اور جو عقائد واعمال سنت کے مطابق یا زیادہ قریب تھے ان کی حقانیت صرف نظر واستدلال سے نہیں بلکہ کشف صحیح اور مشاہدہ قویہ اور الہام صریح سے واضح فرمائی اور اس سلسلے میں تمام عقائد واعمال کی حقانیت کو واضح فرمایا،جہاں کہیں حق مشتبہ تھا وہاں تفصیل سے وضاحت فرمائی۔

اس سلسلے میں آپ نے حضرت ابو منصور ما تریدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کافی سراہا ہے کہ اتباع سنت کی وجہ سے اور فلسفہ کی آمیزش سے دوری کی وجہ سے ما تریدی عقائد میں حق واضح اور غالب ہے۔

احیاء سنت کا کام اس قدر احتیاط اور بلندی نظر سے کیا گیا کہ فقہ اور خاص کر فقہ حنفی کی با طنی عظمت اور بارگاہ الٰہی میں اس کی قبو لیت مشاہدہ کے روپ میں الف ثانی میں آئی اور اس کو اس قدر لازم قرار دیا گیا تھا کہ اگر مجددی تعلیمات کو اس سلسلے میں ملحوظ رکھا جاتا تو آنے والی نسلوں میں اس سے اعراض واختلاف کا شائبہ بھی پیدا نہ ہوتا ۔

(۳)تجدید الف ثانی نے صرف تحریر یا تقریر کی حد تک عقائد واعمال میں اصلاحی واحیائی کو شش نہیں کی بلکہ اس کو اس قدر رواج دیا اور عوام وخواص کو اس قدر عامل اور گرویدہ بنایا کہ ہندوستان سے باہر دنیا کے اکثر ممالک میں حضرت مجدد قدس سرہ کے دور ہی میں اس کے اثرات قائم ہو گئے جبکہ اس دور میں اس قدر ذرائع

ابلاغ نہ تھے۔

آج کسی ملک میں کوئی انسان کوئی بات پوری دنیا میں پہنچانا چاہے تو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ وہ بات فوراََ پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے،حضرت مجدد قدس سرہ کے دور میں ذرائع ابلاغ کی سہولتیں نہ تھیں اور نہ ہی صرف آواز کو پہنچا نا تھا بلکہ تربیت یافتہ مبلغ وداعی منظم طور پر دنیا کے ممالک میں اس کام کے لیے استعمال کیے گیے تھے،اور بعد کی صدیوں میں یہ فیضان بڑھتا ہی رہا ،تاریخ شاہد ہے جس قدر عقائد واعمال کے رواج اور ان کی بقا واحیا کا پائدار کام ہوا اور کئی صدیوں تک ہوتا رہا یہ تجدید الف ثانی کے علاوہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔

تجدید الف ثانی کے سلسلے میں یہ اشارے ہیں،عقائد واعمال کے تعلق سے احیائی واصلاحی جد وجہد اور کو ششوں کے ان کی تفصیل آپ آئندہ اوراق میں پڑھیں گے۔

(۴)باطنی کمالات اور نسبتوں کے کمالات میں تجدید الف ثانی نے کیا دیا اور کس قدر تازہ کمالات دیے اس کی بھی تفصیل آپ آئندہ صفحات میں پڑھیں گے یہاں ہم صرف چند امور ذکر کرتے ہیں جن سے ہر منصف مزاج سمجھ لے گا کہ تجدید الف ثانی اور ہے اور تجدید مائۃ امر دیگر اور دونوں میں کس قدر فرق ہے،ذیل کے سطور میں نہایت ذمہ داری کے ساتھ ہم حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات کے وہ اقتباسات سپرد قلم کرتے ہیں جو ان احسانات کی نشاندہی کرتے ہیں جو الف ثانی کے ساتھ خاص ہیں۔

خیال رہے کہ آج کے دور میں روحانیت سے عدم واقفیت کی وجہ سے آپ کے ارشادات کو سمجھنے میں کافی مشکلات پیش آنے لگیں اس لیے ہم نے کچھ تمہیدات کے ساتھ اور بعض مقامات پر کچھ بزرگوں کی تشریحات کے ساتھ آپ کے کمالات کو

سمجھانے کی کو شش کی ہے جن کی طرف حضرت مجدد قدس سرہ نے اشارے فرمائے تھے لہٰذا مطالعہ فرمائیں:

تجدید الف ثانی کی حقیقت:

سرکار مدینہ ﷺ جمیع اوصاف وکمالات الٰہیہ کے جامع ہیں اور تمام انبیاء ومرسلین علیہم الصلاۃ والتسلیم کے کمالات واوصاف کے حامل ہیں؎

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

بلکہ یوں کہئے کہ دنیا والوں کو فیضیاب کرنے کے لیے انبیاء ومرسلین علیہم الصلوات والتسلیمات تاجدار عرب وعجمﷺ کی تجلیات وانوار سے فیض لے کر حسب ضرورت تشریف لاتے رہے دنیا کی آبادی بڑھتی رہی بالقوہ کمالات بالفعل ہو تے رہے،وسائل کی فراہمی ہوتی رہی،جس وقت جس طرح کے حالات تھے اسی طرح فرق مراتب کے ساتھ یہ مقدس جماعت اور گروہ تشریف لاتا رہا،یہ سب آقائے کا ئنات ﷺ کے عکوس و آئینے اور تجلیات و ظہورات تھے،امام اہل سنت کتنے لطیف ،پیارے اور علمی انداز میں فرماتے ہیں؎

سب تمہاری ہی خبر تھے

تم موخر مبتدا ہو

جب دنیا گویا بالغ ہو گئی اور سرکشی وطغیانی،کفر وعصیان اور ظلم وجہل اپنے نقطۂ آخر تک پہنچ گیا تو نبیوں کے نبی،رسولوں کے رسول،نوروں کے نور ﷺ جلوہ گر ہوئے اور نوری شعائیں دن بہ دن پھیلتی چلی گئیں یہاں تک کہ گوشہ گوشہ منور ہو گیا،دلوں کے پیمانے نور سے لبریز ہو گئے،جس جس پر کرن پڑتی گئی دل میں اترتی گئی وہ ایمان کا حامل ہوتا گیا،حسب استعداد وظرف قرب وعرفان سے مالامال ہوتا گیا۔

ابھی تک ستارے چمک رہے تھے،ہلال وبدر تاباں تھے اب خورشید رسالت جلوہ

گر ہوا اندھے شیشوں پر کرنیں پڑیں اور وہ چمکنے لگے،آپ کے کمالات منعکس ہونے لگے خوب خوب روشن ہوئے،علم وعرفان کے سمندر سے سب کی پیاسیں بجھ گئیں،جب تک مرضی الٰہی تھی یہ نورالانوار جلوہ گر ہوکر کمالات سے مستفیض فرماتا رہا ،کمالات الٰہیہ عطا فرماتا رہا اب کسی کی ضرورت نہ تھی شعاؤں کی تیزی نے ایسا روشن کردیا تھا کہ کہیں ذرا بھی ظلمت کا نام ونشان نہ تھا۔

پھر یہ خورشید رسالت روپوش ہوا ،جون جوں افق مغرب سے دور ہوتا گیا ظلمت چھانے لگی،نور سمٹنے لگا حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ ابھی ہم دفن سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ ہم اپنے دلوں کی کیفیت میں فرق محسوس کر رہے تھے،اب دنیا آپ کی بعثت سے جتنی دور جا رہی تھی نور سمٹتا جا رہا تھا یہی وجہ ہے کہ یوماً فیوماً سنت پر عمل کم ہوتا گیا عمل کے درجات میں کمی آتی گئی جس خلوص،قلب کی گہرائی اور محبت والفت سے پہلے عمل تھا اس میں فتور آنے لگا،دھیرے دھیرے اکثر لوگوں میں اعضاے ظاہری تک عمل محدود ہو کر رہ گیا۔

دلوں سے نور کھنچا تو عقائد صحیحہ کے بجائے عقائد فاسدہ نے جگہ لی،نور سنت سے حسن عاری ہوا تو اعمال میں بدعتیں آئیں بعد عہد کے ساتھ عقائد واعمال فاسد ہوتے رہے،نت نئے فرقے جنم لیتے رہے،بحث ومباحثہ اور قیل وقال کے دروازے کھلتے رہے،اختلافات و انتشارات کی راہیں کشادہ ہوتی رہیں۔

جن کمالات اور علوم ومعارف کو آپ ﷺ عطا فرماکر تشریف لے گئے تھے ان کی تازگی میں فرق آتا رہا،آپ سے اہل زمانہ جتنا دور ہوتے گئے کمالات کم اور ختم ہو تے گئے۔پردۂ خفا میں روپوش ہوتے گئے،ظرف واستعداد میں کمی آتی گئی،صلاحیتیں کم ہوتی گئیں اور کمالات کے ادراک سے دھیرے دھیرے لوگوں

کے ہاتھ کوتاہ ہوتے گئے۔

چونکہ دین کو قیامت تک رہنا تھا،احکام وشرائع کو باقی رہنا تھا اگر چہ قیامت جوں جوں قریب آ رہی ہے عقائد واعمال کا فساد بڑھ رہا ہے اگر چہ یہ تغیر روزانہ ہو رہا ہے کہ ہر دن نور کم ہو رہا ہے مگر محسوس نہیں ہوتا ہے،سنتیں ختم ہو رہی ہیں،باطل وگمراہ فرقے نت نئے روپ بدل بدل کر عقائد واعمال پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اسی لیے بدعات بڑھ رہی ہیں،سنت وبدعت میں ایسا تعلق ہے کہ جب سنت اٹھے گی تو بدعت آئے گی،اسی لیے ہر دور اور ہر قرن میں دین کی امداد واعانت کرنے والے ہر وقت رہتے ہیں،حق پر قائم رہتے ہیں،حق کی نصرت کرتے ہیں۔

جب صدی میں نمایاں تغیر اور بگاڑ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ مجدد بھیج دیتا ہے،اس سے صدی کے تغیرات کا کام لینا ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ایسی باتیں عطا فرماتا ہے،عقائد واعمال کے سلسلے میں ہزار سال میں جو کچھ تغیرات ہوئے،علماے سو اور صوفیہ خام کے ہاتھوں دین کی جو بربادی ہوئی،کمالات بلند چونکہ روز بروز روپوش ہو رہے تھے اس لیے عموما بزرگوں پر وہ امور منکشف ہونے لگے جو راہ کے کمالات تھے آخری نہیں پھر ان کی علمی تعبیرات نے اور بھی مغلق بنا دیا پھر ہوس کے چیلوں کو خوب خوب پیٹ بھرنے کا موقع ملا بزرگوں کے نام سے انھوں نے یہ کیا کیا نہیں کیا جس کا مختصر خاکہ آپ مطالعہ کر چکے ہیں۔

پھر اسلام کے باطن کی اصلاح اگرچہ ناقص ہی صحیح اس کے لیے جن ریاضات ومجاہدات کو اپنا یا گیا وہ سب کے بس کی بات نہیں تھے پھر ان ریاضات ومجاہدات سے جو حالات و کیفیات وارد ہوئیں اس سے اسلام کو خاصا نقصان پہنچا ایسے بزرگوں کے متبعین نے بڑے غلط اور ناجائز فائدہ اٹھائے الغرض اسلام جس قوت و طاقت کے ساتھ جلوہ گر ہوا تھا اور پھر بعد عہد کی وجہ سے جو کمالات رفتہ رفتہ روپوش ہو گئے انہیں

کمالات کو منصۂ شہودپر پھر سے جلوہ گر کر دینے اور اپنی پوری طاقت و قوت کے ساتھ تازہ کر دینے کا نام تجدید الف ثانی ہے۔

یہاں ایک نکتہ اور بھی ملحوظ رہے کہ مقربان الٰہی جو تصفیہ قلب اور تزکیہ نفس فرمالیتے ہیں،جن پر روحانی عروج وترقی کی راہیں کشادہ ہو جاتی ہیں ان کی ترقیاں برابر وصال کے بعد بھی ہوتی رہتی ہیں،اور جوں جوں ترقی وعروج ہوتا ہے عام انسانوں سے بے مناسبتی بڑھتی جاتی ہے،مفید ومستفید میں افادہ واستفادہ کے لیے مناسبت وتعلق ضروری ہے اگر یہ نہیں ہے تو فیوض وبرکات کا حصول پورے طور پر نہیں ہو پاتا ہے افاضہ واستفادہ کی راہیں ہموار نہیں ہو پاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ عام مخلوق اگر خداوند قدوس سے بلا واسظہ اس قسم کے فیوضات حاصل کرنا چاہے تو نہیں کر سکتی ہے،وہ غایت نورانیت میں یہ غایت کدورت میں دونوں میں کوئی مناسبت و تعلق نہیں لہٰذا اس نے عام ظاہری وباطنی فیوضات وبرکات اہل عالم کو عطا کرنے کے لیے انبیاء و رسل علیہم الصلوات والتسلیمات کا وہ مقدس گروہ پیدا فرمایا جو بیک وقت نور بھی ہیں اور صورت ظاہر میں بشر بھی اگرچہ ان کی بشریت بھی عوام بشر سے نہایت ارفع واعلیٰ ہے۔

یہ بزرگ نوری جہت سے اس مقدس بارگاہ سے فیوضات لیتے ہیں اور بشری جہت سے عوام بشر کو دیتے ہیں،اس مقدس جماعت نے جن میں ظہور فرمایا انھیں بلا واسطہ کمالات دیے،پھر جب یہ دنیا سے تشریف لے گئے تو ان کے نائبین ووارثین واسطہ بنے،اب جوں جوں ان کی دنیوی حیات سے بعد اور دوری ہو رہی ہے،ان بزرگوں کی روحانیتیں ترقی در ترقی پر ہیں عالم قدس سے قربت اور اس عالم سے بعد ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے علمی وروحانی انوار وبرکات کم ہوتے جا رہے ہیں،جوں جوں ان کی سنتیں کم ہورہی ہیں ان کی نسبتیں کم ہو رہی ہیں،کمالات پردۂ خفا میں روپوش ہو رہے

ہیں،علم دین کم ہو رہا ہے علم دنیا بڑھ رہا ہے،عقائد حقہ سے لوگ محروم ہو رہے ہیں،عقائد میں فساد بڑھ رہا ہے بدعت فی الاعتقاد گھس رہی ہے،اعمال صالحہ کم ہو رہے ہیں،دینداری اپنے ظاہر وباطن کے ساتھ نکل رہی ہے اسی لیے جاہلانہ رسوم ومشرکانہ عادات اور عمل میں بدعتیں بڑھ رہی ہیں۔

ان علمی وروحانی فیوضات کو تازہ کرنے کے لیے اور نسبتوں کو قوت پہنچانے کے لیے پہلے درجہ بہ درجہ انبیا ورسل علیہم الصلوات والتسلیمات تشریف لاتے رہے،اب یہ تو ممکن نہیں کہ وہ مقدس جماعت آئے لہٰذا اس امت کے وارثین ونائبین حسب زمانہ ان فیوضات وبرکات کو تازہ اور عام کرنے کے لیے مقرر کیے گئے جن کو حسب درجہ اپنے نبی کو نین ﷺ سے مناسبت ہوتی ہے،جس زمانے میں جیسے فسادات ہو تے ہیں،جتنا بگاڑ ہوتا ہے ایسی ہی شخصیتیں آتی ہیں۔

ہزار سال گذرنے پر اس امت کو اپنے ہادی برحق قاسم نعمتﷺ سے کافی دوری ہو گئی تھی،آپ کے کمالات اور اوصاف واخلاق کے ادراک سے لوگ زیادہ تر قاصر ہو گئے تھے،بدعات ورسوم نے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ،نسبتیں دھیرے دھیرے روپوش ہو گئیں تھیں اتنے عظیم تغیرات جب پہلی امتوں میں ہوتے تھے تو مرسلین اولوالعزم علیہم الصلوات والتسلیمات جلوہ گر ہوتے تھے،اس امت کے ہزار دوم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ کو انھیں کمالات اور نسبتوں کو زندہ کرنے اور تازہ کرنے کے لیے بھیجا۔

اس طویل گفتگوسے مقصود یہ ہے کہ تاجدار مدینہ ﷺ کی دو حقیقتوں سے لوگوں کو فیوضات حاصل ہوتے تھے ایک حقیقت محمدیہ دوم حقیقت احمدیہ یہ دونوں حقیقتیں برابر عروج میں ہیں ایک ہزار سال میں یہ عروج اس قدر بڑھ گیا اور اتنا بلند ہو گیا کہ عام لوگوں کی دسترس سے ان حقائق کے فیوضات وبرکات بالا ہو گئے اور ان کا

دست ادراک کوتاہ ہو گیا،تجدید الف ثانی نے پھر سے ان فیوضات کو نیا اور تازہ کردیا۔یہ اجمال ہے تجدید الف ثانی کی تفصیل آپ آئندہ اوراق میں ملاحظہ فرمائیں گے وہ تفصیل بھی ایک قسم کا اجمال ہی ہوگی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ عقائد واعمال میں فساد ایک تو یہ کہ عقیدہ بگڑ جائے عقائد حقہ کی جگہ عقائد باطلہ لے لیں اور سنت پر عمل کے بجائے خلاف سنت یعنی بدعت اپنا لے،دوم عقائدمیں اذعان وایقان کی کیفیات میں کمی اور اعمال کی بجا آوری میں اخلاص وللّٰہیت کی کمی اور کمزوری۔

ان دونوں اعتباروں سے حضرت امام ربانی قدس سرہ کی تجدید کا جائزہ لیا جائے تو دفتر درکار ہے،تجدید الف ثانی کے بارے میں جو میں نے مغز ماری کی ہے اس سے متعلق چند اقتباسات ملا حظہ فرما لیجیے پھر مختلف گوشوں سے متعلق حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدیدی خدمات کا مختصر خاکہ سپرد قلم کیا جائے گا۔