مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیحضورﷺ کو بشر کہنے والے متوجہ ہوں

باب ۲۸ از ۵۷صفحات ۳۸۳–۳۹۳

حضورﷺ کو بشر کہنے والے متوجہ ہوں

محجوباں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم را بشر گفتند و در رنگ سائر بشر تصور نمودند ناچار منکر آمدند و صاحب دولتاں کہ او را علیہ الصلاۃ و السلام بعنوان رسالت و رحمت عالمیاں دانستند و از سائر ناس ممتاز دیدند بدولت ایمان شرف گشتند و از اہل نجات آمدند۔(م۶۴،ج۳)

یعنی جو خود انانیت کے پردوں میں محجوب ہیں اور حقیقت سے بے خبر ہیں انھوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کو بشر کہا اور باقی بشر کی طرح تصور کیا لا محالہ منکر ہوئے اور دولت والوں نے کہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام کو رسالت اور رحمۃ للعالمین کے عنوان سے جانا اور باقی انسانوں سے ممتاز دیکھا دولت ایمان سے مشرف ہو گئے اور اہل نجات سے ہوئے۔’’

مرتبہ عارف کامل:

مکتوب ۶۵ میں فرماتے ہیں ‘‘عارف کامل تام المعرفت کو ذات کی بقا کے بعد جب صفات اور اخلاق کاملہ عنایت فرماتے ہیں تو ان صفات سے ہر صفت اس کی ذات کی کلیت کے عنوان سے ظاہر ہوگی ایسا نہیں کہ ذات کا بعض کسی ایک صفت سے متصف ہو اور دوسرا بعض کسی دوسری صفت سے مثلاً عارف کی ذات بتمامہ علم ہوگی اور بتمامہ بصر ہوگی اور بتمامہ سمع ہوگی جیسا کہ محققین صوفیہ نے صفات واجبی جل شانہ میں کہا ہے کہ ذات اللہ تعالیٰ کلہ علم و کلہ قدرۃ و کلہ سمع و کلہ بصر (اللہ تعالیٰ کی پوری ذات پوری علم ہے، پوری ذات قدرت ہے، پوری ذات سمع ہے اور پوری ذات بصر ہے)

یہی وجہ ہے کہ مومنین حق سبحانہ کو جنت میں بے جہت دیکھیں گے کہ اپنی کلیت کے ساتھ بصر (آنکھ) ہوں گے اور جب تمام بصر ہوں گے تو جہت کی کیا گنجائش ہوگی (صوفیہ نے) کہا ہے کہ جو کچھ عام مومنوں کو تمام مراحل سے گذرنے کے بعد آخرت میں میسر ہوگا اولیا کو کہ خواص مومنین ہیں دنیا میں میسر ہوگا اس لیے کہ عوام مومنین کا ادھار خواص مومنین کا نقد ہے تو خواص مومنین کے ادھار کو اس جگہ سے قیاس کرنا چاہیے۔ ؏

قیاس کن ز گلستان من بہار مرا

ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ (الجمعۃ:۶۲؍۴)

ترجمہ: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔’’

اور اسی طرح اس عارف کے لطائف سے ہر لطیفہ اسی وقت میں اس کی کلیت کے رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور عارف بتمامہ لطیفہ روح ہو جاتا ہے اور بتمامہ لطیفہ قلب ہو جاتا ہے اور اسی قیاس پر باقی انسانی لطائف نفس ناطقہ اور سر اور خفی اور اخفیٰ اور اسی طرز پر ہے اس کے اجزا سے ہر جز اور اس کے عناصر سے ہر عنصر کہ کل کا حکم پیدا کرتا ہے مثلاً عارف اپنے آپ کو مکمل طور پر عنصر خاک پاتا ہے اور تمامی طور پر عنصر آب تصور کرتا ہے۔

اور جب لطیفہ قلب کہ حقیقت جامعہ ہے کل کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے اور اس کا جو تعلق مضغہ قلب سے تھا زائل ہو جاتا ہے اور مضغہ (گوشت کا لوتھڑا) اسی وقت خالی رہ جاتا ہے اور جسم بے روح کی طرح دکھائی دیتا ہے اور ایسا خیال ہومیں آتا ہے کہ اس رفت و آمد (فنا و بقا) میں اس راہ کی گرد اس کو نہیں پہنچی ہے اور وہ اپنی اصل

............................

۔ 1 اس میں ضمیر کی تذکیر شاید مضاف الیہ کے اعتبار سے ہے یعنی اللہ کے اعتبار سے کیوں کہ مضاف، مضاف الیہ سے تذکیر و تانیث اخذ کرتا ہے۔

صرافت ہے جیسے پکی ہوئی دیگ میں کچا دانہ اپنی اصلی صرافت پر رہے نہ کہ آگ کی حرارت اس میں اثر ڈالے اور نہ پانی کی تری اس تک پہنچے زیادہ سے زیادہ یہ کہ اس تعلق کے ختم ہونے اور خالی ہونے کے بعد باقی اجزا کی طرح رنگین ہو جاتا ہے اور دیگر اجزا کی طرح کل کا حکم پیدا کرتا ہے۔’’

مرتبہ عارف کا حال جب یہ ہے تو انبیاے کرام خصوصاً سید الانبیا علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کی بلندی کا عالم کیا ہوگا۔ بار بار ان اقتباسات کو پڑھیے تاکہ شخصیات کی عظمت و تقدس کے معاملے میں کوئی فر و گذاشت نہ ہونے پائے۔

چند نہایت اہم اقتباسات عارف کامل کے سلسلے میں اور سماعت فرمائیں تاکہ آپ کو اولیاے کرام و انبیاے عظام کی عظمتوں کا پتا چل جائے۔ آپ قدس سرہ مکتوب ۷۹، جلد سوم میں فرماتے ہیں:

‘‘جب عارف کا معاملہ شیون اور صفات سے بالا چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے جلوہ و اعتبارات کے اوپر انجام پاتا ہے اور اس مقام سے کہ جس کی تعبیر میں نےحقیقت صلاۃ سے کی ہے برتری پیدا کرتا ہے اور توجہ و متوجہ اس جگہ متوجہ الیہ کی طرح بے چون ہوتا ہے کہ چون کو بے چون کی طرف کوئی راہ نہیں اور وہ متوجہ ذات عارف ہے اس سے جمیع وجوہ اور اعتبارات حذف کر دینے کے بعد۔

شے کی کنہ:

اور کنہ اسی ذات مجرد کا نام ہے کہ بذات خود ہے نہ کہ وجہ و اعتبار سے اپنے مصروف و مطلوب کی ذات و کنہ کی طرف متوجہ ہے اور وہ جو ہم نے کہا کہ کنہ ذات مجرد کا نام ہے کیوں کہ شے کی کنہ وہ ہے جو شے کے جمیع وجوہ و اعتبارات کے علاوہ ہو اور شے کی ذات وہی ہے کہ شے کے جمیع وجوہ و اعتبارات کے ماورا ہے کیوں کہ جو کچھ شے کے وجوہ و اعتبارات سے اعتبار کیا جائےگا شے کی ذات ان سب کے ماورا ہے مرتبہ

ذات میں کسی امر کو ثابت کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور جو کچھ اس جگہ ثابت کیا جائےگا وجوہ و اعتبارات میں داخل ہوگا اور ذات ماوراے ورا ہے نفی و سلب کے علاوہ اس مقام میں کوئی امر متصور نہیں ہے اگر امتیاز کا علم ہے تو اس جگہ سلب سے ہے اور اگر تعبیر و تفسیر ہے تو بھی سلب سے اور ہر چیز کہ اثبات کی اس میں گنجائش نہ ہو اور بغیر سلب کے تعبیر میں نہ آئے بے چونی سے نصیب رکھتی ہے اور مجہول الکیفیۃ ہے اور توجہ کہ مرتبہ ذات میں ثابت کی جاتی ہے وہ بھی عین ذات متوجہ ہوگی نہ کہ ذات کی وجہ و اعتبار کیوں کہ جمیع وجوہ و اعتبارات اس مرتبہ میں مسلوب ہو چکے ہیں اور ایک ذات کے علاوہ کچھ نہیں رہا پس لا محالہ وہ توجہ کہ عین ذات ہے بھی بے چونی سے حصہ رکھےگی تو درست ہوا کہ توجہ اور متوجہ، متوجہ الیہ کی طرح بے چون ہوں گے اگرچہ ایک بے چون سے دوسرے بے چون تک بہت فرق ہے ماللتراب و رب الارباب

لہٰذا توجہ اور متوجہ میں بے چونی سے حصہ ثابت کیا ہے کہ بے چون حقیقی صرف متوجہ الیہ ہے اور جب ممکن کی ذات و کنہ مجہول الکیفیۃ اور بے چون ہوگی اور کسی طرح اثبات میں نہیں آئےگی تو ذات واجب تعالیٰ کہ کمال لطافت و تقدس و تنزہ میں ہے کس طرح مدرک ہوگی اور اس سے کیا حاصل ہاتھ آئےگا؎

آگہ از خویشتن چو نیست جنین

چہ خبر دارد از چناں و چنیں

ارحم الراحمین نے کمال رافت و مہربانی سے ممکن میں کہ سراسر چون ہے بے چونی سے حصہ عطا فرمایا تاکہ بے چون حقیقی سے آگاہی پیدا کرے اور اس کے ساتھ گرفتاری حاصل کرے؏

وللأرض من کأس الکرام نصیب

اور وہ جو کنہ ذات کی معرفت کو محال کہا ہے(اس سے مراد) متعارف معرفت

ہوگی کہ چون اور کیف کے عالم سے ہے اور بے چون سے اس کا تعلق محال ہے لیکن جو امر عالم بے چون سے ہو اور بے چون سے بے چون کے اتصال کے ذریعہ واصل ہو اور اس دولت عظمیٰ سے حصہ حاصل کرے کیوں محال ہوگا معرفۃ غریبۃ و مسئلۃ دقیقۃ عجیبۃ قلّما ظھرت الی الآن من أھل الکشف و العرفان۔

یہ ذات مجرد کہ بے چونی سے نصیب رکھتی ہے اور تفصیل سے بیان ہوئی عارف تام المعرفت کے ساتھ خاص ہے جو کہ حضرت ذات مجرد تعالیٰ و تقدس سے واصل ہو گیا اور اس درجہ علیا میں فنا و بقا حاصل کی ہے اور یہ دولت اس بقاے ذات کا اثر ہے اور باقی ممکنات کو کہ اس عارف کے سوا ہوں گے ذات سے کوئی حصہ نہ ہوگا اور ہرگز ذات نہیں رکھیں گے کہ ان کی صفات اس ذات سے قائم ہوں ان (ممکنات) کا پورا وجود اسما و صفات کے ظلال ہیں اور شیون و اعتبارات کے عکوس، کہ اپنی اصل سے قیام رکھتے ہیں کہ (ان ظلال کی اصل) اسما و صفات ہوں گی اس امر سے قیام نہیں ہے کہ اس کی تعبیر ذات سے کی جائے انسانی سات لطائف (بدن و نفس و قلب و روح و سر و خفی و اخفیٰ) جو کہ ممکنات میں جامع ترین ہیں اگر خفی ہے اگر اخفیٰ ہے صفات کا اثر ہے اور اس کا جسما نی و روحانی ذات تعالیٰ و تقدس کے اسما و اعتبارات کا پرتو ہے نفس ذات سے اس میں کچھ پوشیدہ نہیں رکھا ہے اور ان کا قیام اس ذات سے نہیں دیا’’

پھر آپ قدس سرہ نے ایک سوال قائم کر کے جواب دیا اور ثابت کیا کہ یہ عارف کامل جو ہر و عرض سے مرکب ہوگااور باقی افراد ممکن محض اعراض ہوں گے اس میں جوہریت کا کوئی شائبہ نہ ہوگا، پھر فرماتے ہیں:

اس عارف کا معاملہ عالم سے جدا ہے اور اس کا حکم عالم کے احکام سے مستثنیٰ، اس عارف نے محبت ذاتی کے سبب بحکم المرء مع من أحبّ اپنی اصل سے گذر کر اپنی اصل اصل سے معیت پیدا کی ہے اور خود کو اس اصل اصول میں فانی کر دیا اکرم

الاکرمین نے آیت ہَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ (نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی) چاہت کے مطابق اس کی فنا کا بدلہ اس کی بقا سے دیا اور جس میں فانی ہو گیا تھا اسی کے ساتھ باقی بنا دیا اور اپنی ذات و اسما و صفات کا مظہر کر دیا اور جامع آئینہ بنا دیا پس باقی افراد عالم اس عارف کی جامعیت کے پہلو میں کاش قطرہ کا حکم رکھتے دریاے محیط کی بنسبت کیوں کہ اسماو صفات کو حضرت ذات تعالیٰ کے پہلو میں کوئی قدر و مقدار نہیں ہے قطرہ کی بھی بہ نسبت دریا ایک قدر ہے اور ان کو کہا جا سکتا ہے کہ اس کے پہلو میں وہ بھی نہیں ہے اس جگہ سے اس عارف کے علم و معرفت اور درک و ادراک کو دوسروں کی بنسبت قیاس کرنا چاہیے اور اس کی عظمت و بڑائی کو اس جگہ میں سمجھنا چاہیے وَاللہُ یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ

قیام اشیا بذات عارف:

عارف تام المعرفت کا حال آپ نے پڑھا کہ جب اس میں عدم کا کوئی نام و نشان نہیں رہتا ہے تو پرودگار عالم کی ذات بے چون سے بقا حاصل ہوتی ہے جو ذات عارف کو عطا ہوتی ہے آپ پڑھ چکے کہ صرف وہی جوہر اور عرض سے مرکب ہوتی ہے باقی افراد عالم سب کے سب اعراض ہوتے ہیں اب ذرا آپ دیکھیں کہ یہ ذات جو عارف کو ملی ہے اس کے ساتھ باقی افراد عالم کا تعلق کیا ہوتا ہے مکتوب ۸۰،جلد سوم میں فرماتے ہیں:

ہر ظل کے کے لیے اپنی اصل تک ایک شاہراہ ہے اور کوئی خارو خسک ان کے درمیان حائل نہیں ہے اگر خار و خسک ہے تو اس کی توجہ خود اپنی طرف ہے اور اصل سے اس کا اعراض کرنا ہے اور ظل اصل کے امانت دار سے زیادہ نہیں ہے کیوں کہ جو کچھ وہ وجود اور توابع وجود کا حسن و کمال رکھتا ہے اصل سے حاصل کیا ہے عدم ہے کہ اصل کے توسط کے بغیر شاید اس کا نصیب ہوا ہو اور وہ (عدم) لاشیئ محض ہے اور خالص

اعتبار ہے اور اس ظل نے کمال نادانی سے اپنی اصل کو فراموش کر دیا اصل کی امانتوں کو خود سے سمجھ لیا اور امانت میں خیانت کی جو قبح ذاتی عدم کی راہ سے رکھتا ہے اس کے باوجود خود کو حسن کامل جان لیا لیکن اپنی طرف توجہ اور اصل سے اعراض کے باوجود اس کو اپنی اصل سے محبت اور میل طبعی ہے جانے یا نہ جانے بلکہ جو محبت کہ خود سے رکھتا ہے وہی محبت در حقیقت اصل سے متعلق ہے کیوں کہ حسن و کمال کہ محبت کا متعلق ہے اصل سے ہے نہ کہ اس سے کیوں کہ علاوہ عدم اور قبح کے اپنے سے کچھ چیز نہیں رکھتا ہے کہ محبت اس سے تعلق پکڑے کما حُقِّقَ غیر مرّۃ

اور جب کرم خداوندی سے یہ خود بینی کا مرض اس سے زائل ہو جاتا ہے اور جہل مرکب سے کہ رکھتا ہے باز آجاتا ہے اور امانت کو اہل امانت سے جانتا ہے اور اس اقبال کی جگہ کہ خود سے رکھتا تھا خود سے اعراض پیدا کرتا ہے اور اصل سے اعراض کہ رکھتا تھا اس کے اقبال سے تبدیل ہو جاتا ہے اس وقت سعادت کا سررشتہ ہاتھ آتا ہے اور اصل سے اصول کی امید حاصل ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہ عالم چوں کہ اسما و صفات واجبی تعالیٰ کے ظلال ہیں ان کے اصول بھی اسما و صفات ہوں گے اور یہ ظلال اعراض ہیں کہ ان کا قیام اپنے اصول سے ہے کہ (وہ اصول) اسما و صفات ہوں گے اور ان کے درمیان کوئی جوہر نہیں ہے کہ اس سے قائم ہوں نظّام معتزلی بحکم إنّ الکذب قد یصدق (بہت جھوٹا بھی کبھی سچ بول دیتا ہے) اس راز پر آگاہ ہو گیا (اس نے) کہا ہے کہ عالم بتمامہ اعراض ہے اور کوئی جوہر ان کے درمیان نہیں ہے کہ اس سے قائم ہوں لیکن نظام نے خطا کی ہے کہ کہا ہے کہ ان اعراض کا قیام بانفسہا ہے اور ان کے اصول سے غافل رہا کہ ان (اصول سے یہ اعراض) سے قیام رکھتے ہیں اور صوفیہ سے شیخ محی الدین ابن العربی قدس سرہ نے عالم کو اعراض مجمعہ فرمایا ہے اور ان کا قیام ذات حق جل و علا سے رکھا ہے نہ کہ اسما و صفات سے کہ ان کے اصول ہیں

ہیں فیا لیت شعری ما معنی القیام بالذات المجردۃ عن جمیع الوجوہ و الاعتبارات و لا معنی للقیام ثم الا الاختصاص الناعت ثم فلا قیام و ایضا إن القیام من جملۃ الوجوہ و الاعتبارات المنفیۃ فلا معنی لاثباتہ فی تلک المرتبۃ المقدسۃ۔

مطلب یہ ہے کہ جو ذات جمیع وجوہ و اعتبارات سے مجرد ہے اس کے ساتھ قیام کے کوئی معنی ہی نہیں کیوں کہ قیام صرف اختصاص ناعت ہیں یعنی صفت و موصوف کا تعلق اور اس جگہ جب نعت نہیں تو قیام بھی نہیں نیز قیام بھی انھی وجوہ و اعتبارات سے ہوگا جن کی اس ذات مجردہ کے مرتبہ میں نفی کی جا چکی ہے تو اس کے اثبات کا کوئی معنی ہی نہیں ہے۔’’

اور افراد عالم چوں کہ اسما و صفات کے ظلال ہوں گے تو لا محالہ ان کا وصول ان کے اصول تک ہوگا کہ اسما و صفات ہوں گے اور اگر اصول اصول تک بھی پہنچیں تو ذات مجرد مقدس تک پہنچیں گے اور اس جگہ سے آگےنہ گذریں گے کہ اصالت کی بھی اس جگہ گنجائش نہیں ہے کہ فنا ذاتی ہے، اس جگہ سب سے کیا اسم ہو کیا صفت اور کیا شان و کیا اعتبار پس عالم کو حضرت ذات تعالیٰ کے مرتبہ مقدسہ سے علاوہ حرمان کے حصہ نہ ہوگا اور وصل و اتصال کی بھی اس جگہ گنجائش نہ ہوگی لیکن عادۃ اللہ جاری ہوئی ہے کہ اپنی کمال رافت و رحمت سے زمانوں اور قرون متطاولہ کے بعد کسی صاحب دولت کو فناے اتم کے بعد بقاے اکمل بخشتے ہیں اور ذات اقدس سے اس کو نمونہ عطا فرماتے ہیں کہ اس کا قیام جس طرح پہلے اپنی اصل سے تھا کہ اسما و صفات ہوں گی اس وقت اس نمونے سے ہوگا اور ان اعراض سابقہ کا مجموعہ کہ رکھتا تھا اور یہ ذات موہوب اس کی حقیقت ہوگی اور اس کا کمال انسانی انجام تک پہنچے گا اور نعمت اس کے حق میں تمام ہوگی اور ایک بات کہتا ہوں اچھی طرح سنو کہ عارف مخصوص کا قیام اس ذات موہوب

سے نہیں ہے بلکہ تمام افراد عالم کا کہ اعراض مجتمعہ ہیں جس طرح پہلے قیام اسما و صفات سے رکھتے تھے اس وقت ان کا قیام اس ذات موہوب سے وابستہ کر دیا ہے اور اس ایک ذات سے سب کو قائم بنا دیا ہے؏

خاص کند بندہ مصلحت عام را

انسان کی خلافت کا راز کہ آیتاِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً میں آیا ہے اس جگہ ثابت ہوتا ہے اور حدیث إنّ اللہَ خلقَ آدمَ علیٰ صورتِہ کی حقیقت اس مقام میں واضح ہوتی ہے اور وہ جو ہم نے کہا کہ ذات اقدس سے اس کو ایک نمونہ عطا فرماتے ہیں میدان عبارت کی تنگی کی وجہ سے ہے ورنہ نمونہ کی اس جگہ کیا گنجائش ہے اور کون سی چیز ہے کہ اس کی صورت میں ظاہر ہوا ہو اور صورت کی اس جگہ کیا گنجائش ہے۔

جاننا چاہیے کہ اس قسم کا بزرگ ایک وقت میں متعدد نہیں ہوتا ہے جب کہ وہ لمبے زمانوں کے بعد پیدا ہوتا ہے تو اس کا تعدد ایک زمانے میں کیا صورت رکھتا ہے اگر اس قسم کی دولت کے ظہور کی مدت کا تعین کیا جائے شاید بہت کم لوگ اس کا یقین اعتبار کریں گے۔

اسی مکتوب گرامی کے آخر میں فرماتے ہیں: سنو سنو جب افراد عالم کو کہ اعراض مجتمعہ اس عارف کی ذات موہوب سے قیام پیدا ہوا جیسا کہ گذرا نسبت بھی ذات اقدس جل شانہ سے ان اعراض کو اس ذات عارف کے توسط سے ہویدا ہوئی اور عالم کے افراد کو نصیب اس راہ سے بھی اس مرتبہ مقدسہ سے حاصل آیا کیوں کہ ان کی ذات وہی ذات عارف ہے گویا اپنی ذات کے توسط سے ارتباط بے چون ذات بے چون سے پیدا کیا ہے اس کے باوجود ان اعراض کا انتساب ذات اقدس سے عارف کے توسط سے ہے کہ وہ ذات در حقیقت ذات عارف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے مکتوب مذکور۔

اس مکتوب کو آپ غور سے پڑھیں گے تو قیومیت کی حقیقت اور اس کی تشریح

اچھی طرح سمجھ میں آجائےگی نیز خلافت الٰہیہ کی حقیقت بھی واضح ہوگی جیسا کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے انبیاے کرام کی عظمتوں کی طرف کتنے دقیق اشارے اور پتے ملتے ہیں جب عرفاے کاملین کا عالم یہ ہے تو جن کے صدقے میں انھیں معرفت ملی ان کے مدارج کا عالم کیا ہوگا، علم و فضل، قرب و عرفان، مکاشفہ و مشاہدہ کے حامل یہ افراد جب ایسے حقائق بیان فرمائیں تو کسی عام آدمی کو جسے ان بزرگوں کے مقابل کچھ علم نہیں کیا مجال ہے وہ ان بزرگوں کی تنقیص کرے اور انھیں عام بشر کے درجے میں رکھے مگر نوشتہ ازلی کیسے رد ہو سکتا ہے سچ ہے جب قرآن کے ذریعہ نرے گمراہ ہوتے ہیں اور بھٹکتے ہیں تو دوسروں کی کیا بات ہے اور کیوں ہر ایک ماننے لگا؟ ایمان والوں کے لیے یہ اقتباسات روح افزا اور ایمان کو جلا بخشنے والے ہیں اور وہی نصیحت پذیر بھی ہوتے ہیں۔

حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے دور میں کیا حالات ہو گیے تھے اور دین اپنے ظاہر وباطن کے ساتھ کس قدر مٹ رہا تھا اور لوگ کتنے دور ہو تے جا رہے تھے؟ آپ کے دور کے حالات نظر میں رکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ مجموعی طور پر عالم میں اس وقت دین کے ظاہری وباطنی جملہ شعبوں پر تجدیدی کام کی ضرورت تھی،ہم پہلے تجدید کی حقیقت اور اس کے معنیٰ ومفہوم اور اس سے متعلق اہم مباحث کو بیان کرتے ہیں،پھر امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ کی تجدید بالتفصیل سپرد قلم ہو گی۔

آج جہالت ونا دانی نے جہاں ہزار فتنوں کو جنم دیا ہے وہیں تجدید کے سلسلے میں عوام تو عوام خواص کو بھی بہت سی غلط فہمیوں کا شکار کر دیا ہے،جو شخص جسے چاہتا ہے مجدد کہہ بیٹھتا ہے اور سارے کمالات کا جامع تصور کر لیتا ہے۔

ہمیں اس ابتدائی گفتگو میں چند سوالوں کا جواب دینا ہے ایک تو یہ کہ تجدید کا مقام ومنصب کیا ہے،دوم یہ کہ آیا ایک وقت میں کئی مجدد ہو سکتے ہیں؟سوم کیا مجدد

کے لیے ضروری ہے کہ بہت بڑا فقیہ ہو؟