مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیاحکام شرعیہ پر عمل

باب ۹ از ۵۷صفحات ۱۳۱–۱۴۳

احکام شرعیہ پر عمل

تقویٰ و پرہیزگاری، سنت پر عمل تو آپ کا ایسا مشہور و معروف ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ آپ کو جس نے بھی پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ بچپن سے لے کر جوانی اور جوانی سے تا وصال پوری ترسٹھ سالہ حیات مبارکہ میں اک ساعت یا لمحہ بھی تو ایسا نہیں ہے جس میں ایک سر مو بھی تجاوز ہوا ہو، تجاوز تو بڑی بات ہے جو کچھ ایک بڑا سے بڑا قوی عا مل کر سکتا ہے آپ نے کیا۔ اپنے محبوب حقیقی کے احکام و قوانین کے ساتھ جو اعتنا و توجہ اور محبت و الفت اور اخلاص و للّہیت آپ کے یہاں پائی جاتی ہے اس سے فوق کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ شب و روز کے عادات و معمولات، چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، تکلم و سکوت، خلوت و جلوت، عبادت و ریاضت، خارجی و خانگی امور وغیرہ تمام چیزوں کو آپ نے اس قدر سنت کے حدود و قیود میں باندھ رکھا تھا کہ دیکھنے والوں کو تعجب ہوتا ۔ ہر ادا سے محبوب حقیقی کی ادائیں۔

چند واقعات سپرد قلم ہیں، آپ دیکھیں اور اس روش کو اپنائیں تاکہ آپ بھی ان کمالات سے حصہ پائیں۔ حضرت خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ آپ کے روز و شب کے

اعمال و عادات کو تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘ایک روز میں آپ کی خدمت میں بیٹھا تھا اور آپ معارف تحریر فرما رہے تھے، آپ کو تیز پیشاب کی حاجت ہوئی، بیت الخلا گئے اور بڑی تیزی سے باہر آگئے، مجھے بڑی حیرت ہوئی، آپ نے پانی کا لوٹا طلب فرمایا، بائیں انگوٹھے کو دھویا، پھر بیت الخلا تشریف لے گئے۔ استنجا سے فراغت کے بعد فرمایا کہ پیشاب نے غلبہ کیا، میں تیزی سے گیا، بیٹھا تھا کہ دیکھا ناخن کی پشت پر سیاہی کا نقطہ ہے جو قلم کی آزمائش کی خاطر میں نے رکھا، اس نقطہ سیاہی کی وجہ سے کہ قرآنی حروف کے اسباب کتابت سے ہے، میں نے اس جگہ بیٹھنا رعایت ادب کے لائق و مطابق نہیں دیکھا۔ اگرچہ پیشاب کے غلبہ کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف تھی لیکن وہ تکلیف اس ترک ادب کی تکلیف کے سامنے بہت کم ہے۔

ایک مرتبہ مولانا محمد صالح ختلانی سے فرمایا کہ تھیلی سے کالی مرچ کے دانے لے آؤ، انھوں نے چھ دانے لاکر پیش کر دیے، آپ نے عتاب کے ساتھ فرمایا: اس میرے صوفی نے اتنا بھی نہیں سنا کہ اللہ وتر یُحبّ الوتر عدد طاق کی رعایت مستحبات سے ہے،مستحب کو لوگ کیا جانتے ہیں؟ مستحب وہ ہے جو پروردگار عالم کا دوست ہو، اگر پروردگار کے محبوب پر دنیا اور آخرت قربا ن کر دی جائے تو بھی سمجھو کچھ نہیں کیا اور فرمایا کہ ہم استحباب کی رعایت میں اس حد تک توجہ رکھتے ہیں کہ چہرہ دھوتے وقت کوشش ہوتی ہے کہ پہلے دائیں رخسار پر پانی پڑے کیوں کہ داہنے سے آغاز بھی مستحبات سے ہے۔

حضرت خواجہ ہاشم فرماتے ہیں کہ چند روز آپ کو پوری توجہ کے ساتھ نفلی روزے رکھتے ہوئے دیکھا باوجودیکہ ان ایام میں ضعف بدن کی وجہ سےروزہ رکھنا بہت دشوار تھا۔ جب آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ اس رمضان کے روزوں کی احتیاطی قضا ہے کہ

ان دنوں میں روزانہ دن میں استنجا کیا گیا یعنی آپ روزہ کی حالت میں بیت الخلا نہ جاتے، اگر اتفاق سے حاجت پڑتی تو آپ احتیاطی قضا فرماتے۔ اللہ اکبر اس احتیاط کی مثال کہاں ملےگی!

ایک دن چارپائی پر بیٹھے تھے، ناگاہ گھبرا کر چارپائی سے اتر آئے، فرمایا : چارپائی کے نیچے کاغذ کا ٹکڑا نظر آیا، اگرچہ معلوم نہیں تھا کہ اس میں کیا لکھا ہے بغیر اس کے کہ ہم کسی کو اٹھانے کے لیے کہیں، اس قدر بیٹھنا بھی بےادبی دیکھا۔

احتیاط کا عالم یہ کہ خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ آپ کو مسائل فقہ و اصول فقہ پر استحضار تمام اور مہارت فراواں حاصل تھی لیکن غایت احتیاط کی وجہ سے اکثر مسائل میں قابل اعتماد فقہ کی کتب کی طرف رجوع فرماتے اور بعض کتب فقہ سفر و حضر میں اپنے ساتھ رکھتے اور آپ کی ہمیشہ کوشش رہتی کہ مفتیٰ بہ اور فقہا کے مختار مذہبب پر عمل ہو اور وہ اعمال کہ جن کے بارے میں بعض فقہا جواز اور بعض کراہت کے قائل ہوتے ہیں، آپ جانب کراہت کو ترجیح دیتے ہوئے اس پر عمل نہ کرتے اور فرماتے اگر جواز و عدم و حل و حرمت میں تعارض واقع ہو تو عدم جواز اور حرمت کو ترجیح ہوگی۔

اور جب تک ممکن ہوتا جمع بین المذاہب پر عمل ہوتا یعنی آپ ایسی صورت عمل میں اختیار فرماتے کہ جس سے چاروں مذاہب مشہورہ سے ہر مذہب پر عمل ہوتا۔ جہاں تک ہو سکتا اختلاف سے بچتے مثلاً وضو کے آغاز میں بسم اللہ شریف بعض ائمہ کے نزدیک فرض ہے، یوں ہی نیت، یوں ہی دلک (مَلنا) یوں ہی ترتیب، مگر امام اعظم ابو حنیفہ قدس سرہ کے نزدیک ان میں سے کوئی چیز فرض نہیں۔ حضرت مجدد قدس سرہ وضوکے وقت نیت بھی کرتے، بسم اللہ شریف بھی پڑھتے، دلک بھی کرتے اور ترتیب کا لحاظ بھی کرتے۔

اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا کہ امام اعظم قدس سرہ کے ساتھ ساتھ باقی ائمہ کے مذہب پر بھی آپ کا وضو صحیح ہو جاتا۔ اسی وجہ سے امامت بھی آپ خود ہمیشہ فرماتے تاکہ قراءت فاتحہ خلف الامام کے سلسلے میں جو اختلاف ہے اس سے آپ بچ جائیں اور سب کے نزدیک آپ کی نماز صحیح ہو جائے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوتا کہ اختلاف ائمہ سے بچنا چوں کہ مستحب ہے لہٰذا آپ کا استحباب پر عمل بھی ہو جاتا، ہاں وہ صورتیں کہ دیگر ائمہ کی رعایت میں اگر مذہب حنفی پر عمل چھوٹتا تو آپ صرف مذہب حنفی کی رعایت فرماتے۔ امام اعظم قدس سرہ کے مذہب سے خروج ایک لمحہ کے لیے گوارا نہ ہوتا۔ سارے مذاہب میں سب سے زیادہ حقانیت و نورانیت آپ کی نظر کشفی میں مذہب حنفی کی تھی۔ آپ فرماتے کہ میری نظر صحیح کشفی میں تین چوتھائی حق امام اعظم کے ساتھ ہے اور ایک حصہ میں امام اعظم دوسروں کے ساتھ شریک ہیں، فرماتے کہ میری نظر کشفی میں مذہب حنفی کی نورانیت دریاے عظیم کی طرح نظر آتی ہے اور باقی مذاہب چھوٹے چھوٹے حوضوں کی طرح نظر آتے ہیں۔

سنت پر عمل آپ کا شعار تھا اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے، ہمیشہ اس کو فروغ دیا، مگر سنتوں پر عمل کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مذاہب ائمہ کو چھوڑ کر اپنی فہم سے احادیث پر عمل کر لیا جائے جیسا کہ غیر مقلدوں نے اختیار کر رکھا ہے بلکہ آپ کے مکتوبات گواہ اور آپ کی تعلیمات شاہد ہیں کہ کسی سنت پر عمل اس طرح نہ ہوتا کہ مذہب سے خروج لازم آتا، آپ کے نزدیک سنت پر عمل کی صورت یہ تھی کہ احکام و مسائل میں ائمہ مجتہدین کا اتباع کیا جائے اور معمولات و آداب میں احادیث مبارکہ پر عمل کیا جائے، سردار دو عالمﷺ کا اسوۂ حسنہ ہر وقت ہر جا سامنے رہے اور آپ کی مبارک دعائیں ورد زبان ہوں تاکہ آپ کی محبت دل میں پیدا ہو اور رب العزت کی محبوبیت نصیب ہو، اس کا ارشاد ہے:

قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوۡبَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (آل عمران: ۳۱)

اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔’’

آپ کی عادت کریمہ یہ بھی تھی کہ ان روایتوں میں جن میں امام اعظم کا عمل کچھ ہے اور صاحبین کا عمل خلاف ہے تو آپ احترام امام کی وجہ سے امام کے ہی قول پر عمل کرتے اگرچہ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہوتا۔ حضرت مجدد قدس سرہ کو فقہی احکام و مسائل سے اتنی دل چسپی تھی کہ آپ ان لوگوں کو جو صرف صوفیہ سے تعلق رکھتے یا ان کی کتابین پڑھتے انھیں کتب فقہ پڑھنے کی بھی تاکید فرماتے، اگر بظاہر کسی سنت کے خلاف امام اعظم کا قول نظر آتا تو آپ حدیث پر عمل نہیں کرتے تھے بلکہ فقہی اصولوں کی پابندی کرتے تھے ۔ آپ جانتے تھے کہ امام اعظم عمل بالسنۃ (سنت پر عمل کرنے) میں کسی امام سے پیچھے نہیں، ورع و تقویٰ کی جو بلندی ان کے یہاں ہے وہ کسی کے یہاں نہیں ہے لہٰذا ایسا ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ امام اعظم نے حدیث کے خلاف حکم دیا ہو یقیناً امام کی نظر میں اس حدیث سے زیادہ قرآن و سنت کا کوئی بلند ماخذ ہوگا۔

معمولات و عادات:

حضرت مجدد قدس سرہ نے اپنی حیات مبارکہ کے لیل و نہار کا جو خاکہ تیار کیا تھا اس دیکھنے سے آپ کے عمل کی قوت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح آپ نے تمام لمحات کو عبادات اور فیض رسانی اور احیاے علوم و فنون پر تقسیم کر رکھا تھا اور پابندی کے ساتھ اس پر عمل کیا یہ محض فضل خداوندی تھا جو عام بشر کی قوت سے باہر ہے۔

حضرت خواجہ محمد ہاشم و علامہ بدر الدین رحمۃ اللہ علیہم کے تحریر کردہ مختصر نظام زندگی پیش کرتا ہوں، آپ دیکھیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کیا تھے۔ جاڑے گرمی، سفر و حضر میں آپ قدس سرہ کا عمل یہ تھا کہ اکثر آدھی رات کو اور کبھی آخری تہائی رات کو بیدار ہوتے اور اس وقت کی مسنون دعائیں پڑھتے۔ اس کے بعد استنجا کے لیے تشریف لے جاتے اور بایاں قدم پہلے داخل کرتے، نکلتے وقت داہنا نکالتے۔ دخول اور خروج کے وقت مسنون دعائیں پڑھتے۔ بیت الخلا میں بائیں پیر پر زور دے کر بیٹھتے۔ طہارت کے وقت طاق عدد ڈھیلے استعمال فرماتے، پھر پانی، فراغت کے بعد وضو فرماتے، قبلہ رو بیٹھتے، آغاز وضو کی دعائیں پڑھتے، وضو میں کسی کی مدد نہ لیتے، خود ہی پانی ڈالتے، بائیں ہاتھ میں لوٹا لیتے اور پہلے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالتے، پھر بائیں پر، اس کے بعد دونوں ہاتھ ملا کر دھوتے اور ہاتھ کی انگلیوں میں ہتھیلی کی طرف سے خلال فرماتے اور کلّی کے وقت مسواک استعمال فرماتے، ہر وضو میں لازمی طور پر مسواک فرماتے اور اکثر اوقات ہر نماز کے لیے تازہ وضو فرماتے، مسواک تین مرتبہ پہلے داہنے جانب اوپر میں پھر نیچے، پھر اسی طرح بائیں جانب اور تین مرتبہ زبان پر مسواک فرماتے، اگر تین مرتبہ سے زیادہ کرتے تو عدد طاق کا خیال رکھتے، مسواک فرما کر کان پر مسواک رکھ لیتے جیسے کاتب قلم رکھ لیتا ہے، اکثر خادم کے سپرد کر دیتے۔ آپ کے اصحاب احتراماً مسواک آپ کی پگڑی کے بیچ میں رکھ لیتے، ہر عضو کو تین تین بار نہایت احتیاط اور کمال کے ساتھ دھوتے، کلی کا پانی ہر بار تازہ لیتے اور دور پھینکتے۔ اسی طرح ناک میں ہر بار نیا پانی ڈالتے، پھر چہرہ مبارک پر کمال آہستگی اور نرمی سے پانی پیشانی کے اوپر سے گراتے اور سیدھے ہاتھ کو سیدھی طرف کے رخسار پر کسی قدر پہلے اور بائیں پر بائیں ہاتھ کو کسی قدر بعد پھیر لیتے تھے۔

چہرہ مبارک پر پانی اس طرح ڈالتے کہ کپڑے یا بدن پر ایک قطرہ بھی گرنے نہ

پاتا کیوں کہ غسالہ کی طہارت و نجاست میں اختلاف ہے اگرچہ فتویٰ طہارت پر ہے مگر آپ پھر بھی نہایت احتیاط کی وجہ سے ایسا کرتے اور ہر بار پانی کے قطرات کا ٹپکنا جب تک بند نہ ہو جاتا ہاتھ پھیرتے رہتے یہاں تک کہ نہ قطرے عضو مغسول میں رہتے نہ ہاتھ میں۔ پھر داہنا پھر بایاں ہاتھ دھوتے، ہر بار یہاں بھی ہاتھ پھیرتے تاکہ کوئی قطرہ باقی نہ رہ جائے، ہاتھ دھلنے کی ابتدا انگلیوں کی طرف سے ہوتے، اسی طرح پیروں کے مسح کے لیے جو پانی ہاتھ میں لیتے اسے دور ڈالتے تاکہ چھینٹیں نہ پڑیں پورے سر کا مسح فرماتے، آغاز شروع سر سے ہوتا، وسط میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے باطن سے مسح فرماتے اور سر کے کناروں پر ہتھیلیوں سے، پھر پیچھے سے آگے لاتے، پھر اسی پانی سے کانوں کے اندر کا مسح انگوٹھے کے پاس والی انگلی سے کرتے اور کانوں کے باہر انگوٹھے کے باطن سے،پھر ہتھیلی کی پشت سے گردن کا مسح فرماتے اور ہاتھوں کو کہنیوں سے کچھ زائد اسی طرح پیروں کو ٹخنوں سے اوپر تک دھوتے اور ہر مرتبہ ان پر ہاتھ اتنی دیر پھیرتے کہ خشک ہونے کے قریب ہو جائے ہر عضو کی جدا جدا دعائیں پڑھتے جو کتب حدیث میں آئی ہیں۔ کلمہ شہادت اور درود شریف بھی دعاؤں کے ساتھ پڑھتے، پیر دھوتے وقت آپ جانب شمال یا جنوب آپ منحرف ہو جاتے (پھر جاتے)۔

وضو سے فراغت کے بعد چشم حق بیں کے گوشہ آسمان کی جانب کرکے اس وقت کی مروی دعائیں پڑھتے۔ اعضاے وضو کو کپڑے سے نہ پونچھتے، نماز کے وقت نہایت لطیف اور نفیس کپڑے زیب تن فرماتے اور پورے تجمل و وقار کے ساتھ نماز کے لیے تیار ہوتے۔ پہلے دو رکعت مختصر، پھر تہجد نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ طویل قراءت کے ساتھ پڑھتے، نماز تہجد کی ادائگی ایسے طور پر ہوتی کہ بے تائید الٰہی جل شانہ طاقت بشری اس طرح ادا کرنے سے عاجز و قاصر ہے۔ اوائل حال میں تہجد و

چاشت و فئ و زوال کی نمازوں میں سورہ یٓس شریف کی قراءت مکرر فرماتے کبھی تو اسّی اسّی مرتبہ تک تکرار پہنچ جاتی کبھی اس سے بھی زیادہ اور اواخر عمر میں اکثر و بیشتر ختم قرآن فرماتے، اکثر دو تین جز قرآن پڑھتے کبھی محویت کے عالم میں آدھی رات سے صبح تک ایک ہی رکعت ہو پاتی، خادم عرض کرتا کہ صبح ہو رہی ہے تو دوسری رکعت مختصر ادا فرماتے، اکثر اوقات تہجد کی بارہ رکعت پڑھتے اور ہر دوگانہ کے بعد خشوع و خضوع کے ساتھ مراقبہ اور استغراق میں مشغول ہوتے۔ وقت فجر کے آغاز سے پہلے ایک دو ساعت سنت کے مطابق خواب (نیند) فرماتے کہ تہجد دو نیندوں کے مابین واقع ہو، پھر آغاز وقت سے قبل بیدار ہو کر تازہ وضو فرماکر گھر میں سنت ادا کرکے مسجد میں نماز فرض پڑھاتے، جماعت کثیرہ کے ساتھ صبح کی روشنی کے آغاز میں جماعت قائم فرماتے دوسروں کو بھی تاکید فرماتے تھے کہ کسی بھی بستی میں ہو گھر میں چند کے ساتھ جماعت نہ کر کے مسجد میں جماعت کثیرہ کے ساتھ نماز پڑھی جائے۔

نماز میں قراءت مسنون طریقے پر کرتے، فجر کی سنتیں گھر میں ادا فرماتے۔ سنت و فرض کے درمیان میں سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم خفی طریقے پر پڑھتے۔ نماز سے فراغت کے بعد مسنون دعائیں پڑھتے اور دائیں یا بائیں جماعت کی جانب رخ کرکے بیٹھتے۔ ظہر و مغرب و عشا یعنی جن نمازوں کے بعد سنت مؤکدہ پڑھی جاتی ہے، میں صرف دعاے معروف اللھم انت السلام الخ پڑھتے اور فوراً سنت کے لیے کھڑے ہو جاتے۔بعد فجر دعا مانگ کر منہ پر ہاتھ پھیرتے، پھر اپنے اصحاب کے ساتھ حلقہ ذکرو مراقبہ فرماتے ۔ جب وقت اشراق ہوتا تو طویل قراءت کے ساتھ نماز اشراق دو رکعت ادا فرماتے، پھر دو رکعت خفیف قراءت کے ساتھ، دوران حلقہ کبھی حافظ سے قرآن بھی سنتے تھے۔ بعد فراغت دعا و استخارہ ااور سو

مرتبہ استغفار و ماثور دعائیں اس وقت کی پڑھتے، پھر حرم میں اندر جاتے اور عورتوں و بچوں کے حالات دریافت فرماتے۔ کچھ امور معاش سے متعلق گفت و شنید فرماتے، پھر خلوت میں تشریف لے جاتے، مقتضاے حال کے مطابق کبھی تلاوت قرآن کبھی کلمہ طیبہ کا ختم اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ طالبان خدا کو الگ الگ طلب فرما کر احوال باطنی دریافت فرماتے، ہدایات دیتے ، اکثر ان کے باطنی احوال موجودہ و آئندہ خود ہی بیان فرما دیتے اور تفصیل سمجھا دیتے ، تربیت فرماتے، مقامات و کیفیات و واردات کے اسما بھی بتاتے کبھی خواص و اخص الخواص کو طلب فرما کر خاص اسرار اور اپنے معارف و مکشوفات بیان فرماتے۔

الغرض ہر ایک سے اس کی منزل کے اعتبار سے گفتگو فرماتے بیان معارف کے وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اپنے احوال کا القا و اعطا فرما رہے ہیں۔ ضحوۂ کبریٰ کے وقت نماز چاشت آٹھ رکعت ادا فرماتے، کبھی چار رکعت پر اکتفا کرکے کھانا تناول فرماتے۔

کھانے کے وقت آپ کو دیکھا گیا کہ اکثر اوقات درویشوں عزیزوں اور خادموں میں کھانا تقسیم کرنے میں گزر جاتا اور اسی اثنا میں کبھی تین انگلیوں سے کوئی نوالہ لے لیتے اور کبھی طبق پر ہاتھ پہنچا کر منہ پر رکھ لیتے ااور صرف ذائقہ چکھ لیتے۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا کہ آپ کو کھانے کی حاجت نہیں ہے محض اس لیے کھا لیتے ہیں کہ کھانا سنت ہے۔ فرزندوں درویشوں وغیرہ کو جب آپ کھانا تقسیم فرماتے یا پہنچاتے اگر کوئی موجود نہیں ہوتا تو حکم فرماتے کہ اس کا حصہ رکھ لیا جائے۔ بیٹھنا کھاتے وقت سنت کے مطابق ہوتا، بعد فراغت ماثورہ دعائیں پڑھتے، روزانہ آدھے دن سے قبل کچھ تناول فرماتے۔ آخری ایام میں جب عزلت اختیار فرمائی کچھ اور روزے رکھنا شروع کیا تو کھانا خلوت خانہ ہی میں تناول فرما لیتے۔

کھانے کے بعد سنت کے مطابق تھوڑی دیر کے لیے قیلولہ فرماتے تھے۔ سورج کے سایہ ڈھلنے پر مؤذن اذان ظہر دیتا، اللہ اکبر سنتے ہی آپ بیدار ہو جاتے اور بے اختیاری کے ساتھ نہایت تیزی اور قوت سے آپ زمین پر آجاتے، ایک لمحہ کے لیے بھی چارپائی پر بیٹھنا اذان کے وقت گوارہ نہ تھا۔ کلمات اذان دہراتے، ختم پر دعا پڑھتے،پھر خود وضو فرماتے، نفیس لباس پہن کر مسجد میں جاتے، پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد، پھر چار سنت زوال اکثر طویل قراءت کے ساتھ ادا فرماتے۔ آپ فرماتے کہ سرور دین و دنیاﷺ نے از زمان بعثت تا زمان رحلت سنت زوال کو ترک نہیں فرمایا، پھر چار رکعت سنت مؤکدہ قبل ظہر، بعد ظہر دو سنت ، پھر چار رکعت سنت زائدہ ادا فرماتے، پھر مسنون دعائیں پڑھتے، پھر سب کی طرف رخ کرکے بیٹھ جاتے اور اصحاب حلقہ بنا لیتے، حافظ قرآن کی تلاوت کرتا، آپ احباب پر توجہ دیتے، مراقبہ فرماتے اس کے بعد پھر اسباق پڑھاتے۔

دو مثل سایہ ہونے پر تازہ وضو فرماکر عصر کے لیے مسجد میں آتے۔ پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد، پھر سنت غیر مؤکدہ چار رکعت، پھر کثیر جماعت کے ساتھ عصر ادا فرماتے۔ بعد سلام مسنون دعائیں پھر کبھی جماعت کی طرف رخ کرکے بیٹھتے، مریدین و اصحاب حلقہ کر لیتے اور مراقب ہو جاتے، باطنی ترقیات کے لیے توجہ فرماتے، کبھی دوسرے اعمال صالحہ میں مصروف ہوتے، اول وقت مغرب پڑھتے، بلا تاخیر دو سنت پڑھتے، پھر اوّابین کی چھ رکعات تین سلاموں کے ساتھ اور طویل قراءت کے ساتھ ادا کرتے، کبھی اس میں سورہ واقعہ اور اخلاص مکرر پڑھتے، دیگر سورتیں پڑھتے۔

عشا متفق علیہ وقت میں پڑھتے، فرض عشا کے بعد دو سنت ، چار رکعت مستحب ادا فرماتے، اس کے بعد وتر کبھی عشا کے ساتھ اور کبھی تہجد کے وقت ادا فرماتے، وتر

کے بعد سورہ الم سجدہ و سورہ ملک مع دخان کے تلاوت کرتے اور اصحاب کو حکم فرماتے۔ استراحت کے وقت سورہ، آیات، تسبیحات اور ماثورہ دعائیں پڑھتے اور سائبان میں لیٹتے اس طرح کہ روے مبارک قبلہ کی طرف اور سیدھا ہاتھ سیدھے رخسار کے نیچے ہو، نیند بھی کامل حضور و مراقبہ اور وصال و مشاہدۂ جمال الٰہی کے ساتھ ہوتی تھی۔

رمضان شریف کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے اور ذی الحجہ کے عشرہ میں عزلت اختیار فرماتے۔ اس عشرہ میں عبادات، اذکار اور روزہ رکھنے میں کامل حرص رکھتے اور کثرت سے درود شریف پڑھتے۔ شب جمعہ میں مریدوں کے ساتھ ہزار بار حضورﷺ پر درود و سلام بھیجتے تھے۔ عید الاضحیٰ کے دن راستے میں تکبیرات بالجہر پڑھتے تھے۔ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نمازیں بھی پڑھتے تھے۔ تراویح بیس رکعت سفر و حضرت میں پوری جمعیت کے ساتھ ادا فرماتے۔ رمضان شریف میں تین ختم کلام مجید فرماتے۔

برکات احمدیہ و حضرات القدس سے میں نے آپ کا یہ نظام عبودیت باختصار نقل کر دیا، تفصیل کے لیے مذکورہ کتب دیکھیے۔ آپ کے انھی اعمال و اشغال اور اطاعت و عبادت کو دیکھ کر حضرت خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ نے حضرت خواجہ محمد ابن فضل اللہ برہانپوری سے ان کے پوچھنے پر کہا تھا کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے احوال باطن تو میرے جیسا نامراد کیا بتا سکتا ہے لیکن ظاہراً آداب سنت کی رعایت اور اس کے دقائق آپ کے اندر ایسے پائے کہ اگر مشائخ وقت جمع ہو جائیں تو ان کا عشر عشیر بھی سب نہیں کر سکتے ہیں۔ حضرت شیخ مذکور قدس سرہ بہت خوش ہوئے اور فرمایاکہ جب معمولات و اعمال صالحہ میں یہ حال ہے تو یہ بزرگ دین جو بھی اسرار حقیقت کہتے یا لکھتے ہیں سب صحیح اور اصیل ہیں وہ ان میں سچے اور ان سے متحقق ہیں۔

ان کے صدق مقال اور علو حال کا نشان اتباع بر کمال ہے۔ حضرت خواجہ ہاشم قدس سرہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے پڑوس میں ایک قاضی القضاۃ رہا کرتے تھے۔ ایک امیر کو حضرت قدس سرہ کے معاملے میں کچھ تردد تھا، وہ امیر ایک دن ان قاضی صاحب کے یہاں آیا اور تنہائی میں پوچھا کہ آپ عالم مرد ہیں، سچے اور صاحب دیانت ہیں، آپ کے پڑوس میں جو شیخ احمد رہتے ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے، ان قاضی صاحب نے فرمایا کہ ان صوفیہ کے احوال باطن تو میری دریافت سے ماورا ہیں لیکن اتنا میں ضرور کہوں گا کہ ان جیسے بزرگوں کے اطوار نے اولیا ما تقدم کے اطوار کے سلسلے میں مجھے دوسرا یقین بخشا ہے کیوں کہ جب کامل متقدمین اولیا کے بارے میں ان کی ریاضات عجیبہ و طاعات کثیرہ میں پڑھتا تھا تو خیال ہوتا تھا کہ شاید عقیدت مندوں نے مبالغہ آرائی کی ہے جب سے میں نے ان کے (حضرت مجدد قدس سرہ) اطوار دیکھے وہ تردد ختم ہو گیا بلکہ اب میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے کم لکھے ہیں۔

حضرت خواجہ محمد ہاشم ان کے خادم کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں جو وضو، مصلّیٰ، و دیگر عبادات کی خدمات پر مامور تھے وہ فرماتے کہ پورے دن میں اس گھڑی میں جس میں آپ قیلولہ فرماتے اور رات میں دوسرے تہائی حصہ کے علاوہ میں اتنے کام سے فرصت نہ پاتا ان دو وقتوں کے علاوہ مجھ سے آپ کی حالت کا استیعاب نہیں ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کو بتاکید دوام ذکر کی کثرت اور وفور مراقبہ کی تحریص فرماتے اور فرماتےکہ یہ دار (دنیا) دار عمل ہے اور مزرع کشت (آخرت کی کھیتی ہے) حضور باطن کے کام کو آداب و اعمال ظاہر کی رعایت کے ساتھ جمع کرکے کام میں لگے رہو۔ آپ قدس سرہ فرماتے کہ حضرات خواجگان نقشبندیہ رضی اللہ عنہم کے بعض رسائل سے لوگوں نے قلت عمل سمجھی ہے جب کہ معاملہ ایسا نہیں ہے

کیوں کہ ان حضرات کا طریقہ اتباع نبوی میں زیادہ واثق اور سب سے زیادہ موافق ہے۔ حضورﷺ کے محبوبیت و علو مرتبت کے باوجود کثرت عبادت سے پائے مبارک پر ورم آجاتا۔ بات یہ ہے کہ ہمارے خواجگان کا طریقہ ابتدا میں بلکہ آغاز توسط میں بھی جذبات سے تعلق رکھتا ہے اس لیے ان کا حال اسی وقت کثرت سکر و استغراق کی وجہ سے اعمال ظاہری کی کثرت کا مقتضی نہیں ہے بلکہ دوام توجہ اور حضور کو فرائض و واجبات و سنن مؤکدہ کی بجاآوری کے ساتھ جمع کرنا اسی پر اقتصار کر کے لیا ہے اس کے باوجود عزیمت امور کی رعایت جو کہ ریاضات عظیمہ سے ہے خاص کر جذبات و غلبات کے ساتھ کا لازم جانا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی عنایت سے تلوینات احوال سے تمکین کو پہنچتے ہیں تو لامحالہ کثرت طاعات بجا لاتے ہیں اور اس سلسلے میں جتنی مقدار ان سے زیادہ ہوتی ہے ترقی زیادہ دیکھتے ہیں۔